عوام کی بے خبری:
اول جاننا چاہیے کہ شرک لوگوں میں بہت پھیل رہا ہے اوراصل توحید نایاب ہے۔ لیکن اکثر لوگ شرک اور توحید کے معنی نہیں سمجھتے ،ایمان کا دعویٰ رکھتے ہیں حالانکہ شرک میں گرفتار ہوتے ہیں ۔لہٰذاپہلے شرک او ر توحید کے معنی کو سمجھنا چاہیے تاکہ ان کی بھلائی اور برائی قرآن او رحدیث سے معلوم ہو۔
شرک کے کام:
اکثر لوگ پیروں کو، پیغمبروں کو ،اماموں کو ،شہیدوں کو،فرشتوں کو، پریوں کو مشکل کے وقت پکارتے ہیں ، ان سے مرادیں مانگتے ہیں ،ان کی منتیں مانتے ہیں ،حاجت بر آنے کے لیے ان کی نذر نیاز کرتے ہیں ،بلا کو ٹالنے کے لیے اپنے بیٹوں کو ان کی طرف منسوب کرتے ہیں۔کوئی اپنے بیٹے کا نام عبدالنبی رکھتا ہے،کوئی علی بخش،کوئی حسین بخش،کوئی پیر بخش، کوئی مدار بخش،کوئی سالار بخش ،کوئی غلام محی الدین،کوئی غلام معین الدین، ان کے جینے کے لیے کوئی کسی کے نام کی چوٹی رکھتا ہے ،کوئی کسی کے نام کے کپڑے کے پہنتاہے،کوئی کسی کے نام کی بیڑی ڈالتا ہے، کوئی کسی کے نام ذبیحہ کرتا ہے،کوئی مشکل کے وقت دہائی دیتا ہے ،کوئی اپنی باتوں میں کسی کے نام کی قسم کھاتا ہے ، غرض جو کچھ ہندو اپنے بتوں سے کرتے ہیں وہ سب کچھ یہ آج کے مسلمان انبیا اور اولیا سے ،اماموں اور شہیدوں سے،فرشتوں اور پریوں سے کر گزرتے ہیں اور دعویٰ مسلمانی کا کیے جاتے ہیں۔ سبحان اللہ!یہ منہ اور یہ دعوے ،سچ فرمایا اللہ تعالیٰ نے سورۂ یوسف میں :
وَمَا یُؤْمِنُ اَکْثَرُہُمْ بِاللّہِ إِلاَّ وَہُم مُّشْرِکُونَ( سورۃ یوسف:۱۰۶)
’’اور ان میں سے اکثر ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں،مگر(ساتھ ہی ساتھ )شرک بھی کرتے ہیں۔‘‘
دعویٰ ایمان کا ،کام شرک کے:
یعنی اکثر لوگ جو ایمان کا دعویٰ رکھتے ہیں وہ شرک میں گرفتار ہیں۔اگر کوئی سمجھانے والا ان کو کہے کہ تم دعویٰ ایمان کا رکھتے ہو اور افعال شرک کے کرتے ہو،یہ دونوں راہیں کیوں ملا دیتے ہو؟اس کا جواب دیتے ہیں کہ:
’’ہم تو شرک نہیں کرتے ،بلکہ اپنا عقیدہ انبیا اور اولیاکی جناب میں ظاہر کرتے ہیں ، شرک جب ہوتا ہے جب ان انبیا و اولیاکو ،پیروں، شہیدوں کواللہ کے برابر سمجھتے بلکہ ہم ان کو اللہ ہی کا بندہ مانتے ہیں اوراسی کی مخلوق،یہ تصرف کی قدرت اللہ نے ان کو بخشی ہے اور اس کی مرضی سے عالم میں تصرف کرتے ہیں ،ان کو پکارنا عین اللہ ہی کو پکارنا ہے،ان سے مدد مانگنی عین اللہ ہی سے مدد مانگنی ہے،وہ لوگ اللہ کے پیار ے ہیں جو چاہیں وہ کریں ، اس کی جناب میں ہمارے سفارشی ہیں اور وکیل ان کے ملنے سے اللہ ملتا ہے اور ان کے پکارنے سے اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے ،اور جتنا ہم ان کو مانتے ہیں اتنا اللہ سے ہم نزدیک ہوتے ہیں۔‘‘(نعوذباللہ)
قرآن کا فیصلہ:
ان سب باتوں کا سبب یہ ہے کہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کو چھوڑ کر اپنی عقل کو دخل دیا ۔جھوٹی کہانیوں کے پیچھے پڑے اور غلط رسموں کی سند پکڑی،اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام جان لیتے توسمجھ لیتے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کافر بھی ایسی ہی باتیں کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے ان کی ایک نہ مانی ،ان پر غصہ کیا اور ان کو جھوٹا بتایا،چنانچہ سورۂ یونس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَیَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللّہِ مَا لاَ یَضُرُّہُمْ وَلاَ یَنفَعُہُمْ وَیَقُولُونَ ہَـؤُلاءِ شُفَعَاؤُنَا عِندَ اللّہِ قُلْ اَتُنَبِّئُونَ اللّہَ بِمَا لاَ یَعْلَمُ فِیْ السَّمَاوَاتِ وَلاَ فِیْ الاَرْضِ سُبْحَانَہُ وَتَعَالَی عَمَّا یُشْرِکُون (سورۃ یونس:۱۸)
’’یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو ان کا نہ کچھ بگاڑ سکتی ہیں اور نہ انہیں کچھ فائدہ پہنچا سکتی ہیں۔اور یہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہوں گے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہیے !کیا تم اللہ کو ایسی بات کی خبر دیتے ہوجس کا وجود نہ کہیں آسمان میں اسے معلوم ہوتا ہے اور نہ زمین میں ،وہ ایسی باتوں سے پاک اور بالاتر ہے جو یہ شرک کرتے ہیں۔ ‘‘
اللّٰہ کے سوا کوئی قادر نہیں :
یعنی جن کو لوگ پکارتے ہیں ان کو اللہ نے کچھ قدرت نہیں دی،نہ فائدہ پہنچانے کی نہ نقصان پہنچانے کی۔اور جو کہتے ہیں یہ لوگ ہمارے سفارشی ہیں اللہ کے پاس تو یہ بات اللہ تعالیٰ نے تو نہیں بتائی،پھر کیا تم اللہ سے زیادہ خبردارہو؟اور اس کو وہ بتاتے ہو جو وہ نہیں جانتا؟
اس آیت سے معلوم ہوا کہ تمام آسمان و زمین میں کوئی کسی کا ایسا سفارشی نہیں کہ اس کو مانے اوراس کو پکارے تو کچھ فائدہ پہنچے،بلکہ انبیا اور اولیا کی سفارش جو ہے وہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے ان کے پکارنے نہ پکارنے سے کچھ نہیں ہوتا۔اس سے معلوم ہوا کہ جو کوئی کسی کو سفارشی بھی سمجھ کر پوجے وہ بھی مشرک ہوجاتا ہے اللہ تعالیٰ نے سورۂ زمر میں فرمایا:
وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوا مِن دُونِہِ اَوْلِیَاءَ مَا نَعْبُدُہُمْ إِلَّا لِیُقَرِّبُونَا إِلَی اللَّہِ زُلْفَی إِنَّ اللَّہَ یَحْکُمُ بَیْنَہُمْ فِیْ مَا ہُمْ فِیْہِ یَخْتَلِفُونَ إِنَّ اللَّہَ لَا یَہْدِیْ مَنْ ہُوَ کَاذِبٌ کَفَّارٌ(سورۃ الزمر:۳)
’’اورجن لوگوں نے اللہ کے علاوہ کارساز بنا رکھے ہیں (وہ کہتے ہیں کہ)ہم تو ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ سے قریب کردیں۔ جن باتوں میں یہ اختلاف کر رہے ہیں ،یقینا اللہ ان کے درمیان فیصلہ کر دے گا اللہ ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا اور حق کامنکر ہو۔‘‘
