پیش لفظ
عصرِ حاضر میں ٹیکنالوجی کی دنیا میں عام صارفین کے لیے سمارٹ فون کو بجا طور پر سب سے زیادہ انقلابی ایجاد قرار دیا جا سکتا ہے۔ ابتدا میں ’’موبائل فون‘‘ صرف ایک پورٹیبل کمیونیکیشن ڈیوائس (Portable Communication Device) تھا، مگر وقت کے ساتھ یہ ایک نہایت ترقی یافتہ اور ہر وقت نیٹ ورک سے جڑا ہوا کمپیوٹر بن چکا ہے۔ جو روزمرہ زندگی کے ہر شعبے میں ہمارے ساتھ موجود رہتا ہے۔
آج سمارٹ فون صرف رابطہ کاری کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ یہ مواصلاتی مراکز (Communication Hubs)، ڈیجیٹل والٹس (Digital Wallets)، سمت کی جانب رہنمائی کرنے والا نظام (Navigation System)، صحت کی نگرانی کرنے والا آلہ (Health Monitor)، پروفیشنل کیمرہ اور اسی طرح بے شمار دیگر کاموں کے ساتھ ساتھ ان گنت آن لائن سروسز تک رسائی کا دروازہ بھی بن چکا ہے۔ اس کی سہولت، ہمہ گیری اور کثیر الجہت صلاحیتوں نے اسے دنیا بھر کے اربوں انسانوں کی زندگی کا ناگزیر جزو بنا دیا ہے۔
ہم روزانہ اپنے سمارٹ فونز کا کئی گھنٹے تک فعال استعمال کرتے ہیں، لیکن فعال سکرین ٹائم کسی بھی سمارٹ فون کے مجموعی عملی دورانیے کا نسبتاً مختصر حصہ ہوتا ہے۔ جب یہ آلہ ہماری جیب میں رکھا ہو یا میز پر پڑا ہو یا رات بھر چارجنگ پر لگا ہو، تب بھی یہ بیک گراؤنڈ میں مسلسل متعدد سرگرمیاں انجام دیتا رہتا ہے۔ مثلاً کلاؤڈ سنکرونائزیشن (Cloud Synchronization) نیٹ ورک کے ساتھ جڑا رہنا، نوٹیفکیشن دینا، ایپس اپ ڈیٹ کرنا، فون کی تشخیصی (Diagnostic) معلومات جمع کرنا، محل وقوع (Location) کا تعین کرنا، ایپس اور آپریٹنگ سسٹم کی کمپنیوں کے ساتھ میٹا ڈیٹا کا تبادلہ کرنا وغیرہ ۔ اس طرح سمارٹ فون صرف اس وقت ڈیٹا پیدا(generate) نہیں کر رہا ہوتا جب ہم اسے استعمال کر رہے ہوتے ہیں بلکہ ایسا یہ مسلسل کرتا رہتا ہے۔
جدید سمارٹ فونز پرانے موبائل فونز سے اس لحاظ سے بھی مختلف ہوتے ہیں کہ ان میں متعدد جدید سینسرز (Sensors) نصب ہوتے ہیں، جو انہیں اپنے ماحول کا ادراک رکھنے والا انتہائی مؤثر آلہ بنا دیتے ہیں۔ ان میں سے ہر سینسر انفرادی طور پر مخصوص افعال انجام دیتا ہے لیکن اجتماعی طور پر یہ ہماری نقل و حرکت، ماحول، عادات، رویے اور ڈیجیٹل دنیا کے ساتھ تعامل کی ایک نہایت تفصیلی تصویر تشکیل دیتے ہیں۔
پھر مشین لرننگ (Machine Learning) اور مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) میں ترقی نے سمارٹ فونز کو اس قابل بنا دیا ہے کہ وہ ہمارے طرزِ عمل، معمولات، سفر کا ریکارڈ، تعلقات اور جسمانی سرگرمیوں وغیرہ کے ذریعے سے ہمارے رویے کا ایک جامع خاکہ تیار کریں۔ اس لیے سمارٹ فون صرف ایک مواصلاتی آلہ نہیں بلکہ مسلسل ادراک کرنے والا پلیٹ فارم (sensing platform) ہے جو ہمارے بارے میں انتہائی دقیق معلومات پیدا (generate)کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پھر یہ معلومات اپنے بنانے والی کمپنی کو، فون میں انسٹال شدہ ایپس کی کمپنی کو، اور اس کے ساتھ ساتھ اشتہاری کمپنیوں کو بھی بھیجی جاتی ہے جبکہ مختلف طریقوں سے، کبھی براہ راست اور کبھی بالواسطہ ان معلومات سے ریاستی اور خفیہ ادارے بھی استفادہ کر تے ہیں، اور ان کے ذریعے وہ اپنے شہریوں اور اپنے دشمنوں کی لمحہ بہ لمحہ معلومات کی بنیاد پر انتہائی دقیق پروفائل تیار کرتے ہیں۔
اس صورتحال کے پیش نظر سمارٹ فونز کے ذریعے جاسوسی اور نگرانی کو ممکن بنانے والے تکنیکی طریقۂ کار کو سمجھنا آج سب کے لیے یکساں اہم ہو چکا ہے اور اسی لیے جاسوسی و نگرانی کے اس جدید نظام کے بارے میں سازشی نظریوں (conspiracy theories)کی بجائے سنجیدہ اور تکنیکی بنیادوں پر مبنی فہم آج کی ڈیجیٹل دنیا کے لیے ناگزیر ہے۔
اس تحریر میں ہم تکنیکی شواہد کی بنیاد پر درج ذیل سوالات کا جواب دینے کی کوشش کریں گے:
- سمارٹ فونز مسلسل کن اقسام کا ڈیٹا پیدا (generate) کرتے ہیں؟
- سمارٹ فون میں نصب ہارڈ وئیر سینسر کس طرح ہمارے رویے اور ہمارے ارد گرد کے ماحول کی نگرانی میں معاون بنتے ہیں؟
- سمارٹ فون کا آپریٹنگ سسٹم (Android/iOS) کس قسم کی معلومات جمع کرتا ہے؟
- فون میں انسٹال ایپس، سروسز اور آن لائنس سروسز جاسوسی میں کس طرح مددگار بنتی ہیں؟
- ریاستی و خفیہ ادارے سمارٹ فون کے ذریعے جاسوسی کیسے کرتے ہیں؟
- ہمارے کچھ کیے بغیر ہی زیرو کلک حملے کیسے ہمارے فون پر مکمل کنٹرول حاصل کرتے ہیں۔
- رابطہ کاری اوردیگر کاموں کے لیے وسیع پیمانے پر انکرپشن کے استعمال کے باوجود جاسوسی کیسے ممکن ہو پاتی ہے؟
- ایسے کیا عملی اقدامات ہیں جو سمارٹ فون کے ذریعے جاسوسی کے خطرے کو کم کر سکتے ہیں؟
ان سوالوں کے جواب ہمیں یہ سمجھنے میں مدد فراہم کریں گے کہ وہ کیا تکنیکی بنیادیں ہیں جو سمارٹ فون کو مسلسل ہمارے متعلق ڈیٹا جمع کرنے والے پلیٹ فارم کے طور پر کام کرنے میں مدد دیتی ہیں اور اس طرح حقیقی معنوں میں اسے ’’ہماری جیب میں موجود جاسوس‘‘ بنا دیتی ہیں۔
سمارٹ فون میں نصب سینسر (Sensors)
ایک عام سمارٹ فون میں ایک درجن سے زائد سینسر اور کمیونی کیشن انٹر فیس (Communication Interfaces) نصب ہوتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک انفرادی طور پر مخصوص ذمہ داریاں انجام دیتا ہے، تاہم اجتماعی طور پر یہی اجزا ہمارے اور ہمارے ارد گرد کے ماحول سے متعلق معلومات جمع کرتے رہتے ہیں۔
روایتی کمپیوٹرز کے برعکس سمارٹ فونز تقریباً پورا دن ہمارے ساتھ رہتے ہیں اور مسلسل ہمارے جسم، ہمارے ارد گرد کے ماحول اور ہماری ڈیجیٹل زندگی کے ساتھ تعامل کرتے رہتے ہیں۔ یہ کام کے دوران، سفر میں، تفریح کے مواقع پر خریداری کرتے وقت، لوگوں سے میل جول کے دوران، حتیٰ کہ نیند کے وقت بھی ہمارے قریب موجود رہتے ہیں، یہی مستقل قربت اور ساتھ میں ان سینسرز کی موجودگی سمارٹ فون کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ براہ راست ہماری سرگرمیوں کا مشاہدہ کریں نتیجتاً ہمارے طرزِ عمل، عادات، نقل و حرکت، ماحول اور تعلقات کے بارے میں نہایت دقیق معلومات جمع ہو جاتی ہیں۔ 1 A Survey of Mobile Phone Sensing – IEEE Communications Magazine Volume 48, Issue 9
سمارٹ فونز کی اس خصوصیت کی وجہ سے انٹیلی جنس اداروں کو اب روایتی جاسوسی نظاموں کی ضرورت نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے اور انہیں اب کوئی اضافی آلے نصب کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ یہی سمارٹ فونز ہر وقت ہمارے ساتھ موجود رہتے ہیں اور ہمارے متعلق انتہائی تفصیلی معلومات جمع کرتے رہتے ہیں جنہیں انٹیلی جنس ادارے مختلف طریقوں سے حاصل کر لیتے ہیں۔
ذیل میں ہم جائزہ لیں گے کہ سمارٹ فون میں موجود مختلف سینسر کس قسم کا ڈیٹا جمع کرتے ہیں اور آپریٹنگ سسٹم ان سب کو ملا کر ہمارے متعلق کیا معلومات حاصل کرتا ہے۔
