اللہ کی ذات اتنی بلند ہے کہ اس کی شان اور قدرتوں کا احاطہ ہمارے بس کی بات نہیں۔ تمام تر حکمتیں اس کے پاس ہیں۔ انسان ایک جلد باز مخلوق ہے۔ چنانچہ قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَكَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا (سورۃ الاسراء: ۱۱)
’’اور انسان بڑا جلد باز واقع ہوا ہے۔‘‘
خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ ۭ (سورۃ الانبیاء: ۳۷)ٰ
’’انسان جلد بازی کی خصلت لے کر پیدا ہوا ہے۔‘‘
اس آیت مبارکہ میں انسان کی طبعی کمزوری اور جلد بازی کا ذکر ہے کہ اکثر صبر سے کام نہیں لیتا یعنی جلد بازی اس کے لیے آسان فعل ہے اور صبر اولوالعزمی کا کام ہے۔ اسی لیے صبر پر اللہ کی طرف سے اس کے لیے عظیم بشارتیں اور انعامات ہیں۔
جیسا کہ قرآن حکیم میں خالق کائنات نے خود فرمایا:
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ ۭاِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ (سورۃ البقرۃ: ۱۵۳)
’’اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد طلب کرو، بیشک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘
اب جس کے ساتھ خود اللہ ہو کیا اسے کائنات میں کوئی کبھی ہرا سکتا ہے؟ اور کون نہیں چاہے گا کہ اللہ اس کی مدد فرمائے؟ تو اللہ کی مدد کیسے طلب کی جائے اس کے لیے نسخہ ارشاد فرما دیا کہ نماز اور صبر کے ذریعے سے اللہ کی مدد طلب کرو۔
صبر ایک مکمل شعبہ ہے جس کا علم ہمیں ہونا چاہیے۔ یعنی کن حالات میں کس طرز عمل کا نام صبر ہو گا یہ شعور حاصل کرنا ضروری ہے۔ نیز کیا صبر میں داخل ہے اور کیا نہیں۔ معاشرے میں رائج بہت سی باتیں جو صبر کے ذیل میں کی جاتی ہیں کیا وہ صبر کی اس تعریف میں داخل ہیں جو شریعت اسلامی کو مطلوب ہے؟
ایک صبر تو وہ ہے جو بالکل سیدھا سا مفہوم رکھتا ہے عام فہم ہے اور سمجھ میں فورا آنے والا ہے۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں فرمان رب العالمین ہے:
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ ۭاِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ ۭاِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ اُولٰۗىِٕكَ عَلَيْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ ۣوَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُهْتَدُوْنَ (سورۃ البقرۃ: ۱۵۵ – ۱۵۷)
’’اور دیکھو ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور ، ( کبھی ) خوف سے ، اور ( کبھی ) بھوک سے ، ( کبھی ) مال و جان اور پھلوں میں کمی کر کے ۔ اور جو لوگ ( ایسے حالات میں ) صبر سے کام لیں ان کو خوشخبری سنا دو۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو یہ کہتے ہیں کہ ہم سب اللہ ہی کے ہیں اور ہم کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی طرف سے خصوصی عنایتیں ہیں ، اور رحمت ہے ۔ اور یہی لوگ ہیں جو ہدایت پر ہیں۔‘‘
قرآن حکیم یہ آیات انسانی زندگی کی بہت بڑی سچائی بیان فرما رہی ہیں کہ آزمائشیں تو زندگی میں ضرور آنی ہیں یہ خالق کی مرضی ہے کہ کس کو کس طرح سے آزمائے لیکن یہ طے ہے ہر شخص کو آزمایا جائے گا۔ اور جو خوش بخت شخص ان آزمائشوں پر پہنچنے والی تکلیف کو حوصلہ مندی سے برداشت کرے گا اس کے لیے اللہ کے انعامات کا وعدہ ہے۔
ان آیات میں آزمائشوں کی چند قسموں کا ذکر کیا گیا ہے جو نمایاں ہیں۔ لیکن ان کے علاوہ بھی اللہ اپنے بندوں کو مختلف انداز میں آزماتا ہے اور وہ اس پر قادر بھی ہے بلاشبہ وہ اس کا حقدار بھی ہے۔
صبر ہماری خواہشات کی تکمیل کے انتظار میں بھی ہے۔ کیونکہ اکثر ہم چاہتے ہیں کہ جو چاہا وہ فوراً ہو جائے یا یہ پتہ چل جائے کب ہو گا۔ لیکن اللہ کی اپنی حکمتیں ہوتی ہیں کس کام کو کب مقدر فرمائے۔ یہ بھی ممکن ہے جسے ہم خیر سمجھ کر منتظر ہیں اس میں شر چھپا ہو۔ ممکن ہے ہم جس کام کے صدور کا انتظار کر رہے ہوں وہ ہماری زندگی میں نہ ہو بلکہ بعد میں ہو یا سرے سے ہو ہی نہیں۔ چنانچہ قرآن حکیم میں رب تعالٰی نے فرمایا:
اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ ۭ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا (سورۃ الطلاق: ۳)
