صولت بیگم کی نسرین سمیت گھر واپسی بالآخر وہ قفل توڑنے میں کامیاب ہوگئی جو ولید کی کمرہ بندی کے معاملے پر سب کی زبانوں پر لگا ہوا تھا۔ یہ جان کر کہ ولید اپنے ہی گھر میں اپنے کمرے میں ’گرفتار‘ہے، ان کے تو گویا سر پر لگی، پیروں پر بجھی۔ وہیں لاؤنج میں کھڑے کھڑے بآوازِ بلند وہ بے بھاؤ کی سنائیں کہ فاطمہ اور نبیلہ تو اپنی جگہ، نسرین بھی کمرے سے اٹھ کر آنے پر مجبور ہو گئی ۔ فائزہ بیگم جو ان کی واپسی پر ان سے حال احوال پوچھنے اور ان کی غیر موجودگی میں گھر میں ہونے والے واقعات و تبدیلیوں کے بارے میں اپڈیٹ کرنے آئی تھیں، وہ بھی غم و غصّے کے اس اظہار میں شریک ہوتے ہوئے ہمدردانہ بولیں:
’’……اور کیا آپا!……اتنا بھی لحاظ نہ کیا کہ بچے کے سر کا زخم بھی ابھی ٹھیک نہیں ہوا…لے کر کونے میں ڈال دیا ہے اسے……!‘‘۔ اس تبصرے نے گویا جلتی پر تیل کا کام کیا۔پھر کیا تھا، ہاشمی ہاؤس نے صولت بیگم کو اس قدر اشتعال کی حالت میں کم ہی دیکھا ہو گا۔ بلند آواز میں عمیر اور زوار کو پکارتے، بلکہ للکارتے ہوئے وہ تیزی سے سیڑھیاں چڑھ کر بالائی منزل پر پہنچیں۔ سامنے ہی آفس کے دروازے کے پاس زوار کھڑا نظر آ گیا۔ پھر جو گرج چمک ہوئی اسے زوار کی شامتِ اعمال ہی کہا جا سکتا ہے، اس کا لحاظ کیا کہ دو چار جھانپڑ اسے رسید نہیں کیے ورنہ الفاظ کے کوڑوں سے تو خوب اچھی طرح دھلائی کر دی ۔ زوار نے انہیں ٹھنڈا کرنے کی اپنے طور پر کچھ کوشش کی مگر……اس کی مزاحمت طوفان کے سامنے تنکے کی بھی حیثیت نہ رکھتی تھی۔صولت بیگم کسی بھی صورت میں عمیر کی آمد کے انتظار اور ولید کے معاملے پر نظرِ ثانی جیسے کسی وعدے پر اعتماد کرنے کے موڈ میں نہیں تھیں۔ زوار کو ان کی آنکھوں کے سامنے آفس کے دراز میں رکھی چابی لاتے ہی بنی،نتیجتاً ولید چند منٹ بعد نچلی منزل پر سب کے درمیان بیٹھا تھا جبکہ زوار دانت پیستا، سرخ چہرہ لیے عمیر کےسامنے بیٹھا……(جو صولت بیگم کو سیڑھیاں چڑھتے سن کر ہی اپنے کمرے سے ملحقہ بالکونی میں چلا گیا تھا)……اس کے طعنے اور طنز گھونٹ گھونٹ حلق سے اتار رہا تھا۔’دیکھ لیا……؟ لے گئیں آخر اپنے چہیتے کو……!حکومتی پالیسی کی یہ وقعت ہے اس گھر کے لوگوں کے نزدیک……!‘۔
نسرین کی حالت اب پہلے کی نسبت کافی بہتر تھی۔ ڈاکٹروں نے اسے پریشانی اور صدمے سے دور رکھنے کی ہدایات کے ساتھ ڈسچارج کر دیا تھا۔ مگر بقول صولت بیگم ’جو گھر سراپا مسئلہ بن چکا ہو، اس میں فکر و پریشانی اور صدمے سے کیسے بچا جا سکتا ہے……؟!‘۔ گھر آ کر عبداللہ کی فکر اور یاد اور بھی ستانے لگی۔اسے اس کے اپنے کمرے میں صولت بیگم نے قصداً جانے سے روک دیا، یہ سوچ کر کہ وہاں عبداللہ کی یاد اور بھی زیادہ ستائے گی، اور اپنے پاس اپنے ہی کمرے میں ٹھہرا لیا۔مگر عبداللہ کی یادیں، اس کے نقوش تو گھر میں قدم قدم پر بکھرے ہوئے تھے۔ نسرین ہر آہٹ پر چونک چونک جاتی۔ دروازہ کھلنے کی آواز آتی تو بے چینی سے دروازے کی جانب دیکھتی رہتی، نجانے کون آیا ہے……شاید عبداللہ……!کہیں کوئی فون بجتا تو اس کی امیدیں پھرتازہ ہو جاتیں……شاید عبداللہ کی کوئی خبر ہو۔
اگرچہ اسے واپس آئے دو ، تین دن ہو گئے تھے مگر زوار یا عمیر سے اس کا ابھی تک آمنا سامنا نہیں ہوا تھا۔ نجانے کیوں……شاید لا شعوری طور پر ہی……زوار اس سے منہ چھپاتا پھر رہا تھا۔ اس میں اسے کچھ زیادہ دشواری کا سامنا بھی نہیں تھاکیونکہ نسرین کا زیادہ وقت کوئی نہ کوئی سکون آور دوا کھا کر سونے میں ہی گزرتا تھا۔
تیسرا یا چوتھا روز تھا جب زوار سیڑھیاں اتر کر لاؤنج میں داخل ہوا۔ سامنے ہی صوفے پر نسرین بیٹھی تھی۔ اسے دیکھ کر وہ ٹھٹک کر رک گیا۔لمحہ بھر کو اس کو دھچکا لگا تھا ۔ پیلے چہرے، حلقوں میں دھنسی ویران آنکھوں اور کمزور و مضمحل وجود والی یہ نسرین ہفتہ بھر پہلے والی نسرین لگ ہی نہ رہی تھی ۔ ہسپتال میں گزارے گزشتہ ایک ہفتے میں وہ اس نسرین کا سایہ بھی نہ رہ گئی تھی جو اپنی زندگی کی تمامتر مشکلا ت اور پریشانیوں کے باوجود جب ہنستی تو دل سے ہنستی ……بولتی تو لہجے میں اعتماد جھلکتا، آنکھوں سے امید کی کرنیں پھوٹتیں…… اس کا دل تاسف سے بھرنے لگا۔سمجھ نہ آ رہا تھا کہ کیاکیا جائے، سلام کر کے باہر نکل جائے، یا کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہیں……وہ ابھی یہی سوچ رہا تھا کہ نسرین جو بے خیالی کے عالم میں اس کی طرف دیکھ رہی تھی، نے اسے آواز دے ڈالی۔
’’……زوار!‘‘، نسرین جیسے کسی خواب سےجاگی تھی، شاید ڈپریشن کے لیے لی جانے والی دواؤں کا اثر تھا، اس کا انداز ایسا کھویا کھویا سا تھا جیسے بند ہوتے دماغ کو حاضر کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔زوار زبردستی چہرے پر مسکراہٹ لا تے نسرین کے پاس جا بیٹھا۔
’’کیسی ہیں آپا؟……اب طبیعت کیسی ہے آپ کی؟‘‘، اس نے اپنائیت سے پوچھا۔
’’زوار……عبد اللہ کا کچھ پتہ چلا…؟‘‘، نسرین نے ہلکی سی آواز میں پوچھا۔ آنکھوں کے گوشے پھر نم ہونے لگے تھے۔’’……عبداللہ کا کچھ پتہ چلا؟……تمہیں پتہ ہے میرا عبداللہ کہاں ہے؟‘‘، وہ بڑی آس سے اس سے پوچھ رہی تھی۔ زوار کے لیے وہاں بیٹھے رہنا دو بھر ہو گیا ۔
’’……آپا!‘‘، وہ بمشکل گلے میں پھنستی آواز نکال کر بولا۔’’آپا……وہ ٹھیک ہو گا بالکل……بہت خوش ہو گا!……آپ کیوں فکر کرتی ہیں……؟‘‘
’’زوار تم چاچو کے بہت قریب ہو……وہ تمہاری بات بہت مانتے ہیں……‘‘، اس نے یکدم زوار کے ہاتھ اپنے نحیف ہاتھوں میں لے لیے، اب وہ امید بھری نظروں سے اسے دیکھتے کہہ رہی تھی،’’……ان سے کہو مجھے میرا عبداللہ واپس دلا دیں……!‘‘۔
