نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!

جمہوریت کا جال | چوتھی قسط (آخری)

جمہوری نظام میں شرکت کی جھوٹی امیدوں کا پردہ چاک کرتی ہوئی تحریر

by محمد ابراہیم لڈوک
in جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!, ستمبر 2023
0

محمد ابراہیم لَڈوِک (زید مجدہ) ایک نو مسلم عالمِ دین ہیں جنہوں نے عالَمِ عرب کی کئی جامعات میں علم دین حاصل کیا۔ موصوف نے کفر کے نظام اور اس کی چالوں کو خود اسی کفری معاشرے اور نظام میں رہتے ہوئے دیکھا اور اسے باطل جانا، ثم ایمان سے مشرف ہوئے اور علمِ دین حاصل کیا اور حق کو علی وجہ البصیرۃ جانا، سمجھا اور قبول کیا، پھر اسی حق کے داعی بن گئے اور عالَمِ کفر سے نبرد آزما مجاہدین کے حامی اور بھرپور دفاع کرنے والے بھی بن گئے (نحسبہ کذلک واللہ حسیبہ ولا نزکي علی اللہ أحدا)۔ انہی کے الفاظ میں: ’میرا نام محمد ابراہیم لَڈوِک ہے ( پیدائشی طور پر الیگزانڈر نیکولئی لڈوک)۔ میں امریکہ میں پیدا ہوا اور میں نے علومِ تاریخ، تنقیدی ادب، علمِ تہذیب، تقابلِ ادیان، فلسفۂ سیاست، فلسفۂ بعد از نو آبادیاتی نظام، اقتصادیات، اور سیاسی اقتصادیات امریکہ اور جرمنی میں پڑھے۔ یہ علوم پڑھنے کے دوران میں نے ان اقتصادی اور معاشرتی مسائل پر تحقیق کی جو دنیا کو متاثر کیے ہوئے ہیں اور اسی دوران اس نتیجے پر پہنچا کہ اسلام ایک سیاسی اور اقتصادی نظام ہے جو حقیقتاً اور بہترین انداز سے ان مسائل کا حل لیے ہوئے ہے اور یوں میں رمضان ۱۴۳۳ ھ میں مسلمان ہو گیا‘، اللہ پاک ہمیں اور ہمارے بھائی محمد ابراہیم لڈوک کو استقامت علی الحق عطا فرمائے، آمین۔جدید سرمایہ دارانہ نظام، سیکولر ازم، جمہوریت، اقامتِ دین و خلافت کی اہمیت و فرضیت اور دیگر موضوعات پر آپ کی تحریرات لائقِ استفادہ ہیں۔ مجلہ ’نوائے غزوۂ ہند‘ شیخ محمد ابراہیم لَڈوِک (حفظہ اللہ) کی انگریزی تالیف ’The Democracy Trap‘ کا اردو ترجمہ بطورِ مستعار مضمون پیش کر رہا ہے۔ (ادارہ)


جغرافیہ

یہ ایک معروف و مسلّمہ حقیقت ہے کہ یہود و نصاریٰ نے مسلم علاقوں کو اس طرح تقسیم کیا کہ اس کے نتیجے میں اسلام اور مسلمانوں کوجس قدر ممکن ہوکمزور کیا جا سکے۔

