نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اسوۂ حسنہ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اسوۂ حسنہ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | سترہویں قسط

شیخ یحیٰ السنوار شہید رحمۃ اللہ علیہ کا شہرۂ آفاق ناول

by یحییٰ سنوار
in ستمبر و اکتوبر 2026ء, ناول و افسانے
0

بائیسویں فصل

میری ماں نے ابراہیم پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا کہ وہ اردن چلا جائے، وہاں سعودی سفارتخانے یا کسی اور عرب خلیجی ملک کے سفارتخانے میں اپنے کاغذات جمع کرائے، کیونکہ یہ زیادہ امکان ہے کہ وہاں اسے نوکری مل جائے گی، اور وہ اپنی بیوی کو لے کر وہاں کام کرنے چلا جائے گا، تو ان پریشانیوں اور خطروں سے دور ہو جائے گا جو غزہ کی ہر گلی میں اس کے لیے گھات لگائے ہوئے ہیں۔ لیکن وہ مسکرا کر جواب دیتا کہ یہ ناممکن ہے کیونکہ اس نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ غزہ نہیں چھوڑے گا چاہے وہ وہاں صرف روٹی پر ہی کیوں نہ جیے اور اقوام متحدہ کے ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کے جواب کا انتظار کرے جس میں اس نے ملازمت کے لیے درخواست دی ہے۔

کچھ وقت بعد جواب منفی آیا ، کیونکہ اس کے شعبے میں درخواست دہندگان کی تعداد خالی جگہوں سے زیادہ تھی، اس لیے اس کی باری نہیں آئی۔ میری ماں کو ایک بار پھر اسے بیرون ملک سفر کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کا موقع مل گیا، لیکن اس نے یاد دلایا کہ اس کے پاس تعمیرات کا ہنر ہے اور وہ اس سے کافی روزی کما رہا ہے، اور اسے اصل میں ملازمت کی ضرورت نہیں ہے۔ اب جبکہ اس نے پڑھائی مکمل کر لی ہے، وہ اپنے کام کو وسعت دے سکتا ہے اور اسے ترقی دے سکتا ہے اور اس سے اسے بہت زیادہ آمدنی ہو گی۔

مریم نے اپنا پہلے بچے کو جنم دیا، ایک بیٹی جس کا نام ابراہیم نے ’’اسراء‘‘ رکھا۔ جب میں نے پوچھا کہ اس نام کا مطلب کیا ہے ؟ تو اس نے کہا : کہ جب بھی میں اسے دیکھوں، مجھے اپنی زمین، اسراء و المعراج اور مسجد اقصیٰ کے بارے میں اپنی ذمہ داری یاد آئے ، اور چونکہ بچوں کی وجہ سے لوگ جہاد سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں، اس کا نام اسراء رکھنے سے یہ میرے لیے میری ذمہ داری کی یاد دہانی ہو گی، بجائے اس کے کہ یہ میرے پیچھے ہٹنے کی وجہ بنے۔ اس نے مجھے ان خوبصورت لمحوں کی یاد دلائی جو ہم نے مسجد اقصیٰ میں گزارے تھے جب یہودیوں نے اسے دھمکی دی تھی کہ وہ اسے ناپاک کریں گے، اور اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ اسی وقت ہم نے دوسرے منزل کی تعمیر مکمل کی، جہاں ہم نے کمروں کی تعمیر کی اور پرانی چھت کو ایسبیسٹ سے ڈھانپ دیا جو پہلے پہلی منزل کی چھت تھی اور میں نے ابراہیم کے محبت بھرے دل کا ایک منظر دیکھا، جب ہم دوسرے منزل کی چھت کو برابر کر رہے تھے اور ہم نے چھت کی ڈھلوان کو مغرب کی طرف بنا دیا تھا۔ جب ہم ایسبیسٹ ڈالنا شروع کر رہے تھے، ابراہیم نے اچانک کام روک دیا اور کہا کہ ہمیں اس طرح کام نہیں کرنا چاہیے۔

میں نے پوچھا : کس طرح ؟ اس نے کہا : چھت کی ڈھلوان کو مغرب کی طرف بنانا صحیح نہیں ہے۔

میں نے پوچھا : کیوں ؟ اس نے کہا : کیونکہ ہمارے چھت پر جمع ہونے والا بارش کا پانی ہمارے پڑوسیوں کی چھت پر گرے گا۔ میں نے کہا : اس میں کیا حرج ہے ؟ یہ پہلے بھی ایسا ہی تھا ، وہ ہنسا اور کہا : نہیں احمد، حالات اب بدل گئے ہیں ، پہلے ہماری چھت پڑوسیوں کی چھت سے تین میٹر اور نصف بلند نہیں تھی، اور جب زور سے بارش ہو گی تو اتنی اونچائی سے پڑوسیوں کی چھت پر پانی گرنے کی آواز بہت پریشان کن ہو گی اور وہ اس کے ساتھ نہیں رہ سکیں گے۔ میں نے سوچا کہ یہ بات درست ہے۔ میں نے پوچھا : لیکن اب کیا کرنا ہے؟ اُس نے کہا کہ ہم کام دوبارہ کریں گے اور چھت کی ڈھلوان مشرق کی طرف بنائیں گے، تاکہ پانی سڑک پر گرے، اور اس نے دیوار کے اوپری حصے کو گرانا شروع کیا تاکہ ڈھلوان ختم ہو جائے۔ پھر ہم نے اسے الٹ سمت میں دوبارہ تعمیر کرنا شروع کیا، پھر ہم نے چھت رکھی، اور اس کے اوپر بھاری پتھر رکھ دیے تاکہ ہوا کے جھونکوں سے اُڑ نہ جائے۔ تھوڑی ہی مدت میں ہم نے مکان کا کام مکمل کر لیا اور مکان چار حصوں میں تبدیل ہو گیا، ہر حصے میں کچھ نہ کچھ خود مختاری تھی ، میں اپنی امی کے ساتھ ایک میں رہتا تھا اس بنیاد پر کہ محمد جب رام اللہ سے واپس آئے گا تو ہمارے ساتھ رہے گا۔ اور محمود، حسن اور ابراہیم میں سے ہر ایک دوسرے حصوں میں مقیم ہو گیا۔ اس طرح ان کی بیویاں زیادہ آزادی سے رہ سکتی تھیں ، اور سارا دن اپنے سر پر دوپٹہ ڈالنے اور اپنے بالوں کو ڈھانپنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی اور نہ ہی اپنے شوہروں کے بھائیوں کے سامنے شرمندہ ہوتی تھیں۔

ابراہیم کے ساتھ مکان کی تعمیر کے دوران، میں نے تعمیر کے بہت سے فنون سیکھے، اور اس میں شریک ہونے لگا ، اس نے مشورہ دیا کہ میں اس کے ساتھ کام میں شامل ہو جاؤں، کیونکہ چند مہینوں میں میں ایک ماہر معمار بن سکتا ہوں ۔ وہ مجھے سکھائے گا اور ہم اکٹھے شراکت میں کام کر سکتے ہیں، خاص طور پر جب ملازمت کے مواقع کم ہوں۔ مجھے اس کی رائے معقول لگی اور میرے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں تھا، اس لیے جو منصوبے وہ اپنے ذمہ لیتا تھا انہیں مکمل کرنے میں میں نے اس کے ساتھ کام شروع کر دیا۔ اس کا کام وسعت اختیار کرنے لگا، ہمارے ساتھ کئی مزدور کام کرتے تھے ، خاص بات یہ تھی کہ وہ اکثر ہم سے کام کے مخصوص حصے مکمل کرنے کا کہتا اور کہتا کہ وہ ایک مختصر سا چکر لگا کر آئے گا۔ کام چھوڑ کر اپنی گاڑی میں بیٹھتا اور روانہ ہو جاتا، اور لمبے یا مختصر وقت کے بعد واپس آ کر کام جاری رکھتا ۔ میں اپنے دل میں سوچتا کہ وہ کہاں جاتا ہے اور اپنا کام چھوڑ دیتا ہے؟ جب میں اس سے پوچھتا تو وہ کہتا : احمد، کام کی تلاش میں جاتا ہوں، کیونکہ جو کام ہمارے ہاتھ میں ہے اسے مکمل کرنے سے پہلے ہمیں ایک اور کام کی تلاش کرنی ہو گی جو ہمارا انتظار کر رہا ہو۔ میں اس کی آنکھوں میں دیکھتا اور یقین کرتا کہ وہ کسی اور قسم کے کام میں مصروف ہوتا ہے، کسی ایسے کام کی تلاش میں ہوتا ہے جس کا تعمیری کام سے کوئی تعلق نہیں۔

