آج کل پورے ہندوستان میں فلم ’’دی کشمیر فائلز‘‘ کا بہت چرچا ہے۔ تمام میڈیا پر، چاہے الیکٹرانک ہو، پرنٹ ہو یا سوشل میڈیا، یہ فلم ہر جگہ موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔ ۱۹۸۹ ، ۹۰ کے دوران جموں و کشمیر میں ہندو براہمن، جو پنڈت1 کہلاتے ہیں، کے قتل و نقل مکانی کے واقعہ پر مبنی یہ فلم ۱۱ مارچ کو ریلیز ہوئی جسے فلمساز ’’اگنی ہوتری‘‘ اور اداکار ’’انوپم کھیر‘‘ نے بنایا۔
اس فلم کی تشہیر کے لیے ہندوستان کے وفاقی وزراء اور وزیر اعظم مودی نے بھی اس فلم کو سراہا اور لوگوں کو یہ فلم دیکھنے کی تجویز دی۔ بعض ریاستوں میں سرکاری اہلکاروں کو ایک دن کی چھٹی بھی دی گئی تاکہ وہ سینما جا کر یہ فلم دیکھ سکیں ۔ اس کے علاوہ حکومت نے اس فلم کو ٹیکس فری بھی کر دیا۔
حقیقت میں بی جے پی کی ریاستی انتخابات میں دوبارہ فتح اور تواتر سے مسلمانوں کے خلاف ہونے والے واقعات و اقدامات کے سلسلے کی ہی ایک کڑی ہے کہ واقعہ کی اصل سے ہٹ کر مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے جھوٹ پر مبنی یہ فلم بنائی گئی اور نشر کی گئی۔
انتہائی سنسنی خیز اور جذباتی مناظر پر مبنی یہ فلم کشمیری پنڈتوں پر ’’مسلمانوں کے ظلم و ستم‘‘ کی داستان بیان کرتی ہے جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں کشمیری پنڈتوں کو کشمیر سے نقل مکانی کرنا پڑی۔
یہ واقعہ کشمیر میں ۱۹۸۹ء ، ۱۹۹۰ء میں ہونے والے ہنگاموں کے دوران پیش آیا۔ اس فلم میں صرف کشمیری مجاہدین کو ہی نہیں بلکہ کشمیر کے تمام مسلمانوں کو ظالم جبکہ کشمیری پنڈتوں کو مظلوم دکھایا گیا ہے۔ کشمیری مسلمانوں کو ہندو عورتوں بچوں اور بوڑھوں کا قتلِ عام کرتے، خواتین کی عصمت دری کرتے اور ہندوؤں کی املاک کو لوٹتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔اس فلم میں جہاں مسلمانوں کو جہاد کے نعرے لگاتے دکھایا گیا ہے وہاں یہ مطالبہ کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے کہ ’ہندو مرد کشمیر سے نکل جائیں اور ہندو عورتوں کو ہمارے لیے چھوڑ جائیں‘۔
یہ فلم اس اعتبار سے مختلف ہے کہ اس کا عموماً فلم بنانے کے مقصد یعنی ’تفریح‘ سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ فلم میں ہندوؤں پر ہونے والے مظالم کے وحشت ناک مناظر انتہائی تفصیل کے ساتھ پیش کیے گئے ہیں اورفلم میں اس قدر زہر گھولا گیا ہے کہ انڈیا کے تمام سینماؤں میں جہاں جہاں یہ فلم چلتی ہے ہر دفعہ فلم کے اختتام پر پورے جوش و خروش کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف نعرے بازی کی جاتی ہے۔ اس طرح سے یہ فلم تاریخی حقائق کو بدلنے، کشمیر میں مسلمانوں پر کی جانے والے ریاستی دہشت گردی پر پردہ ڈالنے اور پورے ہندوستان میں ہندوؤں کے اندر مسلمانوں کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکانے کی بظاہر ایک کامیاب کوشش ہے۔
اصل حقائق کیا ہیں؟
