بسم اللہ والحمدللہ، والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ
دنیا بھر میں بسنے والے میرے مسلمان بھائیو!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
یہ ’’أيام مع الإمام‘‘ (امام کے ساتھ گزرے ایام) کے سلسلے کی چھٹی نشست ہے۔ اس میں، ان شاء اللہ، میں ان خوش گوار یادوں میں سے چند مزید واقعات بیان کروں گا جو مجھے اس دور کے عظیم مجاہد، شیخ اسامہ بن لادنکے ساتھ رفاقت کے دوران نصیب ہوئے۔
گزشتہ دو نشستوں میں، میں نے تورا بورا کے بارے میں گفتگو کی، وہاں کی یادیں تازہ کیں، دوستوں اور ساتھیوں، دشمنوں اور اُن کے احوال کا ذکر کیا۔ اسی طرح میں نے مجاہد شیخ محمد یونس خالص ، قاری عبدالاحد ، مجاہد استاد مولوی نور محمد ، اسی طرح بطل، مجاہد معلم اول گل کا بھی تذکرہ کیا۔
جیسا کہ میں نے گزشتہ نشست میں عرض کیا تھا کہ میں شہداء کا تذکرہ کروں گا۔ رہے وہ زندہ ساتھی، جنہوں نے ہم پر بے شمار احسانات کیے، ہماری مدد کی اور عظیم خدمات انجام دیں، تو فی الحال میں ان کا ذکر مؤخر کرتا ہوں۔ ان شاء اللہ، نہ ہم ان کی فضیلت کو فراموش کریں گے، نہ ان کے احسانات کو، اور نہ ہی جہاد اور تحریکِ جہاد کے لیے ان کی بے مثال خدمات کو بھلائیں گے۔ اللہ تعالیٰ انہیں بہترین جزائے خیر عطا فرمائے۔
میں صرف اتنا کہوں گا کہ آپ سب ہمارے سروں کے تاج اور ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں اور آپ کی خدمات کبھی فراموش نہیں کی جا سکتیں۔ تاہم وقت آنے پر، اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا، تو مناسب موقع پر آپ کا تفصیل سے ذکر بھی کیا جائے گا۔
دوستوں اور رفقائے کار کے بارے میں گفتگو کے بعد، اب میں مناسب سمجھتا ہوں کہ تورا بورا میں شہید ہونے والے ساتھیوں کا مختصراً تذکرہ کروں، ان ساتھیوں کا بھی جو معرکۂ تورا بورا میں شامل تھے، لیکن بعد میں شہید ہوئے۔
بے شک میں یہ کہنا چاہوں گا کہ الحمدللہ شیخ اسامہ بن لادن کی خندقیں کھودنے سے متعلق منصوبہ بندی اور اس پر ان کے اصرار کی بدولت، مجاہد ساتھیوں کو اللہ کے فضل سے کافی کم نقصان اٹھانا پڑا۔
اور یہ نقصان ساتھیوں کی مجموعی تعداد کی نسبت سے تقریباً دس سے بارہ یا تیرہ فیصد ہے، تو یہ ایک نسبت ہے جو شدید بمباری کے مقابلے میں بہت کم سمجھی جاتی ہے جس کا سامنا تورا بورا میں ساتھیوں کو کرنا پڑا، اس شدید بمباری کے ساتھ سخت محاصرہ اور شدید حالات بھی پیش آئے۔
شیخ اسامہ بن لادنکا خندقوں پر اصرار بہت زیادہ تھا اور یہ ایک پالیسی ہے جس کا ہر جگہ مجاہدین کو خاص طور پر خیال رکھنا چاہیے کیونکہ صہیونیت نواز صلیبی دشمن ہم پر اپنے فضائی کنٹرول کے ذریعے طاقتور اور متکبر ہو رہا ہے، اس لیے زمین میں پناہ لینا اس فضائی کنٹرول کے خلاف مزاحمت کرنے کے لیے بہترین وسائل میں سے ہے، لہٰذا تمام مجاہدین کو میری نصیحت ہے کہ وہ اس میں بہت زیادہ دلچسپی لیں اور خندقیں کھودنے میں مزید جدت لائیں، ان شاء اللہ یہ صہیونیت نواز صلیبی دشمن کے فضائی کنٹرول کے خطرے کو بہت بڑی حد تک کم کر دے گا۔
شہداء میں سے سب سے پہلے میں جن کا ذکر کرنا چاہوں گا، ان پر ایک طائرانہ نظر ڈالوں گا، ان میں سب سے پہلے بطلِ اسلام، شیخ ابن الشیخ لیبی ہیں، اس عالی شخصیت نے موجودہ تاریخِ جہاد میں روس کے خلاف جہاد سے لے کر مرتے دم تک اپنا سب کچھ جہاد و مجاہدین کی خدمت کے لیے بغیر تنظیمی تعصب اور جانب داری کے وقف کر دیا تھا، میں نے ان کا تذکرہ پہلے بھی کیا ہے اور شیخ اسامہ بن لادن کی ان سے متعلق تعریف کا ذکر کیا ہے، لیکن میں اسے یہاں تورا بورا کے جنگی رہنماؤں اور ابطال میں ذکر کر رہا ہوں، اور یہ شخصیت خود اپنی ذات میں ہی ایک درسگاہ تھیں، وہ اور ان کے ساتھی معسكر خلدن میں، یہ معسكر خلدن خود بھی ایک درسگاہ ہے۔
