نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اسوۂ حسنہ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اسوۂ حسنہ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home دیگر

اِک نظر اِدھر بھی! | ستمبر 2026

by خباب ابن السبیل
in ستمبر و اکتوبر 2026ء, دیگر
0

امریکی فوجی خاندانوں کے اسکولوں میں مغربی تہذیب اور عیسائیت پر مرکوز نیا کورس

ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق Department of Defense Education Activity  تقریباً 160 اسکول چلاتا ہے جو 11 ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں اور تقریباً 70 ہزار طلبہ کو تعلیم دیتے ہیں جو فعال ڈیوٹی والے فوجیوں یا سویلین سروس ممبرز کے بچے ہیں۔ ان اسکولوں میں مغربی تہذیب اور عیسائیت پر مرکوز ایک کورس متعارف کروایا جا رہا ہے۔ یہ دفاعی وزیر پیٹ ہیگ سیٹھ کی اس کوشش کا حصہ ہے جس کے تحت تعلیمی نظام کو حب الوطنی کی اقدار اور روایتی تعلیم کی طرف موڑا جا رہا ہے۔ مغربی تہذیب کا یہ کورس Encounter Books نامی قدامت پسند پبلشنگ ہاؤس کی شائع کردہ کتاب استعمال کرے گا جس کا عنوان ہے ’’The Golden Thread: A History of the Western Tradition, Volume I: The Ancient World and Christendom‘‘۔ اس میں ہلز ڈیل کالج (میشیگن کی ایک قدامت پسند عیسائی یونیورسٹی) کے ساتھ مل کر تیار کردہ سبق کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ تاریخ دانوں اور ماہرین تعلیم نے کتاب کے اقتباسات کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا کو بتایا کہ اس میں تاریخ کے بعض نکات کو گمراہ کن طریقے سے پیش کیا گیا ہے، مغربی تہذیب اور عیسائیت کو ایک ہی چیز قرار دیا گیا ہے اور اسلام کو دونوں کے لیے خطرہ دکھایا ہے۔ ییل یونیورسٹی کے تاریخی سماجیات کے پروفیسر فل گورسکی نے کہا: ’’آپ کو سوچنا پڑے گا کہ آیا مغربی تہذیب روایتی عیسائی تعلیم کے لیے ایک ٹروجن ہارس تو نہیں‘‘۔ یہ کورس محکمہ دفاع کے اسکولوں میں وسیع تر تبدیلیوں کا حصہ ہے۔ ان میں کلاسیکل لرننگ کے اساتذہ بھرتی کیے جا رہے ہیں اور نئے تعلیمی سربراہان لائے گئے ہیں جن کے تعلقات کلاسیکل لرننگ چارٹ اسکولوں اور ریپبلکن قیادت حب الوطنی کی تعلیم کو فروغ دینے کی کوششوں سے ہے۔

پینٹاگون کے نظام میں ہائی اسکول کے طلبہ نیا کورس ’’Western Civilization to 1500‘‘ لے سکتے ہیں جو عالمی تاریخ کی گریجویشن کی ضرورت پوری کرتا ہے۔ یہ کورس محکمہ کے ورچوئل اسکول کے ذریعے پیش کیا جاتا ہے۔ کتاب اسلام کو عیسائیت سے فطری طور پر زیادہ تشدد پسند قرار دیتی ہے۔ قرون وسطیٰ کے ایک باب میں عربوں کو عیسائیوں اور یہودیوں کے خلاف  تلخ دکھایا گیا ہے۔’’Holy War and Martyrdom in Battle‘‘ کے عنوان والے حصے میں کتاب عیسائیوں کی لڑی گئی جنگوں (جیسے صلیبی جنگیں) کو دوسرے عیسائیوں کے دفاع اور تحفظ کے لیے قرار دیتی ہے۔ اس کے برعکس اسلام تشدد اور جنگ کو عظمت دیتا ہے، کتاب سات اکتوبر کے حماس کے حملوں اور گیارہ ستمبر کا حوالہ دیتی ہے۔ ورجینیا ٹیک کے تاریخ اور مذہب کے پروفیسر میتھیو گیبریئل نے کہا کہ کتاب صلیبی جنگوں اور اسلامی دنیا کے ساتھ تنازعات کی تفصیل سے اہم تفصیلات اور سیاق و سباق نکال دیتی ہے تاکہ اسلام کو جارحانہ مذہبی روایت کا حامل دکھایا جا سکے اور عیسائی چرچ کے مذہبی محرکات اور تشدد کو کم دکھایا جائے۔ اس کے ذریعے 21ویں صدی میں پیش آنے والے واقعات کا مسلسل حوالہ دے کر معاصر سیاسی نقطہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے فوج کے تعلیمی آلات کو امریکی اسکولوں کے اپنے وسیع تر ویژن کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔ امریکی فوجی اکیڈمیوں کے داخلہ دفاتر اب Classical Learning Test قبول کرتے ہیں، جو SAT کا کلاسیکل متبادل ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ یہ سوال بہرحال موجود ہے کہ ان اقدامات کے اصل مقاصد کیا ہیں اور کیا یہ امریکہ کی شکست خوردگی کی علامت تو نہیں جسے چھپانے کے لیے اسے یہ تجربے کرنے پڑ رہے ہیں؟

اے آئی کا پیٹ بھرنے کے لیے کتابیں تلف کی جانے لگیں، علمی ذخائر کو ٹیکنالوجی سے نیا خطرہ