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ’’يُوشِكُ الْأُمَمُ أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمْ كَمَا تَدَاعَى الْأَكَلَةُ إِلَى قَصْعَتِهَا ‘‘.فَقَالَ قَائِلٌ: وَمِنْ قِلَّةٍ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: ’’بَلْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ، وَلَكِنَّكُمْ غُثَاءٌ كَغُثَاءِ السَّيْلِ! وَلَيَنْزَعَنَّ اللَّهُ مِنْ صُدُورِ عَدُوِّكُمُ الْمَهَابَةَ مِنْكُمْ، وَلَيَقْذِفَنَّ اللَّهُ فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهْنَ‘‘، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَمَا الْوَهْنُ؟ قَالَ’’حُبُّ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ‘‘۔(سنن ابی داؤد،۴۲۹۷)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا وقت آنے والا ہے کہ دوسری امتیں تمہارے خلاف ایک دوسرے کو بلائیں گی، جیسے کھانے والے اپنے پیالے پر ایک دوسرے کو بلاتے ہیں‘‘۔تو کہنے والے نے کہا: کیا یہ ہماری ان دنوں قلّت اور کمی کی وجہ سے ہو گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم ان دنوں بہت زیادہ ہو گے، لیکن جھاگ ہو گے جس طرح کہ سیلاب کا جھاگ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہاری ہیبت نکال دے گا اور تمہارے دلوں میں وہن ڈال دے گا“۔ پوچھنے والے نے پوچھا:’ اے اللہ کے رسول! وہن سے کیا مراد ہے؟‘، آپ ﷺ نے فرمایا: ”دنیا کی محبت اور موت کی کراہت‘‘۔

بعض حضرات کا کہنا ہے کہ یہ نوآبادیاتی دور میں ہونے والی مسلم علاقوں کی تقسیم کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ جس طرح سے ان علاقوں کو تقسیم کیا گیا وہ بالکل ایسے ہی تھا جیسے دسترخوان پر بیٹھے ہوئے لوگ کسی کھانے کو آپس میں بانٹیں۔ بہرحال، جدید دور میں پیش آنے والے واقعات اور اس حدیث میں بیان ہوئی تفصیلات میں بعض مماثلتیں موجود ہیں۔

مسلم علاقوں کی تقسیم، مسلمانوں کو کمزور اور محکوم رکھنے کی مؤثر ترین حکمت عملیوں میں سے ایک ہے۔ قوّت اتحاد و اتفاق میں ہے، اور اللہ سبحانہ وتعالی نے ہمیں متفق و متحد رہنے کا حکم دیا ہے۔

وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا وَاذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَاءً فَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖ اِخْوَانًا وَكُنْتُمْ عَلٰي شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْھَا كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰيٰتِہٖ لَعَلَّكُمْ تَھْتَدُوْنَ۝ (آل عمران۔۱۰۳)

’’اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھامے رکھو، اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو، اور اللہ نے تم پر جو انعام کیا ہے اسے یاد رکھو کہ ایک وقت تھا جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، پھر اللہ نے تمہارے دلوں کو جوڑ دیا اور تم اللہ کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے، اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے، اللہ نے تمہیں اس سے نجات عطا فرمائی۔ اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی نشانیاں کھول کھول کر واضح کرتا ہے، تاکہ تم راہ راست پر آجاؤ۔‘‘

جمہوری نظام میں شرکت و شمولیت کے خطرناک نتائج میں سے ایک یہ ہے کہ آپ ان غیر فطری قومی ریاستوں کو مضبوط کرنے میں اپنا حصّہ ڈالنے لگتے ہیں، جس کے نتیجے میں مسلمانوں کی من حیث الامّہ اتفاق و اتحاد سے نظامِ دنیا میں حصّہ لینے کی صلاحیت کمزور سے کمزور تر ہوتی چلی جاتی ہے۔

جمہوریت میں شرکت کا مطلب ایک ملکی حکومت کے اندر رہتے ہوئے طاقت و اقتدار کے حصول کے لیے مقابلہ و کوشش کرنا ہے، اور اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ حکومت اور اس کا انتخاب کرنے والوں کو خدمات فراہم کی جائیں۔ حکومت اس بات کی ذمّہ دار ہے کہ وہ ان سرحدوں کو نہ صرف قائم رکھے بلکہ مزید مضبوط کرے جنہوں نے امت کو ٹکڑوں میں تقسیم کر رکھا ہے اور ہمیں دشمنوں کے ہاتھوں ذلیل ہونے کے لیے چھوڑ دیا ہے۔ جو کوئی بھی اس حکومت کی حمایت کرتا ہے، وہ درحقیقت ان سرحدوں کی بھی حمایت کرتا ہے جو اس حکومت نے قائم کر رکھی ہیں۔ یہ فرائض اور ذمّہ داریاں قانون کا حصّہ بن چکی ہیں، لہٰذا ایسی حکومت کے لیے کام کرنے سے بھلے چند اسلامی حقوق حاصل کر بھی لیے جائیں،تو بھی یہ لازم ہوگا کہ تمام کام قومی آئینی حدود میں رہتے ہوئے کیے جائیں۔

