الحمدللہ نحمدہ و نستعینہ ونستغفرہ ونؤمن بہ ونتوکل علیہ ونعوذ باللہ من شرور أنفسنا ومن سیئات اعمالنا من یھدہ اللہ فلا مضل لہ ومن یضللہ فلا ھادی لہ، ونشھد ان لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ و نشھد ان سیدنا و مولانا محمداً عبدہ و رسولہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علی آلہ وأصحابہ وبارک وسلم.
اما بعد فأعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔ بسم اللہ الرحمان الرحیم
قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَبِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا ھُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَ (سورۃ یونس: ۵۸)
’’اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ فرما دیجیے کہ صرف اللہ کے فضل و رحمت ہی کے ساتھ چاہیے کہ خوش ہوں، اس لیے وہ بہتر ہے اس شے سے کہ جس کو یہ لوگ جمع کرتےہیں۔‘‘
تمہید:
قبل اس کے کہ اس آیت کے متعلق میں کچھ بیان کروں، اول بطور تمہید یہ معلوم کرلینا ضروری ہے کہ چند سال سے میرا معمول ہے کہ ماہ ربیع الاول کے شروع میں ایک وعظ اس ماہ میں افراط و تفریط کرنے والوں کی اصلاح کے متعلق کہا کرتا ہوں اور اس میں تبعاً و اسطراداً 1 دیگر فوائد علمیہ و نکات و حقائق کا بیان بھی آجاتا ہے۔ امسال بھی ایسا ہی خیال تھا کہ ابتدائے ربیع الاول میں ایسا وعظ ہوجائے لیکن وجہِ التوا یہ ہوئی کہ ہمارے مدرسہ کے متعلق ایک مکان طلبہ کے لیے بنا ہے، خیال یہ ہوا کہ اس مکان میں اس کے افتتاح کے ساتھ یہ وعظ ہوتا کہ اس مکان میں برکت ہو، لیکن اس کے افتتاح میں بعض امور کا انتظار تھا۔ اتفاق سے وہ جملہ امور دو شنبہ (پیر) کے روز ختم ہوئے چنانچہ اس روز ارادہ بیان کا ہوا۔ لیکن بعض احباب کی رائے ہوئی کہ جمعہ کے روز جامع مسجد میں یہ بیان ہو تاکہ اور لوگ بھی منتفع ہوں۔ اس وجہ سے بیان میں دیر ہوئی اور عجیب اتفاق ہے کہ آج بارہ ربیع الاول ہی ہے، اسی تاریخ میں لوگ افراط و تفریط کرتے ہیں۔ اس تاریخ کا بالتخصیص ارادہ نہیں کیا گیا اور نہ نعوذ باللہ اس تاریخ سے ضد ہے بلکہ الحمدللہ ہم اس کی برکت کے قائل ہیں، مگر یہ اتفاقی بات ہے کہ اس بیان کا اس تاریخ سے اقتران ہوگیا(یعنی تاریخِ پیدائش اور اس سے متعلق بیان باہم متحد ہوگئے) ۔ اور یہ حق تعالیٰ کا فضل ہے کہ متبع سنت کو اللہ تعالیٰ بلا قصد وہ برکات عنایت فرما دیتے ہیں کہ جن کا متبع رسوم و بدعات ارتکابِ بدعات کے ساتھ قصد کرتے ہیں۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ جو شے دائر بین السنۃ والبدعۃ (سنت اور بدعت کے درمیان) ہو تو اس سنت کو ترک کردینا چاہیے۔ پس یہ تاریخ اگرچہ بابرکت ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر شریف اس میں باعث مزید برکت کا ہے لیکن چونکہ تخصیص اس کی اور اس میں ذکر کا التزام کرنا چونکہ بدعت ہے اس لیے اس تاریخ کی تخصیص کو ترک کردیں گے۔ ہم کو اللہ تعالیٰ نے اس تخصیص کے مفسدہ سے محفوظ رکھا اور اس تاریخ کی برکات سے بھی محروم نہیں رکھا اور عجیب بات ہے کہ اگر دو شنبہ کے روز بیان ہوتا تو ہم کو اس دن بھی یہی برکت حاصل ہوتی اس لیے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت شریفہ اس یوم میں ہوئی ہے اور نیز بعض محققین اس طرف گئے ہیں کہ ولادت شریفہ ۸ ربیع الاول کو ہوئی ہے اور دو شنبہ کو آٹھویں ہی تاریخ تھی۔ پس اس قول کے موافق ہم کو یوم البرکت اور تاریخ البرکت دونوں سے حصہ مل جاتا اور جمہور کے قول کے موافق ۱۲ربیع الاول تاریخ ولادت شریفہ ہے اس لیے اب بھی اس تاریخ کی برکت سے محرومی نہ رہی بلکہ اب دو برکتیں حاصل ہوگئیں، یوم کی بھی اور تاریخ کی بھی؛ اس لیے کہ دو شنبہ کے روز نیت بیان کی تھی اور مومن کی نیت پر بھی ثواب کا وعدہ ہے، یوم کی برکت یوں حاصل ہوگئی اور آج کہ ۱۲تاریخ ہے اس کا وقوع ہوگیا، تاریخ کی برکت اس طرح حاصل ہوگئی۔ یہ برکت ہے اتباع سنت کی اور ہرچند کہ اس یوم میں افراط و تفریط کے متعلق بیان کرنا زائد معلوم ہوتا ہے اس لیے کہ جو افراط و تفریط کرنا تھا، آج ان لوگوں نے کرلیا ہوگا، پس اب اس بیان سے کیا فائدہ۔ مگر یہ ایام چونکہ پھر ان شاء اللہ تعالیٰ آنے والے ہیں اور نیز علاوہ ربیع الاول کے اور دنوں میں بھی لوگ ایسی مجالس منعقد کرتے ہیں اور اس میں حدود شرعیہ سے متجاوز ہوتے ہیں اس لیے اس کے متعلق بیان کردینا خالی از نفع نہیں؛ یہ مضمون تو بطور تمہید کے تھا۔2
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود سب سے بڑی نعمت ہے:
اب آیت شریفہ کے متعلق عرض کرتا ہوں۔ جاننا چاہیے کہ اس میں کسی مسلمان کو شک و شبہہ نہیں ہے کہ حق تعالیٰ کی ہر نعمت قابل شکر ہے، خاص کر جو بڑی نعمت ہو پھر خصوصاً دینی نعمت اور دینی نعمتوں میں سے خاص کر جو بڑی نعمت ہو پھر ان میں بھی خصوص وہ نعمت جو اصل ہے تمام دینی و دنیوی نعمتوں کی اور وہ نعمت کیا ہے؟ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری؛ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دینی نعمتوں کے تو فیوض دنیا میں فائض (عام) ہوئے ہی ہیں، دنیوی نعمتوں کے سرچشمہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں اور صرف مسلمانوں ہی کے لیے نہیں بلکہ تمام عالم کے لیے۔ چنانچہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ(سورۃ الانبیاء: ۱۰۷)
