غزوۂ ہند کے متعلق نبوی پیش گوئی
غزوۂ ہند نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیوں میں ان غزواتِ موعودہ کی ذیل میں آتا ہے جن کی فضیلت کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد احادیث مروی ہیں۔ اہلِ علم و فضل ان احادیث کا تذکرہ اپنی تقریروں اور تحریروں میں ضرور کرتے رہتے ہیں لیکن عام طور پر کسی حوالے کے بغیر۔ ہم نے مقدور بھر محنت کر کے بے شمار کتب مصادر حدیث کو کھنگالا، ان احادیث کو جمع کیا، ترتیب دے کر ان کا درجہ بلحاظِ صحت و ضعف معلوم کیا، پھر ان ارشاداتِ نبوی کے معانی و مفاہیم پر غور و فکر کی اور ان سے ملنے والے اشارات و حقائق اور پیشین گوئیوں کو قرطاس پر منتقل کیا۔ اب ہم اپنی اس محنت کے نتائج سب مسلمانوں کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے یک گونہ خوشی اور مسرت محسوس کرتے ہیں۔
ہماری معلومات کے مطابق ایسی احادیث نبوی کی تعداد پانچ ہے جن کے راوی جلیل القدر صحابۂ کرام حضرت ابو ہریرہ (جن سے دو حدیثیں مروی ہیں)، حضرت ثوبان اور حضرت کعب1 رضی اللہ عنہم اجمعین اور تبع تابعین میں سے حضرت صفوان بن عمرو رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ ذیل میں ہم ان احادیث کو ذکر کریں گے پھر ان کی علمی تخریج ان کتبِ حدیث اور محدثین کے حوالے سے کریں گے جنہوں نے ان کا تذکرہ کیا ہے۔ اس کے بعد ان سے مستنبط شدہ شرعی احکام، فوائد اور دروس کو بیان کریں گے۔ (ان شاء اللہ)
(۱)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی پہلی حدیث
سب سے پہلی حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں:
’’حَدَّثَنِي خَلِيلِي الصَّادِقُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: ’يَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْثٌ إِلَى السِّنْدِ وَالْهِنْدِ‘، فَإِنْ أَنَا أَدْرَكْتُهُ فَاسْتُشْهِدْتُ فَذَاكَ، وَإِنْ أَنَا فَذَكَرَ كَلِمَةً رَجَعْتُ وَأَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْمُحَرَّرُ قَدْ أَعْتَقَنِي مِنَ النَّارِ.‘‘2
’’میرے جگری دوست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بیان کیا کہ ’اس امت میں سندھ و ہند کی طرف لشکروں کی روانگی ہو گی‘۔ اگر مجھے کسی ایسی مہم میں شرکت کا موقع ملا اور میں (اس میں شریک ہو کر) شہید ہو گیا تو ٹھیک، اگر (غازی بن کر) واپس لوٹ آیا تو ایک آزاد ابو ہریرہ ہوں گا، جسے اللہ تعالیٰ نے جہنم سے آزاد کر دیا ہو گا۔‘‘
ان الفاظ کے ساتھ اس حدیث کو صرف امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے مسند میں روایت کیا ہے اور ابنِ کثیر نے انہی کے حوالے سے ’’البدایہ والنہایہ‘‘ میں نقل کیا ہے3۔
قاضی احمد شاکرؒ نے مسند احمد کی شرح و تحقیق میں اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے 4۔
امام نسائی نے اسی حدیث کو اپنی کتاب السنن المجتبیٰ اور السنن الکبریٰ دونوں میں مندرجہ ذیل الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے:
’’وَعَدَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ الْهِنْدِ فَإِنْ أَدْرَكْتُهَا أُنْفِقْ فِيهَا نَفْسِي وَمَالِي فَإِنْ أُقْتَلْ كُنْتُ مِنْ أَفْضَلِ الشُّهَدَاءِ وَإِنْ أَرْجِعْ فَأَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْمُحَرَّرُ.‘‘5
