ألحمد للہ والصلاۃ والسلام علی سیّدنا محمد وعلی آلہ وصحبہ وسلم!
تعارف
ہم، اس دنیا میں بسنے والی بنی نوع انسان، اس خام خیالی کے زیرِ اثر ہیں کہ ہم اسی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں اور یہی ہماری مستقل قیام گاہ ہے۔ ہم اس حقیقت کو جاننا اور سمجھنا نہیں چاہتے کہ ہماری مثال تو ریل گاڑی کے مسافر کی سی ہے۔ یہ ریل گاڑی اپنی منزلِ مقصود تک پہنچنے سے پہلے مختلف سٹیشنوں سے گزرتی ہے، اور یہ دنیا انہی سٹیشنوں میں سے ایک سٹیشن پر ذرا دیر کے قیام کا نام ہے۔ ہمارا فی الحقیقت اس دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ریل کے اس سفر میں ہماری گاڑی تین سٹیشنوں سے گزرتی ہے۔ ہم نو ماہ رحمِ مادر میں رہتے ہیں اور پھر جب ہم پیدا ہوتے ہیں تو پہلا سٹیشن گزر جاتا ہے اور دوسرے پر قیام کا وقت آ جاتا ہے۔ پھر ہم کچھ عرصہ اس دنیا میں گزارتے ہیں۔ اور پھر جب ہم مر جاتے ہیں تو یہ دوسرا سٹیشن بھی گزر جاتا ہے اور تیسرے کی جانب سفر کا آغاز ہوتا ہے۔یہ تیسرا سٹیشن جنت یا جہنم کا سٹیشن ہے، اور یہی ہماری آخری منزل ہے۔
ہم اس دنیا سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ ہم مسافر ہیں اور حالتِ سفر میں ہیں۔اسی لیے تو نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’’کن فی الدنیا کانک غریب او عابر سبیل‘‘ یعنی ’اس دنیا میں ایسے رہو گویا کہ تم ایک مسافر ہو‘۔ اور انہوں نےدنیا کی زندگی کی مثال ایسے بیان کی کہ جیسے کوئی شخص صحرا میں سفر کر رہا ہو اور اسے ایک سایہ دار درخت نظر آ جائے۔ وہ اس درخت کے سائے تلے کچھ دیر دم لینے کو بیٹھ جائے ، تھوڑا سا آرام کر لے تو پھر دوبارہ اپنے سفر پر روانہ ہو جائے۔ بس یہی دنیا ہے۔ ہم اس درخت کے نیچے چند لمحات گزارتے ہیں، اور پھر دوبارہ اپنے سفر پر روانہ ہو جاتے ہیں۔ لمحہ لمحہ کر کے یہ سفر طے ہوتا رہتا ہے۔ کیا آپ ہر لمحے گزرتے وقت کو روک سکتے ہیں؟ وقت کی یہ مسلسل جاری حرکت ہماری دنیاوی زندگی کوکھا جاتی ہے۔ہر گزرتا لحظہ اپنے ساتھ ہماری زندگی کے ایک حصّے کو بھی لے جاتا ہے۔ ہمیں اس حقیقت پر ایمان لانے کی ضرورت ہے کہ ہم دنیا سے تعلق نہیں رکھتے۔ ہمیں موت کی تیاری کی ضرورت ہے۔ اور اس سلسلے کا مقصد بھی یہی ہے، کہ موت اور آخرت کی جانب رواں دواں اپنے سفر کو سمجھیں اور اس کے لیے تیاری کریں۔
اہداف
انسان جو بھی کام سر انجام دیتا ہے، اس کام کے کرنے کے پیچھے اس کا کوئی نہ کوئی مقصد کارفرما ہوتا ہے۔ آخرت کے حوالے سے گفتگو اور بات چیت کرنے کے پیچھے کیا مقصد ہے؟ ہم کیوں آخرت کی بات کرتے ہیں؟
۱.)
یہ ایمان کا ایک ستون اور اس کا حصّہ ہے۔ آخرت پر ایمان لائے بغیر انسان کا ایمان ناقص رہتا ہے۔
۲.)
ہم اپنے ارد گرددیکھتے ہیں تو مسائل اور پریشانیوں کا ایک انبوہ پاتے ہیں۔ ہمارے درمیان ایسے مسلمان بھی ہیں جو شراب نوشی کرتے ہیں، یا سودی کاروبار کرتے ہیں یا زنا و بدکاری میں ملوث ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ وہ کیا چیز ہے جو ہم میں نہیں ہے جس کی بدولت یہ سب مسائل پیدا ہوتے ہیں؟ حضرت عائشہ ؓ ایک چھوٹے سے جملے میں انفرادی و اجتماعی انقلاب کا پورا لائحہ عمل بیان کرتی ہیں۔ وہ فرماتی ہیں ’اگر قرآن کی نازل ہونے والی آیات میں سے پہلی آیت ’’لاتشربوا‘‘ ہوتی، تو لوگ کہتے’’ہم کبھی شراب نوشی ترک نہیں کریں گے‘‘۔ اور اگر قرآن مجید کے احکام میں سے سب سے پہلے یہ حکم نازل ہوتا کہ ’’زنا و بدکاری نہ کرو‘‘ تو لوگ کہتے کہ ’’ہم کبھی زنا وبدکاری ترک نہیں کریں گے‘‘۔لیکن قرآن کریم کی نازل ہونے والی آیات میں سے اوّلین کا تعلق ان مفصّل سورتوں سے ہے جو جنت اور جہنم کے تذکرے سے بھری ہوئی ہیں۔ یہاں تک کہ دل اللہ سبحانہُ و تعالیٰ سے جڑ گئے، اس کے بعد حلال و حرام سے متعلق احکامات نازل ہوئے‘۔
مکّی دور میں ہم دیکھتے ہیں کہ زیادہ احکامات نازل نہیں ہوئے۔ شرعی احکامات کی اکثریت مدینہ میں نازل ہوئی۔ مکّہ میں تو صرف ان احکامات کو قبول کرنے کے لیے قلوب و اذہان کو تیار کیا گیا اور ایمان سے دلوں کو بھرا گیا۔یہی وجہ ہے کہ غیب کا تذکرہ، اور جنت و آخرت کا تذکرہ دلوں کو اللہ سے جوڑتا ہے اور جہالت و گمراہی کے پردے چاک کرتا ہے۔ جبکہ ہمارا مسئلہ تو یہ ہے کہ ہم محض جہالت میں مبتلا نہیں ہیں (گو کہ وہ بھی ایک مسئلہ ہے) مثلاً ہر شخص جانتا ہے کہ شراب اور نشہ حرام ہے۔ اس کے باوجود کچھ لوگ شراب نوشی کرتے ہیں۔ ہر شخص جانتا ہے کہ سود حرام ہے، مگر پھر بھی لوگ سودی لین دین کرتے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ نماز فرض ہے، مگر پھر بھی کچھ لوگ اسے ادا نہیں کرتے۔ معلوم ہوا کہ ایک بہت بڑا مسئلہ ناکافی ایمان ہے۔ دل پتھروں کی مانند سخت ہیں۔ ایسے سخت دلوں کو کیا چیز نرم کرتی ہے؟ یہ آخرت اور غیب میں رکھی گئی چیزوں کا تذکرہ ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’اگر تم وہ کچھ جانتے جو میں جانتا ہوں، تو تم روتے زیادہ اور ہنستے کم‘‘۔