یعنی نہیں بھیجا ہم نے آپ کو اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) مگر جہانوں کی رحمت کے واسطے۔ دیکھیے! عالمین میں کوئی تخصیص انسان یا غیر انسان یا مسلمان و غیر مسلمان کی نہیں ہے۔ پس معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود باوجود ہرشے کے لیے باعث رحمت ہے، خواہ وہ جنس بشر سے ہو یا غیر جنس بشر سے اور خواہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے زماناً متاخر ہو یا متقدم۔ متاخرین کے لیے رحمت ہونا تو بعید نہیں لیکن پہلوں پر رحمت ہونے کے لیے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یک وجود سب سے پہلے پیدا فرمایا اور وہ وجود نور کا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وجودِ نوری سے سب سے پہلے مخلوق ہوئے ہیں اور عالمِ ارواح میں اس نور کی تکمیل و تربیت ہوتی رہی۔ آخر زمانہ میں اس امت کی خوش قسمتی سے اس نور نے جسد عنصری میں جلوہ گر و تابان ہو کر تمام عالم کو منور فرمایا۔ پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم اولاً و آخراً تمام عالم کے لیے باعث رحمت ہیں۔ پس جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود تمام نعمتوں کی اصل ہونا عقلاً و نقلاً ثابت ہوا تو ایسا کون مسلمان ہوگا کہ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود باوجود پر خوش نہ ہو یا شکر نہ کرے! پس ہم پر خاص تہمت اور محض افترا اور نرا بہتان ہے کہ توبہ توبہ نعوذ باللہ کہ ہم لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر شریف یا اس پر خوش ہونے سے روکتے ہیں، حاشا و کلا؛ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر تو ہمارا جزو ایمان ہے۔
میلادِ مروجہ سے روکنے کی وجہ:
ہاں جو شے خلاف ان قوانین کے ہوگی جن کی پابندی کا ہم کو خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا ہے اس سے البتہ ہم روکیں گے اگرچہ فی نفسہٖ وہ شے مستحسن ہو اور شریعت میں اس کے نظائر بکثرت موجود ہیں۔ دیکھو! اس پر سب کا اتفاق ہے کہ عین دوپہر کے وقت نماز پڑھنا مکروہ ہے اور اس پر بھی اجماع ہے کہ قبلہ سے منہ پھیر کر نماز پڑھنا ممنوع ہے اور یہ بھی سب کے نزدیک مسلم ہے کہ یوم النحر اور یوم الفطر میں روزہ رکھنا حرام ہے اور یہ بھی سب جانتے ہیں کہ ایام تشریق (۱۱، ۱۲، ۱۳ ذی الحجہ) میں افطار ضروری ہے اور یہ بھی تمام امت کا مسئلہ مسلّمہ ہے کہ ماہ محرم میں حج نہیں ہوسکتا اور نیز محل حج مکہ مکرمہ ہی ہے بمبئی میں حج ممکن نہیں۔ دیکھیے! نماز، روزہ، حج فرض ہیں، لیکن خلاف قاعدہ و قانونِ شریعت چونکہ کیے گئے اس لیے وہ بھی منہی عنہا3 ہوگئے اور ان کے ممنوع ہونے کو آپ بھی تسلیم کرتے ہیں۔ پس اگر کوئی ایسے نماز، روزہ، حج کو منع کرے تو اس کو کوئی عاقل یوں نہ کہے گا اور یہ تہمت اس پر نہ لگائے گا کہ یہ شخص نماز، روزہ، حج سے روکتا ہے۔ اگر نماز، روزہ سے روکتا تو خود ہی ان پر کیوں عامل ہوتا؟ اسی طرح مسئلہ متنازع فیہا کے اندر سمجھو کہ ہمارے حضرت کی نسبت یہ کہنا کہ یہ لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ شریفہ کے ذکر یا اس پر خوش ہونے کو منع کرتے ہیں، یہ نری تہمت اور افترا ہے؛ سبحانک ھذا بھتانٌ عظیم (پاک ہے تُو، یہ بہتانِ عظیم ہے)۔ حاشا للہ ہم ہرگز منع نہیں کرتے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہر شے کا ایک طریق ہوتا ہے، جب وہ شے اس طریق سے کی جاوے تو وہ پسندیدہ ہے ورنہ ناپسند اور قابل منع کرنے کے ہے۔ دیکھیے! تجارت ہے، اس کے لیے گورنمنٹ نے خاص قوانین مقرر کردیے ہیں، اگر کوئی شخص ان قوانین کے خلاف تجارت کرے گا تو وہ ضرور قوانین کی خلاف ورزی میں ماخوذ ہوگا۔ چھرّہ، بارود کی تجارت وہی کرسکتا ہے جس نے لائسنس حاصل کرلیا ہو۔ اسی طرح شریعت میں بھی ہر شے کا قاعدہ اور قانون ہے، جب اس کے خلاف کیا جاوے گا تو وہ ناپسند اور منہیٰ عنہ ہوجائے گی۔ پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کا ذکر مبارک عبادت ہے، لیکن دیکھنا چاہیے کہ قانون دان حضرات، یعنی خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنھم جن کی اقتدا کا ہم کو حکم ہے، انھوں نے اس عبادت کو کس طرز اور طریق سے کیا ہے۔ اگر آپ لوگ اسی طریق سے کریں تو سبحان اللہ! کون روکتا ہے اور اگراس طریق سے نہ کیا جائے تو بے شک و شبہہ وہ قابل روکنے کے ہے۔ اب فرمائیے کہ کیا ہم لوگ ذکر رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے روکنے والے ہیں؟ اس کی تو ایسی مثال ہے جیسے کوئی چھرّہ بارود کی تجارت کو لائسنس نہ ہونے کی وجہ سے منع کرے اور اس کو یہ کہا جاوے کہ یہ تو تجارت کو منع کرتے ہیں۔ پس نفسِ فرح و سرور علی ذکر رسول صلی اللہ علیہ وسلم (ذکر رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر خوشی) کو کوئی منع نہیں کرتا کہ وہ تو عبادت ہے، ہاں جب اس کے ساتھ اقتران منہیٰ عنہ کا ہوگا تو وہ بے شک قابل ممانعت ہے۔