مصنوعی ذہانت کو زیادہ بہتر بنانے کے لیے پرانی اور نایاب کتابوں کی بڑے پیمانے پر خریداری اور پھر ان علمی اثاثوں کو تلف کر دیے جانے کے معاملے نے دنیا بھر کے کتب فروشوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ کتابیں خریدنے کے بعد ان کی جلدیں کاٹ کر صفحات سکین کیے جاتے ہیں اور اصل کتابیں تلف یا ری سائیکل کر دی جاتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اے آئی کو تربیت دینے کے لیے آخر لاکھوں کتابوں کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے اور کیا اس عمل سے انسانی علمی ورثے کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے؟ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران برطانیہ، آئرلینڈ اور یورپ کے دیگر حصوں میں پرانی کتابوں کے کاروبار سے وابستہ افراد نے ایسے غیر معمولی آرڈرز کی نشاندہی کی ہے جن میں بیک وقت ہزاروں کتابیں خریدنے کی درخواستیں موصول ہوئیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کتابوں کا موضوع بھی ایک جیسا نہیں تھا بلکہ بعض آرڈرز میں انتہائی نایاب یا مخصوص علمی کتابیں شامل تھیں تو بعض میں ایسے پرانے ناول اور غیر معروف عنوانات بھی موجود تھے جن کی عام مارکیٹ میں طلب بہت کم ہے۔ کسی مقبول ناول کی لاکھوں کاپیوں میں سے ایک کاپی ضائع ہونا شاید بہت بڑا نقصان نہ ہو لیکن اگر کسی تاریخی، علمی یا نایاب ایڈیشن کی آخری چند کاپیوں میں سے ایک بھی تلف ہو جائے تو نقصان صرف ایک کتاب کا نہیں بلکہ ثقافتی ورثے کا ہو سکتا ہے۔ اس بحث کا سب سے نمایاں حوالہ اے آئی کمپنی اینتھروپک کا خفیہ منصوبہ ہے جسے عدالتی دستاویزات میں پروجیکٹ پاناما کا نام دیا گیا۔ دستاویزات کے مطابق کمپنی نے بڑی تعداد میں استعمال شدہ کتابیں حاصل کر کے انہیں سکین کیا اور اصل کتابوں کو تلف کیا تاکہ اپنے اے آئی ماڈلز جن میں چیٹ بوٹ کلاڈ بھی شامل ہے کے لیے بڑے پیمانے پر تربیتی مواد تیار کیا جا سکے۔ اینتھروپک نے ایسے مقدمے میں 1.5 ارب ڈالر کے تصفیے پر بھی اتفاق کیا جس میں مصنفین نے الزام عائد کیا تھا کہ کمپنی نے تقریباً 4 لاکھ 82 ہزار کتابوں کی غیر قانونی نقلوں کو اے آئی کی تربیت کے لیے استعمال کیا۔

ایک خدشہ یہ بھی ذہن میں آتا ہے کہ جس طرح بعض شعبوں میں بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں نے اپنی اجارہ داری قائم کر لی ہے اس  طرح اے آئی کمپنیوں کا اے ائی ماڈلز کو بہتر بنانے کے لیے لاکھوں کتابوں کی ڈیجیٹلائزیشن اور بعد ازاں ان کا تلف کرنا کیا علمی ذخائر پر اجارہ داری قائم  کرنے کے مترادف نہیں ؟

کیا قزاقستان روس اور امریکہ سے بیک وقت بڑھتے تعلقات میں توازن رکھ پائے گا؟

یوریشیا کی رپورٹ کے مطابق روس یوکرین کے ڈرون حملوں سے اپنی فوجی تنصیبات کو بچانے کے لیے قزاقستان اور ازبکستان میں ہتھیاروں کی پیداوار، اسمبلی لائنز اور مرمت کی سہولتیں منتقل کرنے پر غور کر رہا ہے۔ اس طرح یہ سہولتیں یوکرینی ڈرونز کی پہنچ سے باہر ہوں گی۔ روس ماضی میں وسطی ایشیا کا سب سے بڑا اسلحے کا سپلائر رہا ہے، لیکن یوکرین جنگ نے یہ صورتحال بدل دی ہے۔ اب روس خود ہتھیار درآمد کرنے کی منصوبہ بندی بھی کر رہا ہے۔ قزاقستان میں ’’سیمے انجینئرنگ پلانٹ‘‘ اور الماتی کا ہوائی جہازوں کی مرمت کا پلانٹ، اور ازبکستان میں ’’چرچک ائیرکرافٹ ریپیر پلانٹ‘‘ پہلے سے روسی آلات کی مرمت کے قابل ہیں۔ ماہرین کے خیال میں آستانہ اور تاشقند کے لیے یہ منصوبہ پرکشش نہیں لگتا۔ اس سے امریکہ اور یورپی یونین کی پابندیوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ قزاق دفاعی وزارت نے کہا کہ معاملہ زیر غور ہے، جبکہ ازبک حکام نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ یہ بھی واضح رہے کہ روس مالی مشکلات کے سبب وسطی ایشیا میں جوہری اور پاور پلانٹس جیسے منصوبوں سے پیچھے ہٹ چکا ہے۔