حضرت علی ابن ابی طالب ؓ فرماتے ہیں:’’اگر میں جنت کو اپنی کھلی آنکھوں سے بھی دیکھ لوں تو مجھے کچھ فرق نہ پڑے گا، وہ مجھے اس سے زیادہ محبوب نہ ہو گی جتنی کہ اب ہے۔ اور اگر میں جہنم کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں تو بھی مجھے اس سے اس سے زیادہ خوف محسوس نہ ہو گا جتنا کہ اب ہے‘‘۔ گویا کہ وہ فرما رہے ہیں کہ وہ جنت و جہنم کو اتنی اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ اب اگر اپنی آنکھوں سے بھی ان کو دیکھ لیں تو ان کو کچھ فرق نہ پڑے گا۔ وہ ایسے ہی جیتے ہیں گویا کہ جنت و جہنم کو اپنی آنکھوں سے اپنے سامنے دیکھتے ہوں۔
۱۹۳۰ء کی بات ہے کہ امریکہ میں یہ قانون پاس ہوا کہ شراب پر پابندی لگا دینی چاہیے۔ سبحان اللہ! یہ چیز فطرت میں شامل ہے کہ انسان جانتا ہے کہ الکحل اس کے لیے مضر ہے۔ انہوں نے یہ قانون پاس کیا اور اسے نافذ کرنے کی کوشش کی۔ اس سارے عمل کے دوران، تقریباً پانچ لاکھ افراد جیلوں میں ڈالے گئے، لاکھوں کروڑوں ڈالر اس قانون کے نفاذ میں صرف ہوئے، ہزاروں افراد قتل ہوئے۔ لیکن شراب کی کھپت میں کوئی فرق نظر نہیں آیا۔ ہر دوسرے گھر میں غیر قانونی شراب کا کاروبار ہوتا تھا۔ شراب تیار کرنے کا طریقہ اس قدر گندا اور مضرِ صحت ہے کہ وبائیں اور امراض پھیلنا شروع ہو گئے۔ چار سال بعد، شراب پر سے پابندی ہٹا لی گئی۔ یہ ہے امریکہ ’بہادر‘ کی طاقت و قوت۔ وہ شراب نوشی پر پابندی کا ایک قانون نافذ نہ کر سکے۔اور اگر آپ چودہ صدیاں پیچھے مڑ کر دیکھیں تو کیا منظر نظر آتا ہے؟
جبرئیل ؑ نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ احکامات لے کر آتے ہیں کہ خمر (شراب و نشہ آور اشیا) حرام ہے اور یہ شیطان کے اعمال میں سے ہے۔
يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ(سورة المائدۃ: ۹۰)
’’ فاجتنبوا!‘‘ اس سے دور رہو! حرمتِ شراب میں یہ آیت نازل ہوتی ہے اور پیغمبر ؑ اپنے اردگرد موجود صحابہ ؓ کو یہ آیت سناتے ہیں۔ یہ صحابہ اس آیت کو لے کر ہر طرف پھیلا دیتے ہیں، اور ہر جگہ یہ خبر پہنچ جاتی ہے کہ شراب پینا اب حرام ہے۔ حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ میں اس وقت شراب پیش کر رہا تھا۔ ہم نے باہر گلی میں یہ خبر سنی اور میں نے اپنے ہاتھ میں پکڑا شراب کا پیالہ پھینک دیا۔ بعض صحابہ ؓ جن کے ہاتھوں میں شراب کے جام تھے، انہوں نے وہ اپنے ہاتھوں سے پھینک دیے۔ بعض کے منہ میں شراب تھی جس وقت یہ خبر ان تک پہنچی، انہو ں نے فوراً اسے باہر اگل دیا۔ کچھ تو اس حد تک چلے گئے کہ ان کے پیٹ میں جو شراب پہنچ چکی تھی، اسے بھی قے کر کے باہر نکالا۔ مدینہ کی گلیوں کی یوں منظر کشی کی جاتی ہے کہ یہ حکم نازل ہونے پر شراب گلیوں میں بہہ رہی تھی۔
آپ نے دیکھا کیسی فوری تعمیل ہوئی حکم کی! لوگوں کو جیلوں میں ڈال کر قانون نافذ نہیں کرنا پڑا۔ لوگوں پر کوئی سختی یا کوئی جبر نہیں کرنا پڑا۔ ایسا کیوں ہے کہ مدینہ میں تو اتنی مکمل تابعداری کے ساتھ قانون و شریعت کی پاسداری کی گئی جبکہ امریکہ میں ایسا نہ ہوا؟ یہ ورع کا فرق ہے۔ صحابہ کرام ؓ اس حکم کے لیے تیار تھے۔
صحیح مسلم کی ایک دوسری روایت میں حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں:
’’ میں حضرت ابو عبیدہ ؓابن الجراح، ابو طلحہؓ اور اُبی بن کعب ؓ کو تازہ اور کچی کھجوروں سے تیار شدہ شراب پیش کر رہا تھا کہ ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ ’یقیناً شراب حرام کر دی گئی ہے‘۔ پس ابو طلحہؓ نے فرمایا: ’انس! اٹھو اور شراب کا یہ گھڑا توڑ دو!‘، اس پر میں اٹھا اور ایک نوکیلے پتھر سے گھڑے پر ضرب لگائی یہاں تک کہ وہ ٹوٹ گیا۔‘‘
پس ہمیں آخرت کے حوالے سے گفتگو کر کے اپنے آپ کو تیار کرنے کی ضرورت ہے۔
اس سلسلے کے دوران ہم جن موضوعات پر گفتگو کریں گے اس کا خاکہ درجِ ذیل ہے:
القیامۃ الصغریٰ :
أ۔ موت
ب۔ قبر
ج۔ روح
د۔ اشراط الساعۃ (قیامت کی نشانیاں)
القیامۃ الکبریٰ
أ۔ البعث والنشور
ب۔ اھواء القیامۃ
ج۔ الحساب و الجزاء
د۔ جنت و جہنم
ہم سب اسی سمت کے مسافر ہیں۔ اور اس سفر کے یہ مختلف مقامات ہیں، جن سے ہم گزریں گے۔شروع کرنے سے پہلے ہم اللہ تعالیٰ سے اس کی مدد و نصرت طلب کرتے ہیں۔ اور اب آئیے، دیکھتے ہیں کہ قیامۃ الصغریٰ کیا ہے، یہ موت سے شروع ہوتی ہے۔
الموت:
كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ……(سورۃ الانبیاء: ۳۵)
’’ ہر جان دار کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ ‘‘