خوشی کی اقسام:
فرح اور سرور ہی کو دیکھ لیجیے کہ اس کی نسبت قرآن مجید میں ایک مقام پر تو ہے ’لا تفرح‘ (خوش مت ہو) اور دوسرے مقام پر ارشاد ہے ’فلیفرحوا‘ (پس چاہیے کہ خوش ہوں)، جیسا اس آیت میں ہے۔ معلوم ہوا کہ بعض فرح کے افراد ماذون فیہ (جن کی اجازت ہے) ہیں اور بعض منہیٰ عنہا۔ اور ظاہر ہے کہ اعمال اخرویہ میں ہمارے لیے معیار شریعت ہے۔ پس شریعت کے قواعد سے جو فرحت جائز ہے اس کی تو اجازت ہے اور جو ناجائز ہے وہ ممنوع ہے۔ چنانچہ جس جگہ ’لا تفرح‘ ہے وہاں دنیوی فرحت مراد ہے ، مگر وہی فرحت جو حدود سے تجاوز ہو، ورنہ نفسِ فرح نعمتِ دنیویہ پر بھی لوازمِ شکر سے ہے۔ اور جہاں امر کا صیغہ ہے وہاں نعمتِ دینی پر فرحت مقصود ہے لیکن وہی فرح جس میں قواعد شریعت سے تجاوز نہ ہو، مثلاً اگر کوئی نماز پر کہ وہ نعمتِ دینی ہے خوش ہو اور خوشی میں آکر یہ کرے کہ بجائے چار رکعت کے پانچ رکعت پڑھنے لگے تو بجائے اس کے کہ ثواب ہو الٹا گناہ ہوگا، اس لیے کہ شریعت کے قواعد سے اس نے تجاوز کیا۔ خود ذکرِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہ جس میں اختلاف ہے، اسی کو لے لیجیے کہ مسئلہ متفق علیہا ہے کہ جو شخص چار رکعت والی نماز میں قعدۂ اولیٰ میں تشہد کے بعد اللھم صلی علی محمد پڑھ دے تو نماز ناقص ہوگی، حتی کہ سجدۂ سہو سے وہ نقصان منجبر(پورا) ہوگا، اگر سہواً ایسا کیا۔ دیکھیے! درود شریف کہ جس کی نسبت ارشاد ہے ’من صلی علیّ مرۃ صلی اللہ علیہ عشرا‘ او کما قال، یعنی جو شخص درود بھیجے مجھ پر ایک مرتبہ، اس پر اللہ تعالیٰ دس مرتبہ رحمت فرماویں گے اور پھر موقع کون سا؟ نماز! لیکن حکم شرعی یہ کہ نماز میں نقصان آجائے گا تو اس کی آخر کیا وجہ ہے؟
بزہد و ورع کوش و صدق و صفا
ولیکن میفزائے بر مصطفیٰ
کہ ہرگز بمنزل نخوابد رسید
پندار سعدی کہ راہ صفا
تواں رفت جزبر پئے مصطفیٰ
(زہد و ورع اور صدق و صفا میں سعی کرو لیکن مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھنے کی کوشش نہ کرو، پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے راستہ کے خلاف جس نے دوسرا راستہ اختیار کیا ، وہ ہرگز منزل مقصود کو نہ پہنچے گا۔ سعدی یہ گمان نہ کرو کہ سیدھا راستہ ہے، بجز پیرویٔ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے نہیں چل سکتا)
پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو موقع درود شریف کا نماز میں مقرر فرما دیا ہے چونکہ اس سے تجاوز ہوا ہے اس لیے نماز میں نقصان آیا۔ اگرچہ درود شریف فی نفسہٖ عبادت ہے اور یہ مسئلہ ایسا ہے کہ اس پر اہل بدعات کا بھی اتفاق ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پر خوش ہونے سے کون منع کرسکتا ہے؟
پس اے حضرات! خدا سے ڈریے اور اس مادۂ فاسدہ کو اپنے دماغ سے نکالیے ورنہ اس کا اثر دور دور تک سرایت کرے گا اور احکام میں نظر انصاف اور حق طلبی سے غور فرمائیے، پھر اگر شبہات رہیں تو شائستگی اور تہذیب سے ان کو رفع فرمائیے۔ اور خوب سمجھ لینا چاہیے کہ قرآن مجید میں خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود باوجود کی نسبت،جیسا کہ آیت کی تفسیر میں عن قریب مفصل آئے گا صیغۂ امر ’فلیفرحوا‘ موجود ہے، تو اس فرحت کو کون منع کرسکتا ہے؟ غرض حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت شریفہ پر فرحت اور سرور کو کوئی منع نہیں کرسکتا اور یہ امر بالکل ظاہر ہے لیکن میں نے اس میں اس لیے تطویل کی کہ ہم پر یہ افترا ہے کہ یہ لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کو منع کرتے ہیں۔
ہر روز ہر مسلمان کم از کم ۲۸ مرتبہ ذکر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کرتا ہے:
صاحبو! حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مبارک تو وہ شے ہے کہ اگر اس پر اجر کا بھی وعدہ نہ ہوتا تو خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بمقتضائے ’من أحب شیئاً اکثر ذکرہ‘ (جو شخص کسی چیز سے محبت رکھتا ہے وہ اس کا ذکر اکثر کرتا ہے)، اس کو مقتضی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر وقت ذکر کیا کرے اور چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر عین عبادت ہے اسی واسطے حق تعالیٰ نے خود اس قدر مواقع آپ کے ذکر کے مقرر فرمائے ہیں کہ مسلمان سے لامحالہ ذکر ہو ہی جاوے۔ دیکھیے! نماز کے اندر ہر قعدہ میں ’السلام علیک أیھا النبی‘ (اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ پر سلام ہو) موجود ہے اور قعدۂ ظہر، عصر، مغرب اور عشاء میں دو دو ہیں اور فجر میں ایک تو کُل نو قعدے ہوئے اور سنن مؤکدہ اور وتر میں لیجیے تو ظہر میں تین، مغرب میں ایک، عشا میں تین اور صبح میں ایک تو کُل سترہ قعدے ہوئے، پس یہ سترہ مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہوا۔ پھر پانچوں وقت فرائض اور سنن اور وتر کے قعدۂ اخیرہ میں کُل گیارہ مرتبہ درود شریف بھی پڑھا جاتا ہے، پس سترہ اور گیارہ، کُل اٹھائیس بار تو لامحالہ ہر مسلمان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مبارک کرنا روزانہ ایسا ضروری ہے کہ اس سے کسی طرح مفر ہی نہیں۔ پھر پانچوں وقت اذان اور تکبیر ہوتی ہے، اس میں اشہد ان محمد رسول اللہ (میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں) موجود ہے، جس کو مؤذن اور سننے والا دونوں کہتے ہیں، پھر ہر نماز کے بعد دعا بھی سب ہی مانگتے ہیں اور دعا کے آداب میں سے کردیا گیا کہ اس کے اول و آخر درود شریف ہو، غرض اس حساب سے اٹھائیس سے بھی زیادہ تعداد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر شریف کی ہوگی اور یہ تو وہ مواقع ہیں کہ ان میں پڑھے بے پڑھے سب شامل ہیں اور جو طالب علم حدیث شریف پڑھتے ہیں وہ تو ہر وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے ذکر میں رہتے ہیں اس لیے کہ ہر حدیث کے شروع میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام مبارک کے ساتھ درود شریف موجود ہے، چنانچہ احادیث کی کتابیں اٹھا کر دیکھیے اور ان میں جابجا ’قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم‘ اور ’قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم‘، ’عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم‘ واقع ہے اور درمیان میں جہاں کہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم مبارک آیا ہے وہاں بھی درود شریف موجود ہے، گویا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کو ایسا گوندھ دیا ہے کہ بغیر ذکر کے مسلمان کو چارہ نہیں۔
ذکرِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت ہونا چاہیے
مولانا فضل الرحمان صاحب گنج مراد آبادیؒ سے کسی نے پوچھا تھا کہ ذکرِ ولادت آپ کے نزدیک جائز ہے یا ناجائز؟ انھوں نے فرمایا کہ ہم تو ہر وقت ذکرِ ولادت کرتے ہیں اس لیے کہ ہر وقت کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھتے ہیں۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیدا نہ ہوتے تو ہم یہ کلمہ کہاں پڑھتے؟ پس محبت کا مقتضیٰ تو یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر وقت ذکر ہو اور اس کے لیے اس کی ضرورت نہیں کہ اس کے لیے مجالس منعقد کی جاویں اور مٹھائی منگائی جاوے تب ذکر ہو۔ عاشق اور محب کو اتنی دیر کیسے صبر آسکتا ہے؟ دیکھو! اگر کسی سے محبت ہوجاتی ہے تو محب کی کیا حالت ہوتی ہے کہ ہر وقت اس کی یاد میں بےقرار رہتا ہے۔ اگر اس سے کوئی کہے کہ میاں! ذرا ٹھہر جاؤ، ہم مجلس آرائی کرلیں اور مٹھائی منگالیں، اس وقت ذکر کیجیو۔ وہ کہے گا کہ معلوم ہوتا ہے کہ تمہاری محبت کاذبہ ہے کہ جو اتنی دیر تک تم ذکرِ محبوب سے صبر کرتے ہو، محبت تو وہ شے ہے جیسے مجنوں کی حالت تھی کہ:
دیدِ مجنوں رایکے صحرا نورد
در بیابان غمش بنشتہ فرد
ریگ کاغذ بعد و انگشتان قلم
می نمودے بہر کس نامہ رقم
گفت اے مجنون شیدا چیست این
می نویسی نامہ بہر کیست این
گفت مشق نام لیلےٰ می کنم
خاطر خود را تسلی می کنم
(کسی نے مجنوں کو جنگل میں تنہا دیکھا کہ غمگین بیٹھا ہوا ہے، ریت پر انگلیوں سے کچھ لکھ رہا ہے۔ پوچھا اس نے اے مجنوں! کسے خط لکھ رہے ہو؟ کہنے لگا لیلیٰ کے نام کی مشق کررہا ہوں، اپنے دل کو تسلی دے رہا ہوں)
بتلائیے کہ اگر مجنوں کو اس حالت میں کوئی یہ کہتا کہ ذرا ٹھہر جاؤ ہم مجلس بنالیں اور مٹھائی منگالیں اس وقت لیلیٰ کا ذکر کرنا تو وہ یہ جواب دے کہ سلام ہے ایسی مجلس کو اور ایسی مٹھائی کو جو میرے اور میرے محبوب کے درمیان حجاب ہو۔ اور ہم نے تو اکثر مجالسِ میلاد والوں کو یہی دیکھا ہے کہ یہ محبت سے بالکل خالی ہوتے ہیں۔
محبت کا معیار
اس لیے کہ بڑا معیار محبت کا محبوب کی اطاعت ہے۔ کسی نے خوب کہاہے:
تعصی الرسول وأنت تطہر حبہ
ھذا لعمری فی الفعال بدیع
لوکان حبک صادقا لا طعتہ
ان المحب لمن یحب مطیع
(یعنی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرتا ہے اور ان کی محبت کو ظاہر کرتا ہے، اپنی جان کی قسم یہ امر افعال عجیبہ میں سے ہے۔ اگر تیری محبت صادق ہوتی تو ضرور تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتا، اس لیے کہ محب محبوب کا مطیع ہوتا ہے)
