گاڑی گھر کے سامنے رک گئی۔ گھر پر نظر پڑتے ہی سب دھک سے رہ گئے۔ گھر کے گیٹ پر موٹا سا تالا ان کا منہ چڑا رہا تھا۔ نور کسی کے کچھ کہنے سے پہلے ہی اتری اور دروازے کی طرف بڑھی، مگر اس کی مایوسی کی کوئی انتہا نہ رہی کیونکہ اندر واقعی نہ بندہ تھا نہ بندے کی ذات۔ ارمغان اور لائبہ کے گھر کے باہر بھی تالا لٹک رہا تھا۔ نور کو پسینہ آنے لگا۔ پھر وہ دوڑتی ہوئی ساتھ والے گھر کی طرف گئی۔ اتنے میں عبادہ اور امینہ خالہ بھی نیچے اتر آئے۔
’’نور! رکو!‘‘ عبادہ پیچھے سے بولا، ’’تم رکو! میں پوچھتا ہوں!‘‘
وہ آگے بڑھتے ہوئے بولا تو نور پیچھے ہٹ گئی۔
دروازہ کھٹکھٹانے پر ایک ادھیڑ عمر شخص نے سر باہر نکالا۔
’’السلام علیکم!‘‘
’’وعلیکم السلام!… وہ… موحد قریشی صاحب کہاں گئے ہیں؟ آپ کچھ بتا سکتے ہیں؟ ‘‘ عبادہ نے سوال کیا۔
’’ نہیں بیٹے مجھے نہیں پتہ کہ کہاں گئے ہیں!… پرسوں ہی اچانک گھر چھوڑ کر چلے گئے… نجانے کدھر؟… ان کی غیر موجودگی میں ان کے گھر پر چھاپہ پڑا تھا، میں بھی اس دن گھر پر نہ تھا… سنا ہے دو لڑکے اور ایک لڑکی کو اٹھا کر لے گئے ہیں!… آپ کی تعریف؟‘‘
’’ میں ان کا بھانجا ہوں… یہ ان کی بھتیجی ہیں نور قریشی!‘‘ عبادہ کے بولتے ہی ادھیڑ عمر شخص کی آنکھیں مارے حیرت کے کھلی کی کھلی رہ گئیں۔
’’اوہ نور بچہ! آپ یہاں ہو!… آپ کے گھر والے تو سمجھ رہے تھے کہ آپ بھی گرفتار ہو گئی ہو!… قریشی صاحب کی اہلیہ اور بیٹیاں تو بہت زیادہ رو رہی تھیں!‘‘ وہ تاسف سے بولے۔ پھر کچھ سوچنے لگے۔ ’’اللہ کے بندے کوئی رابطہ کا طریقہ بھی تو نہیں بتا کر گئے… اصل میں بہت زیادہ گھبرا گئے تھے بے چارے!‘‘
نور کے دماغ میں دھماکے سے ہونے لگے۔ مایوسی اور ٹینشن سے ہاتھ، پاؤں ٹھنڈے ہو رہے تھے۔ عبادہ نے بڑے صاحب کو سلام کیا اور واپس ہو لیا۔ نور بھی خاموشی سے من من بھاری ہوتے قدموں سے اس کے پیچھے ہو لی۔
گاڑی میں بیٹھ کر عبادہ گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ پھر کافی دیر بعد سر اٹھایا۔
’’ماما! گھر چلیں؟‘‘
اس کے پوچھنے پر امینہ خالہ نے نور کی جانب دیکھا۔ اچانک نور کے ذہن میں بجلی سی کوندی۔
’’عبادہ! راستے میں بس ایک کام کرنا ہے!‘‘ وہ یک دم پرجوش ہو کر بولی’’پی سی او سے فون کرنا ہے!‘‘
عبادہ نے سر ہلادیا اور گاڑی چلا دی۔ آدھے گھنٹے کی مصافت طے کرنے کے بعد ایک چھوٹا سا پی سی او نظر آیا۔ عبادہ نمبر پوچھ کر فون کرنے چلا گیا۔ نور بے چینی سے اس کے واپس آنے کا انتظار کرنے لگی۔ پھر عبادہ واپس آتا نظر آیا مگر اس کا چہرہ لٹکا ہوا تھا۔ نور کا دل بیٹھ گیا۔ وہ گاڑی کے قریب آیا اور دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گیا۔
’’سگنل نہیں آ رہے!… لگتا ہے کہیں شہر سے دور چلے گئے ہیں!‘‘
نور نے گہرا سانس لیا اور اپنا سر سیٹ پر ٹیک دیا اور آنکھیں موند لیں۔ گاڑی چل پڑی اور گھر کی طرف رواں دواں ہو گئی۔
٭٭٭٭٭
دن یوں ہی گزرنے لگے۔ نور کے روز و شب سخت اذیت میں گزر رہے تھے۔ مصعب اور علی پر تشدد کا منظر اس کو راتوں کو سونے نہ دیتا۔ امینہ خالہ اور جویریہ ہر وقت اس کو بہلاکر رکھنے کی کوشش کرتیں۔ جویریہ خود بھی مختلف فیز سے گزرتی رہتی تھی۔ کسی دن اچانک ہی بلاوجہ خاموش ہو جاتی۔ اور سب کی لاکھ کوشش کے باوجود اس کا منہ کھلوانا ناممکن ہو جاتا۔ کسی دن بے حد چڑچڑی ہو جاتی۔ مگر اکثر و بیشتر خوش مزاج ہی رہتی۔ عبادہ ہفتے میں ایک بار گھر چکر لگا لیتا، جویریہ کی کمزوری عبادہ تھا۔ جب بھی اس کا موڈ بگڑتا ، عبادہ کی سفارش آجاتی۔ اور وہ نجانے اس کو کیا گھول کر پلاتا ، اس کو راضی ہونا ہی پڑتا۔ وہ چلا جاتا تو وہ اداس ہو جاتی۔ مگر اب نور کے آنے سے وہ کافی بہل گئی تھی۔ عبادہ نے ابوبکر کی خیریت کی اطلاع تو دے دی تھی، مگر یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ کب واپس آئے گا۔ اس ہی سے پتہ چلا تھا کہ ابوبکر کو مصعب اور علی کی گرفتاری کی خبر مل چکی ہے۔ نور بے چینی سے اس کا انتظار کر رہی تھی۔
٭٭٭٭٭
آج وہ منہ اندھیرے ہی چھت پر آگیا تھا۔ اس کو دوبارہ دیکھنے کی خواہش، اس کو چین سے بیٹھنے نہ دے رہی تھی۔ کل کا سارا دن وہ اس کو نظر نہ آئی تھی۔ فجر کی اذان ہوئی مگر اس سے وہاں سے ہلا نہ گیا۔ ساتھی تو ویسے بھی سو رہے ہونگے۔ اتنے اندھیرے میں اس کے باہر نکلنے کے آثار نہیں تھے۔ مگر وہ پھر بھی نیچے جھکا ہوا تھا کہ اچانک نیچے کے گھر کا دروازہ پھر کھلا اور وہ باہر آگئی۔ اس کے پیچھے ہی ایک شخص اس کے بازو کو پکڑے لڑکھڑا کر چل رہا تھا۔ اس کے قریب ہی ایک اور شخص کھڑا گہری نظروں سے اس کا جائزہ لے رہا تھا۔ اس شخص پر نظر پڑتے ہی اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ اس کا دماغ بری طرح کھولنے لگا۔ اس نے اپنی مٹھیاں بھینج لیں۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اس شخص کا بھیجا ہی اڑا دے یا کم از کم اس کا سر دیوار میں ہی مار دے۔ وہ غصے سے نیچے دیکھ رہا تھا کہ اپنے کندھے پر دباؤ محسوس ہونے پر چونک کر مڑا، اور ساکت رہ گیا۔
’’بھیا! میں کافی دنوں سے آپ کے چھت پر لگتے چکر نوٹ کر رہا ہوں!… آپ ان خاتون میں کچھ دنوں سے غیر معمولی دلچسپی نہیں لے رہے؟‘‘ مخاطب کا لہجہ اتنا سنجیدہ تھا کہ اس کا دماغ بھک سے اڑ گیا اور اس سے چاہنے کے باوجود صحیح جواب نہ ادا ہو پا رہا تھا۔ اتنی اچانک افتاد نے اس کو گونگا کر دیا تھا۔
٭٭٭٭٭
وہ خط ہاتھ میں تھامے بے یقینی سے اس پر لکھا نام پڑھ رہی تھی۔
’بنتِ احمد قریشی کے نام… ابنِ احمد قریشی کی طرف سے!‘
اس کی باچھیں کھل گئیں، اور اس سے کھڑا رہنا مشکل ہو گیا۔ آج ہی عبادہ آیا تھا اور امینہ خالہ نے کچھ بتائے بنا خط اس کو تھما دیا تھا۔ اور اب قریب کھڑی اس کے چہرے کے بدلتے زاویے دیکھ کر محظوظ ہو رہی تھی۔
‘‘کس کا خط ہےنور؟‘‘ امینہ خالہ نے مسکرا کر پوچھا تو نور بچوں کی طرح خوش ہو کر ان کی طرف مڑی۔ ’’خالہ ابو بکر کا خط ہے!‘‘ نور کو یوں خوش دیکھ کر وہ دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کرنے لگیں۔
’دل و جان سے عزیز اپنی پیاری بہن نور کے نام ابو بکر کی طرف سے!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ تم ایمان و صحت کی بہترین حالت میں ہو۔ پیاری بہنا! مجھے اس خوفناک واقعہ کی اطلاع مل چکی ہے، جو تمہارے ساتھ پیش آیا ہے اور جس نے میری راتوں کی نیند اڑا دی ہے! لیکن… ساتھ ہی اللہ کا شکر کرتا نہیں تھکتا کہ اس نے تمہیں بچا لیا۔ اس بات پر ہم سب جتنا شکر ادا کریں کم ہے!
اچھا پیاری بہنا! تمہیں یہ بتانا تھا کہ میں تم کو بہت یاد کرتا ہوں، مگر اللہ کے فرض کی پکار کے آگے بے بس ہوں۔ میں آج کل ایک ایسے کام میں مصروف ہوں، جس سے بچ کر واپس آنا شاید ممکن نہ ہو!… تم دل چھوٹا نہ کرنا اور خالہ کا خیال رکھنا! ان کا ہر کہنا ماننا اور مجھے معاف کر دینا!
تمہیں بہت یاد کرتا ہوں!