جب سوویت یونین افغانستان میں عبرتناک شکست سے دوچار ہو کر اس سرزمین سے نکل گیا تو اس کے بعد جہادی جماعتوں کے درمیان باہمی اختلافات نے شدت اختیار کر لی۔ خانہ جنگی نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور فتنہ و فساد کی آگ ہر سو بھڑک اٹھی۔ اس نازک دور میں بہت سے مجاہدین افغانستان چھوڑ کر دوسرے علاقوں کا رخ کر گئے، لیکن شیخ ابن الشیخ اللیبی اور ان کے رفقائے کار نے ایک مختلف اور دور اندیش راستہ اختیار کیا۔ ان کی رائے یہ تھی کہ افغانستان ہی میں قیام رکھا جائے، اس سرزمین کے سازگار ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف جہادی جماعتوں اور تنظیموں کے لیے مخلص، با صلاحیت اور تربیت یافتہ افراد تیار کیے جائیں۔
چنانچہ انہوں نے اپنی تمام تر توانائیاں افرادی قوت کی علمی، فکری، روحانی اور عسکری تربیت پر مرکوز کر دیں۔ وقت نے ثابت کیا کہ ان کی یہ حکمتِ عملی نہایت بابرکت اور دور رس نتائج کی حامل تھی، کیونکہ اس کے ثمرات عالمِ اسلام کے متعدد جہادی محاذوں تک پہنچے اور بہت سے مجاہدین نے انہی تربیتی مراکز سے استفادہ کیا۔
معسکر خلدن محض جسمانی اور عسکری تربیت کا مرکز نہیں تھا، بلکہ وہ دعوت، تعلیم اور تزکیۂ نفس کا ایک اہم ادارہ بھی تھا۔ یہاں شیخ ابو عبداللہ المہاجر حفظہ اللہ اپنے علمی دروس کے ذریعے مجاہدین کی فکری اور شرعی تربیت فرماتے تھے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں بھی جلد از جلد ان کی زیارت نصیب فرمائے، آمین۔
اس مدرسے کے روحِ رواں شیخ ابن الشیخ اللیبی تھے۔ جس فراخ دلی سے وہ اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے تھے، اسی استقامت کے ساتھ نہایت کٹھن اور نازک حالات میں بھی پامردی کا مظاہرہ کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں عسکری حکمتِ عملی، جنگی تدبیر اور عملی تجربے کی ایسی گہری بصیرت عطا کی تھی کہ وہ اس میدان میں ایک غیر معمولی اور عبقری شخصیت تھے۔
تورا بورا کے معرکے میں بھی عسکری قیادت کی ذمہ داری انہی کے سپرد تھی۔ محدود وسائل، قلیل ساز و سامان اور نسبتاً کم امکانات کے باوجود انہوں نے مجاہدین کی ایسی حکمتِ عملی کے ساتھ قیادت کی کہ دنیا کی سب سے بڑی عسکری طاقت کو اپنے مقاصد کے حصول میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
شیخ ابن الشیخ اللیبی استقامت اور عزم و ہمت کا پیکر تھے۔ ان کی ثابت قدمی کی بے شمار مثالیں ہیں، جن میں سے دو کا ذکر مناسب معلوم ہوتا ہے۔ پہلی مثال کا اجمالی تذکرہ پہلے بھی گزر چکا ہے۔
جب وہ تورا بورا کے سخت محاصرے سے اپنے متعدد مجاہد ساتھیوں کو بحفاظت نکالنے میں کامیاب ہوئے اور انہیں پاکستان کے قبائلی علاقوں تک پہنچا دیا، تو وہاں ایک قبیلے نے امان دینے کے باوجود بد عہدی اور خیانت کا ارتکاب کرتے ہوئے انہیں پاکستانی فوج کے حوالے کر دیا۔ امریکہ، اپنی بے مثال عسکری قوت، سخت ترین محاصرے اور اندھا دھند بمباری کے باوجود نہ شیخ کو نقصان پہنچا سکا اور نہ ہی ان کے رفقائے جہاد کو، لیکن پاکستانی حکومت نے دھوکے اور فریب کا سہارا لیتے ہوئے، ایک قبیلے کی دی گئی امان کے ذریعے انہیں گرفتار کر لیا۔
انہیں پاکستان کے شہر کوہاٹ کی جیل منتقل کیا گیا، جہاں بعض خائن سرکاری اہلکاروں نے ہر ممکن کوشش کی کہ شیخ ابن الشیخ اللیبی کو کسی سودے پر آمادہ کر کے ان کے پاس موجود رقم اپنے قبضے میں لے لیں۔ یہ وہ رقم تھی جو شیخ اسامہ بن لادن نے دیگر مجاہدین کے اخراجات اور ضروریات پوری کرنے کے لیے ان کے سپرد کی تھی۔ اس واقعے کی مزید تفصیل، ان شاء اللہ، تورا بورا کے محاصرے سے نکلنے کے واقعات کے ضمن میں بیان کی جائے گی۔