’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے غزوۂ ہند کا وعدہ فرمایا۔ (آگے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں) ’اگر مجھے اس میں شرکت کا موقع مل گیا تو میں اپنی جان و مال اس میں خرچ کر دوں گا۔ اگر قتل ہو گیا تو میں افضل ترین شہدا میں شمار ہوں اور اگر واپس لوٹ آیا تو ایک آزاد ابو ہریرہ ہوں گا‘۔‘‘
امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی ’’السنن الکبریٰ‘‘ میں یہی الفاظ نقل کیے ہیں۔ انہی کی ایک دوسری روایت میں یہ اضافہ بھی ہے۔ مسدد نے ابن داود کے حوالے سے ابو اسحٰق فزاری (ابراہیم بن محمد محدثِ شام اور مجاہد عالم، وفات ۱۸۸ ھ) کے متعلق بتایا کہ وہ کہا کرتے تھے:
’’میری خواہش ہے کہ کاش ہر اس غزوے کے بدلے میں جو میں نے بلادِ روم میں کیا ہے، باربد (عرب سے ہندوستان کی سمت مشرق میں کوئی علاقہ) میں ہونے والے غزوات میں شریک ہوتا۔‘‘
امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے یہی روایت ’’دلائل النبوۃ‘‘ میں بھی ذکر کی ہے8۔ اور انہی کے حوالے سے اس روایت کو امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’الخصائص الکبریٰ‘‘ میں نقل کیا ہے9۔
مزید بر آں اس حدیث کو مندرجہ ذیل محدثین نے تھوڑے سے لفظی فرق کے ساتھ روایت کیا ہے۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے مسند میں بایں الفاظ:
’’فإن اسْتُشْهِدْتُ كنتُ من خير الشهداء ‘‘
شیخ احمد شاکر رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی سند کو صحیح قرار دیا ہے10۔ امام احمد کی سند سے ابنِ کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے اسے ’’البدایہ والنہایہ‘‘ میں نقل کیا ہے11۔
ابو نعیم اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ نے حلیۃالأولیاء12 میں، امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ نے المستدرک علی الصحیحین میں روایت کر کے درجۂ حدیث کے متعلق سکوت اختیار کیا، جب کہ امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اپنی تلخیص مستدرک سے حذف کر دیا13۔
سعید بن منصور رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ’’السنن‘‘ میں14 ، خطیب بغدادی نے تاریخِ بغداد میں بایں الفاظ:
’’ أتْبَعْتُ فِيْهَا نَفْسِيْ ‘‘
’’میں اس میں اپنے آپ کو تھکا دوں گا۔‘‘
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے استاذ نُعیم بن حماد رحمۃ اللہ علیہ نے ’’الفتن‘‘ میں15، ابن ابی عاصم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ’’الجہاد‘‘ میں بایں الفاظ:
’’وَعَدَنَا اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ…… وَکُنْتُ کَأَفْضَلِ الشُّھَدَآءِ‘‘
اور اس کی سند حسن ہے16۔
ابنِ ابی حاتم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب العلل میں بایں الفاظ:
’’فَإِنْ أُقْتَلْ أَکُوْنُ حَیًّا مَرْزُوْقًا وَإِنْ أَرْجِعْ فَاَنَا الْمُحَرَّرُ.‘‘17
’’اگر میں قتل ہو گیا تو رزق پانے والا (شہید کی حیثیت سے) زندہ رہوں گا اور واپس لوٹ آیا تو آزاد۔‘‘
ان کے علاوہ ائمہ جرح و تعدیل سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ’’التاریخ الکبیر‘‘ میں18، امام مزی نے ’’تھذیب الکمال‘‘ میں 19 اور ابنِ حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’تھذیب التھذیب‘‘ میں اس حدیث کو روایت کیا ہے20۔
درجے کے لحاظ سے یہ حدیث مقبول یعنی صحیح یا حسن ہے جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں۔
(۲)حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کی حدیث:
’’عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ’عِصَابَتَانِ مِنْ أُمَّتِي أَحْرَزَهُمُ اللهُ مِنَ النَّارِ: عِصَابَةٌ تَغْزُو الْهِنْدَ، وَعِصَابَةٌ تَكُونُ مَعَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ‘.‘‘21
’’ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’میری امت میں دو گروہ ایسے ہوں گے جنہیں اللہ تعالیٰ نے آگ سے محفوظ کر دیا ہے، ایک گروہ ہندوستان پر چڑھائی کرے گا اور دوسرا گروہ جو عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السلام کے ساتھ ہو گا‘۔‘‘
انہی الفاظ کے ساتھ یہ حدیث درج ذیل محدثین نے روایت کی ہے:
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے مسند میں22، امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’السنن المجتبیٰ‘‘ میں، شیخ ناصر الدین البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے23۔ اسی طرح ’’السنن الکبریٰ‘‘ میں بھی24، ابنِ ابی عاصم رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب ’’الجہاد‘‘ میں سندِ حسن کے ساتھ25، ابنِ عدی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’الکامل فی ضعفاء الرجال‘‘ میں26، طبرانی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’المعجم الاوسط‘‘ میں27، بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’السنن الکبریٰ ‘‘ میں28، ابنِ کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے ’’البدایہ والنہایہ‘‘ میں29، امام دیلمی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’مسند الفردوس‘‘ میں30، امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’الجامع الکبیر‘‘میں، امام مناوی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’الجامع الکبیر‘‘ کی شرح فیض القدیر میں31، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے التاریخ الکبیر میں 32، امام مزی رحمۃ اللہ علیہ نے تھذیب الکمال میں33 اور ابنِ عساکر رحمۃ اللہ علیہ نے تاریخِ دمشق میں34۔
(۳) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی دوسری حدیث:
’’وعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَذَكَرَ الْهِنْدَ ، فَقَالَ : ’لَيَغْزُوَنَّ الْهِنْدَ لَكُمْ جَيْشٌ، يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ حَتَّى يَأْتُوا بِمُلُوكِهِمْ مُغَلَّلِينَ بِالسَّلَاسِلِ ، يَغْفِرُ اللَّهُ ذُنُوبَهُمْ، فَيَنْصَرِفُونَ حِينَ يَنْصَرِفُونَ فَيَجِدُونَ ابْنَ مَرْيَمَ بِالشَّامِ‘ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : ’إِنْ أَنَا أَدْرَكْتُ تِلْكَ الْغَزْوَةَ بِعْتُ كُلَّ طَارِفٍ لِي وَتَالِدٍ وَغَزَوْتُهَا، فَإِذَا فَتْحَ اللَّهُ عَلَيْنَا وَانْصَرَفْنَا فَأَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْمُحَرِّرُ، يَقْدَمُ الشَّامَ فَيَجِدُ فِيهَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ ، فَلَأَحْرِصَنَّ أَنْ أَدْنُوَ مِنْهُ فَأُخْبِرُهُ أَنِّي قَدْ صَحِبْتُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ‘، قَالَ : فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَحِكَ ، ثُمَّ قَالَ : ’هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ ‘.‘‘35
’’ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہندوستان کا تذکرہ کیا اور ارشاد فرمایا:
’ضرور تمہارا ایک لشکر ہندوستان سے جنگ کرے گا، اللہ ان مجاہدین کو فتح عطا فرمائے گا حتیٰ کہ وہ (مجاہدین) ان (ہندوؤں) کے بادشاہوں (حاکموں) کو بیڑیوں میں جکڑ کر لائیں گے اور اللہ (اس عظیم جہاد کی برکت سے) ان (مجاہدین) کی مغفرت فرما دے گا۔ پھر جب وہ مسلمان واپس پلٹیں گے تو عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السلام کو شام میں پائیں گے۔‘