وہ بے اختیار نظریں چرا گیا۔ وہ اسے کیا بتاتا…… کیسے سمجھاتا کہ اس کی اس ذرا سی قربانی سے گھر کو مجموعی طور پر کتنا فائدہ پہنچا ہے۔ اور خود نسرین کے مستقبل کی خوشیوں کے لیے بھی یہ فیصلہ کس قدر ناگزیر اور سود مند ہے۔ عمیر کے دلائل اس کے دماغ میں گونج رہے تھے۔مانا کہ یہ وقت مشکل ہے……بیٹے سے یوں اچانک جدا ہونا……لیکن اس ذرا سی بات کو نسرین کو اتنی شدت سے محسوس نہیں کرنا چاہیے ۔بہر حال یہ اکیسویں صدی ہے۔ عبد اللہ اس سے دور ہو کر بھی اس سے کبھی دور نہ ہو گا۔وہ جب چاہے اسے سن سکتی تھی، وہ محض اس سے ایک فون کال کی دوری پر ہی تو تھا۔ دیکھنا چاہے تو ویڈیو کالِنگ کی سہولت موجود تھی……ملنا چاہے تو کبھی بھی اڑ کر اس تک پہنچ سکتی تھی……مگر……نسرین کے کمزور و نحیف ہاتھوں میں دبے اپنے ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے، اور اس کی آنکھوں میں دیے کی ٹمٹماتی لو جیسی آس سے نظریں چراتے ہوئے ……وہ کچھ بھی نہ کہہ سکا۔
مانا کہ اس فیصلےسے گھر کو مجموعی طور پر بہت فائدہ پہنچا ہو گا……مگر نسرین کی صورت میں اس فیصلے نے بہت بھاری تاوان بھی وصول کیا تھا۔
٭٭٭٭٭
جاوید صاحب ہسپتال کی پارکنگ کی طرف جاتے ہوئے مسلسل فون پر مصروف تھے۔ اپنے ایک ماموں زاد بھائی سے بات کرتے ہوئے بھی انہیں کال کے دوران وقفے وقفے سے ہونے والی ’بیپ‘ کی آوازاحساس دلا رہی تھی کہ ایک دوسرے نمبر سے کال آ رہی ہے۔ یہ دوسرا نمبر کس کا ہو سکتا ہے، اس بات کا بھی انہیں احساس تھا۔ مگر کیا کرتے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ بینش کئی دنوں سے ان سے ناراض ہے، وہ اسے راضی کرنے کے لیے فرصت نہ نکال پا رہے تھے۔ پچھلا ایک ڈیڑھ ہفتہ یوں گزرا تھا جیسے زندگی کی کشتی طوفانوں میں گھِر گئی ہو، اور بقا کی جنگ لڑتے ہوئے شدید ہچکولوں کی زد میں ہو۔ ایسے میں بیوی بچوں کو وقت دینا تو دور کی بات……ان کے پاس معمولی سلام دعا کی بھی فرصت نہیں تھی۔کاموں کا انبار اور فکر و پریشانی کا زور اتنا تھا کہ نجانے کتنے دنوں سے انہوں نے ڈھنگ سے بیوی بچوں کی شکل بھی نہ دیکھی تھی۔ حد تو یہ تھی کہ انہوں نے اپنی شکل بھی نہ دیکھی تھی، مستقل ٹینشن اور عجلت کی کیفیات میں وہ جیسے بوکھلائے ہوئے گھر میں داخل ہوتے،چند گھنٹے گزار کر اسی طرح گھبرائے ، بولائے ہوئے نکل جاتے ۔
ابّا جی کی حالت مسلسل تشویشناک تھی۔ ڈاکٹروں کے مطابق ہنگامی بنیاد پر آپریشن ہی ان کی واحد امید تھی۔ اور ابھی حال ہی میں انہیں معلوم ہوا تھا کہ وہ یہ آپریشن کرانے کی استطاعت کھو چکے ہیں۔ کیا، کیوں اور کیسے کا جواب حاصل کرنے کا یہ وقت نہیں تھا۔ ابھی انہیں فوری طور پر اپنے بوڑھے باپ کی جان بچانے کے لیے پیسہ جمع کرنے کی فکر لاحق تھی۔ چاہے وہ کسی سے قرضہ لے کر ہو، گاڑی یا کوئی دوسرا اثاثہ بیچ کر،یا کوئی اور صورت پیدا کر کے…… ان کا ذہن تیزی سے ان سب امکانات پر غور کر رہا تھا جہاں سے وہ جلد از جلد رقم حاصل کر سکتے تھے۔
گاڑی میں بیٹھتے ہوئے شفقت بھائی سے ملاقات کا وقت طے کر کے بالآخر انہوں نے کال منقطع کی ۔ موبائل ڈیش بورڈ پر رکھنے ہی والے تھے کہ سکرین پر چمکتے میسج نوٹیفیکیشن پر نظر پڑی۔ متعدد مسڈ کالز کے ساتھ ایک اکلوتا پیغام تھا ……
’’میں اور بچے امّی کی طرف جا رہے ہیں……لینے مت آئیے گا، رابطہ مت کیجیے گا……آپ کو آپ کی زندگی مبارک ہو……اللہ حافظ!‘‘۔
ننھا سا پیغام تھا، مگر دل پر جیسے منّوں برف آ گری ۔
٭٭٭٭٭
’’ ولید صاب……!‘‘، وہ پورچ میں پہنچا ہی تھا جب نذیر نے اسے آواز دی۔ وہ سامنے اس کی بائیک کے پاس کھڑا تھا، جیسے اس کے انتظار میں کھڑا ہو۔ اسے ذرا حیرت سی ہوئی……نذیر سے اب کم ہی کوئی بات چیت ہوتی تھی۔
’’……ہاں؟……بولو…!‘‘، وہ بائیک کے پاس پہنچ کر ہاتھ میں پکڑا کھانے کا شاپر ہینڈل پر لٹکاتے ہوئے بولا۔ اسے ہسپتال پہنچنے کی جلدی تھی، ذرا دیر پہلے ہی جاوید صاحب نے اسے فون کر کے جلدی آنے کی ہدایت کی تھی ۔ وہ بائیک سٹارٹ کر چکا تھا اور نذیر پاس ہی کھڑا تذبذب کے عالم میں اسے دیکھ رہا تھا۔ اس کو مسلسل خاموش دیکھ کر ولید نے استفہامیہ انداز میں ابرو اچکائی۔
’’وہ……کچھ نہیں جی……بس بائیک کے تیل پانی کا پوچھنا تھا……‘‘ وہ گڑبڑا کر بولا۔
’’اچھا!……بندے کا تیل پانی پوچھنے کا توخیال نہیں آیا تمہیں……بائیک کا اتنا خیال……؟ یا یہ بھی تمہارے لیڈر کی ہدایات ہیں جن پر تم آنکھیں ، ناک، کان اور دماغ سب بند کر کے عمل کرتے ہو……؟‘‘، اس کے طنز پر نذیر کے چہرے کا رنگ واضح طور پر بدلا ، مگر وہ جواب میں کچھ نہ بولا۔
ولید بائیک کا رخ گیٹ کی جانب موڑ رہا تھا۔ جی میں آیا کہ نذیر کو مزید بھی کچھ کڑوی کسیلی سنا دے،مگر یہ سوچ کر یہ خیال جھٹک دیا کہ نذیر بہر حال ملازم ہی تھا، اسے کیا الزام دینا۔ روزی روٹی کی خاطر دوسروں کے اشاروں پر چلنے والا……جس کی عقل اور فکر کی ڈور پیٹ سے بندھی ہوئی تھی۔ بھلا جب عقل و شعور رکھنے والے آزاد انسان صحیح اور غلط میں تمیز نہ کر سکیں تو غمِ دوراں میں جکڑے، غریب و مجبور،کمزور لوگوں سے یہ توقع رکھنا کہ وہ صحیح اور غلط، ظلم اور عدل کی تفریق کو اپنے مفادات پرترجیح دیں گے، نادانی نہیں تو کیا ہے۔ہیلمٹ پہن کر اس نے بائیک کو کِک لگائی اور ریس دینے ہی والاتھا جب یکدم نذیر نے آگے بڑھ کر ہینڈل پر رکھے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر اسے روک لیا ۔
’’ارشد صاحب عبد اللہ کو اس ہفتے اپنے ساتھ لے جائیں گے ولید بھائی……! پانچ دن بعد جہاز کی بُکنگ کرائی ہے انہوں نے……‘‘، وہ دوسرے ہاتھ سے پیشانی مسلتے ہوئے یوں بولا جیسے اپنی مرضی کے خلاف یہ بات اگل دینے پر مجبور ہو گیا ہو۔
٭٭٭٭٭
ابوبکر اور عثمان ہاشمی، دونوں اکٹھے گھر پہنچے۔ دونوں کے چہرے سنجیدہ و سنگین تھے۔ کچھ تھا جو انہوں نے طے کر لیا تھا۔ شاید ضبط کی کوئی تار تھی، جو بالآخر ٹوٹ گئی تھی۔ عثمان صاحب کو گاڑی سے نکل کر وہیل چئیر پر بیٹھنے میں مدد کراتے ہوئے ابوبکر صاحب کا ہاتھ ان کے کندھے پر ٹھہر گیا۔ یہ تسلّی دینے کا انداز تھا یا ان سے حوصلہ حاصل کرنے کی کوشش……عثمان صاحب نے اپنے کندھے پر رکھے اس ہاتھ کو ہلکا سا تھپکا اور گیٹ پر کھڑے گارڈ کو دروازہ کھلا رکھنے کا اشارہ کیا۔ ولید اپنی بائیک پر ان کے پیچھے پیچھے آ رہا تھا ، چند ہی لمحوں بعداس کی بائیک اندر داخل ہو رہی تھی۔
