جب چھاپہ آیا تو ساتھی مرکز سے نکل کر کھیتوں میں چلے گئے۔ میزائل بردار ڈرون طیارے سر پر گھوم رہے تھے، امریکی فوج اور ان کی غلام ملی اردو (افغان فوج) زمین پر مجاہدین کی بو سونگھتے پھر رہے تھے۔ بعض ساتھی بحمداللہ ان کے حصار سے بحفاظت نکلنے میں کامیاب ہوگئے لیکن چند ساتھی ان کے محاصرے میں آگئے ۔ دشمن کو بھی شاید مجاہدین کی موجوگی کا شک ہوا اور انہوں نے فائر کھول دیا، جس سے سراقہ بھائی زخمی ہوگئے۔ آپ کے زخموں سے خون بہہ رہا تھا، لیکن آپ چیخ و پکار کے بجائے ساتھیوں سے کہہ رہے تھے کہ ’’دعا کریں، اللہ جل جلالہٗ مجھے شہادت سے نوازیں‘‘۔ قبولیت کا لمحہ تھا، دشمنانِ دین و شریعت نے روایتی بزدلی کا اظہار کرتے ہوئے ڈرون سے میزائل داغے، ایک میزائل سیدھا آپ کو آکر لگا اور راہِ ہجرت و جہاد کا ایک اور راہی، عرش تلے ذہب کی قندیلوں میں جا پہنچا، اس شان سے شہادت پائی کہ دفنانے کےلیے بھی کچھ نہیں ملا،گویا ان اشعار کا مصداق بن گئے:
میں کٹوں کچھ اس ادا سے کہ ہر جز میرا بکھر جائے
نہ کفن مجھے کوئی دے نہ جنازہ کوئی پڑھائے
نہ ہو دفن کرنے والا نہ قبر کوئی بنائے
کوئی نشاں میرا جو پوچھے تو نشاں بتا سکے نا
کوئی تلاش کرنا چاہے تو تلاش کرسکے نا
چُن چُن کے میرے ٹکڑے پوری لاش کرسکے نا
مولانا سراقہ کا حقیقی نام محمد سعد تھا، آپ کا تعلق مملکتِ خداداد پاکستان کے مردم خیز شہر کراچی سے تھا۔ آبا واجداد موجودہ بھارت کے صوبۂ بہار سے ہجرت کرکے یہاں آئے تھے، لیکن جب نصف صدی گزرجانے کے باوجود اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے ملک میں اسلام نافذ کرنا تو درکنار، مطالبۂ شریعت کرنے والی معصوم بہنوں کو فاسفورس بموں سے جلا دیا گیا ، قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کے ذریعے اور شہری علاقوں میں گرفتاریوں ، گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے ذریعے عامۃ المسلمین پر عرصۂ حیات تنگ کردیا گیا تو غیرتِ دین سے سرشار نوجوانانِ امت سر سے کفن باندھ کر اس امریکی فرنٹ لائن اتحادی خائن فوج کے خلاف میدان میں کود پڑے جو یہاں نفاذِ اسلام میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے،انہی دنوں آپ بھی اس مبارک قافلے میں شامل ہوگئے ۔
آپؒ نے کم عمری میں حفظِ قرآن کی تکمیل کے بعد علوم دینیہ کے حصول کے لیے مدرسہ کا رخ کیا۔پہلے تین سال مختلف مدارس میں پڑھتے رہے، یہیں میری آپ سےابتداءً چہرہ شناسی ہوئی جو بعد ازاں تنظیمی تعلق اور جگری دوستی میں ڈھل گئی۔ بعد میں آپ معروف دینی درس گاہ دارالعلوم کراچی چلے گئے اور وہیں سے سندِ فراغت حاصل کی۔
