اب تک کی بحث سے اتنی بات سمجھ آچکی کہ اس آیت ﯚ وَمَن لَّمْ یَحْکُم بِمَا أَنزَلَ اللّہُ فَأُوْلَـئِکَ ہُمُ الْکَافِرُونَﯙمیں جو یہ بیان کیا گیا ہے کہ ’’جو اللہ تعالیٰ کی شریعت سے فیصلہ نہ کریں وہ کافر ہیں‘‘،اس کافر ہونے کی تفصیل اسلافِ امت نے بیان کی ہے،جو خوارج سے ہٹ کر اور آج کے جدید مرجئہ سے بچ کر اہل سنت والجماعت کا راستہ ہے۔ اب اس کو ہم مزید تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے۔
سب سے پہلے یہ سمجھنا چاہیے کہ شریعت میں کفر کی دو اقسام بیان کی گئی ہیں۔
أ۔ کفرِ اکبر: اس کو کفرِ حقیقی بھی کہا جاتاہے۔یہ ایسا کفر ہے جو دائرہ اسلام سے خارج کردیتا ہے ۔جس کے نتیجے میں نکاح بھی ٹوٹ جاتا ہے۔
ب۔ کفرِاصغر:اس کو کفرِ مجازی بھی کہتے ہیں۔اس کو علما ’’کفر دون کفر‘‘ بھی کہتے ہیں۔یہ ایسا کفر ہے جو دائرہ اسلام سے خارج نہیں کرتا۔
جولوگ اللہ تعالیٰ کی شریعت سے فیصلہ نہیں کرتے،ان کے بارے میں سلف صالحین کی بیان کردہ تفسیر کو تفصیل سے بیان کردیا گیا ہے۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اورتابعین وفقہا،مفسرین اور محدثین رحمہم اللہ نے اس آیت کا مطلب یہ بیان فرمایا کہ :
’اگر کوئی قرآن کے قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کو واجب نہ سمجھے تو یہ کفرِ اکبر میں مبتلا ہے۔لہٰذا وہ ایسا کافر ہے جو دائرۂ اسلام سے مکمل خارج ہوچکا۔لیکن اگر کوئی قرآن کے قانون سے فیصلہ کرنے کو واجب سمجھتا ہے،لیکن عملاً اس کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا،البتہ اپنے اس عمل کو گناہ سمجھتا ہے تو یہ کفرِ اصغر ہے جو ملت سے خارج نہیں کرتا، ایسا شخص فاسق ہے‘۔
اس بات کو امام صدرالدین ابن العز حنفی ؒ(۷۳۱ھ تا۷۹۲ھ) نے ’’شرح عقیدۃ الطحاویۃ‘‘ میں مزید تفصیل سے بیان کیا ہے۔یہ کتاب علمائے عرب میں بھی مقبول ہے۔یاد رہے کہ ’’عقیدۃ الطحاویۃ‘‘ عقیدے کی مشہورکتاب ہے جوتمام بڑے مدارس میں پڑھائی جاتی ہے، اور امام طحاویؒ احناف کے چوٹی کے اماموں میں سے ہیں۔فرماتے ہیں:
’’یہاں اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھنا ضروری ہے،وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کی شریعت کے علاوہ سے فیصلہ کرنا،کبھی ایسا کفر ہوتا ہے جو دائرہ اسلام سے خارج کردیتا ہے اور کبھی گناہِ کبیرہ یا صغیرہ ہوتا ہے اور کبھی کفرِ مجازی یا کفرِاصغر ہوتا ہے۔اس بات کا تعلق حاکم کی حالت سے ہے۔
اگرحاکم (یا ریاست)یہ نظریہ رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق فیصلہ کرنا واجب نہیں ہے،(اور اس کا یہ نظریہ ہے کہ )وہ اس فیصلہ کرنے میں بااختیار ہے(چاہے اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق فیصلہ کرے چاہے اس کے علاوہ سے)یا حاکم(یا ریاست)اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کو اہمیت نہ دے،اگرچہ وہ اس بات کا یقین رکھتا ہو کہ یہ اللہ تعالیٰ کا قانون ہے،تو یہ تمام صورتیں کفرِ اکبر(یعنی ایسا کفرجو مرتد بنادیتا ہے)کی ہیں۔
اوراگر وہ اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کوواجب سمجھتا ہے، اوراس فیصلہ میں اس کو اللہ تعالیٰ کے قانون کا علم بھی تھا،پھر اس قانون سے فیصلہ کرنے سے روگردانی کر جاتا ہے،اس اعتراف کے ساتھ کہ اس عمل سے وہ عذاب کا مستحق ٹھہرے گا،تو ایسا حاکم (یا ریاست)گناہ گارہے۔اس کو ایسا کافر کہا جائے گا جو کفرِ مجازی یا کفرِ اصغر میں مبتلا ہے۔اور اگر اس فیصلے میں اللہ تعالیٰ کے قانون سے ناواقف ہو،لیکن اس قانون کو جاننے کی جدوجہد کی اور حتی الامکان کوشش کی،پھر فیصلے میں غلطی کرگیا تو یہ ’غلطی کرنے والا‘ کہلائے گا۔اس کو اس کے اجتہاد کی نیکی ملے گی اور اس کی خطا معاف ہے۔‘‘1
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ’’منھاج السنۃ‘‘ میں فرماتے ہیں:
’’اور اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت سے فیصلے کے واجب ہونے کا نظریہ نہ رکھے تو ایسا شخص کافر ہے، چنانچہ شریعت کے علاوہ کسی (نظام) کو عدل وانصاف سمجھتے ہوئے لوگوں کے مقدمات کا فیصلہ کرنے کو قانونی (حلال) سمجھے،وہ کافر ہے۔‘‘2
امام ابن قیم رحمہ اللہ (۶۹۱ھ۔۷۵۱ھ بمطابق ۱۲۹۲ء۔۱۳۵۰ء) نے بھی ’’مدارج السالکین‘‘ میں یہی تفصیل بیان کی ہے جو امام ابن ابی العز حنفی رحمہ اللہ نے بیان کی ہے۔فرماتے ہیں:
’’اورصحیح بات یہ ہے کہ قرآن کے علاوہ فیصلہ کرنے میں دو قسم کا کفر ہوسکتا ہے،(ایک) چھوٹا کفر(دوسرا) بڑا کفر،اس کادارومدارحاکم کی حالت پر ہے۔‘‘3
آگے وہی تحقیق ہے جو امام ابی العز حنفی رحمہ اللہ نے بیان کی ہے۔
امام ابوجعفرنحاس رحمہ اللہ (۳۸۸ھ) کی تحقیق لکھی جا چکی ہے کہ فرمایا:
’’میں کہتا ہوں کہ فقہا کا اس بات پر اجماع ہے کہ جو شخص یہ بات کہے کہ شادی شدہ زانی کو رجم کرنا واجب نہیں تو وہ کافر ہوگیاکیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کے ایک قانون کو ردکردیا۔‘‘4