’’زوار کو فون کیا تھا میں نے پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس بلانے کو……… مگر وہ کہہ رہا تھا کہ آج تو ممکن نہیں، عمیر غالباً گھر میں نہیں ہے۔ کل یا پرسوں رکھ لیتے ہیں……‘‘، وہ بائیک سے اترتے ہی ان کی سوالیہ نظروں کے جواب میں بولا۔
’’اجلاس آج ہی ہو گا اور ابھی ہو گا……تم جاؤ اور جا کر ان دونوں کو بلا کر لاؤ……اوپر ہی ہوں گے، انہوں نے کہاں جانا ہے‘‘، ابوبکر صاحب فیصلہ کن انداز میں بولے۔ ولید سر ہلاتا اندر کی جانب بڑھ گیا۔
طفیل ہاشمی صاحب کےویران کمرے میں اداسی ڈیرے ڈالے بیٹھے تھی۔ کتنے دنوں سے کمرے کی کھڑکیوں سے پردے نہیں ہٹائے گئے تھے، سورج کی روشنی اور تازہ ہوا سے محروم ، کمرہ اپنے مکین کے بغیر خاموش و سوگوار تھا۔ اندر داخل ہو کر ابوبکر صاحب نے کمرے کی لائٹ جلائی۔ گو کہ عین دوپہر کا وقت تھا، مگر انہوں نے کھڑکیوں کے پردے ہٹانے کی کوشش نہ کی۔ عثمان صاحب اپنی وہیل چئیر چلاتے ہوئے کمرے کے وسط میں آ رکے ۔ کونے میں رکھا ابّا جی کا بیڈ خالی پڑا تھا۔ ایک زمانہ وہ بھی تھا جب وہ سب اس کمرے میں اپنی محفل جماتے اور ابّا جی کسی شہنشاہ کی طرح اپنے تخت پر رونق افروز ہوتے۔خالی بیڈ اور خالی کمرہ گزرے ایام کی رونقوں کا مقبرہ محسوس ہو رہا تھا۔انہیں یاد آیا یہیں سے، اسی کمرے سے تو سارے قصّے کا آغاز ہو اتھا۔
وہ دونوں خاموش اپنی اپنی سوچوں میں گم تھے۔ ابوبکر صاحب باقی افراد کے انتظار میں کمرے میں ٹہلنے لگے۔ کمرے کی ایک دیوار پر بنی کتابوں کی الماری سے جھانکتی ضخیم کتابیں چپ چاپ دم سادھے انہیں دیکھ رہی تھیں۔ الماری کے ساتھ اور مطالعے کی میز کے عین اوپر ، دیوار پر ایک نمایاں مقام پر لگا نوٹس بورڈ خالی تھا۔ وہ طرح طرح کی چھوٹی موٹی پرچیاں، جن پرہاشمی صاحب کی نفیس تحریر میں ضروری باتیں، یادداشتیں اور پسندیدہ اشعار یا اقتباسات نوشتہ ہوتے……وہ سب غائب تھیں۔ بورڈ خالی تھا……ما سوائے ایک بڑے سے کاغذ کے جو بورڈ کے عین وسط میں چسپاں تھا۔
’’آئین و دستور برائے اسلامی جمہوریہ ہاشمی ہاؤس‘‘
ابوبکر صاحب کمر پر ہاتھ باندھے اس کے عین سامنے آ کر ٹھہر گئے۔سفید کاغذ پر نمایاں فونٹ میں لکھی اس تحریر پر گرد کی ایک تہہ جمی تھی۔ گویا عرصے سے اسے جھاڑ پونچھ نصیب نہ ہوئی تھی۔ یہی تحریر تھی، جس نے آج سے تقریباً دو سال قبل اس گھرانے کے لیے رہبر و رہنما کا کردار اپنایا تھا۔ وہ سب آنکھیں بند کر کے اس راستے پر چلنے لگے، اور سیدھا مستقیم راستہ کب بھول بھلیّوں میں تبدیل ہوا، کب وہ بھٹک کر اس کے داؤ پیچ میں کھو گئے، انہیں خبر نہ ہو پائی۔ وہ تحریر پر نظریں جمائے سوچ رہے تھے۔
کیا آج ان کے تمام تر مسائل کی جڑ یہی تحریر تھی؟ کیا ان کی پریشانیوں کا سبب جمہوریت ہی تھی؟ وہ نظام جو عدل و انصاف، مساوات و برابری اور عوام کی خواہشات کو ہی اپنی ترجیح، اپنا نصب العین اور اپنا مطلوب و مقصود بتاتا تھا۔
اگر انسان پر اس کی اپنی حکمرانی نہ ہو گی تو کس کی ہو گی؟ وہ کون ہے جو حکمرانی کا اصل اہل ہے؟
صرف اللہ!……خالقِ ذوالجلال، پیدا کرنے والا، انسانوں کو گھڑنے والا……ان کے مزاج اور طبیعتوں کا خالق……ان کو ان سے بڑھ کر جاننے پہچاننے والا……ان کی ضروریات و حاجات کا محرم……ان کی دنیوی و اخروی بھلائی سے سب سے زیادہ واقف……!
مگر اللہ کی یہ حکومت کیسے ہو گی؟ اس کی ظاہری صورت کون اختیار کرے گا؟
وہی جو ہر گروہِ انسانی میں سب سے بڑھ کر اللہ کے قریب ہو۔ جو سب سے زیادہ اس کا مطیع فرمان، اس کا عاجز بندہ، اس کا خوف و خشیت ، اس کی رضا و محبت کے حصول کی طلب دل میں رکھنے والا ہو۔ جو سب سے زیادہ متقی ہو، اس سے ڈرنے والا ہو……ایمان و تقویٰ کے ساتھ ساتھ دنیاوی سمجھ بوجھ بھی رکھتا ہو۔ اس کا نائب، اس کا نمائندہ……اس کا خلیفہ۔ وہ اور اس کے ساتھ اس جیسے دیگر صالح ، متقی اور سمجھ بوجھ رکھنے والے افراد……اہلِ حل و عقد۔
اور وہ کیسے حکومت کرے گا؟ اس کی حکومت کے خدو خال کیا ہوں گے؟
اللہ کی نازل کردہ شریعت سے……! احکام و ہدایات کے اس مجموعے سے جس کے ذریعے آخری پیغمبر (علیہ الصلاۃ والسلام) کے زمانے سے لے کر آج سے چند صدیاں پیشتر مسلمان حکمرانوں نے حکومت کی……! نظم و نسق بنایا، سلطنتیں قائم کیں……عدل و انصاف کا نظام کھڑا کیا……
وہ حیران تھے ……آج یہ جواب کہاں سے امڈے چلے آ رہے تھے۔ کیا واقعی شریعت کا نظام آج کی دنیا سے مطابقت پیدا کر سکتا تھا؟ کیا وہ آج کی جدید دنیا کے ساتھ synchronize ہو سکتا تھا؟! جواب ایک بار پھر گویا خود چل کر سامنے آ گیا……
زمانہ ایک، حیات ایک، کائنات بھی ایک
دلیلِ کم نظری، قصّۂ جدید و قدیم
اکثریت……بیوقوف، کم فہم، جذباتی اور اپنی خواہشات کے پیچھے چلنے والی اکثریت……جو ہمیشہ ہی انہی اوصاف کی حامل ہوتی ہے……اسی اکثریت کے پیچھے چل کر گمراہ ہوئے تھے وہ……! اکثریت…… جو حاکم نہیں، محکوم پیدا کی گئی ہے۔ جسے موڑا جا سکتا ہے، جسے ڈھالا جا سکتا ہے، جسے اپنے مقاصد و اہداف حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے……اس سے پوچھ پوچھ کر چلنا شروع ہوئے، تو وہ جو اس لیے پیدا کی گئی تھی کہ اسے govern کیا جاتا، اقتدار و اختیار اس کے ہاتھ میں آیا تو وہ سب ہی بلا تفریق اس کی چکّی میں پس گئے ۔ اکثریت کے ظلم و استبداد نے ان کا گھرانہ تباہ کر دیا تھا۔ اکثریت کی خواہشات کی پیروی نے انہیں اس مقام پر پہنچایا تھا۔ کیونکہ اکثریت تو ہمیشہ ہی نادان ہوتی ہے۔ راہ دکھانے والا، سب کو جوڑ کر رکھنے والا، قوموں کا رہنما و قائد تو کوئی ایک ہی ہوتا ہے۔ جیسےریوڑ کا رکھوالا، جیسے کشتی کا ملّاح……