اور ان مولد پرستوں کو دیکھا ہے کہ مجلسِ میلاد کا اہتمام کرتے ہیں، بانس کھڑے کررہے ہیں، ان پر کپڑے مڑھ رہے ہیں اور سامان روشنی کا فراہم کررہے ہیں اور اس درمیان میں جو نمازوں کے وقت آتے ہیں تو نماز نہیں پڑھتے اور داڑھی کا صفایا کرتے ہیں…… کیوں صاحبو! کیا محبینِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی ہی صورتیں اور یہی ان کی حالت ہوتی ہے؟ کیا بس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اتنا ہی حق ہے کہ پانچ روپیہ کی مٹھائی منگائی اور تقسیم کردی اور سمجھ لیا کہ ہم نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حق ادا کردیا۔ کیا آپ لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ کوئی پیشہ ور پیرزادہ سمجھا ہے کہ تھوڑی سی مٹھائی پر خوش ہوجاویں، تھوڑے سے نذرانے پر راضی ہوجاویں، توبہ توبہ نعوذ باللہ۔ یاد رکھو! حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایسے محبین سے خوش نہیں ہیں۔ سچے محب وہ ہیں جو اقوال و افعال، وضع، انداز ہر شے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور اطاعت کرتے ہیں۔ میرے ایک دوست حافظ اشفاق رسول نامی ہیں۔ وہ ذکرِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فریفتہ ہیں۔ وہ کبھی کبھی محبت کی وجہ سے ذکر ولادت مروج طریق سے کیا کرتے تھے۔ انھوں نے خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہم اس کی شفاعت نہ کریں گے جو ہماری بہت تعریف کرے، ہم اس کی شفاعت کریں گے جو ہماری اطاعت کرے۔مطلب اس کا یہی ہے کہ جو شخص نرا دعویٰ کرتا ہو اور نعتیہ اشعار بہت پڑھتا ہو لیکن اطاعت کرتا نہ ہو تو اس کی شفاعت نہ کریں گے۔ میں نے جو اصلاح الرسوم کتاب لکھی ہے اس میں ایک فصل ذکرِ میلاد کے متعلق بھی ہے، چنانچہ وہ فصل طریقۂ مولد کے نام سے علیحدہ بھی طبع ہوگئی ہے، تو جب یہ کتاب لکھی گئی تو مجلسِ میلاد کے متعلق کانپور میں لوگوں نے بہت شور کیا۔ اسی اثنا میں ایک شخصِ صالح نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا اور اس اختلاف کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اس میں صحیح کیا ہے؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اشرف علی نے جو لکھا ہے وہ سب صحیح ہے۔ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات میں جو کتاب ’نشر الطیب فی ذکر النبی الحبیب صلی اللہ علیہ وسلم‘ لکھی ہے، اس کے آخر میں ان دونوں خوابوں کو مفصلاً درج کردیا ہے لیکن میری غرض ان خوابوں کے ذکر کرنے سے مدعا (اپنے دعویٰ) کا اثبات نہیں ہے، اثباتِ مدعا کے لیے تو مستقل دلائل ہیں، یہ تومحض تائید اور مزید اطمینان کے لیے لکھ دیا ہے۔ الحاصل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود باوجود اصل ہے تمام نعمتوں کی اور اس پر شکر اور فرحت مامور بہ ہے۔
قرآن پاک کی صفات
چنانچہ جو آیت میں نے تلاوت کی ہے اس میں اسی نعمت کا ذکر اور اس پر فرح کا امر ہے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ اس آیت کریمہ سے پہلے قرآن مجید کی شان حق تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے، چنانچہ ارشاد ہے:
يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ قَدْ جَاۗءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَشِفَاۗءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ ڏ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ (سورۃ یونس: ۵۷)
یعنی ’’اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک نصیحت اور دل کے امراض کے لیے شفا اور مومنین کے لیے ہدایت و رحمت آئی ہے‘‘۔
اس میں حق تعالیٰ نے قرآن مجید کی چار صفتیں بیان فرمائی ہیں: موعظہ، شفا، ہدیٰ اور رحمت۔ موعظہ کہتے ہیں وہ کلام جو بری باتوں سے روکنے والا ہے۔ اور شفا اس کی صفت بطور ثمرہ کے فرمائی ہے یعنی نتیجہ اور ثمرہ اس موعظت پر عمل کرنے کا یہ ہے کہ دلوں کے اندر جو روگ ہیں ان سے شفا حاصل ہوگی۔
گناہ کا نتیجہ
یہاں سے ایک تصوف کا مسئلہ مستنبط ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ یہ تو ظاہر ہے کہ ہم لوگ گناہ میں مبتلا ہیں اور شب و روز ہم سے لغزشیں ہوتی ہیں لیکن اس ابتلا کے ساتھ دو قسم کے لوگ ہیں: ایک تو وہ ہیں کہ گناہ کرتے ہیں اور ان کو اس کا کچھ احساس نہیں ہوتا، اور ایک وہ جن کو احساس ہوتا ہے۔ سو الحمدللہ کہ ہم گو پھسلتے ہیں اور گناہ ہم سے صادر ہوتے ہیں لیکن اندھے نہیں ہیں کہ اس کی خبر ہی نہ ہو کہ راستہ کدھرہے۔ الحمد للہ اللہ تعالیٰ نے آنکھیں عطا فرمائی ہیں، گو بعض وقت نفس کے غلبہ و شرارت سے ان سے کام نہ لیں، پس ان آنکھوں سے ہم کو صاف نظر آتا ہے کہ جب کوئی کبھی گناہ ہوا ہے اس سے قلب میں ایک روگ پیدا ہوگیا، اسی روگ کی نسبت حق تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: كَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ 4 یعنی بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کے رنگ کا غلبہ ہوگیا ہے۔ اور اسی کی نسبت حدیث شریف میں آیا ہے کہ جب آدمی کوئی گناہ کرتا ہے تو قلب پر ایک داغ لگ جاتا ہے، اگر توبہ کرلے تو وہ مٹ جاتا ہے ورنہ بڑھتا ہے۔ مولانا اسی کو فرماتے ہیں:
ہر گناہ رنگے ست بر مرآۃ دل
دل شود زین رنگہا خوار و خجل
چوں زیادت گشت دل را تیرگی
نفس دون رابیش گردد خیرگی
