نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home اداریہ

بجھا سکے گی نہ جن کو آندھی

by مدیر
in مئی تا جولائی 2021, اداریہ
0

ایک محترم عالمِ دین نے چند سال قبل مئی ہی کے مہینے میں کہا تھا کہ ’اپنے شہیدوں کی برسیاں منانا ہماری روایت نہیں ہے، لیکن جب ہمارے شہدا کی تاریخِ شہادت پر اہلِ کفر جمع ہو کر خوشیاں منائیں، تو ہم پر بھی لازم ہو جاتا ہے کہ اپنے شہیدوں کا ذکر ان تاریخوں میں ان کے دفاع کی خاطر کریں‘۔ ولایتِ الٰہی کے عظیم مقام ’شہادت‘ پر فائز ان شہیدوں کا دفاع، محض ’دفاع‘ نہیں بلکہ ان کے ’مقاصدِ جہاد‘ کا بیان بھی ہے، وہ مقاصد جو دراصل ’مقاصدِ اسلام‘ہیں۔

ہجرتِ رسولِ محبوب (علیہ ألف صلاۃ وسلام) سے لے کر آج تک، بلکہ قیامت کے قائم ہونے تک، اسلام کے تمام سالوں میں ’بہار‘ کا موسم کبھی خزاں کا شکار نہیں ہوا، نہ ہو گا۔ یہ بہار ’شہادتوں‘ کی بہار ہے۔ اس ابدی موسم میں گلاب و لالہ ہر وقت ’سرخ رُو‘ رہتے ہیں۔ لیکن ہمارے خِطّے کی مناسبت سے دو قد آور شہید شخصیتوں کا ذکر حالیہ دنوں میں ہم پر خصوصاً لازم ہے۔تاریخی اعتبار سے، پہلی شخصیت، امیر المومنین، سیّد المجاہدین، قاطعِ شرک و بدعت، حضرت سیّد احمد شہید، رحمۃ اللّٰہ علیہ کی ہے اور دوسری شخصیت امیر المجاہدین العرب والعجم، شیرِ اسلام، فخرِ ملت، محسنِ امت حضرت اسامہ بن لادن شہید، رحمۃ اللّٰہ علیہ کی۔ ان دونوں حضرات میں بہت سی قدریں اور صفات مشترک ہیں، بعض کا ذکر یہاں کیا جا سکتا ہے اور بعض کا محل یہاں نہیں۔

برِّ صغیر آج سے پانچ صدیاں قبل ’اکبر‘ کے زمانے میں جس اندھیرے کا شکار ہوا اور جس اندھیرے کو حضرت مجدد الفِ ثانیؒ نے مٹایا، اسی طرح کی تدریجی بےدینی کی ظلمات ڈھائی صدیاں قبل پھر برِّ صغیر پر چھا رہی تھیں جب اللّٰہ نے حضرت سیّد احمد شہید کے ذریعے اپنے دین کی تجدید کا کام لیا۔ سیّد بادشاہ نے نفاذِ شریعت کی محنت کا کام ہر ہر زاویے سے کیا۔ آپ نے مدرسوں اور خانقاہوں میں مجاہدین پیدا کیے اور میادینِ جہاد میں علم و تزکیے کے حلقہ جات قائم کیے۔شرک و بدعت کا قلع قمع قوتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر سے کیا۔ فکری و عملی جمود کو توڑا اور دعوت و جہادکے ذریعے اقامتِ خلافت اور اسلامی امارت کی بنیاد رکھی۔ دنیادار امیروں اور خوانین کی خیانت نے وقتی طور پر یقیناً اس جد و جہد کا ثمرہ چھینا، لیکن سیّد المجاہدین کی محنت کی ظاہری اعتبار سے کامیابی یہ ہے کہ ایک تو انہوں نے صدیوں بعد دین کو اسی طریق پر تیرہویں صدی ہجری میں قائم کرنے کی محنت کی جس پر دین پہلے روز قائم ہوا تھا اور اپنے زمانے اور بعد میں آنے والوں پر ’طریقِ محمدیؐ‘ کی حجت قائم کر دی۔ دوسری کامیابی ایک ایسی بادِ بہاری کا آپ کی محنت کے نتیجے میں چلنا ہے جس کی خوشبو اور تازگی آپ کی شہادت کو دو صدیاں بِیت جانے کے بعد بھی برِّ صغیر کے طول و عرض میں محسوس کی جا سکتی ہے اور آج عالمی تحریکِ جہاد کے شجر کی سرحد و کشمیر تا بنگال و برما میں موجود شاخیں سیّد صاحب کے لگائے شجرِ جہاد کا تسلسل ہیں۔