کمرے کا دروازہ کھلا۔ ولید ، زوار ، اویس اور نبیلہ اندر آ رہے تھے۔ ولید کے چہرے پر اطمینان کی جھلک واضح تھی، اویس اور نبیلہ کے چہروں پر تجسس، جبکہ زوار کسی قدر جھنجھلایا ہوا نظر آ رہا تھا…… وہ سب کمرے میں اپنی اپنی مخصوص جگہوں پر جا بیٹھے۔ کسی نے بولنے یا کچھ کہنے کی کوشش نہ کی۔ سب ہی اجلاس شروع ہونے کے منتظر تھے۔ چند ہی منٹ بعد دروازہ ایک بار پھر کھلا، اور اب کی دفعہ عمیر اور اس سے چند قدم پیچھے……نذیر اندر داخل ہوئے۔
’’اب چونکہ ہم سب یہاں جمع ہو چکے ہیں تو اجلاس شروع کرتے ہیں……‘‘، ابوبکر صاحب نے بغیر کسی تمہید کے بات کا آغاز کیا۔ ’’آپ سب دیکھ سکتے ہیں کہ آج ہماری پارلیمنٹ کے دو ا رکان ہمارے درمیان موجود نہیں … ان میں سے ایک کی غیر موجودگی کا سبب یہ ہے کہ وہ ہسپتال میں زندگی و موت کی جنگ لڑ رہے ہیں…… آج ہم سب یہاں انہی کی خاطر جمع ہوئے ہیں……!‘‘۔
’’……بہتر ہو گا اگر میں آپ سب پر کچھ پس منظر واضح کر دوں۔ بعض باتوں سے تو یقیناً آپ سب واقف ہی ہوں گے البتہ……بعض باتیں آپ کے لیے نئی ہوں گی……!‘‘، وہ حاضرین میں سے ہر ایک کے چہرے پر نظریں دوڑاتے، قدرے توقف کے بعد بولے،’’……ہمارے گھریلو حالات ایک طویل عرصے سے بد سے بدتر کی جانب جا رہے ہیں……ہمارے ’سربراہان‘ کی کوششوں کے باوجودہمیں حالات میں بہتری تو دور کی بات، اس کے آثار بھی نظر نہیں آ رہے……! اور گزرے چند دنوں میں جو کچھ اس گھر اور اس کے مکینوں پر بیتی ہے……اس سے آپ سب واقف ہیں…… ‘‘۔
کمرے کے کھلے دروازے سے صولت بیگم نے اندر جھانکا۔ ان سب کو وہاں جمع دیکھ کر وہ بھی خاموشی سے اندر آ گئیں اور قالین پر پیچھے کو ہو کر بیٹھ گئیں۔ کسی نے ان کی آمد کا نوٹس نہیں لیا۔ وہ سب ابوبکر صاحب کی طرف متوجہ تھے۔
’’گزشتہ دنوں کے واقعات سے سب سے زیادہ متاثرہونے والا شخص……میرے اور آپ کے والد ہیں۔ آپ کے دادا ہیں۔ اس گھر کی اساس…اس کی بنیاد اور جڑ ہیں۔ وہ شخص جس نے اپنی پوری زندگی کی محنت اور سخت جدو جہد سے ہمیں اس دنیا میں ایک قابلِ عزت مقام دلایا……ہمیں وہ بنایا جو آج ہم ہیں……! آج وہ شخص ہمارے ہی دیے زخم کھا کر ہسپتال میں ایک بستر پر پڑا ہے۔ ‘‘
’’اس وقت ان کی زندگی اور صحت کے لیے واحد امید کی صورت ان کا جلد از جلد دل کا آپریشن کرانا ہے۔ ظاہر ہے کہ آپریشن مہنگا ہے، ایک بڑا خرچہ ہے ……جس کے لیے ہم نے اس گھر کے سربراہ سے مطالبہ کیا کہ وہ گھریلو فنڈز استعمال کرتے ہوئے ابّا جی کے علاج کے لیے رقم فراہم کرے‘‘، ایک بار پھر وہ رکے، سب کی نظریں عمیر کی طرف اٹھ گئی تھیں۔ عمیر نے ایک تلخ مسکراہٹ کے ساتھ سینے پر ہاتھ باندھ لیے، مگر بولا کچھ نہیں۔’’ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہےکہ سربراہِ خانہ نے ہر قسم کے تعاون سے صاف انکار کر دیا……! قطعِ نظر اس بات سے کہ ابّا جی کا علاج کرانا بالاصل سربراہِ خانہ ہی کی ذمہ داری ہے……قطعِ نظر اس بات سے کہ یہ ایک شخص کی زندگی اور موت کا معاملہ ہے……!! قطع نظر اس بات سے کہ وہ شخص ہمارا باپ ہے…!!‘‘، ان کی شکوہ کرتی نظریں عمیر پر جمی تھیں۔کمرے میں بڑھتا ہوا جذباتی ہیجان محسوس کیا جا سکتا تھا۔
’’سربراہِ خانہ سے مایوس ہو کر ہم نے دوسرے ذرائع پیدا کرنے کی کوشش کی……‘‘، ابوبکر صاحب بات جاری رکھتے ہوئے بولے۔’’……ہمارا…یعنی میرا، عثمان اور جاوید کا ایک مشترکہ اکاؤنٹ تھا، جو ہم نے امّی جان کے نام پر کھلوایا تھا۔ اس ارادے سے کہ اس میں رازداری سے پیسے جمع کریں گے اور پھر ان پیسوں سے دین اور قوم کی خدمت کے لیے کوئی مسجد بنائیں گے، جو ہمارے اور ہمارے والدین کے لیے صدقۂ جاریہ بنے……اس میں ایک قلیل رقم تھی، مگر ہماری موجودہ ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی تھی۔ ……مجبور ہو کر، نہ چاہتے ہوئے……دیگر ذرائع سے مایوس ہو کر ہم نے وہ رقم استعمال کرنے کا فیصلہ کیا……مگر جب اکاؤنٹ سے پیسے نکلوانے چاہے تو پتہ چلا کہ……اکاؤنٹ تو بالکل خالی ہے……! ‘‘۔
کمرے میں موجود نفوس کے چہروں پر حیرت اور صدمے کی تحریر واضح تھی۔ میز کے قریب پیچھے بیٹھی صولت بیگم، نسرین، زین ، فاطمہ اور فائزہ بیگم حیرانی و پریشانی کے عالم میں یہ سب سن رہے تھے۔ وہ سب کب اندر آئے، ما سوائے ولید کے کسی کو پتہ نہیں چلا ۔ وہ بھی خاموشی سے پیچھے بیٹھتے گئے۔
’’……یہ اس اکاؤنٹ سے ہونے والی ٹرانزیکشنز (transactions) کی تفصیل ہے……جو ہم ابھی بنک سے لے کر آئے ہیں……‘‘، ابوبکر صاحب نے ہاتھ میں پکڑا ایک کاغذان کے سامنے لہرایا اور سامنے بیٹھے، خاموشی سے ان کی باتیں سنتے عمیر کی جانب بڑھا دیا۔
’’……بائیس لاکھ روپے!!……اس اکاؤنٹ سے اکٹھے بائیس لاکھ روپے نکلوائے گئے ہیں!!‘‘، عمیر حیرت سے بولا۔’’میرے خدا…! اتنا بڑاغبن!……آخر یہ کس کا کام ہے؟‘‘۔
’’……بالکل یہی سوال ہم تم سے کرنا چاہتے ہیں عمیر‘‘، ابوبکر صاحب ہموار لہجے میں بولے۔
عمیر چند ثانیے سوچتی نظروں سے ان کو دیکھتا رہا، پھر شانے اچکا کر بولا،’’بھائی جان اگر آپ مجھ پر الزام لگانے کی کوشش کر رہے ہیں……تو یہ کوشش انتہائی بوگس ہے۔ یقیناً آپ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ اس اکاؤنٹ سے پیسے سابقہ حکومت کے دور میں نکلوائے گئے ہیں……!اور اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ سربراہِ خانہ ہونے کی حیثیت سے ہر راز کی تحقیق بھی میری ذمہ داری ہے تو بھی میں معذرت خواہ ہوں……کیونکہ میں ایسا نہیں سمجھتا! میں سربراہِ خانہ ہوں……شرلاک ہولمز نہیں!‘‘۔
بیک وقت سب کی نظریں نبیلہ کی طرف اٹھی تھیں۔ اور نبیلہ ……سفید پڑتے چہرے کے ساتھ متحوش سی انہیں دیکھ رہی تھی۔
’’پچھلی حکومت کرپٹ تھی، یہ تو ہمیں پتہ تھا……لیکن اس قدر کرپٹ ہونے کا تو سوچا بھی نہ تھا…‘‘، اویس تنفر سے نبیلہ کی جانب دیکھتے ہوئے بولا۔
’’جھوٹ ہے یہ سب……بکواس ہے! میں نے کوئی پیسے نہیں نکلوائے بینک سے……مجھے تو اس اکاؤنٹ کا پتہ تک نہ تھا……! مجھے تو چاچو نے بتایا اس کا……!اِن کا…‘‘، وہ عمیر کی طرف ایک لرزتی ہوئی انگلی اٹھا کر بولی،’’انہی کا مشورہ تھا کہ مجھے وہاں سے پیسے نکلوانے چاہییں……کیونکہ اِنہوں نے بینک سے جو پچیس لاکھ کا قرضہ لیا تھا، وہ سب یہ اڑا چکے تھے……اور بینک والے اپنے پیسے واپس مانگ رہے تھے……اگر میں انہیں ان کے پیسے نہ لوٹاتی تو وہ ہم سب کو سڑک پر لے آتے……!‘‘۔