جی پی ایس(Global Positioning System – GPS)
جی پی ایس (Global Positioning System) سمارٹ فون میں موجود سب سے معروف سینسر ہے۔ اس سینسر کی مدد سے سمارٹ فون اپنے جغرافیائی مقام (geographic position) کا تعین زمین کے گرد گردش کرنے والے متعدد سیٹیلائٹس سے موصول ہونے والے سگنلز کی مدد سے کرتا ہے۔ ان سیٹیلائٹس سے بھیجے گئے سگنلز کو جی پی ایس سینسر تک پہنچنے میں لگنے والے وقت کا حساب لگا کر سمارٹ فون پوزیشن کا اندازہ لگاتا ہے۔ جدید سمارٹ فونز عموماً امریکہ، روس، یورپی یونین اور چین کے سیٹیلائٹس سے بیک وقت سگنلز وصول کر رہے ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان میں مقام کے تعین (positioning) کی درستگی زیادہ ہوتی ہے اور مطلوبہ مقام نسبتاً تیزی سے معلوم ہو جاتا ہے۔
موزوں بیرونی ماحول (favorable outdoor conditions) میں جدید سمارٹ فونز تقریباً ایک سے پانچ میٹر کی درستگی (accuracy) کے ساتھ ہمارے مقام کا تعین کر سکتے ہیں۔ جبکہ سمارٹ فونز میں موجود ’’اے جی پی ایس‘‘ (Assisted GPS – A-GPS) اس عمل کو انٹرنیٹ کی مدد سے لوکیشن ڈیٹا ڈاؤنلوڈ کر کے مزید تیز اور درست بنا دیتا ہے۔2 A Sensor-Centric Survey on the Development of Smartphone Measurement and Sensing System by Marco Grossi
اس بات سے انکار نہیں کہ جی پی ایس ہماری روزمرہ زندگی کے بے شمار معاملات میں سہولت فراہم کرتا ہے جس کی وجہ سے یہ ہمارے استعمال کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے۔ تاہم جاسوسی کے نقطۂ نظر سے جی پی ایس کا ڈیٹا ذاتی معلومات کی سب سے زیادہ حساس اقسام میں بھی شمار ہوتا ہے۔ اگر کسی فرد کی لوکیشن ہسٹری (Location History) دستیاب ہو جائے تو اس سے درج ذیل معلومات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے:
- گھر اور دفتر کا مقام
- روزانہ سفر کے معمول کے راستے
- کسی مسجد میں روزانہ نماز کے لیے جانے کی بنیاد پر مذہبی وابستگی
- کسی ہسپتال یا کلینک میں بار بار جانے کی بنیاد پر ممکنہ بیماری
- جلسوں، احتجاجی مظاہروں یا ریلیوں میں شرکت کی بنیاد پر سیاسی رجحان
- تعلیمی ادارہ
- خریداری کی ترجیحات
- وزرش کے معمول
- چھٹیوں اور سیر پر جانے کا ریکارڈ
- دیگر افراد کے ساتھ بار بار ایک ہی مقام پر موجودگی (co-location) کی بنیاد پر تعلقات کا اندازہ
تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ انسانی کی نقل و حرکت کا انداز (human mobility pattern) ہر فرد کے لیے خاصہ منفرد ہوتا ہے حتیٰ کہ لوکیشن کے حوالے سے نسبتاً کم معلومات بھی کسی بڑی آبادی میں ایک مخصوص فرد کی شناخت کے لیے کافی ہو سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوکیشن ہسٹری انسانی رویوں کے بارے میں نہایت قیمتی معلومات کا اہم ذریعہ ہے۔3 Unique in the Crowd: The privacy bounds of human mobility – Article # 1376 – Scientific Reports – Nature.com
لیکن یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ صرف جی پی ایس کو بند (disable) کر دینے سے لوکیشن ٹریکنگ (location tracking) ختم نہیں ہو جاتی۔ سمارٹ فونز اس کے بعد بھی بلیو ٹوتھ، وائی فائی، موبائل نیٹ ورک ٹاور اور انٹرنیٹ آئی پی کی مدد سے مستقل ہمارے مقام کا اندازہ لگاتے رہتے ہیں۔ ان تمام طریقوں کے بارے میں آئندہ تفصیل سے بحث کی جائے گی۔
حرکت پیما؍ایکسیلرو میٹر (Accelerometer)
حرکت پیما یا ایکسیلرومیٹر ایک ایسا سینسر ہے جو تینوں باہم عمودی سمتوں (X, Y & Z axis) میں ہونے والی حرکت کی پیمائش کرتا ہے۔ تقریباً تمام ہی جدید سمارٹ فونز میں یہ ایکسیلرو میٹر نصب ہوتا ہے۔ سمارٹ فونز کے کاموں میں ایکسیلرو میٹر بہت سے ضروری کام سر انجام دے رہا ہوتا ہے جیسے:
- سکرین کا خودکار رخ بدلنا(Automatic Screen Rotation)
- قدموں کی گنتی (Step Counting)
- جسمانی سرگرمیوں کی نگرانی (Fitness Tracking)
- جسمانی حرکت کے ذریعے کنٹرول ہونے والی موبائل گیمز(Motion-controlled gaming)
- تصویر کھینچے وقت ارتعاش کا اثر ختم کرنا(Image Stabilization)
- اشاروں کی شناخت(Gesture Recognition)
چونکہ ایکسیلرومیٹر ہر طرح کی حرکت مسلسل ریکارڈ کرتا رہتا ہے اس لیے یہ اس بات کی انتہائی تفصیلی تصویر فراہم کرتا ہے کہ ہم دن بھر کس انداز میں حرکت کرتے رہے اس طرح اس سے حاصل ہونے والا ڈیٹا ہمارے رویوں کے بارے میں متعدد مفصل معلومات فراہم کرتا ہے۔ سمارٹ فون میں نصب کوئی بھی ایکسیلرو میٹر درج ذیل سرگرمیوں کو شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے4 Activity Recognition using Cell Phone Accelerometers by Jennifer R. Kwapisz, Gary M. Weiss, Samuel A. Moore – Fordham University NY, USA:
- پیدل چلنا
- دوڑنا
- سائیکل چلانا
- گاڑی چلانا
- سیڑھیاں چڑھنا اور اترنا
- کھڑا ہونا
- بیٹھنا
- لیٹنا
اس سینسر کے ساتھ سمارٹ فون کے آپریٹنگ سسٹم میں موجود مشین لرننگ ماڈلز (Machine Learning Models) مزید درج ذیل معلومات کا بھی اندازہ لگا لیتے ہیں۔
- کس رفتار سے چل رہے ہیں۔
- ورزش کس شدت سے کر رہے ہیں۔
- سمارٹ فون ہاتھ میں ہے، جیب میں ہے، بیگ میں ہے یا میز پر پڑا ہے۔
- گاڑی میں سفر کیا جا رہا ہے۔
- جس سڑک پر سفر کر رہے ہیں اس کی حالت کیسی ہے۔
- ہمارے چلنے کا مخصوص انداز
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کسی ایک فرد کے چلنے کا انداز اس حد تک منفرد ہوتا ہے کہ اسے ایک بائیومیٹرک شناخت کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہر فرد کے چلنے کے انداز میں ایسی مستقل اور منفرد خصوصیات ہوتی ہیں جن کی بنیاد پر مشین لرننگ ماڈلز حیرت انگیز حد تک درستگی کے ساتھ مختلف افراد کے درمیان امتیاز کر سکتے ہیں۔5Unobtrusive User-Authentication on Mobile Phones Using Biometric Gait Recognition – IEEE
ایسی جگہوں پر جہاں جی پی ایس صحیح طرح کام نہیں کر پاتے جیسے کسی عمارت کے اندر یا زیر زمین وہاں بھی ایکسیلرو میٹر کی مدد سے سمارٹ فون ہماری لوکیشن کا درست اندازہ ہماری حرکت سے لگاتے رہتے ہیں۔6 A Survey of Indoor Inertial Positioning Systems for Pedestrians by Robert Harle – IEEE Communications Surveys and Tutorials: Volume 15, Issue 3
ماضی قریب تک موبائل آپریٹنگ سسٹمز کسی ایپ کو ایکسیلرومیٹر کا استعمال کے لیے صارف کی اجازت طلب نہیں کرتے تھے، اب بھی سمارٹ فونز صارفین کی اکثریت تمام ایپس کو ایکسیلرو میٹر کی اجازت دیے رکھتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ایکسیلرو میٹر سے حاصل ہونے والا ڈیٹا جاسوسی اور نگرانی کے مقصد کے تحت ہمارے رویوں سے متعلق معلومات حاصل کرنے کا ایک نہایت اہم ذریعہ ہے۔
گردش پیما؍جائرو سکوپ (Gyroscope)