٭٭٭٭

۱۹۴۸ء میں مقبوضہ ہونے والے علاقوں کے قریب ایک جگہ، جسے صرفند کہتے ہیں، اسرائیلی فوج کے ایک بڑے کیمپ میں، سینکڑوں فوجی صبح کے وقت وہاں آتے ہیں اور شام کو اپنے گھروں کو واپس چلے جاتے ہیں۔ وہ کاروں کے انتظار میں کھڑے ہوتے ہیں جو انہیں ان کے گھروں تک پہنچا سکیں اور سڑک پر آنے جانے والی گاڑیوں کو ہاتھ سے اشارہ کرتے ہیں تاکہ وہ رکیں اور انہیں اس سرد شام میں ان کے گھروں تک پہنچا سکیں۔ کچھ لوگ سڑک کے کنارے چلنا شروع کر دیتے ہیں، اور جب کوئی گاڑی قریب آتی ہے تو ان میں سے کچھ گاڑیاں ان فوجیوں یا دیگر کو چند کلومیٹر دور جب پہلی جگہ پر ان کی منزل جدا ہو جاتی ہے تو انہیں کوئی اور سواری تلاش کرنی پڑتی ہے جو انہیں آگے لے جائے۔ سڑک پر ایک سفید جدید سپارو گاڑی چل رہی تھی ، جس کی نمبر پلیٹ پیلی (اسرائیلی) تھی۔ اسے ایک نوجوان چلا رہا تھا جو یورپی نژاد لگتا تھا ، سفید رنگت، سنہرے بال، نیلی آنکھیں، اور اس کے ساتھ ایک نوجوان بیٹھا تھا ، جو عراقی نژاد لگتا تھا ، اور پچھلی سیٹ پر ایک نوجوان بیٹھا تھا جو یمنی نژاد لگتا تھا۔ گاڑی میں ریڈیو ایک عبرانی گانا بجا رہا تھا جس کی موسیقی دھیمی تھی ، ایک فوجی نے گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا، گاڑی رک گئی تو فوجی نے پچھلا دروازہ کھولا اور سیٹ پر بیٹھتے ہی عبرانی زبان میں کچھ کہا، ڈرائیور نے جواب دیا ’’ کوئی بات نہیں‘‘ اور گاڑی دوبارہ چل پڑی۔ کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد، ڈرائیور کے ساتھ بیٹھے نوجوان کی طرف مڑ کر ایک چھوٹا چھرا نکال کر کہا کہ کوئی حرکت نہ کرے اور پیچھے بیٹھے نوجوان سے عربی میں کہا : اس کی بندوق لے لو ، تو اس نے اس سے بندوق لے لی ، فوجی کانپنے لگا اور رونے لگا، اور عبرانی میں اپنی ماں کو پکارنے لگا۔ اس کا پیشاب بہہ کر اس کی پتلون کو گیلا کر رہا تھا۔ محمد نے اس پر چیختے ہوئے کہا ’’تم غزہ اور مغربی کنارے میں ہمیں مارنے آتے ہو، اور تم نے پہلے ہماری زمین پر قبضہ کر لیا، وہاں جب تم لوگ ہتھیار نکالتے ہو اور بچوں پر گولیاں چلاتے ہو تو اپنے آپ کو مرد سمجھتے ہو ، یہاں اپنی ماں کو پکار رہے ہو اور اپنے کپڑوں میں پیشاب کر رہے ہو ، اور اس کے دل میں ایک گولی مار دی۔ گاڑی ایک سائیڈ روڈ پر مڑ گئی، تینوں نوجوان اترے، گاڑی سے کھدائی کے آلات نکالے اور ایک گڑھا کھود کر اسے دفنا دیا، اس کا ہتھیار اور دستاویزات لے لیے ، ان میں سے ایک نے دستاویزات دیکھتے ہوئے چیخ مار کر کہا: اوہ ! یہ فوجی اسرائیلی فوج کی جنرل اسٹاف کی خصوصی فورسز سے ہے، جو انتہائی خطرناک کمانڈو آپریشنز کرتی ہے اور اس کے پاس ایک اعزاز بھی ہے۔ چند دنوں بعد اسی گروپ نے ایک اور فوجی کو اغوا کیا، اور غزہ کی پٹی سے واپس آتے ہوئے اس سے ایک اور گلیلی رائفل چھین لی ، دوسرے علاقے میں فوجی کو دفن کرنے کے بعد جب وہ غزہ کی پٹی کو اندرونی علاقوں سے جدا کرنے والی سرحدی تاروں کو پار کرنے کی کوشش کر رہے تھے توایک محافظ نے انہیں دیکھ لیا اور علاقے کی محافظ فوج کو اطلاع دی، جس کے بعد ان کا پیچھا کیا گیا اور کچھ افراد کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ دیگر فرار ہو کر مصر میں داخل ہو گئے۔ تحقیقات ہوئیں اور گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا، اور چونکہ دونوں فوجی اور ان کا اسلحہ ابھی تک لاپتہ تھے اور گرفتار شدگان میں سے کوئی بھی ان کا پتہ نہیں جانتا تھا، اس لیے پوری غزہ کی پٹی پر کرفیو نافذ کر دیا گیا اور وسیع پیمانے پر گرفتاریاں شروع ہو گئیں۔ حماس کی صفوں میں جو بھی فرد شک کے دائرے میں آتا تھا اسے گرفتار کر لیا جاتا ، اور ظاہر ہے کہ ان گرفتاریوں میں میرے بھائی حسن اور میرے چچا زاد ابراہیم بھی شامل تھے۔ تحقیقات میں ان پر کچھ ثابت نہ ہوا تو انہیں تین ماہ کے لیے انتظامی حراست میں لے لیا گیا اور انہیں نقب کے صحرائی حراستی مرکز منتقل کر دیا گیا۔

کچھ دنوں بعد محمود کو بھی تین ماہ کی انتظامی حراست میں لے لیا گیا ، وہاں نقب میں اس کی ملاقات حسن اور ابراہیم سے ہوئی جن کے سر اونچے اور قدم زمین پر مضبوطی سے جمے ہوئے تھے۔ وہ محمود کی طرف دیکھ رہے تھے جو اکثر پوچھتا تھا کہ تمہارا مسلح مزاحمت میں کردار کیا ہے؟ جیسے ہی انہیں بات کرنے کا موقع ملا، ابراہیم نے محمود سے کہا کہ اب ہمارا مسلح مزاحمت میں کردار شروع ہو رہا ہے، یہ شروعات ہیں اور جو کچھ بھی آگے ہو گا وہ خود ہی بولے گا۔ محمود نے سرگوشی میں کہا : جلد، بہت جلد! حسن نے جواب دیا : اہم بات یہ نہیں ہے کہ کب، اہم بات یہ ہے کہ یہ شروعات ہیں اور اہم بات یہ ہے کہ آگے کیا ہو گا ، اب تمہاری باری ہے کہ تم بتاؤ کہ تمہارا فرض پورا کرنے میں کیا کردار ہے؟ محمود نے ہنستے ہوئے کہا : تم نے ابھی تک کچھ نہیں کیا اور ہم سے ہمارے کردار کے بارے میں پوچھتے ہو؟ ہمارا کردار تو گزشتہ تیس سالوں سے معروف ہے، ہم مسلح جدوجہد کے علمبردار ہیں، ہم ہی ہیں وہ جنہوں نے انقلاب کی ابتدا کی، اور ہم ہی ہیں وہ جنہوں نے ہزاروں کی تعداد میں فدائی حملے کیے۔ ابراہیم نے بات کاٹتے ہوئے کہا : ہم آج کی نسل ہیں اور اہم بات یہ ہے کہ اب کون پرچم اٹھائے گا اور اس کی قیمت چکائے گا ؟ محمود نے جواب دیا : ٹھیک ہے، ٹھیک ہے، ہم دیکھیں گے، اور بہرحال، خوش آمدید، اب آپ مزاحمت کی خندق میں اپنی جگہ لے رہے ہیں، رضامندی اور احترام کے ساتھ۔