اس کے علاوہ عرب و عجم میں بہت سی اصلاحی و جہادی، نفاذِ شریعت کی محنت کرتی تحریکات پچھلی دو صدیوں میں برپا ہوئیں، کچھ کو کچھ کامیابیاں بھی حاصل ہوئیں اور کچھ ناکام بھی ہوئیں1۔ انہی دو صدیوں میں ’عالمی طاغوتی نظاموں‘ نے زبردست زور حاصل کیا اور ادیانِ شیطنت نتیجتاً پوری قوت کے ساتھ دنیا پر مسلط ہو گئے۔ ایسی دنیا میں آج سے تین دِہائیاں قبل، عالمی سطح پر نفاذِ دین کی محنت ’طریقِ محمدیؐ‘ کے مطابق کرنےکی صدا بلند کرنے والے اور پھر اپنا سب کچھ اسی کی خاطر قربان کر دینے والوں میں بلند نام، بلکہ ان نام داروں کے اِمامِ ہمام ، شیخ اسامہ بن لادن ہیں2۔

آج پاکستان، کشمیر، ہندوستان، بنگلہ دیش، یمن، صومالیہ، شام، الجزائر، مالی وغیرہ میں مضبوط ہوتا شجرِ دعوت وجہاد، جس کے گھنیرے سائے میں نفاذِ اسلام کی بہت سی مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں، شیخ اسامہ ہی کا خون و پسینے اور جان و مال سے سینچا ہوا ہے۔

حضرتِ شیخ اسامہ کی شہادت کو دس سال بیت جانے کے بعد بھی امریکہ اور اس کے حواریوں کا آپ کی شہادت پر جشن منانا (جو دراصل شکست خوردہ کے منہ کا جھاگ ہے) ، دراصل آپ کے ’مشن‘ کی کامیابی کی دلیل ہے (جس طرح آج سے ایک سو نوّے سال قبل رنجیت سنگھ نے لاہور میں چراغاں کیا اور طاغوت و استعمارِ زمانہ ’گورنر جنرل آف انڈیا آفس‘ نے رنجیت سنگھ کو سیّد احمد شہید کی شہادت پر مبارک باد کا پیغام سیاسی مفادات میں اختلاف و تضاد کے باوجود بھجوایا)۔ پھر اس سے بڑھ کر ’جو بائیڈن‘ کی صدارت کے سو دن پورے ہونے پر اس کا ’وار آن ٹیرر‘سے متعلق بیان ہے کہ ’آج القاعدہ (دیگر خطوں میں) زیادہ مضبوط ہو چکی ہے‘۔

جنگ ایک ترازو کی مانند ہے، کبھی ایک پلڑا بھاری ہوتا ہے تو کبھی دوسرا، البتہ آخری اور پائیدار فتح اہلِ ایمان ہی کا مقدرہے۔ آج ہمیں اپنے خطّۂ برِّ صغیر میں عالمی استعماری نظام کی آشیر باد حاصل کیے ’بھگوا دہشت گرد بھارت‘ سے سامنا ہے، جو خطّے کے مسلمانوں اور یہاں اسلام کے لیے زمین پر اپنے وجود کے اعتبار سے سب سے بڑا خطرہ ہے اور جس ’طاغوت‘ کے خاتمے کے بغیر برِّ صغیر کی اس اسلامی سلطنت کو بحال نہیں کیا جاسکتا جو سلطانِ عادل محی الدین محمد اورنگ زیب عالم گیر رحمۃ اللّٰہ علیہ، کے زمانے میں اپنے اقبال پر تھی۔ حضرت سیّد احمد شہید کا یہ قول معروف ہے کہ :

’’ جب تک ہندوستان کا شرک، ایران کا رفض، سرحد و افغانستان کا غدر نہیں جائے گا میرا کام ختم نہیں ہو گا!‘‘3

