بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله معزّ الإسلام بنصره، ومذلّ الشرك بقهره، ومصرّف الأمور بأمره، ومستدرج الكافرين بمكره، الذي قدّر الأيام دولًا بعدله، وجعل العاقبة للمتقين بفضله، والآمر بما يشاء فلا يُراجع، والحاكم بما يُريد فلا يُدافع، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، شهادة من طهّر بالتوحيد قلبه، وأرضى به ربّه، وأشهد أن محمد عبده ورسوله، داحضُ الشرك ورافضُ الإفك، صلى الله عليه وسلم، وعلى آله وأصحابه، والتابعين لهم بإحسان، أما بعد:
تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو اسلام کو نصرت عطا فرماتا اور شرک کو شکست سے دوچار کرتا ہے، جو مصرّف الامور ہے اور کافروں کو انہی کے مکر و فریب میں الجھا دیتا ہے۔ تعریف اسی کے لیے ہے جس نے اپنے عدل سے دن مقرر کر رکھے ہیں اوراپنے فضل سے متقین کا مُقدر بہترین بناتا ہے، جو جیسے چاہتا ہے حکمرانی کرتا ہے، اور جو اپنی مرضی کے مطابق، بلا روک ٹوک حاکم ہے۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں، جو ہر اس شخص کی گواہی جس نے اپنے دل کو توحید کے ذریعے پاک کیا اور جس کا رب اس سے راضی ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم، جنہوں نے شرک کو نیست کیا اور فریب کو رد کیا، اس کے عبادت گزار بندے اور رسول ہیں۔ امابعد
پوری دنیا میں بستے میرے مسلمان بھائیو!
دنیا ایسے بہت سے واقعات سے گزری ہے جس نے بہت سی قوموں کے حالات میں ابتری پیدا کی ہے، ان حالات میں حالیہ وبا بھی شامل ہے جس نے قوی کو ناچار کیا اور طبیبوں اور سیاستدانوں کو آپس میں لڑوا دیا ہے۔خود پر ناز کرنے والے نہ تو اس وبا کا مقابلہ کر سکے اور نہ ہی اِس کے خطرات کو کم کر سکے۔ان واقعات میں یہ بھی شامل ہے کہ کیسے عرب طواغیت نے اسلام اور مسلمانوں کے ازلی دشمنوں، یہودیوں اورغاصبین کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا اظہار کیا اور اس پر طمطراق کا مظاہرہ کیا۔ہر سیکولر عرب نے تعلقات معمول پر آنے کی حمایت کی اور کروڑوں امتیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے، علاقے کے مرتد حکمرانوں کی شہ پر اس کا اعلان کرنے اور اسے برملا کرنے کی جسارت بھی کی۔
مگر میں اپنی بات میں ان مرتدین پر روشنی نہیں ڈالوں گا جن کا مقدر باذن اللہ ان کے نو تراشیدہ بت یعنی امریکہ کے گرنے کے بعد از خود یکے بعد دیگرے گرنا ہے۔بلکہ میں ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے اللہ کے ناقابلِ تبدیل قوانین کی بات کروں گا جو یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ ان کا حساب نہیں ہو گا یا وہ لوگ جو خود کو یہ دھوکہ دیے بیٹھے ہیں کہ وہ اس کے غیض و غضب سے بچ جائیں گے۔ ہمارے مخبرِ صادق نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں مطلع فرمایا جیسا کہ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ علیہ الصلاة و السلام نے فرمایا، ’’اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے، لیکن جب اسے پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا، پھر آپ صلی اللہ و علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی:’ وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ ‘ (اور جو بستیاں ظالم ہوتی ہیں، تمہارا رب جب ان کو گرفت میں لیتا ہے تو اس کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے۔ واقعی اس کی پکڑ بڑی دردناک، بڑی سخت ہے)۔‘‘