عمیر کا قہقہہ بے ساختہ تھا ، وہ یوں دلچسپ نظروں سے نبیلہ کی جانب دیکھ رہا تھا جیسے اس کی بات سے بے حد محظوظ ہوا ہو۔’’اور اب یہ بھی کہہ دو کہ اس گھر میں ڈاکہ بھی چاچو نے ڈلوایا……! عثمان بھائی کو گولی بھی چاچو نے ماری……! فائزہ باجی اور بینش بھابھی کا سونا بھی میں نے چرایا……!اور کیا کچھ کیا میں نے… تمہاری الف لیلیٰ کے مطابق؟ ‘‘۔
’’……یہ سب سچ ہے!……‘‘، نبیلہ کی آنکھوں میں بے بسی سے آنسو آ گئے،’’آپ جانتے ہیں میں سچ کہہ رہی ہوں……آپ ہی نے کیا یہ سب کچھ…! میرے پاس اس کے ثبوت موجود ہیں!‘‘۔
’’تو پیش کرو اپنے ثبوت……‘‘، عمیر چیلنج کرتا ہوا بولا۔
’’پیش کریں گےعمیر……سب پیش کریں گے! لیکن ابھی نہیں‘‘، عثمان صاحب مداخلت کرتے ہوئے بولے،’’……ابھی ہم یہاں کسی مقدمے کا فیصلہ کرنے اکٹھے نہیں ہوئے۔ گو کہ تمہارے خلاف ایک نہیں، بہت سے مقدمات جمع ہیں……مگر ان پر بعد میں فرصت سے بیٹھ کر بات کریں گے اور ان کا فیصلہ کریں گے……ابھی تم یہ بتاؤ کہ کچھ ہی عرصہ پہلے تم نے معاشی تنگی کا رونا رو کر بینک سے کافی بڑی رقم کا قرضہ حاصل کیا تھا……وہ سب کہاں ہے؟ جو پیسے ہر مہینے کاروبار سے آتے ہیں اور تمہارے پاس جمع ہوتے ہیں……وہ کہاں ہیں؟ ابّا جی کے آپریشن کے لیے رقم چاہیے……اور اس رقم کا انتظام تم ہی کرو گے!‘‘
’’……آمدن اور خرچ کا سارا حساب فائلوں میں لکھا ہے……جب چاہے دیکھ لیں……‘‘، عمیر بےزاری سے بولا۔
’’……ہمیں حساب مت دکھاؤ……آنکھیں رکھتے ہیں ہم، نظر آ رہا ہے کہ کتنا اس گھر پر خرچ ہوتا ہے اور کتنا جیبوں میں غائب ہو جاتا ہے……‘‘، ابوبکر صاحب کا لہجہ غیر معمولی طور پر سخت تھا۔’’ابّا جی کے علاج کے لیے رقم کا بتاؤ……وہ کہاں سے ملے گی؟‘‘۔
’’ہاں ایک راستہ ہے میرے پاس……‘‘، عمیر کے الفاظ پر وہ سب اس کی طرف متوجہ ہو گئے،’’……ہم ارشد سے کہتے ہیں کہ وہ دیگر قسطوں کی ادائیگی بھی فوری طور پر کر دے تو ابّا جی کے علاج کے لیے رقم بھی مل جائے گی……اور کسی کے سامنے ہاتھ بھی نہ پھیلانا پڑیں گے……‘‘، وہ اس زبردست آئیڈیا پر داد طلب نظروں سے انہیں دیکھ رہا تھا۔
ابوبکر صاحب کا چہرہ ضبط سے سرخ پڑ گیا۔ ولید جو بے اختیار اپنی جگہ سے اٹھنے لگا تھا، عثمان صاحب کے اشارے پر دوبارہ بیٹھ گیا۔ زوار نے اپنی جگہ بے چینی سے پہلو بدلا……نجانے کیا نتیجہ نکلنے والا تھا آج……
’’تم……میری توقع سے بڑھ کر کمینے اور ذلیل واقع ہوئے ہو……! دفع ہو جاؤ میری نظروں سے……بے غیرت انسان!!‘‘، ابوبکر صاحب ضبط کھوتے ہوئے بلند آواز میں دھاڑے۔
’’اونہہ!……مجھے گالیاں دینے کے بجائے بہتر ہو گا کہ اپنی بیٹی کو سمجھائیں……! جس کی بیوقوفانہ ضد پوری کرنے کے لیے آپ کو اب ابّا جی کی جان کی پروا بھی نہیں رہی……مگر یاد رکھیں! اگر ابّا جی کو کچھ ہوا، ……تو اس کا ذمہ دار میں نہیں، بلکہ آپ ہوں گے……!‘‘، وہ ایک انگلی اٹھا کر انہیں دھمکا رہا تھا۔
’’اور تم……؟! تم تو جیسے دن رات ایک کیے ہوئے ہو ابّاجی کی خاطر……ان کے علاج کے لیے پیسے اکٹھے کر رہے ہو……ہے ناں؟ تم جو ایک بار بھی ……دنیا دکھاوے کو ہی سہی……ہسپتال میں انہیں دیکھنے تک نہیں آئے……پھر بھی، ابّا جی کو کچھ ہوا تو ذمہ دار میں ہوں گا……؟،‘‘وہ انگوٹھے سے اپنے سینے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پوچھ رہے تھے۔
’’کم از کم میں ابّا جی کے لیے قابلِ عمل حل تو ڈھونڈتا ہوں ناں……کیا ہوا جو ان کے کمرے کے باہر بیٹھ کر میں نے نمبر نہیں بنائے……میں وہ راستہ بتا رہا ہوں جس کے ذریعے ابّا جی صحتمند اور تندرست ہو کر واپس ہمارے درمیان آ سکتے ہیں……‘‘، وہ ڈھٹائی سے بولا۔’’……مگر ہمیشہ کی طرح یہ آپ کی ضد ہے کہ آپ جمہور کی خواہشات کے خلاف ہی چلیں گے……اپنی رائے اور مرضی کو سب کی مجموعی فلاح اور بہتری کے اوپر ترجیح دیں گے……! محض اپنی بیٹی کی ضد پوری کرنے کے لیے، آپ آج عبد اللہ کے حق میں بھی برا کریں گے اور ہاشمی ہاؤس کے تمام افراد کے حق میں بھی……رہے ابّا جی، تو ان کی آپ کو کیا پروا……وہ جئیں یا مریں……آپ کی ضد پوری ہونی چاہیے۔‘‘
’’تم عمیر……انسانیت کے نام پر ایک دھبہ ہو……جس کے دل میں رشتوں کا کوئی تقدس ہے نہ احترام……اپنی خواہشات اور مفادات کی تکمیل کے لیے بار بار ابّا جی کا نام مت لو……ہم سب بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ ابّا جی کی کیا قدر و قیمت ہے تمہارے نزدیک……‘‘، اس بار عثمان صاحب آگے بڑھ کر بولے۔ ان کے لہجے سے ان کا غصّہ و نفرت عیاں تھی۔
’’میں اس گھر اور اس گھر کے لوگوں کے لیے اپنی جان بھی دے دوں، تو بھی آپ یہی کہیں گے……عثمان بھائی! حقیقت یہ ہے کہ آپ کو اور ابوبکر بھائی کو کبھی یہ بات ہضم ہی نہ ہوئی کہ میں اس گھر کی اکثریت کا چنا ہوا لیڈر ہوں……ان کا جمہوری سربراہ……میں نے ہمیشہ جمہوریت کے اصولوں کی پاسداری کی ہے، اس گھرانے کو ہر مشکل، ہر بحران سے نکالا ہے……اور جب آپ لوگ ہر مسئلے کے حل کے لیے اپنے خود ساختہ ’غیرت‘ ،’ایمان‘ اور ’دینداری‘کے پیمانوں کو لیے بیٹھے تھے، میں نے آگے بڑھ کر پریکٹیکل……قابلِ عمل اور مفید حل نکالے ہیں……‘‘، عثمان صاحب کی آنکھوں سے جھلکتی حقارت نے اسے آگ بگولا کر دیا تھا، ’’……آپ کو ایک فرد کا غم ستاتا ہے……مگر میں جمہور کا فائدہ دیکھتا ہوں، سب کی خیر اور بھلائی کا سوچتا ہوں……۔آپ محض اپنی عقل اور سمجھ سے فیصلہ کرتے ہیں……میں سب کی خواہشات اور امنگوں کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرتا ہوں……کیوں؟!……کیونکہ ہم ایک جمہوریت ہیں……!! ‘‘۔
’’تو پھر عمیر……‘‘، ابوبکر صاحب سیدھا اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولے،’’……بھاڑ میں گئی تمہاری جمہوریت……! اب یہاں سے دفع ہو جاؤ!‘‘۔
٭٭٭٭٭
’’ڈئیر زوار!