جہاں ایکسیلرو میٹر ایک خط پر حرکت (linear motion) کی پیمائش کرتا ہے، وہاں گردش پیما یا جائرو سکوپ (Gyroscope) کسی زاویے پر ہونے والی حرکت (angular motion) یعنی تینوں محوری سمتوں (x, y, z axis) کے گرد ہونے والی گردشی حرکت (rotational movement) کی پیمائش کرتا ہے۔7 Handbook of Modern Sensors – Fifth Edition by Jacob Fraden
تنہا جائرو سکوپ صرف اتنی معلومات فراہم کرتا ہے کہ سمارٹ فون کس انداز سے گردش کر رہا ہے، لیکن جب اس کے ڈیٹا کو ایکسیلرو میٹر کے ڈیٹا کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جائے تو اس سے سمارٹ فون کی سمت (orientation) اور ہماری حرکت کا نہایت درست اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ جاسوسی کے نقطۂ نظر سے جائروسکوپ کا ڈیٹا ایکسلرو میٹر کے ڈیٹا کے ساتھ مل کر درج ذیل معلومات فراہم کر کے ہمارے رویوں کے تجزیے میں مدد دیتا ہے۔
- ہم سمارٹ فون استعمال کرتے وقت اسے کس زاویے پر پکڑتے ہیں (Device Handling Patterns)
- گیم کھیلنے کا طریقہ(Gaming Interactions)
- گاڑی کے مڑنے کی حرکات (Vehicle Turning Movements)
- ورزش کے معمولات (Exercise Routines)
- فون استعمال کرتے وقت جسم کی کیفیت (Phone Usage Posture)
اس کے علاوہ یہ ایکسیلرو میٹر کے ساتھ مل کر کسی عمارت کے اندر یا زیر زمین ہمارے درست مقام اور ہم جس سمت میں جا رہے ہیں اس کا ریکارڈ رکھتا ہے اور جب جی پی ایس دوبارہ کنیکٹ ہوتا ہے تو آپریٹنگ سسٹم مشین لرننگ نظام کے ذریعے سے یہ اندازہ قائم کر لیتا ہے کہ زیر زمین یا عمارت کے اندر ہم کہاں کہاں سے گزرے اور کہاں رکے۔8 Activity Identification using body-mounted sensors – Physiological Measurements, Volume 30, Number 4
تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جائروسکوپ میں پیدا ہونے والے معمولی ارتعاشات (vibrations) صوتی معلومات (acoustic information) بھی محفوظ کر سکتے ہیں۔ چونکہ آواز کی لہریں سمارٹ فون کے اندر ارتعاش پیدا کرتی ہیں جسے جائرو سکوپ ریکارڈ کر لیتا ہے اور اس ڈیٹا کو بولنے والے فرد کی شناخت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اگرچہ سمارٹ فون میں مائیکرو فون کی غیر موجودگی میں جائرو سکوپ کے ریکارڈ کردہ صوتی ارتعاش سے یہ اندازہ لگانا تو ممکن نہیں کہ کیا باتیں ہو رہی ہیں لیکن بولنے والے فرد کی شناخت پھر بھی ممکن ہے۔ جائرو سکوپ کی مدد سے ریکارڈ کیا گیا صوتی ارتعاش کا ڈیٹا درج ذیل معلومات فراہم کر سکتا ہے:
- بولنے والے فرد کی آواز کی بنیادی فریکیونسی ؍پچ(fundamental voice frequency / pitch)
- گفتگو کی رفتار اور ردھم (speaking speed and rhythm)
- گفتگو کی روانی یا آہنگ (cadence)
- آواز کا اتار چڑھاؤ اور زیرو بم (prosody)
- بولنے والے کی بعض منفرد خصوصیات (speaker-specific traits)
یہ سب معلومات مل کر سمارٹ فون کے قریب موجود فرد کی آواز کی بائیو میٹرک شناخت پیدا کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے مائیکرو فون کی غیر موجودگی میں بھی جاسوسی کے نقطۂ نظر سے سمارٹ فون کے قریب موجود افراد کی باتوں کو اگرچہ نہیں سمجھا جا سکتا لیکن بات کرنے والے افراد کی شناخت انتہائی درست انداز میں ممکن ہے۔9 Gyrophone: Recognizing Speech from Gyroscope Signals – 23rd USENIX Security Symposium, San Diego, CA, USA
ڈیجیٹل قطب نما؍ میگنٹو میٹر (Magnetometer / Digital Compass)
سمارٹ فون میں موجود میگنٹومیٹر (Magnetometer) اپنے ارد گرد موجود مقناطیسی میدان (magnetic field) کی شدت اور سمت کی پیمائش کرتا ہے۔ سمارٹ فونز ان معلومات کو بنیادی طور پر ڈیجیٹل قطب نما (Digital Compass) کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
جدید میگنیٹومیٹر نہایت حساس مقناطیسی میدان کے سینسر استعمال کرتے ہیں جو اردگرد کے ماحول میں مقناطیسی فیلڈ میں آنے والی معمولی تبدیلیوں کو بھی محسوس کر سکتے ہیں۔ 10 Handbook of Modern Sensors – Fifth Edition by Jacob Fraden
میگنیٹو میٹر بھی ایکسیلرو میٹر اور جائرو سکوپ کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے اور درج ذیل معلومات کی درستگی میں اضافہ کرتا ہے:
- جی پی ایس سگنلز کی غیر موجودگی میں سفر کی سمت (travel direction) کا تعین کر کے ، جی پی ایس سگنلز کے دوبارہ بحال ہونے کے بعد، جی پی ایس بند ہونے اور دوبارہ چلنے کے نقطوں کے درمیان ہونے والی حرکت کا تعین۔11 Indoor Location Sensing Using Geo-Magnetism by Jaewoo Chung – MIT
- عمارتوں کے اندر فولادی انفراسٹرکچر، برقی تاروں ، لفٹوں اور بڑی دھاتی اشیاء کی وجہ سے منفرد مقناطیسی خصوصیات (magnetic signatures) پیدا ہوتی ہیں۔ تحقیقی مطالعات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ یہ مقناطیسی فنگر پرنٹس کسی بلڈنگ کے اندر یا زیر زمین سمارٹ فون کے مقام کا تعین کرنے میں معاونت کرتے ہیں جس سے سمارٹ فون ایسی جگہوں پر بھی اپنے مقام کا تعین کر لیتے ہیں جہاں جی پی ایس کے سگنل نہیں پہنچتے۔
- مقناطیسی میدان میں پیدا ہونے والی غیر معمولی تبدیلیاں (magnetic field disturbance) بالواسطہ طور پر قریبی برقی آلات، ٹرانسپورٹ کے نظام یا صنعتی ماحول کی موجودگی کا بھی پتا دے سکتے ہیں۔ جب ان معلومات کو آپریٹنگ سسٹم دیگر سینسرز کے ڈیٹا کے ساتھ ملا کر دیکھتا ہے تو اس سے ہمارے ارد گرد کے ماحول کے بارے میں درست معلومات جمع ہوتی ہیں۔12 A global self-localization technique utilizing local anomalies of the ambient magnetic field – 2009 IEEE International Conference on Robotics and Automation
روشنی پیما (Ambient Light Sensor)
ایمبئنٹ لائٹ سینسر (ALS) ایک روشنی کی پیمائش کا سینسر ہے جسے سمارٹ فون کے اردگرد موجود روشنی کی شدت ناپنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اگرچہ یہ سمارٹ فون کے دیگر سینسرز کے مقابلے میں خاصہ سادہ ہے، لیکن پاور مینجمنٹ اور ڈسپلے کی بہتری میں اس کا اہم کردار ہے۔ جدید سمارٹ فونز اردگرد کی روشنی پر مسلسل نظر رکھتے ہیں تاکہ سکرین کی روشنی (brightness) خودکار طور پر ایڈجسٹ ہو تی رہے۔
جدید سمارٹ فونز کے لائٹ سینسرز روشنی کی مختلف wave lengths میں بھی فرق کر سکتے ہیں جس کی بدولت کیمروں میں وائٹ بیلنس (Adaptive White Balance) اور کلر ٹمپریچر کریکشن (Color Temperature Correction) جیسی سہولیات ممکن ہوتی ہیں۔ اعلیٰ درجے کے مہنگے سمارٹ فونز میں رنگوں کے سینسرز (Color Sensors) بھی لائٹ سینسر کے ساتھ ہوتے ہیں جو اردگرد کی روشنی کی ساخت (Spectral Composition) کا تعین کر سکتے ہیں۔
بظاہر روشنی کا سینسر پرائیویسی کے اعتبار سے زیادہ خطرناک محسوس نہیں ہوتا، کیونکہ یہ براہ راست کسی شخص کی شناخت کرنے والی معلومات کو ریکارڈ نہیں کرتا۔ لیکن اس سینسر سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو دیگر ذرائع سے حاصل شدہ معلومات کے ساتھ ملا کر اس کا تجزیہ کیا جاتا ہے تو جاسوسی کے لیے نہایت اہم معلومات دستیاب ہو جاتی ہیں۔