دوسری جانب امریکی میگزین ’’دی نیشنل انٹرسٹ‘‘، جو امریکی خارجہ پالیسی پر تحقیق کرتا ہے اور رپورٹس مرتب کرتا ہے، نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکہ کو قزاقستان کے آنے والے انتخابات پر توجہ دینی چاہیے۔ یہ انتخابات حکومت کے معاشی اور سیاسی اصلاحات کے پروگراموں کا امتحان ہوں گے۔ قزاقستان امریکہ کا بڑھتا ہوا اہم پارٹنر بن رہا ہے۔ امریکی کمپنیوں جیسے Chevron، ExxonMobil، Wabtec، Boeing، John Deere وغیرہ نے وہاں بڑی سرمایہ کاری کی ہے (لوکوموٹوز، جہاز، زرعی مشینری، ٹنگسٹن مائنز وغیرہ)۔ ایک اہم تبدیلی نئے آئین کے تحت Kurultai (145 رکنی یک ایوانی مقننہ) کی تخلیق ہے، جو پرانی دو ایوانی پارلیمنٹ کی جگہ لے رہی ہے۔ 23 اگست کو اس کے پہلے ارکان کا انتخاب ہو رہا ہے۔ یہ انتخابات امریکی سرمایہ کاروں کے لیے اہم ہیں کیونکہ وہ سیاسی استحکام، بہتر قوانین اور شفاف اداروں کی تلاش میں ہیں۔  قزاقستان وسطی ایشیا کی سب سے بڑی معیشت ہے اور Middle Corridor (چین، وسطی ایشیا، جنوبی قوقاز اور یورپ کو جوڑنے والا راستہ) میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ امریکہ کے لیے چین سے نایاب معدنیات اور سپلائی چینز کو متنوع بنانے میں بھی مدد گار ہو سکتا ہے۔ مضمون کے مصنف نے تجویز دی ہے کہ امریکہ کو ان معاشی تعلقات کو وسیع تر علاقائی حکمت عملی (جیسے Trans-Caspian strategy اور TRIPP) سے جوڑنا چاہیے۔

تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ یوکرین جنگ کے سبب روس کی قازقستان پر  سیاسی اور سٹریٹجک گرفت جزوی طور پر کمزور ہوئی ہے، لیکن اقتصادی اور توانائی کے شعبوں میں قزاقستان کی روس پر انحصار کی مجبوری برقرار ہے۔ یوکرین پر روسی حملے نے قزاقستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی لانے اور روس سے ایک محفوظ فاصلہ برقرار رکھنے پر بھی مجبور کیا ہے۔ روس کی کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قزاقستان نے چین،  یورپی یونین، اور ترکی کے ساتھ اپنے تعلقات کو تیزی سے فروغ دیا ہے۔ خطے میں چین کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ روسی اجارہ داری کو متوازن کر رہا ہے۔ قزاقستان نے روس پر عائد مغربی پابندیوں کی کھل کر مخالفت نہیں کی اور سٹریٹجک مصنوعات کے حوالے سے ان پابندیوں کی پاسداری کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ خود عالمی تنہائی کا شکار نہ ہو۔ عالمی پابندیوں کے بعد روس کے لیے قزاقستان ایک اہم ترسیلی مرکز (Transit Hub) بھی بن گیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت بڑھ کر 2025ء تک تقریباً 29 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح کو چھو چکی ہے۔ قزاقستان کا 70 فیصد سے زائد خام تیل روس کی پائپ لائن ’’Caspian Pipeline Consortium‘‘ کے ذریعے عالمی منڈی تک پہنچتا ہے، جس کا کنٹرول روس کے ہاتھ میں ہے۔ قزاقستان اب بھی روس کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد CSTO کا ایک اہم رکن ہے۔

قزاقستان کا ایک اہم مسئلہ اسلام پسندوں پر سختیوں کا بھی ہے جن کا  اصل سبب حکمرانوں کے اقتدار کا تحفظ اور سیکولر نظام کی بقا ہے، جسے روس کی حمایت حاصل ہے۔ قزاقستان کی حکومت خود کو سختی سے سیکولر مانتی ہے اور ہر اس نظریے کو خطرہ سمجھتی ہے جو ریاست کے طے کردہ سیاسی دائرہ کار سے باہر ہو۔ حکومت کسی بھی سیاسی یا اصلاحی اسلامی سرگرمی کو غیر روایتی اور انتہا پسندانہ قرار دے کر سختی سے کچلتی ہے۔ حکمران طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ منظم اسلامی گروہ مستقبل میں ان کے اقتدار اور سیاسی تسلط کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتے ہیں۔ قزاقستان  مذہبی شدت پسندی کو کچلنے کے نام پر سخت قوانین بناتا ہے جن کی روس تائید کرتا ہے۔