بخاری ؒ کی روایت ہے کے چند بدّو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انﷺ سے قیامت کے بارے میں سوال کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے سب سے کم عمر کی جانب اشارہ کیا اور فرمایا:’’ جب تک یہ اپنے بڑھاپے کو پہنچے گا، تب تک تمہارا یومِ جزا شروع ہو چکا ہو گا‘‘۔ جب ایک شخص کو موت آ لیتی ہے تو بس، اس کا حساب کتاب شروع ہو جاتا ہے۔
انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ قیامت کب آئے گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر بالکل خاموش رہے۔ پھر ایک کم عمر بچے کی جانب اشارہ کر کے فرمایا: ’’اگر یہ لڑکا زندہ رہا اور لمبی عمر پائی تو یہ اپنے بڑھاپے کو نہیں پہنچے گا مگر تمہارا یومِ جزا شروع ہو چکا ہو گا‘‘۔ انسؓ فرماتے ہیں کہ وہ بچہ اس دور میں ہمارا ہم عمر ہوتا تھا۔(صحیح مسلم)
موت سے کوئی مفر نہیں۔ ہر شخص کو موت آنی ہے۔ الموت حتم اللازم. موت سے کوئی بچ نہیں سکتا، اس کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ اللہ سبحانہُ و تعالیٰ فرماتے ہیں:
كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ لَهُ الْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (سورۃ القصص: ۸۸)
’’ ہر چیز فنا ہونے والی ہے، سوائے اس ذات کے، حکومت اسی کی ہے اور اسی کی طرف تمہیں لوٹایا جائے گا۔ ‘‘
كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ (سورۃ الرحمٰن: ۲۶، ۲۷)
’’ اس زمین میں جو کوئی ہے، فنا ہونے والا ہے۔ اور (صرف) تمہارے پروردگار کی جلال والی، فضل و کرم والی ذات باقی رہے گی۔ ‘‘
آپ کو موت کا سامنا ہر حال میں کرنا ہی ہو گا۔ اگر کسی کو موت سے استثنا حاصل ہوتی تو وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے۔ مگر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تمہیں بھی موت آئے گی اور انہیں بھی موت آئے گی۔ ہر ایک کو مرنا ہے۔ اس کا وقت مقرر ہے۔ و ہ تبدیل نہیں ہو سکتا۔ اور مقررہ وقت سے ایک لمحہ بھی تاخیر نہیں ہو سکتی۔
وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلاَّ بِإِذْنِ الله كِتَاباً مُّؤَجَّلاً…… (سورة آلِ عمران: ۱۴۵)
’’ اور یہ کسی بھی شخص کے اختیار میں نہیں ہے کہ اسے اللہ کے حکم کے بغیر موت آجائے، جس کا ایک معین وقت پر آنا لکھا ہوا ہے۔ ‘‘
وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ فَإِذَا جَاء أَجَلُهُمْ لاَ يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلاَ يَسْتَقْدِمُونَ (سورۃ الاعراف: ۳۴)
’’ اور ہر قوم کے لیے ایک میعاد مقرر ہے۔ چناچہ جب ان کی مقررہ میعاد آجاتی ہے تو وہ گھڑی بھر بھی اس سے آگے پیچھے نہیں ہوسکتے۔ ‘‘
أَيْنَمَا تَكُونُواْ يُدْرِككُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنتُمْ فِي بُرُوجٍ مُّشَيَّدَةٍ…… (سورة النساء: ۷۸)
’’ تم جہاں بھی ہوگے (ایک نہ ایک دن) موت تمہیں جاپکڑے گی، چاہے تم مضبوط قلعوں میں کیوں نہ رہ رہے ہو۔ ‘‘
اللہ تعالی ہمیں ان لوگوں کی کہانی سناتے ہیں جنہوں نے موت سے بھاگنے کی کوشش کی:
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُواْ مِن دِيَارِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ فَقَالَ لَهُمُ اللّهُ مُوتُواْ ثُمَّ أَحْيَاهُمْ إِنَّ اللّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَشْكُرُونَ (سورۃ البقرۃ: ۲۴۳)
’’ کیا تمہیں ان لوگوں کا حال معلوم نہیں ہوا جو موت سے بچنے کے لیے اپنے گھروں سے نکل آئے تھے، اور وہ ہزاروں کی تعداد میں تھے؟ چناچہ اللہ نے ان سے کہا : مرجاؤ، پھر انہیں زندہ کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں پر بہت فضل فرمانے والا ہے، لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔ ‘‘
اللہ تعالی بنی اسرائیل کے ایک گروہ کی بات کر رہے ہیں۔ایک لشکر ان پر حملہ آور ہو رہا تھا، سو وہ اپنے آپ کو بچانا چاہتے تھے۔وہ اپنے شہر سے ہزاروں کی تعداد میں نکل کھڑے ہوئے۔مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ ’’مر جاؤ‘‘، سو وہ سب گر کے مر گئے۔ پھر اللہ نے انہیں دوبارہ زندہ کیا تاکہ انہیں اپنا معجزہ دکھائیں۔
ام المومنین حضرت ام حبیبہؓ نے اللہ تعالی سے ایک دعا مانگی کہ یا اللہ میرے شوہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، میرے والد ابو سفیانؓ اور میرے بھائی معاویہ ؓ کو لمبی زندگی عطا کر کے مجھے راحت عطا فرما۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:’’تم اللہ سے ان چیزوں کے بارے میں دعا کر رہی ہو جن کا فیصلہ کیا جا چکا ہے، وقت مقرر کیے جا چکے ہیں اور رزق تقسیم کیا جا چکا ہے۔ اگر تم اللہ سے انہیں نارِ جہنم سے بچانے کی دعا مانگتیں تو یہ تمہارے لیے بہتر تھا‘‘۔(صحیح مسلم)
موت جس کی جہاں اور جب لکھی گئی ہے، وہ وہاں اپنے مقررہ وقت پر آ کر رہے گی۔