لائٹ سینسر کے ڈیٹا کو دیگر ڈیٹا سے ملا کر درج ذیل معلومات حاصل ہوتی ہیں:
- ہم اس وقت کسی عمارت کے اندر (Indoor) ہیں یا کھلی فضا (outdoor) میں۔
- دن کے مختلف اوقات میں ہماری عمومی سرگرمیوں کا معمول
- ہم روزانہ مصنوعی روشنی میں کتنا وقت گزارتے ہیں۔
- ہم اس وقت دفتر میں ہیں، سفر کر رہے ہیں، گھر میں ہیں یا سونے کے لیے لیٹے ہوئے ہیں۔
اگرچہ صرف روشنی کا سینسر جاسوسی کے لیے محدود اہمیت رکھتا ہے، لیکن اس کی مسلسل دستیابی اور نہایت کم توانائی خرچ کرنے کی خصوصیت اسے تمام سینسرز کو ملا کر معلومات پیدا کرنے کے لیے ایک مفید معاون بنا دیتی ہے۔
ہوا پیما ؍ بیرومیٹر (Barometer)
بہت سے جدید سمارٹ فونز میں انتہائی چھوٹے بیرومیٹر سینسر نصب ہوتے ہیں جو ہوا کے دباؤ کو غیر معمولی درستگی کے ساتھ ناپ سکتے ہیں۔ ہوا کا دباؤ بلندی میں اضافے کے ساتھ کم ہوتا جاتا ہے، بیرومیٹر کی مدد سے ان تبدیلیوں کو ناپ کر سمارٹ فون موزوں حالات میں ایک میٹر سے بھی کم بلندی کے فرق کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ جب بیرومیٹر کی پیمائشوں کو دیگر سینسرز کے ڈیٹا کے ساتھ ملایا جاتا ہے تو عمودی محل وقوع (vertical positioning) بہت درست انداز میں معلوم ہو جاتی ہے۔ سمارٹ فون میں یہ سینسر بلندی کا اندازہ لگانے، ہائیکنگ، موسمیاتی پیشین گوئی، عمارت میں منزل کا تعین کرنے، ورزش، اور ہنگامی حالات میں جگہ معلوم کرنے کی معاونت میں استعمال ہوتا ہے۔
جاسوسی کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو بیرومیٹر ایسی معلومات فراہم کرتا ہے جو صرف جی پی ایس کی مدد سے قابل اعتماد انداز میں حاصل نہیں کی جا سکتیں یعنی عمودی حرکت (Vertical Movement)۔
اس صلاحیت کے سبب سمارٹ فون یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ ہم:
- سیڑھیاں چڑھ رہے ہیں یا اتر رہے ہیں
- لفٹ استعمال کر رہے ہیں
- برقی زینہ یعنی ایسکیلیٹر(escalator) استعمال کر رہے ہیں
- کثیر المنزلہ عمارت میں ایک منزل سے دوسری منزل پر جا رہے ہیں۔
- ہوائی جہاز میں موجود ہیں
- پہاڑی علاقے میں سفر کر رہے ہیں
- زیر زمین موجود ہیں۔
بیرومیٹر سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو اگر دیگر دستیاب موسمی معلومات اور عمارتوں کے نقشوں کے ساتھ ملا دیا جائے تو اس سے بالکل درست اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کسی عمارت میں سمارٹ فون کس منزل پر موجود ہے۔ یہ ڈیٹا جب دیگر سینسرز کے ڈیٹا کے ساتھ ملتا ہے تو کسی عمارت کے اندر یا زیر زمین ہماری نقل و حرکت اور مقام کا نہایت دقیق اندازہ بتا دیتا ہے کیونکہ دیگر سینسرز بلندی کا اندازہ نہیں کر سکتے، ان میں ایکسلرومیٹر یہ تو بتا سکتا ہے کہ ہم اوپر کی جانب جا رہے ہیں یا نیچے کی جانب جا رہے ہیں لیکن وہ بلندی یا پستی کا درست اندازہ نہیں بتا سکتا کہ کتنا اوپر چلے گئے ہیں یا کتنا نیچے چلے گئے ہیں اس کے لیے بیرومیٹر کام آتا ہے۔ اس طرح ایکسیلرومیٹر، جائروسکوپ، میگنیٹومیٹر اور بیرومیٹر سب مل کر زیر زمین بنکرز، تہہ خانوں میں یا بڑی بڑی عمارتوں کے اندر جہاں جی پی ایس کے سگنلز کام نہیں کرتے ہماری بالکل درست لوکیشن کا اندازہ لگا لیتے ہیں۔13 A Sensor-Centric Survey on the Development of Smartphone Measurement and Sensing System by Marco Grossi
مائیکرو فون (Microphone)
سمارٹ فون کے تمام سینسرز میں مائیکروفون ذاتی معلومات کے سب سے زیادہ حساس ذرئع میں شمار ہوتا ہے۔ تقریباً ہر سمارٹ فون میں ایک سے زیادہ اعلیٰ معیار کے مائیکروفون نصب ہوتے ہیں، جنہیں آواز کی بہتری، شور کم کرنے، سٹیریو ریکارڈنگ اور آڈیو پراسیسنگ کے لیے مخصوص مقامات پر نصب کیا جاتا ہے۔
عام سمارٹ فونز میں عموماً دو سے تین مائیکروفون ہوتے ہیں جب کہ اعلیٰ درجے کے فونز میں اضافی مائیکروفون بھی شامل ہو سکتے ہیں، جو جدید Beam forming اور شور کی کمی (Noise Reduction) جیسی سہولیات کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
صوتی ریکارڈنگ میں اکثر نہایت حساس ذاتی معلومات شامل ہونے کے سبب دیگر بہت سے سینسرز کی نسبت مائیکروفون تک رسائی (access) کے لیے عموماً آپریٹنگ سسٹم کی واضح اجازتوں (permissions) کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم جب مائیکروفون تک رسائی حاصل ہو جائے، چاہے وہ صارف کی طرف سے دانستہ یا غیر دانستہ طور پر دی گئی ہو یا کسی سپائی وئیر (Spyware:جاسوسی کے وائرس) نے خود سے حاصل کر لی ہو، تو جاسوسی کے امکانات بہت وسیع ہو جاتے ہیں۔
مائیکروفون تک رسائی جو معلومات ظاہر کر سکتی ہے ان میں سے چند مثالیں درج ذیل ہیں:
- حساس یا نجی گفتگو
- کمپنی ، جماعت یا تنظیم کے اجلاس
- مالی معاملات سے متعلق گفتگو
- طبی مشاورت
- دینی سرگرمیاں
- قریب موجود دیگر افراد کی گفتگو
اس کے علاوہ مائیکروفون تک رسائی پس منظر اور ہمارے ارد گرد کے ماحول کے بارے میں بھی تفصیلی معلومات ظاہر کر سکتی ہے، مثلاً:
- ہم اس وقت کس جگہ موجود ہیں، کسی ریستوران میں، ہوائی اڈے کے ٹرمینل پر، ریلوے سٹیشن میں، کسی شاپنگ مال میں، کھیلوں کی کسی تقریب میں، کسی مذہبی اجتماع میں، یا اپنے گھر میں۔
- ہم گاڑی پر، بس میں، ٹرین پر، جہاز پر یا پیدل سفر کر رہے ہیں۔
- گھر میں موجود افراد کی تعداد کیا ہے اور ان میں کتنے مرد، خواتین اور بچے ہیں۔
- گھر میں پالتو جانوروں کی موجودگی
مائیکرو فون کے ذریعے حاصل شدہ ڈیٹا کی مدد سے جدید مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے نظام آوازوں کی شناخت بڑی درستگی سے کر سکتے ہیں اس کے علاوہ مشین لرننگ ماڈلز بھی مختلف صوتی آوازوں میں آسانی اور انتہائی درستگی سے فرق کر سکتے ہیں۔
خود بولے گئے الفاظ کے علاوہ آواز میں وسیع پیمانے پر بائیومیٹرک معلومات موجود ہوتی ہیں۔ آواز کی شناخت کے نظام(Voice Recognition Systems) صوتی خصوصیات کا تجزیہ کر کے افراد کی شناخت، عمر کا اندازہ، جذباتی کیفیت کا تعین، ذہنی دباؤ کی سطح کا اندازہ، اور زبان یا علاقائی لہجے کی شناخت کر سکتے ہیں۔
گوگل بالخصوص اور سوشل میڈیا ایپس بالعموم مستقل مائیکروفون کو سنتے رہتے ہیں اور سمارٹ فون کے قریب موجود لوگوں کی گفتگو سے صارف کے لیے اپنی سروس اور اشتہارات کو کسٹمائز کرتے ہیں۔ یہ ایک عمومی مشاہدہ ہے کہ اگر سمارٹ فون کے قریب بیٹھے افراد کسی خاص موضوع پر گفتگو کر رہے ہوں تو کچھ وقت بعد سوشل میڈیا ایپس اور گوگل پر اسی سے متعلقہ اشہارات آنا شروع ہو جاتے ہیں۔
انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے جاسوسی کے لیے استعمال ہونے والے سپائی وئیرز انتہائی خفیہ انداز میں اور اس حد تک خاموشی سے مائیکروفون کو استعمال کرتے ہیں کہ صارف کو اس کا بالکل علم نہیں ہو پاتا یہاں تک کے سیٹنگز میں مائیکروفون کے آن ہونے کا بھی کوئی نشان نہیں آتا۔ اسی طرح ایسے سپائی وئیرز کی موجودگی میں انکرپٹڈ صوتی رابطہ کاری بھی بے معنی ہو جاتی ہے کیونکہ آواز کی ریکارڈنگ اور پراسیسنگ انکرپشن سے پہلے ہو رہی ہوتی ہے اس لیے سگنل، واٹس ایپ یا دیگر انکرپٹڈ رابطہ کاری کے ایپس میں آواز کے استعمال کے دوران ساری معلومات سپائی وئیرز چرا رہے ہوتے ہیں۔
کیمرہ (Camera)
جدید سمارٹ فونز میں موجود کیمروں کی صلاحیتیں اب گزشتہ دہائی کے پروفیشنل ڈیجیٹل کیمروں کے برابر ہو چکی ہیں۔
بصری معلومات (Visual Information) ڈیجیٹل ڈیٹا کی سب سے بھرپور اقسام میں سے ایک ہے، کیونکہ ایک تصویر بیک وقت بے شمار سیاقی تفصیلات (Contextual Details) محفوظ کر سکتی ہے۔ مثلاً جغرافیائی مقام، ذاتی تعلقات، گھر کے اندرونی حالات، مالی حیثیت، کام کی جگہ کا ماحول، ملکیت میں موجود گاڑی، شناختی دستاویزات، کمپیوٹر سکرین یا طبی معلومات وغیرہ۔
اس کےعلاوہ تصاویر کی فائلز میں محفوظ میٹا ڈیٹا (Metadata) میں اکثر یہ معلومات شامل ہوتی ہیں:
- جہاں تصویر کھینچی گئی اس کا جی پی ایس نقطہ
- وقت اور تاریخ
- سمارٹ فون کا ماڈل
- کیمرے کی سیٹنگز
- تصویر کا رخ (Orientation)
- لینز کی معلومات
کیمرہ سے حاصل شدہ ڈیٹا کی مدد سے مصنوعی ذہانت کے ماڈل (AI Models) اب معمول کے مطابق درج ذیل کام انجام دیتے ہیں:
- چہرے کی شناخت (Facial Recognition)
- اشیاء کی شناخت (Object detection)
- مناظر کی درجہ بندی (Scene Classification)
- تصویری حروف کی شناخت (Optical Character Recognition)
- گاڑیوں کی نمبر پلیٹ کی شناخت (License Plate Recognition)
- شناختی مطابقت (Identity Matching)
- جذبات کا اندازہ(Emotion Estimation)
- ہجوم کا تجزیہ(Crowd Analysis)
انٹیلی جنس ادارے ان صلاحیتوں کو خفیہ معلومات جمع کرنے اور اپنے ہدف کی شناخت کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جاسوسی کے لیے بنائے گئے مخصوص سپائی وئیر انتہائی خاموشی اور رازداری کے ساتھ کیمرہ پر دسترس (access) حاصل کر لیتے ہیں یہاں تک کہ نہ تو کیمرہ چلنے کی لائٹ (Indication Light) جلتی ہے اور نہ ہی سیٹنگز میں کیمرہ Enable نظر آتا ہے۔ مائیکروفون کی طرح کیمرے کے معاملے میں بھی اگر ایسے سپائی وئیر فون میں موجود ہوں تو سگنل، وٹس ایپ یا دیگر ایپلیکیشنز کی انکرپشن بے معنی ہو جاتی ہے اور دشمن کو معلومات انکرپٹ ہونے سے قبل ہی فراہم ہو جاتی ہے۔
بلیو ٹوتھ (Bluetooth)
بلیوٹوتھ ایک مختصر فاصلے تک کام کرنے والا وائرلیس کمیونیکیشن پروٹوکول (Wireless communication protocol) ہے، جسے قریبی آلات کے درمیان کم توانائی کے ساتھ رابطے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ ۱۹۹۰ء کی دہائی کے اواخر میں متعارف ہونے کے بعد بلیوٹوتھ سمارٹ فونز کا ایک لازمی جزو بن چکا ہے۔
بلیوٹوتھ وقتاً فوقتاً اپنی شناخت سے متعلق معلومات نشر (broadcast) کرتا رہتا ہے تاکہ دوسرے آلات اسے دریافت کر سکیں اور ان کے درمیاں رابطہ قائم ہو سکے۔ اگرچہ جدید سسٹمز پرائیویسی کی حفاظت کے لیے بلیوٹوتھ کے ایڈریسز کو مسلسل تبدیل (Randomize) کرتے رہتے ہیں، پھر بھی ان کے ذریعے صارف کی نقل و حرکت کا سراغ لگانے کے متعدد امکانات موجود رہتے ہیں۔
بلیوٹوتھ مختلف طریقوں سے جاسوسی میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ سب سے پہلے، آس پاس موجود بلیوٹوتھ آلات خود بہت سی اہم معلومات فراہم کرتے ہیں، مخصوص پہننے والے آلات (Wearables) ، گاڑیوں کے نظام یا گھریلو الیکٹرانک آلات کی بار بار موجودگی سے تعلقات، روزمرہ سفر کی عادات یا رہائش گاہ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
اسی طرح شاپنگ مالز، ائیر پورٹس، اور دیگر عوامی مقامات پر نصب بلیوٹوتھ بیکنز (Bluetooth Beacons) عمارتوں کے اندر نہایت درست مقام معلوم کرنے کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ یہ کم قیمت ٹرانسمیٹر منفرد شناختی اشارات (Unique Identification Signals) نشر کرتے ہیں، جنہیں سمارٹ فون خودکار طور پر وصول کرتے ہیں۔ اس طرح کسی عمارت کے اندر مقام کا تعین جی پی ایس کے مقابلے میں کہیں زیادہ درستگی سے ممکن ہو جاتا ہے۔
اسی طرح Proximity Analysis مختلف آلات کی بار بار ایک ہی مقام پر موجود ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اگر دو سمارٹ فونز طویل عرصے تک مسلسل ایک دوسرے کی موجودگی ریکارڈ کرتے رہیں، تو مشین لرننگ نظام اس سے ذاتی تعلقات، کام کی جگہ پر روابط یا ایک ہی گھر میں رہائش پذیر افراد کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔
بلیوٹوتھ سگنلز کی طاقت (Signal Strength) کی پیمائش سے آلات کے درمیان فاصلے کا اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے، جس کی مدد سے رابطوں کا سراغ لگانا (Contact Tracing)، کسی جگہ موجود افراد کی تعداد کی نگرانی (Occupancy Monitoring) اور گزشتہ نقل و حرکت کا ریکارڈ بنانا ممکن ہو جاتا ہے۔
انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے سمارٹ فون میں ڈالے گئے سپائی وئیرز کو بلیوٹوتھ کا ڈیٹا لینے کے لیے کسی اضافی صلاحیت کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ اسے متاثرہ فون پر مکمل کنٹرول حاصل ہوتا ہے۔ حملہ آور قریبی آلات کی فہرست تیار کر سکتے ہیں، ان سے منسلک لوازمات (Accessories) کی شناخت کر سکتے ہیں یا بلوٹوتھ مواصلات کو مجموعی صورتحال کے ادراک (Situational Awareness) کے ایک جزو کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔
لیکن ان سب سے بڑھ کر بلیوٹوتھ سمارٹ فون کو ہیک کرنے کے لیے ایک Attack Surface بھی ہے۔ دیگر وائرلیس کمیونیکیشن پروٹوکولز کی طرح بلیوٹوتھ بھی ایک پیچیدہ سافٹ وئیر سیٹ کے ذریعے کام کرتا ہے، جو آلات کی دریافت (Device Discovery)، شناخت کی تصدیق(Authentication)، انکرپشن، پیئرنگ اور ڈیٹا کے تبادلے جیسے امور مینج کرتا ہے۔ ان اجزاء میں موجود کمزوریاں (Vulnerabilities) کسی حملہ آور کو یہ موقع دے سکتی ہے کہ وہ سمارٹ فون کو ہیک کر سکے۔
ماضی میں سکیورٹی محققین نے موبائل آپریٹنگ سسٹمز میں بلیوٹوتھ سے متعلق بہت سی کمزوریاں دریافت کی ہیں جن کی وجہ سے کسی حملہ آور کے لیے شناخت کی تصدیق کو نظر انداز کرنا (Authentication Bypass)، سروس سے محروم کرنے والے حملہ کرنا (Denial-of-Service Attacks)، اختیارات میں اضافہ کرنا(Privilege Escalation)، اور دور بیٹھ کر سمارٹ فون میں کوئی کوڈ چلانا (Remote Code Execution)، ممکن ہو جاتا ہے۔