ان سرکاری اہلکاروں نے شیخ سے کہا:
’’اگر آپ یہ رقم ہمارے حوالے کر دیں تو ہم آپ کو اس مقدمے سے نکال دیں گے اور اس طرح فرار کرا دیں گے کہ گویا آپ کبھی گرفتار ہی نہیں ہوئے تھے۔‘‘
اس پیشکش کے جواب میں شیخ ابن الشیخ اللیبی نے نہایت ایثار اور قائدانہ کردار کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا:
’’میں تمہیں یہ رقم، بلکہ اس سے دوگنی رقم دینے کے لیے بھی تیار ہوں، لیکن شرط یہ ہے کہ صرف مجھے نہیں، بلکہ میرے تمام ساتھیوں کو بھی رہا کیا جائے۔‘‘
یقینا وہ بہترین قائد اور مجاہدین کے لیے بہترین نمونہ تھے۔
حکومتی افسران نے اس کے جواب میں کہا: یہ ممکن نہیں، ہم ایسا نہیں کر سکتے، یوں شیخ اپنے مجاہد ساتھیوں کے ساتھ جیل میں رہ گئے۔
دوسری مثال شیخ ابن الشیخ اللیبی کے عظیم کردار، بلند ہمتی اور غیر معمولی وفا داری کی ہے، جسے شیخ ابو یحییٰ اللیبی نے بیان کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ میری اور شیخ ابن الشیخ اللیبی کی گرفتاری کے بعد، جیل میں ایک ملاقات کے دوران شیخ نے مجھ سے کہا:
’’امریکی تفتیش کاروں نے مجھ سے پوچھا: کیا تم القاعدہ سے وابستہ ہو؟‘‘
یہاں یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ شیخ ابن الشیخ اللیبی عملاً القاعدہ کے رکن نہیں تھے اور نہ ہی انہوں نے شیخ اسامہ بن لادن کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے، اللہ تعالیٰ نے شیخ اسامہ کو یہ غیر معمولی صلاحیت عطا فرمائی تھی کہ وہ عالمِ اسلام کی تمام اسلامی اور جہادی صلاحیتوں اور قوتوں کو ایک مقصد کے لیے بروئے کار لاتے تھے، خواہ وہ افراد ان کی بیعت میں ہوں یا نہ ہوں۔
اسی طرح، شیخ اسامہ بن لادن کے مناقب بیان کرتے ہوئے یہ حقیقت بھی واضح کی جا چکی ہے کہ وہ تعصب، جماعتی تنگ نظری اور تنظیمی عصبیت سے یکسر پاک تھے۔ جو شخص بھی اسلام اور جہاد کا مخلص خیر خواہ ہوتا، خواہ اس کا تعلق کسی بھی جماعت یا تنظیم سے ہوتا، وہ اس کے ساتھ تعاون کرتے، اس کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے اور موقع و محل کے مطابق اس کی ذمہ داریاں متعین کرتے تھے۔
شیخ اسامہ کی شخصیت میں ایک غیر معمولی کشش تھی۔ وہ گویا ایک مقناطیس کی مانند تھے، جو مختلف اسلامی اور جہادی قوتوں کو اپنے گرد جمع کر لیتے اور ان کی استعدادوں کو امت کے اجتماعی مفاد کے لیے بہترین انداز میں استعمال کرتے تھے۔
چنانچہ حقیقت یہ تھی کہ شیخ ابن الشیخ اللیبی کا القاعدہ سے کوئی تعلق نہ تھا اور نہ ہی انہوں نے شیخ اسامہ کی بیعت کی تھی۔ لیکن جب امریکی تفتیشی افسروں نے ان سے سوال کیا:
’’کیا تمہارا تعلق القاعدہ سے ہے؟‘‘
تو انہوں نے بلا تردد جواب دیا:
’’جی ہاں، میرا تعلق القاعدہ سے ہے۔‘‘
یہ سن کر شیخ ابو یحییٰ اللیبی نے ان سے کہا:
’’آپ نے یہ جواب دے کر خود کو مزید مشکل میں ڈال دیا ہے۔‘‘
اس پر شیخ ابن الشیخ اللیبی نے فرمایا:
’’میں ان کے سامنے القاعدہ سے براءت اختیار نہیں کر سکتا۔ میرے نزدیک القاعدہ سے نسبت باعثِ شرف و اعزاز ہے۔ اگرچہ میں تنظیمی طور پر القاعدہ کا رکن نہیں، لیکن میں اس سے وابستگی کو اپنے لیے باعثِ فخر سمجھتا ہوں، اور ان کے سامنے کسی خوف یا مصلحت کی بنا پر اس سے لاتعلقی کا اظہار نہیں کر سکتا۔‘‘
اللہ تعالیٰ اس موقف پر ان کے درجات بلند کرے اور انہیں بہترین جزائے خیر عطا فرمائے، آمین۔
میں یہاں معرکۂ تورا بورا میں شیخ ابن الشیخ اللیبی کے کردار پر اختصار کے ساتھ روشنی ڈالنا چاہتا ہوں۔
جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے، معرکۂ تورا بورا میں عسکری قیادت شیخ ابن الشیخ اللیبی کے ہاتھ میں تھی۔ اس وقت ان کے پاس نہ وسائل کی فراوانی تھی، نہ جدید اسلحہ، اور نہ ہی وہ عسکری ساز و سامان جو ان کے مقابلے میں موجود صلیبی اتحاد کو حاصل تھا۔ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے کہ فرانسیسی میراج طیارے، امریکی B-52 بمبار اور دیگر جدید جنگی جہاز شب و روز تورا بورا پر اندھا دھند بمباری کر رہے تھے۔
اس وقت پورا افغانستان امریکی قبضے میں آ چکا تھا، اور تورا بورا ہی وہ واحد علاقہ تھا جو اب بھی ان کی دسترس سے باہر تھا۔ دنیا بھر کی نظریں اسی معرکے پر جمی ہوئی تھیں۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ تورا بورا کے باہر اس انتظار میں موجود تھے کہ کب عرب مجاہدین کی لاشیں نکالی جائیں گی یا انہیں زندہ گرفتار کیا جائے گا۔
امریکی صدر جارج بش کا خیال تھا کہ اگر تورا بورا میں موجود مجاہدین کے اس مختصر گروہ کو، جو ایک محدود علاقے میں محصور ہے، ختم کر دیا جائے اور شیخ اسامہ بن لادن کو بھی قتل کر دیا جائے، تو افغانستان کی جنگ اپنے اختتام کو پہنچ جائے گی۔ اس کے بعد امریکہ پوری یکسوئی کے ساتھ عراق پر حملے کی تیاری کر سکے گا۔
یوں پوری دنیا اس معرکے کے انجام کی منتظر تھی۔ صلیبی اتحاد نے اپنی پوری عسکری قوت، جدید ٹیکنالوجی اور بے پناہ وسائل تورا بورا کو کچلنے کے لیے جھونک دیے تھے، جبکہ دوسری جانب شیخ ابن الشیخ اللیبی کے پاس نہایت محدود وسائل تھے۔ مجاہدین کے ہاتھوں میں صرف ہلکا اسلحہ تھا۔
یہاں میں ایک ایسی بات بیان کر رہا ہوں جو شاید بہت کم لوگوں کو معلوم ہو۔ اتنی بڑی عالمی عسکری قوت، اس کے وسیع لشکر اور سینکڑوں جنگی طیارے، جو تورا بورا کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینے کے ارادے سے آئے تھے، ان کے مقابلے میں مجاہدین کے پاس صرف ایک مارٹر تھا۔
جی ہاں، صرف ایک مارٹر!
ایک مومن مسلمان کے لیے موت و حیات کوئی معنی نہیں رکھتی۔ اس کی پوری کائنات اپنے رب کی رضا ہوتی ہے۔ موت کب آئے گی اور کب نہیں آئے گی، اس سے مومن کو کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ اس کا فرضِ منصبی صرف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا طلب گار رہے۔
شیخ ابن الشیخ اللیبی نے اسی ایک مارٹر اور محدود وسائل کے ساتھ مخالف افواج کی پیش قدمی کو مسلسل روکے رکھا۔ جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیا جا چکا ہے، امریکی افواج خود براہِ راست تورا بورا میں داخل ہونے سے گریزاں تھیں۔ ان کا اندازہ تھا کہ وہاں موجود مجاہدین نے آخری سانس تک لڑنے کا عزم کر رکھا ہے، اس لیے انہوں نے براہِ راست پیش قدمی کی ہمت نہ کی۔
چنانچہ وہ اپنے اتحادی منافق افغان دستوں کو آگے بھیجتے۔ لیکن جب بھی یہ دستے تورا بورا کی طرف بڑھتے، ان میں سے بہت سے ہلاک یا زخمی ہو کر واپس لوٹتے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے محاصرہ کرنے والی ان افواج کے دلوں میں خوف و ہیبت پیدا کر دی ۔
ان شاء اللہ، آئندہ اس معرکے سے متعلق مزید دلچسپ واقعات بھی بیان کیے جائیں گے۔
بلاشبہ شیخ ابن الشیخ اللیبی جنگی حکمتِ عملی اور عسکری تدبیر میں غیر معمولی مہارت رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنے مورچوں اور فائرنگ کے تمام ٹھکانوں کو اس مہارت سے دشمن کی نظروں سے اوجھل رکھا کہ جدید ترین فضائی نگرانی کے باوجود دشمن ان کی درست پوزیشن کا تعین نہ کر سکا۔ ان کے پاس وسائل نہایت محدود تھے، چند مشین گنیں، چند ہلکے ہتھیار اور صرف ایک مارٹر ان کا کل عسکری سرمایہ تھا۔
