بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
جو عظیم ہستیاں اپنی قربانیوں کی تحریر اپنے خون سے لکھ گئیں، ہمارے قلم کی سیاہی ان سے وفا کا حق کیسے ادا کر سکتی ہے۔ تاہم تاریخ تو ہمیشہ سے ہی لکھی آ رہی ہے اور آئندہ بھی لکھی جائے گی۔ تو لامحالہ تقاضا بنتا ہے کہ اس ’’بطلِ بے مثل‘‘ کی ’’کچھ یادیں کچھ باتیں‘‘ نوکِ قلم پر لائی جائیں۔ دوسرا، فتح کے ثمرات سے متمتع ہو کر اس قربان گاہ کو بھلا دینا بھی بے وفائی سی لگتی ہے کہ جس میں جوانانِ اسلام کے ساتھ عورتوں و بچوں کا معصوم و بے گناہ خون بھی شامل ہے۔ زمین کے ایک ٹکڑے نے شہداء کا خون سینچا اور بقیہ دھرتی گل و گلزار بنی اور ہم سب کو آزاد فضاؤں میں سکون کا سانس ملا۔
ذرا سوچیے! آخر کو تمنا تو ان کی بھی ہو گی کہ گھٹ گھٹ کر زندگی گزارنے کے بعد ایک سکون و آزادی کا سانس انہیں بھی نصیب ہو جائے، مسلسل کڑھن کے بعد سکھ کے چند سانسوں کی تمنا ہر بشر کا فطری تقاضا ہے۔ بالخصوص، جب تاریک راستوں میں کوئی ٹمٹماتا چراغ نظر آ جائے تو امید بڑھ جاتی ہے۔ بالکل یہی معاملہ ان ۲۳ ستمبر کے شہداء کے ساتھ ہوا، اور ان کے پاکیزہ خون کی فریاد کچھ یوں ہو گئی کہ:
اگر ماضی منور تھا کبھی تو ہم نہ تھے حاضر
جو مستقل کبھی ہو گا درخشاں، ہم نہیں ہوں گے
ہمارے بعد ہی خونِ شہیداں رنگ لائے گا
یہی سرخی بنے گی زیبِ عنواں، ہم نہیں ہوں گے
وہ اپنا سب کچھ نثار کر گئے، اپنی ہر تمنا ہر خواہش، ہر غم سینے میں دبا کر خود بھی منوں مٹی کے نیچے دب گئے۔ شادمانیاں ہمارے حصے میں آئیں۔ ہم نے فتح دیکھی، آزادی دیکھی، غنیمتیں پائیں، خوشیوں و مسرتوں کی محفلیں جمائیں، سہولیاتِ زندگی پائیں۔ لیکن یہ سب کچھ ضمیر کی اِک خلش کو دبا نہ سکا، کیا یہ شہداء واقعی اپنے جسد کے ساتھ اپنا پیغام بھی لے گئے؟ دینِ اسلام کی بقا کے لیے ان کا کردار، ایک ایسا کردار ہے جو ہمارے لیے بہترین مشعلِ راہ ہے۔ وہ قومیں فلاح و کامیابی کی منزل سے کیسے ہمکنار ہو سکتی ہیں جو اپنے محسنوں کو بھلا دیں، اور شہداء سے بڑھ کر محسن کون ہو سکتا ہے کہ جو امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشیوں کی خاطر اپنی اولادوں کو یتیمی کا غم دے گئے، ماؤں کو خون کے آنسو رلا گئے، بیویوں کو بیوگی کے الم سے چُور کر گئے، بہنوں کو تڑپا گئے، بوڑھے ضعیف باپ کو بے آسرا کر گئے؟ کیا ان ہیروں سے بڑھ کر کوئی اور بھی محسن ہو سکتا ہے؟ اگر نہیں، تو آئیے ان شہداء کے پاکیزہ کرداروں کے کچھ درخشاں پہلوؤں کا تذکرہ ہی کر لیا جائے۔
جس نے بھی کسی شہید فی سبیل اللہ کے ساتھ وقت گزارا ہو اور اس کی نیک یادیں ساتھ ہوں تو وہ ان کے تذکرے سے اعراض و بے نیازی برت کر، جفا کشی کا مظاہرہ نہ کرے، اس چیز کو وقت کا ضیاع نہ سمجھے، بلکہ یہ اشاعتِ دین میں ایک اہم خدمت اور آپ کا بہترین حصہ ہو گا۔
اسی سلسلے میں مولانا عاصم عمرکی زندگی کی ایثار و قربانی، تقویٰ و امانت داری کے بے شمار واقعات میں سے چند ایک تحریر کر رہی ہوں کہ جس عظیم ہستی کے ساتھ زندگی کے پندرہ سال گزارے ہوں اور خیر ہی خیر دیکھی ہو، تو آج جب ان سے جدائی کے سات سال گزر گئے تو دل کو مزید ان کی زندہ یادوں کا مدفن بنائے رکھنا، اب بس کی بات نہیں۔