میں جا رہا ہوں۔ گھر کے حالات پہلے جیسے نہیں رہے۔تم بھی جانتے ہو کہ ہاشمی ہاؤس میں مزید رہنا اب سوائے بیوقوفی کے کچھ نہیں……اور میں جو کچھ بھی ہوں، بیوقوف ہر گز نہیں ہوں۔ تمہیں ساتھ لے جانا چاہتا تھا، مگر پیارے……تم میرے ساتھ مستقل کینیڈا منتقل ہونے پر راضی نہ ہوتے، الٹا مجھے بھی روک لیتے۔ اس لیے میں اپنے ساتھ تمہارےکاغذات نہ بنوا سکا۔
بہر حال……اب یہاں سے جانے کا وقت آ گیا ہے۔ اس گھر کے مکینوں کو میری ضرورت نہیں۔ میرے بھائیوں نے ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر مجھے دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال دیا ہے……مگر اس بار مجھے گلہ نہیں، بلکہ خوشی ہے کہ ان کی تمام سابقہ زیادتیوں کے جواب میں، میں نےبھی ان سے اپنا حصّہ مع سود وصول کر لیا ہے۔
تم ناراض مت ہونا کہ تمہیں چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ یارا کیا کروں……مجبوری ہے۔ ساتھ لے جا نہیں سکتا۔پھر بھی میں جانتا ہوں کہ فکر کی کوئی بات نہیں۔ تم چند دن کسی دوست کے پاس گزا ر لو، گھر میں ابھی سب کے جذبات مشتعل ہیں، سب ذرا ٹھنڈے ہو جائیں تو ہر بات بھول بھال جائیں گے……پھر تم آرام سے واپس آ جانا۔ ویسے میں بھی کوشش کروں گا کہ یہیں سے تمہارے کاغذات بنوالوں اور تمہیں اپنے پاس بلا لوں……اگر تم چاہو تو!۔
اچھا یار! دعا کرنا……خیریت سے کینیڈا پہنچ جاؤں پھر تم سے رابطہ کروں گا۔
تمہارا اپنا،
عمیر ‘‘
اس نے زور سے اپنی مٹھیاں بھینچ لیں۔ مٹھی میں دبا چھوٹا سا رقعہ چرمرا کر رہ گیا۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑکی کی طرف آ گیا۔ نجانے کیوں دم گھٹتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ کھڑکی کھول کر وہ گہرے گہرے سانس لینے لگا۔ اس کی آنکھیں جل رہی تھیں۔ دماغ ماؤف سا ہو رہا تھا۔
عمیر چلا گیا تھا……وہ اکیلا رہ گیا تھا۔ اسے لگا جیسے وہ کوئی ننھاسا بچہ ہو جو بھیڑ میں اپنی ماں سے بچھڑ گیا ہو۔ مگر وہ بچھڑا تو نہیں تھا……عمیر تو اسے چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ ’بروٹَس!‘، وہ تلخی سے بڑبڑایا۔ آخر اس میں اتنا حیران ہونے والی کون سی بات تھی……کیا وہ عمیر کو جانتا نہیں تھا……وہ ایسا ہی تھا، ……وہ سب کے ساتھ ایسا ہی کرتا تھا۔ اس نے کب وفا نبھانے کے کوئی وعدے یا دعوے کیے تھے۔اب بھی وہ ارشد کے ساتھ کیے جانے والے معاہدے کی یہ اہم ترین شق اسے بتانا ’بھول‘ گیا تھا۔ بیوقوف تو وہ خود تھا، جس نے یہ فرض کر رکھا تھا کہ عمیر اس کے ساتھ غداری نہ کرے گا۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ تو اس کی فطرت میں شامل تھا۔ جو یہ سمجھتا تھا کہ اس کا مفادعمیر کو اپنی ذات سے بھی بڑھ کر عزیز ہے۔
اسے پتہ بھی نہ چلا کب آنسو آنکھوں سے نکل کر گالوں پر بہنے لگے۔ یکایک وہ رو رہا تھا۔ کھڑکی کی سِل پر سر ٹکائے، وہ ہچکیوں سے رو رہا تھا……
٭٭٭٭٭
رات کے وقت اپنی والدہ، بہن اور عبداللہ کے ساتھ ایمپوریم مال میں شاپنگ کرتے اور پھر کھانا کھاتے ہوئے ارشد کو کسی قسم کے تعاقب کا ہلکا سا بھی احساس نہ ہوا تھا۔ وہ کینیڈا جانے سے پہلے ان کو آخری ٹریٹ دے رہا تھا۔ وہاں سے فارغ ہوئے تو رات کے ۱۱ بج رہے تھے۔ عبد اللہ تھکا ہارا ارشد کی گود میں اس کے کندھے سے لگا سو رہا تھا ۔ خریدا ہوا سامان گاڑی میں رکھ کر وہ ایمپوریم سے نکلے تو سب خوش اور مطمئن تھے۔ آنے والی گھڑی کی نحوست کی اس وقت کیا خبر تھی……
اپنے گھر کی طرف جاتے ہوئے وہ ایل ڈی اے ایونیو کی طرف مڑے تو جا بجا کھڈّوں کی وجہ سے ارشد نے رفتار آہستہ کر لی۔ رات کے اس پہر سڑک سنسان پڑی تھی۔ اس طویل، اندھیری اور سنسان روڈ پر اس وقت اکّا دکّا گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں ہی ہوتی تھیں۔ وہ شیشے چڑھائے ، آپس میں ہلکی پھلکی گپ شپ کرتے چلے جا رہے تھے جب پیچھے سے آتی ایک تیز رفتار موٹر سائیکل نے تیزی سے ان کا راستہ کاٹا اور کوئی پچاس گز آگے جا کر سڑک کے عین وسط میں موٹر سائیکل یوں روکی کہ راستہ بلاک ہو گیا۔ ارشد نے ایک جھٹکے سے گاڑی روکی۔ موٹر سائیکل سے اترتے اسلحہ بردار نقاب پوشوں کو دیکھ کر اس کی سٹی گم ہو گئی تھی۔
وہ اسے نیچے اترنے کا اشارہ کر رہے تھے۔ اس نے بے بسی سے رخشندہ بیگم کی طرف دیکھا جو اس ناگہانی صورتحال پر فق چہرے کے ساتھ بیٹھی تھیں۔ گاڑی کے تمام دروازے لاکڈ اور شیشے چڑھے ہوئے تھے۔ ایک لمحے کو ارشد نے سوچا کہ وہ اندر ہی بیٹھا رہے، ساتھ ہی اس نے کسی کو مدد کے لیے پکارنے کے لیے جیب سے موبائل نکالا۔ مگر باہر کھڑے پیشہ ور لٹیرے شاید اسی بات کی توقع کر رہے تھے۔ انہوں نے اسے مزید موقع دیے بغیر ہوائی فائر کردیا۔ رخشندہ بیگم اور پیچھے بیٹھی سندس کی چیخیں نکل گئیں۔ شور شرابے سے عبد اللہ بھی جاگ گیا تھا اور ڈر کے مارے پورے زور و شور سے رو رہا تھا۔
’’باہر نکلو ہیرو……! اور مزید ہوشیاری دکھانے کی کوشش نہ کرو!……‘‘، ایک نقاب پوش نے سخت لہجے میں ارشد کو اشارہ کیا۔ ناچار وہ دروازہ کھول کر اتر گیا۔
’’گاڑی کی چابی حوالے کرو……!‘‘، پہلے نقاب پوش نے چابی کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا۔دوسرا نقاب پوش تیزی سے آگے بڑھ کر اس کی تلاشی لے رہا تھا ۔ اس کا والٹ ، موبائل ، گھڑی……سب چیزیں اتار کر وہ ساتھ لائے تھیلے میں ڈال رہا تھا۔ایک منٹ سے بھی کم وقت میں ارشد سے فارغ ہو کر اس نے گاڑی میں بیٹھی خواتین کی طرف اشارہ کیا۔
’’ جلدی سے سب قیمتی سامان اس میں ڈال دو……‘‘۔ رخسانہ بیگم کا زیور اور سندس کا موبائل اور والٹ لیتے ہوئے ایک نقاب پوش ڈاکو نے عبد اللہ کی طرف اشارہ کیا۔’’اس کو بھی لے چلو استاد……کم از کم اس کا شور تو بند ہو……!‘‘۔
موٹر سائیکل پر بیٹھے ہوئے ان کے تیسرے ساتھی نے آواز دی، ’’……ہاں استاد! موٹی آسامی ہے……لے چلو! مگر جلدی کرو……!‘‘۔
’’ٹھیک ہے……اٹھاؤ اس کو اور چلو……!‘‘، استاد نے گویا فیصلہ سنایا اور قبل اس کے کہ ارشد کوئی احتجاج کر پاتا، ایک نقاب پوش ڈاکو بڑے آرام سے عبداللہ کو گود میں اٹھا کر واپس اپنی موٹر سائیکل کی طرف بڑھ رہا تھا۔
’’……ٹھہرو!! خدا کے لیے میرے بیٹے کو چھوڑ دو!!……تم سب کچھ لے چکے ہو، بچے کو چھوڑ جاؤ……اس نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟!‘‘، ارشد بے چارگی سے بولا۔
’’چھوڑ جائیں گے استاد……!‘‘، ڈاکوؤں کا استاد اس پر پستول تانے الٹے قدم اپنے ساتھیوں کی طرف بڑھ رہا تھا،’’……تم دو کروڑ روپے تیار رکھنا……یہیں اسی سڑک پر چھوڑ جائیں گے!……فی الحال شکر کرو کہ تمہاری گاڑی ساتھ نہیں لے جا رہے……‘‘۔ اور اس سے پہلے کہ ارشد مزید کچھ کہتا، وہ تینوں نقاب پوش، عبداللہ کو اپنے درمیان پھنسائے ، موٹر سائیکل پر سوار ہو کر رات کی تاریکی کا حصّہ بن چکے تھے۔
ارشد ، سندس اور رخشندہ بیگم کے ساتھ بے بسی اور لاچاری کے عالم میں وہیں کھڑا سوچ رہا تھا……جانے کس جرم کی پائی ہے سزا……؟!!