ہم دونوں ہی ایک معروف دینی تنظیم کی طلبہ شاخ سے وابستہ تھے، جلسے جلوسوں اور ہڑتالوں میں بھی شریک ہوتے تھے، آپؒ ان معاملات میں بھی شریعت کے واضح احکام کی کسی طور پر پامالی برداشت نہیں کرتے تھے، مثلاً : ایک دفعہ سڑک بلاک کی، ایک گاڑی آئی اور اس میں سوار آدمی نے اپنی مجبوری بیان کی، بقیہ لوگ اس کو نہیں گزرنے دینا چاہتے تھے، لیکن آپ نے ان سے کہا کہ اسے روکنا شرعاً ہمارے لیے جائز نہیں اور اسے جانے دیا۔
اسی طرح ایک اور بار پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کررہے تھے، بس کھچا کھچ بھری ہوئی تھی، دو مرد،خواتین کے حصے (لیڈیز کمپارٹمنٹ) میں جاکر بیٹھ گئے، تھوڑی دیر بعد کچھ خواتین بھی بس میں آکر سوار ہوگئیں، آپؒ سے مردوزن کا اختلاط دیکھا نہ گیا، ابھی آپ کی مسیں بھی نہیں بھیگی تھیں لیکن آپ کھڑے ہوگئے اور ان مردوں سے کہا کہ آپ ادھر مردوں والے حصے میں آجائیں اور اگر بیٹھنے کے لیےسیٹ چاہیے تو میری نشست پر آکر بیٹھ جائیں۔ آپ کے اس برملا کلمۂ حق پر چاروناچار انہیں وہاں سے اٹھنا پڑا ۔
درسِ نظامی کے چوتھے سال آپ کو جہاد کی دعوت ملی، جسے آپ کی سلیم فطرت نے فوراً قبول کیااور دوسروں تک بھی اس دعوت کی تبلیغ میں لگ گئے۔ درجۂ خامسہ کی سالانہ چھٹیوں میں آپ اپنے دو ساتھیوں(ثمامہ اور طیب) کے ہمراہ جہادی تدریب کی غرض سے عالمی جہاد کے گہوارے وزیرستان روانہ ہوئے۔
گئے تو تھے صرف تدریب کےلیے اور ارادہ واپس آکر تعلیم مکمل کرنے کا تھا، لیکن جب وزیرستان پہنچ کرفرضیتِ جہاد کا دوٹوک حکم معلوم ہوا کہ فرضِ کفایہ علم کے حصول کی خاطر فرضِ عین جہاد کا ترک جائز نہیں، تو اللہ کا یہ فرماں بردار بندہ ساری تاویلات بھول کر یہیں کا ہورہا، صبر و استقامت کے ساتھ آپؒ نے ایک سال یہاں گزارا۔ مرکز میں خدمت کرتے رہے اور ساتھیوں کو علمِ دین سے بہرہ ور بھی کرتے رہے۔ آپ کے نمایاں شاگردوں میں معوذ (جواد عارف)شہید رحمہ اللہ اور ایک بھائی عبدالودود زاہد (عبد الرافع) تھے ، بھائی عبد الودود آپ کے ساتھ ہی قندھار کے مشہور شوراوک چھاپے میں شہید ہوئے۔
ایک سال گزارنے کےبعد شہید عالمِ ربانی استاد احمد فاروقؒ کے شرعی دورےمیں شریک ہوئے، راقم بھی ہمراہ تھا۔ آپ کے علمی شغف کو دیکھتے ہوئے استادِ محترم نے تکمیلِ علمِ دین کے لیے آپ کی تشکیل پاکستان کے شہری علاقوں کی طرف کردی، بقیہ تین سال (درجۂ سادسہ تا دورۂ حدیث )بھی آپ نے جامعہ دارالعلوم کراچی میں پڑھا۔ رجب ۱۴۳۶ ھ میں آپ کی دستار بندی ہوئی اور اسی سال ماہِ ذوالحجہ میں خلعتِ شہادت سے نوازے گئے۔