اس کی ایک نمایاں مثال BlueBorne نامی کمزوری (Vulnerability) تھی جس کا انکشاف ۲۰۱۷ء میں ہوا۔ BlueBorne نے یہ ثابت کیا کہ اگر کوئی اینڈرائڈ سمارٹ فون اس خامی سے محفوظ نہ کیا گیا ہو تو بلیوٹوتھ کی رینج میں موجود حملہ آور فون کو پیئر کیے بغیر اور صارف کی کسی قسم کی مداخلت کے بغیر اسے ہیک کر سکتا ہے۔ اگرچہ بعد ازاں اس خامی کو دور کرنے کے لیے سکیورٹی اپ ڈیٹس جاری کر دیے گئے تھے لیکن اس واقعے نے یہ واضح کر دیا کہ بلیوٹوتھ کسی سمارٹ فون میں در اندازی کا ابتدائی ذریعہ بن سکتا ہے۔14 The dangers of Bluetooth implementations: Unveiling zero day vulnerabilities and security flaws in modern Bluetooth stacks by Ben Seri & Gregory Vishnepolsky – ARMIS
تاہم ایسے زیادہ تر صارفین جو سمارٹ فون کو مکمل طور پر تازہ ترین سکیورٹی اپ ڈیٹس کے ساتھ استعمال کر رہے ہوں، ان کے لیے بلیو ٹوتھ کے ذریعے آلہ متاثر ہونے کے امکانات ان حملوں کے مقابلے میں کہیں کم ہیں جو انٹرنیٹ سے منسلک ایپس جیسے میسجنگ ایپس اور ویب براؤزرز کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔ بلیوٹوتھ پر مبنی حملوں کے لیے حملہ آور کا زمینی طور پر قریب ہونا ضروری ہوتا ہے، عموماً چند درجن میٹر کے فاصلے کے اندر، اور اس کے ساتھ یہ بھی لازم ہے کہ سمارٹ فون کے بلیوٹوتھ نظام میں کوئی قابلِ استحصال (Exploitable) کمزوری موجود ہو۔ تب بھی یہ اسی صورت میں خطرناک ہو سکتا ہے جب سمارٹ فون میں انٹرنیٹ استعمال نہ ہوتا ہو، وائی فائی موجود نہ ہو اور نہ ہی سیلولر ماڈم موجود ہو جو کہ حملے کے نسبتاً زیادہ اہم ذرائع ہیں۔
وائی فائی (Wi-Fi)
وائی فائی جدید سمارٹ فونز میں استعمال ہونے والی بنیادی کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز میں سے ایک ہے۔ انٹرنیٹ سے رابطہ فراہم کرنے کے علاوہ، وائی فائی مقام معلوم کرنے اور اردگرد کے ماحول سے متعلق معلومات حاصل کرنے کا بھی ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ سمارٹ فونز مسلسل اپنے اردگرد موجود وائرلیس نیٹ ورکس کی تلاش کرتے رہتے ہیں، خواہ وہ اس وقت کسی نیٹ ورک سے منسلک نہ بھی ہوں۔ اس عمل کے دوران درج ذیل معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔
- نیٹ ورک کے نام(SSIDs)
- ہارڈ وئیر کے شناختی سگنلز (BSSIDs)
- سگنل کی طاقت(Signal Strength)
- وائرلیس چینل کی معلومات
- سکیورٹی کنفیگریشنز(Security Configurations)
سمارٹ فونز گنجان آباد شہری علاقوں میں وائی فائی کے ذریعے مقام کا تعین اکثر جی پی ایس جتنی درستگی سے کر لیتے ہیں، جبکہ عمارتوں کے اندر یہ سیٹیلائٹ نیویگیشن سے کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔15 Smartphone Sensor Based Indoor Positioning: Current Status, Opportunities, and Future Challenges by Imran Ashraf, Soojung Hur and Yongwan Park – Electronics Journal Special Issue “Recent Advancements in Indoor Positioning and Localization”
جاسوسی کے نقطۂ نظر سے وائی فائی کے مشاہدات درج ذیل معلومات فراہم کر سکتے ہیں:
- وہ مقامات جہاں ہمارا اکثر آنا جانا ہوتا ہے۔
- گھر کا وائی فائی نیٹ ورک
- کام کی جگہ کا وائی فائی نیٹ ورک
- سفر کے معمولات
- عمارت میں موجودگی اور اس کا مقام
- عمارت کے اندر نقل و حرکت
وائی فائی سے حاصل ہونے والا میٹا ڈیٹا نیٹ ورک ٹریفک کے تجزیے (Traffic Analysis) میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔ اس کی مدد سے سروس فراہم کرنے والے (Service Providers) رابطے کا دورانیہ، بینڈ وڈتھ کا استعمال، مواصلات کے اوقات اور ان بنیادی نیٹ ورک انفراسٹرکچرز کا مشاہدہ کر سکتے ہیں جن سے رابطہ کیا جا رہا ہوتا ہے، چاہے ایپلی کیشن کا اصل مواد انکرپٹڈ ہی کیوں نہ ہو۔
وائی فائی جدید سمارٹ فونز میں حملوں کے لیے سب سے بڑے Attack Surfaces میں سے ایک بھی ہے۔ وائی فائی کا نظام ہارڈ وئیر، فرم وئیر، ڈرائیورز اور آپریٹنگ سسٹم کے ان اجزاء پر مشتمل ہوتا ہے جو وائرلیس نیٹ ورکس کی تلاش، شناخت کی تصدیق (Authentication)کمیونیکیشن انکرپشن، اور نیٹ ورک ٹریفک کے تبادلے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ ان تمام اجزاء کی پیچیدگی کے باعث وقتاً فوقتاًایسی سکیورٹی کمزوریاں (Vulnerabilities) سامنے آتی رہتی ہیں جن سے حملہ آور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
بلیو ٹوتھ کے مقابلے میں وائی فائی کہیں زیادہ فاصلے تک کمیونیکیشن اور کہیں زیادہ بینڈ وڈتھ فراہم کر تا ہے۔ عام حالات میں سمارٹ فون وائرلیس ایکسیس پوائنٹ (Wireless AP) کے ذریعے کئی درجن میٹر تک رابطہ قائم کر سکتے ہیں، جبکہ مخصوص سمت میں کام کرنے والے انٹینا (Directional Antennas) اور زیادہ طاقت والے ریڈیو آلات (High-Gain Radio Equipment) سازگار حالات اور براہ راست Line-of-Sight میسر ہونے پر اس فاصلے کو نمایاں حد تک بڑھا سکتے ہیں۔ اس لیے حملہ آور کے لیے ضروری نہیں کہ وہ اپنے ہدف کے بالکل قریب موجود ہو تاکہ اس کے وائی فائی سے تعامل کر سکے۔
اس کی ایک نمایاں مثال KRACK (Key Reinstallation Attack) ہے، جس کا انکشاف ۲۰۱۷ء میں ہوا۔ اس حملے میں وائی فائی کی پاسورڈ انکرپشن نظام WPA2 میں موجود کمزوریوں سے فائدہ اٹھایا گیا۔ KPACK نے خود WPA2 کی انکرپشن کو نہیں توڑا، بلکہ Keyکے تبادلے اور Key Negotiation کے عمل میں رد و بدل کر کے حملہ آور کو وائی فائی کی حدود کے اندر رہتے ہوئے سکیور کمیونیکیشن میں مداخلت کا موقع فراہم کر دیا۔ اگرچہ بعد میں آنے والی اپ ڈیٹس نے اس کمزوری کا تدارک کر دیا، لیکن KPACK نے یہ واضح کر دیا کہ معیاری وائرلیس سکیورٹی پروٹوکول بھی اپنے عملی نفاذ میں ایسی خامیاں رکھ سکتے ہیں جو سمارٹ فون کے ہیک ہونے کا سبب بن جائیں۔16 Key Reinstallation Attacks: Breaking WPA2 by forcing nonce reuse – KrackAttacks.com
وائی فائی نظام کو کامیابی سے متاثر کر لینے کے بعد اگر حملہ آور سمارٹ فون پر اپنی مرضی کا کوڈ (Arbitrary Code) چلانے اور بعد ازاں دیگر کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر اعلیٰ اختیارات (Elevated Privileges) حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے، تو حملہ آور وائرلیس انٹر فیس سے کہیں آگے بڑھ سکتا ہے۔ ایسی صورت میں پورا سمارٹ فون ہیک ہو جاتا ہے اور حملہ آور کو اس میں موجود فائلز، کمیونیکیشنز، کیمرہ، مائیکروفون اور دیگر تمام سینسرز تک رسائی حاصل ہو جاتی ہے۔ چنانچہ وائی فائی کی کمزوریاں صرف اس لیے اہم نہیں کہ وہ وائرلیس کمیونیکیشن کو متاثر کرتی ہیں بلکہ اس لیے بھی اہم ہیں کہ وہ سمارٹ فون پر زیادہ وسیع پیمانے پر در اندازی (Device Compromise) کا دروازہ بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔
سیلولر موڈیم (Cellular Modem)
سیلولر موڈیم موبائل نیٹ ورک کے بنیادی انفراسٹرکچر کے ساتھ مسلسل رابطہ برقرار رکھنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ یہی نظام وائس کالز، ایس ایم ایس، ایمرجنسی سروسز اور موبائل ڈیٹا کنیکشن کو ممکن بناتا ہے۔ سمارٹ فون اور موبائل نیٹ ورک کے درمیان ہونا والا ہر تعامل اسی کے ذریعے سے ہوتا ہے۔