امام ابوبکر جصاص حنفی رحمہ اللہ نے ’’احکام القرآن‘‘ میں ایک اور نکتہ بیان فرمایا ہے،جو آج ان لوگوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے جو غیر اسلامی آئین کو اسلامی ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں،اورغیر اسلامی آئین سے فیصلہ کرتی عدالتو ں کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ اسلامی آئین کی رو سے فیصلے کرتی ہے۔فرماتے ہیں:
’’فَاِنْ کَانَ الْمُرَادُ جُحُودَ حُکْمِ اللّٰہ أَوْالْحُکْمُ بِغَیْرِہِ مَعَ الأِخْبَارِ بِأَنَّہُ حُکْمُ اللَّہِ ،فَھَذَاکُفْرٌیُخْرِجُ عَنْ الْمَلَّۃِ وَفَاعِلُہُ مُرْتَدٌ۔‘‘
’’اوراگر(اس آیت میں کفرسے)مراد اللہ کے قانون سے فیصلہ کرنے کا انکار یا قرآن کے علاوہ سے فیصلہ کرکے یہ کہنا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے قانون سے فیصلہ کیا گیا ہے،تو یہ (دونوں صورتیں)ایساکفرہے جو ملت اسلام سے خارج کردیتا ہے،اور ایسا کرنے والا مرتد ہے۔‘‘5
جمہوری عدالتیں اورجج
جمہوری نظام کی عدالتیں صرف اسی قانون کے تحت فیصلہ دینے کو واجب سمجھتی ہیں جو قانون اس نظام کے تحت آئین کا حصہ قراردیا گیا ہو۔اس کے علاوہ وہ کسی بھی قانون کے مطابق فیصلے کو حرام یعنی غیر آئینی سمجھتی ہیں۔ اس قدر حرام سمجھتی ہیں کہ وہ اس قانون کے علاوہ کسی اور قانون (خواہ اللہ ہی کا ہو)کو پڑھنا بھی وقت کا ضیاع سمجھتی ہیں۔ ان کے کالجوں میں وہی کفریہ قانون پڑھایا جاتا ہے اور اسی پر مقدمہ لڑنے اورجج بننے کی سند عطا کی جاتی ہے۔اس کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کے قانون کا کوئی کتنا ہی بڑا عالم و مفتی کیوں نہ ہو،وہ ان کے نزدیک اس قابل ہی نہیں کہ اس کو وکالت یا جج کی سند عطا کی جائے۔بلکہ یہ لوگ علما کو حقیر اورجاہل سمجھتے ہیں۔اس سے ان کے عقیدے کا اندازہ کرنے میں اہلِ علم کو کوئی دشواری نہیں ہونی چاہیے کہ ان کاایمان کس قانون پر ہے،اللہ تعالیٰ کے قانون پر یا اپنے ہاتھوں سے تراشے ہوئے پر؟
چلیے اگر کسی کو ضد ہے کہ وہ بغیر دلیل کے اپنی ضد پر ڈٹ کر ان کو پہلے ذمے (کفرِ اکبر والے)میں شامل نہیں کرتا ،تو ہم پوچھتے ہیں کہ وہ ان کو دوسرے زمرے میں کس طرح شامل کرسکتا ہے جب کہ امام ابن ابی العز حنفیؒ کفرِ اصغر والی صورت میں یہ شرط بیان کررہے ہیں کہ ’’اللہ تعالیٰ کے قانون کے علاوہ فیصلہ کرنے والا یہ یقین رکھتا ہو کہ ایسا کرنے سے وہ عذاب کا مستحق ہوگا‘‘؟
آپ ذرا جمہوری نظام کے تحت چلنے والی عدالتوں اور ججوں کا حال ملاحظہ فرمائیے کہ وہ کس دھڑلے سے اللہ تعالیٰ کے قانون کے علاوہ فیصلے کرتے چلے آرہے ہیں، اور اپنے آپ کو عذاب کا مستحق سمجھنا تو دور کی بات، خود کو منصف،قاضی اور اللہ کا ولی شمار کرتے ہیں۔لہٰذا ایک حرام بلکہ کفر کرنے کو اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ سمجھنا تمام علمائے امت کے نزدیک ایسا کفر ہے جو دین سے خارج کردیتا ہے ۔اورامام صاحب کے نزدیک بھی یہ لوگ دوسرے زمرے میں داخل نہیں سمجھے جائیں گے۔
علمائے حق سے چند گزارشات
کیاموجودہ پارلیمنٹ،عدالتیں اور ان کے جج یہ نظریہ نہیں رکھتے کہ:
تمام مقدمات(خصوصاًسود،زنا،چوری وغیرہ) میں اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ سنانا ان پر واجب نہیں ہے، بلکہ ان پر واجب اس قانون کے مطابق فیصلہ سنانا ہے جو پارلیمنٹ میں منظورہوکر آئین کا حصہ بنادیا گیا۔
امام صدرالدین ابن ابی العزحنفی اور امام ابن قیم رحمہمااللہ اس وقت کفرِ اکبر کا حکم بیان کررہے ہیں جب کہ حاکم یہ نظریہ رکھتا ہو کہ اس کا اختیار ہے، چاہے وہ قرآن سے فیصلہ کرے چاہے غیرِ قرآن سے۔جب کہ یہاں صورت حال یہ ہے کہ حاکم غیرِ قرآن سے فیصلہ کرنے کو ہی اپنے اوپر فرض کیے بیٹھے ہیں۔بلکہ وہ حلف ہی اس کا اٹھاتا ہے کہ وہ اسی آئین کے مطابق فیصلہ کرے گا جو غیر اللہ (پارلیمنٹ)کی جانب سے منظورہوگا۔
کیاموجودہ نظام قرآن سے فیصلہ کرنے کواہمیت دیتا ہے؟بلکہ یہ تو قرآن کے قانون (سنگ ساری،کوڑے،ہاتھ کاٹنا،قصاص،سود کی ممانعت وغیرہ)کے نفاذ کو قوت سے روکتا ہے،اس کوناقابلِ عمل سمجھتا ہے۔قرآن وسنت اورفقہ کی بجائے ان کے لاء کالجوں میں وہی قانون پڑھایا جاتا ہے جو انگریزوں نے بنایا ہے۔
کیااس عدالتی نظام میں کوئی اپنے آپ کوگناہ گارسمجھتا ہے؟
کیا غیرِ قرآن سے فیصلہ کرتی عدالتوں کو اسلامی آئین سے فیصلہ کرنے والی عدالت کہہ کر ان کو اسلامی قرار نہیں دیاجارہا؟
سوعلمائے حق سے درخواست ہے کہ وہ امام صدرالدین ابن ابی العز حنفیؒ کی یہ عبارت ان نام نہاد اہلِ علم کو اچھی طرح سمجھائیں:
فانہ ان اعتقد أن الحکم بما أنزل اللہ غیر واجب، وأنہ مخیر فیہ،أو استھان بہ مع تیقنہ أنہ حکم [اللہ] فھذا کفر أکبر…