کچھ نوجوانوں نے ان کی گفتگو کو روکا اور ان کے پاس آ کر سلام کیا، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ، انہوں نے سلام کا جواب دیا اور محمود نے رخصت لینے کی اجازت مانگی ، نوجوان کھڑے ہو کر اپنے تعارف کرانے لگے : میں ابراہیم ہوں، کیمپ الشاطی سے ، میں آپ کا بھائی یاسر ہوں، کیمپ خان یونس سے ، میں آپ کا بھائی عماد ہوں، کیمپ جبالیا سے ، میں محمود ہوں، کیمپ البریج سے ، اور میں عز الدین ہوں، شجاعیہ سے۔ وہ بیٹھ گئے اور اپنے بھائیوں کی جانب سے انجام دی گئی بہادری کی کارروائیوں کے بارے میں بات کرنے لگے، اور کیسے ان کارروائیوں نے قابضین کو مشکل میں ڈال دیا۔ فوجی جوان اپنی وردی میں اور اپنے ہتھیاروں کے ساتھ، جو ملک کی حفاظت اور نگرانی کرتے ہیں، اغوا ہو جاتے ہیں اور غائب ہو جاتے ہیں، اور ریاست کے سیکورٹی ادارے، اپنی تمام تر کارروائیوں، طریقوں اور ظلم و ستم کے باوجود اس مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ پھر وہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ جہاد اور مسلح جدوجہد کے ذریعے جنگ کا دروازہ رسمی طور پر کھل گیا ہے اور ان شاء اللہ آنے والا کل ہمارے لیے روشن اور بھلائی سے بھر پور ہو گا۔ تین مہینے تیزی سے گزر گئے اور حسن اور ابراہیم گھر واپس آ گئے، اور چند دن بعد محمود بھی واپس آگیا۔ حسب معمول اس خوشی کے موقع پر ہمسایوں اور خاندان والوں کی طرف سے مبارکباد اور جشن منایا گیا۔ اسی دوران عراقی افواج نے کویت پر حملہ کر دیا اور امریکی اور مغربی افواج خطے میں عراق کے خلاف جنگ کے لیے جمع ہونے لگیں۔ انتفاضہ کی سرگرمیاں بہت حد تک کم ہو گئیں اور سب منتظر تھے کہ آنے والے دنوں میں کیا ہونے والا ہے ۔ فلسطینیوں کی اکثریت اس امید میں تھی کہ صدام حسین اپنی وعدے کے مطابق آدھے اسرائیل کو مٹا دے گا اور باوجود اس کے کہ عراقی عوام کو مغربی جنگی مشینری سے ملنے والی تکالیف پر ترس آتا تھا، ہم سب بے صبری سے اس جنگ کے آغاز کا انتظار کر رہے تھے تاکہ دیکھ سکیں کہ میزائل کیسے اس ظالم اور جارح ریاست کو تباہ کرتے ہیں۔ اسرائیلی عوام اور قیادت کی اس جنگ سے خوف اور دہشت نے اس تڑپ کو مزید بڑھا دیا تھا، خاص طور پر جب کیمیائی ہتھیاروں کے بارے میں بات کی جاتی تھی جن کا عراق کے پاس ہونے کا دعویٰ کیا جاتا تھا۔

سب لوگ اعصاب شکن حالت میں خبریں سن رہے تھے۔ جب اعلان ہوا کہ عراق پر حملہ شروع ہو چکا ہے ، سب آسمان کی طرف دیکھنے لگے تاکہ عراق سے آنے والی کیمیائی میزائل کو دیکھ سکیں جو اس ظالم ریاست کو مٹا دیں گے۔ جب اسرائیل میں پہلی بار خطرے کے سائرن بجے اور لوگ گیس ماسک پہننے اور پناہ گاہوں میں چھپنے لگے، تو مختلف علاقوں میں لوگ نعرے لگانے لگے : ’’بالروح بالدم نفديك يا صدام، يا صدام يا حبيب اضرب اضرب تل أبيب، جس نے تل ابیب کو نشانہ بنایا، وہ اس مظلوم قوم کا محبوب بن گیا جو دہائیوں سے مصیبتیں جھیل رہی ہے۔

حکومت نے ہنگامی حالت کے خاتمے کا اعلان کیا، اور کہا کہ زیادہ تر علاقوں کے باشندے ماسک اتار سکتے ہیں اور پناہ گاہوں سے باہر آ سکتے ہیں، اور میزائل ایک مخصوص علاقے میں گر رہے ہیں، جن کی جانچ کی جا رہی ہے کہ آیا وہ کیمیائی مواد لے کر آ رہے ہیں یا نہیں؟ ہمارے اوپر ایک خوفناک خاموشی چھا گئی جب ہم اُس تاریک رات میں نتائج کا انتظار کر رہے تھے ، کچھ وقت کے بعد اعلان کیا گیا کہ یہ عام دھماکہ خیز مواد تھا اور کوئی کیمیائی ہتھیار نہیں تھا اور علاقے کے باشندوں سے ماسک اتارنے کا کہا گیا۔ ہم یوں محسوس کر رہے تھے جیسے ہم پر برفانی پانی ڈال دیا گیا ہو اور خاموشی چھا گئی، جسے محمود نے توڑا اور کہا شاید یہ ایک چال ہو ، تاکہ وہ مطمئن ہو جائیں اور ماسک نہ پہنیں، پھر اچانک زبردست حملہ ہو۔ ہم نے جواب دیا، ان شاءاللہ ، ان شاءاللہ! حسن نے بے پناہ اعتماد کے ساتھ کہا : لوگو، صدام کے پاس کیمیائی ہتھیار نہیں ہیں، اگر ہوتے تو وہ اسرائیل پر حملہ کرتا، اور اگر کرتا بھی تو اسرائیل کو مٹا نہیں سکتا۔ محمود نے غصے سے جواب دیا : اور یہ منفی خیالات کہاں سے آتے ہیں ؟ حسن نے اعتماد کے ساتھ جواب دیا : کیونکہ جو اسرائیل کو مٹائے گا، اس میں مخصوص صفات ہونی چاہییں، جو کہ موجود نہیں ہیں۔ محمود نے غصے میں کہا : بھائی، مجھے نہیں معلوم یہ خیالات اور باتیں کہاں سے آتی ہیں۔ ابراہیم نے مداخلت کرتے ہوئے کہا : بہرحال، ان شاء اللہ اُس کے پاس کیمیائی ہتھیار ہوں گے اور وہ حملہ کرے گا، ابھی بھی وقت ہے، اور ابھی کچھ کہنا جلد بازی ہو گی۔ جنگ کے جاری رہنے اور اسرائیل پر عراقی میزائلوں کے گرنے کے ساتھ ہی لوگوں کی خوشی عروج پر تھی۔ صحیح ہے کہ اسرائیل زمین سے نہیں مٹایا گیا، لیکن پہلی بار اُس کے اندرونی علاقوں پر حملہ ہوا، اور سب اپنے پناہ گاہوں میں چوہوں کی طرح گھس گئے یا ماسک پہن لیے جو انہیں مار رہے تھے اور کچھ تو صرف الارم کی آواز سن کر ہی مر گئے۔ یہ سب کچھ کافی تھا کہ لوگ باہر نکل آئیں اور صرف میزائلوں کو صہیونی ریاست کی طرف جاتا ہوا دیکھیں، لوگ نعرے لگاتے، خوشی مناتے اور گاتے تھے، حالانکہ نتیجہ بہت سے لوگوں کو تقریباً معلوم تھا، پھر بھی جب جنگ اپنے انجام کو پہنچی تو بڑی مایوسی ہوئی۔ جنگ کے نتائج سے پیدا ہونے والی ناامیدی اور مایوسی نے پہلے سے مشتعل لوگوں کو اور بھڑکا دیا، اور شاید اُس خوف کی تصویر نے، جس نے صیہونی ریاست کی گہرائیوں کو ہلا دیا تھا، لوگوں کو اس دشمن کی کمزوری پر یقین دلا دیا، جنگ کے خاتمے کے بعد، انتفاضہ کے واقعات اور سرگرمیاں زیادہ شدت اختیار کر گئیں اور یہ واضح ہو گیا کہ علاقوں میں سرگرم قوتوں کے وسیع حلقوں میں قابض افواج کے خلاف ہتھیار استعمال کرنے کا رجحان بڑھ گیا ہے، خاص طور پر ، انتفاضہ کے آغاز سے لے کر اب تک شہیدوں کی تعداد میں بڑا اضافہ ہوا ہے، اور زخمیوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ مگر علاقے مکمل طور پر ہتھیاروں سے خالی تھے، کیونکہ غزہ اور مغربی کنارے پر تقریباً دو دہائیوں سے جاری قبضے کے دوران، قبضہ کرنے والی طاقت نے منصوبہ بند طریقے سے ان علاقوں کو ہتھیاروں اور گولہ بارود سے خالی کیا، اور ہر اُس دروازے کو بند کیا جہاں سے یہ لائے جا سکتے تھے، اور اس کام میں ملوث ہر شخص کو سخت سزائیں دیں۔ لوگوں کو یہ تک معلوم نہیں تھا کہ اگر انہیں ہتھیار مل بھی جائیں تو انہیں کیسے استعمال کرنا ہے، اسی لیے کارکنان نے چاقو، خنجر، کلہاڑی اور تلواروں کے ساتھ ساتھ ڈنڈوں کا استعمال شروع کیا ، بہت کم ہی دیکھنے کو ملتا تھا کہ کوئی پستول یا پرانی کارلوستاف بندوق ہو۔

