دوسری شرط یہ ہے کہ امیر کی اطاعت کرے ؛تو یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ جس کے اندر بہت سے مجاہدین میں کمزوری پائی جاتی ہے ۔اور شاید یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ جس میں کمزوری اللہ کی ناراضگی کا سبب بھی بنتی ہے اور نصرت نہ اترنے کا سبب بھی ۔تو امیر کے حکم کو حکم جاننا۔ امیر کا مطلب براہ راست امیر المومنین یا شیخ اسامہ نہیں ہے بلکہ ہر وہ شخص جس کو آپ کے اوپر کسی جہادی کام کے سلسلے میں، کسی چھوٹے سے بھی مسئلے میں امیر بنا دیا گیا۔کوئی مطبخ (باورچی خانے) کا مسئول ہے، تو مطبخ کے کام میں وہ امیر ہے آپ کا ، تو آپ نے اس کی بات ماننی ہے۔ کوئی مرکز کا امیر ہے تو مرکز کے دائرے میں آپ کو اس کی بات ماننی ہے۔ اس لیے نہیں ماننی ہے کہ وہ خود اپنی ذات میں ایسا فرد ہے جو واجب الاطاعت ہے ، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ جب تک وہ امیر ہے اس کام کا تب تک آپ نے اس دائرے میں اس کی اطاعت کرنی ہے۔ تو جس جس دائرے میں جو جو فرد یا بچہ چھوٹا سا، کوئی معصوم سا بچہ، علم میں آپ سے کم، کسی طرح کا بھی ساتھی کیوں نہ ہو آپ کے اوپر مسئول بنا دیا جائے (تو اس کی اطاعت کریں)۔ جب ایک عمومی حدیث کہتی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ جب تک کوئی شخص تمہیں اللہ کی کتاب کے مطابق لے کے چل رہا ہوکوئی خلاف شرع کام نہ کرتا ہو تو اس وقت تک اس کو سننا اور اس کی اطاعت کرنا تم پر واجب ہے چاہے وہ کوئی نک کٹا حبشی غلام (ہی کیوں نہ ہو)جس کا سر ایسا ہو جیسے کشمش کا دانا ہوتا ہے تو ایسا بدشکل بڈھا آدمی جس کو دیکھ کر بھی کراہت ہوتی ہو وہ بھی اگر تمہارے اوپر امیر بنا دیا جائے تو جب تک شریعت کے مطابق چل رہا ہو اس کی اطاعت کرنا واجب ہے ۔تو یہ دوسرا مسئلہ یا دوسری شرط ہے جو ہم سے مطلوب ہے کہ ہم اطاعت امیر کے مسئلے کو سنجیدہ لیں اور ان چھوٹے چھوٹے مسئلوں میں اجتہادات کر کے اپنی مرضی چلا کر یہ سمجھیں کہ فلاں بھائی کی بات ہی نہیں مانی ناں یا فلاں امیر صاحب کی بات ہی نہیں مانی ناں…… بات یہ نہیں ہے! اللہ کی بات آپ نے نہیں مانی، اللہ کو ناراض کیا ہے اور اپنے جہاد کی مقبولیت پرایک بہت بڑا آپ نے سوالیہ نشان لگا دیا ہے ۔
تو یہ دو بالکل واضح کردار اسی میدان میں نظر آتے ہیں۔ جو شخص بھی یہاں رہے گا تو اس کو نظر آئے گا کہ یہ دونوں طرح کے ساتھی بالکل علیحدہ ہوتے ہیں ایک وہ جو سمع و اطاعت کا مجسم نمونہ ہوتے ہیں جہاں بٹھادو جدھر لگادو جس کام پررکھو خوشی خوشی اس کو اختیار کر لیتے ہیں ان کا اپنا ایجنڈا، اپنا پروگرام، اپنا ایک پورا ذہن نہیں ہوتا کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ مجھ سے یہ کام لیا جائے ورنہ میں نہیں چلوں گا۔ ایک یہ کردار ہوتا ہے کہ جو اپنی پوری مرضی ، سٹار پلیئر بن کے اپنی پوری مرضی چلا رہا ہوتا ہے، وہ کسی کی بات نہیں مانتا اور دوسرا وہ ہوتا ہے کہ جس نے اپنی مرضی کو پورا تفویض کر دیاہوتا ہے کہ جب تک خلاف شرع امر نہ آئے تب تک وہ اطاعت کرتا رہتا ہے ۔تو بالخصوص جہاں پرکمزوری دکھائی جاتی ہے، ہم سب سے جہاں پرلغزش ہوتی ہے، ظاہری بات ہے کہ اگر امیر کہے کہ نماز پڑھو تو یہ ہر ایک ہی کر لیتا ہے جو یہاں پرجہاد تک آگیا، ایک روزہ رکھو تو یہ بھی وہ کر ہی لیتا ہے اس لیے کہ یہ آپ اس کی بات تو نہیں مان رہے یہ تو آپ براہ راست اللہ کی مان رہے ہیں…… مسئلہ وہاں آتا ہے کہ جہاں امیر کہتا ہے کہ آج مرکز سے باہر نہیں نکلنا، اتنے ساتھیوں نے وہاں اکٹھے نہیں ہونا، ادھر سے ادھر نہیں جانا، آج یہ نہیں پکانا وہ پکانا ہے، ایسے نہیں کرنا…… یہ چھوٹے چھوٹے جو انتظامی معاملے ہوتے ہیں ناں، اس کو ہم یوں لے لیتے ہیں کہ یہ تو چھوٹی سی بات ہے اس میں اگر اپنا اجتہاد کیا تو اس سے کیا فرق پڑے گا تو یہی تو وہ دائرہ ہے کہ جہاں پر پتہ چل رہا ہے کہ آپ نے اپنے امیر کی بات مانی کہ نہیں مانی۔ پہلی بات کہ اگر آپ اس کے خالص شرعی احکامات مانتے ہیں تو وہ نہ بھی کہے تو نماز تو پڑھیں گے ناں، امیر کے کہنے پر تو نہیں پڑھ رہے، روزہ امیر کے کہنے پر تو نہیں رکھ رہے، جہاد امیر کے کہنے پر تو نہیں کر رہے وہ تو ویسے بھی کرنا ہی کرنا ہے۔ اطاعت کا تو یہاں پتہ چلتا ہے کہ جب وہ آلو پیاز جیسے چھوٹے چھوٹے کاموں کے اوپر آپ کو ٹوکے اور وہاں بھی آپ اپنی رائے اٹھا کر اپنی جیب میں رکھیں۔ ایک دفعہ رائے پیش کردیں، بحث نہ کریں، اس کے بعد مشاورت کے بعد امیر جس فیصلے پر بھی پہنچے اس کی اتباع کریں ۔تو یہ دوسرا مسئلہ ہے اور اس میں بنیادی چیز جو مانع ہوتی ہے وہ’’انا‘‘ ہے ۔اس کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں ہے کہ جو ہمیں امیر کا حکم ماننے سے روکتی ہے، انا ہے کہ میں اور اس کی بات مان لوں!! میں جو عمر میں بھی اس سے اتنا بڑا ہوں، میں اس سے زیادہ سمجھ دار ہوں ،علم بھی اس سے زیادہ رکھتا ہوں، یہ بے وقوفانہ سی بات تھی اس میں مجھے کوئی خاص حکمت نہیں نظر آرہی اس لیے میں نہیں مانوں گا…… تو یہ وہ چیز ہوتی ہے جو شیطان دل کے اندر ڈالتا ہے۔ جو اندر کی انا ہوتی ہے جو روکتی ہے اطاعت سے ۔تو جو اپنی انا کو مار لیتا ہے اس کے لیے سمع و اطاعت بہت آسان ہو جاتی ہے۔ تو یہ بلاشبہ بہت بڑی آزمائش ہے۔ لیکن جو شخص اس کو اس سے جوڑے گا ناں کہ اس پر میرے جہاد کی قبولیت کھڑی ہوئی ہے تو وہ یقینا ً کسی امیر کے امر کی خلاف وزری سے پہلے ایک مرتبہ ضرور سوچے گا ۔تو بھائیو یہ دوسری شرط ہے یا یہ دوسری صفت ہے۔ سو جس کو اپنا جہاد قبول کروانا ہے تو اس کے لیے مطلوب ہے کہ وَأَطَاعَ الْإِمَامَ ،یعنی امیر کی اطاعت کی جائے ۔