ذرا تصور کیجیے کہ ایک متحد قوم کیسے کام کرتی ہے۔ اگر کوئی ایک علاقہ کسی قدرتی آفت مثلاً زلزلہ یا طوفان سے متاثر ہو تو ایسی صورت میں مرکزی حکومت پورے ملک سے وسائل کشید کر کے اس متاثرہ علاقے کی امداد کے لیے استعمال کرتی ہے۔ اسی طرح امت مسلمہ کے لیے بھی اپنے کام بطریقِ احسن انجام دینے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے وسائل کو اس سمت میں استعمال کر سکیں کہ جہاں ان کی ضرورت ہے۔ کیونکہ امّت ایک جسدِ واحد کی مانند ہے، اگر جسم کا ایک حصّہ بیمار ہو تو پورا جسم اس کی وجہ سے تکلیف میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ایک متحد وجود وسائل کو مؤثر طور پر اس جگہ استعمال کر سکتا ہے جہاں ان کی ضرورت ہو،اور اس طرح وہ پورے جسم کو مضبوط کرتا ہے اور اس کی نگہداشت کرتا ہے۔

جمہوری نظام کے اندر رہتے ہوئے کام کرنے کا مطلب ہے کہ مسلمانوں کے وسائل کا رخ اوّلاً و ترجیحاً اس قومی ریاست کے مفادات حاصل کرنے کی جانب ہو گا۔ اگر یہ وسائل دینی مقاصد کے لیے استعمال ہوئے بھی تووہ مقاصد اس قومی ریاست کی قومی حدود یا قومی مفادات کے اندر مقیّد و محدود ہوں گے، اوراگر مسلمان سیاستدانوں نے ان وسائل کو خالصتاً دینی بنیادوں پر اپنی قومی سرحدوں کے باہردوسرے علاقوں کے مسلمانوں کی مدد و نصرت کے لیے استعمال کرنا چاہا تو بھی یہ کام کرنے کے لیے انہیں حکومت میں شامل دیگر عناصر کی حمایت و موافقت درکار ہو گی، جن میں سے کئی اسلام اور مسلمانوں کے لیے کسی قسم کا جذبۂ ہمدردی نہیں رکھتے ۔

یہ ایک اور نقصان ہے ایک ایسے نظام کا حصّہ بن کر کچھ قوّت حاصل کرنے کی کوشش کی خاطروسائل اور سرمایہ لگانا کہ جس میں طاقت و اقتدار کفار اور فسّاق کے ساتھ بانٹنا ہو گا۔ اگر یہی وسائل ایسی اسلامی تحریکات کی تقویت کے لیے صرف ہوں جو کھلے فُساق اورکفارکو طاقت و اختیار کے مناصب تک آنے کا راستہ ہی نہیں دیتیں، تو مسلمان کے ہاتھ اپنی طاقت و وسائل کو مطلوبہ جگہوں پر استعمال کرنے کے لیے کھل جائیں گے، چنانچہ امّت کے اتحاد اور قوّت میں اضافہ ہو گا۔

