شیخ اسامہؒ نے یہ بیان امارت اسلامیہ افغانستان پر امریکی حملے کے کچھ ہی عرصے بعد ارشاد فرمایا جو کئی اقساط پر مبنی ہے اور اب ’’توجیہات منہجیہ‘‘ کے نام سے دستیاب ہے۔ اس بیان کے خاص مخاطب علماء و طلباء ہیں۔ یہ بیان بتا رہا ہے کہ شیخ ؒ کا منہج ، شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ سے سید احمد شہیدؒ اور شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ تک سبھی مجددینِ جہاد کے منہج ہی کا تسلسل ہے ۔ (ادارہ)
ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ امت مسلمہ کی ہدایت کی طرف رہنمائی کرے، اطاعت گزاروں کے مرتبے بلند فرمائے اور نافرمانوں کو ذلیل کرے۔ تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہی ہیں۔ اما بعد!
میری گفتگو کا موضوع ’’امت کی موجودہ حالت، امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم، اللہ کی زمین پر اللہ کی شریعت کا غلبہ نہ ہونا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں ان مشکلات کا حل ہو گا۔
نبوت علی نبینا علیہ السلام کے ابتدائی دور پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابتدا سے ہی اس بات کے حریص تھے کہ اللہ کا پیغام تمام قبائل تک پہنچا دیں اور آپ کی دعوت کے بنیادی نقاط درج ذیل تھے۔
- آپ توحید کی شہادت کی دعوت دیتے یعنی اس بات کی گواہی کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں۔
- جبکہ دعوت کا دوسرا نقطہ ہجرت کی صورت میں پناہ دینا اور جہاد کے دوران نصرت کا وعدہ تھا۔
مثلاً جب آپ نے قبیلہ بنی عامر کو اسلام کی طرف بلایا تو انہوں نے پوچھا: ’’اے ہمارے بھائی آپ ہمیں کس چیز کی طرف بلا رہے ہیں ؟ ‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’ میں اس بات کی دعوت دیتا ہوں کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اس کا رسول ہوں، اور اس بات کی دعوت کہ تم مجھے پناہ دو اور جہاد کے دوران میری نصرت کرو۔‘‘
یہاں ایک واضح اصول سامنے آتا ہے کہ دعوت اسلام کو پھیلانے کے لیے کسی قطعہ ارض کا ہونا بہت ضروری ہے ،کسی ایسی جگہ کی ضرورت ہے جہاں اس پیغام کے پودے کو لگایا جائے اور وہاں اس کی دیکھ بھال کے لیے لوگ موجود ہوں ۔ اسی کے باعث نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آغاز دعوت سے ہی ایک زمین کی تلاش شروع کر دی تھی جس کو مرکز بناتے ہوئے وہ اس پیغام کو پھیلا سکیں ۔اس دوران آپ نے تیرہ سال مکہ میں گزارے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کا ہمارے علم سے موازنہ تو کُجا موازنے کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان بہت فصیح تھی ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جوامع الکلام عطا کیے گئے، وحی کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی جاتی ۔ پھر بھی ان سب وسائل کے باوجود مکہ کے دور میں محض چند صحابہ ؓ ایمان لائے ۔ثابت ہوا کہ ’’ کلمہ توحید ‘‘ کی قوت تاثیر کے باوجو د کچھ دوسرے عناصر بھی ہیں جو اسلام کی دعوت کو پھیلانے کے لیے اہم ہیں ۔