گیمنگ اور ای سپورٹس میں سعودی عرب کی بھاری سرمایہ کاری

سعودی عرب ’’وژن 2030ء‘‘ کے تحت گیمنگ اور ای سپورٹس (Esports) کو معیشت کا اہم ترین ستون بنا رہا ہے اور اس شعبے میں اب تک 38 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی جا چکی ہے، جبکہ ملک میں گیمرز کی تعداد تقریباً 2.35 کروڑ ہے۔ سعودی حکومت نے 2030ء تک جی ڈی پی میں 50 ارب ریال کا حصہ ڈالنے اور 39 ہزار سے زائد نئی ملازمتیں پیدا کرنے کا ہدف رکھا ہے۔ سعودی عرب کا ہدف ہے کہ وہ فی کس پیشہ ور ای سپورٹس کھلاڑیوں کے لحاظ سے دنیا کے سرفہرست تین ممالک میں شامل ہو۔ 2022ء میں محمد بن سلمان کی طرف سے اس حکمت عملی کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد مملکت کو اس شعبے کا عالمی مرکز بنانا ہے۔ سیوی گیمز گروپ (Savvy Games Group) عالمی سطح پر بڑی گیمنگ کمپنیوں اور اسٹوڈیوز کی خریداری اور سرمایہ کاری میں پیش پیش ہے۔ سعودی عرب نے بین الاقوامی گیمنگ انڈسٹری میں بڑے سودے کیے ہیں، جن میں معروف امریکی گیمنگ کمپنی Electronic Arts (EA) کی تقریباً 55 ارب ڈالر میں نجی ملکیت کے تحت بڑی سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔ معاشی ماہرین اسے ایک ’’بڑا اور خطرناک جوا‘‘ قرار دیتے ہیں کیونکہ اس کا روایتی معیشت سے براہِ راست تعلق کم ہے۔ معاشی ماہرین کے نزدیک ای سپورٹس کا شعبہ فوری مالی منافع کی ضمانت نہیں دیتا۔ ماہرین اسے نیوم (NEOM) اور دی لائن جیسے مہنگے اور غیر یقینی پراجیکٹس کی طرح قرار دیتے ہیں جن کی کامیابی پر شکوک ہیں۔ اگر عارضی مقبولیت ختم ہو گئی تو بھاری سرمایہ کاری ڈوبنے کا خطرہ ہے۔ اور اب موجودہ حالات میں جب سعودی عرب کو سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے ای سپورٹس سمیت وژن 2030ء کے دیگر منصوبے وسائل کا ضیاع معلوم ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں حکومتی پالیسیوں، وژن 2030ء اور اس کے آغاز کے بعد آنے والی ثقافتی و سماجی تبدیلیوں پر تنقید کرنے پر کئی علماء، اساتذہ اور دانشوروں کو گرفتار اور قید کیا گیا ہے۔ قصیم یونیورسٹی کے اسلامی قانون کے پروفیسر اور عالم دین شیخ عمر المقبل کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب انہوں نے وژن 2030ء کے تحت قائم کی جانے والی جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی اور موسیقی کے پروگراموں پر کھل کر تنقید کی۔ اسی طرح ڈاکٹر سلمان العودۃ جو سعودی عرب کے معروف عالم دین ہیں ستمبر 2017ء سے حکومتی پالیسیوں اور ریاستی اقدامات پر تنقید کرنے کے جرم میں قید کاٹ رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق، سوشل میڈیا پر وژن 2030ء کے معاشی منصوبوں یا سرکاری اصلاحات پر تنقید کرنے والے بعض اساتذہ اور شہریوں کو بھی عدالتوں کی طرف سے طویل قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔

ترکیہ میں فرقان موومنٹ کے سربراہ کی گرفتاری

ترک حکومت کے ناقد الپ ارسلان کویتول کو سکیورٹی فورسز نے ایک آپریشن کے دوران ان کی اہلیہ سیمرا کویتول، ان کے وکیل بلال ایپیک اور فرقان موومنٹ کے متعدد ارکان کے ساتھ گرفتار کر لیا۔ ان کی گرفتاری ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب انہوں نے حالیہ ایران امریکہ جنگ کے دوران رجب طیب اردگان کی حکومتی پالیسی پرشدید تنقید کا اظہار کیا تھا۔  انہوں نے اپنے بیانات میں ترک حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے خلاف واضح موقف اختیار کرے۔  انہوں نے علاقائی پیش رفت کے حوالے سے انقرہ کی پالیسی پر بھی تنقید کی تھی، ان کا خیال تھا کہ ترکی کو ایک طرف ایران اور مزاحمتی محاذ اور دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل کے درمیان محاذ آرائی کی صورت حال میں غیر فعال یا دوہری پالیسی نہیں اپنانی چاہیے۔  فرقان موومنٹ کے وکلاء نے ان گرفتاریوں پر احتجاج کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ابتدائی معلومات کی بنیاد پر لگتا ہے کہ حالیہ کارروائی ’’مجرمانہ تنظیم کی سرگرمی‘‘ کے الزام میں کی گئی ہے، یہ الزام، ان کے مطابق، گزشتہ برسوں میں بھی اس گروہ کے خلاف اٹھایا گیا تھا۔ فرقان موومنٹ کے وکیلوں میں سے ایک، علی شان انچی نے حالیہ آپریشن کو پچھلے مقدمات کا ’’نیا ورژن‘‘ قرار دیا۔

فرقان موومنٹ ترکیہ کی ایک دینی اور اصلاحی تحریک ہے جو الپ ارسلان کویتول کی قیادت میں سرگرم ہے۔ اس تحریک کا آغاز 1980ء کی دہائی کے آخر اور باضابطہ طور پر 1994ء میں ترکیہ کے شہر آدانا میں فرقان ایجوکیشن اینڈ سروس فاؤنڈیشن کے تحت ہوا۔ اس تحریک نے نوجوانوں میں دینی تعلیم، قرآن و سنت کی ترویج اور فکری تربیت کے ذریعے ترکیہ کے مختلف صوبوں میں دعوتی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ اس کا بنیادی نعرہ ’’اللہ کی زمین پر اللہ ہی کا حکم چاہیے‘‘ ہے۔ تحریک قرآن و سنت کی روشنی میں خالص توحید کی دعوت اور اسلامی تہذیب کی تشکیل کو اپنا ہدف بتاتی ہے۔ الپ ارسلان کویتول اور ان کی تحریک روایتی ترک سیاست اور موجودہ حکمران جماعت (AKP) کی پالیسیوں کے کڑے نقاد ہیں۔ یہ خود کو کسی بھی سیاسی مصلحت پسندی سے بالاتر ایک خالص اسلامی تحریک گردانتے ہیں۔ ترک حکومت اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ فرقان موومنٹ کے تعلقات طویل عرصے سے کشیدہ رہے ہیں اور حکومت نے اس پر مختلف کریک ڈاؤن کیے ہیں۔ حکومت مخالف بیانات اور حکومتی پالیسیوں پر تنقید کی وجہ سے الپ ارسلان کویتول کو کئی بار حراست میں لیا گیا اور فاؤنڈیشن کے دفاتر پر چھاپے مارے گئے۔ اب انسدادِ دہشت گردی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے متعدد صوبوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے الپ ارسلان کویتول، ان کی اہلیہ اور دیگر درجنوں ارکان کو ’’مجرمانہ تنظیم بنانے‘‘ اور قانونی حدود سے تجاوز کے الزامات کے تحت حراست میں لیا ہے۔