’’اگرحاکم (یاریاست)یہ نظریہ رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق فیصلہ کرنا واجب نہیں ہے،(اور اس کا یہ نظریہ ہے کہ )وہ اس فیصلہ کرنے میں بااختیار ہے(چاہے اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق فیصلہ کرے چاہے اس کے علاوہ سے)یا حاکم(یا ریاست)اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کو اہمیت نہ دے،اگرچہ وہ اس بات کا یقین رکھتا ہو کہ یہ اللہ تعالیٰ کا قانون ہے،تو یہ تمام صورتیں کفرِ اکبر(یعنی ایسا کفرجو مرتد بنادیتا ہے)کی ہیں۔‘‘
اس عبارت میں بیان کی گئی ہر ایک بات الگ الگ،مستقل،کفرِ اکبر ہے۔ جب کہ اس باطل نظام میں یہ تمام کفرِ اکبر جمع ہیں۔
سوکیافرماتے ہیں علمائے کرام ان لوگوں کے بارے میں جنہوں نے اپنی عدالتوں کی بنیاد،مرجع ومأخذ اللہ کی کتاب کو چھوڑکرانسانوں کو بنا لیا ہے۔ یہ عدالتیں اسی کے مطابق فیصلہ کرنے کی پابند ہیں،اسی پر عدلیہ میں حلف لیا جاتا ہے اور ساری عمر اسی حلف کی پاس داری و وفاداری میں گزاردی جاتی ہے؟اسی کے بدلے اجر(تنخواہ،پرموشن)اوراس کے خلاف کرنے پر عذاب(نوکری کا خاتمہ) کا یقین… یہ سب کیا ہے؟
نیز امام صاحبؒ کی عبارت کے یہ الفاظ بھی نہایت غور طلب اور مدعا میں واضح ہیں کہ ’’مع تیقنہ أنہ حکم اللہ‘‘کہ حاکم اگرچہ یہ یقین رکھتا ہوکہ یہ آیات واحکامات اللہ تعالیٰ ہی نے نازل کیے ہیں لیکن اگر اس کے باوجود فیصلہ اس کے مطابق نہ دے تو بھی کفرِ اکبر کا مرتکب ہے! اسلام کے ساتھ دوسرا دین قبول نہیں۔
اگر علما یہ کہتے ہیں کہ موجودہ جمہوری عدالتی نظام اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ قانون پر ایمان رکھتا ہے لہٰذا ان پر کفرِ اکبر کا حکم نہیں لگ سکتا ،تو ان علما سے درخواست ہے کہ جن مفسرین کی تفسیر پیچھے بیان کی گئی ہے اس کو دوبارہ پڑھیں اور پھر دیکھیں کہ کیا موجودہ جمہوری نظام میں وہی باتیں نہیں پائی جا تیں جن کو اسلافِ امت نے کفرِ اکبر کہا ہے؟نیز یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ کیا صرف زبان سے قرآن کو حق تسلیم کرنے کا نام ایمان ہے؟ایک طبقہ زبان سے یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ قرآن پر ایمان رکھتا ہے لیکن جس چیز کو قرآن نے کفر کہا،اس کوکفر نہیں مانتا،تو کیا یہ مسلمان ہوسکتا ہے؟کیا یہ خود اپنے قول کی تردید نہیں کررہا ؟اسی طرح اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ وہ قرآن کی ساری آیات پر پکا ایمان رکھتا ہے لیکن کسی خاص بت کو سجدے کرنے،اس کو مقدس ماننے،اس کی تعظیم کرنے اور اس کے لیے جینے مرنے کی قسم کھانے کو کفر تسلیم نہ کرے تو کیا دنیا کا کوئی سرکاری عالم اس کو کفر سے بچا سکتا ہے؟
کیا ایسا ممکن ہے کہ کوئی شخص زبان سے کلمۂ طیبہ بھی پڑھتا ہو اور اس کے ساتھ اسلام کے علاوہ کسی اور ین کو بھی مانتا ہو؟تو کیا اس کو مسلمان کہا جائے گا؟ہر گز نہیں۔ کوئی بھی شخص ایک وقت میں دو دینوں کا اقرار کرے،یاا سلام کے مقابلے میں کسی بھی دین کو اختیار کرے،یا دوسرے کسی بھی دین کو اچھا سمجھے،وہ مسلمان نہیں ہوسکتااوراس کا زبان سے اقرار معتبر نہیں ہوگا۔جب کہ یہاں تو اس جمہوریت کی محافظ قوتیں(خصوصاًپارلیمنٹ ، عدلیہ ،فوج اور پولیس) اس دین جمہوریت کی حفاظت ووفاداری کا حلف اٹھاتی ہیں،اس کا زبان سے اقرار بھی کرتی ہیں اوران کا عمل بھی اس کی تصدیق کررہا ہے۔ جب کہ اسلام کے بارے میں ان کا عمل بغض وعناد ظاہر کررہا ہے۔ یا کم از کم اسلامی شریعت کے نفاذ میں اس کی مخالفت اور اس کے نفاذ کو روکنے کے لیے ریاستی طاقت کا استعمال اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ اس آئین کا مخالف ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے،اور جو کوئی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے دین کا مخالف ہے اس کا حکم علمائے حق سے پوچھا جاسکتا ہے۔
چلیے ہم اورپیچھے ہٹ جاتے ہیں اور سرکاری علما ہی کی بات مان لیتے ہیں کہ اس نظام کی محافظ قوتیں نفاذِ شریعت کے بارے میں بغض وعناد نہیں رکھتیں۔لیکن اتنا تو آپ بھی مان لیجیے کہ ان کے دلوں میں اس جمہوریت کی محبت و تعظیم اس حد تک ہے کہ انہوں نے اس جمہوریت کو اللہ کے برابرقراردے دیا۔جس کو حرام(غیر قانونی) کردیا جائے اس کو غیر قانونی(حرام) مان لیا جاتا ہے،جس کو حلال وقانونی کردیا جائے وہ حلال ہوجاتا ہے۔اس کی تعظیم،اس کا احترام،اس سے وفاداری اور اس کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے تمام کام انجام دینے کی قسمیں کھانا……یہ بغیر محبت کے کیسے ہوسکتا ہے؟
آئیے دیکھتے ہیں محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت میں اس محبت و تعظیم کے بارے میں کیا کہا گیا ہے جو غیر اللہ کو اللہ کے برابر کردے۔
غیر اللّٰہ کو اللّٰہ کے برابر درجہ دینا:
قرآن کریم نے ایسا کرنے والوں کے بارے میں فرمایا :
إِذْ نُسَوِّیْکُم بِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ(الشعراء:۹۸)
’’جب ہم تم کو رب العالمین کے برابر کرتے تھے‘‘
یہ اہلِ جہنم کے آپس میں جھگڑے کا بیان ہے جو وہ جہنم میں جانے کے بعد اپنے قائدین سے کریں گے!
