حضرت عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا:
لَا تَزَالُ عِصَابَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَی أَمْرِ اللَّهِ قَاهِرِينَ لِعَدُوِّهِمْ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّی تَأْتِيَهُمْ السَّاعَةُ وَهُمْ عَلَی ذَلِکَ (مسلم)
’’میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ اللہ کے حکم کی خاطر لڑتی رہے گی اور اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل رکھے گی، جو ان کی مخالفت کرے گا وہ انہیں کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا، یہاں تک کہ اسی حالت میں قیامت واقع ہو جائے گی۔‘‘
ہمارا گمان ہے کہ اس حدیث میں جس گروہ کا ذکر ہے اس میں ابطالِ ساحل، مالی کے بہادر مجاہدین اور امت مسلمہ کی مغربی سرحدوں کے محافظین بھی شامل ہیں۔
مشرق و مغرب کو انگشت بدنداں کر ڈالنے والی مالی کے مجاہدین کی حالیہ فتوحات کو کما حقہ سمجھنے کے لیے مالی اور اس کی اس جہادی تحریک کی تاریخ سے واقفیت حاصل کرنا ضروری ہے۔
مالی ، وہ سرزمین کہ اسلامی تاریخ سے گہری وابستگی ہی جس کا بنیادی تعارف ہے۔ جس نے دنیا کے امیر ترین شخص شاہ موسیٰ جیسے بادشاہ اور ٹمبکٹو جیسے شاداب شہر اس دنیا کو دیے۔ اس کی روشن تاریخ میں استعمار کی تاریکی میں لتھڑا ایک سیاہ باب بھی ہے جس نے فرانسیسیوں کی صورت ساحل کے علاقے پر قبضہ جمائے رکھا ، اس سرزمین کے وسائل نچوڑ لیے اور اس کے آزاد عوام کو غلام بنا لیا۔
سنہ ۱۹۶۰ء میں مالی نے فرانس سے آزادی حاصل کی مگر یہ صرف نام ہی کی آزادی تھی، استعماری نظام نے مالی کے معاشرے میں اپنی جڑیں اس قدر گہرائی میں پیوست کر رکھی تھیں کہ اس نام نہاد آزادی کے بعد بھی بالاصل فرانس ہی کے ہاتھ میں مالی کی باگ ڈور رہی اور وہ مستقل مالی کے وسائل لوٹتا رہا۔ البتہ استعماریت اور پھر نام نہاد آزادی کے حصول تک کے اس پورے دور میں ، ساحل کے علاقے میں ایک گروہ ایسا بھی تھا جس نے یہ جان کر کہ اپنی جان، مال اور عزت و ناموس کی حفاظت غیر مسلح رہ کر نہیں ہو سکتی، مزاحمت کا راستہ چنا۔ نظام مملکت ان مزاحمت کاروں کے خلاف لڑتا رہا اور یہ اس نظام کے خلاف سعی و جہد میں لگے رہے۔ اسی سلسلے کی بعض معروف نظام مخالف بغاوتوں کا تذکرہ ہم ذیل میں کرنا چاہیں گے:
1کاؤسین بغاوت (۱۹۱۶۔۱۹۱۷)
بربر طوارق قبائل کے رہنما، شیخ آغا محمد کاؤسین نے سنہ ۱۹۱۴ء میں فرانسیسیوں کے خلاف جہاد کا فتوی دیا تو عوام فرانسیسی قبضے کے خلاف نائیجر میں اکٹھے ہونے شروع ہو گئے اور ۱۹۱۶ء میں انہوں نے صلیبیوں کے خلاف شدید مزاحمت شروع کر دی۔ بدقسمتی سے اس مزاحمت کے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے اور سنہ ۱۹۱۷ء میں جنگ ختم ہو گئی، جس کے بعد سنہ ۱۹۱۹ء میں شیخ آغا محمد کاؤسین کو پھانسی دے دی گئی اور وہ شہادت کے مقام سے سرفراز ہوئے۔
طوارق بغاوتیں (۱۹۶۲ء تا ۲۰۱۲ء)