سعودی عرب کے شہر ریاض میں یہ حادثہ پیش آیا کہ ایک مزدور ایک زیرِ تعمیر عمارت کی ساتویں منزل سے نیچے گر گیا۔وہ ساتویں منزل سے نیچے سیمنٹ کے پکّے فرش پر جا گرا، مگر دیکھنے والے یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہ فوراً ہی اپنے قدموں پر کھڑا ہو گیا۔ وہ اپنی زندگی بچ جانے پر اتنا خوش ہوا کہ اس نے اردگرد موجود لوگوں اور راہگیروں سے کہا کہ اس خوشی میں، میں تم سب کو کچھ کھلاؤں پلاؤں گا۔ چند منٹ بعد ہی وہ اپنے ارادے کی تکمیل کے لیے سڑک پار کر رہا تھا کہ ایک گاڑی نے اسے ٹکر ماری اور وہ جاں بحق ہو گیا۔ وہ ساتویں منزل سے گر کر نہ مرا، کیونکہ اللہ نے اس کی موت کے لیے دن کا ایک خاص وقت اور ایک خاص جگہ مقرر کر رکھی تھی۔ اللہ تعالیٰ اسے اس مقام پر لانا چاہتے تھے جہاں اس کی موت مقدر تھی۔اب جب یہ شخص ساتویں منزل سے گرنے کے بعد بھی اٹھ کھڑا ہوا، تو اس نے سوچا ہو گا کہ مجھے زندگی عطا کر دی گئی۔ میں موت کے منہ میں جانے سے بچ گیا۔ اس کے ذہن میں موجود آخری خیال بھی یہ نہیں ہو گا کہ وہ چند لمحوں بعد مر جائے گا۔ اگر وہ ساتویں منزل سے گرنے کے باوجود بچ گیا تھا، تو یقیناً اس کے لیے ایک لمبی زندگی لکھی گئی ہے۔ اسے کیا خبر تھی کہ عین اس لمحے بھی ملک الموت اس کی موت کی جگہ کی جانب رہنمائی کر رہے ہیں۔
اسی طرح مصر میں ایک زلزلہ آیا۔زلزلہ زدگان میں ایک شخص تھا جو بڑے لمبے عرصے تک ملبے تلے زندہ رہا۔ کسی کو توقع نہیں تھی کہ ملبے کے نیچے کسی کے زندہ ہونے کا بھی کوئی امکان ہے کیونکہ زندہ رہنے کے لیے ضروری چیزیں، غذا، پانی وغیرہ کچھ بھی موجود نہ تھا۔ اس شخص کے ساتھ اس کی دو رشتہ دار خواتین، اس کی اہلیہ اور والدہ بھی ملبے کے نیچے دفن ہو گئی تھیں۔ وہ دونوں ناقابلِ برداشت حالات کی وجہ سے فوت ہو گئیں، مگر یہ شخص زندہ رہا۔کیونکہ ابھی اس کے مرنے کا وقت نہیں آیا تھا۔
موت کبھی اعلان کر کے نہیں آتی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ابھی بہت وقت پڑا ہے، ہم موت کے لیے تیاری کر لیں گے۔مگر بعض اوقات موت ایسے اچانک آ لیتی ہے کہ اس کی تیاری کرنے کے لیے ایک لمحہ بھی نہیں ملتا۔ ہندوستان کی فضا میں ایک بار دو جہاز بالکل آمنے سامنے ایک دوسرے سے ٹکرا گئے۔ یہ جہاز ۱۶۰۰ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کر رہے تھے۔ ذرا ایک عام شاہراہ کا تصور کیجیے، ایک عام گاڑی ۶۰ میل فی گھنٹہ کی رفتار پر کس تیزی سے سفر کرتی ہے۔ تو یہ جہاز ۱۶۰۰ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ایک دوسرے سے ٹکرا گئے۔ اندر بیٹھے لوگوں کی موت تو آناً فاناً واقع ہو گئی۔ ان میں کوئی ایسا شخص بھی ہو سکتا ہے جوکھانے کے لیے نوالہ منہ کی جانب لے جا رہا ہو، مگر اس سے پہلے کہ وہ اپنا نوالہ منہ میں ڈالتا، وہ فوت ہو گیا۔ اور ہو سکتا ہے کہ ان جہازوں میں دو مسافر ایسے بھی ہوں جو آپس میں گفتگو کر رہے ہوں، اور اس سے پہلے کہ ایک شخص دوسرے کو جواب دیتا، اس کو موت نے آ لیا۔
ہمیں موت کو بہت زیادہ یاد کرنے کی ضرورت ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موت کو راحتوں کو بھلا دینے والی ، مٹا دینے والی اور لذتوں کو توڑنے والی کے طور پر یاد کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لذتوں کو مٹانے والی کو اکثر یاد کیا کرو‘‘۔اگر آپ موت کے بارے میں سوچیں، تو ہر شخص جانتا ہے کہ موت برحق ہے، ہم سب کو آنی ہے۔ مگر حسن البصریؒ فرماتے ہیں: ’’میں نے موت کے علاوہ کبھی کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جو اس قدر یقینی ہو کہ اس میں قطعی شک کی گنجائش نہ ہو، مگر لوگ اس سے ایسے تعامل کرتے ہوں جیسے وہ کوئی شک و شبہ والی چیز ہے(یعنی جس کا واقع ہونا یا نہ ہونا امکانی بات ہے)‘‘۔ ہم سب کو موت کے آنے کا یقین ہے۔ مسلم ہو یا غیر مسلم، کیا آپ نے کبھی کسی کو موت کا بھی انکار کرتے دیکھا ہے؟ مگر حسن البصری ؒ فرماتے ہیں کہ ہم ایسے سمجھتے ہیں جیسے شک میں مبتلا ہوں کہ نجانے موت آئے گی یا نہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمیں ایک دن مرنا ہے، مگر ہم نے اس دن کی کتنی تیاری کی ہے؟
جو لوگ موت کے لیے تیاری کرتے بھی ہیں تو کس قسم کی تیاری کرتے ہیں، محض دنیاوی معاملات، کفن دفن، قبرستان اور قبر کے لیے موزوں جگہ اور اس قسم کے دیگر دنیاوی معاملات کے اعتبار سے تیاری کرتے ہیں۔مگر مرنے کے بعد اگلے جہان کے لیے کیا تیاری کی جاتی ہے؟ اپنے جنازے اور جنازے میں شرکت کرنے والوں کی دعوت و طعام کے لیے تو بہت اہتمام سے انتظام اور تیاری کی جاتی ہے، مگر خود مرنے والے کا آگے کن حالات سے سابقہ پڑنا ہے، اسے کن چیزوں کا سامنا کرنا ہو گا، اس کے لیے کوئی تیاری نہیں ہوتی۔