امام ابن کثیررحمۃ اللہ علیہ اس کی تفسیر یوں فرماتے ہیں:
’’جہنمی اپنے قائدین سے جھگڑاکریں گے اور کہیں گے،تمہارے حکم کی ہم نے اس طرح فرماں برداری کی جس طرح رب العالمین کے حکم کی فرماں برداری کی جاتی ہے،اور ہم نے رب العالمین کے ساتھ تمہاری عبادت کی۔6‘‘
امام بیضاوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
’’عبادت میں یہ جہنمی،ان (قائدین) کا حق ثابت کیاکرتے تھے‘‘ 7
امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
فصل:وأماالشرک فھو نوعان: أکبروأصغر۔فالأکبر لا یغفرہ اللہ الا بالتوبۃ منہ،وھو أن یتخذ من دون اللہ ندایحبہ کما یحب اللہ وھوالشرک الذی تضمن تسویۃ آلھۃ المشرکین برب العالمین…الی أن قال…فذکرالھہ ومعبودہ من دون اللہ
’’شرک کی دو قسمیں ہیں:شرکِ اکبر،شرکِ اصغر شرکِ اکبر:جس کو اللہ تعالیٰ بغیر توبہ کے معاف نہیں کریں گے،وہ یہ ہے کہ کوئی اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو شریک بنا لے،اس سے ایسی محبت کرے جیسےاللہ تعالیٰ سے محبت۔اس شرک کے ضمن میں وہ شرک آتا ہے جو مشرکین اپنے بتوں کو اللہ تعالیٰ کے برابر قرار دیتے تھے،اسی لیے جہنم میں وہ اپنے معبودوں سے کہیں گے :{إِذْ نُسَوِّیْکُم بِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ} ’’اللہ کی قسم!ہم صریح گمراہی میں تھے جب ہم تمہیں رب العالمین کے برابر درجہ دیتے تھے‘‘۔یہ (اللہ تعالیٰ کے برابر بنانا)ان کے اس اقرار کے باوجود تھا کہ اللہ تعالیٰ تنہا ہی ہر چیز کے خالق ومالک اوررب ہیں۔اس اقرار کے باوجود کہ ان کے معبود نہ کچھ پیدا کرسکتے ہیں،نہ کسی کو رزق دے سکتے ہیں ،نہ کسی کو مار سکتے ہیں،نہ کسی کو زندہ کرسکتے ہیں۔اپنے معبودوں کو اللہ تعالیٰ کے برابر کرنا صرف ان معبودوں کی محبت اور عظمت کی وجہ سے تھا…مشرکین اپنے معبودوں سے اللہ تعالیٰ سے زیادہ محبت کرتے ہیں…اگر ان کے معبودوں کی توہین کی جائے تو یہ بپھرے ہوئے شیر کی طرح غضب ناک ہوجاتے ہیں،لیکن اگر اللہ تعالیٰ کی توہین کی جائے تو اتناغصہ نہیں ہوتے‘‘8۔
امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:
’’دنیا میں اکثر مشرکین اسی قسم کے شرک میں مبتلا رہے ہیں‘‘۔
جمہوریت دراصل اسی شرک کی دعوت دیتی ہے۔اگر آپ کسی جرنیل یا جج سے پوچھیں کہ اس دنیا کا خالق و مالک ،رب اور رازق کون ہے ؟تو یقینا اس کا جواب یہی ہوگا کہ اللہ!لیکن جب اسے کہا جائے کہ پھر اس جمہوری عدلیہ اور آئین ساز اسمبلی کو اللہ تعالیٰ کے برابر بلکہ اللہ تعالیٰ سے بڑا کیوں ثابت کرتے ہو؟قرآن کے قانون کو اس وقت تک فیصلے کے قابل کیوں نہیں سمجھتے جب تک کہ غیر اللہ (پارلیمنٹ) کی جانب سے اس کو منظوری نہ مل جائے؟اسی طرح فوج وپولیس سے پوچھا جائے کہ تم اللہ تعالیٰ کی حدود( مثلاً کوڑے مارنا،سنگسار کرنے ) کا مذاق اڑانے پر غضب ناک نہیں ہوتے ،لیکن اگر جمہوری آئین کی رِٹ کو چیلنج کیا جائے تو تم بپھرے ہوئے شیر کی طرح غرّانے لگ جاتے ہو اور تمہاری ساری قوت اس کے خلاف اٹھ کھڑی ہوتی ہے؟ پھر تم اپنے ہی ہم وطنوں اور کلمہ گو مسلمانوں کو ڈنڈوں ،آنسو گیس اور طیاروں اور توپوں سے مارنے لگ جاتے ہو!
اے علمائے حق!اگر یہ آئین ساز اور عدلیہ اب بھی شرکِ اکبر میں مبتلا نہیں تو پھر شرکِ اکبر کس کوکہتے ہیں؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منصف (فیصلہ کرنے والا)بنائے بغیر ایمان مکمل نہیں۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
فَلاَ وَرَبِّکَ لاَ یُؤْمِنُونَ حَتَّیَ یُحَکِّمُوکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لاَ یَجِدُواْ فِیْ أَنفُسِہِمْ حَرَجاً مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُواْ تَسْلِیْماً (النساء:۶۵)
’’سو قسم ہے تیرے رب کی!وہ مومن نہ ہوں گے ،یہاں تک کہ تجھ کو ہی منصف جانیں اس جھگڑے میں جوان میں اٹھے،پھر آپ کے کیے ہوئے فیصلے کے بارے میں دل میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور قبول کریں خوشی سے‘‘۔
امام ابوبکرجصاص رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’اس آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے احکامات میں سے کسی ایک کا رد کردے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات میں سے کسی ایک کا رد کرے ،وہ اسلام سے خارج ہے،خواہ شک کی بنا پر رد کرے یا قبول نہ کرے یا قبول کرنے سے رک جائے،اور یہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اس مسلک کے صحیح ہونے کو ثابت کرتی ہے جس کے تحت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے زکوٰۃ ادا نہ کرنے والوں کو مرتد قرار دے کر ان کو قتل کیا اور ان کی اولاد کو غلام بنایا،اس لیے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرمادیا کہ جو کوئی بھی اپنے فیصلے اور قانون کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد نہ کرے وہ اہلِ ایمان میں سے نہیں ہے‘‘9۔
امام ابوبکر جصاص رحمۃ اللہ علیہ ان لوگوں کو بھی رد کرنے والوں کے ساتھ بیان فرمارہے ہیں جو اس کو قبول کرنے سے رک جائیں۔سو جو ۶۵ سال سے نفاذِ شریعت سے رکے ہوئے ہیں ان کا کیا حکم ہے؟
علامہ شبیر احمدعثمانی رحمۃ اللہ علیہ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حَکم(فیصلہ کرنے والا) بنائے بغیر ایمان ممکن نہیں۔یعنی منافق لوگ کیسے بے ہودہ خیال میں ہیں اور کیسے بے ہودہ حیلوں سے کام نکالنا چاہتے ہیں،ان کو خوب سمجھ لینا چاہیے ۔ہم قسم کھا کر کہتے ہیں کہ جب تک یہ لوگ تم کو اے رسول!اپنے تمام چھوٹے بڑے ،مالی جانی نزاعات میں منصف اورحاکم نہ جان لیں گے کہ تمہارے فیصلے اور حکم سے ان کے جی میں کچھ تنگی اور ناخوشی نہ آنے پائے اور تمہارے ہر ایک حکم کو خوشی کے ساتھ دل سے قبول کرلیں گے،اس وقت تک ان کو ہرگز ایمان نصیب نہیں ہوسکتا،اب جو کرنا ہو سوچ سمجھ کرکریں‘‘۔10