عشق کی اک جست نےطے کردیا قصہ تمام
اس زمین و آسماں کو بے کراں سمجھا تھا میں
آپؒ نےتحریرات بھی لکھیں اور ساتھیوں کو فرضیتِ جہاد کے دورہ جات بھی کروائے۔ آپ کی ایک قابلِ ذکر تحریر اپنے شہید ساتھی معوذ رحمہ اللہ کے بارے میں تاثرات پر مشتمل ہے اور دوسری تحریر دراصل ترجمہ ہے ،بعنوان : ’تبدیلی کے عمل، جہادی تحریکات کی ناکامی:اسباب اور حل‘، جس پر آپ نے گراں قدر حواشی تحریر کیے تھے ۔
مولانا سراقہ شہید کے تیار کردہ ساتھی آج بھی دعوت و جہاد کے میدان میں مصروفِ کار ہیں اور آپ کے لیے بہترین صدقۂ جاریہ ہیں۔
جن دنوں آپ شہید ہوئے، راقم گرفتار تھا، گرفتاری کے دوسرے سال شیاطینِ انس و جن کے گٹھ جوڑسے راقم سحر (جادو)کا شکار ہوکر ہوش وحواس سے بیگانہ ہوگیا۔ زندان کی جو آخری بات یاد ہے وہ یہ کہ زندان کی چھت شق ہوئی اور مولاناسراقہ شہید نے ہاتھ بڑھا کر کہا کہ ’میں آپ کو لینے آیا ہوں‘۔ اسی دن اللہ نے رہائی کی سبیل بنائی اور طاغوتی کارندے راقم کو قریب المرگ سمجھ کر گھر چھوڑ آئے ،کچھ عرصے بعد جب سحر ٹوٹا تو آپ کی شہادت کی خبر سنی، ابھی تک راقم کو آپ کی شہادت کاعلم نہیں تھا۔
آپؒ اکثر کہتے تھے کہ ’اللہ تعالیٰ دین کی خوب خدمت لے پھر شہادت دے،جلد شہید ہوگئے، کم خدمت کی تو درجہ بھی کم ہوگا‘۔ اللہ بندے کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق معاملہ فرماتے ہیں۔
’’انا عند ظن عبدى بى.‘‘ حديث قرطبى
اس ليے راقم كو ان کی جلد شہادت پر تعجب بھی ہوا۔ لیکن بعد میں ایک ساتھی نے بتایا کہ افغانستان كے صوبۂ ہلمند کے قصبے ’برامچہ‘ آنے کے بعد مولوی سراقہ برامچہ کے معروف شہدا قبرستان میں گئے اور واپسی پر اپنے تاثرات بتاتے ہوئے کہا کہ ’اب اللہ تعالیٰ سے شہادت مانگتا ہوں‘۔
سراقہ بھائی علم کے بہت ہی حریص تھے، فراغت کے بعد آپ کا حدیث اور علومِ حدیث میں تخصص کا ارادہ تھا، جس کی تیاری بھی آپ شروع کرچکے تھے۔ لیکن امرائے جہاد نے جب قحط الرجال کی وجہ سے آپ کو میدانوں میں طلب کیا تو آپ نے اپنے شوق کی قربانی دی ، اپنے بندے کی یہ ادائے تسلیم و رضا اللہ کو اتنی پسند آئی کہ شہادت دے کر اپنا قربِ خاص عطا فرمادیا۔
فِيْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيْكٍ مُّقْتَدِرٍ (سورۃ القمر: ۵۵)
’’ایک سچی عزت والی نشست میں۔ اس بادشاہ کے پاس جس کے قبضے میں سارا اقتدار ہے۔‘‘
ادا کر کے فرض اپنی خدمات کا
سحر دم وہ جاگا ہوا رات کا
ابد کے نگر کو روانہ ہوا
مکمل سفر کا فسانہ ہوا
نحسبہ کذالک ولانزکی علی اللہ احدا.



![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