۱۹۷۵ء میں جب شیخ عبد اللہ نے ریاست جموں و کشمیر کو ہندوستان میں مکمل ضم کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے، اس کے بعد سے کشمیر میں بے چینی پائی جاتی تھی اور اس اقدام کی مخالفت اور احتجاج کیا جا رہا تھا۔ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) نے ہندوستان سے آزادی کا نعرہ لگایا تھا اور وہ اس مقصد کےلیے نوجوانوں کو منظم کر رہی تھی ۔ ۱۹۸۴ء میں حکومت نے جے کے ایل ایف کے مشہور رہنما مقبول بھٹ کو پھانسی دے دی جس کی وجہ سے پوری وادی میں احتجاج شروع ہو گئے۔ آئندہ سالوں میں پوری وادی شدید سیاسی عدم استحکام کا شکار رہی۔ یہ وہ دور تھا جب جموں و کشمیر میں زیادہ تر اعلیٰ انتظامی عہدوں پر اور حکومتی ذمہ داریوں پر ہندو پنڈت براجمان تھے۔ ۱۹۸۹ء میں مجاہدین نے کشمیر میں بھارتیا جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سرکردہ رہنما ’پنڈت ٹکا لال ٹاپلو‘ کو قتل کر دیا۔ یہ پہلے ہندو پنڈت کا قتل تھا۔ اس کے کچھ عرصے بعد مجاہدین نے سرینگر ہائی کورٹ کے جج نیل کنٹھ گنجو، جس نے مقبول بھٹ کو پھانسی کی سزا سنائی تھی، کو قتل کر دیا۔ اسی عرصے میں مبینہ طور پر مجاہدین نے مقامی اخبار کے ذریعے سے اعلان کیا کہ تمام ہندو پنڈت کشمیر چھوڑ کر چلے جائیں۔
ہندو پنڈتوں کی دو نامور شخصیات کے قتل کے بعد اس اعلان نے کشمیری پنڈتوں میں خوف و ہراس پیدا کر دیا اور بہت سے خاندانوں نے نقل مکانی شروع کر دی۔
دوسری طرف جموں و کشمیر کی سیاسی صورتحال بہت کشیدہ چل رہی تھی۔ اس وقت کشمیر کا وزیر اعلیٰ فاروق عبد اللہ تھا اور انڈیا کے اُس وقت کے وزیر اعظم وی پی سنگھ نے کشمیر میں فاروق عبداللہ کے مخالف جگ موہن کو گورنر تعینات کردیا۔ فاروق عبد اللہ نے احتجاجاً وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا جس کے جواب میں گورنر جگ موہن نے کشمیر میں گورنر راج لگادیا۔ یہ واقعہ ۱۹ جنوری ۱۹۹۰ء کا ہے۔ اسی رات جگ موہن نے انڈین سکیورٹی فورسز کے ذریعے سے مجاہدین اور اسلحے کی تلاش کا بہانہ بنا کر کشمیر میں گھر گھر تلاشی اور چھاپے مارنے شروع کیے اور اس عمل میں سینکڑوں لوگوں کو گرفتار کیا اور مسلمان عورتوں کی بے حرمتی کی گئی۔
اگلے دن ۲۰ جنوری ۱۹۹۰ء کو ہزاروں کشمیری مسلمانوں نے سری نگر کے گواکدال پُل پر جمع ہو کر ان حکومتی اقدامات کے خلاف احتجاج کیا۔ ان احتجاج کرنے والوں پر انڈین فورسز نے فائر کھول دیا اور ایک اندازے کے مطابق اس احتجاج میں لگ بھگ ۳۰۰ کشمیری مسلمان شہید ہوئے۔
اس احتجاج کے بعد جہاں ایک طرف مجاہدین کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا تو وہیں انڈین فورسز نے بھی کھل کر کشمیری مسلمانوں پر ظلم و تشدد شروع کر دیا۔
خوف و ہراس اور فسادات کے ڈر سے ہندو پنڈتوں نے بڑی تعداد میں وادیٔ کشمیر سے نقل مکانی شروع کر دی اور جموں اور انڈیا کےد یگر علاقوں میں منتقل ہونا شروع ہو گئے۔ ان میں بڑی تعداد جموں میں بنائے گئے کیمپوں میں منتقل ہوئی۔