والسلام علیکم
تمہارا بھائی
ابوبکر‘
نور کی خوشی جھاگ کی طرح بیٹھ گئی۔ اس کی آنکھیں نم ہونے لگیں۔
’’خالہ!‘‘
’’جی بیٹے؟‘‘ خالہ نے کتاب پڑھتے ہوئے سر اٹھا کر اس کی جانب دیکھا۔
’’ابوبکر نے آپ کو بھی خط لکھا ہے؟‘‘
’’جی!‘‘ خالہ نے دھیرے سے سر ہلا دیا۔
’’کیا لکھا ہے اس نے؟‘‘ اس سے اپنی کیفیت چھپانا مشکل ہو رہی تھی۔
’’بٹیا! اس نے تو کافی سنجیدہ باتیں لکھی ہیں!…‘‘ انہوں نے گہری نگاہوں سے اس کا جائزہ لیا، ’’بتا دوں؟‘‘
’’جی بتا دیں۔‘‘
’’اِدھر آؤ!‘‘ انہوں نے اشارے سے اس کو اپنے قریب بلایا۔ وہ ان کے قریب جا کر بیٹھ گئی۔ ’’بٹیا! ابو بکر نے مجھے لکھا ہے کہ تمہیں اپنی بیٹی بنا لوں!‘‘
٭٭٭٭٭
’’عبادہ ! ابو بکر کا خط تم نے پڑھا؟‘‘ امینہ خالہ نے خط پڑھتے ہی اس کی جانب دیکھا۔ اس کے چہرے پر کسی قسم کے حیرت کے آثار نہ تھے۔
’’جی! بس سرسری سا پڑھا تھا!‘‘ اس نے سپاٹ لہجے میں بولا۔
’’تو تمہیں پہلے ہی معلوم تھا کہ اس کی جان خطرے میں ہے؟‘‘ امینہ خالہ نے جانچتی نگاہوں سے اس کو دیکھا۔ وہ کچھ نہ بولا، پھر دھیرے سے بڑبڑایا۔
’’اس کو یہ لکھنے کی ضرورت کیا تھی؟‘‘
‘‘اس کے بعد والی بات کیا تم نے نہیں پڑھی؟‘‘ امینہ خالہ کو اس کی بے پرواہی پر غصہ آیا۔
’’کیا لکھا ہے؟‘‘ اب کی بار وہ ذرا چونکا۔
’’اس نے مجھ سے التجا کی ہے کہ میں نور کو اپنی بیٹی بنا لوں!‘‘
’’ماما! وہ تو پہلے سے ہی آپ کی بیٹی ہے!‘‘ عبادہ نے نا سمجھتے ہوئے کہا۔
’’وہ چاہتا ہے کہ تمہارے واسطے سے میں اس کو اپنی بیٹی بنا لوں!‘‘ امینہ خالہ معنی خیز انداز میں مسکرا دیں۔ اب کی بار عبادہ بات کی تہہ تک پہنچ گیا اور اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ وہ آنکھیں پھاڑے امینہ خالہ کو دیکھے گیا پھر جھٹکے سے سر جھکا لیا۔
’’کیوں ختم ہوئے معاملہ کو دوبارہ اٹھانا چاہ رہے ہیں آپ لوگ؟‘‘
’’بیٹے! نور کو ہماری ضرورت ہے!‘‘
‘‘ماما!‘‘ وہ بولا تو نہ چاہنے کے باوجود ناگواری اس کے لہجے میں بر آئی۔ ’’آپ کو یاد نہیں… معاملہ کتنی ناگواری سے ختم ہوا تھا… نور ہمارے گھر میں ویسے بھی تو رہ سکتی ہے!ً‘‘
’’بیٹے! بات کو سمجھو!… اس طرح تم نہیں مانو گے تو اس کو کسی اور گھر جانا پڑے گا۔ کیا یہ اچھا نہیں کہ وہ ہمارے ہی گھر رہے!‘‘
’’ماما…‘‘
’’عبادہ! اب تو تمہیں اس کے دین پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے! بلکہ اب اس کو تمہاری وجہ سے تقویت ملے گی۔‘‘ امینہ خالہ بات کاٹ کر بولیں۔
’’ماما!‘‘ عبادہ نے پھر پہلو بچانا چاہا۔ ’’وہ… اس کا تو رشتہ طے ہے!‘‘
’’کیا تم چاہتے ہو کہ ایک دین دار لڑکی کو زبردستی ایک ایسے لڑکے سے بیاہ دو جو اس کو دین پر عمل نہ کرنے دے اور جو کفار کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہو؟‘‘ امینہ خالہ نے غصے سے اس کی جانب دیکھا۔ ’’مصعب اور ابوبکر کو تو وہ پہلے ہی پسند نہیں تھا!‘‘
’’اچھا!‘‘ آخر عبادہ نے ہتھیار ڈال دیے۔ ’’مگر آپ پہلے نور سے تو پوچھیں!‘‘
عبادہ کو ہار مانتا دیکھ کر امینہ خالہ فاتحانہ مسکراہٹ لیے اٹھ کھڑی ہوئیں، اور کمرے سے نکل گئیں۔
٭٭٭٭٭
’’کیا مطلب خالہ؟‘‘ نور نے اچھنبے سے ان کی جانب دیکھا۔
’’بیٹے تم عبادہ کا رشتہ قبول کرو گی؟‘‘
نور کو زور کا جھٹکا لگا اور اس کا ردعمل بھی عبادہ سے کچھ کم نہ تھا۔
’’خالہ؟…‘‘ اس سے مزید کچھ بولا نہ گیا۔
’’بٹیا! ابو بکر نے مجھے خط میں لکھا ہے کہ اس کی زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں… مصعب اور موحد چچا ہماری پہنچ سے دور ہیں!… ارمغان اس کو پہلے دن سے ہی پسند نہیں تھا… ان حالات میں کیا تم عبادہ کا رشتہ قبول کرو گی؟‘‘
نور کچھ دیر خاموش رہی پھر دھیرے سے گویا ہوئی۔
’’خالہ! ان حالات میں شادی کا کس کا دل چاہتا ہے؟… مگر حالات نے مجھے اپنا دل مارنا بھی سکھا دیا ہے!… اب میں نے بس… اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر چھوڑ دیا ہے!… بس جس طرف وہ مجھے لے جائے گا میں قبول کر لوں گی!‘‘ بولتے بولتے نجانے کیوں اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ’’خالہ! مجھے آپ کی ضرورت ہے!… مجھے آپ کے اندر امّاں نظر آتی ہیں… اس لیے میں آپ کو استخارہ کر کے فائنل جواب دے دوں گی! ان شاء اللہ!‘‘