مگر دس سال بعد اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے فضل سے مدینہ کی زمین کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مسخر کیا ، انصار نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قبو ل کر لی تو چند ہی سالوں میں سینکڑوں لوگ اسلام کے دائر ے میں داخل ہو گئے۔ تو معلوم ہوا کہ دعوت کی پشت پر قوت کا ہونا ناگزیر ہے ۔ اس لیے ضروری ہے کہ مختلف ملکوں اور جگہوں پر قوت کی تلاش کی جائے۔ یہ مفہوم تو آج کے حالات میں مزید واضح ہے کیونکہ جب سے امارت اسلامیہ اور خلافت کی تحلیل ہوئی ہے تو کثیر تعداد میں موجود جامعات، مدارس، مساجد ،کتب اور حفاظ کے باوجود بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اسلام کی دنیا میں کوئی قوت نہیں ۔یہ حالات کیوں ہیں؟ اس لیے کہ لوگوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے، حالانکہ یہ طریقہ بہت واضح ہے اور شرعی نصوص میں کئی مقامات پر اس کے خصائص بیان کیے گئے ہیں جیسے کہ اللہ رب العزت نے فرمایا ہے کہ:
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ مَن یَرْتَدَّ مِنکُمْ عَن دِیْنِہِ فَسَوْفَ یَأْتِیْ اللّٰہُ بِقَوْمٍ یُحِبُّہُمْ وَیُحِبُّونَہُ أَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ أَعِزَّۃٍ عَلَی الْکَافِرِیْنَ یُجَاہِدُونَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلاَ یَخَافُونَ لَوْمَۃَ لآئِمٍ ذَلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَن یَشَاء ُ وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ( سورۃ المائدۃ:۵۴)
’’اے ایمان والو! اگر کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے گا تو اللہ ایسے لوگ پیدا کر دے گا جن کو وہ دوست رکھے اور جسے وہ دوست رکھیں اور جو مومنوں کے حق میں نرمی کریں اور کافروں سے سختی سے پیش آئیں اللہ کی راہ میں جہاد کریں اور کسی ملامت کرنے والے سے نہ ڈریں۔ یہ اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بڑی کشائش والا اور جاننے والا ہے۔‘‘
یہ آیت ہماری موجودہ حالت کی ترجمانی کرتی ہے کہ جب دین سے منہ پھیر لیا جائے تو کون سی ایسی صفات ہیں جو دین کی طرف لوٹنے کے لیے ضروری ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے پانچ صفات کا ذکر کیا ہے، پس ضروری ہے کہ ہم اپنے اندر یہ خوبیاں پیدا کریں۔
- اللہ تعالیٰ سے محبت
- مسلمانوں سے نرمی اور رحم کا رویہ اختیار کرنا
- نیکی کی نصیحت کرنا
- اہل کفر کے ساتھ سختی سے پیش آنا(یہ صفت اسلام کے ایک اہم عقیدے ’’ الولاء و البراء‘‘ سے تعلق رکھتی ہے کہ مومن صرف مومنین سے ہی دوستی رکھتا ہے اور کفار سے دشمنی رکھتا ہے۔)
- پانچویں صفت یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوف زدہ نہیں ہوتے‘‘ لہٰذا اللہ کی راہ میں لڑنا اور ملامت سے نہ گھبرانا لوگوں کو دین کی طرف لانے کے لیے دو اہم صفات ہیں ۔
وہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ زمین پر اسلام کے سائے کے بغیر دین کی دعوت دیں گے اور اسلامی حکومت قائم کر لیں گے تو یہ ان کی خام خیالی ہے اور یقیناً وہ دین کے منہج کا صحیح فہم نہیں رکھتے۔ جب کہ اگر ہم ان صفات کو اپنے اندر پیدا کر لیں تو ہمیں غلبۂ شریعت کے لیے ایک مضبوط بنیاد میسر آ جائے گی۔
اسی موضوع سے متعلق ایک حدیث حضرت حارث الاشعری ؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ:
’’ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کو پانچ باتوں پر عمل کرنے اور بنی اسرائیل کو ان کی تبلیغ کا حکم دیا، مگر انہوں نے اس کام میں تاخیر کر دی، اس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ان سے فرمایا :اللہ نے آپ کو پانچ باتوں پر عمل کرنے اور ان کی تبلیغ کا حکم دیا تھا، پس چاہے اب آپ اس کی دعوت دیں یا نہ دیں، میں دوں گا۔ ‘‘