(ہرگناہ دل کے آئینہ پر ایک رنگ ہے کہ دل ان رنگوں سے خوار و شرمندہ ہوتا ہے۔ جب دل کی تاریکی زیادہ بڑھ جاتی ہے، نفس کمینہ کو اس سے خیرگی ہوتی ہے)
غرض گناہ کے اندر خاصہ ہے کہ قلب میں اس سے ایک روگ پیدا ہوجاتا ہے پھر اگر اس کا تدارک نہ کیا گیا تو وہ روگ اور بڑھ جاتا ہے۔
ارتکابِ گناہ سے تقاضا بڑھتا ہے
یہاں پر بعض اہل سلوک کو ایک عجیب دھوکا ہوا ہے اور ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ شیطان ان کو گناہ کی رغبت دیتا ہے اور ساتھ ہی اس کی قوتِ نورِ ایمان گناہ سے روکتی ہے جس سے وہ رک جاتا ہے لیکن شیطان تو اس سے بہت زیادہ پڑھا ہوا ہے، وہ جب دیکھتا ہے کہ اس طور سے میرا قابو نہیں چلتا تو وہ گناہ کے اندر ایک دینی مصلحت بتاتا ہے، وہ یہ کہتا ہے کہ اگر تم نے یہ گناہ نہ کیا تو ہمیشہ تمہارے دل میں یہ کانٹا سا کھٹکتا رہے گا۔ اور اگر ایک دفعہ دل بھر کر کرلوگے تو دل میں سے اس کا وسوسہ جاتا رہے گا بس اس سے فراغت ہوجائے گی۔ اس میں بڑے بڑے سمجھ دار لوگ مبتلا ہوجاتے ہیں لیکن مومن کامل کو اللہ تعالیٰ نے ایک نور عطا فرمایا ہے کہ وہ اس کے لاکھوں تاروپود کو اس نور کے ذریعہ توڑ پھوڑ دیتا ہے، (چنانچہ عن قریب اس مغالطہ کا حل آتا ہے) اسی واسطے تو حدیث شریف میں آیا ہے: ’فقیہ واحد اشد علی الشیطان من الف عابد‘ یعنی ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابد سے زیادہ گراں ہے، کسی نے اس مضمون کو نظم بھی کردیا ہے:
فان فقیھا واحداً متوارعا
اشد علی الشیطان من الف عابد
یعنی بلاشبہ ایک پرہیز گار فقیہ شیطان پر ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہے۔
یہ غلطی ہے جو اہل سلوک کو ہوتی ہے اور اہل سلوک کو جو غلطی ہوتی ہے دراصل غلطی وہی ہے اور وہ بہت سخت ہوتی ہے۔ اسی واسطے ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ تم کو تو گناہ سے اندیشہ ہے اور ہم کو کفر سے اندیشہ ہے۔ بڑا خطرناک راستہ ہے۔ بس عافیت اس میں ہے کہ اس میں اپنی رائے کو دخل نہ دے اور کالمیّت بید الغسال (مثل مردہ کے غسّال کے ہاتھ میں) بدست محقق ہوکررہے۔ شیخ شیرازی اسی مضمون کو فرماتے ہیں:
اگر مرد عشقی گم خویش گیر
وگرنہ عافیت پیش گیر
یعنی اگر مرد عشق ہو تو اپنے کو گم کردو یعنی اپنی رائے کو دخل نہ دو بلکہ یہ مشرف اختیار کرو:
فکر خودو رائے خود دروعالم رندی نیست
کفرست درین مذہب خود بینی و خود رائی
(عالم عاشقی میں اپنی فکر و رائے بالکل بے کار ہے۔ اس مذہب میں خود بینی اور خود رائی کفر ہے)
جیسے اس شخص نے خودرائی کی کہ شریعت تو حکم کررہی ہے کہ ’لا تقربوا الزنا‘ ، زنا کے قریب بھی نہ پھٹکو، یہ اپنی رائے سے کہتا ہے کہ میں زنا سے جب بچ سکوں گا جب جی کھول کر پانچ چھ مرتبہ زنا کرلوں گا اور اس احمق کو اتنی خبر نہیں کہ مرض کو اس سے اور زیادہ قوت ہوگی، جیسے کسی شاعر کا شعر ہے:
کنار و بوس سے دونا ہوا عشق
مرض بڑھتا رہا جوں جوں دوا کی
یہ بےوقوف تو سمجھتا ہے کہ درخت میں پانی دینے سے اس کی جڑ نرم اور کمزور ہوجائے گی پھر اس کو سہولت سے باہر نکال لوں گا، مگر وہ پانی دینے سے اور زیادہ نیچے کو دھنستی اور زور پکڑتی جاتی ہے۔ گناہ کرنے کے بعد اس کو قلب خالی معلوم ہوتا ہے اور خبر نہیں کہ وہ گناہ پہلے حوالیٔ قلب میں تھا اس لیے اس کو محسوس ہوتا تھا اور اب عروق کے اندر پیوست ہوگیا اس وجہ سے اس کو محسوس نہیں ہوتا اور وقت پر بنسبت سابق کے بہت زور کے ساتھ برآمد ہوگا۔ اور یہ نہیں سمجھتا کہ اب تو اس کا استیصال سہل ہے اور پھر مشکل ہوگا ، بقول شیرازی:
سر چشمہ شاید گرفتن بمیل
چو پُرشد نشاید گذشتن بہ پیل
درختے کہ کنوں گرفتست پائے
بہ نیروئے شخصے بر آید زجائے
دگر ہمچناں روزگارے بلی
بگر دونش از بیخ برنکلی
(چشمے کے سوراخ کو ایک کیل سے بند کرسکتے، جب پر ہوجائے تو ہاتھی بھی اس میں سے نہیں گزر سکتا۔ جس درخت نے ابھی جڑ نہیں پکڑی ہے، ایک آدمی کی طاقت سے اکھڑ سکتا ہے۔ اگر کچھ زمانہ تک اس کو اسی طرح چھوڑ دو تو اس کو جڑ سے آلہ گردوں سے بھی نہیں اکھاڑ سکتے)
الحاصل گناہ ایسی شے ہے خواہ بڑا ہو یا چھوٹا، اس سے قلب میں ایک روگ پیدا ہوجاتا ہے۔ پس ارشاد ہے کہ قرآن مجید ایسی موعظت ہے کہ اگر اس پر عمل کروگے تو وہ دلوں کے روگ کے لیے باعث شفا ہوگا۔ اور تیسری صفت قرآن مجید کی ھدی ارشاد فرمائی ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ نیک راہ کو بتلانے والا ہے اور جو بھی صفت رحمت بطور ثمرۂ ھدیٰ کے فرمائی ہے یعنی نتیجہ اور ثمرہ اس پر عمل کرنے کا یہ ہے کہ حق تعالیٰ کی رحمت متوجہ ہوگی۔ پس قرآن مجید میں مذکورہ بالا صفات کو جمع کردیا ہے اور للمومنین کی قید اس لیے لگائی کہ گو مخاطب تو اس کے سب ہیں لیکن منتفع اس سے مومنین ہی ہوتے ہیں۔
خوشی کا موقع
اب اس آیت کے بطور تفریع ارشاد ہے:
قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَبِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا ھُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَ (سورۃ یونس: ۵۸)