صلیبی اتحاد کے جنگی طیارے مسلسل چودہ دن تک تورا بورا پر شدید بمباری کرتے رہے، جبکہ ساتھ ہی زمینی کارروائیاں بھی جاری رہیں۔ جب بھی منافقین کے دستے مجاہدین کا محاصرہ کرنے یا آگے بڑھنے کی کوشش کرتے، مجاہدین اپنے مورچوں سے ان پر بھر پور فائرنگ کرتے، جس کے نتیجے میں ان کے متعدد افراد ہلاک یا زخمی ہو جاتے۔
اس کے بعد جنگی طیارے دوبارہ حرکت میں آتے اور پورے علاقے پر مسلسل بمباری کرتے، یہاں تک کہ انہیں یقین ہو جاتا کہ مجاہدین کا صفایا ہو چکا ہے۔ لیکن جیسے ہی وہ اطمینان کے ساتھ دوبارہ پیش قدمی کرتے، شیخ ابن الشیخ اللیبی اپنے ساتھیوں سمیت ایک بار پھر ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے اور انہیں پسپا ہونے پر مجبور کر دیتے۔
یہ سلسلہ اس طرح جاری رہا، یہاں تک کہ تورا بورا سے انخلا کا مرحلہ آ پہنچا۔
اللہ تعالیٰ شیخ ابن الشیخ اللیبی پر اپنی بے پایاں رحمت نازل فرمائے، جنہوں نے نہایت صبر، استقامت، عسکری مہارت، غیر معمولی تدبر اور بے مثال شجاعت کے ساتھ دشمن کے پے در پے حملوں کا مقابلہ کیا اور محدود وسائل کے باوجود ان کی پیش قدمی کو مسلسل ناکام بنائے رکھا۔
جیسا کہ میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں، شاید انہی نشستوں میں، کہ شیخ اسامہ بن لادن ہر حال میں ایفائے عہد کے پابند تھے۔ ایک مرتبہ جنگ کے دوران تقریباً سو کے قریب منافقین مجاہدین کی کمین میں پھنس گئے۔ انہوں نے صلح اور امان کی درخواست کی۔ مجاہدین انہیں قتل کرنے کے قریب تھے، لیکن شیخ نے انہیں روک دیا، کیونکہ ان کے ساتھ جنگ بندی کا عہد کیا جا چکا تھا۔ یہی ابن الشیخ کی حکمتِ عملی تھی، جس کی بدولت مجاہدین نے اس نوعیت کی کارروائی اور فیصلے کیا۔
یہاں تورا بورا کے معرکے کا ایک دلچسپ اور مزاحیہ واقعہ بھی یاد آتا ہے۔ مجاہد بھائیوں نے وائرلیس پر ہاون مارٹر کا خفیہ نام ’’البغل‘‘ (خچر) رکھا ہوا تھا۔ ایک مرتبہ ایک مجاہد نے وائرلیس پر شیخ ابن الشیخ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’’اے ابن الشیخ! خچر کا چارہ ختم ہو گیا ہے‘‘۔ شیخ نے فوراً جواب دیا: ’’خاموش رہو، بات مت کرو!‘‘ دراصل مجاہد کا مطلب یہ تھا کہ گولہ بارود ختم ہو چکا ہے۔
آپ تصور کیجیے کہ مجاہدین کے پاس کس قدر محدود ساز و سامان تھا۔ ان کی تعداد تقریباً تین سو تھی، ان کے پاس صرف ہلکا اسلحہ تھا، اور ان کا مقابلہ دنیا کی طاقت ور ترین قوت سے تھا۔
وَاللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰٓي اَمْرِهٖ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ (سورۃ یوسف: ۲۱)
’’اور اللہ کو اپنے کام پر پورا قابو حاصل ہے، لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے۔ ‘‘
اس پورے واقعے میں ایک بڑا سبق پوشیدہ ہے کہ ایسی عظیم طاقت کے سامنے ثابت قدم رہنا ہی حقیقی نصرت ہے۔ دنیا کی کوئی بھی قوت، خواہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، آخر کار مادی قوت ہی ہوتی ہے، جس سے لوگ اپنی جانوں کی محبت میں خوف کھاتے ہیں۔ لیکن اگر انسان اپنا معاملہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے سپرد کر دے اور یہ عزم کر لے کہ اس نے اللہ کی راہ میں جان دینی ہے، تو پھر یہ عظیم قوت اس کا کیا بگاڑ سکتی ہے؟
زیادہ سے زیادہ وہ تمہیں قتل کرے گی، اس کے علاوہ اس کے بس میں کچھ بھی نہیں۔
اسی مناسبت سے ایک واقعہ یاد آتا ہے۔ جب واشنگٹن، نیویارک اور پنسلوینیا میں(نائن الیون کی) بابرکت کارروائیاں ہوئیں، یہاں یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ امریکی ان کارروائیوں میں ہدف بننے والی واشنگٹن میں واقع وزارتِ دفاع کی عمارت، پینٹاگون، کا تذکرہ نہیں کرتے، تاکہ دنیا کو یہ باور کرایا جا سکے کہ حملے صرف عوام پر ہوئے تھے، حالانکہ ان کارروائیوں میں پوری دنیا کی عسکری قیادت کو ضرب لگی تھی۔