آئزک آسموو(Isaac Asimov) ، روسی نژاد امریکی فکشن رائٹر ہے۔ اس کی موت سے چند مہینے پہلے ایک انٹرویو لیا گیا جس میں اس سے سوال کیا گیا کہ آپ کے خیال میں جب آپ مر جائیں گے تو آپ کے ساتھ کیا ہو گا؟ یہ شخص امریکہ کے نامور ترین مصنفین میں سے تھا۔ اس کی کتابوں کی ایک دنیا میں دھوم تھی۔ اس کا جواب تھا:’’کچھ بھی نہیں! میں مٹی میں مل کر ختم ہو جاؤں گا‘‘۔ اس کا علم، اس کی ڈگریاں ، اس کی ذہانت اور اس کی بے تحاشا دولت، اس کی شہرت و ناموری…… یہ سب اس کے کچھ کام نہ آیا۔اس سب کا مالک ہونے کے باوجود وہ ۱۴۰۰ سال قبل کے سب سے جاہل عرب سے کسی لحاظ سے بھی مختلف نہ تھا۔ اس کی ذہانت اور اس کے علم نے اسے کچھ بھی فائدہ نہ دیا۔ کیونکہ ایسے شخص کو آپ جتنا بھی ذہین فطین اور سمجھدار کیوں نہ سمجھیں لیکن درحقیقت اس کی ذہانت کا لیول صفر ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسے کفار کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب روزِ قیامت وہ حقیقت کو دیکھ لیں گے تو وہ کہیں گے کہ ’’ لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ ‘‘، یعنی اگر ہم سنتے اور عقل رکھتے، اگر ہم کچھ سمجھتے، تو ہم نارِ جہنم میں نہ ہوتے۔ اگر ہمارے دماغوں اور ہماری عقلوں نے ہمیں یہاں (نارِ جہنم میں) پہنچایا ہے تو ایسی عقل اور ایسی سمجھ کا کیا فائدہ؟
اللہ تعالی ہمیں بتاتے ہیں کہ انہوں نے ہمیں عقل اور دماغ کیوں عطا کیا۔ وَجَعَلَ لَكُمُ الْسَّمْعَ وَالأَبْصَارَ وَالأَفْئِدَةَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ یعنی ہم نے تمہیں کان، آنکھیں اور دل اس لیے دیے تاکہ تم شکر گزار بنو۔ یہ تمام آلہ جات ہیں اللہ کی عبادت کرنے کے لیے۔ ان کے ذریعے ہم اللہ کی نشانیاں دیکھتے، سنتے اور محسوس کرتے ہیں، جبکہ دماغ اس سارے علم کو سمجھنے میں، اللہ تک پہنچنے میں اور اس کی عبادت کرنے میں مدد کرتا ہے۔ اگر اللہ کی دی ہوئی ان نعمتوں کا صحیح استعمال کریں تو یہ ایمان کی جانب ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔
لیکن اگر ہم موت کا کثرت سے ذکر کریں ، اس کو یاد کریں اور اس کی حقیقت کا ادراک کریں تو غفلت کے پردےہٹتے ہیں اور حقیقت نظر آنا شروع ہوتی ہے۔ پھر دنیا کی طمع اور دنیاوی ساز و سامان کی حرص اور لالچ ختم ہوتا ہے۔
موت سے پہلے ایک وقت آتا ہے جسے الاحتضار کہا جاتا ہے۔ یہ موت کی تیاری کا وقت ہے۔ اس وقت میں مرنے والے کے پاس فرشتے نازل ہوتے ہیں۔اس وقت مرنے والا ان فرشتوں کو دیکھ سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں’’جب ایک مومن دنیا سے رخصت ہوتا ہے اور آخرت کی جانب سفر شروع کرتا ہے تو جنت سے فرشتے اسے لینے کے لیے آتے ہیں۔ ان کے چہرے سفید اور سورج کی طرح روشن و چمکدار ہوتے ہیں۔ وہ جنت سے اپنے ساتھ مردے کے لیے کفن اور خوشبو لے کر آتے ہیں۔ یہ سب مرنے والے کے ارد گرد بیٹھ جاتے ہیں۔ پھر ملک الموت آ کر اس کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’اے پاکیزہ روح! چل اپنے رب کی مغفرت اور رضا کی جانب‘۔ پھر یہ روح بدن میں سے ایسے آرام سے نکل آتی ہے جیسے مَشک میں سے پانی کا قطرہ ٹپکتا ہے۔ مگر جب ایک کافر اس دنیا سے جانے والا ہوتا ہے تو اسے لینے کے لیے خوفناک صورتوں والے فرشتے آتے ہیں۔ان کے پاس اس کے لیے انتہائی کھردرا کفن ہوتا ہے اور ملک الموت اس کے پاس آکر اسے کہتا ہے’اے خبیث روح! اللہ کے غضب اور اس کے قہر کا سامنا کرنے کے لیے نکل آ!‘، جب ملک الموت یہ اعلان کرتا ہے تو کافر کی روح اس کے بدن میں چھپنے کے لیے کونوں کھدروں میں دوڑتی ہے۔ مگر ملک الموت اسے پکڑ کے اور کھینچ کر نکالتے ہیں، جیسے گیلی روئی کو کانٹے دار جھاڑیوں سے نکالا جاتا ہے‘‘۔
اس موقع پر مومن کی روح کو بھی کچھ دقت اور مشکل کا سامنا ہو سکتا ہے مگر اللہ تعالیٰ مومن کے دل کو تسلی اور بشارت دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ (سورۃ الفصلت: ۳۰)
’’ جن لوگوں نے کہا ہے کہ ہمارا رب اللہ ہے، اور پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے تو ان پر بیشک فرشتے (یہ کہتے ہوئے) اتریں گے کہ نہ کوئی خوف دل میں لاؤ، نہ کسی بات کا غم کرو، اور اس جنت سے خوش ہوجاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ۔‘‘
اس کے پاس آنے والے فرشتے اسے بشارتیں دیتے ہیں کہ ہم تمہیں تمہارے رب کی رضا اور خوشنودی کی جانب لیے جاتے ہیں، تمہارا رب تم سے راضی ہے اور اس کے وعدوں کے پورا ہونے کا وقت آ پہنچا ہے۔ مگر یہ بشارتیں ان لوگوں کے لیے ہیں جنہوں نے اللہ کو اپنا رب مانا اور پھر اس عقیدے پر استقامت اختیار کی۔ ایسا نہیں ہوا کہ اللہ کو رب بھی کہا اور پھر دائیں بائیں ٹیڑھے راستوں پر بھی چلتے رہے۔ ایک دن مسجد میں گزارا اور چھ دن مسجد سے باہر، ایک دن روزہ رکھا تو اگلے دن شراب پی لی، نہیں بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی اطاعت میں ثابت قدم رہے، جمے رہے۔ ایسے لوگوں کے لیے فرشتے بشارتیں لے کر آتے ہیں۔