ایسی تحریک جوقومی ریاستی حدود کی پابندیوں سے آزاد ہو، ممکن ہے اس کے پاس اسلامی مقاصد پر خرچ کرنے کے لیے زیادہ سرمایہ نہ ہو۔ لیکن اس کے پاس اپنے وسائل اور سرمائے کو ایسے کاموں اور جگہوں پر صرف کرنے کے مواقع کئی گنا زیادہ ہوں گے کہ جہاں سرمائے کا استعمال بیک وقت زیادہ مفید و مؤثر ہونے کے ساتھ ساتھ کفار و منافقین کو کسی قسم کا فائدہ نہیں پہنچائے گا۔

قومیت

جمہوریت پر ہونے والی بعض تنقیدوں کا دائرۂ کار صرف ملکی سطح تک محدود ہوتا ہے، لیکن درحقیقت قوم کایہ جدید تصوربذاتِ خود ایک جمہوری تصورہے، اوراسے عالمی سطح پرتسلیم کرنےیا قومیت کے اس نمونے کو استعمال کرنے کی کوشش کرنے کی صورت میں ہم انہی اندھی کھائیوں میں جا گرتے ہیں جیسا کہ ملکی جمہوریت میں۔

بین الاقوامی قوانین کے تناظر میں، قومیں ؍ریاستیں تب (اپنی آزادی و خود مختاری کا )قانونی جواز حاصل کر پاتی ہیں جب دیگر آزاد و خود مختار ریاستیں انہیں تسلیم کر لیں۔ یہ دیگر خود مختار ریاستیں آزاد و خود مختار کیونکر ہو پائیں؟ تو یہ ایک ایسے قانونی قاعدے کے نتیجے میں آزاد و خود مختار بنیں جوخدا کے بجائے انسانوں کا تخلیق کردہ ہے۔ وہ اوّلین اقوام جن کو اس طرز پر آزادی ملی وہ یورپ کی اقوام تھیں، اور پھر وہاں سے ان قانونی قواعد و معیارات کو باقی دنیا کو برآمد کیا گیا۔ چونکہ یورپی ممالک نے زیادہ تر ایسی ہی اقوام کی آزادی تسلیم کی جو یورپی مفادات سے میل کھاتی تھیں، لہٰذا قوموں کے اس الیکٹوریٹ (انتخاب دہندگان کا گروہ)کا کردار شروع سے ہی بعض مخصوص اقدار و مفادات کے ایک مجموعے کے مطابق ڈھالا گیا ہے۔

دیگر ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات ٹوٹ جانے کی صورت میں بھی ایک ملک اپنی قانونی حیثیت کھو سکتا ہے۔ یہ حیثیت کھو جانے سے ایک ملک کو شدید معاشی اور سیاسی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے باعث اس کی تجارت اور اس کے شہریوں کی سفر کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ یوں بین الاقوامی برادری قومی حکومتوں پر کوئی مخصوص رویہ اپنانے کے لیے دباؤ ڈال سکتی ہیں، اور یوں اس حکومت (اور نتیجتاً اس کے تحت جیتے عوام) کی پالیسیوں اور رویّوں کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال سکتی ہیں۔

افراد کی سطح پر، ریاست کے سامنے تسلیم و رضا کا اظہار ہمہ وقت زیر نگرانی رہنے کو قبول کرلینے اور ریاست کی جانب سے فراہم کردہ مراعات تک رسائی چاہنے سےہوتا ہے۔ یہ کیسے کیا جاتا ہے؟ یہ ریاست کے پاس اپنی پیدائش اور رہائشی تفصیلات رجسٹر کرانے سے ہوتاہے، جو کہ ریاستی بالادستی تسلیم کرنے کا خاموش اقرار ہے۔ اگر کوئی شخص کسی ادارے یا ہئیت کے اختیار کو منظور اور تسلیم نہیں کرتا تو وہ قطعاً اپنی شخصی معلومات اور تفصیلات اس با اختیار ادارے یا ہئیت کو فراہم نہیں کرے گا۔