یہاں پر ایک بہت اہم نکتہ سامنے آتا ہے کہ اللہ ہر چیز سے غنی ہے اور تبدیلی کی سنت سے کوئی بھی مستثنیٰ نہیں ہے۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ اللہ کے انبیاء میں سے ایک نے اپنا فرض پورا کرنے میں کچھ وقت لیا تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے دوسرے نبی کی طرف وحی کی کہ ’’چاہے وہ اللہ کا پیغام پہنچا ئیں یا نہ پہنچائیں آپ پہنچا دیں‘‘ ۔ تو ہم کون ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات پر عمل نہ کریں اور وہ ہماری جگہ کسی دوسری قوم کو نہ لے آئے ۔ کیونکہ یہ تو اللہ کی سنت ہے۔
(حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بات کے جواب میں ) حضرت یحییٰ علیہ السلام نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ اگر آپ مجھ سے آگے بڑھ گئے تو میں عذاب میں مبتلا ہو جاؤں گا۔ سو انہوں نے سب کو بیت المقدس میں جمع کیا حتیٰ کہ مسجد لوگوں سے بھر گئی۔ پس انہوں نے کہا : اللہ نے مجھے پانچ باتوں کا حکم دیا ہے کہ خود بھی عمل کروں اور تمہیں بھی ان پر عمل کرنے حکم دوں۔
- پہلی بات یہ ہے کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک آدمی نے خالص اپنے مال(سونے وغیرہ) سے غلام خریدا، اور اس سے کہا کہ یہ میرا گھر ہے، یہاں کام کرو اور مجھے فائدہ پہنچاؤ۔ لیکن وہ غلام اپنے مالک کی بجائے کسی دوسرے کو فائدہ دیتا ہے، تو کیا تم میں سے کوئی ہے جو ایسی غلامی پر راضی ہو گا؟
- اسی طرح اللہ نے تمہیں نماز کا حکم دیا ہے، پس جب تم نماز پڑھو تو کسی اور طرف توجہ نہ دو ،اس لیے کہ اللہ اپنا چہرہ اس بندے کی طرف کر لیتا ہے جو نماز میں بے توجہی نہیں کرتا۔
- اور روزے کا حکم دیتا ہے جس کی مثال یوں ہے کہ ایک آدمی کے پاس مشک سے بھرا مشکیزہ ہے، تو ہر کوئی اسے اور اس کی خوشبو کو پسند کرتا ہے۔ جبکہ روزے دار کے منہ کی بو اللہ کو مشک کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے
- اور تمہیں صدقہ کا حکم دیا گیا ہے جس کی مثال یوں ہے جیسے کسی آدمی کو اس کے دشمن نے قید کر رکھا ہو اور اس کے ہاتھ باندھ کر اسے مارنے کے لیے آگے بڑ ھے تو صدقہ اسے بچا لے (مفہوم)
- اور اللہ کا ذکر کیا کرو کیونکہ اللہ کا ذکر انسان کو شیطان سے ایسے ہی بچا لیتا ہے جیسا کہ دشمن کے خلاف قلعہ انسان کی حفاظت کرتا ہے۔ اس بات پر اضافہ کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور میں تمہیں پانچ باتوں کا حکم دیتا ہوں جن کا حکم مجھے اللہ نے دیا ہے:
- سمع،
- اطاعت،
- ہجرت ،
- جہاد،
- اور جماعت۔1رواہ امام احمد ، ترمذی
اس حدیث سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ پہلے جن پانچ چیزوں کا ذکر ہوا وہ ارکان اسلام ہیں (ان کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا) لیکن آخری پانچ کے بغیر خلافت اسلامیہ قائم نہیں ہو سکتی۔ بالکل ایسے ہی جیسے کہ انسان اپنی ذات اور دل میں اسلام کی موجودگی کا اقرار کرے لیکن زندگی میں غیر اللہ کے احکام نافذ کرے ۔ جب کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اسلام تو اس بات کا حکم دیتا ہے کہ دنیا پر صرف اسلام کی حکومت قائم ہو۔ کہ اسلام محض مراسم عبودیت کا نام نہیں ہے۔ اس لیے آخری پانچ چیزوں پر عمل بہت ضروری ہے۔ اگر ان پانچ چیزوں پر غور کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان کا قبائل کو دی گئی دعوت سے بہت گہرا تعلق ہے۔ یعنی ان کا ’’پناہ اور نصرت‘‘ سے ربط ہے۔ اس لیے کہ پناہ اور نصرت کے لیے جماعت کا ہونا، پھر اس جماعت میں سمع اور اطاعت کی موجودگی، سمع اور اطاعت کے تحت جہاد کرنا اور پھر جہاد کے لیے ہجرت سب چیزیں آپس میں مربوط ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ امارت اسلامیہ یا خلافت اسلامیہ یا اسلامی حکومت کے قیام کے لیے مندرجہ ذیل چیزوں کی موجودگی اشد ضروری ہے۔