جبکہ اللہ کا انکار کرنے والے کافر کے لیے اللہ تعالی فرماتے ہیں:
وَلَوْ تَرَى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُواْ الْمَلآئِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ وَذُوقُواْ عَذَابَ الْحَرِيقِ ذَلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيكُمْ وَأَنَّ اللّهَ لَيْسَ بِظَلاَّمٍ لِّلْعَبِيدِ (سورۃ الانفال: ۵۰، ۵۱)
’’ اور اگر تم دیکھتے (تو وہ عجیب منظر تھا) جب فرشتے ان کافروں کی روح قبض کر رہے تھے، ان کے چہروں اور پشت پر مارتے جاتے تھے (اور کہتے جاتے تھے کہ) اب جلنے کے عذاب کا مزہ (بھی) چکھنا۔ یہ سب کچھ ان اعمال کا بدلہ ہے جو تم نے اپنے ہاتھوں آگے بھیج رکھے تھے، اور یہ بات طے ہے کہ اللہ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ ‘‘
عطا ابن رباحؒ فرماتے ہیں: موت کو یاد کرنے کے تین فائدے ہیں:
۱.) تعجیل التوبۃ : توبہ میں جلدی کرنا۔ آخرت کو یاد کرنے سے جلدی توبہ کرنے کی توفیق ملتی ہے۔
۲.) الرضا بالقلیل: کم پر راضی ہونا۔ یہ جانتے اور سمجھتے ہوئے کہ دنیا تو محض عارضی رہائش گاہ ہے، یہاں ہمیشہ نہیں رہنا، اس کی زیادہ فکر نہیں ہوگی بلکہ جو کچھ اللہ نے عطا کر رکھا ہے، بندہ اس پر راضی اور مطمئن ہو گا۔
۳.) لا یشاحح اھل الدنیا فی دنیاھم۔ دنیا کے لوگوں کے ساتھ دنیا کے ساز و سامان پر جھگڑا یا مقابلہ نہیں ہوتا جس کے نتیجے میں دل کا سکون حاصل ہوتا ہے۔
لوگوں کے درمیان تلخیاں، پریشانیاں اور مسائل پیدا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ آپس میں مادّی اشیا کے حصول میں مقابلہ و مسابقت کرتے ہیں۔ یہ دنیا بہت بڑی ہے اور اسی تناسب سے ہماری خواہشات کا سلسلہ بھی طویل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر ابنِ آدم ؑ کو سونے کی ایک وادی حاصل ہو جائے تو وہ دوسری کی خواہش کرے گا، اور ابنِ آدمؑ کا پیٹ سوائے مٹی کے کسی چیز سے نہیں بھرتا۔ جب ہم واپس مٹی کی طرف لوٹ جائیں گے، تب ہی خواہشات در خواہشات کا یہ سلسلہ ختم ہو گا۔ یہ دنیا اس قابل نہیں کہ اس پر جھگڑا کیا جائے، اس کے پیچھے پریشان و خوار ہوا جائے۔ اگر آپ انفرادی معاملات کو چھوڑ کر قوموں اور ملکوں کے درمیان ہونے والی جنگوں پر ہی نظر ڈالیں تو آپ دیکھیں گے کہ وہ کن چیزوں کے لیے لڑتے ہیں؟ تیل، گیس، معدنی ذخائر، زمین……ان چیزوں پر لڑائی کی جاتی ہے۔ اسی لیے وہ واحد جنگ کہ جس کا جواز بنتا ہے وہ جہاد ہے۔ کیونکہ وہ اللہ کی خاطر کیا جاتا ہے جبکہ باقی ہر لڑائی دنیا کی خاطر کی جاتی ہے۔ لوگ اسلام اور جہاد کو نشانہ بناتے ہیں اور اس پر تنقید و اعتراض کرتے ہیں لیکن اگر آپ ان سے ان کی جنگوں کا جواز معلوم کریں تو وہ کیا جواز پیش کر سکتے ہیں؟ وہ کس لیے لڑتے ہیں؟ دنیا اور اس کے مال و دولت کے لیے۔ ہاں بعض اوقات وہ یہ دلیل تراشتے ہیں کہ ہم انسانی حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں، مگر یہ ایک ایسی دلیل ہے جس میں کوئی دم نہیں۔ جن حقوق کے لیے وہ لڑتے ہیں وہ محض چند افراد کے لیے امتیازی فوائد و مراعات ہوتی ہیں۔ وہ عوام الناس کے حقوق نہیں ہوتے۔
سکرات الموت
سکرات الموت کیا ہے؟ سکرۃ اس بےہوشی اور غفلت کو کہتے ہیں جو شدید درد و تکلیف کے باعث انسان پر طاری ہو جاتی ہے۔ موت کے وقت درد و الم سے طاری ہونے والی غشی سکرۃ الموت کہلاتی ہے۔اللہ سبحانہُ و تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ (سورۃ ق: ۱۹)
’’ پھر دیکھو، وہ موت کی جاں کنی حق لے کر آپہنچی ، یہ وہی چیز ہے جس سے تو بھاگتا تھا ۔‘‘
موت برحق ہے، یہ ہر کسی کو آئے گی چاہے کوئی اس سے بچنا ہی چاہے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سے گزرے توان کے پاس پانی کا ایک پیالہ رکھا تھا۔ وہ اپنے ہاتھ اس پانی میں ڈبوتے اور پھر اپنے چہرۂ مبارک پر پھیرتے اور فرماتے:’’لا الہ الا اللہ، ان للموت سکرات‘‘(اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، بے شک یہ موت کی غشی ہے)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی سکرات الموت کی سختی سے گزرے۔ اب سوچیے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سکرات الموت کی تکلیف محسوس کی، تو میں اور آپ کیا محسوس کریں گے؟ اور کفار کس تکلیف اور سختی سے گزرتے ہوں گے؟
اللہ تعالی فرماتے ہیں:
……وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلآئِكَةُ بَاسِطُواْ أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُواْ أَنفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللّهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ (سورۃ الانعام: ۹۳)