یعنی اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ فرما دیجیے کہ اللہ کے فضل و رحمت ہی کے ساتھ بس صرف چاہیے کہ خود خوش ہوں (اس لیے کہ) وہ بہتر ہے اس شے سے کہ جس کو یہ لوگ جمع کرتے ہیں، یعنی متاع دنیا سے یہ بہتر ہے، اور عجیب بلاغت ہے کہ پہلے مضمون کا تو حق تعالیٰ نے خود اپنی طرف سے خطاب فرمایا چنانچہ ارشاد ہے: یا ایھا الناس ، اور اس دوسرے مضمون کی نسبت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ کہیے، اس میں ایک عجیب نکتہ ہے وہ یہ ہے کہ یہ طبعی بات ہے کہ احکام یعنی امر و نہی انسان کو ناگوار اور گراں ہوتے ہیں اس لیے احکام تو خود ارشاد فرمائے تاکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوبیت محفوظ رہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت کے ساتھ فرح کے امر کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد فرمایا کہ اس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور زیادہ محبت مخلوق کو بڑھے۔ باقی اس سے کوئی یہ شبہہ نہ کرے کہ بہت جگہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی احکام پہنچانے کا حکم ہے اس لیے یہ نکتہ اس مقام کے متعلق ہے اور دوسری جگہ دوسرا نکتہ اور حکمت ہوسکتی ہے۔ بہرحال دو چیزوں پر خوش ہونے کا حکم ہے، فضل اور رحمت ، اور یہ فضل بھی رحمت ہی کے افراد میں سے ہے، صرف فرق اس قدر ہے کہ فضل کے اندر معنی زیادتی کے ہیں۔
رحمت کے مراتب
خلاصہ یہ ہے کہ رحمت بمعنی مہربانی کے دو مرتبے ہیں: ایک نفس مہربانی اور ایک زائد، یا یوں کہو کہ ایک وہ مرتبہ جس کا بندہ بحیثیت جزا کے اپنے کو مستحق سمجھتا ہے اور ایک زائد، اگرچہ پہلے مرتبۂ رحمت کا اپنے کو مستحق سمجھنا بندہ کی جہالت ہے اور وجہ اس زعم استحقا ق کی یہ ہے کہ حق تعالیٰ پر ہر شخص کو ایک ناز ہوتا ہے بلکہ اگر غور کیا جاوے تو ہم لوگوں میں ناز ہی کی شان رہ گئی ہے، نیاز بالکل نہیں رہا، اس لیے کہ اگر نیاز ہوتا تو ہم سے نافرمانی نہ ہوتی۔ دیکھ لیجیے کہ حکام دنیا کے ساتھ نیاز ہے اس لیے ان کی نافرمانی نہیں کرتے، نہ ان پر نخرے کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ بالعکس ہے۔ جس کا زیادہ سبب یہ ہے کہ رحمت ہی بے انتہا ہے، حتیٰ کہ فوری سزا نہیں دی جاتی، سو جس قدر رحمت بڑھتی جاتی ہے اس رحمت و عنایت کو معلوم کرکے اسی قدر اعراض ان حضرات کا زیادہ ہوجاتا ہے۔ اس کی ایسی مثال ہے جیسے ایک گدھا ہمیشہ کسی کے کھیت میں گھس جایا کرتا تھا ۔ ایک روز کھیت والے نے اس کے کان میں کہہ دیا کہ مجھ کو تجھ سے محبت ہے، اس روز سے اس نے وہاں آنا چھوڑ دیا۔ پس اسی طرح حق تعالیٰ کی اس قدر عطایا اور بے انتہا رحمتیں ہیں کہ ہم لوگوں کو ناز ہوگیا اور اپنی جہالت سے یہ سمجھ گئے کہ ہم بھی محبوب ہیں، بس لگے نخرے بھگارنے۔ مگر چونکہ ناز کی لیاقت نہیں، ایسے نازکا انجام بجز ہلاکت کے کیا ہوگا؟ جیسے کسی بے وقوف نے ایک سپاہی کو دیکھا کہ وہ اپنے گھوڑے کو دانہ کھلا رہا ہے اور وہ گھوڑا کبھی ادھر منہ کرلیتا ہے کبھی ادھر منہ پھیرتا ہے اور یہ شخص، جس طرف وہ منہ کرتا ہے اسی طرف دانہ لے جاتا ہے اور کبھی اس کی پیٹھ سہلاتا ہے اور کبھی منہ پر ہاتھ پھیرتا ہے اور کہتا جاتا ہے کہ بیٹا کھاؤ۔ اس بے وقوف نے جب یہ دیکھا تو اپنے دل میں کہا کہ مجھ سے تو یہ گھوڑا ہی بہتر ہے، میری بیوی تو مجھ کو بڑی ذلت سے روٹی دیتی ہے، آج سے گھوڑا بننا چاہیے۔ یہ سوچ کر گھر پہنچے اور بیوی سے کہا کہ آج تو ہم گھوڑا بنیں گے۔ وہ بھی بڑی شوخ تھی، اس نے کہا کہ میری بلا سے آپ گھوڑا بنیں یا گدھا۔ اس شخص نے کہا کہ میں گھوڑا بنتا ہوں، تم میری پیٹھ سہلانا اور دانہ میرے سامنے لانا اور یہ کہنا کہ بیٹا کھاؤ، میں ادھر ادھر منہ پھیروں گا۔ غرض یہ الو کی دم گھوڑے کی طرح کھڑا ہوا۔ بیوی صاحبہ بھی عقل مند تھیں، ایک چادر جھول کی بجائے اس پر ڈالی اور گاڑی پچھاڑی اس کی باندھ دی (یعنی آگے پیچھے دونوں طرف سے باندھ دیا) اور دم کی جگہ جھاڑو لگائی اور دانہ سامنے لائی اور کہا بیٹا کھاؤ۔ رات کا وقت تھا اور اتفاق سے چراغ پیچھے رکھا تھا، جب اس نے ادھر ادھر منہ پھیرا اور دولتیاں چلائیں تو چراغ کی لو جھاڑو میں لگ گئی اور آگ بھڑک اٹھی۔ بدحواسی میں یہ تو خیال نہ رہا کہ رسیاں کھول دے، شور مچا دیا کہ لوگو! دوڑو! میرا گھوڑا جل گیا۔ محلہ والوں نے جانا کہ یہ پاگل یا مسخری ہے، اس کے یہاں گھوڑا کہاں؟ یہ یوں ہی بے ہودہ بکتی ہے۔ غرض وہ گھوڑے صاحب وہیں جل بھن کر خاک سیاہ ہوگئے۔ یہ انجام ہوتا ہے ایسے نخرے اور ناز کا۔ صاحبو! ناز کے لیے صورت بھی تو بنوالو، جب ناز زیبا ہوگا۔ مولانا فرماتے ہیں:
ناز راروئے بباید ہمچو ورد
چوں نداری گردند خوئی مگرد
زشت باشد روئے نازیبا و ناز
عیب باشد چشم نابینا و باز
(ناز کرنے کے لیے گلاب جیسے چہرہ کی ضرورت ہے، جب تم ایسا چہرہ نہیں رکھتے تو بدخوئی کے پاس بھی نہ جاؤ۔ بدصورتی پر ناز برا ہے، آنکھ نابینا کا کھلاہونا عیب ہے۔)