انسانی حقوق کے ادارے ’ہیومن رائٹس واچ‘ کی مئی ۱۹۹۱ء کی ایک رپورٹ کے مطابق ۱۹۸۹ء سے ۱۹۹۰ء کے دوران کتنے ہندو پنڈت قتل ہوئے اس حوالے سے مختلف اندازے پائے جاتے ہیں اور ان کی تعداد ۸۹ سے ۲۱۹ تک بتائی جاتی ہے۔ جبکہ اسی عرصے میں اس سے کئی گنا زیادہ مسلمان شہید ہوئے۔
۲۳ مارچ ۲۰۱۰ء کو جموں و کشمیر اسمبلی میں ہلاکتوں کے حوالے سے اٹھائے گئے ایک سوال کے جواب میں جموں و کشمیر کے ریاستی وزیر ’رمن بھلا‘ نے بتایا کہ ۱۹۸۹ء سے لے کر ۲۰۰۴ءکے درمیان کل ۲۱۹ کشمیری پنڈت قتل ہوئے جبکہ اسی مدت میں ’سرکاری اعداد و شمار‘ کے مطابق چالیس ہزار کشمیری مسلمان شہری ہلاک ہوئے۔
ان حقائق کو سامنے رکھیں تو واضح ہو جاتا ہے کہ ان تیس سالوں میں ہندو پنڈتوں کی انتہائی قلیل تعداد ہلاک ہوئی ان میں بھی اکثریت ایسوں کی تھی جو سرکاری عہدوں پر فائز تھے۔ جبکہ اسی عرصے میں اگر سرکاری اعداد و شمار کو درست مان لیا جائے تو لاکھوں نہیں تودسیوں ہزار کشمیری مسلمان شہید کر دیے گئے۔ اتنے واضح حقائق موجود ہونے کے باوجود ہندی میڈیا اور حکومت یہ ثابت کرنے پر بضد ہے کہ ہندو پنڈتوں کی ’نسل کشی‘ ہوئی اور سارے کشمیری مسلمان ظالم تھے اور اس ’نسل کشی‘ میں برابر کے شریک تھے۔
فلم پر ردِّ عمل
کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبد اللہ نے اس فلم کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے اس کی صداقت پر سوال اٹھایا اور اس کو حقیقت سے بہت دور کہا۔
سابق را چیف ’اے ایس دُلت‘ نے ،جو ۱۹۸۹،۹۰ میں کشمیر میں ہی تعینات تھا ،اس فلم کو ’پروپیگنڈہ فلم‘ کہا اور کہا کہ بہت سے پنڈت جو ۱۹۹۰ء میں وہیں رہے، خود مسلمانوں نے ان کی حفاظت کی۔ بہت سے کشمیری پنڈت خاندان وہیں بسے رہے۔ یہاں تک کہ آرٹیکل ۳۷۰ کی منسوخی کے بعد بھی ان پنڈتوں کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔
عام آدمی پارٹی کے سربراہ اور نئی دہلی کے وزیر اعلیٰ اروِند کیجریوال نے بھی نئی دہلی اسمبلی میں تقریر کے دوران اس فلم کو سراسر جھوٹ قرار دیا اور نئی دہلی میں اسے ’ٹیکس فری‘ کرنے سے انکار کر دیا۔ اس حوالے سے روزنامہ اردو ٹائمز کے اداریے میں اس تقریر پر جو تبصرہ کیا گیا ہے وہ ملاحظہ ہو:
خیالی فلمیں | اردو ٹائمز اداریہ
’’اروِند کیجریوال نے اپنی تقریر میں نہ صرف بی جے پی بلکہ سیدھے وزیر اعظم نریندر مودی پر اتنی جارحانہ طور پر تنقید کی جس کے بارے میں آج کے ماحول میں سوچا بھی نہیں جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ۸ سال کی حکومت کے بعد اگر کسی وزیراعظم کو ایک فلم ساز کے ’چرن میں شرن‘ لینا پڑ رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اُس وزیر اعظم نے ۸ سال میں کچھ نہیں کیا۔ بی جے پی کی کشمیری پنڈتوں سے ہمدرستی کو سیاسی ڈرامہ بازی قرار دیتے ہوئے اروند کیجری وال نے کہا کہ اگر کشمیری پنڈتوں سے بہت ہمدردی ہے اور یہ فلم کشمیری پنڈتوں کی حقیقت منظر عام پر لانے کے لیے ہی بنائی گئی ہے تو اس مقصد کی تکمیل کا سب سے آسان طریقہ ہے کہ فلم کو یوٹیوب پر ڈال دیا جائے۔ سارا ملک اسے دیکھ لے گا۔ اروِند کیجریوال نے وویک اگنی ہوتری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بی جے پی کے ورکروں اور لیڈروں کو کہا کہ کشمیری پنڈتوں کے نام پر کچھ لوگ کروڑوں کما رہے ہیں اور آپ لوگوں کو فلم کا پوسٹر چپکانے کا کام دیا گیا ہے۔ کیا اسی کام کے لیے سیاست میں آئے تھے؟ آپ کا مسئلہ بجلی، پانی اور بے روزگاری ہے لیکن آپ سے کہا جا رہا ہے کہ فلم دیکھو۔‘‘
[روزنامہ اردو ٹائمز | ۲۷ مارچ ۲۰۲۲ء]
روزنامہ اعتماد میں کالم نگار ناظم الدین فاروقی اس فلم پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
کشمیر فائلز اور حجاب پر پابندی کا مسئلہ | ناظم الدین فاروقی
’’کشمیر فائلز کی تباہ کاری تقسیمِ ہندو پاک یا سقوطِ حیدر آباد سے کہیں زیادہ برق رفتاری سے بڑی مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔ پہلے تو یہ کوئی تفریحی فلم نہیں ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ فلم دو مقاصد کے لیے بنائی گئی ہے۔ ایک تو سارے مسلم کشمیریوں کو ملک میں یکا و تنہا کیا جائے اور انہیں ذلیل و خوار کر کے بھرپور سزا دی جائے۔ دوسرا ملک کے ۸۰ فیصد غیر مسلم عوام میں مسلمانوں کے خلاف نفرت ، عداوت اور انتقام کی چنگاری لگا کر آگ بھڑکانا ۔ ۲۰ فیصد مسلمانوں کو الگ تھلگ کرتے ہوئے انہیں ظالم، خونخوار اور ہندوؤں کے خون کی پیاسی کمیونٹی قرار دیتے ہوئے فلم کا سیاسی و مذہبی طور پر استعمال و استحصال کیا جا رہا ہے۔ کشمیر فائلز کو ملک کے طول و عرض میں مقبولِ عام کرنے کے لیے حکومت مکمل تعاون پیش کر رہی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ آسام حکومت نے کشمیر فائلز دیکھنے کے لیے ریاست کو نصف یوم تعطیل دی ہے۔ دنیا کے کسی ملک میں فلمیں دیکھنے کے لیے اس طرح کی تعطیل کا کہیں اعلان نہیں کیا جاتا۔ بی جے پی کے ممبران پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی و دوسرے قائدین بھی ایک ایک ہفتے کے مفت ٹکٹ لے کر عوام کو فلم بینی کی ترغیب دے رہے ہیں۔‘‘
[روزنامہ اعتماد | ۲۷ مارچ ۲۰۲۲ء]
انڈیا سے متعلق سیاسی خبروں کی ویب سائٹ ’دی وائر‘سے منسلک ایک لکھاری نیومی بارٹن نے اس فلم کا تنقیدی جائزہ لیا ہے اور اس میں پائی جانے والی خامیوں کو اجاگر کیا ہے۔ اس نے تنقید کی کہ فلم یہ پیغام دے رہی ہے کہ جو کچھ کشمیری پنڈتوں کے ساتھ ہوا اس کی سزا مجموعی طور پر سارے مسلمانوں کو دی جانی چاہیے اور اس لیے ان پر جو بھی تشدد کیا جائے وہ اس کے حقدار ہوں گے۔ آگے چل کر وہ اُن حقائق کی نشاندہی کرتا ہے جنہیں اس فلم میں نظر انداز کر دیا گیا۔ اس حوالے سے تحریر سے ایک اقتباس کا ترجمہ درج ذیل ہے:
‘The Kashmir Files’ uses Kashmiri Pandits for propaganda, and hates Muslims | Naomi Barton
’’ دی کشمیر فائلز میں موجود واقعاتی غلطیوں کے بارے میں اور فلم میں سیاسی طور پر ناموافق سچائیوں کو نظر انداز کرنے کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ مثلاً مرکز میں اقتدار اُس وقت ایسی حکومت کے پاس تھا جو بی جے پی کی حمایت کی محتاج تھی اور یہ کہ ریاست اس وقت خود وفاق کے تحت تھی۔ اور یہ کہ سرکاری اور غیر سرکاری ریکارڈز کے مطابق قتل ہونے والے کشمیری پنڈتوں کی تعداد چند سو میں ہے نہ کہ ہزاروں میں جیسا کہ فلم میں دعویٰ کیا گیا۔‘‘
بارٹن اس بات پر بھی تنقید کرتا ہے کہ فلم کے آخری سین کے طور پر ندی مرگ قتل عام کو دکھایا گیا ہے جہاں ۲۴ عام شہریوں کو جنگجوؤں نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ لیکن یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ ’دی کشمیر فائلز‘ نامی اس فلم میں سوپور قتل عام کیوں نہیں دکھایا گیا؟ جہاں ۴۳ عام شہریوں کو انڈین بارڈر سکیورٹی فورس نے قتل کیا، اور یہی نہیں کہ گولیاں مار کر قتل کیا بلکہ انہیں دکانوں میں جمع کیا گیا، ان پر گولیاں برسائی گئیں ، ان پر پارافین چھڑکا گیا اور پھر دکانوں کو آگ لگا دی گئی۔
تحریر کے آخر میں اس فلم کے مقصد کے حوالے سے بارٹن ایک جامع تبصرہ کرتا ہے۔ اس حوالے سے ایک اقتباس کا ترجمہ درج ذیل ہے:
’’ اس فلم میں اگنی ہوتری نے کشمیری پنڈتوں کو تمام ہندوؤں کی جگہ پر دکھایا، اور اس فرضی خوف کو دگنا کر دیا جو ہندتوا کی بالادستی کے منصوبے کے لیے ناگزیر ہے، جس کی مخالف سمت میں مسلمان ایک اکائی ہیں۔
جہاں ہری دوار کی مجلسِ نفرت میں شامل ہونے والوں جیسے شدت پسندوں نے زہر اگلا کہ ہندو برادری کو دست دراز اور درندہ خو مسلم آبادی کے خلاف اپنے دفاع کے لیے ہتھیار اٹھانے چاہئیں، اگنی ہوتری نے اس تصور کو زندگی بخش دی۔ جہاں ’لوْ جہاد‘ کے بے بنیاد خوف کے کاروبار کو اب قانون سازی کی طرف دکھیلا جا رہا ہے، اگنی ہوتری نے ایک ایسی بے بس اور کمزور ہندو عورت کی نمائش کی جسے تحفظ کی ضرورت ہے۔ جہاں دائیں بازو کے میڈیا کی وجہ سے جھوٹی خبریں ہر طرف چھائی ہوئی ہیں، اگنی ہوتری نے پوری احتیاط کے ساتھ کسی پیچیدہ سچ کے وجود کے امکان کو ہی ختم کر دیا ہے……
…… شمالی ہند کے تھیٹروں میں جذباتی لوگ ردّعمل میں ہندو مردوں سے مسلم عورتوں سے شادی کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ایسے نعرے لگائے جا رہے ہیں کہ ’’مُلّے کاٹے جائیں گے، رام رام چلّائیں گے‘‘، ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اگنی ہوتری نے نفرت کی ایک بڑی نہر کھود ڈالی ہے۔ اب زیادہ پریشان کن سوال یہ ہے کہ اس کا پانی کتنا گہرا ہے۔‘‘
[The Wire | ۲۱ مارچ ۲۰۲۲ء]
حقیقت میں نسل کشی کس کی ہوئی؟