اس دور میں امریکہ سے زیادہ ناانصاف بھلا اور کون ہو سکتا ہے؟ امریکہ جو کفر کی کفالت کرتا ہے، بد اخلاقی اور بد عنوانی کی وکالت کرتا ہے اور ہر جگہ لوگوں کی گردنوں پر مفسدین اور ان کے اختیار کے بوجھ کی حمایت کرتا ہے۔ آج امریکہ میں جو کچھ رونما ہو رہا ہے وہ اس کی غیر منصفانہ پالیسیوں اور دشمن و مجرمین کی متواتر حمایت کا متوقع نتیجہ اور اس کا ناگزیر مقدر ہے۔ امریکہ کے افعال صرف مسلمانوں اور اسلام پر اثر انداز نہیں ہوئے۔ امریکہ کی بے انصافی اور جرائم ان سب تک پہنچے جنہوں نے اس کی پالیسی کے ماتحت ہونے سے انکار کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے امریکہ کو بہت مہلت دی، خطرے کی بہت سی گھنٹیاں اور انتباہی پیغام بھیجے کہ وہ سنگین ظلم اور تکبر کو ترک کر کے، اپنے مسلسل جبر اور اور جرائم سے باز آ جائے، لیکن اس کا تکبر بد سے بدتر کی طرف ہی بڑھتا گیا ۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ(سورۃ السجدۃ: ۲۱)
’’اور ہم ان کو قیامت کے بڑے عذاب کے سوا، عذابِ دنیا کا مزہ بھی چکھائیں گے۔ شاید وہ (توبہ کریں اور) ہماری طرف لوٹ آئیں۔‘‘
اوراللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَمَا نُرْسِلُ بِالآيَاتِ إِلاَّ تَخْوِيفاً (سورۃ بنی اسرائیل: ۵۹)
’’اور ہم نشانات نہیں بھیجتے مگر تدریجاً(بُرائی سے) ڈرانے کی خاطر۔‘‘
شروعات اللہ کے بھیجے طوفانِ باد و باراں سے ہوئی جس نے گھروں کو تباہ اور ان کی بہت سی زمینوں کو ویران کیا۔ پھر اللہ نے اس کے عوام کو بیماریوں اور وباؤں میں مبتلا کیا جو ان کے درمیان پھیل گئیں جیسے کہ اینتھراکس(anthrax)وغیرہ۔ اللہ نے امریکہ کو معاشی بحران کی سزا دی، اسے مفلوج کر دیا ا ور اس کے سیاست دانوں کو کمزور کیا، اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے جو عذاب اس پر اپنےعبادت گزار مجاہدین بندوں کے ہاتھوں نازل فرمایا اس کا تو ذکر بعید البیان ہے۔ اِس کا آغاز ریاض میں العلیا اورسال ۱۹۹۳ء میں نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے پہلے بم دھماکوں سے ہوا، اس کے بعد نیروبی اور دار السلام میں امریکی سفارت خانوں پر بموں سے حملہ، پھر عدن میں یو ایس ایس کول (USS Cole)نامی امریکی بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا پھر نیویارک اور واشنگٹن کے مبارک حملے (نائن الیون)، پھر جزیرہ نما عرب میں، ریاض، جدہ، کویت اور دیگر مقام پر مجاہدین کی جانب سے کی جانے والی کارروائیاں۔ پھر اس سب کے بعد عراق اور افغانستان میں جہادی ضربوں نے امریکہ کو عسکری اور معاشی طور پر نچوڑ کر رکھ دیا اور طالبان (امارتِ اسلامیہ افغانستان)کے ساتھ مذاکرات پر مجبور کر دیا، پھر صومالیہ اورپھر دیگر مقامات پر اس کے فوجیوں کو نشانہ بنانے کی اور امریکہ کے اندر جاری انفرادی معرکوں کی باری آئی۔
اس سب کے باوجود زمین پر امریکہ کی ناانصافی اور تکبر میں مزید دلیری آ تی گئی۔ امریکہ کے اعمالِ بد صرف اس کی خارجی پالیسیوں تک محدود نہیں رہے بلکہ اس کے اپنے شہریوں کے حصے میں بھی اس کے ظلم و ستم اور ناانصافیاں آئیں۔نسل پرستی اور غیر سفید فام نسل سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے خلاف نسلی امتیاز اب بھی جاری ہے؛ یہ ایسا چلن ہے جسے امریکہ کے کہنہ مشق سیاست دانوں، بانیوں، اور پیشروؤں کی حمایت حاصل ہے۔ استمراری اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سے، جو غریب شہریوں کی بڑی تعداد کے حق میں نہیں ہیں، ذہنی امراض کی تعداد میں اضافہ ہوا، بے روزگاری بڑھی اور خودکشیوں کی شرح میں بھی تیزی آئی ہے۔