’’ اور اگر تم وہ وقت دیکھو (تو بڑا ہولناک منظر نظر آئے) جب ظالم لوگ موت کی سختیوں میں گرفتار ہوں گے، اور فرشتے اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے (کہہ رہے ہوں گے کہ) اپنی جانیں نکالو، آج تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا، اس لیے کہ تم جھوٹی باتیں اللہ کے ذمے لگاتے تھے، اور اس لیے کہ تم اس کی نشانیوں کے خلاف تکبرکا رویہ اختیار کرتے تھے۔ ‘‘
گو کہ ہر شخص موت کی تکلیف سے گزرتا ہے، مگر اس تکلیف کے بھی مختلف درجات ہیں۔کفار سب سے زیادہ تکلیف اور سختی سے گزرتے ہیں۔ جبکہ انسانوں کا ایک گروہ ایسا ہے جس کو سکرات الموت کی تکلیف تقریباً نہ ہونے کے برابر محسوس ہوتی ہے۔ یہ شہدا کا گروہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:’’شہید کو موت کی تکلیف بس اتنی سی ہی ہوتی ہے جیسے کسی کو چیونٹی کے کاٹنے سے تکلیف پہنچتی ہے‘‘۔ اللہ نے شہید کا بہت سی نعمتوں سے اکرام کیا ہے۔ اتنے زیادہ انعام و اکرام سے نوازا ہے کہ حیرت ہوتی ہے کہ کوئی شخص کیوں کر رتبۂ شہادت سے بچنا چاہے گا؟
جب کوئی شخص اس دنیا سے رخصت ہو تا ہے تو وہ واپس پلٹنا چاہتا ہے۔ اگر وہ کوئی کافر ہے تو وہ مومن و مسلم بننے کے لیے واپس آنا چاہتا ہے۔ اگر وہ کوئی عاصی و نافرمان؍گنہگار ہے، تو وہ توبہ کرنے کے لیے پلٹنا چاہتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
حَتّيٰٓ اِذَا جَاۗءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِ لَعَلِّيْٓ اَعْمَلُ صَالِحًا فِيْمَا تَرَكْتُ كَلَّا اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَاۗىِٕلُهَا وَمِنْ وَّرَاۗىِٕهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ (سورۃ المومنون: ۹۹،۱۰۰)
’’ یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی پر موت آکھڑی ہوگی تو وہ کہے گا کہ : میرے پروردگار ! مجھے واپس بھیج دیجیے۔ تاکہ جس دنیا کو میں چھوڑ کر آیا ہوں، اس میں جاکر نیک عمل کروں۔ ہرگز نہیں ! یہ تو ایک بات ہی بات ہے جو وہ زبان سے کہہ رہا ہے، اور ان (مرنے والوں) کے سامنے عالم برزخ کی آڑ ہے۔ جو اس وقت تک قائم رہے گی جب تک ان کو دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جائے۔ ‘‘
انہیں دنیا میں ایک موقع عطا کیا گیا مگر انہوں نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ اب جب وقت ہاتھ سے نکل چکا ہے تو وہ چاہتے ہیں کہ انہیں دوبارہ ایک موقع عطا کیا جائے تاکہ وہ توبہ کریں اور اچھے اعمال کریں۔ مگر اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اب ان کے اور دنیا کے درمیان ایک رکاوٹ، ایک پردہ ہے، جسے پار کر کے وہ واپس نہیں جا سکتے۔ یہ پردہ برزخ کہلاتا ہے۔ آج اللہ تعالیٰ نے ہمیں موقع اور مہلت عطا کر رکھی ہے، آج اچھے اعمال کرنے کا، اللہ کو راضی کرنے کا وقت ہے۔ کل، جب توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا، پھر کوئی مہلت اور کوئی موقع نہیں ملے گا۔ پھر بہت دیر ہو چکی ہو گی۔
اللہ تعالی فرماتے ہیں:
اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَي اللّٰهِ لِلَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السُّوْۗءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ يَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِيْبٍ فَاُولٰۗىِٕكَ يَتُوْبُ اللّٰهُ عَلَيْھِمْ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ عَلِــيْمًا حَكِـيْمًا (سورۃ النساء: ۱۷)
’’ اللہ نے توبہ قبول کرنے کی جو ذمہ داری لی ہے وہ ان لوگوں کے لیے جو نادانی سے کوئی برائی کر ڈالتے ہیں، پھر جلدی ہی توبہ کرلیتے ہیں۔ چناچہ اللہ ان کی توبہ قبول کرلیتا ہے، اور اللہ ہر بات کو خوب جاننے والا بھی ہے، حکمت والا بھی۔ ‘‘
اللہ تعالی فرماتے ہیں’’یتوبون من قریب‘‘. یہاں قریب سے کیا مراد ہے؟ ابنِ کثیرؒ اس کی وضاحت بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ انسان کے پاس غرغرہ کے وقت تک توبہ کی مہلت موجود ہے۔ غرغرہ وہ وقت ہے جب روح جسم سے جدا ہونے کی تیاری کے مرحلے میں ہوتی ہے۔ غرغرہ وہ حد ہے کہ جس کے بعد توبہ کا دروازہ بند ہو جاتا ہے، پھر کوئی توبہ قبول نہیں ہوتی۔اللہ کا فرمان ہے:
وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السَّـيِّاٰتِ حَتّٰى اِذَا حَضَرَ اَحَدَھُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّىْ تُبْتُ الْــٰٔنَ وَلَا الَّذِيْنَ يَمُوْتُوْنَ وَھُمْ كُفَّارٌ اُولٰۗىِٕكَ اَعْتَدْنَا لَھُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا (سورۃ النساء: ۱۸)