مجھے یاد ہے کہ ان حملوں کے بعد بطلِ اسلام شیخ طارق انور نے کابل میں مجھ سے کہا:
’’ شیخ! امریکی ہمارے ساتھ کیا کریں گے؟‘‘
میں نے جواب دیا:
’’وہ کیا کریں گے؟ وہ کر ہی کیا سکتے ہیں؟‘‘
انہوں نے کہا:
’’وہ تو ہمیں ایٹم بم سے مار دیں گے، ہم کیا کریں گے؟‘‘
میں نے کہا:
’’ہم کیا کریں گے؟ مر جائیں گے۔‘‘
یہ سن کر وہ مسکرائے اور بولے:
’’جی، ہم مر جائیں گے۔‘‘
مقصود یہ ہے کہ ایک مومن مسلمان کے لیے موت و حیات کوئی معنی نہیں رکھتی۔ اس کی پوری کائنات اپنے رب کی رضا ہوتی ہے۔ موت کب آئے گی اور کب نہیں آئے گی، اس سے مومن کو کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ اس کا فرضِ منصبی صرف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا طلب گار رہے۔ یہی سبق تورا بورا میں سب پر واضح تھا۔
الغرض، خچر اور اس کے چارے کی بات پر واپس آتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مجاہدین کے پاس بس یہی محدود ساز و سامان تھا، جس کے ذریعے شیخ ابن الشیخ نے اس عظیم معرکے میں صلیبیوں اور منافقین کا مقابلہ کیا۔
شیخ ابن الشیخ اللیبی کو بعد ازاں پاکستان میں گرفتار کیا گیا۔ اس کے بعد انہیں افغانستان کی مختلف جیلوں میں رکھا گیا، پھر مزید تفتیش اور تشدد کے لیے مصر منتقل کر دیا گیا۔ انہیں تابوت میں مصر لے جایا گیا، جہاں مصری جنگی حساس ادارے کے سربراہ عمر سلیمان نے انہیں سخت اذیتوں کا نشانہ بنایا۔
شیخ ابن الشیخ اللیبی نے خود مصر میں اپنے اوپر ڈھائے گئے تشدد کا تذکرہ شیخ ابو یحییٰ اللیبی سے کیا تھا۔ مصری حکام نے امریکیوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ایک من گھڑت کہانی تیار کی۔ تشدد کے دوران شیخ سے کیمیائی ہتھیاروں کے بارے میں بار بار پوچھ گچھ کی جاتی رہی۔ شدید جسمانی اذیت کے باعث وہ ان کے ہر سوال کے جواب میں یہی کہتے رہے کہ: ’’جی، ہمارے پاس کیمیائی اسلحہ موجود ہے‘‘۔
یوں تشدد سے نجات پانے کے لیے ان سے جو کچھ بھی پوچھا گیا، وہ اس کا اعتراف کرتے گئے۔ بعد ازاں مصری حکام نے انہی اعترافات کو ذرائع ابلاغ میں شائع کر دیا۔ امریکیوں نے بھی اسے اپنے حق میں استعمال کیا اور پوری دنیا میں یہ تاثر پھیلایا کہ القاعدہ کے پاس کیمیائی ہتھیار موجود تھے، اور یہی وہ بنیاد تھی جس کی بنا پر ان پر حملہ کیا گیا۔
بعد ازاں امریکیوں نے انہیں لیبیا کی حکومت کے حوالے کر دیا۔ یہی وہ امریکہ تھا جو بظاہر قذافی کا مخالف اور لیبیا کو قذافی سے ’’آزاد‘‘ کرانے کا دعوے دار تھا، مگر حقیقت میں اسی کی حکومت کا حامی اور معاون ثابت ہوا۔
اس کے بعد شیخ ابن الشیخ اللیبی لیبیا کی جیلوں میں قید رہے۔ اسی دوران انسانی حقوق کی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ کے نمائندے ان سے ملاقات کے لیے آئے اور پوچھا کہ کیا آپ کو لیبیا اور امریکہ کی جیلوں میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا؟
شیخ نے ان سے گفتگو کرنے سے صاف انکار کر دیا اور کہا:
’’اب آئے ہو؟ مجھ پر ہونے والے تمام مظالم کے بعد اب پوچھنے آئے ہو؟ اب مجھ سے تشدد کے بارے میں سوال کرتے ہو؟ میرے پاس سے چلے جاؤ، مجھے تم سے کچھ نہیں چاہیے۔‘‘
شیخ ابن الشیخ کو لیبیا کی جیلوں میں شہید کیا گیا، غالب گمان یہی ہے کہ انہیں قذافی کے مطالبات(جس میں وہ قیدیوں سے اعلانیہ اپنے نظریات سے دستبردار اور رجوع کرواتا تھا) تسلیم نہ کرنے پر شہید کیا گیا، پس اللہ تعالیٰ لیبیا اور پورے عالمِ اسلام کے اس عظیم مجاہد پر رحم فرمائے!