ریاست کے ساتھ اطاعت و فرمانبرداری کا یہ تعلق ایک شہری کی زندگی میں حکومتی نمائندوں، جن میں ڈاکٹر، اساتذہ، پولیس افسر، جج، اور دیگر انتظامی افراد مثلاً رجسٹرار و پٹواری حضرات اور ٹیکس اکٹھا کرنے والے شامل ہیں، سے تعامل کے نتیجے میں مزید گہرا اور پختہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ تعامل کی ان اکثر انواع کاتعلق بالواسطہ یا بلاواسطہ پیدائش کے اندراج کے ساتھ ہوتا ہے۔

اس طرح ریاست اپنے شہریوں پر بین الاقوامی نظام کی مرضی کو مسلط کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔قومی یا ریاستی جواز اسی علاقے یا حکومت کو عطا کیا جاتا ہے جو بین الاقوامی نظام کے لیے مناسب درجے میں تسلیم و اطاعت کا مظاہرہ کرتے ہیں، اور ریاست کے اندرشہریت انہی لوگوں کو دی جاتی ہے جو ریاست کے سامنے مطلوبہ حد تک تسلیم و اطاعت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

عالمی نظام میں قبولیت حاصل کرنا ایک دو طرفہ معاملہ ہے۔ ایک ریاست اس نظام میں شرکت کر کے قانونی حیثیت حاصل کر سکتی ہے، لیکن یہ کرتے ہوئے وہ خود اس طریقۂ کار( یعنی اس نظام) کوقانونی جواز عطا کرتی ہے۔ یعنی اس نظام سے اپنی قانونی حیثیت تسلیم کروانے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نظام کی قانونی حیثیت اور اختیار تسلیم کرتے ہیں، اور اس نظام کی حیثیت و اختیار کو تسلیم کرنے کا مطلب ہے کہ آپ ا س نظام کے رائج اور نافذ کردہ قوانین اور معیارات کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ وہ معیارات اور قوانین ہیں جو اس نظام میں شمولیت اختیار کرنے والی ریاستوں نے وضع کیے ہیں اور وہی ان کی قانونی حیثیت و قوّت کی بھی ضامن ہیں۔فلہٰذا عالمی نظام کے تحت اپنی قانونی حیثیت تسلیم کروانے کی کوشش سے یہ لازم آتا ہے کہ ان دیگر ریاستوں کا کردار بحیثیت واضعِ قانون بھی تسلیم کیا جائے ۔ ظاہر ہے کہ یہ قوانین کئی مقامات پر شریعت سے متصادم ہیں، جو اس نتیجےکی طرف اشارہ کرتا ہےکہ عالمی نظام میں شمولیت اختیار کرنا بذاتِ خود اسلام سے مطابقت نہیں رکھتا، اور یہ کہ قانونی طور پر تسلیم شدہ ریاستیں بذاتِ خود طواغیت یا معبودانِ باطل ہیں جن کو عبادت میں اللہ کے ساتھ شریک کیا جاتا ہے۔

ریاستی جمہوریت میں رائے دہندگان قانون سازی کا وہ اختیارجو کہ خالصتاً اللہ کا حق ہے اپنے منتخب نمائندوں کو عطاکرتے ہیں۔ عالمی نظام میں،ریاستیں ایک دوسرے کو قانونی سازی کا اختیارعطا کرتی ہیں۔ دونوں صورتوں میں انسان وہ کام کر رہے ہیں جس کو کرنے کا انہیں کوئی حق نہیں ……ایک ایسا اختیار جو اللہ ہی کے لیے خاص ہے، اسے ما سوا اللہ کے کسی اور کو عطا کر دینا۔

جمہوریت اور تکفیر پر ایک ملاحظہ

جمہوریت کا راستہ وہ راستہ نہیں ہے جسےمیں کسی بھی مسلمان کے لیے پسند کروں گا۔ البتہ جو لوگ اس راستے کو جائز و مباح سمجھتے ہیں، میں ان کی تکفیر پر بھی کوئی حتمی موقف اختیارنہیں کر سکتا۔ ہمارے دور کے بعض علمائے کرام نےجمہوریت اختیار کرنے کو بعض مخصوص حالات میں جائز قرار دیا ہے، اور میں اتنا علم نہیں رکھتا کہ حتمی طور پر یہ کہہ سکوں کہ وہ صحیح ہیں یا غلط۔