٭٭٭٭

میری ماں نے محمود ، حسن اور ابراہیم کے پاس کسی بھی ممنوعہ اشیاء کی تلاشی کے لیے اپنی تفتیشی مہمات کبھی نہیں روکیں ، جو وہ چھپانے میں ناکام رہتے تھے یا ان سے گر جاتی تھی۔ ایک دن جب وہ ابراہیم کے کمرے کی تلاشی لے رہی تھیں ، تو انہوں نے دراز کھینچا اور اس کی تلاشی لی، لیکن کچھ نہیں ملا ، دراز واپس رکھتے وقت ان کے دماغ میں آیا کہ اسے مکمل باہر نکالے، انہوں نے دراز کو مکمل باہر نکالا اور اندر سے ایک چھوٹا کارٹن کا ڈبہ چپکا ہوا دیکھا ، انہوں نے ڈبہ کھولا اور اس میں ایک پستول تھی، وہ تقریباً بے ہوش ہوگئیں، لیکن انہوں نے خود کو سنبھالا، اور اپنے ارادے مضبوط کرتے ہوئے پستول کو چھپا دیا تاکہ مریم اسے نہ دیکھ سکے۔ ابراہیم گھر پر نہیں تھا، لہذا انہوں نے اس کی بیوی سے کھل کر تفتیش شروع کی کہ اس کا شوہر اپنی چیزیں کہاں چھپاتا ہے؟ کہاں کہاں اور کیسے؟ مریم کچھ نہیں جانتی تھی اور میری ماں کے اس کے ساتھ برتاؤ پر حیران تھی۔ جب ابراہیم گھر واپس آیا تو انہوں نے اس بارے میں کوئی بات نہیں کی اور بالکل معمول کے مطابق برتاؤ کیا۔ شام کو ہمیں مریم پر چیخنے کی آواز آئی، لیکن ہم یہ نہیں سمجھ پائے کہ کیا ہو رہا ہے ، مگر جب انہوں نے یہ سنا تو وہ دوڑتی ہوئی اوپر کی منزل کی طرف گئیں، جب وہ ان کے پاس پہنچیں تو دونوں جھگڑ رہے تھے ، مریم نے پلٹ کر چیختے ہوئے کہا : مجھے نہیں معلوم یہاں کیا ہو رہا ہے ، صبح ماں مجھ سے کچھ پوچھ رہی تھی جس کا مجھے علم نہیں اور شام کو شوہر مجھ سے کچھ پوچھ رہا ہے جس کا مجھے علم نہیں۔ اور میں بالکل بے خبر ہوں جیسے دلہن کی بارات میں کوئی بہرا آدمی ہو۔

کیا میں جان سکتی ہوں میرے کمرے میں کیا ہو رہا ہے؟ وہ روتے ہوئے پھٹ پڑی ، اس کا رونا وہ بوجھ تھا جو ابراہیم کے دل سے اترگیا کیونکہ اس نے ماں کی توجہ کا بڑا حصہ مریم کو راضی کرنے اور تسلی دینے میں لگا دیا۔ ابراہیم کو پتہ چل گیا کہ وہ (ماں) ہی تھیں جنہوں نے اس کا چھپایا ہوا سامان ڈھونڈ لیا تھا۔ وہ خاموش رہا اور ماں کے بولنے کا انتظار کرنے لگا ، ماں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا : کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ تمہیں ملک چھوڑ کر باہر چلے جانا چاہیے؟ میرا دل مجھے ہمیشہ یہی کہتا رہا ہے کہ تم اپنے آپ کو، اپنی بیوی اور بیٹی کو جہنم میں دھکیل دو گے ! ابراہیم مسکراتے ہوئے بولا، اے ماں ! لگتا ہے کہ اب مجھے وہ کہنا پڑے گا جو میں نے سالوں تک نہ کہنے کی کوشش کی ۔ سنیں ! تم بھی سنو مریم، اور چونکہ میں دروازے پر پہنچ چکا تھا، اس نے مجھے بھی آواز دی، احمد تم بھی سنو : میں نے اپنا راستہ چن لیا ہے اور یہ آج کی بات نہیں ہے بلکہ سالوں پرانی بات ہے۔ میں نے اس دن سے اپنا راستہ چن لیا تھا جب میں نے سنا کہ میرا بھائی ’حسن‘ ایک یہودی عورت سے شادی کر کے تل ابیب میں رہتا ہے۔ میں نے اپنا راستہ جہاد اور مزاحمت چن لیا اور اسی پر چلتا رہا اور چلتا رہوں گا۔ مجھے اس سے کوئی چیز نہیں روک سکتی ، اسی لیے میں نے اسلامی یونیورسٹی میں پڑھنے کا فیصلہ کیا، کسی اور یونیورسٹی میں نہیں۔ اسی دن محمود مجھ سے ناراض ہوا تھا اور میں نے غزہ میں تعمیراتی کام کرنے کا انتخاب کیا، سعودی عرب یا کویت میں نوکری کرنے کے بجائے، اور میری ماں مجھ سے ناراض ہوئی تھیں۔ میں نے اپنا راستہ چن لیا ہے اور میں اس سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ اللہ گواہ ہے کہ میں تم سب سے محبت کرتا ہوں، اور میں تم سب سے دنیا کی تمام چیزوں سے زیادہ محبت کرتا ہوں، لیکن اگر تم نے مجھے میرے راستے پر چلنے سے روکا تو میں تم سب سے، یہاں تک کہ مریم اور اسراء سے بھی محبت ترک کر دوں گا اور تم سب کو چھوڑ دوں گا تاکہ میں اپنے راستے پر چل سکوں اور اپنا فرض نبھا سکوں۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور اسراء کے چھوٹے بستر سے اس کے رونے کی آواز آ رہی تھی، اور مریم اور میری ماں کی آنکھوں سے بھی آنسو بہہ رہے تھے۔ میں خود کو روک نہ سکا اور میرے گالوں پر گرم گرم آنسو بہنے لگے۔ میری ماں نے اپنے آنسو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا : تم آزاد ہو ابراہیم! اور تمہیں جو کرنا ہے اسے کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا ، اللہ تمہاری حفاظت کرے، اللہ تمہاری حفاظت کرے۔ پھر ماں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کے ساتھ سیڑھیاں اتری اور اسے اس کا پستول ایک کپڑے میں لپیٹ کر دے دیا۔

٭٭٭٭

الخلیل شہر کے ایک گھر میں ہنگامی کمیٹی کا اجلاس ہو رہا تھا جس کی سربراہی جمال کر رہا تھا ، اور اس کے دائیں طرف عبد الرحمن بیٹھے تھے جہاں وہ شہر اور آس پاس کے دیہاتوں میں انتفاضہ اور مقابلوں کو بڑھانے کی منصوبہ بندی اور ترتیب دے رہے تھے۔ وہ دو سمتوں میں کام کرنے پر متفق ہو گئے : پہلا انتفاضہ کی سرگرمیوں اور واقعات کے ونگ کو فعال کرنا اور دوسرا مسلح گروپوں اور سیلز کی تشکیل اور ان کے لیے ہتھیار جمع کرنے کا آغاز کرنا۔