اس پورے عرصے کے دوران طوارق خانہ بدوش قبائل فرانسیسی قبضے اور مالی کی مقامی حکومت، دونوں کے خلاف لڑتے رہے مگر ان کی یہ جنگ شیخ آغا محمد کے جہاد کے برعکس اسلام کے جھنڈے تلے ہونے کی بجائے وطنیت کی بنیاد پر تھی۔
مالی میں عصرِ جہاد کا آغاز
جب طوارق قوم پرستوں نے شمال میں کافی اثرو رسوخ حاصل کر لیا تو عوام میں سے ایک گروہ نے جہاد کا علم بلند کیا اور ٹمبکٹو فتح کر کے یہاں شریعت نافذ کی۔ دشمنوں پر ان کی یہ فتح اس قدر گراں گزری کہ فرانس نے مالی پر باقاعدہ فوج کشی کی جس کا دور سنہ ۲۰۱۳ء سے سنہ ۲۰۲۲ء تک رہا۔
فرانسیسیوں کے لیے ٹمبکٹو پر مسلمانوں کا قبضہ ناقابل برداشت تھا، لہٰذا ۲۰۱۳ء میں انہوں نے مجاہدین کی امارت الٹنے کے لیے جو لشکر کشی کی اس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد کا قتل عام کیا، پورے پورے قصبوں اور بالخصوص مساجد کو تباہ و برباد کر دیا اور اپنی ’زمین جلادینے کی پالیسی‘ (Scorch Earth Policy) یعنی تمام وسائل زمین کو اس طرح تباہ کر دینا کہ دشمن کے زندہ رہنے اور اس کی بقا کے لیے سرے سے کچھ باقی نہ بچے، پر عمل پیرا ہوتے ہوئے معصوم بچوں تک کے قتل سے دریغ نہ کیا۔ اس قتل عام میں، امن فوج کے بھیس میں داخل ہونے والی اقوام متحدہ نے بھی ، اللہ کے دشمنوں کے ساتھ حصہ ڈالا۔
اس حکمت عملی کے ذریعے فرانسیسی اس حد تک تو اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے کہ مجاہدین کو بہت سے دیہات اور قصبوں سے پیچھے ہٹنا پڑا، البتہ فرانسیسیوں اور ان کے اتحادیوں کو مجاہدین کی جانب سے شدید رد عمل کا سامنا کرنا پڑا ۔ مجاہدین مقامی اور غیر مقامی لشکروں کے خلاف ڈٹ کر لڑے اور مائن کاری، چھاپوں، کمینوں اور فدائی کارروائیوں کے ذریعے ان کی ناک میں دم کر دیا۔ نیز مجاہدین نے اموال کے حصول کے لیے اپنی آزمودہ قیدی برائے غنیمت کی حکمت عملی بھی استعمال کی، البتہ وہ اپنے قیدیوں کے ساتھ اسلامی اصولوں کے مطابق رویہ رکھتے جس نے بعض قیدیوں پر گہرا تاثر چھوڑا، جیسا کہ Stephen Lūt McGown، اور ان میں سے بعض نے تو اسلام قبول بھی کیا، جیسا کہ Sophie Mariam Petronin، جو کہ ایک امدادی کارکن تھیں جنہوں نے دورانِ اسیری اسلام قبول کیا۔
سنہ ۲۰۱۷ء میں مجاہدین کے متفرق گروہ، ’جماعت نصرت اسلام والمسلمین‘ کے جھنڈے تلے اکٹھے ہوگئے اور انہوں نے یک جا ہو کر فرانسیسیوں اور ان کے مقامی اتحادیوں کو خوب جانی نقصان پہنچایا۔ اتنے سالوں کی پیہم لڑائی اور مستقل نقصانات سے دوچار ہونے کے بعد فرانسیسیوں کی ہمت جواب دے گئی اور ان کے مقامی اتحادی بھی کٹھ پتلی کا کردار نباہتے نباہتے عاجز آ گئے اور انہوں نے خود ہی فرانسیسیوں کو اپنے وطن سے نکل جانے کو کہا، یوں فرانسیسی ذلیل و خوار ہو کر وہاں سے رخصت ہوئے۔