امینہ خالہ کو نور کے اتنا جلد مان لینے اور حالات کی نزاکت کا اندازہ لگا لینے کی امید نہ تھی۔ وہ ان کی امید سے زیادہ سمجھدار ہو چکی تھی۔ انہوں نے آگے بڑھ کر اس کو اپنے سینے سے لگا لیا۔
’’میری بچی! ان شاء اللہ تم دیکھنا اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے فیصلے پر پچھتانے نہیں دے گا! ان شاء اللہ!‘‘
نور خاموشی سے ان کے سینے سے لگی رہی۔
٭٭٭٭٭
آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے۔ کالونی کے باہر بچے کھیل رہے تھے۔ کوئی کرکٹ کھیل رہا تھا تو کوئی فٹ بال سے۔ بادل بھی سورج کے ساتھ آنکھ مچولی کھیل رہے تھے۔
قریب ہی ایک دکان کے باہر ابوبکر بے چینی سے ٹہل رہا تھا۔ اچانک گلی کے موڑ سے ایک شخص مڑتا اور اس کی طرف آتا دکھائی دیا۔
’’السلام علیکم!‘‘ وہ بندہ دھیرے دھیرے چلتا اس کے قریب آگیا۔
’’وعلیکم السلام! بھیا کیا رپورٹ ہے؟‘‘ ابوبکر نے بے چینی سے پوچھا۔
’’کہیں دور چل کر بتاتا ہوں!‘‘ اس شخص نے اردگرد کا جائزہ لیتے ہوئے کہا۔
ابوبکر نے سر ہلا دیا اور دونوں دھیرے دھیرے قدم بڑھانے لگے۔ قریب ہی ایک پارک تھا، وہ دونوں اس میں داخل ہو گئے، اور لوہے کی بینچ پر بیٹھ گئے۔ پارک بچوں کے شور سے گونج رہا تھا۔ بچے شور مچاتے ہوئے، ایک دوسرے کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔ کچھ بچے جھولوں پر ایک دوسرے سے جھگڑ رہے تھے۔
’’اچھا! اب بتائیں عبید بھائی!‘‘
’’وہ افضل وٹو جو ہے ناں… اس کے پاس کل گیا تھا… اس کی سکیورٹی بہت زیادہ ہے!… وہ پہلے تو مجھ سے ملنے پر تیار نہ تھا… پھر میں نے صحافی کے روپ میں ملنا چاہا تو اجازت مل گئی اور اب اگلے ہفتے کا ٹائم ملا ہے!… مگر مجھے لگتا ہے کہ کاروائی مشکل ہو گی… سکیورٹی بہت ٹائٹ ہے!‘‘ عبید بھائی نے ساری بات گوش گزار کر دی۔
ابو بکر کچھ دیر سوچتا رہا، پھر بولا،
’’میرا نام تو نہیں لینا پڑا؟‘‘
’’جی لینا پڑا… میں نے کہا اسلم نے بھیجا ہے تب ہی تو اس تک رسائی ممکن ہوئی… لیکن مجھے لگتا ہے اس طرح آپ کی زندگی خطرے میں پڑ جائے گی!‘‘
’’ہوں!ً‘‘ ابوبکر سوچ میں ڈوب گیا، ’’اس کے لوگوں نے مجھے دیکھا ہوا ہے، جب اسکول کے لیے امداد لینے کے بہانے گیا تھاً… بے وقوف شخص ہے!… بہت جلد لوگوں پر اعتماد کر لیتا ہے!… چلیں پھر دیکھتے ہیں ان شاء اللہ!‘‘
’’ان شاء اللہ!‘‘
٭٭٭٭٭
’’نور!‘‘ امینہ خالہ پریشانی سے نور کو پکارتیں کمرے سے باہر نکلیں۔ نور باہر صحن میں بیٹھی شام کے برتن دھو رہی تھی۔
’’جی خالہ؟‘‘ وہ ان کو پریشان دیکھ کر برتن چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’بٹیا! عبادہ کہہ رہا ہے کہ ابوبکر کی خیریت کے لیے دعا کرو… ریڈیو پر خبر آئی ہے کہ آئی ایس آئی کے ایک افسر کو دو لوگوں نے گھر میں داخل ہو کر گولیاں مار کر ہلاک کر دیا ہے!… اور پولیس اہلکار دونوں حملہ آوروں کی ہلاکت کا دعویٰ کر رہے ہیں!‘‘ امینہ خالہ یہ کہہ کر واپس عبادہ کے پاس چلی گئیں۔
نور کے برتن دھوتے ہاتھ سست پڑ گئے اور اس کا دل بوجھل ہونے لگا۔ پھر وہ اٹھی اور اندر کمرے میں چلی گئی۔ جویریہ پہلے ہی مصلے پر بیٹھی تھی۔ اس نے بھی مصلہ بچھایا اور دعائیں کرنے لگی۔
٭٭٭٭٭
آج صبح سے گھر میں کافی چہل پہل تھی۔ امینہ خالہ صبح سے ہی مصروف تھیں۔ آج نور کا نکاح تھا۔ عبادہ مردان خانے میں بیٹھا تھا۔
دو تین فیملیز کو بلوایا گیا تھا۔ ایک عبادہ کے امیر صاحب احمد بھائی کی فیملی تھی اور دو عرب فیملیز تھیں۔
احمد بھائی کی اہلیہ اسماء باجی نے نور کو تیار کر دیا۔ وہ خود ہی نور کے لیے شادی کا جوڑا اور پانچ چھ جوڑے شادی کی ہی مناسبت سے لے آئی تھیں۔ خواتین نے اکٹھے بیٹھ کر کچھ جہادی ترانے بھی پڑھ لیے۔ نور بس خاموشی سے سب کچھ دیکھ رہی تھی۔ اس دن کے لیے اس نے کتنے خواب دیکھے تھے۔ عام حالات میں نکاح والا دن اس کی زندگی کا خوشگوار ترین دن ہوتا، مگر اب اس کا دل کسی بھی قسم کے جذبات سے عاری تھا۔ ساری امنگیں مر چکی تھیں۔ سب خواہشات حالات کی نذر ہو چکی تھیں۔
جویریہ بھی اس کے پہلو سے پہلو ملائے بیٹھی تھی۔ اپنے اکلوتے بھائی کی شادی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ سکنے کے باوجود آج وہ غیر معمولی خوش دکھائی دے رہی تھی اور صبح سے نور کے برابر بیٹھی باتیں کر کر کے اس کا دماغ کھا رہی تھی۔ نجانے کہاں سے اچانک اس کو اتنی ساری باتیں یاد آگئی تھیں!