بیکن ہاؤس کو خیراتی ادارہ قرار دینے کے لیے قانون سازی کی کوشش

پنجاب اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی ترمیمی بل 2026ء پر اراکین کے درمیان شدید گرما گرمی ہوئی۔  پی ٹی آئی کے رکن پنجاب اسمبلی سردار اویس دریشک کی جانب سے بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی کو چیریٹی یعنی فلاحی ادارہ قرار دینے کے لیے ترمیمی بل پیش کیا گیا۔ بل پر بحث کے دوران کمیٹی اراکین نے تجویز کی شدید مخالفت کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ فیس کی مد میں اربوں روپے وصول کرنے والے ادارے کو فلاحی ادارہ کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟ اراکین کا کہنا تھا کہ بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی کو چیریٹی ادارہ قرار دیے جانے سے اسے ٹیکس سمیت مختلف مالی فوائد حاصل ہونے کا امکان ہے، جبکہ بین الاقوامی اداروں سے فنڈنگ حاصل کرنے کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں بل کی منظوری کے لیے اراکین پر دباؤ ڈالنے کی کوشش بھی کی گئی، تاہم اراکین کی شدید مخالفت کے باعث بل منظور نہ ہو سکا۔ اجلاس کی کارروائی کی ریکارڈنگ پر پابندی کے معاملے پر بھی اراکین نے تحفظات کا اظہار کیا، ذرائع کے مطابق کمیٹی کی کارروائی کو ریکارڈ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بل کے حوالے سے بعض طاقتور حکومتی شخصیات کے نام بھی زیرِ گردش ہیں، تاہم اس حوالے سے کسی حتمی کردار کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ یہ معاملہ سوشل میڈیا پر بھی  صارفین کی تنقید کا ہدف بنا۔

عمران شاہین لکھتے ہیں :

’’مزے کی بات ہے کہ بیکن ہاؤس یونیورسٹی کی ایک سمسٹر کی انڈر گریجویٹس کے لیے فی طالب علم فیس 3لاکھ 21 ہزار روپے سے 4 لاکھ 37 ہزار روپے ہے، اور بل پاس ہو رہا ہے کہ بیکن ہاؤس یونیورسٹی شرفاء کی ایک خیراتی یونیورسٹی ہے، اس طرح امراء و شرفاء کی اس یونیورسٹی کو سارے ٹیکس معاف ہو جائیں گے اور اندرون ملک و بیرون ملک سے خیرات علیحدہ سے اکٹھا کریں گے۔‘‘

ایڈوکیٹ فیصل اقبال نے لکھا :

’’خیراتی ادارہ قرار دینے کے علاوہ مجوزہ بل پنجاب پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز ایکٹ 2016ء سے بھی متصادم ہے، نجی ادارے کو از خود فیس مقرر کرنے کا اختیار دینا مذکورہ ایکٹ کے سیکشن 7 سے براہ راست متصادم ہے، جو اختیار قانون DRA کو تفویض کرتا ہے، ایسی قانون سازی کو Elite Capture کہتے ہیں۔‘‘

کاشف اعوان نے لکھا :

’’بیکن ہاؤس والوں نے تیس سال قبل ورلڈ بینک سے فنانسنگ کا ایک معاہدہ بھی کیا تھا نئے کیمپس بنانےکیلئے۔ یہ ورلڈ بینک کی تاریخ کا اس نوعیت کا پہلا معاہدہ تھا۔جو قصوری صاحب کے اک عزیز، جو ورلڈ بینک میں ملازم بھی تھے، نے کروایا تھا۔ اس فائنانسنگ کے پیسے بمع  سود واپس بھی کیے گئے تھے۔ تو وہ سود اور قرضہ کیسے واپس کیا؟ ظاہر ہے  والدین کی جیب سے۔

تو جناب من اتنی موٹی کمائی کرنے والے ادارے کو ٹیکس معاف کرنا غریب تاجروں کے ساتھ گھناؤنا مذاق ہے۔ یہ سب شہباز شریف کے چہیتے راشد لنگڑیال کے کارنامے ہیں جو ملکی معیشت پر اک لعنت کی طرح چمٹا ہوا ہے ۔‘‘

آر اے شہزاد نے لکھا:

’’پاکستان میں ایلیٹ کیسے لوٹتے ہیں یہ اس کی ایک مثال ہے۔ کروڑوں روپے فیس لینے والی بیکن ہاؤس یونیورسٹی کو چیرٹی یعنی خیراتی ادارے کے طور پر رجسٹر کرنے کا بل پنجاب اسمبلی کی کمیٹی میں ڈسکس ہو رہا ہے۔ اب خیراتی ادارہ بنے گا تو اربوں کے ٹیکس معاف اور بیرون ملک سے امداد بھی لے سکیں گے۔ اور جب ایسے ادارے ٹیکس نہی دیتے تو مہنگا پیٹرول، بجلی، گیس عوام کو بیچنے پڑتے ہیں۔  بیکن ہاؤس سمیت تمام ایلیٹ ادارے اسلام آباد میں اسی چیرٹی کے نام پر پوش سیکٹر میں بڑے پلاٹ بھی لے چکے ہیں۔‘‘