٭٭٭٭٭
محض دو سڑکیں دوروہ دونوں نقاب پوش ایک سنسان گلی کی طرف مڑتے ہوئے اپنے نقاب اتار چکے تھے۔ ان کے درمیان سہما ہوا خوفزدہ عبداللہ دو چپت کھا کر اب بالکل سُن ہوا بیٹھا تھا۔ گلی میں ایک درخت کے پاس بائیک روکتے ہوئے ایک ڈاکو عبداللہ کو گود میں لیے اتر گیا۔ اسی وقت ایک شخص دیوار کے سائے سے نکل کر ان کی طرف بڑھا۔
’’لے بھائی!……سارا قرض چکا دیا تیرا۔ اب یاد رکھیو، آئندہ ہماری خدمات یوں مفت میں نہیں ملیں گی……یہ تو اگر تیرے احسان نہ ہوتے مجھ پر تو یوں مفت کام کبھی نہیں کرتا میں……‘‘، استاد احسان جتاتے ہوئے بولا۔
نو واردنے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے پوچھا،’’ارشد کو شک تو نہیں ہوا؟……پیچھے تو نہیں آیا تم لوگوں کے؟‘‘۔
’’ہمارے پیچھے……؟‘‘، استاد نے قہقہہ لگایا،’’……اتنا بیکار کام نہیں کرتا میں……ابھی تو اسے وہاں سے ہلنے میں بھی نجانے کتنا وقت لگے گا‘‘، اس نے جیب سے ارشدکی گاڑی کی چابی نکال کر ہوا میں اچھالی اور دوبارہ کیچ کر لی۔’’یہ سامان جو اس سے لایا ہوں، اس میں سے تجھے حصّہ نہیں دوں گا……یہ صرف ہمارا ہے……‘‘، وہ اپنے ساتھیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔
’’……تم نے اسے لوٹ بھی لیا……؟! میں نے صرف عبداللہ کو لانے کو کہا تھا!……‘‘، نو وارد حیرت سے بولا، مگر استاد صرف ہنس کر اور ہاتھ ہلا کر اپنے ساتھی کو بائیک سٹارٹ کرنے کا اشارہ کر چکا تھا۔ اگلے ہی لمحے ان کی بائیک ہوا سے باتیں کر رہی تھی۔
’’…… ہیں تو یہ ڈاکو ہی……یہی تو ان کا پیشہ ہے۔ اب یہ تو انہوں نے کرنا نہیں تھا کہ بچہ لاتے اور اور خود کوئی فائدہ حاصل نہ کرتے……‘‘، وہ اپنے آپ سے بڑبڑایا۔ اس نے خاموشی سے سہمے کھڑے عبداللہ کو اٹھا کر پاس کھڑی اپنی بائیک کی ٹنکی پر بٹھایا اور خود بھی ساتھ بیٹھتے ہی بائیک کو کک لگا دی۔
جب سے اس نے عمیر اور ارشد کے درمیان ہونے والی یہ گفتگو سنی تھی جس میں ارشد عبداللہ کوکینیڈا لے جانے سے پہلے آخری دفعہ نسرین سے ملوانا چاہتا تھامگر عمیر نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ یہ ملاقات محض مزید مشکلات کا سبب بنے گی، تب سے نذیر کے اندر کسی چیز نے انگڑائی لینا شروع کر دی تھی۔ وہ ولید کو بتا چکا تھا، لیکن جب تک ولید کوئی قانونی کارروائی کرتا ، عبد اللہ کینیڈا پہنچ چکا ہوتا، اس لیے اس نے سوچا کہ ماضی کی سیاہیاں مٹانے کے لیے کچھ اچھا کر لے، لیکن یہ اچھا بھی اس نے اپنے انہی ڈاکو دوستوں کے ساتھ مل کر کیا جن کے ساتھ مل کر اس نے عمیر کے کہنے پر پہلے ہاشمی ہاؤس کو لوٹا تھا۔
آدھے شہر کا چکر کاٹ کر گھنٹہ بھر بعد وہ عبد اللہ کو لیے ہاشمی ہاؤس کے باہر رات کے اندھیرے میں کھڑا تھا ۔ اس نے فون کر کے ولید کو جلدی سے گھر سے باہر آنے کو کہا۔ ولید گھر سے یہ سوچتے ہوئے نکلا کہ کہیں کسی اور آفت کی خبر لے کر تو نذیر نہیں آ گیا۔ ولید کے گیٹ سے باہر نکلتے ہی نذیر نے ولید کا ہاتھ پکڑا اور اس کو ایک طرف لے گیا۔ عبد اللہ ولید کے سامنے کھڑا تھا اور ولید حیران و ششدر۔
’’……ماموں!!‘‘، عبداللہ اسے پہچان کر زور سے اس سے لپٹ گیا۔
ولید نے نذیر کی طرف دیکھا تو وہ فوراً سے بول پڑا:’’ولید بھائی……میں بے ضمیر ضرور ہوں جی……مگر بالکل بے حس نہیں ہوں ……میرا اپنا بھی چھوٹا سا بچہ ہے …… ماں کے بغیر وہ بھی ادھ موا ہو جاتا ہے…… بس میں نے سوچا جی کہ اس گھر کا نمک بھی کھایا ہے اور نمک حرامی بھی بہت کی ہے تو……‘‘۔
بہر حال اب عبداللہ ان کے پاس واپس آ گیا تھا۔ ولید تصور ہی تصور میں نسرین کا حیران، خوش اور بے یقین چہرہ دیکھ سکتا تھا۔ لیکن اس نے جلدی میں سوچا کہ آئندہ چند دنوں تک تو عبداللہ کو گھر میں لے جانا ٹھیک نہیں۔ اس کی بازیابی کی خبرفی الحال صرف اس کے اور نذیر کے درمیان رہنی چاہیے تھی۔ یہاں تک کہ ارشد کے آئندہ اقدامات کی خبر ہو جاتی، پھر وہ سوچ سمجھ کر اور اپنے بڑوں کو اعتماد میں لے کر ہی اگلے لائحۂ عمل کے بارے میں سوچ سکتے تھے۔
٭٭٭٭٭
ٹورونٹو پیئرسن انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر اپنے ڈاکومنٹس متعلقہ حکام کو دکھاتے، اپنا سامان وصول کرتے اور چیک آؤٹ کرتے وہ بے حد مطمئن تھا۔ شاداں و فرحاں۔ بہر لحاظ کامیاب۔ دو سال قبل اس نے کب سوچا تھا کہ محض باتوں باتوں میں کیا گیا اس کاا یک مطالبہ اس کے حق میں اتنا مفید ثابت ہو گا۔ جمہوریت نے ہاشمی ہاؤس اور ا س کے باسیوں کو کیا دیا، اسے یہ سوچنے کی فرصت تھی نہ ضرورت……ہاں جمہوریت نے اسے کیا دیا……یہ وہ بخوبی جانتا تھا۔
جانے کس احمق نے کہا ہے کہ جمہوریت نام ہے انسانوں پر انسانوں کی انسانوں کی بہتری کے لیے حکومت کا……انسانوں کی مجموعی فلاح کے لیے حکومت کا۔ کوئی اس سے پوچھتا تو وہ بتاتا……جمہوریت کے ثمرات سے بھی ایک مخصوص گروہ ہی مستفید ہوتا تھا۔ جمہوریت بھی چند افراد کے مفادات کے تحفظ ہی کا نام تھا……ہاں مگر……اس نظام میں دیگر افراد کو یہ تسلّی رہتی کہ سب کچھ ان کی خواہشات کے مطابق ہی ہو رہا ہے۔ وہ لٹتے تو اپنی مرضی سے لُٹتے تھے۔ وہ پِستے تو پوری دلی رضامندی کے ساتھ……بے شک ’جمہوریت بہترین انتقام ہے!‘۔
اس کا جی چاہا خوب دل کھول کر ہنسے۔ یقیناً اب تک گھر کے افراد اس کے گھر چھوڑ کر چلے جانے سے باخبر ہو چکے ہوں گے۔ شاید اب ان کو کچھ افسوس بھی ہوا ہو……مگر یقیناً وہ اس کے از خود چلے جانے پر خوش ہی ہوں گے……فی الحال……!