صلیبی فرانس کے جانے کے بعد مالی کی مقامی حکومت کو اپنی کمزوری کا احساس ہوا۔ اب جب ان کی ڈوریں ہلانے والا کوئی نہ رہا تو ان کے لیے اپنے قدموں پر مضبوط کھڑا ہونا اور مجاہدین کے حملوں کا تنہا مقابلہ کرنا ناممکن تھا، پس انہوں نے جابر روسی حکومت سے مدد و تعاون کی درخواست کی، اسی روسی حکومت سے کہ جس نے شام کو جلا کر خاکستر کر ڈالا تھا اور جس نے افغانستان ، داغستان اور چیچنیا میں لاکھوں مسلمانوں کو قتل کیا۔ مالی حکومت کو روس کی یہ مدد ویگنر گروپ کی صورت میں ملی، جو روسی خون آشام فوج کا ایک ایسا جزو تھا جس نے خود کو کرائے کی نجی فوجی تنظیم کے طور پر متعارف کروایا (اسی کا امریکی مترادف بلیک واٹر گروپ ہے)، اور پھر اسی ویگنر گروپ نے اپنا نام تبدیل کر کے خود کو Africa Corps یا افریقی فوجی دستے کہلوایا۔
اس روسی گروپ (Africa Corps) نے بھی فرانسیسیوں ہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قصبوں اور آبادیوں کو تباہ کیا، مسلمان خواتین کی عزتیں پامال کیں، اور مالی کے عوام کا قتل عام کیا۔ نتیجتاً مجاہدین نے اپنے مظلوم عوام کی حمایت میں اس تنظیم پر منظم حملوں کا ایک سلسلہ شروع کر دیا۔ انہی میں سے ایک معروف واقعہ سنہ ۲۰۲۴ء میں (Tinzaouaten Ambush) ٹنزاواتین گھات کا ہے کہ جس میں پچاس سے زیادہ روسی غاصب اور ان کے مقامی غلام، مجاہدین کے ہاتھوں جہنم واصل ہوئے۔ اس واقعے میں افریقی کور نامی ، کرائے کی نجی تنظیم کو بعینہ اسی ہزیمت کا مزا چکھنا پڑا جیسا کہ اسی جیسی ایک اور کرائے کی تنظیم ، بلیک واٹر کو فلوجہ میں سنہ ۲۰۰۴ء میں چکھنا پڑا تھا۔
قُلْ سِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَٱنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلْمُجْرِمِينَ (سورۃ النمل: ۶۹)
’’ کہو کہ ذرا زمین میں سفر کر کے دیکھو کہ مجرموں کا انجام کیسا ہوا ہے۔‘‘
روسیوں نے جو سبق فرانسیسیوں اور امریکیوں کی ہزیمت سے نہیں سیکھا وہ انہیں مجاہدین کے ہاتھوں تلخ تجربات نے سکھا دیا۔
وَأُخْرَىٰ تُحِبُّونَهَا نَصْرٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ وَفَتْحٌۭ قَرِيبٌۭ ۗ وَبَشِّرِ ٱلْمُؤْمِنِينَ (سورۃ الصف:۱۳)
’’ اور ایک اور (ثمرہ بھی) کہ وہ تمہیں محبوب ہے (یعنی) اللہ کی طرف سے مدد اور جلد فتح یابی اور آپ ایمان والوں کو بشارت دے دیجیے۔ ‘‘
روسی غاصبوں کے جھوٹے پراپیگنڈے، کہ انہیں مجاہدین کے خلاف کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں، کا پول کھول دینے کے بعد، مجاہدین نے، جو کہ اب تک قوی ہو چکے تھے، کارروائیوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا جس کا مقصد دشمن کی رسد کاٹنا اور اس کے شہروں کا محاصرہ کرنا تھا۔ مجاہدین کی اہم ترین حکمت عملی، جو بہت معروف بھی ہوئی، جنوبی مالی کے لیے جانے والے تمام کے تمام ایندھن کے ٹرکوں کو روکنا ٹھہری، جو پچھلے سال کے آخر میں شروع ہوئی اور اس کے نتیجے میں دارالحکومت ’باماکو‘ میں ایندھن کا بحران پیدا ہو گیا۔