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
’اگر میں نے وہ غزوہ پایا تو اپنا نیا اور پرانا سب مال بیچ دوں گا اور اس میں شرکت کروں گا۔ جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح عطا کر دی اور ہم واپس پلٹ آئے تو میں ایک آزاد ابو ہریرہ ہوں گا جو ملکِ شام میں (اس شان سے) آئے گا کہ وہاں عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السلام کو پائے گا۔ یا رسول اللہ ! اس وقت میری شدید خواہش ہو گی کہ میں ان کے پاس پہنچ کر انہیں بتاؤں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی ہوں۔‘
(راوی کا بیان ہے کہ) حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا پڑے اور ہنس کر فرمایا:
’بہت مشکل، بہت مشکل‘۔‘‘
اس حدیث کو نُعیم بن حماد رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب الفتن میں روایت کیا ہے۔
اسحٰق بن راہویہ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس حدیث کو اپنی مسند میں ذکر کیا ہے، اس میں کچھ اہم اضافے ہیں، اس لیے ہم اس روایت کو بھی ذیل میں پیش کر رہے ہیں:
’’وعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يوْمًا الْهِنْدَ ، فَقَالَ : ’لَيَغْزُوَنَّ جَيْشٌ لَكُمُ الْهِنْدَ فَيَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ حَتَّى يَأْتُوا بِمُلُوكِ السِّنْدِ مُغَلْغَلِينِ فِي السَّلَاسِلِ فَيَغْفِرُ اللَّهُ لَهُمْ ذُنُوبَهُمْ فَيَنْصَرِفُونَ حِينَ يَنْصَرِفُونَ فَيَجِدُونَ الْمَسِيحَ ابنَ مَرْيَمَ بِالشَّامِ‘، قَالَ : أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَإِنْ أَنَا أَدْرَكْتُ تِلكَ الْغَزْوَةَ بِعْتُ كُلَّ طَارِدٍ وَتَالِدٍ لِي وَغَزَوتُهَا فَإِذَا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْنَا انْصَرَفْنَا فَأَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْمُحَرِّرُ يَقْدَمُ الشَّامَ فَيَلْقَى الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ ، فَلَأَحْرِصَنَّ أَنْ أَدْنُوَ مِنْهُ فَأُخْبِرَهُ أَنِّي صَحِبْتُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَاحِكًا .‘‘36
’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہندوسان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
’یقیناً تمہارا ایک لشکر ہندستان سے جنگ کرے گا اور اللہ ان مجاہدین کو فتح دے گا حتیٰ کہ وہ سندھ کے حکمرانوں کو بیڑیوں میں جکڑ کر لائیں گے، اللہ ان کی مغفرت فرما دے گا۔ پھر جب وہ واپس پلٹیں گے تو عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السلام کو شام میں پائیں گے۔‘
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بولے:
’اگر میں نے وہ غزوہ پایا تو اپنا نیا اور پرانا سب مال بیچ کر اس میں شرکت کروں گا، جب ہمیں اللہ تعالیٰ فتح دے گا تو ہم واپس آئیں گے اور میں ایک آزاد ابو ہریرہ ہوں گا جو شام میں آئے گا تو وہاں عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السلام سے ملاقات کرے گا۔ یا رسول اللہ! اس وقت میری شدید خواہش ہو گی کہ میں ان کے قریب پہنچ کر انہیں بتاؤں کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہے۔‘
(راوی کہتے ہیں کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر مسکرائے۔‘‘
(۴)حضرت کعب رضی اللہ عنہ کی حدیث:
یہ حضرت کعب رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، وہ فرماتے ہیں کہ:
’’يَبْعَثُ مَلِكٌ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ جَيْشًا إِلَى الْهِنْدِ فَيَفْتَحُهَا، وَيَأْخُذُ كُنُوزَهَا، فَيَجْعَلُهُ حِلْيَةً لَبَيْتِ الْمَقْدِسِ، وَيُقْدِمُوا عَلَيْهِ بِمُلُوكِ الْهِنْدِ مَغْلُولِينَ، يُقِيمُ ذَلِكَ الْجَيْشُ فِي الْهِنْدِ إِلَى خُرُوجِ الدَّجَّالِ .‘‘37
’’بیت المقدس کا ایک بادشاہ ہندوستان کی جانب ایک لشکر روانہ کرے گا۔ مجاہدین سرزمینِ ہند کو پامال کر ڈالیں گے، اس کے خزانوں پر قبضہ کر لیں گے، پھر بادشاہ ان خزانوں کو بیت المقدس کی تزئین و آرائش کے لیے استعمال کرے گا۔ وہ لشکر ہندوستان کے بادشاہوں (حاکموں) کو بیڑیوں میں جکڑ کر اس بادشاہ کے رُو برو پیش کرے گا۔ اس کے مجاہدین، بادشاہ کے حکم سے مشرق و مغرب کے درمیان کا سارا علاقہ فتح کر لیں گے اور دجّال کے خروج تک ہندوستان میں قیام کریں گے۔‘‘
اس روایت کو نُعیم بن حماد رحمۃ اللہ علیہ استاذ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب الفتن میں نقل کیا ہے۔ اس میں حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے راوی کا نام نہیں بلکہ ’’اَلْمُحْکَمُ بْنُ نَافِعٍ عَمَّنْ حَدَّثَہُ عَنْ کَعْبٍ‘‘ کے الفاظ آئے ہیں، اس لیے یہ حدیث منقطع شمار ہو گی۔
(۵) حضرت صفوان بن عمرو رحمۃ اللہ علیہ کی حدیث:
پانچویں حدیث حضرت صفوان بن عمرو رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے اور حکم کے لحاظ سے مرفوع کے درجے میں ہے۔ کہتے ہیں کہ انہیں کچھ لوگوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’يَغْزُو قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي الْهِنْدَ، فَيَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ حَتَّى يَأْتُوا بِمُلُوكِ الْهِنْدِ مَغْلُولِينَ فِي السَّلَاسِلِ، يَغْفِرُ اللَّهُ لَهُمْ ذُنُوبَهُمْ، فَيَنْصَرِفُونَ إِلَى الشَّامِ فَيَجِدُونَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ بِالشَّامِ.‘‘38
’’میری امت کے کچھ لوگ ہندوستان سے جنگ کریں گے، اللہ تعالیٰ ان کو فتح عطا فرمائے گا حتیٰ کہ وہ ہندوستان کے بادشاہوں (حاکموں) کو بیڑیوں میں جکڑے ہوئے پائیں گے، اللہ ان مجاہدین کی مغفرت فرمائے گا جب وہ شام کی طرف پلٹیں گے تو عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السلام کو وہاں موجود پائیں گے۔‘‘
اس حدیث کو نُعیم بن حماد رحمۃ اللہ علیہ نے ’’الفتن‘‘ میں روایت کیا ہے۔
الحمدللہ، ہم نے اللہ کریم کی توفیق و عنایت سے غزوۂ ہند سے متعلق جملہ احادیث کو آپ کے سامنے پیش کر دیا ہے، ہم ان احادیثِ مبارکہ کے معنی و مفہوم، اشارات و دروس پر نظر ڈالیں گے۔
(جاری ہے، ان شاءاللہ)
٭٭٭٭٭
1 یہاں مولانا ڈاکٹر عصمت اللہ صاحب (حفظہ اللہ) کو اشتباہ ہوا ہے یا پھر یہ کمپوزر کی غلطی ہے کہ اسی تحریر میں بعداً جہاں مذکور صحابی کا نام ’کعب‘ درج ہے (اور یہی ہمیں بھی دیگر روایات میں ملا ہے، بلکہ دیگر روایات میں ان کا ذکر بطورِ صحابی نہیں بلکہ بطورِ تابعی آیا ہے اور ایک جگہ ان کا ذکر ’کعب الاحبار‘ کے طور پر ہے، واللہ أعلم بالصواب) انہی کا نام یہاں ’ابی بن کعب‘ لکھا گیا تھا۔ لہٰذا مقامِ ہٰذا پر بھی ہم نے مذکور حضرت کا نام ’کعب‘ ہی کر دیا ہے، رضی اللہ عن أصحاب نبینا محمد و علیہ ألف صلاۃ و سلام! (ادارہ)