جہاں تک کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور اموات کا تعلق ہے تو امریکہ تمام ممالک میں سب سے زیادہ اس سے متاثر ہوا ہے۔ وبا کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعدادچار لاکھ سے زائد ہے۔ اگر کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ اِن تباہ کاریوں اور مصائب کا تعلق امریکہ کے اعمال سے نہیں ہے تو وہ اللہ کے قوانین سے ناواقف ہے؛ اللہ ظالم کو مہلت دیتا ہے، اس کی پکڑ دُکھ دینے والی اور انتہائی سخت ہے!کتابِ الٰہی میں دی گئی مثالیں واضح دلیل ہیں۔ فرعون کو دیکھیں، وہ اور اس کی فوجیں زمین پر انتہائی مغرور اور سرکش تھیں جو عباد اللہ پر بد ترین مظالم ڈھاتی تھیں۔ سو اللہ نے ان کے درمیان ایک نبی بھیجا اور اس کی حمایت میں اسے واضح وحی عطا کی لیکن انہوں نے اس کے خلاف کفر بکا اور نافرمانی کی۔ اس کے بعد اللہ نے انہیں کئی سزاؤں میں مبتلا کیالیکن وہ مزید مغرور ہوتے گئے اور ان کے جرائم میں اضافہ ہوتا گیا اور پھر ان پر سخت ترین عذاب نازل کیا گیا۔ ’ہم نے فرعون اور اس کے لشکر کی پکڑ کی اور ان سب کو سمندر میں غرق کیا‘۔جو ہوا اس کے لیے (سوائے فرعون کے) کسی کو الزام نہیں دیا جا سکتا۔ اور اللہ نے انسانوں کو نشانی دکھائی لیکن انسان اللہ کی نشانیوں سے غافل تھے۔ اللہ نے اپنے موحدین عابدین کو نصرت اور رُتبہ عنایت فرمایا اور انہیں مشرق اور مغرب دونوں میں زمین کا وارث بنایا۔
اللہ عزوجل فرماتے ہیں:
قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ اسْتَعِينُوا بِاللّهِ وَاصْبِرُواْ إِنَّ الأَرْضَ لِلّهِ يُورِثُهَا مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَقَالُواْ أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِينَا وَمِن بَعْدِ مَا جِئْتَنَا قَالَ عَسَى رَبُّكُمْ أَن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الأَرْضِ فَيَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ وَلَقَدْ أَخَذْنَا آلَ فِرْعَونَ بِالسِّنِينَ وَنَقْصٍ مِّن الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ فَإِذَا جَاءتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُواْ لَنَا هَـذِهِ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَطَّيَّرُواْ بِمُوسَى وَمَن مَّعَهُ أَلا إِنَّمَا طَائِرُهُمْ عِندَ اللّهُ وَلَـكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ وَقَالُواْ مَهْمَا تَأْتِنَا بِهِ مِن آيَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ آيَاتٍ مُّفَصَّلاَتٍ فَاسْتَكْبَرُواْ وَكَانُواْ قَوْماً مُّجْرِمِينَ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيْهِمُ الرِّجْزُ قَالُواْ يَا مُوسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِندَكَ لَئِن كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ إِلَى أَجَلٍ هُم بَالِغُوهُ إِذَا هُمْ يَنكُثُونَفَانتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْنَاهُمْ فِي الْيَمِّ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُواْ بِآيَاتِنَا وَكَانُواْ عَنْهَا غَافِلِينَوَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُواْ يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُواْ وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ وَمَا كَانُواْ يَعْرِشُونَ(سورۃ الاعراف: ۱۲۸–۱۳۷)