’’ تو بہ کی قبولیت ان کے لیے نہیں جو برے کام کیے جاتے ہیں، یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی پر موت کا وقت آکھڑا ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں نے اب توبہ کرلی ہے، اور نہ ان کے لیے ہے جو کفر ہی کی حالت میں مرجاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے تو ہم نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ ‘‘
جب موت کا وقت آ جاتا ہے پھر کوئی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ یہی فرعون کا معاملہ تھا۔ فرعون نے موت کو آنکھوں سے دیکھنے کے بعد توبہ کی، مگر تب مہلت ختم ہو چکی تھی۔ اللہ نے اس کی توبہ قبول نہیں فرمائی۔ سو انسان کے پاس اس وقت تک مہلت ہے جب تک روح جسم میں موجود ہے اور اگلے سفر کے لیے تیار ہو رہی ہے، اگر اس سے پہلے پہلے توبہ کر لے تو قبول ہو گی، ورنہ اس کے بعد کوئی توبہ مقبول نہیں اور کوئی مہلت یا موقع میسر نہیں آئے گا۔
موت اچانک آتی ہے۔ کسی کو پہلے سے موت کی آمد کی اطلاع نہیں دی جاتی۔ کسی کو نہیں بتایا جاتا کہ فلاں دن آپ کو موت کا فرشتہ لینے آئے گا۔یہ اچانک آتی ہے اور ہمارے پاس کوئی طریقہ نہیں کہ ہم ایسا کوئی منصوبہ بنائیں کہ موت سے پہلے توبہ کر لیں گے۔ موت کے فرشتے کی آمد کے بعد ہم اسے اس بات پر راضی نہیں کر سکتے کہ چند لمحے ٹھہر جاؤ تاکہ میں توبہ کر لوں۔ توبہ کے لیے بہترین وقت آج اور ابھی ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:
أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ…… (سورة الحدید: ۱۶)
’’ جو لوگ ایمان لے آئے ہیں، کیا ان کے لیے اب بھی وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر کے لیے اور جو حق اترا ہے اس کے لیے پسیج جائیں ؟ ‘‘
’یَأْنِ ‘ کا مطلب ہے اسی لمحے، ابھی اور اسی وقت۔توبہ کرنے میں سستی اور تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ اگرآپ قرآن مجید کا مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ جہنم میں عذاب جھیلنے والوں کی زیادہ تر آہ و بکا اور فریاد اس لیے ہو گی کیونکہ وہ نیک اعمال کرنے میں سستی اور کاہلی سے کام لیتے تھے۔ وہ توبہ کو اور نیک اعمال کو موخر کرتے رہتے تھے۔ جہنم میں وہ اللہ سے فریاد کریں گے کہ اے اللہ! ہمیں واپس لوٹا دے، ہمیں ایک موقع اور دے دے تاکہ ہم اچھے اعمال کریں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ’جو شخص اللہ سے ملنے کی خواہش رکھتا ہے اور اس کی تیاری کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملاقات کو محبوب رکھتے ہیں۔ اور جو کوئی اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے، اللہ تعالی بھی اس سے ملاقات ناپسند کرتے ہیں‘۔ جب حضرت عائشہؓ نے یہ حدیث سنی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا:’’ہم میں سے کون ہے جو موت کو ناپسند نہیں کرتا؟‘‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’میرا یہ مطلب نہیں ۔ جب ایک مومن کی موت کا وقت آتا ہے تو اسے خبر دی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ تم سے راضی ہیں۔ پھر اس کے لیے سب سے محبوب چیز اس کا مستقبل ہوتا ہے۔ وہ اللہ سے ملنے کو محبوب رکھتا ہے اورجلد از جلد اللہ سے ملنا چاہتا ہے۔ سو اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملاقات کو محبوب رکھتے ہیں۔ مگر جب ایک کافر کے دنیا سے جانے کا وقت آتا ہے تو اسے بتایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہیں اور اسےاس کے اعمال کی سزا دینے والے ہیں۔ تو وہ اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملاقات کو ناپسند کرتے ہیں‘۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:’جب جنازہ اٹھایا جاتا ہے اور لوگ اسے کندھوں پر اٹھا کر چل پڑتے ہیں، تو اگر وہ جنازہ کسی نیک و صالح شخص کا تھا، تو وہ کہتا ہے کہ ’جتنی جلد ہو سکے مجھے لے چلو!‘۔ لیکن اگر اس کے برعکس معاملہ ہو تو میت کہتی ہے’تباہی و بربادی ہو! تم لوگ مجھے کہاں لیے جاتے ہو؟‘۔ انسانوں کے سوا ہر مخلوق ان کی آواز سنتی ہے اور اگر انسان بھی یہ آوازیں سن سکتے تو وہ صدمے سے مر جاتے‘۔
ایک اور حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ’اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ لوگ اپنے مردے دفنانے چھوڑ دیں گے، تو میں اللہ سے دعا کرتا کہ تمہیں قبر میں مردوں کی آوازیں سنوا دے۔‘
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ محمد!
[یہ سلسلۂ مضامین نابغۂ روزگار، مجاہد و داعی، مبلغ و مقاتل فی سبیل اللہ شیخ انور العولقی شہید رحمۃ اللہ علیہ کے انگریزی میں ارشاد کیے گئے سلسلۂ دروس ’Al-Aakhirah – The Hereafter‘ کا اردو ترجمہ ہیں، جو بِتوفیق اللہ، قسط وار مجلّہ ’نوائے غزوۂ ہند‘ میں شائع کیے جا رہے ہیں ۔ ]


![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