مولانا عاصم عمر زندگی کے آخری ایام میں ایسی کیفیت سے دوچار تھے گویا بہت تھک چکے ہوں، اور اِس کا اظہار بھی کرتے تھے۔ ایک دن گویا ہوئے، ’’بس، اب بری طرح تھک چکا ہوں، جسم کا پور پور درد کرتا ہے۔ مزید ذمہ داری اٹھانے کی سکت نہیں۔ دعا کرو اب اللہ مقبول شہادت دے دے‘‘۔ مسلسل تین چار ماہ سے تقریباً ساری ساری رات جعبہ پہنے رکھتے۔ چھاپے کا خطرہ قوی تھا تو راتیں انتشار میں جاگتے ہی گزارتے۔ دن کو آرام کے لیے لیٹتے، تھوڑی سی اونگھ لگتی تو گھبرا کر بیٹھ جاتے۔ ہمارے اطمینان دلانے پر کہ ہم جاگ رہے ہیں، خدانخواستہ ہنگامی حالت ہوئی تو جگا دیں گے، آپ تھوڑا آرام کر لیں، تو لیٹ گئے اور پھر آہ بھر کر بیٹھ گئے، بولے ’’یہ یتیم اور بیوائیں مجھے سونے نہیں دیتے‘‘۔ وہ اُس وقت کی گرفتار بہنوں کے لیے بھی سخت پریشان تھے۔ تہجد میں رونا، ان کی آزادی کے لیے رب کے دربار میں عاجزانہ دعائیں ان کا معمول بن گیا تھا۔ اپنے شہداء کی جدائیوں کا غم تو وہ کمال حوصلے سے چھپائے رکھتے تھے لیکن اِس (یتیم بچوں کی دربدری اور خواتین کی گرفتاری کے) غم نے انہیں نڈھال کر دیا تھا۔ رب کے یہاں جواب دہی کے خوف سے بچوں کی طرح بلک بلک کر روتے تھے۔
ان کے اندر تقویٰ بھی انتہا درجے کا تھا۔ بیت المال کی کسی چیز سے ذاتی منفعت کی احتیاط تو ایسی تھی کہ ہمارا ذہن بھی ادھر نہ گیا۔ ایک دن طالبان کے ساتھ کسی مشاورت میں جانے کے لیے ساتھیوں نے ایک سوٹ سلوا دیا (شاید، انہیں مولانا کے گھسے کپڑے پہن کر جانے میں شرم آ رہی تھی)، اور اصرار کیا کہ یہی نیا جوڑا پہن کر چلیں۔ مولانا ساتھیوں کی رائے کا بہت احترام کرتے تھے، تو نہ چاہنے کے باوجود نیا جوڑا زیبِ تن کر لیا۔ وہ چلے گئے تو میں نے ان کے کپڑے دھو دیے۔ اندازہ تھا کہ ان کے آنے تک خشک ہو جائیں گے، لیکن وہ جلدی واپس آ گئے اور اپنے اتارے ہوئے کپڑے مانگے، تو میں نے کہا کہ وہ تو دھو دیے، (ان کے عموماً دو یا تین جوڑے کپڑے ہی ہوتے تھے) دونوں جوڑے گیلے ہیں تو تھوڑی دیر اس نئے جوڑے میں ہمارے سامنے بیٹھ جائیں۔ بس یہ سننے کی دیر تھی، مولانا دوسرے کمرے میں چلے گئے اور نجانے کہاں سے ایک انتہائی پرانا جوڑا اپنی بیٹی کے ذریعے ڈھونڈوا کر پہن لیا، اور انتہائی عاجزی سے آ کر بیٹھ گئے۔ اب عورت تو ناقص العقل ہے ہی، مجھے لگا کہ میری خواہش کا ذرّہ برابر لحاظ نہیں کیا۔ وہ تاثرات سے سمجھ کر بولے، ’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس کہیں سے خوشبو آئی۔ بیت المال سے رکھوانے سے پہلے اسے تولنے کا کام انہوں نے غلام یا کسی اور سے کروایا، اہلیہ نے کہا یہ کام میں کر دیتی ہوں کہ سعادت کی بات ہے۔ لیکن آپؓ نے فرمایا کہ اگر تم تولو گی تو لامحالہ خوشبو تمہارے کپڑوں میں بھی رچے گی جس سے ایک گونہ منفعت خاوند کے حصے میں آتی ہے تو کہیں اِس لغزش میں بروزِ قیامت مجھے جواب دہ ہونا نہ پڑے۔ تو اب یہ بیت المال کا جوڑا میں آپ کی خوشی کے لیے پہنے رکھنے سے رہا‘‘۔ میں لا جواب ہو گئی اور شرمندہ بھی، لیکن ان کی عزت و عظمت میرے دل میں مزید گھر کر گئی۔
اسی طرح ایک دفعہ بچی کے لیے شہد کے دو چمچے لینے کی اجازت پر بھی انہوں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ہی حوالہ دیا، کہ آپ ٹھیک کہہ رہی ہو، بچی بیمار ہے، شہد موجود ہے لیکن یہ بیت المال کا ہے اور حضرت عمر فاروقؓ نے جب بیماری کی وجہ سے بیت المال کا شہد استعمال کیا تھا تو جمعہ کی نماز میں علی الاعلان اجازت مانگی تھی۔ تو اب ادھر نہ تو جمعہ کی نماز ہے اور نہ میں علی الاعلان اجازت لے سکتا ہوں لہٰذا تم بازار سے ہی شہد منگوا لو، خیر ہے ملاوٹ زدہ بھی ہوا تو اللہ اس میں اصل کی تقویت و شفا ڈال دے گا۔ اور واقعی بعد میں بازار کے شیرے والے شہد سے ہی اللہ نے میری بچی کو شفا بخش دی۔
مولانا کا یہ حال بھی آنکھوں سے دیکھا کہ اگر کسی بات پر انہوں نے قسم کھائی تو اللہ نے ان کی قسم پوری فرما دی۔
اللہ ان کے درجات بلند فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کا اتباعِ سنت کا کچھ حصہ ہمیں بھی نصیب فرمائے۔ آمین!
چراغِ زندگی ہو گا فروزاں ہم نہیں ہوں گے
چمن میں آئے گی فصلِ بہاراں ہم نہیں ہوں گے
٭٭٭٭٭