میں شیخ ابن الشیخ اللیبی کا تذکرہ اس بات پر ختم کرنا چاہتا ہوں کہ شیخ ابن الشیخ اللیبی کا انتقام، بالخصوص لیبیا کے عوام اور بالعموم پورے عالمِ اسلام کے مسلمانوں پر ایک قرض ہے۔ اسی طرح شیخ ابو یحییٰ اللیبی اور شیخ عطیۃ اللہ اللیبی کا انتقام لینا بھی تم پر، اور تمام مجاہدین و مسلمانوں پر لازم ہے۔
تورا بورا کے معرکے میں مجموعی طور پر دس سے بارہ فیصد ساتھی شہید ہوئے۔ ان میں بھی اکثریت اُن مجاہدین کی تھی جو تورا بورا سے نکلنے کے دوران، سفر میں امریکی طیاروں کی بمباری کا نشانہ بنے۔ ایک تنگ وادی میں امریکی جنگی طیاروں نے ان پر شدید بمباری کی، جس کے نتیجے میں بیس سے تیس ساتھی شہید ہوئے، جبکہ خود تورا بورا میں ہونے والی پوری بمباری میں صرف دس ساتھی شہید ہوئے تھے۔ اس طرح مجموعی تعداد تقریباً تیس سے چالیس شہداء بنتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں جنت الفردوس میں ان کی رفاقت نصیب فرمائے، آمین۔
اس شدید ترین محاصرے اور مسلسل بمباری کے باوجود اگر نقصانات کا اندازہ لگایا جائے تو وہ انتہائی کم تھے، یعنی مجموعی طور پر تقریباً بارہ فیصد۔
ان شہداء میں شہید ابو محجن بھی شامل تھے، جنہوں نے افغانستان، بوسنیا اور امارتِ اسلامیہ کے پہلے دور میں بھی جہاد کیا تھا، اور بالآخر تورا بورا میں جامِ شہادت نوش کیا۔
اسی طرح محمد محمود مکی بھی تھے، جو اس سے قبل بوسنیا میں جہاد کر چکے تھے۔ بعد ازاں وہ افغانستان آئے اور یہاں بھی جہاد میں مصروف رہے۔ تورا بورا میں ابتدائی بمباری ہی کے دوران وہ شہید ہو گئے۔ تورا بورا پہاڑ پر چڑھتے ہوئے میری ان سے ملاقات بھی ہوئی تھی۔ اس وقت وہ ایک مقام پر ایک دستے کے امیر تھے۔
جن حالات میں مجاہد ساتھی تورا بورا میں زندگی گزار رہے تھے، ان کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے۔ جب ہم پہاڑ پر چڑھ رہے تھے تو ہمیں وہاں کی اصل صورتحال کا صحیح ادراک نہیں تھا۔ ایک مجاہد ساتھی نے پانی کا گیلن اٹھایا اور اطمینان سے وضو کرنے لگا۔ یہ دیکھ کر شیخ محمد محمود مکی نے اس سے کہا:
’’بھائی! پانی احتیاط سے استعمال کریں، یہاں پانی کا ایک قطرہ بھی سونے سے زیادہ قیمتی ہے۔‘‘
اس ایک جملے سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مجاہدین کس قدر سخت حالات میں زندگی گزار رہے تھے، جہاں پانی کے ایک ایک قطرے کو بھی انتہائی احتیاط اور ضرورت کے مطابق استعمال کیا جاتا تھا۔
اسی طرح بھائی طالوت بھی تورا بورا میں ہمارے ساتھ تھے، اور شیخ ابو یحییٰ الہاون بھی ابتدا میں ہمارے ساتھ موجود تھے، تاہم بعد میں وہاں سے روانہ ہو گئے۔
جیسا کہ ان کے لقب سے ظاہر ہے، شیخ ابو یحییٰ الہاون، مارٹر چلانے میں غیر معمولی مہارت رکھتے تھے۔ روس کے خلاف جہاد میں شریک ہونے والے مجاہدین، امارتِ اسلامیہ کے دور میں لڑنے والے اور بعد ازاں امریکیوں کے خلاف برسرِ پیکار رہنے والے تمام مجاہدین انہیں بخوبی جانتے تھے۔ وہ مدرسہ خلدن کے بانیوں میں شمار ہوتے تھے۔
وہ ان گمنام مگر نہایت متقی بندگانِ خدا میں سے تھے، جو کسی تعریف یا ستائش کے بغیر خاموشی سے محض اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اپنی خدمات انجام دیتے رہے۔ وہ شیخ عبداللہ عزام کے ساتھ بھی رہ چکے تھے۔ شیخ عبداللہ عزام ازراہِ مزاح انہیں ’’اٹلی کا دشمن‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے تھے، کیونکہ وہ ابتدا ہی سے اٹلی میں مقیم تھے، پھر وہاں سے ہجرت کر کے افغانستان آئے، جہاد میں شریک ہوئے اور یہیں کے ہو کر رہ گئے۔