بعض سیاسی وجوہات کی بنا پر بھی یہ مسئلہ دھندلا سا گیا ہے۔ جمہوریت کی مخالفت ان علماء میں بطورِ خاص نمایاں ہے جو سعودی سلفی مکتب فکر سے وابستہ ہیں ۔ ایک بادشاہت کی حیثیت سے آلِ سعود میں جمہوری انقلاب کے امکان کےحوالے سے کافی تشویش اور بے چینی پائی جاتی ہے، اور اس تشویش اور بے چینی کا اثر سعودی مذہبی اسٹیبلشمنٹ اورپھر آگے اس سے جڑے عالمی نیٹ ورک پر بھی پڑا ہے۔

تاریخی اعتبار سےسعودی مذہبی اسٹیبلشمنٹ تکفیر میں شدت اختیار کرنے اور مسلمانوں کا خون ناحق بہانے کے سبب تنقید کا نشانہ بنتی رہی ہے۔ ان میں سے بعض اعتراضات بجا ہو سکتے ہیں، جبکہ دیگر یقینی طور پر مبالغہ آرائی پر مبنی ہیں۔ ان کے دفاع میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ لوگ جو تکفیر میں غیرضروری تاخیر کرتے ہیں جبکہ وہ ناگزیرہو، تو انہوں نے مسلمان عوام کو اپنے بیچ موجود کفار کے دھوکہ باز ایجنٹوں کے خلاف اکٹھا اور متحد کرنے میں ناکام رہ کر امت کو کم از کم اتنا ہی نقصان پہنچایا ہے۔

بہرحال، اس موضوع کا جائزہ لیتے ہوئے، یہ ضروری ہے کہ اس بحث میں موجود سیاسی پہلوؤں سے آگاہی ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسے مسلمان موجود ہیں جو جمہوریت میں شرکت کرنے والے مسلمانوں کی تکفیر میں غلو کی حد تک چلے گئے ۔ ہمیں اس معاملے میں اعتدال پر قائم رہنے کے لیے بہت محتاط اور کوشاں ہونا چاہیے۔ہمیں جمہوریت پر تنقید کو ترک نہیں کرنا چاہیے کہ بے شک یہ جاہلیت کا ایک بے ہودہ نظریہ ہے۔ اس کے باوجود ہم نے حالیہ دہائیوں میں اس مسئلہ پر مسلمانوں کے مابین کافی اختلاف و تنازع پیدا ہوتا دیکھا ہے، اور ہمیں ان مسلمانوں پر کوئی بھی فتوی یا لیبل لگانے سے پہلےبہت احتیاط برتنی چاہیے جو ضرورت کے تحت جمہوریت کے جواز کے قائل ہیں۔

مجھے امید ہے کہ یہ تحریر مسلمانوں کو ایسے مزید فکر طلب معاملات دکھائے گی جن پر ان کو جمہوریت میں شرکت کرنے کا فیصلہ کرنے سے پہلے غور و فکرکرنا چاہیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ کسی بھی طرح کے حالات میں جمہوریت میں حصہ لینے سے گریز کرنا ہی بہتر ہے، اور یہ کہ توحید (کی سالمیت)کے لیے لازم ہے کہ ایسے نظاموں سے نفرت کی جائے اور ان سے عداوت کا رویّہ روا رکھا جائے۔ البتہ جب بات ان مسلمانوں کی ہو جو ان نظاموں میں حصہ لیتے ہیں تو ہمیں ان کو شک کا فائدہ دینا چاہیے، صبر و تحمل اور خلوص و محبت سے ان کو سمجھانا چاہیے، کیونکہ ممکن ہے کہ ہم پوری طرح سے ان کے حالات، نقطۂ نظر اور علمی سطح کے بارے میں نہ جانتے ہوں۔