۱۔جماعت
۲۔ سمع و طاعت
۳۔ہجرت اور جہاد
تو جو لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں ہجرت اور جہاد کی قربانیوں کے بغیر اسلام کا نفاذ ہو جائے تو یقیناً وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو نہیں سمجھے اور اگر سمجھے بھی ہیں تو ان پر عمل کرنے کی بجائے خود کو دوسری آسان عبادات میں مشغول کر رکھا ہے کیونکہ جہاد کرنا ان کے لیے مشکل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس رویے کا ذکر کیا ہے۔ اسی وجہ سے آج کرۂ ارض پر کوئی ملک ایسا نہیں جس کی طرف ہجرت کی جا سکے ۔جب سے خلافت کا خاتمہ ہوا ہے، اہل کفر کی یہی کوشش ہے کہ مسلمانوں کی کوئی اسلامی حکومت قائم نہ ہو سکے لیکن جب افغانستا ن پر حملہ ہوا اور سوویت اتحاد کو شکست سامنے نظر آنے لگی تو صلیبیوں نے اس اتحاد کو چھوڑنا شروع کر دیا۔ اس وقت نوجوان مسلمان مجاہدین کے علاوہ کوئی نہ تھا جو سوویت یونین کا مقابلہ کرتا ، اللہ کی مدد سے انہوں نے امارت اسلامیہ کی بنیاد رکھی جو دس سال تک قائم رہی۔ لیکن بہت افسوس کی بات ہے کہ امت نے اپنے فرض کو پورا نہیں کیا خاص طور پر علماء، داعیوں ، خطیبوں اور اسلامی جماعتوں نے ۔ جو لوگ بھی مجاہدین کی نصرت کے لیے ارض جہاد پر آئے وہ امت کے نوجوانوں کا بہت چھوٹا سا گروہ تھا، اس کے علاوہ کچھ اہل ثروت نے اپنے مال سے نصرت کی لیکن یہ سب ایک مضبوط امارت اسلامی کے قیام کے لیے ناکافی تھا۔ جب کہ یہ ایک زبردست موقع تھا کہ ایک ایسی امارت اسلامی قائم کی جاتی جو رنگ و نسل اور جغرافیائی تعصبات سے پاک ہوتی جبکہ ہمارے افغان بھائی بھی ہر طرح کے تعاون کے لیے تیار تھے۔ حالات ایسے بن چکے تھے کہ ایک مضبوط امارت اسلامیہ وجود میں آسکتی تھی۔ مگر صد افسوس کہ شیخ عبداللہ عزام ؒ جیسے علماء اور مفکرین کی دعوت فکر اور جہاد کی ترغیب کے باوجود کسی نے کان نہ دھرے اور لوگ اپنی جغرافیائی حدوں سے چپک کے بیٹھے رہے۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ وہ اپنی ذاتی اسلامی حکومت بنائے، جبکہ ہر جماعت کی آرزو ہے وہ جس ملک میں موجود ہیں اسی میں اسلامی نظام قائم ہو جائے، اور ہم انہی افکار کے غلام ہیں اسی لیے تو دس سال یونہی گزر گئے اور کوئی ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے آگے نہیں بڑھا۔
لیکن میں آپ کو مطلع کر دوں کہ حالات مزید دگرگوں ہو چکے ہیں کیونکہ افغانستان میں طالبان کی حکومت بھی تقریبا چھ سال تک موجود رہی لیکن امت کے افراد کی اکثریت نے لاپرواہی کا رویہ اختیار کیا اور عالمی طاغوتی میڈیا کی باتوں میں آ کر کسی نے بھی اس حکومت کی نصرت نہیں کی حتیٰ کہ امریکی حملے کے بعد یہ حکومت بھی ختم ہو گئی۔ مگر سوچنے کی بات تو یہ کہ عوام تو میڈیا کے پروپیگنڈے کا شکار ہو ہی جاتے ہیں لیکن کیسے ممکن ہے کہ علماء اور داعی بھی اصل حالات سے ناواقف ہوں؟ جب کہ دنیا کے کسی بھی مسلمان ملک سے افغانستان چند گھنٹوں کی مسافت پر ہے۔ میرے نزدیک طالبان حکومت کی مدد سے غفلت ،علماء کے سوئے فہم کا نتیجہ ہے۔ ( واللہ اعلم) حقیقت یہ ہے کہ یہ امارت اسلامیہ بھی مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل گئی اور علماء کی جماعت خاموشی سے بیٹھی رہی۔ اگرچہ مسلم امہ میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ ایک مضبوط اسلامی خلافت قائم کی جا سکے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اس صلاحیت کو استعمال میں لایا جائے کیونکہ اس کو استعمال نہ کرنے کی وجہ سے ہم گناہ گار ہو رہے ہیں ۔ وقت کی ضرورت ہے کہ اگر نوجوان اور تاجر اپنی ذمہ داری کو سمجھ چکے ہیں تو اپنے فرض کو ادا کریں اس طرح امت سے سختی اٹھ جائے گی ۔آج کئی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ پوری امت کو جہاد پر نکلنے کی ضرورت نہیں ۔ یہ بات یقیناً حق ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس بات کو بیان کرنے کا مقصد درست نہیں ہے۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ فرضِ کفایہ کی صورت میں پوری امت کو جہاد پر نکلنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ دشمن کا مقابلہ کرنے لیے امت کا ایک گروہ بھی کافی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ فرض عین کا حکم بھی یہی ہے ۔مگر علماء ہم سے اس بات پر اختلاف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے کئی ہزار افراد مہیا کر دیے تو کیا ابھی بھی تم مقابلہ نہیں کر سکتے؟ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ ہم کام چھوڑ کر سب کے سب جہاد کے لیے نکل جائیں۔ یہاں پر اس دور کی سب سے بڑی مصیبت کی نشاندہی ہوتی ہے اور وہ ہے مادیت پرستی! شیخ عزامؒ نے یہ بات صراحت سے بیان کی ہے کہ جب دشمن دین و دنیا میں فساد کے لیے حملہ کر دے تو اس کے خلاف قتال ایمان کے بعد سب سے اہم چیز ہے۔ جبکہ فرض عین کا حکم اس وقت ساقط ہو کر فرض کفایہ میں تبدیل ہوتا ہے جب دشمن کے مقابلے کے لیے قوت کافی ہو جائے۔ مگر یہ لوگ محض دنیاوی لذتوں کے لیے بہانے تراشتے ہیں اور اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ جہاد ایک عظیم عبادت ہے لیکن اس کے علاوہ بھی تو دوسری عبادات موجود ہیں۔ یہی سوچ شریعت کے نفاذ میں رکاوٹ ہے۔ بے شک یہ لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے منہج کو نہیں سمجھ سکے!
یہاں مجھے حضرت کعب بن مالک ؓ سے متعلق ایک سبق آموز واقعہ یاد آگیا ہے جو میں آپ سے بیان کرتا ہوں ۔حضرت کعب ؓ مدینہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں رہتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت بجا لاتے تھے۔( جبکہ حدیث میں اس بات کا ذکر ہے کہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں عبادت کرنا اللہ کی راہ میں جہاد کے برابر ہے۔) اس کے علاوہ حضرت کعب ؓ پہلے ایمان لانے والوں میں سے تھے اور بیعت عقبہ میں بھی شامل تھے جس کی اسلامی تاریخ میں بہت اہمیت ہے۔ غرض کہ وہ ایک جلیل القدر صحابی تھے۔ لیکن غزوئہ تبوک کے موقع پر جب وہ لشکر اسلام سے پیچھے رہ گئے تو کسی نے یہ نہیں کہا کہ ’’ کیا بات ہے آپ تو مدینہ میں رہتے ہیں تو جہاد کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ یا یہ کہ ’’ آپ تو حرم میں نماز ادا کرتے ہیں اور دروس دیتے ہیں ا س لیے آپ کے درجات تو مجاہدین سے بلند ہیں‘‘۔ نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہوئی بلکہ قرآن کریم میں جہاد سے پیچھے رہ جانے پر سخت تنبیہ کی گئی۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:
قُلْ إِن کَانَ آبَاؤُکُمْ وَأَبْنَآؤُکُمْ وَإِخْوَانُکُمْ وَأَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَأَمْوَالٌاقْتَرَفْتُمُوہَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَہَا وَمَسَاکِنُ تَرْضَوْنَہَا أَحَبَّ إِلَیْْکُم مِّنَ اللّہِ وَرَسُولِہِ وَجِہَادٍ فِیْ سَبِیْلِہِ فَتَرَبَّصُواْ حَتَّی یَأْتِیَ اللّہُ بِأَمْرِہِ وَاللّہُ لاَ یَہْدِیْ الْقَوْمَ الْفَاسِقِیْنَ( سورۃ التوبۃ: ۲۴)
’’اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیجیے کہ اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں ،تمہارے رشتے دار ،تمہارے مال جو تم کماتے ہو ،تمہارے کاروبار جن میں نقصان سے تم گھبراتے ہو اور تمہارے گھر جو تم پسند کرتے ہو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں جہاد سے زیادہ محبوب ہیں تو پس انتظار کرو، حتیٰ کہ اللہ کا امر آ جائے اور اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا ۔‘‘
امت مسلمہ اور اس سے پچھلی امتوں میں سے جن لوگوں نے بھی جہاد سے اعراض کیا ان کے متعلق اسی مفہوم کی آیات قرآن مجید میں وارد ہوئی ہیں۔ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قوم نے انہیں چھوڑ دیا تو اللہ نے ان کو بھی فاسق قرار دیا :
قَالَ رَبِّ اِنِّىْ لَآ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِيْ وَاَخِيْ فَافْرُقْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِيْنَ( سورۃ المآئدہ: ۲۵)
’’ موسی ٰ نے کہا اے میرے رب میں اپنے اور اپنے بھائی کے علاوہ کسی پر اختیار نہیں رکھتا پس تو مجھے اور ان فاسقوں کو الگ کر دے۔‘‘
اسی طرح غزوۂ تبوک کے موقع پر پیچھے رہ جانے والوں کو بھی فاسق کہا گیا ہے۔ لیکن آج صورت حال یہ ہے کہ دین کی نصرت سے پیچھے رہنے والے اپنے آپ کو گناہ گار نہیں سمجھتے بلکہ خود کو بہت اطاعت گزار جانتے ہیں اور اپنے اس گناہ کی برائی کو نہیں جانتے جس کی مذمت میں کئی آیات نازل ہوئی ہیں۔ یہ آیات ایسی ہیں کہ جو جہاد کی ترغیب دیتی ہیں ، اس سے پیچھے رہ جانے والوں کی مذمت کرتی ہیں اور دنیا سے چمٹنے والوں کو برا کہتی ہیں ۔لیکن یہ مذمت کس کی ہے؟ یہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ ہیں جن کو ڈانٹا جا رہا ہے کہ ’’ اے ایمان والو تمہیں کیا ہو گیا ہے‘‘ اور تنبیہ کی جا رہی ہے کہ:
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ مَا لَکُمْ إِذَا قِیْلَ لَکُمُ انفِرُواْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَی الأَرْضِ أَرَضِیْتُم بِالْحَیَاۃِ الدُّنْیَا مِنَ الآخِرَۃِ فَمَا مَتَاعُ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا فِیْ الآخِرَۃِ إِلاَّ قَلِیْلٌ(سورۃ التوبۃ:۳۸)
’’ اے ایمان والو ! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ نکلو اللہ کی راہ میں تو تم زمین سے چمٹ جاتے ہو۔ تم دنیا کی زندگی پر راضی ہو گئے پس دنیا کی زندگی تو آخرت کے مقابلے میں بہت قلیل ہے ۔‘‘