جدید سمارٹ فونز موبائل ٹیکنالوجی کی متعدد جنریشنز کو سپورٹ کرتے ہیں جن میں 2G (GSM)، 3G(UMTS) ، 4G LTE، اور جدید ترین 5G (NR) شامل ہیں۔ یہ موڈیم قریبی سیلولر بیس سٹیشنز (Cellular Base Stations) کے ساتھ مسلسل سگنلنگ پیغامات کا تبادلہ کرتا رہتا ہے تاکہ رابطہ برقرار رکھا جا سکے، صارف کی تصدیق (Authentication) کی جا سکے، انکرپشن کے پیرامیٹر طے کیے جا سکیں، سگنل کے معیار کی پیمائش کی جا سکے وغیرہ۔
یہاں تک کہ جب ہم کال نہیں بھی کر رہے ہوتے یا انٹرنیٹ استعمال نہیں کر رہے ہوتے، تب بھی یہ موڈیم فعال رہتا ہے۔ یہ وقفے وقفے سے قریبی بیس سٹیشن سے رابطہ کرتا ہے تاکہ اپنی موجودگی اور فعالیت بتا سکے۔ یہ مسلسل سگنلنگ سیلولر نیٹ ورکس کے کام کرنے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں، لیکن اسی کے نتیجے میں ایسا میٹا ڈیٹا بھی پیدا ہوتا ہے جو ہمارے بارے میں قیمتی معلومات ظاہر کر سکتا ہے۔
جاسوسی کے نقطۂ نظر سے سیلولر کمیونیکیشن وسیع پیمانے پر جو میٹا ڈیٹا پیدا کرتے ہیں ان میں درج ذیل چیزیں شامل ہو سکتی ہیں:
- صارف کی شناخت (Subscriber Identity)
- موبائل ڈیوائس کی شناخت(Device Identity)
- جس سیل ٹاور سے موڈیم منسلک ہے۔
- قریب میں موجود تمام سیل ٹاورز
- سگنل کی طاقت (Signal Strength)
- وقت سے متعلق پیمائش (Timing Measurements)
- کنکشن کا دورانیہ
- کال ریکارڈز
- ڈیٹا سیشن ریکارڈز
- رومنگ؍roaming کی معلومات
موبائل نیٹ ورک سروس پرووائیڈرز (Cellular Network Service Providers) چاہے انکرپٹڈ کمیونیکیشن کو نہ بھی دیکھ سکیں لیکن میٹا ڈیٹا کو وہ لازمی پراسیس کرتے ہیں۔ اس میٹا ڈیٹا سے صارف کا جغرافیائی مقام پتہ چلتا ہے، یہ بنیادی طور پر جس سیل ٹاور سے موڈیم کنیکٹ ہے اس کے ذریعے پتہ چلتا ہے لیکن مزید درستگی کے لیے سمارٹ فون کے گرد ایک مثلث کی شکل میں بیس سٹیشنز کے ساتھ سگنل کے تبادلہ کیا جاتا ہے جسے Triangulation کہتے ہیں۔
مختلف ٹاورز کے ساتھ ہونے والے مسلسل رابطے شہروں، شاہراہوں اور دیہی علاقوں میں صارف کی نقل و حرکت کا پتہ دیتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ ریکارڈ آنے جانے کے معمولات، سفر کا ریکارڈ، وہ جگہیں جہاں صارف بار بار جاتا ہے اور مصروفیت اور فراغت کے اوقات کو ظاہر کر سکتے ہیں۔
سیلولر موڈیم سمارٹ فون میں موجود سے زیادہ حساس سکیورٹی انٹرفیس میں سے بھی ایک ہے۔ اس کا بیس بینڈ فرم وئیر پروپرائیٹری (Proprietary) ہوتا ہے اور چِپ سیٹ بنانے والی کمپنیاں اسے الگ سے تیار کرتی ہیں۔ نتیجتاً اسے اوپن سورس سافٹ وئیرز سے برعکس عوامی آڈٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ ماضی میں سکیورٹی محققین نے سیلولر پروٹوکولز میں متعدد کمزوریاں دریافت کی ہیں جو کسی حملہ آور کو سمارٹ فون میں دور سے کوڈ چلانے (Remote Code Execution)، سروس معطل کرنے (Denial-of-Service) یا غیر مجاز رسائی تک کی اجازت دے دیتی ہیں۔
اسی طرح ریاستی سطح کی جدید جاسوسی کی کارروائیوں میں بعض اوقات سیلولر انفراسٹرکچر کی کمزوریوں سے بھی فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ مثلاً:
- جعلی بیس سٹیشن کا استعمال(جنہیں عام طور پر IMSI Catcher یا Stingrays کہا جاتا ہے۔)
- پروٹوکولز کو نشانہ بنانے والے سگنلنگ سسٹم حملے۔
- ریاستی سرپرستی میں ٹیلی کمیونیکیشن کے اداروں کی جانب سے کی جانے والی ’’قانونی مداخلت‘‘ (Lawful Interception) کی صلاحیتیں۔
ان نقاط کے حوالے سے آنے والے ابواب میں بات ہو گی۔
اس طرح سیلولر موڈم ایک اہم فرق کو واضح کرتا ہے۔ جاسوسی کے لیے لازمی طور پر کسی سپائی وئیر یا وائرس کی ضرورت نہیں ہوتی، نگرانی کی بعض اقسام کمیونیکیشن انفراسٹرکچر سے خودبخود پیدا ہوتی ہیں۔
سینسر فیوژن(Sensor Fusion) : متعدد سینسرز کا امتزاج
اگر سمارٹ فون کے ہر سینسر کو الگ الگ دیکھا جائے تو وہ ہماری سرگرمیوں کے بارے میں صرف محدود معلومات فراہم کرتا ہے لیکن جدید سمارٹ فونز میں نگرانی و جاسوسی کی اصل صلاحیت اس وقت سامنے آتی ہے جب ڈیٹا کے ان مختلف ذرائع کا اجتماعی تجزیہ ایک ایسے عمل سے کیا جائے جسے سینسر فیوژن (Sensor Fusion) کہتے ہیں۔
سینسر فیوژن سے مراد متعدد سینسرز سے علیحدہ علیحدہ موصول ہونے والے ڈیٹا کو یکجا کرنا تاکہ حقیقی دنیا کی ایسی تصویر تیار کی جا سکے جو کسی ایک سینسر کی فراہم کردہ معلومات کے مقابلے میں زیادہ درست، زیادہ قابلِ اعتماد اور زیادہ جامع ہو۔17 A Survey of Mobile Phone Sensing – IEEE Communications Magazine Volume 48, Issue 9
Android اور iOS دونوں مسلسل تمام سینسرز اور کمیونیکیشن انٹر فیسز سے حاصل ہونے والی معلومات کو یکجا کرتے رہتے ہیں۔ ریاستی سرپرستی میں تیار کیے جانے والے سپائی وئیرز کسی سمارٹ فون کو ہیک کر لینے کے بعد سمارٹ فون کا مشین لرننگ نظام ان سینسرز کے ڈیٹا کو استعمال کر کے جو تجزیہ اور نتائج اخذ کر رہا ہوتا ہے اسی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
سمارٹ فون آپریٹنگ سسٹم سینسر فیوژن کے ذریعے جو نتائج اخذ کرتا ہے اس کی چند مثالیں درج ذیل ہیں:
صارف کے رویے کا استنباط (Inferring User Behavior)
سینسر فیوژن کے اہم ترین نتائج میں سے ایک یہ ہے کہ اس کے ذریعے ایسی معلومات اخذ کی جا سکتی ہیں جو ہم نے کبھی براہ راست ظاہر ہی نہیں کی ہوتیں۔
یہ استنباط بنیادی طور پر براہ راست مشاہدے سے مختلف ہوتا ہے، مثلاً سمارٹ فون کہیں یہ جملہ ریکارڈ نہیں کرتا کہ ’’صارف اپنے دفتر پہنچ گیا ہے۔‘‘ اس کی بجائے مشین لرننگ نظام مختلف اشاروں (Indicator) کا تجزیہ کرتے ہیں جو مجموعی طور پر اس نتیجے کی تائید کرتے ہیں۔ اس حوالے سے مندرجہ ذیل سادہ مثال پر غور کریں:
- جی پی ایس ظاہر کرتا ہے کہ ہم ہر روز صبح ایک ہی مقام پر پہنچتے ہیں۔
- اس مقام پر پہنچنے کے بعد وائی فائی خودکار طور پر پہلے سے معلوم وائی فائی نیٹ ورک سے جڑ جاتا ہے۔
- ایکسیلرومیٹر کا ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ ہم پیدل چل رہے تھے پھر ایک مقام پر ساکن ہو گئے۔
- روشنی کی پیمائش کا سینسر یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم پہلے کھلی فضا میں اور دھوپ میں تھے پھر مصنوعی روشنی کے ماحول میں داخل ہو گئے۔
اس طرح کے دیگر سینسرز کا ڈیٹا بھی شامل کر لیں، لیکن ان میں سے کوئی ایک مشاہدہ تنہا اس مقکو دفتر ثابت نہیں کرتا، لیکن جب یہ سب معلومات اکٹھی کی جائیں تو یہ اس نتیجے کے حق میں نہایت مضبوط شواہد فراہم کرتی ہیں۔
اس طرح یہ تکنیک درج ذیل امور کا اندازہ بھی لگا سکتی ہے:
- ہمارے سونے جاگنے کا معمول کیا ہے
- ہماری ورزش کی عادات کیا ہیں
- ہمارا ڈرائیونگ کا انداز کیا ہے