’’موسٰی(علیہ السلام ) نے اپنی قوم سے کہا، اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو، بے شک زمین اللہ کی ہے جو اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اس کا وارث بنا دے، اور انجام بخیر پرہیزگاروں کا ہی ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا، تیرے آنے سے پہلے بھی ہمیں تکلیفیں دی گئیں اور تیرے آنے کے بعد بھی، کہا، تمہارا رب بہت جلد تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے گا اور اس کی بجائے تمہیں اس سرزمین کا مالک بنا دے گا پھر دیکھے گا تُم کیا کرتے ہو ۔ اور ہم نے فرعون والوں کو قحطوں اور میووں کی کمی میں پکڑ لیا تاکہ وہ نصیحت مانیں۔ جب ان پر خوشحالی آتی تو کہتے کہ یہ تو ہمارے لیے ہونا ہی چاہیے اور اگر انہیں کوئی بدحالی پیش آتی تو موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست بتلاتے، یاد رکھو ان کی نحوست اللہ کے علم میں ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ اور کہا جو کوئی نشانی بھی تُو ہمارے پاس لے آئے، ہم پر اس کے ذریعہ سے جادو کرے، پھر بھی ہم تجھ پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ پھر ہم نے ان پر طوفان اور ٹڈی اور جوئیں اور مینڈک اور خون، یہ سب کھُلے کھُلے معجزے بھیجے پھر بھی انہوں نے تکبر ہی کیا اور وہ لوگ گناہگار تھے ۔ اور جب ان پر کوئی عذاب آتا تو کہتے اے موسیٰ ! ہمارے لیے اپنے رب سے دُعا کر جس کا اس نے تجھ سے عہد کر رکھا ہے، اگر تو نے ہم سے یہ عذاب دور کر دیا تو بے شک ہم تجھ پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ بھیج دیں گے ۔ پھر جب ہم نے ان سے ایک مدت تک عذاب اٹھا لیا کہ انہیں اس مدت تک پہنچنا تھا اس وقت وہ عہد توڑ ڈالتے ۔ پھر ہم نے ان سے بدلہ لیا، پھر ہم نے انہیں دریا میں ڈبو دیا اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور وہ ان سے غافل تھے ۔ اور ہم نے ان لوگوں کو وارث کر دیا جو اس زمین کے مشرق و مغرب میں کمزور سمجھے جاتے تھے کہ جس میں ہم نے برکت رکھی ہے، اور تیرے رب کا نیک وعدہ بنی اسرائیل کے حق میں ان کے صبر کے باعث پورا ہو گیا اور ہم نے تباہ کر دیا جو کچھ فرعون اور اس کی قوم نے بنایا تھا اور جو اونچی عمارتیں وہ بناتے تھے ۔‘‘
اور آج ہم اس مقام پر ہیں کہ ہم اللہ کے قوانین اور وعیدوں کو امریکہ میں برحق ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہاں کے سیاست دان سانڈوں کی طرح آپس میں لڑتے ہیں، گالم گلوچ کرتے ہیں جبکہ امریکہ کی مفلوک الحال عوام اسی کے ستونوں کو گراتی ہے، اس کے وجود کو لزرا دیتی ہے اور اس کے سیاست دانوں اور تکبر کو لعن طعن کرتی ہے۔ کانگریس پر لوگوں کا ہلہ بولنا تو باذن اللہ صرف شروعات ہے۔ اور جو کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ معاملہ یہیں اختتام پذیر ہو جائے گا یا کوئی شخص امریکہ کو دھڑام سے گر کر ڈھیر ہونے سے بچا لے گا تو وہ دھوکہ کھا رہا ہے اور وہم کا شکار ہے۔ بخدا، اللہ ان ہاتھوں کو رد نہیں کرے گا جو امریکہ کے مظالم کے خلاف شکایت میں اٹھے۔ المنتقم، باری تعالیٰ ان شہدا کے لہو کے بہتے دریاؤں کا بدلہ لے گا جو امریکی جارحیت کو روکنے کے لیے بہائے گئے۔ لاکھوں کی عصمت امریکی فوجیوں کے ہاتھوں پائمال ہوئی۔ امریکہ کی غیر منصفانہ جنگوں کی وجہ سے کئی لاکھ خواتین بیوہ ہوئیں اور کروڑوں بچے امریکہ کی وجہ سے یتیم ہوئے۔ اِس مجرم سلطنت کی طرف سے ہمارے زخم زخم ، دُکھتے سینے باذن اللہ شفا و ٹھنڈک پائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی زبردست قدرت و طاقت کی مدد سے دنیا کے مظلوم جلد ہی اس سلطنت کے اختتام پر خوش ہوں گے۔ جابر اور قہار رب العزت فرماتا ہے:
فَأَخَذْنَاهُ وَجُنُودَهُ فَنَبَذْنَاهُمْ فِي الْيَمِّ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظَّالِمِينَوَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يُنصَرُونَ وَأَتْبَعْنَاهُمْ فِي هَذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ هُم مِّنَ الْمَقْبُوحِينَ(سورۃ القصص: ۴۰–۴۲)