آج ہم میں سے کوئی اس بات کی جرات کر سکتا ہے کہ وہ اپنے باپ ،چچا یا استاد سے کہے کہ کیا آپ دنیا کی زندگی پر راضی ہو گئے ہیں ؟ کیا آپ فلسطین کو نہیں دیکھتے جہاں ۸۰ سال سے جہاد ہو رہا ہے اور آپ نے ایک گولی بھی نہیں چلائی اور آپ کے پاؤں ایک دفعہ بھی اس راہ میں گرد آلود نہیں ہوئے۔ ایسا کیوں ہے؟ کیونکہ آپ دنیا کی زندگی پر راضی ہو چکے ہیں۔ لیکن کو ئی ایسا نہیں کہہ سکتا، اس کی وجہ دین کے راستے سے ناواقفیت ہے، اگرچہ اس کے متعلق کثیر تعداد میں آیات موجود ہیں۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ جو نوجوان دین کے لیے قربانی دینے کا جذبہ رکھتے ہیں بدقسمتی سے ان میں سمع اور اطاعت کی کمی ہے، پس قائد کی بات نہ سنی جاتی ہے اور نہ ہی اس کی اطاعت کی جاتی ہے اور اس طرح یہ مواقع بھی ضائع ہو جاتے ہیں ۔ان نوجوانوں کو مختلف فرائض کفایہ پر صرف کر دیا جاتا ہے جیسے کہ علم حاصل کرنا، لیکن جان لیجیے کہ چاہے سب لوگ عالم بن جائیں دنیا میں دین قائم نہیں ہو گا۔ کیونکہ یہ اسی صورت میں ہی قائم ہو گا جب سمع و طاعت، نصرت اور جہاد کے اصولوں پر عمل کیا جائے گا۔ نوجوانوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ دین کے فہم میں ایک بڑی غلطی ہو رہی ہے اورا ن میں ایسی صفات پیدا ہو رہی ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے جہاد کو ترک کرنے والوں میں کیا ہے۔ اللہ نے ان کو فاسق کہا ہے۔
پس جو قتال سے پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ بیٹھے رہنا پسند کرتے ہیں یقیناً وہ سمجھ نہیں رکھتے، اگرچہ انہوں نے بہترین جامعات سے تعلیم حاصل کی ہو اور ساری دنیا کے لوگ ان سے فتوے لیتے ہوں مگر وہ علم نہیں رکھتے کیونکہ یہ اللہ کا قول ہے کہ:
رَضُواْ بِأَن یَکُونُواْ مَعَ الْخَوَالِفِ وَطُبِعَ عَلَی قُلُوبِہِمْ فَہُمْ لاَ یَفْقَہُونَ (سورۃ التوبۃ:۸۷)
’’وہ راضی ہو گئے اس بات پر کہ پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ بیٹھے رہیں ، ان کے دلوں پر مہریں لگا دی گئی ہیں پس وہ کچھ نہیں جانتے۔‘‘
پس وہ مفتی اعظم جو بہت سی کتابوں کے مؤلف ہیں کچھ نہیں جانتے، کیونکہ جس کے پاس علم ہو وہ اللہ سے ڈرتا ہے۔ جیسا کہ ایک عورت نے کسی عالم سے کہا ’’اے عالم!‘‘ تو انہوں نے جواب دیا کہ عالم وہ ہے جو اللہ سے ڈرتا ہو۔ علم یہ نہیں کہ آپ کے پاس کثیر تعداد میں روایتیں ہوں بلکہ علم یہ ہے کہ آپ خوف اور تقویٰ کے ساتھ اللہ کی عبادت کریں۔ مذکورہ بالا آیت میں اللہ کے حکم کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ کچھ علم رکھتے اور ان کے دلوں میں مضبوط ایمان ہوتا تو اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے نیکیوں کی طرف تیزی سے بڑھتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ نوجوانوں کے لیے علم کے درست معنی واضح ہو جانے چاہئیں تاکہ وہ غلط تصورات کی قید سے آزاد ہو جائیں۔ جیسا کہ ہمارا ایک بھائی ابو العباس جو ہمارے لیے بہت تقویت کا باعث ہے (اور اس جیسے بہت سے نوجوان بلاد اسلامیہ میں موجود ہیں لیکن وہ ایسی ہی تاویلات کی قید میں ہیں جن کا ہم نے ذکر کیا ہے) لیکن اللہ نے اسے اس قید سے آزاد کیا اور جب وہ محاذ پر آیا اور اس کو حالات کی حقیقت کا اندازہ ہوا تو اس نے لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا:
’’وہ لوگ جو علم حاصل کر رہے ہیں یقیناً ایک عظیم کام کر رہے ہیں اور اللہ آپ کو اس کی جزا دے، لیکن جب جہاد فرض ہو جائے تو اس سے مقدم کوئی چیز نہیں ہے۔‘‘