اجلاس میں موجود شخص تین نوجوانوں سے ملنے جاتا ہے تاکہ انہیں مسلح جدوجہد کی تشکیل کا اعلان کرے اور کہے کہ انہیں ہتھیاروں کی تلاش، چھپنے کی جگہوں اور پناہ گاہوں کی تیاری شروع کرنی ہو گی اور اس میدان میں کام کرنے کے لیے تیار لوگوں کے نام تجویز کرنے ہوں گے۔ اسی وقت درجنوں کارکنان مختلف سمتوں میں حرکت کر رہے تھے، کارکنان اور حمایتی افراد کو منشورات تقسیم کرنے، دیواروں پر نعرے لکھنے، سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے، اور قابض فوجیوں اور بستیوں کے باشندوں کی حرکت میں رکاوٹ ڈالنے، اور انہیں پتھراؤ کے لیے مناسب جگہوں پر لانے کے لیے تحریک دے رہے تھے تاکہ نوجوان انہیں آسانی سے گھیر سکیں، پیچھے ہٹ سکیں اور چالیں چل سکیں۔

عبد الرحیم جو اپنی جوانی کے آغاز میں تھا، اپنے دو دوستوں سے صوريف کے قصبے کی مسجد میں ملتا ہے، وہ قصبے میں ہونے والی کل کی سرگرمیوں کی ترتیب دے رہے ہوتے ہیں ، صبح کی روشنی سے پہلے وہ قصبے کے گھروں اور دکانوں میں منشورات تقسیم کرنے نکلتے ہیں، دیواروں پر نعرے لکھتے ہیں، پھر رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں اور ٹائر جلاتے ہیں کیونکہ آج ہڑتال کا دن ہے جیسا کہ مزاحمتی بیان میں اعلان کیا گیا ہے، وہ نقاب پہن کر یہ سارے کام کر رہے تھے۔ ایک دن ان کے پیچھے ان کا ایک ساتھی دوڑتا ہوا آیا تاکہ وہ آئیں اور دیکھیں کہ کیا ہو رہا ہے ؟ انہوں نے پوچھا : کیا ہو رہا ہے؟ اس نے کہا : آؤ دیکھو! انہوں نے دیکھا کہ جو نعرے لکھے تھے، وہ مٹ چکے ہیں اور حماس کا نام مٹا ہوا ہے اور اس کے نیچے لکھا ہوا ہے ’’مخبروں سے بچو، حماس غاصب کے لیے مخبر ہے‘‘ ، انہوں نے پوچھا : یہ کون کر رہا ہے؟ اس نے کہا : آؤ میرے پیچھے۔ انہوں نے دیکھا کہ الجبھۃ الیساریۃ کے تین نوجوان یہ کر رہے ہیں۔ اس خوف سے کہ ان کا راز فاش نہ ہو جائے، انہوں نے اپنے ساتھ لاٹھیاں اور کلہاڑیاں لیں اور اپنے ہدف کی طرف نکل گئے ، وہ تینوں انہیں مل گئے، انہوں تینوں کو کئی تھپڑ مارے اور تینوں بھاگ گئے۔ انہوں نے ان کا پیچھا کیا اور ان کی گلیوں تک پہنچ گئے اور گلی کو محاصرے میں لے لیا ، بڑے بوڑھوں نے آ کر نوجوانوں کی صلح کرائی اس شرط پر کہ ان کے بیٹے دوبارہ ایسا نہ کریں۔

٭٭٭٭

صوريف گاؤں سے روزانہ دو بسیں نکلتی تھیں جو صفائی، باغبانی، مرمت اور دیگر کاموں کے لیے القدس بلدیہ میں کام کرنے والے مزدوروں سے بھری ہوتی تھیں ، یہ بسیں اسرائیلی تھیں ، نوجوانوں نے انہیں اپنا ہدف بنایا ، صبح انہوں نے گھات لگا لی اور ان کے پہنچتے ہی ان پر پتھراؤ کیا، جس سے ان کے شیشے ٹوٹ گئے اور انہیں مزدوروں کے بغیر واپس جانا پڑا۔

جب یہ کئی دن تک ہوتا رہا اور القدس بلدیہ کے پاس ان مزدوروں کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہا، تو دو فوجی جیپیں ان کی حفاظت کے لیے آنے لگی۔ ایک سامنے اور ایک پیچھے ،اس سے نوجوانوں کے لیے فوجیوں پر حملہ کرنے کا موقع اور بھی مل گیا۔ اسی طرح روزانہ صبح چھ بجے سے مقابلے شروع ہو جاتے اور کبھی کبھار گھنٹوں تک جاری رہتے۔ آخرکار اسرائیلی کمپنی نے، جس کی بسیں تھی ، جب ان کی دو بسیں جلا دی گئی تو اپنا کام جاری رکھنے سے انکار کر دیا۔ پھر ایک عرب کمپنی سے دو بسیں کرائے پر لی گئیں اور پتھراؤ جاری رہا، اس لیے فوجی حفاظت کا انتظام کرنا پڑا کیونکہ بلدیہ کو مزدوروں کی ضرورت تھی۔ مقابلے جاری رہے ، کبھی کبھار جب عبد الرحیم اور اس کے ساتھی اس سے مطمئن نہ ہوتے، تو وہ بیت شیمش جانے والی شاہراہ پر چلے جاتے ، جہاں وہ اسرائیلی گاڑیوں پر پتھراؤ کرتے، ان کے شیشے توڑ دیتے اور سڑک پر ٹریفک کو معطل کر دیتے۔ قابض فوج آتی، وہ ان پر پتھراؤ کرتے اور پہاڑوں میں بھاگ جاتے جنہیں وہ اپنے گھروں کی طرح جانتے تھے اور باقی دن وہیں کھیلتے اور دوڑتے رہتے۔

٭٭٭٭

مقابلے بڑھتے جا رہے تھے، سرگرمیاں تیز ہو رہی تھیں، شہداء کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی اور زخمیوں کی تعداد ہر تصور سے زیادہ تھی۔ قابض باز نہیں آ رہا تھا اور دنیا خاموش تھی۔ ایک مظاہرے کے دوران جو مسجد الاقصیٰ میں ہوا، قابض افواج نے مظاہرین پر ہیلی کاپٹروں کی مدد سے بھاری مشین گنوں کا استعمال کرتے ہوئے حملہ کیا جس سے درجنوں شہداء اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ ردِ عمل کے خوف سے علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ۔ کرفیو کے دوران ایک نوجوان لڑکے کے دل میں انتقام لینے کا عزم پیدا ہوا ، اس نے اپنی چھری کو تیز کیا اور انتظار کرنے لگا۔ کرفیو ہٹتے ہی پہلے دن وہ اپنی چھری کو کھانے کے سامان میں چھپا کر بس میں سوار ہو گیا جیسے وہ کام پر جانے کے لیے یروشلم جا رہا ہو۔ وہ اپنے کام کی جگہ سے دور اتر گیا تاکہ مناسب ہدف تلاش کر سکے۔ وہ ایک کنیسا کی جانب قدم بڑھانے لگا جس میں کچھ یہودی عبادت گزار تھے۔ اس کے ذہن میں پہلی بار خیال آیا کہ الاقصیٰ کے قتل عام کا جواب یہاں مناسب ہو گا، لیکن وہ اس خیال سے پیچھے ہٹ گیا کیونکہ وہ عبادت گاہ میں داخل ہو کر عبادت گزاروں کو قتل کرنے والا نہیں تھا۔