بعض ہندو تجزیہ نگار اور لکھاری پوری ڈھٹائی سے کہہ رہے ہیں کہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں نسل کشی کا صرف ایک ہی واقعہ ہوا ہے اور وہ کشمیر میں ہندو پنڈتوں کی نسل کشی ہے ۔ حالانکہ پچھلے تیس سال میں آنے والے تمام سرکاری اور غیر سرکار اعداد و شمار کے مطابق جو ہندو پنڈت قتل ہوئے ان کی تعداد کل ہندو پنڈت آبادی کا پانچ فیصد بھی نہیں بنتی اور اسے نسل کشی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔
لیکن جموں و کشمیر میں نسل کشی کا واقعہ اس سے پہلے ہو چکا ہے۔ لیکن یہ ہندو پنڈتوں کی نسل کشی نہیں تھی بلکہ ۱۹۴۸ء میں جموں کے مسلمانوں کی نسل کشی تھی۔ اس حوالے سے روزنامہ اردو ٹائمز میں افتخار گیلانی نے کچھ حقائق پیش کیے ہیں جن سے ایک اقتباس درج ذیل ہے:
کہانی کشمیری پنڈتوں کی | افتخار گیلانی
’’چند سال قبل کشمیر کے ایک سابق بیوروکریٹ خالد بشیر کی تحقیق پر مبنی رپورٹ کو ٹائمز آف انڈیا کے کالم نویس سوامی انکلیشور ائیر اور معروف صحافی سعید نقوی نے اپنے کالم کا موضوع بنایا تو کئی تحقیقی اداروں میں تہلکہ مچ گیا۔ جدید تاریخ کی اس بدترین نسل کشی پر تعصب اور بے حسی کی ایسی دبیز تہہ جم چکی ہے کہ کوئی یقین ہی نہیں کر پا رہا۔ اس نسل کشی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جموں میں ۶۹ فیصد مسلم آبادی تھی، جس کو چند مہینوں میں ہی اقلیت میں تبدیل کر دیا گیا۔ دی ٹائمز لندن کی ۱۰ اگست ۱۹۴۸ء کی ایک رپورٹ کے مطابق ان فسادات میں چند ماہ کے اندر دو لاکھ ۳۷ ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ جموں کی ایک سیاسی شخصیت رشی کمار کوشل نے ریاست میں مسلمانوں کے خلاف منافرت پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ خود مسلمانوں پر گولیاں چلا رہے تھے۔ اودھم پور کے رام نگر میں تحصیل دار اودھے سنگھ اور مہاراجا کے اے ڈی سی کے فرزند بریگیڈئر فقیر سنگھ خود اس قتلِ عام کی نگرانی کر رہے تھے۔‘‘
[روزنامہ اردو ٹائمز | ۲۷ مارچ ۲۰۲۲ء]
کشمیری پنڈتوں سے مخلص کون؟
اس فلم کو بنانے والے اور بی جے پی کی حکومت کشمیری پنڈتوں کے ساتھ کتنی مخلص ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ فلم صرف انڈیا کے اندر اربوں روپے کا کاروبار کر چکی ہے لیکن جب فلم کے پروڈیوسر اگنی ہوتری سے ایک صحافی نے پوچھا کہ اس فلم سے جو منافع حاصل ہو رہا ہے کیا اسے کشمیری پنڈتوں کی فلاح و بہبود کے لیے اور ان کی دوبا رہ آبادکاری کے لیے استعمال کیا جائے گا؟ تو اس کے جواب میں اگنی ہوتری نے غصے میں جواب دیا کہ کیسا منافع؟ ابھی تک تو کوئی منافع نہیں ہوا جب کوئی منافع ہوگا تب دیکھیں گے۔ اس پر جب صحافی نے اس فلم کی کامیابی اور اربوں روپے کا کاروبار کرنے کی طرف اشارہ کیا تو اگنی ہوتری نے اس صحافی کو نظر انداز کر دیا اور دوسرے سے بات شروع کر دی۔