ہمارا کیا ناز، ہم کو تو نیاز چاہیے لیکن حق تعالیٰ کے کرم اور رحمت بے انتہا سے ہم لوگوں کی عادتیں بگڑ گئی ہیں، چاہیے تو یہ تھا کہ جس قدر رحمت ہوتی، شرماتے اور تضرع و نیاز زیادہ ہوتی، مگر یہاں بالعکس ہے۔ اس لیے ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ گر مجھ کو یہ کہا جاوے ما غرک بربک الکریم، یعنی کس شے نے دھوکے میں ڈالا تجھ کو اپنے رب کریم کے ساتھ؟ تو میں جواب دوں گا قد غرنی کرمک، یعنی آپ کے کرم نے مغرور کردیا۔ یعنی میں خلاف مقتضائے کرم اس کرم پر مغرور ہوگیا۔ مقصود یہ ہے اور اس کو عذر گرداننا مقصود نہیں۔ پس یہ سارا ناز اس وجہ سے ہے کہ حق تعالیٰ کی عطایا زائد ہیں اور مواخذات کم ہیں اور اگر یہ ہوتا کہ جب گناہ کرتے تو غیب سے ایک چپت لگتا تو تمام ناز ایک طرف رکھا رہ جاتا اور کبھی گناہ نہ ہوتا۔ چنانچہ بعض بزرگوں کے ساتھ ایسا معاملہ ہوا بھی ہے۔
ایک بزرگ خانۂ کعبہ کا طواف کررہے تھے اور نہایت خوف زدہ تھے اور یہ کہتے جاتے تھے اللھم انی اعوذبک منک ، اے اللہ! میں تجھ سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ کی کیا حالت ہے؟ انھوں نے فرمایا کہ طواف کرتے ہوئے میں نے ایک مرتبہ نظر بد سے دیکھ لیا تھا، غیب سے میری آنکھ پر ایک ایسا زور سے چپت لگا کہ میری آنکھ پھوٹ گئی اور یہ ارشاد ہوا، ان عُدتُم عُدنا، اگر تم پھر کرو گے تو ہم پھر یہ سزا دیں گے۔ غرض حق تعالیٰ پر ایسا ناز ہے کہ اس کی وجہ سے ہر شخص اپنے کو کسی نہ کسی رحمت کا مستحق سمجھتا ہے۔ چنانچہ اتنا تو ضرور جانتا ہے کہ مجھ کو کھانے پہننے کو ملے اور اگر اس میں کچھ کمی ہوتی ہے تو شکایت کرتا ہے۔ گر یہ شخص اپنے کو مستحق نہ جانتا تو شکایت نہ کرتا اس لیے کہ شکایت اسی کی کیا کرتے ہیں جس پر حق سمجھتے ہی۔ دیکھیے اگر کسی کو دس روپیہ ماہوار ملتے ہیں تو ان پر تو شکر نہیں کرتا اور اگر کہیں سے زائد مل جاوے تو اس کو رحمت حق تعالیٰ جانتا ہے، اس پر شکر کرتا ہے۔ یہ صاف دلیل ہے اس کی کہ ان دس روپیہ کا اپنے کو مستحق جانتا ہے۔ ایک جاہل اکھڑ کے سامنے کسی نے دال روٹی کھائی اور کھا کر کہا کہ الحمدللہ، تو بے وقوف کہتا ہے کہ توبہ توبہ! ایسے ہی لوگوں نے اللہ میاں کی عادت بگاڑ دی ہے کہ دال روٹی کھا کر شکر کرتے ہیں۔ بس وہ ان کو دال روٹی ہی دے دیتے ہیں۔ ہم تو بدون بکرے کے کبھی شکر نہیں کرتے ، پس ہم کو وہ بکرے دے دیتے ہیں، نعوذ باللہ۔ بہرحال ہر شخص اپنے کو کسی نہ کسی رحمت کا مستحق سمجھتا ہے، حالانکہ یہ غلطی ہے۔ اگر کوئی شخص ایسا جانتا ہو جیسا کہ طرز معاملہ سے معلوم ہوتا ہے تو اس کو اس غلطی کی اصلاح کرنی چاہیے، اس لیے کہ اس کا تعلق عقیدہ سے ہے۔
معتزلہ کا رد
معتزلہ کو بھی اس مسئلہ میں غلطی ہوئی ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہمارا حق ہے اور ان کو یہ دھوکہ ہوا ہے قرآن شریف کی بعض آیتوں کے نہ سمجھنے سے۔ چنانچہ ارشاد ہے،وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ5 (مومنین کی نصرت ہم پر حق ہے) اس آیت اور اس کے ہم معنی اور آیات سے معتزلہ نے یہ سمجھا کہ حق تعالیٰ کے ذمے بندوں کا حق ہے۔ لیکن اہل سنت سمجھ گئے کہ یہ دھوکہ ہے ، اس لیے کہ حق تعالیٰ غنی بالذات اور لا یسئل عما یفعل ، جو کچھ وہ کرتا ہے اس سے پوچھا نہیں جاسکتا، ان کی صفت ہے، ان پر کسی کا حق نہیں ہوسکتا۔ جس کے ساتھ جو معاملہ چاہیں کریں، وہ سب مستحسن ہے اور معنی ان آیات کے یہ ہیں کہ اس صیغہ سے ہم کو نصرت وغیرہ کا یقین دلایا گیا ہے، جس کو وعدۂ فضل کہتے ہیں، جیسے کوئی حاکم کسی امیدوار سے کہے کہ اب تم یقین رکھو، اب ہم نے تمہارا یہ کام ضروری سمجھ لیا ہے، تو وہ امیدوار و سائل جانتا ہے کہ یہ حاکم کی مہربانی ہے ورنہ کرنا نہ کرنا، دونوں قانوناً ان کے اختیار میں ہے، ان کے ذمہ لازم نہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ رحمت کے دو درجے ہیں، ایک کا تعلق تو اس کی ضروریات سے ہے جس کا اپنے کو مستحق سمجھتا ہے، اس درجہ کو تو رحمت فرمایا اور دوسرا زائد، اس کو فضل سے تعبیر فرمایا۔ اور آیت کے الفاظ میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں مراد رحمت و فضل سے قرآن مجید ہے اور اس میں بھی یہی دو درجے ہیں، ایک وہ درجہ جو مدار ہماری نجات کا ہے، وہ تو ضرورت کا مرتبہ ہے، اور ایک وہ جو اس سے زائد ہے، بہرحال دونوں سے مراد قرآن مجید ہے اور اس پر خوش ہونے کا امر ہے۔ یہ تفسیر اور گفتگو تو الفاظِ آیت کے خصوصیت میں نظر کرنے کے اعتبار سے تھی۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
1 اس کے تحت ذیلی طور پر
2 حضرت تھانوی ؒنے جس طرح اس وعظ کو تاخیر کے باوجود فرمایا، مجلۂ ہٰذا کی مجلسِ ادارت بھی اس وعظ کو اس کے اہم مضامین کے سبب تاخیر سے نذرِ قارئین کرنے میں خیر جانتی ہے۔ (ادارہ)
3 جس سے روک دیا گیا ہو۔
4 سورۃ المطففین: ۱۴
5 سورۃ الروم: ۴۷






![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