بلا شبہ اللّٰہ تعالیٰ نے افغانستان کی عمرِ ثالث، امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد رحمۃ اللّٰہ علیہ جیسے امام کے ذریعے اصلاح کی اور ’امارتِ اسلامی افغانستان‘ عطا کی جس کا کفر سے جہاد اور نفاذِ اسلام کی خُو تمام عالمِ اسلام کے لیے دن میں چمکتے آفتاب اور رات میں راہ بتلاتے ستاروں کی مانند ہے4۔ لیکن کل کے سیّد صاحب کے زمانے کے خوانین کے ’غدر‘ و ’نفاق‘ کا کردار اور خصلتیں آج پاکستان کے حکمرانوں میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ اسلام کے نام پر ملک بنا کر اس میں انگریزی قانون و جمہوریت کا نفاذ، سودی معیشت کا قیام، حدود اللّٰہ کا استہزا، ختمِ نبوت تحریک میں دس ہزار عاشقانِ رسالت پناہؐ کا قتلِ عام ، لسانی و علاقائی بنیادوں پر اہلِ بنگال کا استحصال اور ملک کو دو لخت کرنا، امارتِ اسلامی افغانستان کی پیٹھ میں خنجر گھونپ کر امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی بننا، جہادِ کشمیر اور مجاہدینِ کشمیر کے ساتھ غداری کرنا [بقول جنرل کیانی ’تحریکِ جہادِ کشمیر کو چھوڑ (abandon کر) دینا‘]، لال مسجد میں نفاذِ دین کا مطالبہ کرنے والوں کو سفید فاسفورس سے بھسم کر دینا ، محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن کو شہید کروانے میں سہولت کاری کرنا، آج جب امریکہ افغانستان میں شکست سے دو چار ہو کر ایک معاہدہ کر کے بھاگ رہا ہے تو مجاہدین کی مستقبل میں ’سرکوبی‘ کےلیے اسلام آباد میں آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر میں اجلاس طلب کر کے اڈے دینے کی بات چلا کر امریکہ کے ساتھ پرانے معاہدے پر قائم و دائم رہنے کی یقین دہانی کروانا5، اور بیجنگ کی سربراہی میں پاکستان، افغانستان اور چین کے ہونے والے اجلاس کے بعد تینوں ممالک کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق ’افغانستان سے امریکی انخلا پر ہمیں تشویش ہے‘، غدر و نفاق کی چند اعلیٰ مثالیں ہیں۔ پاکستان کے وردی و بے وردی حکمرانوں کے سیاہ کرتوت اتنے ’کالے‘ ہیں کہ ایسی ظلمات کے لیے الفاظ و استعارے اور محاورے موجود نہیں۔

ہندوستان میں شرک آج سیّد صاحب کے زمانے سے بھی زیادہ مضبوط بلکہ پوری قوت کے ساتھ مسلط ہو گیا ہے۔کشمیر میں دفعہ 370A کا خاتمہ اور کشمیر میں انسانی تاریخ کا بدترین لاک ڈاؤن اور کرفیو، علاوہ ازیں پہلے گھر واپسی، پھر گُھس بیٹھیے اورپھر CAA و NRC، شرکِ ہندوتوا کے چند مظاہر ہیں۔ یہ بات نہایت قابلِ غور ہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا دوسرا ملک ہندوستان ہے۔ کورونا وائرس کے سبب ہلاکتوں اور وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد کو ایک طرف رکھتے ہوئے صرف اقتصادی حالت کو دیکھا جائے تو ہندوستان کی حالیہ شرحِ نمو منفی سات اعشاریہ تین فیصد (-7.3%)کی کم ترین سطح پر ہے، بین الاقوامی سطح پر اقتصادی سہولیات فراہم کرنے والے ادارے ’بَرکلیز(Barclays)‘ کے مطابق کورونا کے سبب ہندوستان کی معیشت کو چوہتّر ارب ڈا لر ($74 Billion) کا نقصان ہوا ہے ۔ شرحِ نمو کے حوالے سے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ایک اقتصادیات کے پروفیسر کے مطابق حکومتِ ہند اعداد و شمار کو چھپا رہی ہے، اصل نقصان اس سے کہیں زیادہ ہے6۔ حکومتِ ہند کے ظالمانہ زرعی قوانین کے سبب کسانوں (خصوصاً ہریانہ ، پنجاب اور یوپی کے کسانوں)کا ملک گیر سب سے بڑا تاریخی احتجاج جاری ہے، ان نئے زرعی قوانین کے سبب چھوٹے زمینداروں اورکسانوں کےمنافع کی شرح مزید کم ہو جائے گی ۔ ایک طرف کورونا کی شدت ہے ، دوسری طرف کسانوں کی اقتصادی حالتِ زار اور حکومتِ ہند کا گمبھیر معاشی صورتِ حال کے سبب کوئی بھی اقتصادی امدادی پیکج (تا دمِ تحریر) جاری نہ کرنا، لیکن تیسری طرف اقامتِ ’شرکِ ہندوتوا‘ کا ایسا زور ہے کہ انہی کٹھن معاشی حالات میں حکومتِ ہند (کے ہوم منسٹر اَمِت شا)نے اعلان کیا ہے کہ CAA قانون کے تحت افغانستان، پاکستان اور بنگلہ دیش میں جن ’غیر مسلموں‘ (بنیادی طور پر ہندو، سکھ، جین اور بدھوں) پر ظلم (religious persecution)ہو رہا ہے، ان کو ہندوستان کی شہریت دینے کا آغاز جلد کیا جائے گا اور انہیں پنجاب، ہریانہ، گجرات، راجستھان اور چھتیس گڑھ کی ریاستوں میں آباد کیا جائے گا۔ اسی CAA کا دوسرا رخ صدیوں سے ہندوستان میں بستے ’لا الٰہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ‘ پڑھنے والوں کی شہریت ختم کرنا اور ان پر ظلم (religiously persecute) کرنا ہےجس کا ایک ادنیٰ سا مظہر پچھلے سال کے ’دِلّی فسادات‘ ہیں۔