2 مسند احمد: ۲؍۳۶۹، مسند ابو ھریرۃؓ: ۸۴۶۷۔ البدایۃ والنھایۃ الابن کثیر، الأخبار عن غزوۃ الھند: ۶؍۲۲۳۔ بقول ابنِ کثیر یہ الفاظ صرف امام احمد نے نقل کیے ہیں۔
3 ایضاً
4 مسند احمد، تحقیق و شرح لاحمد شاکر ۱۷؍۱۷، حدیث ۸۸۰۹۔
5 السنن المجتبیٰ: ۶؍۴۲۔ کتاب الجھاد باب غزوۃ الھند: ۳۱۷۳، ۳۱۷۴۔ السنن الکبریٰ للنسائی: ۳؍۲۸، باب غزوۃ الھند: ۴۳۸۲، ۴۳۸۳۔
6 مولانا ڈاکٹر عصمت اللہ صاحب نے اپنی تالیف میں اس روایتِ مذکور کے الفاظ میں مقام کا نام ’مَارِبَد‘ نقل کیا ہے اور السنن الکبری کا حوالہ درج کیا ہے، لیکن سرسری تلاش کے نتیجے میں السنن الکبری میں جو الفاظِ روایت ہمیں ملے ان میں ’مَارِبَد‘ کے بجائے ’بَارْبِدَ‘ درج ہے، بہر کیف مقصد دونوں سے ایک ہی ہے۔ (ادارہ)
7 السنن الکبریٰ للبیھقی: ۹؍۱۷۶، کتاب السیر، باب ما جاء فی قتال الھند: ۱۸۵۹۹۔
8 دلائل النبوۃ ومعرفۃ أحوال صاحب الشریعۃ، باب قول اللہ: وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم
9 الخصائص الکبریٰ للسیوطی: ۲؍۱۹۰۔
10 مسند احمد تحقیق و شرح احمد شاکر: ۱۲؍۹۷، حدیث ۷۱۲۸۔
11 مسند احمد: ۲؍۲۲۹، مسند ابو ھریرۃؓ حدیث : ۶۸۳۱۔ البدایۃ والنھایۃ، الأخبار عن غزوۃ الھند: ۶؍۲۲۳۔
12 حلیۃ الأولیاء: ۸؍۳۱۶–۳۱۷۔
13 المستدرک علی الصحیحین، کتاب معرفۃ الصحابۃ، ذکر ابی ھریرۃ الدوسی: ۳؍۵۱۴، حدیث: ۶۱۷۷۔
14 السنن لسعید بن منصور: ۲؍۱۷۸، حدیث ۲۳۷۴
15 الفتن، غزوۃ الھند: ۱؍۴۰۹، حدیث : ۱۲۳۷۔
16 الجھاد، فضل غزوۃ البحر: ۲؍۶۶۸، حدیث: ۲۹۱۔
17 العلل: ۱؍۳۳۴ ترجمہ: ۹۹۳۔
18 التاریخ الکبیر: ۲؍۲۴۳ تذکرہ جبر بن عبیدۃ: ۲۳۳۳
19 تھذیب الکمال: ۴؍۴۹۴ تذکرہ جبر بن عبیدۃ: ۸۹۳
20 تھذیب التھذیب: ۲؍۵۲، تذکرہ جبر بن عبیدۃ الشاعر: ۹۰، ابنِ حجر کہتے ہیں: ’’میں نے امام ذہبی کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تحریر دیکھی، لکھا تھا: ’پتہ نہیں یہ کون ہے؟ اس کی روایت کردہ خبر منکر ہے‘۔‘‘۔ اب حبان نے ان کا ذکر ثقات میں کیا ہے۔
21 مسند احمد: ۵؍۲۷۸، حدیث ثوبانؓ: ۲۱۳۶۲۔
22 ایضاً
23السنن المجتبی للنسائی: ۶؍۷۳، کتاب الجھاد، باب غزوۃ الھند: ۳۱۷۵۔ نیز ملاحظہ ہو، صحیح سنن النسائی: ۲؍۶۶۸، حدیث ۲۵۷۵۔
24 السنن الکبریٰ للنسائی: ۳؍۲۸، باب غزوۃ الھند: ۴۳۸۴۔
25 الجھاد: ۲؍۶۶۵ فضل غزوۃ البحر حدیث: ۲۲۸، محقق کتاب نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔
26 الکامل فی ضعفاء الرجال: ۲؍۱۶۱ تذکرہ جراح بن ملیح البھرانی: ۲۵۱
27 المعجم الاوسط: ۷؍ ۲۳–۲۴، حدیث ۶۸۴۱، امام طبرانی کہتے ہیں: ’اس حدیث کو حضرت ثوبانؓ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا گیا ہے، اس کے ایک راوی الزبیدی اس روایت میں اکیلے ہیں‘۔
28 السنن الکبریٰ للبیہقی: ۹؍۷۶، کتاب السیر، باب ما جاء فی قتال الھند: ۱۸۶۰۰۔
29 البدایۃ والنھایۃ، الأخبار عن غزوۃ الھند: ۶؍۲۲۳۔
30 الفردوس بمأثور الخطاب: ۳؍۴۸، حدیث: ۴۱۲۴۔
31الجامع الکبیر مع شرح فیض القدیر: ۴؍۳۱۷۔ امام مناوی نے ذہبی کی الضعفاء کے حوالے سے امام دارقطنی کا یہ قول نقل کیا ہے: ’الجراح راوی کی حدیث کچھ بھی نہیں ہے‘۔
32 التاریخ الکبیر: ۶؍۷۲۔ تذکرہ عبد الأعلیٰ بن عدی البھرانی الحمصی: ۱۷۴۷۔
33 تھذیب الکمال: ۳۳؍۱۵۱۔ تذکرہ ابو بکر بن الولید بن عامر الزبیدی الشامی: ۷۲۶۱۔
34 تاریخ دمشق: ۵۲؍۲۴۸۔
35 الفتن، غزوۃ الھند: ۱؍۴۰۹–۴۱۰، حدیث: ۱۲۳۶–۱۲۳۸۔
36 مسند اسحٰق بن راہویہ، قسم اول۔ سوم: ۱؍۴۶۲، حدیث: ۵۳۸
37 الفتن، غزوۃ الھند: ۱؍۴۰۹، حدیث: ۱۲۳۵
38 الفتن: ۱؍۳۹۹، ۴۱۰، حدیث: ۱۲۰۱، ۱۲۳۹۔






![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