وہ آگے بڑھا اور ایک آدمی کو دیکھا، اور اپنی چھری نکال کر اس پر کئی وار کر دیے، آدمی مر گیا، وہ آگے بڑھا اور ایک فوجی عورت کو دیکھا جو فوجی وردی میں تھی، اس پر بھی کئی وار کیے اور وہ بھی مر گئی۔ لوگ اس کی طرف متوجہ ہو گئے اور شور مچانے لگے۔ ایک خصوصی فورس کا فوجی اپنے ہتھیار کے ساتھ اس کے سامنے آیا اور پستول اس کے چہرے پر تان کر رکنے اور چھری پھینکنے کا حکم دیا، لیکن وہ اس کی طرف بڑھتا رہا، فوجی کے ہاتھ کانپنے لگے اور اس نے دونوں ہاتھوں سے گن کو پکڑ لیا، کانپتے ہاتھوں کے ساتھ گولی چلائی جو اس کی ٹانگوں میں جا لگی۔ عامر کے پیروں میں تین گولیاں لگیں اور خون بہنے لگا، لیکن وہ آگے بڑھتا رہا، فوجی کا ہتھیار اور وردی بھی اس کے قدموں کو سنبھالنے کے قابل نہیں رہے، اور وہ گر گیا، عامر کے لیے دو یا تین قدم باقی تھے، وہ اپنی ٹانگوں کو، جو ایسے ہو گئی تھیں جیسے زمین میں گڑی ہوئی ہوں، دھکیلتا ہوا آگے بڑھنے کی کوشش کرنے لگا لیکن ناکام رہا۔ فوجی کانپتا رہا اور جب عامر کو یقین ہو گیا کہ وہ آگے نہیں بڑھ سکے گا، تو اس نے اپنے وزن کو آگے کی طرف گرایا ہے اور فوجی کو ایک وار، دوسرا وار اور پھر تیسرا وار کریا۔ فوجی مر گیا، اور عامر کو گرفتار کر لیا گیا۔

٭٭٭٭

دو نوجوان جو کہ اپنی بیس کی دہائی کے آغاز میں تھے، مسجد المخيم میں ابراہیم کے پاس گئے ، انہوں نے مسجد کے ایک کونے میں اس کے ساتھ بیٹھ کر کچھ وقت بات چیت کی، پھر صبح سویرے اس سے رخصت ہو گئے، ابراہیم اپنی گاڑی میں ان کا انتظار کر رہا تھا تاکہ انہیں کام پر جانے والی گاڑیوں کے اسٹینڈ تک لے جائے۔ اس نے ہر ایک کو کھانے کا ایک تھیلا دیا اور انہیں نصیحت کی کہ احتیاط سے رہیں۔ نوجوان ایک دوسری گاڑی میں سوار ہو گئے جو 1948ء میں قبضہ کی گئی زمینوں کے اندر کام کرنے والے مزدوروں کو لے جاتی تھی۔ پھر وہ یافا پہنچ گئے جہاں وہ ورکشاپ کے دروازے پر پہنچ کر مالک اور دوسرے مزدوروں کا انتظار کرنے لگے۔ ایک شخص آیا اور اس نے دروازہ کھولا، وہ دونوں اس کے پیچھے پیچھے اندر چلے گئے اور اپنے چاقو نکال کر اسے مارنے لگے، جب دوسرے مزدور آئے، تو انہیں بھی قتل کر دیا، جب مالک آیا تو اسے بھی قتل کر دیا۔ پھر انہوں نے اس جگہ سے نکلنے کا فیصلہ کیا، لیکن اس سے پہلے ان میں سے ایک نے دیوار پر سپرے پینٹ سے ’’حماس کی سالگرہ کے موقع پر اور ہمارے بہادر شہداء کی روحوں کے نام‘‘ لکھا اور پھر وہاں سے چلے گئے۔

ایک اور نوجوان نے اپنے ایک چچا زاد سے رابطہ کیا جو یہودیوں کی گاڑیاں چوری کرتا تھا اور انہیں پرزوں میں تقسیم کر کے بیچتا تھا۔ اس نے صبح فجر کی نماز کے بعد اس سے ایک بڑی اور بھاری گاڑی لی اور تل ابیب کے علاقے میں تل ہاشومیر ہسپتال کے سامنے لے گیا۔ وہاں ایک بس اسٹاپ پر بہت سے فوجی کھڑے تھے، اس نے گاڑی کی رفتار بڑھا دی اور اسے اسٹاپ کی طرف موڑ دیا، جس سے تین فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ یہ واقعات تسلسل کے ساتھ جاری رہے۔

ایک نوجوان نے چاقو سے بس اسٹیشن پر بیٹھے ہوئے کئی لوگوں پر حملہ کر دیا جس میں چار افراد مارے گئے ، دوسرے نے اسکول سے باہر نکلتے ہوئے طلباء پر کلہاڑی سے حملہ کر دیا جس میں ایک شخص ہلاک اور کئی زخمی ہوئے ، تیسرا اور چوتھا، درجنوں واقعات نے سیاست دانوں اور اسرائیلی فوجی حکام کو ’چاقو کی جنگ‘ کے بارے میں بات کرنے پر مجبور کر دیا اور ان کے معاشرے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ان میں سے چند افراد نے دشمن کے رہائشی علاقوں میں جنگ کو منتقل کرنے میں کامیابی حاصل کی اور ان کے افراد کو ہلاک کیا۔ نہ صرف ان کے شہیدوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا تھا بلکہ وہ دنیا کے ضمیر کے جاگنے کا انتظار بھی کر رہے تھے ، جو خود گندگی میں ڈوبا ہوا ہے۔ ہتھیار حاصل کرنے کی جستجو ختم نہیں ہوئی اور یہ بہت سے لوگوں کے لیے ایک جنون بن گیا۔

ایک نوجوان نے ابراہیم کو اطلاع دی کہ ان کے علاقے میں ایک مخبر ہے جس کے پاس ہتھیار ہے، اور وہ روزانہ مقررہ وقت پر اسے لے کر آتا جاتا ہے ، اس نے تجویز دی کہ اس پر حملہ کر کے اسے قتل کیا جائے اور اس کا ہتھیار چھین لیا جائے۔ اس نے وضاحت کی کہ اسے گھات لگا کر مارا جا سکتا ہے اور وہ ایسا کر سکتا ہے اور نوجوان اس کے لیے تیار ہیں۔ ابراہیم نے اسے انتظار کرنے کو کہا تاکہ وہ اس کے لیے ایک پستول کا انتظام کرے کیونکہ دوسری ٹیم نے ایک پستول لے لیا تھا تاکہ کسی آپریشن کو انجام دے سکے۔ سات نوجوان چہرے ڈھانپ کر اس مخبر کے گزرنے والے راستے پر گھات لگا کر بیٹھ گئے ، اس کی گاڑی کے راستے میں ایک گاڑی کھڑی کر دی گئی جیسے ہی وہ رکی، ان میں سے چند نے اس پر چاقو سے حملہ کر دیا ، اسے زخمی کر دیا لیکن اس نے جلدی سے اپنے ایک ہاتھ سے ’عوزی‘ گن نکال کر نوجوانوں پر گولیاں چلانا شروع کر دیں اور دوسرے ہاتھ سے گاڑی کو پاگلوں کی طرح چلانے لگا۔ وہ گاڑی موڑ کر حملہ آوروں سے دور لے گیا، ایک نوجوان شہید ہو گیا اور ’’عماد‘‘ نے ، جس سے ابراہیم کی ملاقات ’نقب‘ جیل میں ہوئی تھی، ابراہیم کے پاس واپس جا کر اسے ساری بات بتائی، اس کی آنکھ سے آنسو گر رہے تھے اور اس نے قسم کھائی کہ وہ رات کو نہیں سوئے گا جب تک کہ وہ ان کے لیے ایک ہتھیار نہ لے آئے۔ وہ اپنی گاڑی میں بیٹھا اور رفح کے لیے روانہ ہو گیا، جہاں وہ ایک نوجوان سے ملا اور اس سے ایک اور شخص کے بارے میں پوچھا، اس تیسرے شخص اسے انتظار کرنے کو کہا اور ایک گھنٹے بعد ایک بوری میں لپیٹی ہوئی چیز کے ساتھ واپس آ گیا۔ اس نے اسے گاڑی میں رکھا اور جب بوری کھولی تو اسے ایک کلاشنکوف رائفل ملی، اس نے اسے ماتھے پر چوما اور واپس روانہ ہوگیا جہاں عماد اس کا انتظار کر رہا تھا۔ اس نے عماد کو بوری دیتے ہوئے کہا کہ اب آپ محفوظ طریقے سے کام کر سکتے ہیں ۔ عماد اسے لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس روانہ ہو گیا، جو اسے ایک سنسان علاقے میں لے گئے تاکہ اس کی جانچ کر سکیں اور اس کا استعمال سیکھ سکیں۔ کیونکہ یہ پہلی بار تھا کہ ان کے ہاتھ میں بندوق آئی تھی، انہوں نے بار بار کوشش کی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا، عماد ابراہیم کے پاس واپس چلا گیا اور شکایت کی کہ بندوق ٹھیک نہیں ہے۔ ابراہیم بندوق لے کر ایک ایسے نوجوان کے پاس چلا گیا جو اسلحے کے بارے میں جانتا تھا اور تجربہ رکھتا تھا۔ نوجوان نے بندوق کو دوبارہ چیک کیا اور کھولا اور پھر ابراہیم سے کہا کہ یہ درست ہے کہ بندوق خراب ہے کیونکہ اس کی سوئی ٹوٹی ہوئی ہے اور اسے نئی سوئی کی ضرورت ہے۔ ابراہیم نے پوچھا کہ ہم ایسی سوئی کہاں سے لائیں؟ نوجوان نے جواب دیا کہ آپ کو ایک خراطی کی ورکشاپ اور برادہ کی ضرورت ہے، تاکہ ایک نئی بنا سکیں۔ ابراہیم نے اس کا شکریہ ادا کیا اور روانہ ہو گیا، کیونکہ حل آسان تھا۔ ’’حسن‘‘ کی ایک ورکشاپ تھی جو یہ کام کر سکتی تھی۔ وہ حسن کی ورکشاپ چلا گیا، بندوق کو چھپا کر اور اس کا مطلوبہ حصہ لے کر کافی محنت اور کوشش کے بعد ایک متبادل سوئی تیار کر لی گئی، اسے آزمائش کے لیے لے جایا گیا تو پتہ چلا کہ یہ اب بھی مکمل طور پر مناسب نہیں ہے۔ کافی دیر ہو چکی تھی، اور دوبارہ ورکشاپ جانا شک پیدا کر سکتا تھا اور مسائل کھڑے کر سکتا تھا، لہذا یہ کام اگلے دن پر ٹال دیا گیا۔