’’جویریہ تھوڑی دیر کے لیے چپ ہو جاؤ! نور تھک جائے گی!‘‘ امینہ خالہ کے کہنے پر اس کا منہ بن گیا۔
’’رہنے دیں خالہ!… میں فریش رہوں گی اس کی باتیں سن کر!‘‘ نور اس کو یوں خوش دیکھ کر خود بھی اچھا محسوس کر رہی تھی۔
اور جویریہ پھر شروع ہو گئی۔
’’قبول ہے!‘‘
نور کی ہلکی سی آواز بمشکل سنائی دی اور خواتین میں مبارک باد کا شور مچ گیا۔ امینہ خالہ اور جویریہ بے اختیار رونے لگیں۔ نور بھی آبدیدہ ہو گئی۔ اس کی زندگی کا نیا باب رقم ہو گیا تھا۔
شام تک وہ سادگی سے ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں رخصت ہوکر آگئی۔ نور کو اس بات کی سب سے زیادہ خوشی تھی کہ اس کی شادی اس حدیث کے مصداق ٹھہری تھی کہ جس شادی میں جتنا کم خرجہ ہو گا وہ اتنی ہی بابرکت ہو گی۔
عبادہ جھجکتا جھجکتا کمرے میں داخل ہوا۔ اس نے سفید شلوار قمیص پہن رکھی تھی۔ جس کے اوپر گہری براؤن واسکٹ بہت متناسب لگ رہی تھی۔ کالی پگڑی نفاست سے سر پر بندھی ہوئی تھی اور شملہ دائیں طرف کو ڈالا ہوا تھا۔ کندھوں تک آتے بال تیل کی وجہ سے چمک رہے تھے۔ اس کے چہرے پر نور کا ہالہ ساتھا جو آج پہلے سے بھی زیادہ پر رونق لگ رہا تھا۔
وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا امینہ خالہ کے برابر میں آ کر بیٹھ گیا۔ امینہ خالہ کچھ ہی دیر بیٹھ کر دونوں کی بلائیں لیتیں جویریہ کو سہارا دے کر کمرے سے چلی گئیں۔
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ دونوں ہی اپنی اپنی سوچوں میں گم ہو گئے۔
’’السلام علیکم نور!‘‘ آخر عبادہ اتنا ہی بول پایا اور خاموش ہو گیا۔
’’وعلیکم السلام!‘‘ وہ ہلکی سی آواز میں بولی۔
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد عبادہ نے پھر بات کرنے کی کوشش کی،
’’نور! آپ اس رشتے سے خوش ہو؟… کوئی زور زبردستی تو نہیں؟‘‘
’’نور نے نفی میں سر ہلا دیا تو عبادہ نے نجانے کب کا روکا ہوا سانس بحال کیا اور مسکرایا۔
’’الحمدللہ!… میں بھی بہت خوش ہوں!‘‘
نور نے نظریں اٹھا کر عبادہ کی جانب دیکھا اور اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ عبادہ کا کھلا ہوا چہرہ یک دم ماند پڑ گیا۔
’’عبادہ! ہم تو اس دنیا میں خوش رہنے نہیں آئے! میرا دل تو کب کا مر چکا ہے!‘‘ وہ دھیرے سے آنسوؤں کے درمیاں بولی۔
عبادہ نے خاموشی سے نظریں جھکا لیں۔
’’نور!… اللہ تعالیٰ کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی مصلحت ضرور ہوتی ہے… جب ہم نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا تو پھر غم کس بات کا؟… اسی لیے ہم اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر کبھی ناخوش نہیں ہوتے… بظاہر کتنی ہی مشکل لگے!…‘‘ وہ اس سے نظریں ملائے بغیر بولا۔ نور خاموشی سے اس کی بات سننے لگی۔ ’’یہ دنیا آزمائش گاہ ہے!… تم صحیح کہتی ہو کہ ہم اس دنیا میں خوش رہنے کے لیے نہیں بھیجے گئے… مگر اللہ تعالیٰ جو بونس کے طور پر خوشیاں دے ان کا خیر مقدم بھی تو کرنا چاہیے… ورنہ یہ ناشکری ہو جاتی ہے!‘‘
’’عبادہ ! میں بھی خوش رہنا چاہتی ہوں!‘‘
’’ان شاء اللہ فکر نہ کرو! میں تمہیں ہمیشہ خوش رکھوں گا!… اور شکایت کا موقع نہیں آنے دوں گا! یہ میرا اپنے رب سے وعدہ ہے!‘‘ وہ مسکرایا تو نور کے پژمردہ سے دل میں کسی کونے میں خوشی کی کونپل سی پھوٹی۔ اس نے ہر چند چاہا کہ اس کے چہرے پر مسکراہٹ نہ آئے مگر وہ ناکام رہی اور اس کا چہرا کھل اٹھا۔
’’لگتا ہے میرے اپنے رب سے کیے وعدے نے تمہیں بہت خوش کیا ہے!‘‘ عبادہ محظوظ ہوتے ہوئے بولا۔ نور نے خفت سے چہرہ جھکا لیا۔