پھر خِطّے میں ’بھارت‘ کا بڑھتا اثر و رسوخ بھی ملاحظہ ہو۔ افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت (کابل انتظامیہ) کے ساتھ اربوں روپے کے معاہدے، افغان ملی فوج کو فوجی تربیت، جنگی جہازوں، ڈرون طیاروں اور جنگی ہیلی کاپٹروں کی فراہمی اور انٹیلی جنس تعاون۔ کشمیر میں آبادیاتی تبدیلی (demographic change) اور اتنے چھوٹے خِطّۂ زمین پر عالمی سطح کی سب سے بڑی عسکری موجودگی اور حاجی شریعت اللّٰہؒ کی سرزمینِ بنگال کو اپنی پالیسیوں اور سازشوں کی بدولت تیسویں ’ہندوتوائی‘ بھارتی ریاست بنانے جیسے اقدامات ’حکومتِ ہند‘ کے ہمارے برِّ صغیر میں منصوبوں اور سازشوں کے ابتدائی رُوپ ہیں۔

پس آج اسی ’شرک‘ اور ’غدر و نفاق‘ کے خلاف سیّد احمد شہید اور شیخ اسامہ شہید کے وارثوں کا قافلہ رواں ہے۔ بالاکوٹ و ایبٹ آباد میں بہا خون، امتِ جہاد کے بدن کو تقویت پہنچا رہا ہے اور سرحد تا کشمیر اور چولستان و راجستھان تا چھتیس گڑھ و سُندر بَن، ’غزوۂ ہند‘ دعوت، اعداد (تیاریٔ جہاد) اور قتال کے معرکوں کی صورت، فکری و عملی حلقوں اور مورچوں میں شروع ہو چکا ہے۔ سیّد احمد شہید اور شیخ اسامہ شہید کے جلائے چراغوں کی روشنی بڑھ رہی ہے۔

بجھا سکے گی نہ جن کو آندھی
چراغ ایسے جلا چلے ہیں!

اللھم وفقنا كما تحب و ترضى وخذ دمائنا حتى ترضى .اللھم زدنا ولا تنقصنا وأکرمنا ولا تھنّا وأعطنا ولا تحرمنا وآثرنا ولا تؤثر علینا وأرضنا وارض عنا. اللھم انصر من نصر دین محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم واجعلنا منھم واخذل من خذل دین محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم ولا تجعلنا منھم، آمین یا ربّ العالمین!

٭٭٭٭٭


1 یہاں کئی بار ’کامیابی‘ اور ’ناکامی‘ کا ذکر آ رہا ہے۔ کامیابی تو دراصل اللّٰہ کی رضا اور جنت کا حصول ہے اور ناکامی اللّٰہ کی ناراضی اور ٹھکانۂ جہنم۔بندۂ مومن کی جد و جہد کا مرکز و محور اللّٰہ کی رضا کا حصول اور ناراضی سے بچنا ہے۔ پھر دنیا میں بندۂ مومن اللّٰہ کا دین اپنی آنکھوں سے غالب دیکھ لے تو کیا کہنا، ورنہ حضراتِ یاسر و سمیّہ اور حضراتِ حمزہ و مصعب سمیت دیگر شہدائے بدر و احد (رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین)نے مدینے کی آدھی دنیا پر حاکم ’ریاست‘ نہیں دیکھی، لیکن ان کے لب و قلب پر ’فزتُ وربّ الکعبۃ‘ ہی جاری تھا۔ یقیناً ہم شرعاً بھی دنیا کے اسباب کے مطابق اپنی کوششوں کو ماپنے کے پابند ہیں لیکن نتائج کے ذمہ دار نہیں، یہی بات انبیا علیہم السلام کی سیرتوں سے ثابت ہے۔