اگلے دن دوبارہ کوشش کی، آزمائش کی، اور پھر ترمیم کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اس طرح ورکشاپ سے تجرباتی مقام تک کئی مرتبہ آنا جانا ہوتا رہا، یہاں تک کہ بندوق ٹھیک ہو گئی، لیکن اب ایک نیا مسئلہ سامنے آ گیا، موجودہ گولیاں تربیت یا کسی کارروائی کے لیے ناکافی تھیں، اور یہ واحد بندوق تھی جو کئی گروپوں میں مختلف علاقوں میں گردش کر رہی تھی۔ ابراہیم کے پاس موجود واحد پستول کے ساتھ دو نوجوان نکلے، ایک پیجو (404) گاڑی چلا رہا تھا جو علاقے میں عام تھی، اور دوسرا اس کے ساتھ بیٹھا تھا۔ انہوں نے غزہ کے وسطی علاقے میں مغرب کی جانب دیر البلح کے مدخل کے قریب، جہاں کفار داروم نامی بستی تھی، ایک بڑے آبادکار کی گاڑی کو دیکھا جو بستی کے زرعی علاقے کا معائنہ کر رہی تھی۔ گاڑی ایک اشارے پر رک گئی، اور وہ اس کے قریب پہنچ گئے، تقریباً ایک فٹ کے فاصلے سے، اس کے ساتھی نے آبادکار کے سر پر ایک گولی مار دی، اور وہ فوراً ہلاک ہو گیا، اور گاڑی روانہ ہو گئی جبکہ دوسری طرف درجنوں فوجی جیپوں نے علاقے کا محاصرہ کر لیا لیکن انہیں یہ احساس بھی نہیں ہوا کہ مجرم ان کے درمیان سے چند لمحے پہلے ہی گزر چکے ہیں۔

ابراہیم اور دوسرے لوگ کسی بھی ایسی خبر کی تلاش میں تھے جس سے پتہ چلے کہ کسی کے پاس کوئی ہتھیار ہے یا کبھی تھا، چاہے وہ کتنا ہی پرانا کیوں نہ ہو۔ انہیں خبر ملی کہ ایک بوڑھے شخص کے پاس ایک کارلوگسٹاف رائفل تھی اور اس نے اسے اسرائیلی قبضے کے دنوں سے چھپایا ہوا تھا۔ وہ اس کے پاس گئے اور اس کی منتیں کرنے لگے، اور ابراہیم نے اس کے سر اور ہاتھوں کو چوما، اسے منہ مانگی رقم دینے کی پیشکش کی، مگر اس شخص نے انکار کر دیا کہ اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔

وہ لوگ وہاں سے جانے لگے تو اس شخص انہیں واپس بلا لیا، ان کے ساتھ ایک قریبی باغیچے میں چلا گیا، ایک درخت کے نیچے زمین کھودی، اور ایک سیمنٹ کا پائپ نکالا جو مٹی سے بھرا ہوا تھا۔ اس نے مٹی خالی کی، اور اس میں سے ایک چیز نکالی جو پلاسٹک میں لپٹی ہوئی تھی، اس نے پلاسٹک کو پھاڑا، اس کے نیچے کپڑے کی بوری تھی، اس نے بوری اٹھائی تو اس کے نیچے ایک کپڑا تھا، پھر اس نے کپڑا اٹھایا تو اس کے نیچے ایک بندوق لپٹی ہوئی تھی جو لمبے کپڑے کے ساتھ بندھی ہوئی تھی، اور اس پر زنگ یا نمی سے بچاؤ کے لیے چربی لگی ہوئی تھی۔ اس کے باوجود جب اس نے سب کچھ ہٹایا تو زنگ نے اس پر اثر ڈالنا شروع کر دیا تھا، مگر وہ ابھی بھی اچھی حالت میں تھی، بلکہ بہترین حالت میں تھی۔ ابراہیم جو بے تاب تھا اس نے کہا : ’’آپ اس کا کیا معاوضہ چاہتے ہیں؟ بابا ! آپ کتنی رقم لیں گے؟ بوڑھے کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور وہ کہنے لگا کہ اس کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ ابراہیم نے پوچھا کہ کتنی قیمت ہے؟ بوڑھے شخص نے کہا کہ اسے خدا کے نام پر قبضے کے خلاف استعمال کرو کیونکہ اسے چھپانے اور انٹیلی جنس کو نہ دینے کی قیمت میں نے کئی مہینے تحقیق میں گزارے ہیں اور سال جیل میں۔ ابراہیم نے اس کے سر کو چوما اور کہا کہ وہ خدا کے حکم سے ایسا ہی کریں گے، اور اس سے دعا کی درخواست کی، اور روانہ ہو گئے اور بوڑھے شخص نے آسمان کی طرف دیکھ کر دعا کی کہ خدا ان کی مدد کرے اور ان کے نشانے کو درست کرے۔

ایک اور نیا مرحلہ شروع گیا، گولہ بارود کی تلاش کا۔ ایک شخص سے دوسرے شخص تک، جو تیسرے شخص کو پہنچاتا، پھر چوتھے تک، پانچویں تک، چھٹے شخص کے پاس چند گولیاں ملتیں جو دس سے زیادہ نہیں ہوتیں۔ ایک شخص سے دوسرے شخص تک، تیسرے چوتھے تک، پانچ گولیاں ملتیں، اور اس طرح ایک ڈیڑھ میگزین بھرنے کے لیے گولیاں اکٹھی ہو گئیں۔

پھر ایک نیا مرحلہ شروع ہوا اسلحہ کے استعمال کے ماہر کی تلاش کا۔ یہ مرحلہ ایک نوجوان کے ملنے پر ختم ہوا جو حال ہی میں بیرون ملک سے تعلیم حاصل کر کے آیا تھا اور اس دوران اس نے ایک فوجی تربیتی کورس بھی کیا تھا۔ اس نے تربیت دینے اور حصہ لینے کے لیے اپنی رضامندی ظاہر کی۔ ابراہیم کے ساتھ اس نے اگلے دن عمر مختار سٹریٹ پر نامعلوم سپاہی کی یادگار کے پاس ملاقات طے کی۔ ابراہیم اسے وہاں سے لے کر ایک باغیچے میں لے گیا جہاں چار نوجوان تربیت کے انتظار میں تھے، وہ انہیں فائرنگ کی مختلف پوزیشنز اور دیگر متعلقہ باتیں سمجھانے لگا۔