’’نور! اللہ تعالیٰ کے فیصلے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے… خالو جان نے جب تمہاری زندگی بہتر بنانے کے لیے مجھے انکار کیا تھا… تو انہیں معلوم نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ تو ہم دونوں کو ایک دوسرے کا ہمسفر بنانے کا فیصلہ کر چکا تھا۔‘‘
’’عبادہ!…‘‘ نور نے بولنا چاہا مگر عبادہ نے اس کی بات کاٹ دی۔
’’یہ مت سمجھو کہ میں کوئی شکوہ کر رہا ہوں…‘‘ وہ مسکرایا۔ ’’بلکہ میں تو تقدیر کے فیصلوں پر حیران ہوں!‘‘
اچانک کمرے کا دروازہ زور دار آواز سے کھٹکا اور باہر سے کسی کی شناسا سی آواز سنائی دی،
’’اوئے! جلدی کر! مجھے آدھے گھنٹے سے انتظار کرا رہا ہے! تو نے کہا تھا کہ صرف دس منٹ بعد بلا لے گا!‘‘
’’اوئے! تو ہماری باتیں سن رہا تھا؟‘‘ عبادہ نے خفت سے اپنی گھڑی کی جانب دیکھا۔
’’اب آجاؤں؟‘‘ باہر سے دوبارہ آواز سنائی دی۔
نور بے یقینی سے کبھی عبادہ تو کبھی دروازے کی جانب دیکھ رہی تھی۔ دروازہ آہستہ سے کھلا اور دروازے میں کھڑے شخص کو دیکھ کر نور کی بڑی بڑی آنکھیں مزید بڑی ہو گئیں۔
’’آنکھیں کم پھاڑو… کہیں ابل کر باہر نہ گر پڑیں!‘‘ ابوبکر کی شرارت بھری آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔ وہ دروازے میں کھڑا مسکرا رہا تھا۔
’’ابو بکر!‘‘ نور اردگرد بھلا کر کھڑی ہو گئی اور اپنے کپڑے سنبھالتی دوڑ کر اس سے لپٹ کر رونے لگی۔ ابوبکر کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔ نور نے روتے ہوئے ابوبکر کو یوں پکڑا ہوا تھاگویا چھوڑتے ہی نظروں سے اوجھل ہو جائے گا۔
’’چلو نور! اب چھوڑ بھی دو!‘‘ ابوبکر نے محبت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ نور آنسو پونچھتے ہوئے پیچھے ہو گئی۔
’’تم… کیسے آئے؟ تم تو…‘‘ نور نے حیرت سے پوچھا۔
’’میں تو مارا گیا تھا؟‘‘ وہ ہنس دیا ۔ ’’جھوٹ بولتے ہیں! ہم دونوں الحمدللہ بالکل ٹھیک ہیں!‘‘
نور بے یقینی سے اس کو دیکھے گئی۔
’’چلو اب بیٹھ جاؤ!‘‘ ابو بکر نے زمین پر بچھے گدے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔ عبادہ اور نور اس کے سامنے بیٹھ گئے۔
نور کا چہرہ اب پرسکون ہو چکا تھا۔ اندر کا غبار آنسووؤں کی صورت میں بہا کر وہ اب اپنے آپ کو ہلکا پھلکا محسوس کر رہی تھی۔
’’ابوبکر! تمہیں مصعب اور علی…‘‘ نور بولنے لگی تھی کہ ابوبکر نے اس کا جملہ اچک لیا۔
’’ہاں! مجھے سب کچھ پتہ ہے!… نور دیکھو تمہیں اب زندگی ایک نئے رخ سے گزارنا ہو گی… اپنے آپ کو ذہنی طور پر تیار رکھو!‘‘ ابوبکر سنجیدہ لہجے میں بولا۔ ’’تم اب ایک مجاہد کی بہن کے ساتھ ساتھ ایک مجاہد کی بیوی بھی بن چکی ہو… الحمدللہ!… لیکن اس وجہ سے ہماری زندگیوں کے ساتھ تم بھی خطرے کی زد میں آچکی ہو!‘‘
’’مگر… تم لوگ ایسے کام کرتے ہی کیوں ہو جس سے تم لوگوں کے ساتھ ساتھ تمہارے پیاروں کو بھی خطرہ ہو جائے؟‘‘ نور نے ناسمجھتے ہوئے پوچھا تو عبادہ اور ابوبکر بے ساختہ ہنس دیے۔
’’نور! یہ تو ایک لمبی بحث ہے!‘‘ عبادہ پہلی بار گفتگو میں شامل ہوتے ہوئے بولا۔ ’’ان شاء اللہ اگر زندگی رہی تو ضرور تم سے کروں گا!‘‘
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ ہر کوئی اپنی اپنی سوچ میں گم ہو گیا تھا۔ آخر کافی دیر کے بعد عبادہ نے خاموشی توڑتے ہوئے ابوبکر کی جانب شرارت سے دیکھا۔
’’اوئے! ابوبکر! یاد ہے کیسے ہم نے ’رابعہ‘ کی شادی خراب کی تھی!… اس کا دلہا چھپا کر!‘‘ وہ مسکرا کر بولا تو ابوبکر کی ہنسی چھوٹ گئی۔
نور بھی بچپن کی حسین یادوں میں گم ہو گئی جب اس کی گڑیا رابعہ کی شادی کے نکاح والے دن گڈا غائب ہو گیا تھا۔ اور بہت ڈھونڈنے کے باوجود نہ ملا تھا۔