ہاں اگر مسلمان بہتر متبادل میسر ہونے کے باوجود، جمہوریت میں شریک ہونے کے منہج پر مُصِر ہوں اور سمجھانے کو باوجود اسی راستے پر جمے رہیں تو بعض حالات میں مناسب ہو گا کہ ان کا بائیکاٹ کیا جائے۔ اگر انہیں ایسے راستے اور طریقے میسر ہوں جو سنت سے قریب ترہیں، لیکن وہ انہیں انحراف اور گمراہی کہہ کر ردّ کریں اور انہیں بدنام کریں تو ضروری ہے کہ ان کے شر سے بچایا جائے اور ان کے خلاف عامۃ المسلمین کوخبردار کیا جائے۔

مزید وضاحت کے لیے، ہم جمہوریت میں شرکت کرنے والے لوگوں کو چار گروہوں میں تقسیم کر سکتے ہیں:

  1. وہ جو یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہجرت و جہاد غلبۂ اسلام کا ایک بہتر راستہ ہے، لیکن ان کا کہناہے کہ وہ قلّتِ استعداد یا ایمان کی کمزوری کے سبب جمہوریت میں شرکت کرتے ہیں۔
  2. وہ جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ موجودہ حالات میں جمہوریت غلبۂ اسلام کا درست طریقہ ہے، لیکن ساتھ ہی جو لوگ ہجرت و جہاد کی طرف دعوت دیتے ہیں، ان کی فکر و نظر کو ان کے جائز و درست اجتہاد کے طور پر قبول کرتے ہیں۔
  3. وہ جن کا دعوی ہے کہ آج کے حالات میں جمہوریت ہی غلبۂ اسلام کاصحیح راستہ ہے اور ہجرت و جہاد میں مصروف اور ان کی طرف دعوت دینے والوں کی مخالفت کرتے ہیں اور ان پردرست طریقے سے انحراف یا ’دہشت گردی‘ کا الزام لگاتے ہیں۔
  4. وہ جن کا ماننا ہے کہ جمہوریت شرک نہیں ہے بلکہ مکمل طور پر اسلام سے مطابقت رکھتی ہے۔

ان میں سے ہر ایک کا انحراف پچھلے (گروہ) کی نسبت زیادہ ہے، جبکہ چوتھا تو اس انحراف میں سب سے شدید ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے ساتھ پہلے سے زیادہ احتیاط سے تعامل کرنے کی ضرورت ہے، نیز ان سے برتاؤ ان کی جمہوریت کی طرف داری اور حمایت کی شدت کے مطابق کیا جائے گا ۔ ممکن ہے کہ پہلے دو کے لیے صرف نصیحت ہی کافی ہو ، جبکہ آخری دو کے حوالے سے کم از کم خبردار کرنانہایت ضروری ہے۔ اس کے بعد بھی اگر وہ لوگوں کو اپنے نظریات کی طرف دعوت دیتے رہیں، تو مناسب ہو گا کہ ان کی تکفیر کرنے ،نہ کرنے کے معاملے میں مستند علماء کی رائے لی جائے، یا کسی حقیقی اسلامی قوّت کی طرف سے متعین کردہ قاضی کو ان کے نظریات کے ثبوت فراہم کیے جائیں ، اس کےحکم کا اعلان ہو اور پھر اگر حد جاری کرنے کی صلاحیت ہو تو یہ بھی کیا جائے۔

یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جمہوریت کا مسئلہ ایسا واضح نہیں ہے کہ اس پر کوئی بھی اٹھ کر خود سے کسی گروہ یا فرد کی تکفیر کر سکے۔ جو لوگ یہ اہلیت نہیں رکھتے کہ وہ تکفیر کا فتوی دے سکیں انہیں کسی کی بھی انفرادی طور پر تکفیر سے اجتناب کرنا چاہیے اوراپنے طور پر حد نافذ کرنے سے باز رہنا چاہیے، بلکہ یہ معاملہ جید وراسخ علمائے کرام اور حقیقی اسلامی حکّام پر چھوڑ دینا چاہیے۔ عام افراد اور ابتدائی درجے کے طلبہ کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ جمہوری نظام، جمہوریت میں شرکت اور اس کی طرف بلانے کے عمل کا کفر بیان کریں۔ اس سے بیزاری کا اظہار کریں، اپنے دل میں اس سے اور اس میں شرکت کرنے والوں کے اس فعل سے نفرت کے جذبات رکھیں، اور اس نفرت کا ظاہری اظہار بھی کریں، بالکل اسی طرح جیسے ایک صاحبِ ایمان اسلام اور مسلمانوں کے لیے محبت کو محسوس کرتا اور اس کا اظہار کرتا ہے۔

اختتام

اللہ سے دعا ہے کہ وہ اس کتاب کو میرے لیے اور جو کوئی بھی اس کو پڑھے اس کے لیے اصلاح کا باعث بنائیں، اس کو مسلمانوں کے لیے فائدہ مند بنائیں، اور اس کی غلطیوں اور شرور سے ہماری حفاظت فرمائیں۔ اے اللہ، مسلمانوں کے دلوں میں اپنے نبی علیہ الصلاة و السلام کی سنت کی محبت اور جاہلیت کے طور طریقوں کی نفرت ڈال دیں۔ اے اللہ، ہمیں توحید پر جینے مرنے والا بنا دیں، ہم قوانینِ شریعت کے قیام، نفاذ، اور اطاعت سمیت زندگی کے تمام شعبوں میں اپنی تمام تر صلاحیت کے ساتھ اکیلے آپ کی عبادت کی کوشش کریں۔

اے اللہ، ہمیں اپنے بھائیوں کی اصلاح اور نصیحت میں عاجزی، اخلاق، اور حکمت عطا فرما دیں، اور ہمیں وہ عاجزی عطا فرما دیں کہ ہم حق پر مبنی نصیحت کو قبول کر سکیں چاہےوہ حکمت، اخلاق اور عاجزی کے بغیر ہی کیوں نہ کی گئی ہو۔ اور ہمیں شریعت کے سائے تلے زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائیں، اور اپنی شریعت کی رحمت پوری دنیا پر پھیلا دیجیے اور ایمان والوں کو اپنے غضب سے بچا لیجیے۔

اور درود و سلام ہو آخری نبی بن عبدللہ ﷺپر، آپ ﷺکے گھر والوں پر، اور آپﷺ کے اصحاب پر اور جو کوئی بھی یوم آخر تک اخلاص کے ساتھ ان کی پیروی کرے۔

والحمدللہ رب العالمین!

Previous Post

مع الأستاذ فاروق | اٹھائیسویں نشست

Next Post

رزق کا دارومدار تقویٰ پر ہے | اکیسواں خط

Related Posts

اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | گیارہویں قسط
جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!

اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | بارہویں اور آخری قسط

14 جولائی 2025
اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | گیارہویں قسط
جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!

اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | گیارہویں قسط

9 جون 2025
جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!

اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | دسویں قسط

26 مئی 2025
اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | چوتھی قسط
جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!

اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | نویں قسط

31 مارچ 2025
اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | چوتھی قسط
جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!

اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | آٹھویں قسط

14 مارچ 2025
اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | چوتھی قسط
جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!

اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | ساتویں قسط

15 نومبر 2024
Next Post
رزق کا دارومدار تقویٰ پر ہے | اکیسواں خط

رزق کا دارومدار تقویٰ پر ہے | اکیسواں خط

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

جنوری 2026ء
اکتوبر ۲۰۲۵ء

جنوری 2026ء

by ادارہ
20 جنوری 2026

Read more

تازہ مطبوعات

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version