’’پھر ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا، پھر انہیں دریا میں پھینک دیا سو دیکھ لو ظالموں کا کیا انجام ہوا ۔ اور ہم نے انہیں پیشوا بنایا وہ دوزخ کی طرف بلاتے تھے اور قیامت کے دن انہیں مدد نہیں ملے گی ۔ اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی اور وہ قیامت کے دن بھی بدحالوں میں ہوں گے۔‘‘
پس امتِ مسلمہ خوشیاں منائے کہ فتح قریب آ لگی ہے اور امتِ مسلمہ اللہ کے دین کے مطابق انسانیت کی قیادت سنبھالنے کے لیے تیار ہو جائے۔ امت کے علما، قائدین، مجاہدین اور مصلحین کو چاہیے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے مصالح کو ذاتی، تنظیمی اور مسالک و مکاتبِ فکر کی مصلحتوں کے مقابل ترجیح دیں اور امت کوہر قسم کی غلامی [جس کا ذکر کتابِ الٰہی اور سنتِ محمدی (علی صاحبہا صلاۃ و سلام) میں نہیں ہے]سے آزاد کروانے کے لیے تمام رُکاوٹوں کو ہٹا دیں۔ انہیں چاہیے کہ امت کو بتائیں کہ امریکہ کے علاوہ آج کے دیگر دشمنانِ اسلام اس خلا کو پُر کرنے کے لیے نظریں جمائے بیٹھے ہیں جو امریکہ نے اپنے پیچھے چھوڑا ہے ۔ یہ دشمنانِ اسلام چاہتے ہیں کہ امتِ مسلمہ پر نئی قسم کی بالادستی قائم کریں اور اس کے خلاف اعلانِ جنگ کریں، جس کا نشانہ و مقصد مسلمانوں کی گردنیں پیروں تلے روندنا، اپنے فائدے کے لیے امت کی دولت لوٹنا، اسلام کے خلاف جنگ کے لیے اسے استعمال کرنا اور نئے مظالم تلےدنیا کو زیر کرنا ہے۔ سو اپنی کوششوں میں متحد ہو کر، فی سبیل اللہ دین کی حمایت میں بطورِ امت حرکت میں آ کر ان کے لیے یہ دروازہ بند کر دیں۔
جوانانِ اسلام! آپ دین کے محافظ اور دنیا پر فی اللہ غلبے کی جنگ کا ایندھن ہیں۔ پس آپ اپنی مہار کسی کے حوالے نہ کریں، سوائے ان کے ؛کہ جن کا عمل اللہ کے لیے اور جو ہر مصلحت کو اللہ کے دین کی مصلحت کے مقابل پسِ پشت ڈال دیتے ہیں ؛ وہ لوگ جنہوں نے کتاب و سنت کے منہج کے مطابق دین کی نصرت کی ہے؛ جن کی وفاداری اللہ ، اس کے رسول ؐاور اللہ کے عبادت گزار مومنین کے ساتھ ہے؛ اور جو فی سبیل اللہ جہاد کرتے ہیں تاکہ رب العالمین کی شریعت نافذ ہو؛ وہ لوگ جو اِس دین کے دشمنوں کو للکار کر مظلوم مسلمانوں کی حمایت میں سینہ سپر ہیں۔ پس خوش نما نعرے آپ کو دھوکے میں نہ ڈالیں اور کھوکھلے الفاظ آپ کو فریب میں مبتلا نہ کریں ، اور دھوکہ دہی کے رونے اور آنسوؤں کو اجازت نہ دیں کہ آپ کی عقل و ذہن کے ساتھ کھیلیں ۔ گزرے دنوں کے ناکام تجربوں کو کبھی پھر سے نہ دہرائیے۔ آپ اپنی نظریں اللہ کی شریعت پر جو آج دنیا میں نافذ نہیں ہے ، ہمارے مقبوضہ مقدسات پر اوراس امت کی تاریخ پر ، اس دین پر جو کسی زمانے میں دوسری قوموں پر غالب تھا کی منزل پر مرتکز رکھیں ۔ جان لیں کہ اگر آپ اللہ کے انصار ہیں تو جواباًوہ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو گا اور اگر اللہ آپ کا حامی و ناصر ہے تو کوئی بھی آپ پر غالب نہِیں آ سکتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ (سورۃ محمد: ۷)
’’اے ایمان والو، اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا۔‘‘
اور وہ فرماتا ہے:
إِن يَنصُرْكُمُ اللّهُ فَلاَ غَالِبَ لَكُمْ وَإِن يَخْذُلْكُمْ فَمَن ذَا الَّذِي يَنصُرُكُم مِّن بَعْدِهِ وَعَلَى اللّهِ فَلْيَتَوَكِّلِ الْمُؤْمِنُونَ (سورۃ آلِ عمران: ۱۶۰)
’’اگر اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو اس کے بعد کون ہےجو تمہاری مدد کرے؟ ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ پر ہی بھروسہ رکھنا چاہیے۔‘‘
(اشعار کانثری ترجمہ)
اے فرزندانِ امت! سُوئے عظمت بڑھو
آگے بڑھنے اور عزم و ہمت دنیا کو دکھانے کا وقت آ گیا ہے
کم ہمت شخص کبھی عظمتوں کو نہیں پا سکتا
بلکہ وہی اسے پاتے ہیں جو ثابت قدم اور صابر ہیں
بڑھو اے عزم و ہمت کے نشان جواں مَردو! آگے بڑھو!