’’ تو یہ تم لوگوں کا کارنامہ تھا؟‘‘ وہ بھی ہنس کر بولی۔ ابوبکر اور عبادہ ابھی تک ہنسے جا رہے تھے۔
’’یاد ہے نور، ہاجر اور جویریہ کی شکلیں کیسی بنی ہوئی تھیں!‘‘ ابوبکر بولا ’’نور تو ہاجر کے گلے لگ کر رو رہی تھی کہ رابعہ کے نکاح والے دن کوئی اس کے دلہا کو اغوا کر کے لے گیا ہے!‘‘
’’جیا تو میرے سے آکر شکوے کر رہی تھی کہ نور کا اتنا پیارا گڈا تھا کسی نے چوری کر لیا!‘‘
ان دونوں سے چاہنے کے باوجود ہنسی روکی نہیں جا رہی تھی۔
’’ہاں ہاں! ہنستے رہو!… مجھے بھی یاد ہے جب ساتھ والوں کا کتا ہمارے پیچھے لگ گیا تھا تو ابوبکر تو ڈر کے مارے کوڑدہ دان میں گھس گیا تھا اور عبادہ گٹر میں گر گیا تھا!‘‘ نور نے شرارت سے دونوں کی جانب دیکھا تو یک دم ان دونوں کی ہنسی کو بریک لگ گئی اور دونوں ہی کب؟ کب؟ کرنے لگے۔
پھر وہ تینوں بچپن کے حسین دور میں گم ہو گئے۔
٭٭٭٭٭
امریکی اور بھارتی حملے کو اب دو سال ہونے کو تھے۔ ابو بکر اور نور کے اپنے رشتہ داروں کو ڈھونڈتے ہوئے آٹھ ماہ گزر گئے تھے۔ کچھ حالات کی وجہ بنی اور کچھ ابوبکر اور عبادہ کی مصروفیات کی وجہ سے وہ زیادہ تگ و دو کر ہی نہ سکے۔ پورے ملک میں بمباریاں، چھاپے وقتاً فوقتاً جاری تھے۔
’’نور! نور!‘‘ ابوبکر آوازیں دیتا ہوا صحن میں داخل ہوا مگر فوراً جھٹکے سے واپس مڑا۔ نور اور جویریہ صحن میں ہی بیٹھی تھیں۔ نور ابوبکر کی آواز سن کر اٹھ گئی۔
’’کیا ہوا ابوبکر؟‘‘
’’تیاری کر لو آج نمرہ پھپھو کی طرف جانا ہے!‘‘ وہ کہہ کر واپس مڑ گیا۔
٭٭٭٭٭
گاڑی سڑک پر رواں دواں تھی۔ فوج کی چوکیوں سے بائی پاس کرتے ، بچتے بچاتے وہ آخر ڈیفنس پہنچ ہی گئے۔ یہاں پر بمباری بہت کم ہوئی تھی۔ کیونکہ یہ فوجیوں کا علاقہ تھا۔ البتہ کبھی کبھار ایک آدھ گولہ آکر یہاں بھی پھٹ جاتا تھا۔ یہاں پر گھروں کی تعمیرات جاری تھیں، باوجود یہ کہ جنگی حالت تھی۔
عبادہ نے گاڑی ایک خوبصورت بنگلے کے سامنے روک دی۔ وہ دونوں نیچے اتر گئے۔
ابوبکر کے دروازہ کھٹکھٹانے پر ایک بوڑھے شخص نے دروازہ کھولا اور سوالیہ نگاہوں سے ان کی جانب دیکھنے لگا۔ بوڑھا ان کے لیے اجنبی تھا۔
’’السلام علیکم!… یہ فہد صدیقی صاحب کا گھر ہے؟‘‘ ابوبکر نے پوچھا۔
’’نہیں بیٹے! وہ تو ابھی دو تین ماہ پہلے یہ گھر بیچ کر شاید ملک سے باہر چلے گئے ہیں۔‘‘
ابوبکر اور نور کے پُر امید چہرے پھر لٹک گئے اور مایوسی سے واپس آ کر گاڑی میں بیٹھ گئے۔
’’ابوبکر! اب کیا کریں؟‘‘ آکر نور نے خاموشی توڑی۔
’’گھر چلیں اور کیا کریں؟‘‘ ابو بکر پھیکی سی ہنسی ہنس دیا اور عبادہ نے گاڑی واپس موڑ لی۔
٭٭٭٭٭
باہر کا دروازہ دھاڑ سے کھلا اور عبادہ گھر میں داخل ہوا۔ نور اور امینہ خالہ گھبرا کر اپنے اپنے کمروں سے باہر نکل آئیں۔
’’کیا ہوا عبادہ؟ خیر تو ہے؟‘‘ امینہ خالہ نے پریشان ہو کر پوچھا۔
’’نہیں خیر نہیں ہے!… ہمارا بہت قریبی ساتھی گرفتار ہو گیا ہے اس لیے گھر فوراً شفٹ کرنا ہے!‘‘ نور اس اچانک افتاد پر گھبرا گئی۔ مگر امینہ خالہ بالکل پرسکون رہیں۔
’’اچھا ! کب نکلنا ہے؟‘‘
’’بس آدھے گھنٹے میں!‘‘ وہ گھڑی دیکھ کر تیزی سے بولا۔ وہ خود بھی کافی پریشان لگ رہا تھا۔ ’’میں گاڑی کا بندوبست کرتا ہوں آپ لوگ تیاری کریں!‘‘
نور فکرمندی سے عبادہ کو گھر سے نکلتے دیکھتی رہی۔ امینہ خالہ بھی اس کی کیفیت بھانپ گئیں۔ اس کی جانب متوجہ ہوئیں۔
’’نور لگتا ہے تم پریشان ہو گئی ہو!‘‘ وہ مسکرا کر بولیں ’’فکر نہ کرو کچھ نہیں ہوتا ان شاء اللہ!… ہمارے ساتھ رہو گی تو خود ہی عادت ہو جائے گی!‘‘
’’خالہ! اتنی جلدی سارا گھر کیسے سمٹے گا؟‘‘
’’ان شاء اللہ سمٹ جائے گا! فکر نہ کرو!‘‘ انہوں نے پیار سے اس کا گال سہلایا تو وہ بھی ہنس دی۔
٭٭٭٭٭