کیا رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف ربیع الاول کے مہینے میں نبی مانتے ہیں؟سیرت النبی کی بڑی بڑی محفلیں ،نعتیہ پروگرامات اور علمی مناظرے…لیکن جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے معاملات میں حَکم اور جج بنانے کا وقت آتا ہے تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کے قانون سے فیصلے کرانے چلے جاتے ہیں او راسی قانون کے تقدس،وفاداری اور پاسداری کی قسمیں کھاتے ہیں۔ نبی پر یہ کیسا ایمان ہے؟ محسنِ انسانیت کے احسانوں کا بدلہ چکانے کا یہ کون سا انداز ہے ؟ختم نبوت پر یہ کیسا ایمان ہے؟ کہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی شریعت کو عدالتوں سے نکال کر،نظام زندگی سے نکال کر،قادیانی اور اس کے آقاؤں کی عدالتوں پر ایمان ہے؟اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کا بنایا طرز زندگی دنیا میں رائج ہے؟اے غلامان مصطفی !سوچیے!کبھی تو سوچیے…دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیے…یہ کیسی وفا ہے ؟یہ کیسی محبت ہے؟محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر میدان اور شعبہ میں نبی مانے بغیر اس امت کی کشتی منزل پر نہیں پہنچ سکتی!یہ ذلت جو اس امت پر دوسوسال سے مسلط ہے،اس وقت تک نہیں دورہوسکتی جب تک کہ ہماری زندگیاں محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے لیے داؤ پر نہ لگا دی جائیں۔نیز شریعت کے کسی بھی حکم کو تسلیم نہ کرنا،اس کی ادائیگی کو ممنوع قرار دینا ،شریعت کی نظر میں دین سے پھِر جانے کے زمرے میں شامل ہے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
أَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُونَ أَنَّہُمْ آمَنُواْ بِمَا أُنزِلَ إِلَیْکَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِکَ یُرِیْدُونَ أَن یَتَحَاکَمُواْ إِلَی الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُواْ أَن یَکْفُرُواْ بِہِ وَیُرِیْدُ الشَّیْطَانُ أَن یُضِلَّہُمْ ضَلاَلاً بَعِیْداً (النساء: ۶۰)
’’کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ ایمان لائے اس کتاب پر جو آپ پر نازل کی گئی اور اس پر جو آپ سے پہلے نازل کی گئی،وہ یہ چاہتے ہیں کہ اپنے مقدمے طاغوت کے پاس لے جائیں حالانکہ ان کو یہ حکم کیا گیا ہے کہ وہ ان (طاغوتوں) کا انکار کریں،اور شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ وہ ان کو بہت دور تک گمراہ کرکے رکھ دے‘‘۔
اس آیت کی تفسیر میں امام ابن جریرطبری،امام قرطبی اور ابواللیث سمرقندی رحمہم اللہ نے یہ روایات نقل کی ہیں:
’’شعبی ؒ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ ایک منافق اور یہودی کے مابین کوئی تنازع ہوا،تو یہودی نے اس منافق کو فیصلے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کو کہا،کیونکہ یہودی کو معلوم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رشوت نہیں لیتے ہیں۔او رمنافق نے اس یہودی کو کہا کہ فیصلہ تمہارے حکام(یعنی یہودیوں) سے چل کرکرتے ہیں،کیونکہ اس کو علم تھا کہ یہودی حکام فیصلے کرنے میں رشوت لیتے ہیں۔چنانچہ جب ان دونوں میں اس بات پر اختلاف ہوا تو دونوں قبیلہ جہینہ کے ایک کاہن کے فیصلہ کرانے پر متفق ہوگئے۔تب یہ آیت نازل ہوئی‘‘۔
’’عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک منافق جس کا نام بشر تھا اور یہودی جس کا نام زفر تھا،میں کسی بات پر تنازع ہوا،تو یہودی نے کہا کہ ہمارے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلواورمنافق نے کہا کہ نہیں کعب بن اشرف سے چل کر فیصلہ کراتے ہیں۔اور یہی (کعب بن اشرف) ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے طاغوت کا نام دیا ہے،یعنی سرکشی کرنے والا۔لیکن یہودی فیصلے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کہیں اور جانے پر تیار نہیں ہوا۔جب منافق نے یہ صورت حال دیکھی تو وہ اس یہودی کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔چنانچہ(تنازع کی تفصیل سننے کے بعد) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی کے حق میں فیصلہ کردیا۔جب یہ دونوں باہر نکلے تو منافق نے کہا کہ میں اس فیصلے پر راضی نہیں ہوں،تم میرے ساتھ ابوبکر کے پاس چلو۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی اس یہودی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔جب یہ دونوں باہرنکلے تو منافق نے کہا کہ میں اس فیصلے پر راضی نہیں ہوں،اس لیے تم میرے ساتھ عمر کے پاس چلو۔چنانچہ یہ دونوں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو یہودی نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے،پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے،پر یہ راضی نہیں ہوا۔اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے منافق سے دریافت کیا کہ کیا ایسا ہی ہے؟منافق نے کہا،جی ہاں!حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ،دونوں ٹھہرو میں آتا ہوں۔ چنانچہ آپ ؓ اندر گئے اور تلوار لی،پھر آکر منافق کو تلوار کے وار سے ٹھنڈا کردیا، اورفرمایا میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر راضی نہ ہونے والے کا اسی طرح فیصلہ کرتا ہوں۔یہودی وہاں سے بھاگ گیا۔تب یہ آیت نازل ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عمر!تم فاروق ہو۔اور جبریل علیہ السلام آئے اور فرمایا بلاشبہ عمر نے حق اور باطل کو الگ الگ کردیا ہے‘‘۔
اس واقعہ سے واضح معلوم ہوا کہ جو شخص کلمے کا دعویٰ بھی کرتا ہو،اس کے باوجود قرآن وسنت کے فیصلے پر راضی نہ ہوتو اس کی سزا قتل ہے۔
چنانچہ قرآن وسنت کے مطابق فیصلے کرانے کے لیے جب دعوت دی جائے تو مومنین کی شان قرآن نے یہ بیان کی ہے:
إِنَّمَا کَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ إِذَا دُعُوا إِلَی اللَّہِ وَرَسُولِہِ لِیَحْکُمَ بَیْنَہُمْ أَن یَقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَأُوْلَئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ (النور: ۵۱)
’’بلاشبہ مومنین کا قول ، جب ان کو اللہ اور اس کے رسول کی جانب فیصلے کے لیے بلایا جائے،یہی ہوتا ہے کہ وہ یہ کہیں کہ ہم نے سن لیا اور ہم نے مان لیا،اوروہی کامیاب ہیں‘‘۔
جب کہ منافقین کی پہچان قرآن نے یہ بتائی ہے:
وَإِذَا قِیْلَ لَہُمْ تَعَالَوْاْ إِلَی مَا أَنزَلَ اللّہُ وَإِلَی الرَّسُولِ رَأَیْتَ الْمُنَافِقِیْنَ یَصُدُّونَ عَنکَ صُدُوداً(النساء:۶۱)
’’اورجب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اس (کتاب) کی جانب جو اللہ تعالیٰ نے نازل کی ہے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب توآپ منافقین کودیکھیں گے کہ وہ آپ سے پہلو تہی کرتے ہیں‘‘۔
حکم بغیر ماأنزل اللہ کو ایک بار کرنے اور اس کو عادت بنا لینے میں فرق،اس کو بطور آئین(شریعت) نافذ کردینا!