پاکستان کی امریکہ سے 10 ارب ڈالر کی ایکسچینج سٹیبلائزیشن فیسیلٹی کی درخواست

پاکستان کی وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے پاکستان کو دس ارب ڈالر کی ایکسچینج سٹیبلائزیشن فیسیلٹی (Exchange Stabilization Facility – ESF)کے سلسلے میں جلد مثبت پیش رفت کا امکان ہے۔ گزشتہ ماہ وزیرِ خزانہ کے دورۂ واشنگٹن کے دوران پاکستان نے امریکہ سے دس ارب ڈالر کی ESF کے لیے درخواست کی تھی۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے میڈیا سے گفتگو میں واضح کیا کہ امریکہ کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی ESF کوئی قرضہ نہیں بلکہ یہ پاکستان کی مستحکم کرنسی کی طرف اشارہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سہولت کے ملنے کے بعد ہم بین الاقوامی مارکیٹ سے قرض حاصل کرنے کے لیے جا سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ذریعے مارکیٹ سے قرضہ لیا جائے گا جو پانچ، سات اور دس سال کی مدت کے لیے ہو گا۔ حکومت دوسرے ملکوں سے باہمی طور پر لیے جانے والے قرضوں سے نکل کر طویل مدت کے قرضے لینا چاہتی ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل وزارت خزانہ کی جانب سے سینیٹ کے اجلاس میں ملک کے مجموعی اندرونی و بیرونی قرضوں اور سود کی ادائیگیوں سے متعلق پیش کردہ تفصیلی رپورٹ کے مطابق دسمبر 2025ء تک پاکستان کا کل قرضہ 81۳  کھرب 74 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مجموعی قرضے میں مقامی (اندرونِ ملک) حاصل کردہ قرض 55۳ کھرب 63 ارب روپے، جبکہ غیر ملکی (بیرونی) قرضہ 23۱ کھرب 66 ارب روپے ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے حاصل کردہ قرض کا حجم 2۰۸ کھرب 45 ارب روپے ہے۔ مالی سال 2021ء سے 2026ء کے دوران حکومت نے قرضوں پر مجموعی طور پر 32۲ کھرب 39 ارب روپے سود کی مد میں ادا کیے، جبکہ اسی 5 سالہ مدت میں ۱۰۲۷ کھرب 80 ارب روپے مالیت کے قرضے واپس کیے گئے۔

نیلے پاسپورٹ کے پیچھے بھاگتی پاکستانی اشرافیہ

صحافی رؤف کلاسرا نے اپنے پروگرام میں انکشاف کیا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے تک بلیو پاسپورٹ عارضی ہوتا تھا۔ پھر بابوؤں ؍ بیوروکریٹس نے چپکے سے رواج نکالا کہ اسے مستقل بنایا جائے۔ پھر اپنے بیوی بچوں اور والدین کے لیے تا حیات شروع ہوا۔ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی سرکاری پاسپورٹس رکھتے ہیں۔ اب بابوؤں کو دیکھ کر سینٹرز، اسمبلی ارکان، بیوی، 28 سال تک کے بچے لیتے ہیں۔ اب ارکان کہتے ہیں ہمارے ماں باپ کو بھی بلیو پاسپورٹ دیں۔ سوال یہ ہے یہ سب پچیس کروڑ عوام کے ووٹ کی طاقت سے یہاں پہنچتے ہیں اور پہلے دن اپنا سبز پاسپورٹ بدل لیتے ہیں اور وہ بھی بیوی بچوں ماں باپ سمیت۔ یہ کیسا مزاج اور مائنڈ سیٹ ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اس ملک میں ۴۹ ہزار بلیو پاسپورٹ جاری ہوچکے ہیں۔ جن میں  لوگوں نے خاندانوں سمیت بلیو؍ڈپلومیٹک پاسپورٹس لے رکھے ہیں۔

عوام سبز پاسپورٹ پر ائیرپورٹس پر انکوائریاں بھگتتے ہیں لیکن عوام کے نمائندے بلیو پاسپورٹ پکڑے کہیں سے پاکستانی نہیں لگنے چاہئیں۔ بلیو پاسپورٹ پر ویزے لینے میں بھی آسانی اور اپنا  سٹیٹس بھی تبدیل، اور دنیا کے پچاس ملکوں میں بغیر ویزہ انٹری الگ۔ اب وزارت داخلہ نے ان کو بریک لگانے کی کوشش کی جس پر اسمبلی ارکان شدید ناراض ہیں کہ ہمارے والدین کو بھی تا حیات سرکاری پاسپورٹ کی سہولت دیں۔

تین سال پہلے ایک ایس آر او کے تحت پاسپورٹ رولز2021ء میں کچھ تبدیلیاں کی گئیں۔ اس ترمیم سے ایک بڑی تعداد بلیو پاسپورٹ کی اہل قرار دے دی گئی ۔جن میں سینیٹ و قومی اسمبلی کے اراکین کے والدین، بیوی اور28 سال سے کم عمر غیر شادی شدہ بچے، آڈیٹر جنرل آف پاکستان، چیئرمین فیڈرل پبلک سروس کمیشن، چیف الیکشن کمشنر آف پاکستان، وفاقی محتسب، وفاقی ٹیکس محتسب، سپریم کورٹ، وفاقی شرعی عدالت، کشمیر کی سپریم کورٹ کے جج،  چیئرمین فیڈرل سروسز ٹربیونل، الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ممبران اور ان سب کے بیوی اور بچے ۔ یہی نہیں بلکہ گریڈ 22 کے سول ملازمین، مسلح افواج کے مساوی رینک کے افسران، ان کے والدین، بیوی اور بچے بھی بلیو پاسپورٹ کے اہل قرار پائے۔