بھلا عزت کے دن جیسا دن بھی کوئی اور ہے؟
عزت کے راستے پر بڑھتے ہوئے ہر مشکل خوشی سے جھیلو
کہ تمہیں اس کے بدلے میں جو انعام ملنے والا ہے وہ نہایت اعلیٰ ہے
اے عزت مند فرزندانِ جرأت و حریت
ساری دنیا کے کان تمہاری آواز سننے کے لیے منتظر ہیں
علم و فضل حاصل کرو کہ علم تمہارا رہنما ہو گا
اور علم کی فضیلت سے اہلِ عقل و دانش خوب واقف ہیں
پس تم اسلام کے بہترین سپاہی ہو
اور افراتفری کے زمانے میں تم دین کا بنیادی ستون بھی ہو
تُم ظلم کے انکاری ہو
اور تکان کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیتے
میری امت کے بیٹو! تم بہترین اسلاف کی اولاد ہو
جن سے ہمیشہ افعالِ عظیم ظاہر ہوا کرتے تھے
اور ہم میں تو اللہ کے ایسے شیر ہیں جو کبھی ہتھیار نہیں ڈالتے
ایسے عالی ہمت جو نہ ڈرتے ہیں اور نہ خوف کے مارے چیخ و پکار کرتے ہیں
تم اللہ کی راہ میں جہد کھپانے والے ہو
تم اس دلیر شیر کی مانند ہو جو اپنی کچھار کی حفاظت کرتا ہے
ہمیں حوصلہ بخشنے والے ہمارے اجداد ہیں جو آزاد عُقابوں کی مانند تھے
انہوں نے اسی راستے کو اختیار کیا اور اسی کے لیے ابھارا
بڑے اپنے چھوٹوں کو بھی اسی عزم و ہمت کی تعلیم دیا کرتے تھے!
اللهم انصر الإسلام والمسلمين وارفع راية الدين وقوي جنودهم المخلصين وأذل الشرك والمشركين ونكّس راياتهم يا قوي يا عزيز، اللهم عليك بأمريكا ومن والاها، اللهم عليك بأمريكا ومن والاها، اللهم منزل الكتاب ومجري السحاب سريع الحساب هازم الأحزاب اهزم أمريكا وحلفاءها ومن والاها وزلزلهم وانصرنا عليهم يا قوي يامتين!
یا اللہ اسلام اور مسلمانوں کی نصرت فرما، دینِ اسلام کا عَلم بلند فرما، اس کے مخلص سپاہیوں کو مضبوطی عطا فرما، شرک اور مشرکین کو رسوا کر اور ان کے جھنڈے پست کر دے۔ یا قوی، یا عزیز، امریکہ اور اس کے حامیوں کو شکست دے، یا اللہ امریکہ اور اس کے حامیوں کو شکست دے۔ کتابِ پاک کی وحی بھیجنے والے، آسمانوں کے منتظم، فوری حساب چُکانے والے، اتحادیوں کو شکست دینے والے، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو شکست سے دوچار فرما، اور جو کوئی بھی اس کی حمایت کرتا ہے اسےجڑ سے ہلا کر رکھ دے۔ یاقوی، یا متین ہمیں ان پر فتح عطا فرما، آمین یا ربّ العالمین!
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين
والصلاة والسلام على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.




![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