اللہ کے سوا کوئی حمایتی نہیں:
یعنی جو بات سچی تھی کہ اللہ اپنے بندے کی طرف سب سے زیادہ نزدیک ہے۔سو اس کو چھوڑ کر جھوٹی بات بنائی کہ اوروں کو حمایتی ٹھہرایا اور یہ جو اللہ کی نعمت تھی کہ وہ محض اپنے فضل سے بغیر واسطے کے سب کی مرادیں پوری کرتا ہے اور سب بلائیں ٹال دیتا ہے۔ سواس کا حق نہ پہچانا اور اس کا شکر نہ ادا کیا بلکہ یہ بات اوروں سے چاہنے لگے پھرا س الٹی راہ میں اللہ کی نزدیکی ڈھونڈتے ہیں ،سو اللہ ہر گز ان کو راہ نہ دے گا اوراس راہ سے ہرگز اس کی نزدیکی نہ پائیں گے بلکہ جوں جوں اس راہ میں چلیں گے وہ اس سے دور ہوتے جائیں گے۔
اللہ کے سوا کوئی کارساز نہیں:
اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو کوئی کسی کو اپنا حمایتی سمجھ کر پوجے گویہی جان کر کہ اس کے سبب سے اللہ کی نزدیکی حاصل ہوتی ہے سو وہ بھی مشرک ہے اور جھوٹا اور اللہ کا نا شکرا ہے،اللہ تعالیٰ نے سورۂ مومنون میں فرمایا:
قُلْ مَن بِیَدِہِ مَلَکُوتُ کُلِّ شَیْء ٍ وَہُوَ یُجِیْرُ وَلَا یُجَارُ عَلَیْہِ إِن کُنتُمْ تَعْلَمُونَ سَیَقُولُونَ لِلَّہِ قُلْ فَاَنَّی تُسْحَرُونَ (سورۃالمومنون:۸۸،۸۹)
’’ان سے پوچھیے اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ ہر چیز پر حکومت کس کی ہے؟اور وہ کون جو پناہ دیتا ہے مگر اس کے مقابلے میں کسی کو پناہ نہیں مل سکتی۔وہ فوراً کہیں گے اللہ ہی ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہیے پھر تم پر کہاں سے جادو چل جاتا ہے؟‘‘
جب کافروں سے بھی پوچھیں گے کہ سارے عالم میں تصرف کس کا ہے ؟کہ اس کے مقابل کوئی حمایتی کھڑا نہ ہوسکے تو وہ بھی یہی کہیں گے کہ یہ اللہ ہی کی شان ہے، پھر اوروں کو ماننا محض خبط ہے۔اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو عالم میں تصرف کرنے کی قدرت نہیں دی، اور کوئی کسی کی حمایت نہیں کر سکتا یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بھی کافر اپنے بتوں کو اللہ کے برابر نہیں جانتے تھے بلکہ اسی کی مخلوق اور اسی کا بندہ سمجھتے تھے اور ان کو اس کے مقابل کی طاقت ثابت نہیں کرتے تھے ۔ مگر یہی پکارنا ،منتیں ماننی ،نذر نیاز کرنی،ان کو اپنا وکیل اور سفارشی سمجھنا یہی ان کا کفر اور شرک تھا تو جو کوئی کسی سے یہ معاملہ کر لے اگرچہ اس کو اللہ کا بندہ و مخلوق ہی سمجھے وہ مشرک ہے۔
شرک کی حقیقت:
شرک اسی پر موقوف نہیں کہ کسی کو اللہ کے برابر سمجھے اور اس کے مقابل جانے بلکہ شرک کے معنی یہ ہیں کہ جو چیزیں اللہ نے اپنے واسطے خاص کی ہیں اور اپنے بندوں کے ذمہ نشان بندگی کے ٹھہرائے ہیں۔وہ چیزیں او ر کسی کے واسطے کرنی جیسے سجدہ کرنا، اس کے نام کا جانور کرنا، اس کی منت ماننی ،مشکل کے وقت پکارنا،ہر جگہ حاضر و ناظر سمجھنا ،اور قدرت تصرف کو ثابت کرنا،ان باتوں سے شرک ثابت ہو جا تا ہے۔