دوسری طرف جموں کے کیمپوں میں رہنے والے کشمیری پنڈت پچھلے تیس سال سے ہندوستانی حکومت سے سراپا احتجاج ہیں کہ انہیں نظر انداز کر دیا گیا ہے اور انہیں حقوق نہیں دیے جا رہے۔ ہندوستان کی حکومتوں کی طرف سے پچھلے تیس سال میں ان کشمیری پنڈتوں کو دوبارہ آباد کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ بلکہ ہمیشہ انہیں سیاسی فوائد کے لیے ہی استعمال کیا جاتا رہا۔ آرٹیکل ۳۷۰ کی منسوخی کے بعد بھی ان کشمیری پنڈتوں کو واپس بسانے کی بات نہیں ہوئی بلکہ انڈیا سے دیگر ہندوؤں کو لاکر کشمیر میں آباد کرنے، کشمیری مسلمانوں کی اراضی پر قبضہ کرنے اور کشمیری مسلمانوں کی زرعی زمینوں کو ہتھیا کر ان پر صنعتیں لگانے پر کام جاری ہے۔ جبکہ کشمیری پنڈتوں کی جھولی میں حکومت کی طرف سے صرف نعرے ، دعوے اور وعدے ہی ڈالے جا رہے ہیں۔ ان متشدد ہندوؤں سے زیادہ تو کشمیری پنڈتوں کے کشمیری مجاہدین خیر خواہ ثابت ہوئے کہ برہان وانی نے اعلان کیا کہ کشمیری پنڈت واپس آکر آباد ہو جائیں انہیں تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
اختتامیہ
یہ چیزیں ثابت کرتی ہیں کہ پورے ہندوستان میں ’ہندتوا‘ کے نظریے کا پرچار کرنے والا سنگھ پریوار خود ہندوؤں کے ساتھ بھی مخلص نہیں۔ بلکہ ان کے مسائل کو اپنے سیاسی فوائد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ جھوٹ اور پروپیگنڈہ کے ذریعے سے اکثریتی ہندو طبقے کے جذبات بھڑکائے جائیں اور ان کی حمایت حاصل کر کے جہاں اپنے اقتدار کو مضبوط سے مضبوط تر کیا جائے وہیں اکثریتی ہندو آبادی کے اندر مسلمانوں کے حوالے سے اس حد تک نفرت بھر دی جائے کہ سارے ہندو مسلمانوں کو ہندوستان سے ختم کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں اور ہندوستان کو ہندو راشٹر بناکر صدیوں پرانی ’برہمن کی حکمرانی‘ کو واپس ہندوستان میں رائج کرنے کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہندوستان کے مسلمان حالات کی نزاکت کا ادراک کریں اور اس خام خیالی سے باہر آجائیں کہ ہندو ’برادرانِ وطن‘ کی اکثریت ان نظریات کو رد کر تی ہے اور وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر رہنے کی خواہاں ہے۔ مسلمانوں کے قتلِ عام کے لیے اسٹیج تیار کیا جا چکا ہے ایسے میں ہمیں چاہیے کہ سرابوں پر بھروسہ کرنے کی بجائے اپنے دفاع کی طرف توجہ دیں اور ہندو بلوائیوں کے حملوں کے خلاف خود کو منظم کرنا شروع کریں۔ اگر ہم اس بھول میں پڑے رہےکہ ہماری تعداد بہت زیادہ ہے اور ہمارے ساتھ ایسا نہیں ہو سکتا توہمارے ساتھ بھی خاکم بدہن وہی ہو گا جو کہ برما میں مسلمانوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔
٭٭٭٭٭
1 پنڈت اصل میں تو ہندوؤں کے مذہبی رہنماؤں کے لیے خطاب ہے لیکن کشمیر میں بسنے والے تمام برہمن اپنے نام کے ساتھ پنڈت کا سابقہ لگاتے آئے ہیں۔ سیکولر نظریات کے حامل انڈیاکے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے نام کے ساتھ بھی ’’پنڈت‘‘ اسی وجہ سے لگتا ہے کہ اس کا تعلق بھی کشمیری برہمن خاندان سے تھا۔