اور واقعی امینہ خالہ نے آدھے گھنٹے میں پورا گھر پیک کر دیا۔ گھر میں سامان تھا ہی گنتی کے برابر۔ اس لیے زیادہ مشکل نہ ہوئی تھی۔ عبادہ گاڑی لے کر آگیا۔
’’واہ! ماشاء اللہ! اتنی جلدی پیک کر لیا آپ لوگوں نے!‘‘ وہ حیرت زدہ رہ گیا۔
’’ہاں بھئی! یہ سارا نور کا کمال ہے!‘‘ امینہ خالہ نے محبت سے نور کی جانب دیکھا۔ وہ مسکرا دی۔ وہ جانتی تھی کہ خود کام کرنے کے باوجود امینہ خالہ نے سارا کریڈٹ اس کو دے دیا تھا۔
’’اچھا؟ ماشاء اللہ! تم تو بڑی جلدی ماہر ہو گئی ہو!‘‘ عبادہ نے متاثر ہوتے ہوئے کہا۔
’’بھیا! میری آنکھیں بھی ٹھیک ہوتیں تو میں بھی ماما کی مدد کرتی!‘‘ جویریہ جو نور کے قریب ہی بیٹھی تھی منہ بنا کر بولی۔ عبادہ اور امینہ خالہ نے اس کے لہجے پر چونک کر اس کی جانب دیکھا۔ نور کو البتہ اس کی بے بسی پر ترس آیا۔ بے چاری اپنے آپ کو ناکارہ پرزہ سمجھنے لگی تھی۔ اس نے تاسف سے اس پر ایک نظر ڈالی۔
’’اچھا!… میں ذرا سامان لوڈ کرتا ہوں!‘‘ وہ نور کو کچھ اشارہ کر کے باہر کی طرف بڑھ گیا۔ نور بھی فوراً اس کے پیچھے لپکی۔
ان دونوں کے باہر نکلتے ہی امینہ خالہ نے جویریہ کی طرف رخ کیا۔
’’جویریہ!… یہ کیا تھا؟‘‘ انہوں نے بمشکل غصہ ضبط کیا اور نرمی سے بولیں۔
’’کچھ بھی نہیں تھا!‘‘ وہ روٹھے روٹھے انداز میں بولی۔
’’جیا!‘‘ اب کی بار امینہ خالہ کے لہجے میں تنبیہ تھی، ’’یہ تم نے کیا حرکت کی تھی؟ یہ تو حسد کی علامت ہے بٹیا!… تمہیں نور کی تعریف کیوں برداشت نہ ہوئی؟‘‘
’’ماما!‘‘ یک دم اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے، ’’مجھے لگا تھا کہ میری آنکھیں نہ ہونے کی وجہ سے اب کوئی حیثیت ہی نہیں رہی!‘‘ امینہ خالہ اس کی بے وقوفی پر بے ساختہ ہنس پڑیں۔
’’جیا! یہ کیا احمقانہ خیال ہے؟… کبھی تمہاری اہمیت اس گھر میں کم ہو سکتی ہے؟… میری بیٹی!… دیکھو جب کوئی نیا فرد کسی گھر میں اپنا مقام بنوا رہا ہوتا ہے تو دوسروں کو ضرور محسوس ہوتا ہے کہ وہ نظر انداز ہو رہے ہیں… حالانکہ یہ بات نہیں ہوتی… صرف ہمیں توجہ میں کسی کی شراکت برداشت نہیں ہو رہی ہوتی۔ حالانکہ… ہمارے ظرف اتنے بڑے ہونے چاہئیں… یہ بس کچھ دیر کی بات ہوتی ہے… آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو جاتا ہے… بس تھوڑا صبر، بڑا ظرف، تحمل اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے!‘‘ امینہ خالہ اس کو سمجھانے لگیں۔ جویریہ خاموشی سے ان کی بات سن رہی تھی۔ ’’کیا نئے بچے کی پیدائش پر پہلے بچے سے ماں باپ کی محبت کم ہو جاتی ہے؟ یا توجہ کم ہو جاتی ہے؟‘‘
ان کی بات سن کر جویریہ کے چہرے پر ہلکی سی مسکان نمودار ہو ئی۔ گویا وہ نقطہ سمجھ گئی تھی۔
’’مگر ماما! آپ اور بھائی سارا وقت نور نور کرتے رہتے ہیں!… اس کے آگے پیچھے پھرتے رہتے ہیں!‘‘
’’بیٹے! نور کو بھی تو ہم نے یہ باور کروانا ہے کہ ہمیں اس سے بہت محبت ہے اور وہ اس گھر کا حصہ ہے!… تاکہ وہ اس گھر کو اپنا گھر سمجھے!… اور اس کو اکیلا پن محسوس نہ ہو!… اس کے بارے میں بھی تو سوچو!
اس کے نہ ماں باپ ہیں نہ کوئی بہن بھائی… اب ہم ہی تو اس کا گھر ہیں! اگر ہم بھی اس سے چِڑ بنا کر بیٹھ جائیں تو بتاؤ وہ کہاں جائے؟… اس کے لیے اگر ہمیں ذرا سی قربانی دینی پڑے تو کیا حرج ہے؟… کیوں غلط کہہ رہی ہوں؟‘‘
جویریہ نے نفی میں سر ہلا دیا۔
’’ماما! میں نور سے برا نہیں کرنا چاہتی!… نہ اس کا دل دکھانا چاہتی ہوں!… بس ایسے ہی سوچے سمجھے بغیر منہ سے نکل گیا تھا!… آئندہ خیال رکھوں گی ان شاء اللہ!‘‘ امینہ خالہ نے بے ساختہ جویریہ کو اپنے سینے سے لگا لیا۔
’’شاباش! بٹیا۱ مجھے تم سے یہی امید تھی!‘‘
(جاری ہے، ان شاء اللہ)