گو کہ پھر اللہ سے چھوٹا ہی سمجھے اور اسی کی مخلوق اور اسی کا بندہ ،اس بات میں اولیا اور انبیا، جن اور شیطان میں بھوت اور پری میں کچھ فرق نہیں ۔یعنی جو کوئی کسی سے یہ معاملہ کرے گا وہ مشرک ہو جا ئے گا خواہ انبیا و اولیاسے ، خواہ پیروں اور شہیدوں سے، خواہ بھو ت اور پری سے،چنانچہ اللہ تعالیٰ نے جیسا بت پوجنے والوں پرغصہ کیا ہے ویسا ہی یہودو نصاریٰ پر ، حالانکہ وہ اولیااور انبیا سے یہ معاملہ کرتے تھے ۔ چنانچہ سورۂ توبہ میں فرمایا:
اتَّخَذُواْ اَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ اَرْبَاباً مِّن دُونِ اللّہِ وَالْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَمَا اُمِرُواْ إِلاَّ لِیَعْبُدُواْ إِلَـہاً وَاحِداً لاَّ إِلَـہَ إِلاَّ ہُوَ سُبْحَانَہُ عَمَّا یُشْرِکُونَ(سورۃ التوبہ:۳۱)
’’انہوں نے اپنے علما اور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا اور مسیح ابن مریمؑ کو بھی،حالانکہ انہیں حکم دیا گیا تھا کہ ایک اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں ۔جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ۔اللہ تعالیٰ ان چیزوں سے پاک ہے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔‘‘
یعنی اللہ کو بڑا مالک سمجھتے ہیں اور اس سے چھوٹے اور مالک ٹھہراتے ہیں مولویوں اور درویشوں کو ،سو اس بات کا ان کو حکم نہیں ہوا اور اس سے ان پر شرک ثابت ہوتا ہے ،وہ نرالا ہے ،اس کا شریک کوئی نہیں ہوسکتا، نہ چھوٹا ،نہ بڑا ،بلکہ چھوٹے بڑے سب اس کے بندے عاجز ہیں عجز میں برابر ہیں ،چنانچہ سورۂ مریم میں فرمایا :
إِن کُلُّ مَن فِیْ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ إِلَّا آتِیْ الرَّحْمَنِ عَبْداً لَقَدْ اَحْصَاہُمْ وَعَدَّہُمْ عَدّاً کُلُّہُمْ آتِیْہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَرْداً(سورۃ مریم:۹۳۔۹۵)
’’آسمان اور زمین جو کچھ بھی ہے وہ سب رحمن کے حضور غلام بن کر آئیں گے، رحمن نے ان سب چیزوں کا ریکارڈ رکھا ہے اور ان کی پوری گنتی کر رکھی ہے یہ سب قیامت کے دن اس کے حضور تن تنہا حاضر ہوں گے ۔‘‘
یعنی کوئی فرشتہ اور آدمی غلام سے زیادہ رتبہ نہیں رکھتا ،اس کے قبضے میں عاجز ہے کچھ مقدور نہیں اس کے وہ ایک ایک میں آپ ہی تصرف کرتا ہے کسی کو کسی کے قابو میں نہیں دیتا ہر کوئی اپنے معاملے میں اس کے رو برو اکیلا حاضر ہونے والا ہے کوئی کسی کا وکیل اور حمایتی نہیں بننے والا۔
ان مضمونوں کی آیتیں قرآن میں اور بھی سیکڑوں ہیں جس نے ان دوچار آیتوں کے بھی معنی سمجھے لیے وہ بھی شرک و توحید کے مضمون سے خبردار ہو گیا۔
٭٭٭٭٭






![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