اس پورے عرصے کے دوران مجاہدین عوام کے درمیان ، حلم اور حکمت کے ساتھ دعوت کا کام بھی بخوبی سرانجام دیتے رہے اور اسی اِفہام و تفہیم کے نتیجے میں طوارق وطن پرستوں میں سے ایک بڑے گروہ کو ادراک ہوا کہ کسی بھی مزاحمت کا روح رواں اسلام ہی کو ہونا چاہیے اور اسی ادراک نے انہیں مجاہدین کے ساتھ متحد ہو کر ملک کے شمال میں بڑے پیمانے پر حملے کرنے کی تحریک دی۔
۲۵اپریل ۲۰۲۶ء کو مجاہدین نے اپنے بربر طوارق بھائیوں کے ساتھ مل کر ، مالی کے وزیر دفاع، سادیو کامارا کو ، کاتی قصبے میں واقع اس کے گھر میں قتل کر کے جارحانہ حملے کا آغاز کیا ۔ اس کے بعد مجاہدین نے زمین کے بڑے حصے پر قبضہ شروع کیا جس کے نتیجے میں انہیں غنائم بھی ملے جبکہ سیکڑوں مقامی سپاہیوں نے ذلیل ہو کر ہتھیار ڈال دیے۔ اور اپنے دین کو مال اور جاہ کی خاطر بیچ ڈالنے والوں کا یہی انجام ہوتا ہے۔
ابتدائی حملوں میں جو شہر اور قصبے فتح ہوئے یا جن پر حملے کیے گئے، ان میں سے چند کے نام درج ذیل ہیں:
- تسیت
- موپتی
- گاؤ
- اگویل ہوک
- کیدال
- سوارے
- تیسالیت
۲۸ اپریل ۲۰۲۶ء کو مجاہدین نے دارالحکومت باماکو کے محاصرے کا اعلان کیا، یہ محاصرہ تا حال جاری ہے۔
اختتامیہ
مجاہدین باماکو کے دروازے پر ہیں، خواہ وہ اس میں داخل ہوں یا نہیں، اللہ کا وعدہ بہرحال حق اور سچ ہے:
وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مِنكُمْ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِى ٱلْأَرْضِ كَمَا ٱسْتَخْلَفَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ ٱلَّذِى ٱرْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّنۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًۭا ۚ يَعْبُدُونَنِى لَا يُشْرِكُونَ بِى شَيْـًۭٔا ۚ وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْفَـٰسِقُونَ (النور:۵۵)
’’ اللہ کا وعدہ ہے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ضرور انہیں زمین میں خلافت (غلبہ) عطا کرے گا، جیسے اس نے ان سے پہلے والوں کو خلافت عطا کی تھی اور وہ ضرور ان کے اس دین کو غلبہ عطا کرے گا جو ان کے لیے اس نے پسند کیا ہے اور وہ ان کی (موجودہ) خوف کی حالت کے بعد اس کو لازماً امن سے بدل دے گا، وہ میری ہی عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے اور جو اس کے بعد بھی کفر کرے تو ایسے لوگ ہی فاسق ہیں ۔‘‘
ہوسکتا ہے کہ مالی کے مجاہدین بھی ، کسی بڑی کامیابی کی طرف بڑھنے سے پہلےصورت حال کا اندازہ لگا رہے ہوں، جیسا کہ مجاہدینِ افغانستان نے سنہ ۲۰۱۵ ء میں کیا، جب وہ قندوز میں داخل ہوئے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مجاہدین کو ہر محاذ پر کامیابی عطا فرمائے، ہر مقابلے میں ان کی نصرت فرمائے، ان کے زخمیوں کو شفا دے، ان کے شہدا کو بلند درجات عطا فرمائے اور اپنے کلمے کی سربلندی کی راہ میں ان کی سعی و جہد قبول فرمائے۔آمین
٭٭٭٭٭








![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