تیسری شرط ہے کہ وَأَنْفَقَ الْكَرِيمَةَ …… کہ اپنا بہترین مال جو کچھ بھی بہترین اس کے پاس ہے وہ اللہ کے رستے میں خرچ کرے، وہ اس رستے کے اندر لگائے۔ تو وہ مال ہے تو وہ لگائے، وہ چیزیں ہیں تو وہ لگائے، اس کے مجسم نمونے تو جہاد میں ہمارے سامنے گزرے ہیں۔ ماضی میں جائیں اورصحابہ کی زندگیاں اٹھا کر دیکھیں تو اللہ نے ان کا نقشہ یہ کھینچا ہے کہ وہ اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے تھے، چاہے وہ خود تنگی کے عالم میں ہوں۔ خود پیٹ بھر کے کھانے کونہ بھی ہو تو دوسروں پر ایثار کیا کرتے تھے، دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیا کرتے تھے ۔لیکن قریب کی مثال بھی دیکھیں تو یہی شیخ ابو خباب ؒبتا رہے تھے کہ شیخ زرقاوی ؒ نے ان کے پاس دورہ کیا تھا بارود کا، انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے ۔تو وہ ان کی صفات ایک دن بتا رہے تھے تو انہی صفات میں انہوں نے یہ بات بتائی کہ سراپا محبت تھے اپنے ساتھیوں کے لیے ۔ کوئی نئی چیز کوئی نئی گھڑی آئی، کوئی نیا تحفہ ان کے پاس آیا، کوئی نئی جیکٹ آئی، کوئی نیا کپڑا آیا تو وہ کہتے ہیں کہ بس اس طرح تھا کہ بندہ موقع ڈھونڈ رہا ہے ساتھیوں پرچیزیں لٹانے کا تو وہ جو کچھ آتا تھا وہ نکالتے تھے(خرچ کرتے تھے)، نکالتے تھے دوسروں پر، اچھی چیز دے کر خود کمتر پرگزارا کیا کرتے تھے ۔اسی طرح شیخ اسامہ کے بارے میں بھی وہ شیخ ابو خباب ہی یہ بات بتا رہے تھے کہ ان کا بھی بعینہٖ یہی معاملہ ہے کہتے ہیں کہ جب ان کے پاس لاکھوں ہو اکرتے تھے بلکہ کروڑوں ہوا کرتے تھے اس وقت بھی جو ان سے جو مانگتا تھا وہ نہ نہیں کرتے تھے اور جیب سے نکال کر دے دیتے تھے اور کہتے ہیں کہ میں نے وہ دن بھی دیکھے ہیں کہ جب ان کی جیب میں گنتی کے چند سو روپے تھے وہ مانگے تو وہ بھی انہوں نے نکال کر دے دیے۔تو یہ وہ مطلوبہ صفت ہے اللہ کے ہاں قبولیت کی اور اس میں جو چیز مانع ہے وہ وہ ہے جس کی طرف قرآن اشارہ کرتا ہے کہ انفاق سے جو چیز روکتی ہے وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ……اللہ فرماتے ہیں کہ جو اپنے دل کی تنگی پہ، چھوٹے دل ہونے کے اوپر جس نے قابو پا لیا جو اس دل کی تنگی سے بچا لیا گیا فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ……یہی لوگ فلاح پانے والےہیں ۔تو یہ کمزور اخلاق کی، گھٹیا اخلاق کی نشانی ہے کہ انسان کا دل اتنی چھوٹی چیزوں میں پھنسا ہوا ہو۔ اس کا دل اپنی گھڑی میں، اپنے عطر میں، اپنے کپڑوں میں، اپنی جیکٹ میں، اپنی ٹوپی میں، اپنے جوتوں میں، ان چیزوں میں اتنا پھنسا ہوا ہو کہ ان چیزوں پرساتھیوں سے وہ جھگڑتا ہو کہ میری چیز کیوں لے لی؟ میری چیز کیوں اٹھا لی ؟ اس کا تو معاملہ یہ ہونا چاہیے کہ یہ سب کچھ لے جاؤ میں ہوں ہی تمہارے لیے ، میں مجسم جو ہوں وہ اہل ایمان کے لیے ہوں، جس نے مجھ سے جو کچھ لینا ہےوہ لے کے چلا جائے اس پراس کو غم نہیں ہونا چاہیے ۔