2 موجودہ عالمی تحریکِ جہاد کی محنتیں دراصل شیخ اسامہ اور آپ کے رفقا [بالخصوص فضیلۃ الشیخ ایمن الظواہری (أدام اللّٰہ فیوضہٗ و برکاتہٗ)] ہی کے کارہائے نمایاں ہیں سو ان کا خصوصاً ذکر نہیں کیا جا رہا۔

3 وقائع احمدی بحوالہ سیرتِ سیّد احمدشہید از مولانا سیّد ابوالحسن علی ندویؒ

4 یقیناً اس خِطّے (افغانستان) میں بہت سی بلند قامت دینی شخصیات ماضی میں موجود رہی ہیں اور ایسی ہی شخصیات دیگر خطوں میں بھی رہیں، لیکن ’دین‘ یا ’احکامِ دین‘ سے ’غدر‘ ابھی تیس برس قبل بھی یہاں ظاہر و باہِر ہوا جب روس کی شکست کے بعد کل کے مجاہدین کے اکثر قائدین ’وار لارڈز‘ میں تبدیل ہو گئے اور اقتدار کی جنگ میں انہوں نے کئی سال تک ایک دوسرے کا خون بہایا اور اقتدار کے حصول کی خاطر پڑوسی ملک کی خائن خفیہ ایجنسی تک کے مطیع بننے کو تیار رہے۔ حضرت امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہدؒ کے ہاتھوں جب افغانستان کی ’خانہ جنگی‘ اور ’انتشار‘ ختم ہوا تو دراصل ’غدر‘ و ’نفاق‘ کی بیخ کنی کی گئی ، پھر امریکہ کے اس خطے میں آتے ہی اور امارتِ اسلامی کے سقوط کے ساتھ ہی مجددی، ربانی، سیاف اور حکمت یار جیسوں کے قلوب کی سچی کیفیت جلد یا بدیر ظاہر ہو گئی اور آج یہ سارے کے سارے امریکہ یا امریکہ کے نظام کی گود میں بیٹھے ہیں۔ پھر الحمد للّٰہ آج کی امارت دراصل وہی نفاذِ شریعت اور ’وقاتلوھم حتیٰ لا تکون فتنۃ‘ کا شجرِ سایہ دار ہے جس کے لیے سیّد احمد شہیدؒ نے دِلّی تا ڈھاکہ اور رائے بریلی تا پشاور و کشمیر کوششیں کی تھیں اور آپ نے قندھار و کابل و پشاور کے خوانین کو جس محنت کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ امیر المومنین ملا عمر کی قیادت میں قائم ہونے والی اور آج امیر المومنین شیخ ہبۃ اللّٰہ کی قیادت میں قائم اِمارت کے اوصافِ حمیدہ کو بیان کرنا کسی ایک آدھ مضمون یا حاشیے کی بات نہیں،اس لیے یک سطری تبصرے اور توصیف پر اکتفا کیا جا رہا ہے۔

5 ہم اس حالیہ خیانت کا ذکر حاشیے میں کرنا چاہتے تھے، لیکن حاشیہ اس کا متحمل نہیں، لہٰذا اداریے ہی کے تحت ایک اور تحریر آگے ملاحظہ ہو، بعنوان ’سب سے بڑا جو دشمن اس سے سب سے پہلے جنگ!!!‘۔

6 بحوالہ: وائس آف امریکہ اردو

Previous Post

سب سے بڑا جو دشمن اُس سے سب سے پہلے جنگ!!!

Next Post

اگست و ستمبر 2021ء

Related Posts

جہانِ نو ہو رہا ہے پیدا، وہ عالمِ پِیر مر رہا ہے!
اداریہ

جہانِ نو ہو رہا ہے پیدا، وہ عالمِ پِیر مر رہا ہے!

20 جنوری 2026
تُو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا
اداریہ

تُو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا

4 نومبر 2025
سب سے پہلے امریکہ!
اداریہ

سب سے پہلے امریکہ!

23 ستمبر 2025
جگر کے خوں سے اب یہ داغ دھونے کی تمنا ہے
اداریہ

جگر کے خوں سے اب یہ داغ دھونے کی تمنا ہے

12 اگست 2025
اداریہ

اور قافلہ سالار حسینؓ ابنِ علیؓ ہے!

10 جولائی 2025
اپنا اپنا اسماعیل پیش کرو!
اداریہ

اپنا اپنا اسماعیل پیش کرو!

4 جون 2025
Next Post

اگست و ستمبر 2021ء

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

جنوری 2026ء
اکتوبر ۲۰۲۵ء

جنوری 2026ء

by ادارہ
20 جنوری 2026

Read more

تازہ مطبوعات

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version