- ہماری خریداری کی ترجیحات کیا ہیں اور ہم کن شاپنگ مالز میں خریداری کرنا پسند کرتے ہیں۔
- ہمارا کن ریستورانوں میں آنا جانا ہوتا ہے
- ہمارے مذہبی رجحانات کیا ہیں
- ہمارے سیاسی رجحانات کیا ہیں
- ہم کس تعلیمی ادارے سے منسلک ہیں
- ہمارا طبی معائنے کا معمول کیا ہے اور کس ڈاکٹر سے طبی معائنہ کرواتے ہیں
- معاشرے میں ہمارے تعلقات کن افراد سے کس نوعیت کے ہیں۔
یہ سب نتائج سمارٹ فون خودکار طور پر مشین لرننگ کے ذریعے خاموشی سے اخذ کر رہا ہوتا ہے۔ جب ہم اپنی رضامندی سے اپنا لوکیشن ڈیٹا اور اس طرح کی دیگر چیزیں شیئر کرتے ہیں تو ہمیں اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ بظاہر بے ضرر نظر آنے والے اس عمل پر کیا جانے والا تجزیہ طویل المدت میں ہماری نجی زندگی کے انتہائی ذاتی پہلوؤں کو بھی آشکار کر رہا ہوتا ہے۔18 From Data Acquisition to Data Fusion: A Comprehensive Review and a Roadmap for the Identification of Activities of Daily Living Using Mobile Devices by Ivan Miguel Pires – MDPI
سرگرمیوں کی شناخت (Activity Recognition)
سرگرمیوں کی شناخت (Activity Recognition) سمارٹ فون میں سینسر فیوژن کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ استعمال ہے۔ جسمانی سرگرمیوں کا اندازہ لگانے والے سینسرز سے ڈیٹا وصول کر کے مشین لرننگ الگورتھمز حرکت کے مخصوص نمونوں (Movement Patterns) کو پہچان کر ان کی مختلف سرگرمیوں میں درجہ بندی کرتے ہیں۔
اس طریقے سے حاصل ہونے والا روزمرہ کے معمولات کا علم مستقبل کی پیش گوئی کی صلاحیت کو نمایاں حد تک بڑھا دیتا ہے۔ اگر کوئی سمارٹ فون کئی ہفتوں تک ایک ہی قسم کے سفری معمولات کا مشاہدہ کرے تو مستقبل کے ممکنہ مقامات پر سفر کی پیش گوئی نسبتاً آسان ہو جاتی ہے۔ اس طرح معمول سے ہٹ کر کی جانے والے سرگرمی خود بھی ایسی اہم معلومات بن سکتی ہے جس پر مزید تجزیہ کیا جائے۔19 A Survey of online activity recognition using mobile phones – PubMed, National Library of Medicine
ماحول کا تجزیہ (Environmental Analysis)
سمارٹ فون کا سینسر فیوژن نظام سینسرز سے حرکت، جغرافیائی مقام اور روشنی کا ڈیٹا لے کر، مائیکروفون سے ارد گرد کے ماحول کی آوازوں کا تجزیہ کر کے، جس جگہ موجود ہیں وہاں حال یا ماضی میں کھینچی گئی تصاویر کا تجزیہ کر کے اور وائی فائی اور بلیوٹوتھ کے ذریعے اردگرد کے ڈیجیٹل آلات کی نشاندہی کرتے ہوئے ہمارے ارد گرد کے ماحول کی ایک مکمل ڈیجیٹل تصویر تشکیل دیتے ہیں۔ جب ریاستی سرپرستی میں چلنے والا سپائی وئیر کسی فون میں داخل ہو جائے تو وہ اس سینسر فیوژن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نہایت درستگی کے ساتھ انٹیلی جنس جمع کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ان سپائی وئیرز کے آپریٹرز نہ صرف اپنے ہدف کے مقام کا تعین کر سکتے ہیں بلکہ اس کی سرگرمیوں، تعلقات، روزمرہ معمولات اور اس کے ارد گرد کے ماحول کو بھی پوری طرح سمجھ سکتے ہیں۔20 People-Centric Urban Sensing by Andrew T. Campbell – Research Gate
اس طرح یہ سینسر فیوژن سمارٹ فون کو ایک ایسا فعال ، سیاق و سباق سے آگاہ سینسنگ پلیٹ فارم (Context-Aware Sensing Platform) بنا دیتا ہے جو اپنے ماحول کو مسلسل محسوس کرتا اور اس کا تجزیہ کرتا رہتا ہے۔ ہر سینسر اپنی جگہ ایک عملی مقصد تو پورا کر رہا ہوتا ہے لیکن ان سب کی مشترکہ معلومات انسانی رویوں کے بارے میں ایسی غیر معمولی بصیرت فراہم کرتی ہیں جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ سینسنگ(Sensing)، کمپیوٹنگ(Computing)، کنیکٹیوٹی(Connectivity) اور مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کا یہی امتزاج وہ تکنیکی بنیاد فراہم کرتا ہے جس پر ہمارے رویوں کی پروفائلنگ (Behavioral Profiling) اور جدید ریاستی جاسوسی کے نظام قائم ہیں۔
- 1A Survey of Mobile Phone Sensing – IEEE Communications Magazine Volume 48, Issue 9 ↩︎
- 2A Sensor-Centric Survey on the Development of Smartphone Measurement and Sensing System by Marco Grossi ↩︎
- 3Unique in the Crowd: The privacy bounds of human mobility – Article # 1376 – Scientific Reports – Nature.com ↩︎
- 4Activity Recognition using Cell Phone Accelerometers by Jennifer R. Kwapisz, Gary M. Weiss, Samuel A. Moore – Fordham University NY, USA ↩︎
- 5Unobtrusive User-Authentication on Mobile Phones Using Biometric Gait Recognition – IEEE ↩︎
- 6A Survey of Indoor Inertial Positioning Systems for Pedestrians by Robert Harle – IEEE Communications Surveys and Tutorials: Volume 15, Issue 3 ↩︎
- 7Handbook of Modern Sensors – Fifth Edition by Jacob Fraden ↩︎
- 8Activity Identification using body-mounted sensors – Physiological Measurements, Volume 30, Number 4 ↩︎
- 9Gyrophone: Recognizing Speech from Gyroscope Signals – 23rd USENIX Security Symposium, San Diego, CA, USA ↩︎
- 10Handbook of Modern Sensors – Fifth Edition by Jacob Fraden ↩︎
- 11Indoor Location Sensing Using Geo-Magnetism by Jaewoo Chung – MIT ↩︎
- 12A global self-localization technique utilizing local anomalies of the ambient magnetic field – 2009 IEEE International Conference on Robotics and Automation ↩︎
- 13A Sensor-Centric Survey on the Development of Smartphone Measurement and Sensing System by Marco Grossi ↩︎
- 14The dangers of Bluetooth implementations: Unveiling zero day vulnerabilities and security flaws in modern Bluetooth stacks by Ben Seri & Gregory Vishnepolsky – ARMIS ↩︎
- 15Smartphone Sensor Based Indoor Positioning: Current Status, Opportunities, and Future Challenges by Imran Ashraf, Soojung Hur and Yongwan Park – Electronics Journal Special Issue “Recent Advancements in Indoor Positioning and Localization” ↩︎
- 16Key Reinstallation Attacks: Breaking WPA2 by forcing nonce reuse – KrackAttacks.com ↩︎
- 17A Survey of Mobile Phone Sensing – IEEE Communications Magazine Volume 48, Issue 9 ↩︎
- 18From Data Acquisition to Data Fusion: A Comprehensive Review and a Roadmap for the Identification of Activities of Daily Living Using Mobile Devices by Ivan Miguel Pires – MDPI ↩︎
- 19A Survey of online activity recognition using mobile phones – PubMed, National Library of Medicine ↩︎
- 20People-Centric Urban Sensing by Andrew T. Campbell – Research Gate ↩︎













![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)
