واضح باطل کوئی کم ہی قبول کرتا ہے، باطل کو قبول کروانے کے لیے اس میں کچھ حق کی پیوند کاری لازم ہوتی ہے، اور یہی اہلِ باطل کا طریقۂ واردات رہا ہے۔ طواغیت کے جواسیس کا بھی یہی طریقۂ جرم رہا ہے۔ جو کام کبھی قید خانوں میں ہوتے تھے، یا عصرِحاضر میں ابنِ سبا کے پیروکار چوری چھپے سرگوشیوں اور خفیہ مجلسوں کے ذریعے کرتے تھے، آج سوشل میڈیا کا میدان بھی ایسے سیاہ کاروں کا اکھاڑا بنا ہوا ہے۔
ان کا ایک بڑا مقصد جہادی تحریک میں فکری نقب لگانا ہے۔ مجاہدین کی فکر اگر اغوا ہو جائے، انہیں دوست کو دشمن اور دشمن کو دوست باور کروا دیا جائے، تباہی کا راستہ کامیابی اور کامیابی کا راستہ انہیں بربادی دکھا دیا جائے تو پھر جہادی تحریک کو ختم کرنے کے لیے کسی فوج یا گولی اور بم کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ایسے مجاہدین یا تو خود ہی آپس میں لڑ جھگڑ کر مر کھپ جائیں گے، یا ایسے راستے پر آگے بڑھیں گے جس کا فائدہ دین و امت کو نہیں، بلکہ ان کے دشمنوں کو ہو گا اور نتیجے میں جہادی تحریک تباہ ہو گی۔
ایسا فکری نقب یہ صرف اُس وقت ہی لگا سکتے ہیں جب یہ جہادی ہونے کا بہروپ اپنے اوپر چڑھا لیں۔ اس کے لیے یہ چند جہادی پوسٹیں کر کے اور کسی ایک جہادی جماعت کی تعریف لکھ کر جہاد میں فتنہ و فساد برپا کرنے کی کھلی چھوٹ حاصل کر لیتے ہیں۔ یہ اپنی ’’دعوت‘‘ میں نرے جذبات تو ابھارتے ہیں تاکہ ان کا استحصال آسان ہو، مگر جذبات کے ساتھ ساتھ ہوش اور مطلوبِِ شریعت جہادی شعور پیدا کرنے کی سعی کی یہ شدید مخالفت کریں گے، یہ ہر اُس بحث اور کوشش کے دشمن ہوتے ہیں جو جہادی تحریک کو با معنی رکھے اور اسے دشمنان امت کی سازشوں سے محفوظ بنائے۔ ایسے افراد لاکھ اپنی اصلیت چھپائیں، مگر قرآن کہتا ہے کہ یہ چھپ نہیں سکتے:
وَلَتَعْرِفَنَّهُمْ فِيْ لَحْنِ الْـقَوْلِ ۭ (سورۃ محمد: ۳۰)
’’اور تم انہیں ان کے لہجے سے پہچان لو گے۔‘‘
یہ جہاد کی صفوں میں منکرات پر تنقید نہیں کریں گے، بلکہ منکرات پر تنقید کرنے والوں کو ہی اپنا نشانہ بنائیں گے۔ برائی کی مخالفت یہ کم کریں گے، جبکہ کسی ایک جہادی جماعت کا نام لے کر اس پر برائی کی تہمتیں زیادہ لگائیں گے۔ مجاہدین کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنا ان کی کوششوں کا حاصل نظر آئے گا۔
گو یہ بات بھی اپنی جگہ مسلَّم ہے کہ آپ چاہے جتنے بھی مخلص ہوں، آپ کا ہر مخالف منافق اور جاسوس ہرگز نہیں ہو سکتا۔ اور اگر آپ اپنے ہر مخالف کو اسی نگاہ سے دیکھنا شروع کر دیں تو یہ آپ کی اپنی کج فہمی اور برائی کی علامت کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔ مگر ضروری نہیں کہ جہادی تحریک و مجاہدین کو صرف جواسیس ہی سے نقصان پہنچتا ہے، منافقین کی جو صفات اللہ کے دین نے بیان کی ہیں، وہ ہماری نظروں سے کبھی اوجھل بھی نہیں ہونی چاہییں۔ پہلے خود ان صفات سے بچنے کے لیے اور دوسرا اس لیے کہ یہ صفات آج بھی واضح کرتی ہیں کہ کون کس طرف کھڑا ہے۔ دعوتِ جہاد کے نام پر گالی گلوچ و بدزبانی، طعن و تشنیع، جھوٹ و تہمتیں، مجاہدین کے خلاف مہم سازی، ان کی اصلاح کی کوشش کے برعکس انہیں گرانے اور ان سے بد گمانی پیدا کرنے کا کوئی موقع ضائع نہ کرنا اور ان کے حوصلوں کو پست کرنے کی سعی کرنا، یہ وہ صفاتِ مذمومہ ہیں جو واضح کرتی ہیں کہ کون مخلص، مصلح اور مجاہد ہیں، اور کون جہاد کے نام پر وہ فتنہ گر فسادی ہیں جنہیں قرآن میں ’’مرجفین و معوقین‘‘ کا نام دیا گیا ہے، جن کی بات نہ سننے، ان پر یقین نہ کرنے، انہیں کسی جہادی کام میں ساتھ نہ لینے، اور ان کے ساتھ سختی کرنے کا حکم ہے۔
ایسے بدنصیب ہر دور میں رہے ہیں، خیرالقرون بھی ان سے خالی نہیں تھا، بلکہ جس قدر اہلِ باطل کو اہلِ اسلام سے خطرہ بڑھتا ہے، اہل خیر جس قدر قوی ہو جاتے ہیں، اُتنا ہی شیاطینِ جن و انس ایسے راہزنوں کو راہِ حق سے لوگوں کو روکنے کے لیے پہلے سے زیادہ محنت کے ساتھ اتارتے ہیں۔ یہ بزدل ہوتے ہیں۔ دس پردوں میں چھپ کر اور اپنے دس نام رکھ کر وار کرنا ان کا طریقہ ہوتا ہے، یہ ہر بدلتی حالت اور مخاطب کی سوچ کے مطابق اپنے مواقف تبدیل کرتے ہیں، چال بازی اور جھوٹ ان کے خمیر میں ہوتا ہے اور ان کی باتوں و عمل میں حق کے خلاف نفرت اور اہل حق سے ان کا تعصب ہر حالت میں قائم رہتا ہے۔
ان کی تمام تر سازشوں کے باوجود اللہ کا اعلان ہے کہ یہ بالآخر ناکام و نا مراد ہوں گے اور حق ہی بالآخر غالب ہو گا، بس اللہ ہمیں حق پر خود عمل کرنے والے، خاص اسی کی نصرت کرنے والے اور اسی کی خاطر قربانی دینے والے بنائے۔
اللہ کا فرمان ہے:
يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّطْفِــــُٔـوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَيَاْبَى اللّٰهُ اِلَّآ اَنْ يُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَلَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ (سورۃ التوبہ: ۳۲)
’’یہ چاہتے ہیں کہ اپنے منہ سے اللہ کا نور بجھا دیں، حالانکہ اللہ ضرور اپنے نور کو مکمل کرے گا، اگرچہ کافر ناپسند کریں۔‘‘
اور اللہ کا فرمان ہے:
وَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُوْلِهٖ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ وَلٰكِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ (سورۃ المنافقون: ۸)
’’اور عزت تو بس اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں کے لیے ہے، مگر منافقین نہیں جانتے۔‘‘