عماد کارلوگسٹاف تھامے ہوئے تھا، اسے اپنے ہاتھوں میں گھما رہا تھا اور خوشی سے پھولا نہیں سما رہا تھا۔ ایک نوجوان آگے بڑھا تاکہ لیموں کے درخت کے تنے پر نشان لگا سکے، جس پر نشانہ لگانا تھا۔ عماد نے بندوق کو لوڈ کیا اور نشانہ لگایا، لیکن کئی گولیاں اس کے ہاتھ سے نکل کر قریب سے گزر گئیں جو کچھ کی موت کا سبب بن سکتی تھیں۔ اس واقعے سے ماحول میں انتشار اور تناؤ پیدا ہوا، لیکن کچھ وقت بعد سکون بحال ہوا اور کچھ نے مزید احتیاط کے ساتھ تربیت جاری رکھی۔ ہر ایک کو صرف ایک گولی چلانے کی اجازت تھی کیونکہ گولیاں محدود تھیں۔ اور کئی گولیاں ضائع ہو چکی تھیں۔ اب طے پایا کہ ایک گروپ چاقوؤں کے ساتھ نکلے گا اور ایک کے پاس ہنگامی حالات کے لیے ایک رائفل ہو گی، جس سے معاملات میں ایک بڑی تبدیلی آئے گی ۔

ایک گروپ کے کئی نوجوان ناخن کاٹنے والی قینچیوں سے ماچس کی تیلیوں کے سروں کو کاٹ رہے تھے اور انہیں ایک ڈبے میں جمع کر رہے تھے ، ایک اور نوجوان ایک نئی دھاتی ڈبیا تیار کر رہا تھا، لیکن وہ اسے آری سے لمبائی اور چوڑائی میں کاٹ رہا تھا تاکہ اس کی مضبوطی کو کم کر سکے اور اسے ٹکڑوں اور چھوٹے حصوں میں تبدیل کر سکے جو دھماکے کے وقت آسانی سے بکھر جائیں ، وہ اس ڈبے کو ماچس کی تیلیوں کے سروں سے بھر رہے تھے اور اس میں ٹنگسٹن کی تار1ٹنگسٹن کی تار (Tungsten Filament) عام طور پر بلبوں اور دیگر برقی آلات میں استعمال ہوتی ہے، ٹنگسٹن ایک دھات ہے جو اپنی مضبوطی اور زیادہ درجہ حرارت اور دیگر خصوصیات کے لئے مشہور ہے ، اس کی تار کو بلب کے اندر استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ یہ زیادہ درجہ حرارت پر نہیں پگھلتی اور روشنی پیدا کرنے کے لیے کافی گرم ہو سکتی ہے ، جب بلب میں برقی رو گزرتی ہے، تو ٹنگسٹن کی تار گرم ہو جاتی ہے اور سفید روشنی پیدا کرتی ہے ، یہ عمل ’’فلامنٹ‘‘ کہلاتا ہے اور یہ بلب کے روشن ہونے کا بنیادی اصول ہے۔ ٹنگسٹن کی یہ خصوصیات اسے بلب اور دیگر برقی آلات کے لئے ایک بہترین انتخاب بناتی ہیں۔ ڈال رہے تھے جو ایک بجلی کے بلب سے نکالی گئی تھی، جس کا شیشہ احتیاط سے توڑا گیا تھا۔ اس کے دونوں سرے باہر نکال کر اس ڈبے کو بند کر دیا گیا تھا اور ایک تار کے ساتھ جوڑا گیا تھا۔

باقی نوجوان کچھ ٹائروں کو جلا رہے تھے اور دھماکہ خیز مواد کے مقام سے چند میٹر دور بیریئرز لگا رہے تھے ، جب گشتی گاڑی پہنچی، تو انہیں پتھر مارنے لگے ، گاڑی سے ان پر گولیاں چلنے لگیں اور وہ پیچھے ہٹنے لگے۔ جب گشتی گاڑی دھماکہ خیز مواد کے مقام تک پہنچی، عماد نے تاروں کو بیٹری کے قطبوں سے جوڑا ، ایک زوردار دھماکہ ہوا اور گاڑھا دھواں اٹھا۔ سپاہیوں کی چیخ و پکار بلند ہو گئی اور نوجوان علاقے سے نکل گئے جب کہ بڑی تعداد میں کمک اور ایمبولینس زخمیوں کو لے جانے کے لیے پہنچ گئی جن کی چیخیں اور کراہیں بلند ہو رہی تھیں ۔

(جاری ہے، ان شاء اللہ)

٭٭٭٭٭

1

  • 1
    ٹنگسٹن کی تار (Tungsten Filament) عام طور پر بلبوں اور دیگر برقی آلات میں استعمال ہوتی ہے، ٹنگسٹن ایک دھات ہے جو اپنی مضبوطی اور زیادہ درجہ حرارت اور دیگر خصوصیات کے لئے مشہور ہے ، اس کی تار کو بلب کے اندر استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ یہ زیادہ درجہ حرارت پر نہیں پگھلتی اور روشنی پیدا کرنے کے لیے کافی گرم ہو سکتی ہے ، جب بلب میں برقی رو گزرتی ہے، تو ٹنگسٹن کی تار گرم ہو جاتی ہے اور سفید روشنی پیدا کرتی ہے ، یہ عمل ’’فلامنٹ‘‘ کہلاتا ہے اور یہ بلب کے روشن ہونے کا بنیادی اصول ہے۔ ٹنگسٹن کی یہ خصوصیات اسے بلب اور دیگر برقی آلات کے لئے ایک بہترین انتخاب بناتی ہیں۔ ↩︎
Previous Post

ہوئے تم دوست جس کے……

Next Post

چمن میں آئے گی فصلِ بہاراں ہم نہیں ہوں گے!

Related Posts

اِک نظر اِدھر بھی! | جولائی 2025
دیگر

اِک نظر اِدھر بھی! | ستمبر 2026

8 اکتوبر 2026
نوائے امارت اسلامیہ (اگست ۲۰۲۶ء)
افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ

نوائے امارت اسلامیہ (ستمبر ۲۰۲۶ء)

8 اکتوبر 2026
اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْن
نقطۂ نظر

اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْن

8 اکتوبر 2026
چمن میں آئے گی فصلِ بہاراں ہم نہیں ہوں گے!
جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!

چمن میں آئے گی فصلِ بہاراں ہم نہیں ہوں گے!

8 اکتوبر 2026
ہوئے تم دوست جس کے……
عالمی منظر نامہ

ہوئے تم دوست جس کے……

8 اکتوبر 2026
غزہ جلتا رہا، ضمیر سوتا رہا!
طوفان الأقصی

غزہ جلتا رہا، ضمیر سوتا رہا!

8 اکتوبر 2026
Next Post
چمن میں آئے گی فصلِ بہاراں ہم نہیں ہوں گے!

چمن میں آئے گی فصلِ بہاراں ہم نہیں ہوں گے!

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

ستمبر و اکتوبر 2026ء
ستمبر و اکتوبر 2026ء

ستمبر و اکتوبر 2026ء

by ادارہ
8 اکتوبر 2026

Read more

تازہ مطبوعات

تر ټولو وړاندې امریکا!
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

تر ټولو وړاندې امریکا!

مرکزی خیال: شهید شیخ احسن عزیز لیکوال: معین الدِّین شَامی ژباړن: عماد الدین خالد   ډاونلوډ کړی    

اکتوبر, 2026
یہ غزہ ہے
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

یہ غزہ ہے

تالیف: فضیلۃ الشیخ محمد صلاح الدین زیدان (سیف العدل)   ڈاؤن لوڈ کریں    

ستمبر, 2026
د شام د جهاد درسونه
مطبوعات حطین

د شام د جهاد درسونه

د فضيلة الشیخ ایمن الظواهري بیان «فَلْنُقَاتِلْھُمْ بُنْیَانًا مَّرْصُوْصًا» له سریزې او حاشیو سره له سریزې او حاشیو سره   ...

ستمبر, 2026
گیارہ ستمبر کے بابرکت حملے: حقائق و شبہات
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

گیارہ ستمبر کے بابرکت حملے: حقائق و شبہات

گیارہ ستمبر کے بابرکت حملوں سے متعلق شبہات اور سازشی نظریات کا رد مصنف: نعمان حجازی   ڈاؤن لوڈ کریں ...

ستمبر, 2026
سب سے پہلے امریکہ
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

سب سے پہلے امریکہ

مرکزی خیال: الشیخ الشہید احسن عزیز ترتیبِ جدید: معین الدِّین شَامی   ڈاؤن لوڈ کریں    

ستمبر, 2026

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اسوۂ حسنہ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • عالمی جہاد
  • ناول و افسانے
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اسوۂ حسنہ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version