’’یقین رکھو کہ اللہ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے ۔ ( البتہ ) اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ(تقدیر) مقرر کر رکھا ہے ۔‘‘
اس آیت مبارکہ سے ایک بات تو واضح ہوئی کہ اللہ کے ہاں جو طے ہے اسے ہو کر رہنا ہے خواہ کوئی چاہے یا نہ چاہے اور دوسری بات کہ ہر امر کا ایک وقت مقرر ہے۔ لہذا اس گفتگو کا حاصل یہ ہوا کہ ہمیں اس فکر مندی سے چھٹکارا حاصل کر لینا چاہیے کہ کون سا کام کب ہو گا۔
مثلاً القدس سے وابستگی ہر مخلص مسلمان اپنے دل میں گہری محسوس کرتا ہے۔ یہ کڑھن بھی تقاضا ایمانی ہے کہ ارض مقدس یہود کے قبضے میں ہے، لیکن یہ تخمینہ لگاتے رہنا کہ القدس کب آزاد ہو گا، اس سے زیادہ لائق فکر یہ ہے کہ ہم اس کی آزادی کے لیے کیا کر رہے ہیں۔ اپنے ذمہ نیت، محنت و کوشش اور دعا سمجھیں ۔ نتیجہ جس مالک ارض و سماء کے ہاتھ میں ہے خود کو اس کی مشیعت کے تابع سمجھیں۔
ہماری یہ عجلت بعض اوقات اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ ہم جلد سے جلد مطلوبہ نتائج کے لیے ایسی جلد بازی کا مظاہرہ کر جاتے ہیں جو نقصان کا باعث بنتی ہے۔
یہ مسئلہ معسکرات سے لے کر قرار گاہوں تک ہر جگہ پیش آتا ہے۔ جہاں انتظار کو دین کے لیے اپنی لگن اور غلبہ دین کے لیے فکر مندی سے متصادم سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ یہ ایک واہمہ ہوتا ہے۔ حقیقتاً دینی منفعت اور غلبہ دین کی جدوجہد میں ہمارا بہتر حصہ نظم کی اطاعت میں ہوتا ہے۔
ہمارے ایک عزیز دوست ایسے جلد باز افراد کے متعلق تفریحاً کہا کرتے ہیں کہ کچھ بھائی ایسے ہوتے ہیں جو ہمیشہ کہتے ہیں ’’مجھے کام بتاؤ میں کس کو کھاؤں‘‘ اور اپنی جلد بازی کی وجہ سے پوری پوری ترتیبات کو کھا جاتے ہیں، ایسے ایسے بڑے نقصانات کا باعث بنتے ہیں جن کا ازالہ مشکل ہو۔
سیرت طیبہ کے روشن اوراق میں ہمیں ایسے واقعات ملتے ہیں جن سے امت کو سبق سیکھنا چاہیے۔
غزوہ احد میں پچاس تیر اندازوں کا اپنی جگہ چھوڑنا ایک ایسا عمل تھا جس میں امت کے لیے سیکھنے کے اسباق ہیں۔ حضرات صحابہ جیسے عظیم المرتبت جانثاروں سے کیونکر ممکن ہو سکتا تھا کہ ایسا واقعہ پیش آتا لیکن اللہ کی اپنی حکمتیں ہوتی ہیں اور ایک حکمت جو ہمیں اس واقعے میں نظر آتی ہے وہ امت مسلمہ کے لیے سبق ہے۔
اپنے خطے کی تاریخ کو دیکھیں تو اکثر مورخین نے 1857ء کی جنگ آزادی کے حوالے سے لکھا ہے کہ مذہبی جذبات مجروح ہونے پر ایک فوجی چھاؤنی کے ردعمل نے طے شدہ منصوبے کے مطابق مقرر وقت اور تیاری کے ساتھ جنگ شروع نہ ہونے دی اور یوں وقت سے پہلے شروع ہونے والی کاروائی پورے عمل کے نتائج پر اثر انداز ہوئی۔ دور حاضر کے جہاد میں بھی ایسی بہت سی مثالیں ہیں۔ لہذا مجاہدین کو خصوصیت سے اس کا خیال رکھنا چاہیے۔
صبر و تحمل شخصی اور جماعتی سطح پر یکساں اہم ہے۔ کیا ہمیں صلح حدیبیہ پر صحابہ کرام کا صبر یاد نہیں رکھنا چاہیے؟ اور پھر یہ اطاعت و فرمانبرداری یہ ضبط و تحمل اور یہ صبر کیسے عظیم و شان نتائج پر منتج ہوا۔
مجاہدین کے مجموعات کو لے کر کفار اور ان کے حواریوں کی سب سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ یہ آپس میں لڑ کر ختم ہو جائیں۔ شیطان بھی اس حوالے سے پورا زور لگاتا ہے کہ تعصبات کو بھڑکایا جائے۔ ایک دوسرے کی خامیوں کو بڑھا چڑھا کر دکھائے اور بدگمانی کی فضا قائم کر دے۔ تاہم ان معاملات صبر ایک بہت بڑا ہتھیار ثابت ہوتا ہے۔
یہ بھی ضروری نہیں کہ ایک ساتھ رہنے والوں میں سب کی ہر عادت اور ہر بات ٹھیک ہو۔ لہذا بعض اوقات کسی ایسی بات کو جو ہمارے مزاج سے مطابقت نہ رکھتی ہو ضبط و تحمل سے برداشت کرنا بھی اللہ کی خوشنودی کے دروازے کھولتی ہے۔
صبر ایک ہتھیار ہے یہ اللہ کی مدد حاصل کرنے کا نسخہ ہے معاملہ انفرادی ہو یا اجتماعی، خواہ دنیاوی ہو یا دینی صبر کا دامن تھام لینے والا انجام کار سرخرو ہوتا ہے۔
جو لوگ ہر معاملے میں واویلہ مچا دیتے ہیں خوب روتے دھوتے اور شور شرابہ کرتے ہیں۔ انکا یہ رونا دھونا مسائل کو عموماً پیچیدہ تو بناتا ہے لیکن اس سے معاملات کا حل نکلے یہ بہت مشکل امر ہے۔
صبر وہ عظیم وصف ہے جو اللہ کے خاص اور بلند مرتبہ بندوں کو عطا ہوتا ہے۔
٭٭٭٭٭