ریٹائرڈ چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی، تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور ان کے بیوی بچے بھی تا حیات بلیو پاسپورٹ کے اہل ہیں۔ صدر پاکستان، چاروں صوبوں کے گورنر، صدر و وزیراعظم پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر، چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ، وزیراعظم پاکستان کے سپیشل اسسٹنٹ و مشیر جن کا عہدہ وفاقی وزیر یا وزیر مملکت کے برابر ہو، وفاقی سیکرٹریز اور  چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی  کو بھی اب بلیو پاسپورٹ کی سہولت میسر ہے۔ اس کے علاوہ مسلح افواج کے وہ افسران جو پاکستان میں رہتے ہیں لیکن انہیں سرکاری کام کاج کی وجہ سے بیرون ملک جانا پڑے تو ان کی بیوی اور28  سال سے کم عمر بچے اور والدین بھی بلیو پاسپورٹ کے اہل شمار ہیں۔ سابق اراکین پارلیمنٹ جنہوں نے کم از کم اپنی ایک ٹرم پوری کی ہو، وہ اور ان کی بیویاں بھی تاحیات بلیو پاسپورٹ رکھ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی ایک طویل فہرست ان سرکاری ملازمین کی ہے جنہیں یہ سہولت دی گئی ہے۔

بھارت سے خطرہ نہیں ، اس بیانیے کا موجد کون ہے؟

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے اس بیان نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے کہ پنجاب کو ہمسایہ ملک بھارت سے اتنا خطرہ نہیں جتنا پڑوسی صوبوں سے ہے۔ انہوں نے یہ بیان چند روز قبل لاہور میں پنجاب آرٹیفیشل انٹیلی جنس ہب اور صوبائی انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سینٹر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ ملک بھر سے صحافتی اور سیاسی حلقوں نے مریم نواز کے اس بیان کو صوبائیت اور لسانیت کو ہوا دینے کی کوشش قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ۔ لیکن یہ ساری تنقید ایک مخصوص زاویے کے تحت ہی گھومتی رہی سوائے چند ایک صحافیوں کے جن میں ماجد نظامی بھی شامل تھے ۔ ماجد نظامی نے اس مسئلے پر رائے دیتے ہوئے کہا:

’’بھارت نے سنہ 1971ء کے بعد 54 سال کے وقفے سے سنہ 2025ء میں پنجاب کی سرزمین پر باقاعدہ حملہ کیا جو ان کے بقول بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے میں یہ کہنا کہ پاکستان کو ہمسایہ ملک سے نہیں بلکہ ہمسائے صوبے سے دہشت گردی کا زیادہ خطرہ ہے، وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے ایک غیر ذمہ دارانہ بیان ہے۔‘‘

اس شور شرابے میں ایک زاویہ جو سب کی نظروں سے اوجھل رہا ہے وہ یہ ہے کہ اس بیانیے کا موجد کون ہے کہ بھارت سے پاکستان کو کوئی خطرہ نہیں ہے ؟ کیا یہ اتفاقیہ طور پر کہے گئے الفاظ تھے؟ تھوڑی تحقیق سے ہی ہم پر یہ حقیقت عیاں ہو جائے گی کہ یہ پاکستان کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا سالہا سال سے پھیلایا گیا بیانیہ ہے جس کے لیے وہ نہ صرف عملی اقدامات کر رہی ہے بلکہ اسی کوشش میں اس نے اپنے نصاب میں بھی تبدیلی لائی ۔ پاکستان آرمی نے اپنی ملٹری ڈاکٹرائن (عسکری حکمتِ عملی) میں باقاعدہ فکری تبدیلی کا آغاز جنوری 2013ء میں کیا تھا جب پاکستانی فوج نے اپنی نئی فوجی گائیڈ لائنز اور پالیسی دستاویز جسے گرین بک (Green Book) کہا جاتا ہے، میں ایک بڑا تاریخی اضافہ کیا۔ جس کے مطابق ملک کی تاریخ میں پہلی بار سرکاری طور پر تسلیم کیا گیا کہ پاکستان کی سلامتی کو سب سے بڑا خطرہ روایتی حریف (بھارت) سے نہیں، بلکہ ملک کے اندر موجود دہشت گردی، انتہا پسندی اور داخلی عسکریت پسندی سے ہے۔ فوجی نصاب اور حکمتِ عملی میں پہلی بار ’’سب کنونشنل وارفیر‘‘ (Sub-conventional Warfare) یعنی غیر روایتی اندرونی جنگ کا ایک نیا باب شامل کیا گیا تاکہ افسران کو اندرونی شدت پسندی سے نمٹنے کی تربیت دی جا سکے۔  اسی دور (2011ء سے 2013 کے درمیان) میں پاکستان نے New Concept of War Fighting کے نام سے ایک اور تزویراتی تبدیلی متعارف کروائی تھی۔ اس کا مقصد روایتی جنگ (جو بھارت کے ساتھ ممکنہ طور پر ہو سکتی ہے) کی صورت میں فوج کے متحرک ہونے کے وقت (Mobilization Time) کو کم سے کم کرنا اور پاک فضائیہ و بحریہ کے ساتھ مشترکہ آپریشنز کو مضبوط بنانا تھا۔ یعنی جواز گھڑا گیا کہ بالفرض اگر بھارت سے جنگ ہوئی بھی تو اس کے لیے کم وقت میں موبلائزیشن اور دیگر اقدامات ہو جائیں گے اس کے لیے فکر کی ضرورت نہیں ہے ۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس پالیسی شفٹ کا فیصلہ افواج پاکستان کا اپنا تھا اور ہے یا اس کے پیچھے کوئی اور فیکٹر یا ڈکٹیشن ہے؟

یہاں ہم امریکہ کے چار بڑے تھنک ٹینکس کی تجاویز بمعہ حوالہ پیش کرتے ہیں جو امریکی حکومت کو پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے کیا مشورہ دے رہے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں۔