ایسے فتنوں میں مومنین کا امتحان ہوتا ہے کہ وہ ایمان و جہاد کا حق ادا کرتے ہیں، دشمنان دین اور خواہشات نفس اور تعصبات کے مارے ہوؤں کے مقابل اللہ کی خاطر کھڑے رہتے ہیں یا خدا نخواستہ کمزوری دکھا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اصل امتحان صبر کا ہوتا ہے، ایمان و عمل صالح پر صبر، دعوت و جہاد کا سفر بہ ہر صورت جاری رکھنے اور اس کے اعلی مقاصد ہی پر نظر مرکوز رکھنے پر صبر، اخلاص و اخلاق کا دامن تھامے رکھنے پر صبر اور جس ذلت و ضلالت میں اتر کر یہ سازشیں کر رہے ہوتے ہیں اُس سے اپنا آپ اوپر رکھ کر اپنے پاکیزہ پیغام اور اصول کے ساتھ چمٹے رہنے پر صبر، یہ صبر اگر ہم کریں تو پھر اللہ خوش خبری دیتا ہے کہ ان کے جھوٹ، تہمتوں اور فتنہ و فساد کو دیکھ کر غم زدہ نہ ہوں اور نہ ہی اس لحاظ سے پریشان کہ ان کی سازشیں تمہاری تحریک کو کوئی نقصان پہنچا پائیں گی۔
اللہ کا فرمان ہے:
وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلَا تَكُ فِيْ ضَيْقٍ مِّمَّا يَمْكُرُوْنَ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ (سورۃ النحل: ۱۲۷، ۱۲۸)
’’اور صبر کیجیے، اور آپ کا صبر تو اللہ ہی کی توفیق سے ہے۔ ان کے حال پر غم نہ کیجیے اور جو مکر و فریب وہ کر رہے ہیں اس سے آپ کا دل تنگ نہ ہوں۔ بیشک اللہ اُن لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور جو محسنین ہیں۔‘‘
اللہ ہمیں تقوی و صبر عطا فرمائے اور خالق ومخلوق دونوں کے معاملے میں احسان کرنے والا بنائے۔
گویا طواغیت کی ایسی سازشوں کا علاج وتدارک جہادی صفوں میں:
- اخلاص و اخلاق پیدا کرنے،
- شعور و آگہی بڑھانے،
- اور بامقصد جہاد کی تقویت کے لیے متحدہ کوشش کرنے اور اس پر صبر وثبات میں ہے۔
ضروری ہے کہ جنہیں دعوتِ جہاد دی جاتی ہے، انہیں وہ صفات بھی ساتھ ساتھ سمجھائی جائیں جن کے ذریعے مومن و منافق ، مجاہد و جاسوس اور داعی و راہزن میں فرق کیا جاتا ہے۔ ایسا اگر کریں گے تو آپ کو پھر کسی مفسد کا نام لینا نہیں پڑے گا۔ اخلاص و فہم رکھنے والے مخاطبین خود ہی ایسے افراد سے اسی طرح پھر بچیں گے اور انہیں دور پھینکیں گے، جس طرح گندگی سے انسان بچتا ہے یا اسے ٹھکانے لگاتا ہے۔
آخر میں یہاں بھی عرض کروں کہ اس دجل کے دور میں اللہ سے دو دعائیں زیادہ مانگنی چاہئیں۔
اول یہ کہ اللہ ہمیں حق کو حق دکھا دے اور اس پر عمل کی توفیق دے، اور باطل کو باطل دکھا دے اور اس سے اجتناب کی استطاعت دے، آمین۔
اور دوسری یہ کہ اللہ ہمیں اہل صدق و حق کے ساتھ ملائے، ان کی تائید ونصرت کی توفیق عطا فرمائے اور جو راہِ حق سے دور ہوں، اس کے خلاف ہوں ان سے ہمیں دور رکھے، آمین ثم آمین۔
سچ تو یہ ہے کہ حق اگر ہم پہچان گئے، پہلی والی دعا صحیح طرح مانگنے کی توفیق اگر ہمیں مل گئی تو دوسری دعا میں جو نعمت مانگی گئی ہے، اس سے بھی اللہ محروم نہیں کرے گا۔
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین
٭٭٭٭٭













![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)