ان کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ وہ اپنے ہر لمحے کو مفید کام میں صرف کرتے تھے اور کبھی فارغ نہیں بیٹھتے تھے۔ وہ یا تو علم کے حصول میں مشغول رہتے یا کسی مفید خدمت میں مصروف ہوتے۔ مثال کے طور پر، ایک عرصے تک وہ معسکرِ خلدن میں عسکری تربیت کے استاد رہے، جبکہ انہی دنوں خلدن ہی کے دعوتی ادارے میں ایک طالب علم کی حیثیت سے تعلیم بھی حاصل کر رہے تھے۔ یہی وہ ادارہ تھا جسے شیخ ابو عبداللہ المہاجر چلا رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں خیرو عافیت کے ساتھ جلد از جلد ان سے ملاقات نصیب فرمائے۔
بعد ازاں جب امریکہ میں (نائن الیون کی) بابرکت کارروائیاں ہوئیں اور صلیبی افواج نے افغانستان پر حملہ کیا تو شیخ ابو یحییٰ الہاون قبائلی علاقوں کی طرف چلے گئے۔ وہاں انہوں نے مجاہدین کو عسکری تربیت دینا شروع کر دی۔ چونکہ وہ ہاون چلانے کے فن میں مہارت رکھتے تھے، اس لیے اسی فن کی تعلیم دیتے تھے۔
شیخ ابو یحییٰ نہایت متقی اور خدا ترس انسان تھے۔ انہیں ہمیشہ یہ اندیشہ رہتا تھا کہ کہیں کوئی شخص ان سے یہ فن سیکھ کر اسے دنیاوی مقاصد یا باہمی قبائلی جھگڑوں میں استعمال نہ کرے۔ جیسا کہ آپ حضرات قبائلی علاقوں اور وہاں کی قبائلی جنگوں سے واقف ہیں، اسی لیے وہ ہر شاگرد سے قرآنِ مجید پر قسم لیتے تھے کہ وہ اس علم کو صرف اللہ کی راہ میں جہاد اور کفار کے خلاف ہی استعمال کرے گا۔
اسی وجہ سے بعض قبائلی انصار جان بوجھ کر بطورِ مزاح ان کے قریب آ جاتے کہ ان کے رجسٹر سے ہاون سے متعلق معلومات حاصل کر سکیں، مگر شیخ فوراً اپنا رجسٹر بند کر لیتے تھے۔
یہ گمنام بطلِ اسلام خاموشی سے اپنی جہادی خدمات انجام دیتے رہے، یہاں تک کہ کینسر کے مرض میں مبتلا ہوئے اور بالآخر اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ اللہ تعالیٰ انہیں صالحین میں شامل فرمائے۔
تورا بورا کے شہداء میں ایک اور نمایاں شخصیت، جن کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں، شیخ حمزہ الدندنی ہیں۔ وہ اپنے دیگر مجاہد ساتھیوں سمیت سرزمینِ حرمین میں آلِ سعود کی خائن فوج سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ تورا بورا میں نئے آنے والے مجاہدین کی ذمہ داری شیخ حمزہ الدندنی کے سپرد تھی، اور جنگ کے دوران یہ مجموعہ تمام دیگر تمام مجموعات کے مقابلے میں سب سے زیادہ منظم تھا۔
یقیناً تورا بورا کا معرکہ اسلامی وحدت کا ایک نمایاں مظہر تھا۔ اس معرکے میں کسی ایک خطے یا ملک کے لوگوں نے ہی حصہ نہیں لیا تھا، بلکہ عالمِ اسلام کے متعدد ممالک سے تعلق رکھنے والے مجاہدین اس میں شریک ہوئے تھے۔ عرب ممالک سے مجاہدین شریک ہوئے، بالخصوص جزیرۂ عرب، یمن، کویت، بحرین اور سعودی عرب سے۔ اسی طرح الجزائر کے شیخ ابو جعفر الجزائری اپنے ساتھیوں سمیت شریک ہوئے، جبکہ مراکش، تیونس اور لیبیا کے مجاہدین نے بھی اس معرکے میں حصہ لیا۔ پاکستان اور افغانستان کے علاوہ شام اور ترکستان سے تعلق رکھنے والے مجاہد بھائی بھی تورا بورا کے معرکے میں شریک تھے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان سب کی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، شہداء کی شہادت قبول فرمائے، ان کے اسیروں کو رہائی نصیب فرمائے، اور دنیا و آخرت میں ہمیں خیر و عافیت کے ساتھ ان کی رفاقت عطا فرمائے۔
وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین،
وصلی اللہ علی سیدنا محمد وآلہ وصحبہ وسلم۔
٭٭٭٭٭













![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)