اسی موضوع سے متعلق ایک اور حدیث ہے جسے حضرت حذیفہ ؓ نے روایت کیا ہے ۔فرماتے ہیں کہ لوگ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے متعلق پوچھ رہے تھے اور میں نے شر کے متعلق پوچھا اس ڈر سے کہ کہیں میں شر میں گرفتار نہ ہو جاؤں ۔تو میں نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہم جاہلیت اور شر میں تھے تو اللہ نے آپ کی صورت میں ہم تک خیر کو پہنچایا تو کیا اس کے بعد بھی کوئی شر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ، میں نے کہا : کیا اس شر کے بعد پھر کوئی خیر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اور اس کا دھواں بھی ہے، میں نے عرض کیا: پھر کیا اس خیر کے بعد بھی کوئی شر ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہاں اور وہ یہ ہے کہ علماء دوزخ کے دروازوں پر کھڑے ہوں گے جو ان کی پکار کا جواب دے گا اس میں پھینک دیا جائے گا۔(متفق علیہ)
تو جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ آج عالمِ اسلام میں یہ شر (برائی) بری طرح سے پھیل چکا ہے۔ وہ اس طرح کہ عرب اور عالم اسلام کے حکام اپنے ذرائع ابلاغ اور دوسرے اداروں کی مدد سے خطرناک نظریات، انسانی اور کفریہ قوانین کو عام کر رہے ہیں۔ یوں وہ صبح شام لوگوں کو جہنم کے دروازوں کی طرف دعوت دے رہے ہیں۔(ولا حول ولا قوۃالا باللہ)ہر طرف ریڈیو، ٹی و ی اور اخباروں میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کفر کو عام کیا جا رہا ہے اور کوئی شخص نہیں جواس منکر کو روکے! یہی تو وہ ائمہ ہیں جو لوگوں کو جہنم کی طرف بلا رہے ہیں ۔ایسے حالات میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
حضرت حذیفہ ؓ بھی اپنے سوالوں کے دوران میں جب اس حالت تک پہنچے کہ ’’لوگوں کے امام ان کو دوزخ کی طرف بلائیں گے‘‘ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: جب ایسے حالات ہوں تو کیا کرنا چاہیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مسلمانوں کی ایک جماعت کو ان کے مقابلے کے لیے کھڑے ہو جانا چاہیے۔‘‘
لیکن آج جن علماء پر یہ بات فرض ہے، وہ سب طاغوتی حکمرانوں کی مدح سرائیوں اور خوشامد میں مصروف ہیں سوائے ان علما کے جن پر اللہ کا خاص رحم ہوا۔ اخباروں میں ان حکمرانوں کی تعریفیں کی جاتی ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام سے کفر کیا، بلکہ یہ اخبار تو بذات خود کفر کے علم بردار ہیں اور امت کو گمراہ کر رہے ہیں۔
امت مسلمہ کبھی بھی اس قدر بڑے فتنے میں مبتلا نہیں ہوئی جیسا کہ اب ہے۔ کیونکہ اگر کوئی برائی مسلمانوں میں داخل بھی ہوئی تو وہ جزوی تھی یعنی چند لوگوں پر اس کا اثر تھا۔ لیکن ذرائع ابلاغ کے باعث آج یہ فتنہ عوام الناس تک پہنچ چکا ہے۔ کیونکہ ابلاغ کا کوئی نا کوئی ذریعہ ہر گھر میں موجود ہے۔ پس اس فتنے سے کوئی بھی محفوظ نہیں۔ پہلے یہ تھا کہ اگر کوئی عالم گمراہ ہوتا تو اس کے افکار ایک محدود جگہ تک رہتے ،یا بادشاہ فاجر ہو جاتا تو اس کا فجور اپنے محل تک ہی ہوتا۔ لیکن آج تمام لوگ طاغوتی نظام کے غلام ہیں اور ایسا تاریخ اسلام میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔
جب بھی کبھی دین سے دوری یا عقائد کی خرابی کا اندیشہ ہو تو ایک جماعت ایسی تھی جو اپنی کوشش سے بگاڑ کو سدھار لیتی، لیکن آج امت کے امام، علماء اور فقیہہ سب طاغوت کے زیر ہیں، کچھ علما کے سوا جن پر اللہ نے خاص کرم کیا ہے ۔ان میں سے بعض سے میں نے بات کی تو کہتے ہیں کہ ہم حق نہیں کہہ سکتے کیونکہ جب ہم حق بولنا چاہتے ہیں تو ہمارے ذہن گھروں میں موجود ہمارے بچوں اور بیویوں کے لیے پریشان ہوتے ہیں کہ وہ کہاں جائیں گے؟ ہمارا کیا بنے گا؟
٭٭٭٭٭
- 1رواہ امام احمد ، ترمذی








![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