یہاں ذیل میں بیان کیے گئے اس فرق کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ :
ملک میں نفاذ شریعت کے ہوتے ہوئے صرف ایک معاملے میں قرآ ن سے ہٹ کر فیصلہ کرنا۔
ملک میں نفاذ شریعت کے ہوتے ہوئے قرآن سے ہٹ کرفیصلہ کرنے کی عادت بنالینا۔
ملک میں نفاذ شریعت کی بجائے کوئی اور نظام رائج کرنا اور عدالتوں کا اس نظام کے تحت حلف اٹھانا اور فیصلے کرنا۔
کفرِاکبراورکفرِ اصغر کی بحث و تفریق ایسی ریاست ،حاکم اور جج کے بارے میں ہے جو ملک میں نفاذِ شریعت کے ہوتے ہوئے صرف ایک معاملے میں قرآن سے ہٹ کر فیصلہ کرے، یعنی یہ تفریق اس جرم کی پہلی صورت سے تعلق رکھتی ہے۔لہٰذا یہ بات سمجھنے کی ہے کہ دوسری صورت کے کفر ہونے میں تو کسی درباری مولوی کو بھی شک نہیں رہا ہے۔
جب کہ تیسری صورت کفرِ اکبرکی گندی ترین شکل ہے۔اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس سے بڑا کفر تو بنی اسرائیل کے یہود نے بھی نہیں کیا تھا۔ان کے فیصلوں کے مرجع و مأخذ (Authority)بھی وحی (یعنی ان کی تورات) تھی،جب کہ جدیدابلیسی جمہوریت کا تو مرجع ومأخذ ہی اللہ تعالیٰ کی شریعت کے مقابلے میں غیر اللہ (پارلیمنٹ) کی شریعت ہے۔سو ایسے کفر کو اسلام ثابت کرنا اپنے ایمان کو غارت کرنے والی بات ہے،اور ایسے کفر کو عوام کے سامنے بیان نہ کرنا بدترین کتمانِ حق ہے۔
تنبیہ: الغرض اس آیت کی تفسیر میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے قول کفر دون کفر(کفرِاصغر)کا سہارالے کر آج کی عدالتوں کو اس کامصداق ثابت کرنا صریح خیانت اور عبداللہ بن عباس ؓ کی ذات پر بہتان ہے۔کیونکہ سیدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کفردون کفر کو مطلقاً نہیں استعمال کیا ہے بلکہ خوارج کے رد میں بیان کیا ہے۔
قرآن کے علاوہ سے فیصلہ کرتی عدالتوں کو اسلامی ثابت کرنا:
سواس بحث کو سمجھ لینے کے بعد ہم تمام مسلمان بھائیوں سے درخواست کریں گے کہ وہ موجودہ عدالتی نظام‘جو شریعت کے علاوہ سے فیصلہ کرتی چلی آرہی ہیں‘کے بارے میں یہ نہ کہا کریں کہ یہ عدالتیں تو ۷۳ کے آئین کے مطابق فیصلہ کرتی ہیں،اور ۷۳کا آئین اسلامی ہے،لہٰذا یہ عدالتیں اسلامی آئین سے فیصلہ کرتی ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس پر اتنا بڑابہتان ہے کہ جس سے آسمان ٹوٹ کر گرجائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں۔
امام ابوبکر جصاص حنفیؒ نے ’’احکام القرآن‘‘ میں اس نکتے کو بیان فرمایا ہے جو ان لوگوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے جو غیر اسلامی آئین کو اسلامی ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں،اورغیر اسلامی آئین سے فیصلہ کرتی عدالتوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ اسلامی آئین کی رو سے فیصلے کرتی ہیں۔فرماتے ہیں:
’’…فان کان المراد جحود حکم اللہ او الحکم بغیرہ م الاخبار بانہ حکم اللہ فھذا کفر یخرج عن الملۃ وفاعلہ مرتد‘۔11
’’اور اگر(اس آیت میں کفر سے) مراد اللہ تعالیٰ کے قانون سے فیصلہ کرنے کا انکار یا قرآن کے علاوہ فیصلہ کرکے یہ کہنا کہ یہ اللہ کے قانون سے فیصلہ کیا گیا ہے،تو یہ (دونوں صورتیں )ایسا کفر ہے جو ملت ِ اسلام سے خارج کردیتا ہے،اور ایسا کرنے والا مرتد ہے‘‘۔
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒاس کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
’’اور(یادرکھو) جو شخص خدا تعالیٰ کے نازل کیے ہوئے کے موافق حکم نہ کرے(بلکہ غیر حکمِ شرعی کو قصداً حکمِ شرعی بتلا کر اس کے موافق کرلے) سو ایسے لوگ بالکل کافر ہیں‘‘۔12
مفتی شفیع صاحبؒ نے بھی اس آیت کی تفسیر میں یہ بات بیان فرمائی ہے:
’’اوریادرکھو کہ جو شخص خدا تعالیٰ کے نازل کیے ہوئے کے موافق حکم نہ کرے،بلکہ غیر حکمِ شرعی کو قصداً حکمِ شرعی بتلا کر اس کے موافق حکم کرے،سو ایسے لوگ بالکل کافر ہیں‘‘13۔
چنانچہ ان لوگوں کو ڈرنا چاہیے جو ان عدالتوں کو اسلامی ثابت کرتے ہیں۔
ومن لم یحکم بما انزل اللّٰہ اور فقہائے امت
قرآن مجید کے علاوہ سے فیصلہ کرنے کی بحث کو فقہائے امت نے بہت آسان انداز میں سمجھایا ہے۔قارئین کی آسانی کے لیے اس کو بھی ہم یہاں بیان کررہے ہیں۔
کفرِاکبر:
أ۔ اس کی ایک تعریف تو پیچھے گزر چکی ہے ،جو امام صدر الدین ابن ابی العزحنفی ؒ نے بیان فرمائی ہے۔اس کے علاوہ کوئی شخص یہ نظریہ یا عقیدہ رکھے کہ اس دور میں شریعت کے مطابق چور کا ہاتھ کاٹنا،زانی کو سنگسار کرنایا کوڑے مارنا ،بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد قرآن وسنت پراستوار کرنا،قتال فی سبیل اللہ کرنا…مناسب نہیں،یا قابل عمل نہیں،یا ان پر عمل کرنے اور کرانے سے بے عزتی،شرمندگی اور (عالمی برادری میں)توہین سمجھے،یا حدود اللہ میں ترمیم کو جائز سمجھے،یا عملاًترمیم کر لے،یا یہ نظریہ رکھے کہ انسانوں کے بنائے جدید نظام زیادہ مناسب ہیں…تو یہ نظریہ کفرِ اکبر ہے جو ملت سے خارج کردیتا ہے کیونکہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کو برا جانا اور غیر اللہ کی شریعت کو اچھا جانا۔
ب۔ کفرِ اکبر کی ایک صورت یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے قوانین کو بھی اچھا سمجھے لیکن جمہوری آئین کو اس سے زیادہ قابلِ عمل سمجھے۔
ج۔ یا جمہوری نظام کو نفاذ شریعت کے برابر سمجھے۔’ب‘ اور’ج‘ کا حکم ایک جیسا ہے۔یعنی یہ دونوں قسم کے افراد کفرِ اکبر ،یعنی ایسے کفر میں مبتلا ہیں جو ملت سے خارج کردینے والا ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کے قانون کے مقابلے میں کسی اور کو اچھا سمجھنا ،یا اس کے برابر سمجھنا درحقیقت اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کی تردید ہی ہے۔