اس کے ہونٹوں پر ایک پر اسرار مسکراہٹ چمکی۔ ہاشمی ہاؤس کے مکینوں کے لیے اس کا آخری تحفہ ابھی تک صیغۂ راز میں تھا……اگرچہ یہ راز جلد ہی ان پر کھلنے والا تھا۔ اس نے جیب سے سربراہ ہاشمی ہاؤس کی مہر نکالی……جمہوریت کی آخری نشانی… جس کا آخری استعمال بھی وہ کر آیا تھا۔ جوہر ٹاؤن میں موجود ان کے کاروبار کی مرکزی برانچ کا نہایت منافع بخش نرخوں پر سودا……اب اسے ابّا جی کی جائیداد میں سے کسی حصّے کی ضرورت نہیں تھی۔ اس کے پاس اتنا تھا کہ ساری زندگی بھی بیٹھ کر کھاتا تو کم نہ پڑتا۔
ائیر پورٹ کے وسیع و عریض احاطے میں کھڑی ٹیکسیوں کی جانب بڑھتے ہوئے اس نے یہ مہر قریب رکھے ایک کچرا دان میں اچھال دی، اسکا مقصد پورا ہو چکا تھا۔
٭٭٭٭٭
تاریخ نے پوچھا اے لوگو ……!یہ دنیا کس کی دنیا ہے؟
شاہی نے کہا یہ میری ہے،اور دنیا نے یہ مان لیا……
پھر تخت بچھے، ایوان سجے،
گھڑیال بجے ،دربار لگے
تلوار چلی… اور خون بہے
انسان لڑے، انسان مرے
دنیا نے آخر شاہی کو، پہچان لیا ……پہچان لیا
تاریخ نے پوچھا پھر لوگو……!یہ دنیا کس کی دنیا ہے؟
دولت نے کہا یہ میری ہے، اور دنیا نے یہ مان لیا
پھر بینک کھلے، بازار جمے،
بازار جمے، بیوپار بڑھے
انسان لٹے، انسان بکے……
آرام اڑے ،سب چیخ اٹھے
دنیا نے آخر دولت کو،پہچان لیا…… پہچان لیا
تاریخ نے پوچھا پھر لوگو…! یہ دنیا کس کی دنیا ہے؟
محنت نے کہا یہ میری ہے، اور دنیا نے یہ مان لیا
پھر روح دبی ،پھر پیٹ بڑھے،
افکار سڑے ،کردار گرے
ایمان لٹے ،اخلاق جلے،
انسان نرے حیوان بنے
دنیا نے آخر محنت کو، پہچان لیا ……پہچان لیا
تاریخ نے پوچھا پھر لوگو……!!یہ دنیا کس کی دنیا ہے؟
مومن نے کہا اللہ کی ہے، اور دنیا نے یہ مان لیا
پھر قلب و نظر کی صبح ہوئی……
اک نور کی لے سی پھوٹ بہی
اِک اِک خودی کی آنکھ کھلی……
فطرت کی صدا پھر گونج اٹھی
دنیا نے آخر آقا کو،پہچان لیا …پہچان لیا……!!
(چند ماہ بعد……)
ہاؤس نمبر ۴۳۴، اے بلاک ، ماڈل ٹاؤن۔
یہ ہاشمی ہاؤس ہے۔ یہاں بیرسٹر طفیل ہاشمی کے تین بیٹے، ابوبکر ہاشمی، عثمان ہاشمی اور جاوید ہاشمی اپنے اپنے خاندانوں کے ساتھ رہتے ہیں۔کسی زمانے میں نہایت شان و شوکت کا حامل یہ گھر آج قدرے شکستہ حال نظر آتا ہے۔ پورچ میں جہاں کبھی چار چار گاڑیاں کھڑی ہوتی تھیں، آج محض ایک پرانے ماڈل کی کلٹس اور تین موٹر سائیکلیں کھڑی نظر آتی ہیں۔ گیٹ پر کھڑے پہرے پر مامور گارڈز کو فارغ کر دیا گیا ہے۔گھر کی پچھلی جانب سرونٹ کوارٹر بھی خالی پڑے ہیں۔ مالی مشکلات کے سبب گھر کے عیسائی ملازم پرویز کو اس کی فیملی سمیت برخواست کر دیا گیا ہے۔ یوں بھی جب گاڑیاں ہی نہ رہیں تو ڈرائیور کا کیا کام۔ نذیر بھی اپنی والدہ اور بیوی بچے سمیت واپس گاؤں چلا گیا ہے۔ ہاشمی ہاؤس میں اب سب لوگ اپنے کام خود کرتے ہیں۔
ملازمین کی عدم موجودگی میں گھر کی لڑکیاں تمام کام خود کرتی ہیں۔ گھر کی صفائی ستھرائی سے لے کر کچن کے تمام کام، اپنی اپنی ماؤں کی زیر نگرانی بخوبی انجام دیے جاتے ہیں۔ابتداً یہ سب ان کو مشکل لگا، مگر عادت ڈالنے اور پختہ ہونے میں کتنا وقت لگتا ہے…… کام کرتے رہنے سے فارغ ہاتھ عادی بھی ہو گئے ہیں اور مشاقی بھی آ گئی ہے۔ نیز دماغوں کے پاس فارغ وقت میں بیکار خیالات سوچنے کی فرصت بھی باقی نہیں رہی۔
صبح سویرے سب بچے سکول جاتے ہیں۔ چھوٹے بچوں اور بہنوں کوان کے سکول و کالج پہنچانے اور واپس لانے کی ذمہ داری زین اور اویس کے پاس ہے۔ اگر چہ گھر کے سب بچوں اور لڑکیوں کو ان کے مختلف اداروں میں چھوڑنے اور لانے کے لیے انہیں بہت جلدی اٹھنا پڑتا ہے اور دو، دو چکر لگانے پڑتے ہیں، مگر سخت نظم و ضبط کی پاسداری کرتے ہوئے وہ یہ ڈیوٹی خوشدلی سے انجام دے رہے ہیں۔ بچوں کے نکلنے کے ساتھ ہی تیسری بائیک پر ولید و زوار اور گاڑی پر جاوید اور ابوبکرصاحب اکٹھے نکلتے ہیں۔
ان سب کے جانے کے بعد گھر کی خواتین اپنے اپنے کام نمٹاتی ہیں۔ بارہ بجے کے بعد عموماً وہ سب فارغ ہو جاتی ہیں۔ پھر یا تو کبھی چائے پینے کے بہانے اکٹھی ہو جاتی ہیں یا کوئی نہ کوئی بہو ابّا جی کی خدمت و دلداری کے لیے ان کے پاس جا بیٹھتی ہے۔ ابّا جی اگرچہ پہلےسے کمزور دکھائی دیتے ہیں، اس کے باوجود ان کے چہرے پر دل کے اطمینان اور سکون کی جھلک صاف دیکھی جا سکتی ہے۔ دوسری طرف عثمان صاحب کے پورشن میں ، عثمان صاحب بھی تیزی سے رو بہ صحت ہیں۔ وہ اب بغیر سہارے کے چلنے پھِرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔ اگرچہ ان کے بھائی اور بھتیجے انہیں کچھ عرصہ مزید آرام کرنے کی تلقین کرتے ہیں، اس کا باوجود وہ اب ہفتے میں چند دن ضرور کاروبار ی کاموں میں شرکت کرنے کی خاطر دکان پر جاتے ہیں۔
ان کی مصروفیات ایک بار پھر بحال ہو گئی ہیں، مگر تمام تر مصروفیات میں بھی وہ تینوں بھائی اب اپنے گھر والوں کو وقت دینا نہیں بھولتے۔ عثمان صاحب ہر شام چائے کے وقت گھر کی تمام بیٹیوں کو اکٹھا کر کے ان کے ساتھ مختلف دینی و دنیاوی موضوعات پر گفتگو کرتے ہیں۔ اکثر ہی ان کی اس محفل میں صولت بیگم، فائزہ بیگم اور بینش بھی خاموش سامع کی حیثیت سے شریک ہو جاتی ہیں۔
عبداللہ بخیر و عافیت گھر واپس آ چکا ہے اور ماں کی آغوش میں خوش و مطمئن اور محفوظ و مامون ہے۔ ارشد کینیڈا لوٹ چکا ہے۔ انہیں اگرچہ ابھی ایک طویل قانونی جنگ کا سامنا ہے، مگر وہ پر امید ہیں کہ اس میں فتح انہی کی ہو گی۔
ہاشمی ہاؤس آج بھی قرضوں کے پہاڑ تلے دبا ہوا ہے۔ معاشی و اقتصادی سہارے پہلے کی نسبت بہت کم ہیں ……مگر کام کرنے کی ہمت و حوصلہ اور اپنا پرانا مقام و جگہ حاصل کرنے کا عزم و ارادہ جوان ہے۔ گزشتہ دو سال کے عرصے میں انہوں نے بہت سی غلطیاں کی ہیں اور بہت سے اسباق حاصل کیے ہیں، ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جو اپنی غلطیوں پر پشیمان ہیں، مگر تلافی کرنا چاہتے ہیں۔ اپنے کیے کا بھگتان بھگتنا چاہتے ہیں۔ اپنی غلطیوں کو سدھار کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ سو اگر صبح کا بھولا شام کو گھر واپس آ جائے، تو اسے بھولا نہیں کہتے۔
آج ہاشمی ہاؤس میں جمہوریت کی حکومت نہیں…… اللہ والوں کی حکومت ہے۔ اور اب اہالیانِ ہاشمی ہاؤس کو راستہ بہ سمتِ منزل سیدھا ، صاف اور واضح نظر آ رہاہے۔
(ختم شد)
٭٭٭٭٭