تو یہ وہ صفت ہے جو اپنے اندر پیدا کرنے کی ضرورت ہے اگر اپنا جہاد قبول کروانا ہے۔ اپنی بہترین چیز، بد ترین چیز نہیں۔ اللہ نے قرآن میں کہا کہ خرچ کرنے کا معاملہ آئے تو چن چن کے گندی مندی چیزیں نہ چنوجو گھر کے اندر پھٹے پرانے کپڑے ہیں، وہ نہ نکالو، جو ٹوٹے ہوئے جوتے تھے وہ نہ نکالو۔ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنفِقُونَ وَلَسْتُم بِآخِذِيهِ…… تم اللہ کے رستے میں خبیث گندی چیز وں کو خرچ کرتے ہو، جب کہ تم خود انہیں رکھنا پسند نہیں کرتے! تو جب اللہ کے رستے میں نکالنے کی باری آتی ہے تو پھر وہ چیز نکالی جاتی ہے جو اس کو سب سے عزیز ہوتی ہے تاکہ اللہ تعالی راضی ہو تاکہ اللہ کو جو تحفہ دیا جا رہا ہے، وہ اصل میں بندے کو نہیں دیا جا رہا وہ تو اللہ کو پیش کیا جارہا ہے، اللہ کی رضا کے لیے پیش کیا جارہا ہے، تو کون چاہے گا کہ وہ اللہ کے اعلیٰ دربار کے اندر ایک حقیر، گھٹیا، فضول…… جس چیز کو وہ خود رد کر چکا ہے وہ اللہ کے پاس بھیج دے۔ تو یہ تیسری صفت ہے جو پیدا کرنے کی ضرورت ہے اپنے اندر کہ جو کچھ میرے پاس ہے وہ سب کچھ میرے ساتھیوں کا ہے وہ میرے اہل ایمان بھائیوں کا ہے، وہ مجاہد ہیں یا غیر مجاہد ، ان کے لیے میں سراپا محبت و شفقت اور ان پرسب کچھ میں لٹانے والا ہوں۔ تو وہ اموال ہوں یا اموال کے علاوہ میرے پاس جو کچھ میسر ہے وہ سب کچھ ہو اور اس میں میری راحت بھی شامل ہے،میرا آرام بھی شامل ہے کہ ساتھیوں کی خاطر کبھی یوں ہی فالتوجاگنا پڑ جائے، ساتھیوں کی خاطر کسی اور کو خوش کرنے کی خاطر یعنی مجھے دال پسند ہے اور ساتھیوں کو آلو پسند ہیں تو یہ وہ چیز نہیں ہے کہ جس نے اپنا جہاد قبول کر وانا ہے تو ان چیزوں پرپھنسے گا…… کہ نہیں بھئی میری خواہش ہے اس لیے یہ پکنا چاہیے، تو یہ مرکز میں ایسی چھوٹی چھوٹی چیزیں ہوتی ہیں ناں ، آپس میں جو لڑائیوں کا، جھگڑوں کا، دلوں کی دوری کا باعث بنتی ہیں۔ تو کیوں ہم اس دلوں کی تنگی میں مبتلا ہوں؟ اللہ سے مانگنے کی ضرورت ہے کہ یہ بہت بڑا شیطان کا شکنجہ ہے، دل کی تنگی والا جو مسئلہ ہے۔ یہ بخل جس کو کہیں یا کوئی بھی اس کونام دیں ، تو اللہ تعالیٰ سے یہ مانگنے کی ضرورت ہے کہ اللہ ہمیں اس دل کی تنگی سے محفوظ کرے اور اللہ تعالی ہمیں آخرت کے اجر پرنگاہ رکھتے ہوئے دنیا کا سب کچھ آخرت کی خاطر لٹانے کی توفیق دے اور اس کی ہمت اور حوصلہ عطا فرمائے ۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)



![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