د۔ یامحمدصلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو نافذ کرنے سے طویل عرصے تک بہانے بازی کرتا رہا،مخالفت کی یا انکار کیا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا
ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْہَا إِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِینَ مُنتَقِمُونَ(السجدۃ:۲۲)
’’پھر اس دین سے اعراض کیا،بے شک ہم مجرمین سے انتقام لینے والے ہیں‘‘۔
یہ قسم بھی کفرِاکبر کی ہے۔نفاذِ شریعت کا انکار،مخالفت یا دیر تک ٹال مٹول،فقہا نے ان سب کا ایک ہی حکم بیان فرمایاہے۔یہ کتبِ فقہ کے مشہور مسائل ہیں جو کسی بھی مسلک کی کتابوں اورفتاویٰ میں دیکھے جا سکتے ہیں۔خصوصاً حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے امداد الفتاویٰ کی ساتویں جلد میں اورمولانا تقی عثمانی صاحب کی شرحِ مسلم شریف (تکملۂ فتح الملہم) کی کتاب الامارۃ میں بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔نیزمشہور حنفی فقیہ،علامہ ابن نجیم رحمہ اللہ ’بحر الرائق‘‘ میں فرماتے ہیں
’’فیکفرو اذا…سخر بأمر من أوامرہ…أو جعل لہ شریکا‘‘14
’’اور اگر اس نے اللہ تعالیٰ کے کسی ایک حکم کا مذاق اڑایا یا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا توکافرہوجائے گا‘‘۔
یار رہے کہ قانون سازی میں کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنانا کفرِ اکبر ہے،جو ملت سے خارج کردیتا ہے۔جب کہ یہاں صرف شریک ہی نہیں بنایا گیا بلکہ نعوذباللہ یہ حق مکمل غیر اللہ (پارلیمنٹ) کو دے دیا گیا ہے۔
وکذایکفرالجمیع لاستخفافھم بالشرع(ایضاً)
’’اسی طرح ان تمام لوگوں کو بھی کافر قرار دیا جائے گا جو شریعت کو حقیر سمجھتے ہیں‘‘۔
ولوصغرالفقیہ أوالعلوی قاصدا الاستخفاف بالدین کفر(ایضاً)
’’اور اگر شریعت کو بے وقعت سمجھنے کی وجہ سے فقیہ کو کم تر جانا،تو یہ کفر ہے‘‘۔
غور کرتے جائیے!اس نظام میں ایک عالم کی کیا عزت ہے اور جج کا کیا مقام ہے؟ نفاذِ شریعت اور اس کا مطالبہ کرنے والوں کے ساتھ کیا کچھ ہوتاہے؟کبھی وقت ملے تو عدالت کی ان کارروائیوں کی روداد پڑھیے گا،جواسلامی دفعات سے متعلق ہوتی ہیں۔ عدالت و پارلیمنٹ کے درمیان ان اسلامی دفعات کو کس طرح جھولاجھلایا جاتا ہے، عدالت‘ پارلیمنٹ کی طرف اچھال دیتی ہے،پارلیمنٹ اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف… یہ سب اسلام کا مذاق نہیں،تو پھر مذاق کی تعریف کیا ہے؟
کفرِ اکبر کی عام لیکن سب سے ناپاک صورت:
کفرِ اکبر کی سب سے عام ،لیکن خطرناک صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شریعت کے مقابلے میں ایک شریعت بنائی گئی،جو فرانسیسی،انگریزی ،امریکی اور کچھ شریعت سے منسوب (اگرچہ ہے نہیں)نظاموں کا ملغوبہ ہے۔اس ملغوبے کو نظام زندگی کے طور پر نافذ کردیا گیا اور فیصلوں کامرجع (Authority)وماخذقراردیا گیا۔اس کے مطابق فیصلہ کرنے کا حلف لیا جاتاہے،اس کی پاسداری ووفاداری کی قسمیں اٹھائی جاتی ہیں،اور اسی پر عمل کرنا لازم قرار دے دیا گیا۔اس پر جان کی بَلی چڑھانا،اور کسی باغی کی جان لے لینا حلال(قانونی) کرلیا گیا۔جب کہ کوئی اگر یہ چاہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی شریعت کو نظامِ زندگی کے طور پر نافذ کرے،یا خود اس کے مطابق اپنی زندگی گزارے ،تو اس کو ریاستی قوت کے ذریعے کچل دیا جاتا ہے۔مذکورہ صورت کفرِ اکبر کی سب سے ناپاک صورت ہوسکتی تھی ،لیکن ابلیس نے مزید محنت کی اور اپنے کارندوں کو امیدیں دلائیں،ان کی اس بدعملی کو ان کے سامنے خوب صورت بنا کر پیش کیا،لہٰذا اس کفر نے اورترقی کی اور ایک ایسی صورت وجود میں آئی جس کا تصور بھی کلمہ پڑھنے والا نہیں کرسکتا۔
اللّٰہ تعالیٰ پر بہتان اور جھوٹ کی جرأت:
وہ ناپاک ،مذموم اورکریہہ صورت یہ ہے کہ اس ابلیسی شریعت کو اسلامی قرار دے دیا گیا جو سراسراللہ وحدہ لا شریک کی ذاتِ اقدس پر جھوٹ او ربہتان ہے،کہ ایک ایسی چیز کو اللہ تعالیٰ کی جانب منسوب کردیا گیا جو اللہ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہی نہیں فرمائی،اور نہ اس پر ان کے پاس کوئی دلیل ہے۔لیکن خواہش پرست اور دنیا کی عبادت کرنے والے،زندگی کے غلام اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو ناپسند کرنے والے، اپنے معبودوں کے کہنے پر اس کفر کو اسلامی کہنے پر بضد ہیں۔جو اس آئین کو نہ مانے وہ ان کے نزدیک باغی ہے،اس کا مال و جان ان کے لیے حلال ہے،ان کی پردہ دار خواتین کو اٹھا کر اپنے کیمپوں میں لے جانا ’’ان کی شریعت‘‘ نے جائز ٹھہرایا ہے۔مالکم کیف تحکمون؟
افسوس صدافسوس! کس گمان پر اللہ تعالیٰ کے سامنے تم تن کر کھڑے ہوجاتے ہو؟ کس زعم میں مبتلا ہوکر اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دینا چاہتے ہو؟کس بنیاد پر اتنی جرأت کر بیٹھے کہ عرش وکرسی کے مالک پر جھوٹ گھڑتے ہو؟صرف اس لیے کہ دنیا کے عہدوں کے مزے لوٹو،اس مردار دنیا کی بدبودار لاش کو نوچنے میں تم بھی انہی کے شریک ہوجاؤ جنہوں نے اسی مردار کے بدلے اپنی آخرت کا سودا کردیا…؟یا للعجب! یاللعجب…!ومن اظلم ممن افترٰی علی اللّٰہ کذبا ’’اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑتا ہو‘‘۔
چونکہ یہ بحث کافی طویل تھی، اس لیے قارئین کی آسانی کے لیے وضاحت کے ساتھ نکات کی صورت میں بحث کا خلاصہ یہاں ذکر کیے دیتے ہیں۔اس بحث میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شریعت کے علاوہ کسی اور قانون سے فیصلہ کرنے کی دو بڑی صورتیں ہیں:
اول، اس جرم کی وہ صورت جواگرچہ عظیم گناہ ہے مگر دین سے خارج کرنے کا باعث نہیں: ٭یہ کہ بحیثیت مجموعی شرعی نظام و شرعی قانون نافذہواورایک ایسا قاضی جو شرعی قوانین کو واجب العمل سمجھتا ہواور اس کے ترک پر خود کو گناہ گار سمجھے،کسی ایک آدھ واقعے میں ہوائے نفسانی یا اقربا پروری یا رشوت خوری کی بنا پر شریعت سے ہٹ کر فیصلہ کردے ،تو اگرچہ یہ سنگین جرم ہے مگر انسان اس کی بنا پر دین سے خارج نہیں ہوتا اور فاسق وظالم قرار پاتا ہے اور زیادہ سے زیادہ بھی کفرِ اصغر کا مرتکب سمجھا جاتا ہے۔
٭یہ کہ ایک پورانظامِ عدلیہ اور نظام حکومت ہی ایسا ہو جہاں شرعی احکام بحیثیت مجموعی معطل ہوں اور ان کی جگہ انسانوں کے گھڑے ہوئے قانون نافذ ہوں، اوراس میں شریک قاضی یاجج اس انسانی قانون کے مطابق فیصلے کرتا ہومگر خودکو شدید گناہ میں مبتلا سمجھتا ہو،اس نظام سے غیر راضی ہواوراس میں محض اس نیت سے شریک ہو کہ چونکہ اربابِ اختیاراس کے سوا کسی قانون کو نافذ نہیں کرنے دیں گے،اس لیے عوام کے جائز حقوق انہیں دلوانے کے لیے اضطراراً اس میں کام کررہا ہے اور جیسے ہی شرعی قوانین کے نفاذ کا موقع ملے گا وہ انہیں نافذکرنے سے لمحہ بھرنہیں رکے گا،تو ایسا شخص کفراصغرکا مرتکب ہے جو اگرچہ گناہ کی ایک نہایت بھیانک صورت ہے مگردین سے خارج کرنے کا باعث نہیں بلکہ اس کا مرتکب فاسق اور ظالم ہوگا ،اس کی گواہی قبول نہیں ہوگی،یہ حرام نوکری کرے گا اور اس کی تنخواہ بھی حرام ہوگی۔
دوم،وہ صورت جو دین سے خارج کرنے کا باعث اور کفراکبر ہے:
یہ کہ ایک شرعی نظام کا قاضی جو دیگر تمام امور میں شرعی احکامات کے مطابق فیصلے کرتا ہومگر کسی ایک یا زائد شرعی حکم کو بلا کسی قابل قبول شرعی عذر کے طویل عرصے تک معطل رکھے اور اس کی جگہ غیر اللہ کے بنائے قانون کے موافق فیصلہ کرتا رہے تو یہ کفر اکبر ہے۔
یہ کہ ایک شرعی نظام کا قاضی جو دیگر تمام امور میں شرعی احکامات کے مطابق فیصلے کرتا ہومگر شریعت کے کسی ایک یا زائد قطعی حکم کو حقیر جان کر یا اس دور کے لیے فرسودہ سمجھ کر یا غیراللہ کے قانون کو اس سے بہترجان کر،اس شرعی حکم سے ہٹ کر فیصلہ کرے تو یہ کفرِ اکبر ہے۔
یہ کہ ایک پورا نظامِ عدلیہ اور نظام حکومت ہی ایسا ہو جہاں اللہ تعالیٰ کی شریعت کسی دلیل کی حیثیت نہ رکھتی ہواورشرعی احکام بحیثیت مجموعی معطل ہوں اور ان کی جگہ انسانوں کے گھڑے ہوئے قانون نافذ ہوں ،اور اس میں شریک قاضی یا جج اس انسانی قانون کے مطابق فیصلے کرتا ہواورنہ وہ خودکو گناہ گار سمجھتا ہو،نہ ہی کوئی قابل قبول شرعی عذررکھتا ہو،تو یہ بھی کفرِ اکبر کامرتکب ہے،یعنی ایسا کفرجو دین سے خارج کردیتاہے۔
اس اصولی بحث کا خلاصہ یہ ہے ۔
نیز اس بحث سے یہ بھی واضح ہے کہ پاکستان کا موجودہ نظام عدلیہ اپنے اصول وضوابط کے اعتبار سے ایک خالص غیر شرعی اور کفریہ نظام ہے کیونکہ اس میں ۶۵ سال سے انسان کے قانون کو رب کی شریعت پر فوقیت حاصل ہے۔نیزاسی سے ملک کے سیاسی نظام کا کفربھی واضح ہوتا ہے کیونکہ یہ غیر شرعی قوانین پہلے پارلیمان میں بنتے اورتیار ہوتے ہیں اور اس کے بعد ہی عدالتیں ان قوانین کو نافذ کرتی ہیں۔نیز اس سے اس مجموعی ریاستی ڈھانچے کا باطل ہونا بھی ثابت ہوتا ہے جو ان طاغوتی عدالتوں کو اپنا ایک اساسی ستون سمجھتا ہے ،ان کے عمل کو مباح(قانونی) بلکہ مقدس قراردیتا ہے اور ان کے احترا م کو آئین وقانون کی رو سے واجب بناتا ہے۔اس غلیظ ریاستی ڈھانچے کو اسلامی کہنا بھلا کیسے ممکن ہے؟
رہا ججوں اور وکلا وغیرہ کا حکم،تو اس حوالے سے خلاصہ تو درج بالا سطور میں ذکر کردیا گیا ہے لیکن اس خلاصے کو لے کر متعین افراد(یعنی فلاں بن فلاں) پر فتویٰ لگانا چند جملوں میں اجمالاًممکن نہیں،نہ ہی اس مقام پر یہ ہمارا اصل مقصود ہے،بلکہ یہ مفتی صاحبان کا کام ہے کہ وہ درج بالا صورتوں کو سامنے رکھتے ہوئے اس نظام میں شریک افراد کے حالات کی تحقیق کرنے کے بعد اس پرشرعی حکم منطبق کریں۔ہمیں اس بحث میں اصل مقصود افراد کا حکم بیان کرنا نہیں،بلکہ اس نظام کا کفر ثابت کرنا ہے۔
رہے اس میں شریک افراد تو ہم انہیں دل سوزی سے یہ دعوت دیتے ہیں کہ وہ اس خطرناک جرم کی برائی کو سمجھیں،اس سے توبہ کرکے خود کو ان مکروہ پیشوں سے علیحدہ کریں…اوراگر اب بھی اسی کفریہ عدالتی نظام کا حصہ بنے رہنے پر مُصر ہیں،تو کم از کم اس میں شرکت کو گناہ تو سمجھیں،اس سے کراہت ونفرت کا اظہار کریں اور خود کو حالتِ اضطراری میں سمجھیں… شاید کہ یہ امر ان کے جرم کی شدت کو کچھ کم کردے…اگرچہ رہے گا وہ پھر بھی ایک سنگین جرم ہی!
نیز یہ ساری بحث ہر عام مسلمان کو بھی دعوت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی شریعت سے ہٹ کر فیصلہ کرنے کے جرم کی شناعت وبرائی سمجھے،ان جاہلی عدالتوں کے نظام سے اپنا رشتہ کاٹے اور اپنے فیصلے علمائے کرام سے شریعت کے مطابق کروائے۔
٭٭٭٭٭
1 شرح الطحاویۃ فی العقیدۃ السلفیۃ؛الجزء۲:باب الاقرار بالربوبیۃ أامر فطری والشرک أمر…صدر الدین علی بن علی بن محمد بی العز الحنفی
2 منھاج السنۃ النبویۃ ؛الجزء۵،ص۱۲
3 مدارج السالکین؛ص:۲۵۹
4 معانی القرآن
5 احکام القرآن للجصاص:الجرء۶،باب الحکم بین أھل الکتاب
6 تفسیر ابن کثیر
7 بیضاوی؛ تفسیر آیت ہذا
8 ’’مدارج السالکین ‘‘ صفحہ ۲۶۰
9 احکام القرآن للجصاص (ج ۳، ص۱۸۱)
10 تفسیرِ عثمانی
11 احکام القرآن للجصاص؛الجزء ۶،باب الحکم بین اھل الکتاب ،فی تفسیر المائدۃ: ۴۴
12 تفسیر بیان القرآن؛تفسیر سورۃ المائدہ:۴۴
13 معارف القرآن؛جلد۳،تفسیرالمائدہ: ۴۴
14 بحر الرائق شرح کنز الدقائق؛الجزء ۵، باب أحکام المرتدین،زین الدین ابن نجیم الحنفی




![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