  1. امریکی خارجہ پالیسی کے معتبر ترین تھنک ٹینک Council on Foreign Relations (CFR) نے اپنی سالانہ رپورٹ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے خطرات پر تفصیلی بات کی ہے۔ دستاویز کا عنوان ہے  Preventive Priorities Survey: Conflicts to Watch in 2026 (شائع شدہ: دسمبر 2025)۔ اس رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے واشنگٹن انتظامیہ کو جنوبی ایشیا میں متحرک کردار ادا کرنا چاہیے۔ رپورٹ میں امریکی انتظامیہ کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ دونوں ممالک، بالخصوص پاکستانی اسٹیبلشمنٹ پر زور دے کہ وہ خطے میں کسی بھی قسم کی مسلح کشیدگی یا ایسے محرکات (جیسے سرحد پار عسکریت پسندی) سے گریز کرے جو جوہری تصادم کی بڑی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔
  2. امریکی تھنک ٹینک Atlantic Council نے مئی 2025ء میں پاکستان اور بھارت کے مابین پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد ایک اہم تجزیاتی رپورٹ Amid India-Pakistan tensions, the US must rebalance its security priorities in South Asia کے عنوان سے شائع کی۔  اس رپورٹ میں امریکی انتظامیہ کو براہِ راست مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ پاکستان کو دیے گئے ’’نان نیٹو اتحادی‘‘ (MNNA) کے درجے پر نظر ثانی کرے اور اسلام آباد پر دباؤ ڈالے کہ وہ بھارت کے خلاف اپنی پالیسیوں کو تبدیل کرے۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ کو اپنی پالیسی مبہم رکھنے کے بجائے شرطیہ بنانی چاہیے تاکہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ پر بھارت سے کشیدگی نہ بڑھانے کے لیے موثر دباؤ برقرار رہے۔
  3. معروف امریکی تھنک ٹینک Hudson Institute نے بھی پاک امریکہ تعلقات کی بحالی اور خطے میں امن کے حوالے سے رپورٹ  ’’US Reengagement with Pakistan: Ideas for Reviving an Important Relationship‘‘ کے عنوان سے جاری کی۔ اس رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ امریکی حکومت کو پاکستان کے ساتھ سفارتی اور اقتصادی روابط اس شرط پر جوڑنے چاہئیں کہ پاکستانی قیادت خطے بالخصوص بھارت کے ساتھ کسی سکیورٹی کرائسز یا روایتی تصادم کا حصہ نہ بنے۔
  4. امریکی پارلیمنٹ کے اپنی تحقیقی بازو Congressional Research Service (CRS) نے مارچ 2026ءۃۃ میں ایک تفصیلی رپورٹ Terrorist and Other Militant Groups in Pakistan کے عنوان سے جاری کی۔ یہ آفیشل دستاویز امریکی اراکینِ کانگریس اور انتظامیہ کو گائیڈ کرتی ہے کہ وہ پاکستانی عسکری قیادت پر دباؤ بڑھائیں تاکہ بھارت کو نشانہ بنانے والے گروپس کا راستہ روکا جا سکے

٭٭٭٭٭

Previous Post

نوائے امارت اسلامیہ (ستمبر ۲۰۲۶ء)

Next Post

تر ټولو وړاندې امریکا!

Related Posts

نوائے امارت اسلامیہ (اگست ۲۰۲۶ء)
افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ

نوائے امارت اسلامیہ (ستمبر ۲۰۲۶ء)

8 اکتوبر 2026
اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْن
نقطۂ نظر

اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْن

8 اکتوبر 2026
چمن میں آئے گی فصلِ بہاراں ہم نہیں ہوں گے!
جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!

چمن میں آئے گی فصلِ بہاراں ہم نہیں ہوں گے!

8 اکتوبر 2026
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | سترہویں قسط

8 اکتوبر 2026
ہوئے تم دوست جس کے……
عالمی منظر نامہ

ہوئے تم دوست جس کے……

8 اکتوبر 2026
غزہ جلتا رہا، ضمیر سوتا رہا!
طوفان الأقصی

غزہ جلتا رہا، ضمیر سوتا رہا!

8 اکتوبر 2026
Next Post
تر ټولو وړاندې امریکا!

تر ټولو وړاندې امریکا!

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

ستمبر و اکتوبر 2026ء
ستمبر و اکتوبر 2026ء

ستمبر و اکتوبر 2026ء

by ادارہ
8 اکتوبر 2026

Read more

تازہ مطبوعات

تر ټولو وړاندې امریکا!
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

تر ټولو وړاندې امریکا!

مرکزی خیال: شهید شیخ احسن عزیز لیکوال: معین الدِّین شَامی ژباړن: عماد الدین خالد   ډاونلوډ کړی    

اکتوبر, 2026
یہ غزہ ہے
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

یہ غزہ ہے

تالیف: فضیلۃ الشیخ محمد صلاح الدین زیدان (سیف العدل)   ڈاؤن لوڈ کریں    

ستمبر, 2026
د شام د جهاد درسونه
مطبوعات حطین

د شام د جهاد درسونه

د فضيلة الشیخ ایمن الظواهري بیان «فَلْنُقَاتِلْھُمْ بُنْیَانًا مَّرْصُوْصًا» له سریزې او حاشیو سره له سریزې او حاشیو سره   ...

ستمبر, 2026
گیارہ ستمبر کے بابرکت حملے: حقائق و شبہات
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

گیارہ ستمبر کے بابرکت حملے: حقائق و شبہات

گیارہ ستمبر کے بابرکت حملوں سے متعلق شبہات اور سازشی نظریات کا رد مصنف: نعمان حجازی   ڈاؤن لوڈ کریں ...

ستمبر, 2026
سب سے پہلے امریکہ
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

سب سے پہلے امریکہ

مرکزی خیال: الشیخ الشہید احسن عزیز ترتیبِ جدید: معین الدِّین شَامی   ڈاؤن لوڈ کریں    

ستمبر, 2026

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اسوۂ حسنہ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • عالمی جہاد
  • ناول و افسانے
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اسوۂ حسنہ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version