بیان: PR_110_AQS
تاریخ:7ذو القعدہ 3144 ھ بمطابق6جون 2022ء
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم نے آپﷺ کا دفاع نہ کیا!!!
بھارت میں خیر الخلائق صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کے تناظر میں
الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید الأنبیاء والمرسلین وعلی آلہ وأزواجہ وصحبہ ومن تبعھم بإحسان إلی یوم الدین، وبعد
اس کائناتِ ارض و سما کا کوئی مالک ہے تو بس اللہ ﷻ ہے اور اسی مالکِ لا شریک لہ نے محمدِعربی، مکی و مدنی، ہاشمی و قرشی صلی اللہ علیہ وآلہ وأزواجہ وسلم کو اپنا محبوب ترین اور اپنے بندوں کا بھی اپنے ذاتِ جلّ شانہٗ کے بعدمحبوب ترین بنایا۔ اللہ ﷻ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو کائنات کے ہر اس کونے میں نافذ ہونے کے لیے قانون بنایا جہاں جہاں زندگی کا وجود ہے۔
چند روز قبل ایک بھارتی ٹی وی چینل پر اللہ ﷻ کے نازل کردہ دین و شریعت کے دشمن نظام ’ہندتوا‘ کے پرچارکوں کی جانب سے طاہر و اطہر، ’بعد از خدا بزرگ و برتر‘، محمدِ مصطفیٰ، احمدِ مجتبیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وأزواجہ وسلم )اور آپؐ کی زوجۂ مطہرہ، صدیقہ و طاہرہ، امّ المومنین سیّدہ عائشہ بنتِ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہما کی شان میں نہایت خسیس و پلید الفاظ میں گستاخی کی ناپاک جسارت کی گئی۔ اس عملِ نجس کے نتیجے میں سارے عالم کے مسلمانوں کے دل غم سے چھلنی ہیں اور آپؐ کا انتقام لینے کو لبریز!
پس دنیا کا ہر گستاخ اور خاص کر بھارت پر قابض ہندتوائی دہشت گرد کان کھول کر سن لیں کہ ہم اپنے نبیٔ صادق و امین کی خاطر لڑیں گے، لڑنے مرنے کی تحریض دلائیں گے، قتل بھی کریں گے اور اپنے اور اپنی اولادوں کے جسموں سے بارود باندھ کر ان گستاخوں کی صفوں کو بھی اڑائیں گے۔ سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخوں کے لیے نہ کوئی معافی ہے، نہ امان اور نہ ہی مذمتی الفاظ و قراردادیں۔ بھگوا دہشت گرد اپنے انجام کے لیے ، بعون اللہ الواحد القہار، دہلی و بمبئی اور یو پی و گجرات میں منتظر رہیں۔ ان گستاخوں کے لیے نہ ان کی فوجی چھاؤنیاں محفوظ ہیں اور نہ ہی ان کے رہائشی مکان! ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وأزواجہ وسلم کا انتقام نہ لیا!!!
اس نہایت تکلیف دہ سانحے کے تناظر میں ہم امتِ مسلمہ کو عموماً اور برِّ صغیر میں بھارتی مظالم میں پستے مسلمانوں کو امام ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کی بیان کردہ خوش خبری سناتے ہیں:
’’ حتیٰ کہ ہم قلعہ لینے کی آس بھی قریب قریب کھو چکے ہوتے……یہاں تک کہ جب وہ لوگ کبھی رسول اللہ ﷺ کی توہین کے مرتکب ہوتے اور آپؐ کی شان میں گستاخی کر لیتے تو اُن کا مفتوح ہو جانا ہمیں بہت قریب دکھائی دیتا۔ صورتِ حال یک بیک ہمارے حق میں پلٹتی اور قلعہ کا زیر ہونا دن دو دن کی بات رہ جاتی۔ پھر ہماری بھرپور فتح ہوتی اور دشمن کا خوب خوب ستیاناس۔ ان راویوں کا کہنا ہے’یہ بات ہماری اس قدر آزمودہ رہی کہ جب کبھی ہم ان بد بختوں کو رسول اللہ ﷺ کی شان میں زبان درازی کرتے سنتے تو اگرچہ اسے سن کر ہمارا خون کھول رہا ہوتا مگر ہم اس کو فتح کی بشارت سمجھتے‘۔ایسی ہی روایت مجھ سے ثقہ راویوں نے غرب (شمالی افریقہ و اندلس) کی بابت بیان کی، کہ وہاں بھی مسلمانوں کو نصاریٰ کے ساتھ یہی معاملہ پیش آتا رہا ہے۔‘‘1
ساتھ ہی ہم غزوۂ ہند کی پیشین گوئی کرنے والے، اپنے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامینِ مبارکہ کی روشنی میں ہندوستان کی فتح کی خوش خبری مسلمانانِ برِّ صغیر کو سناتے ہیں اور ہندوستان کے حکمرانوں کو قتل، پھانسیوں اور زنجیروں میں جکڑ کر قید کرنے کی وعید سناتے ہیں۔
هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (سورۃ التوبۃ:۳۳، سورۃ الصف:۹)
’’ وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچائی کا دین دے کر بھیجا ہے تاکہ وہ اسے تمام دوسرے دینوں پر غالب کردے، چاہے مشرک لوگوں کو یہ بات کتنی بری لگے۔ ‘‘
وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین وصلی اللہ تعالیٰ علی نبینا الأمین، آمین!
1 (بحوالہ: الصارم المسلول ص ۱۲۳)






