بسم الله الرحمن الرحيم
آج سے ٹھیک ۱۴۹۶ قمری سال قبل… ماہِ ربیع الاول میں… دنیا میں ایسی ہستی کی پیدائش ہوئی جس نے آئندہ کی دنیاکو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ ۴۰ سال کی عمر میں آپ کو نبوت سے سرفراز فرمایا گیا، اور اس کے بعد آپ نے اپنی وفات تک ۲۳ سال جدوجہد کی۔ آپ نے انسانوں کو اپنے رب اور الٰہ سے جوڑا، آپ نے انسانوں تک اپنے رب کا پیغام پہنچایا، آپ نے انسانوں کو رب کے پیغام پر عمل کرنا بھی سکھایا، اپنے رب کے پیغام کے مطابق دنیا کے نظام کو بدل دیا، ایک انقلاب لے آئے۔ جی ہاں! یہ اللہ تعالیٰ کے آخری پیغامبر محمدِ مصطفیٰﷺ تھے اور یہ اللہ کے دین کا اتمام تھا، دینِ اسلام تھا، یہ اللہ کے آخری الہامی پیغام، یعنی قرآنِ مجید کا نزول تھا۔
﴿كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَي النُّوْرِ ڏ بِاِذْنِ رَبِّھِمْ اِلٰي صِرَاطِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ ﴾ [إبراھیم:۱]
’’اے پیغمبر! یہ ایک کتاب ہے جو ہم نے آپ پر نازل کی ہے، تاکہ آپ اپنے رب کے حکم سے انسانوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشی کی طرف لے آئیں، یعنی اس ذات کے راستے کی طرف جو ہر شے پر غالب اور ہر تعریف کا مستحق ہے‘‘۔
پس نبی آخر الزماں کی بعثت کے ساتھ ہی… بتقاضائے سنتِ ربانی… شقی القلب، بد فطرت، تاریک ذہنیت کے انسانوں نے آپﷺ کی بات ماننے کے بجائے مخالفت اور مخاصمت کی راہ اپنائی۔ انھوں نے روشنی کے بجائے تاریکی میں رہنے پر اصرار کیا، حق کے بجائے باطل پر ڈٹ گئے، اور یوں حق وباطل کا معرکہ اسی نبی کے دستِ مبارک سے شروع ہوا۔ اب انسانوں کے درمیان ’نکتہ نزاع‘ یہی ایک ذات تھی۔ اللہ کو توبہت سے انسان پہلے بھی مانتے تھے، لیکن اس نبی کا واسطہ ماننے سے انکار کردیا۔ تب سے یہ معرکہ شروع ہوا، محورِ معرکہ ایک ہی ذات تھی؛ محمدِ مصطفیٰﷺ، اور آج تک یہ معرکہ جاری ہے اور محورِ معرکہ ایک ہی ذات ہے؛ محمدِ مصطفیٰﷺ۔
یہ معرکہ جو ۱۴۵۶ سال قبل شروع ہوا، اس دنیا کی انتہا تک جاری رہے گا۔ اس معرکے میں حق پر وہ ہے جو اپنے اللہ سے جڑے، مگر محمدِ مصطفیٰﷺ کے واسطے سے۔ حق پر وہ ہے جو محمدِ مصطفیٰﷺ کی حرمت وناموس کو اپنے ہر جذبہ پر مقدم کر دے۔ حق پر وہ ہے جو محمدِ مصطفیٰﷺ کے لائے ہوئے ’قرآن‘ کو مانے۔ حق پر وہ ہے جو وہی دین مانے جو محمدِ مصطفیٰﷺ نے بتایا۔ حق پر وہ ہے جو دنیا میں وہی نظام نافذ کرے جو محمدِ مصطفیٰﷺ نے دنیا میں رائج کیا تھا۔
شعور لایا،کتاب لایا، وہ حشر تک کا نصاب لایا
دیا بھی کامل نظام اس نے، اور آپ ہی انقلاب لایا
وہ علم کی اور عمل کی حد بھی، ازل بھی اس کا ہے اور ابد بھی
وہ ہر زمانے کا راہبر ہے، مرا پیمبر عظیم تر ہے
آج… میں اور آپ جس زمانے میں جی رہے ہیں… یہ معرکہ پوری شدت کے ساتھ بپا ہے۔ اس معرکے میں باطل نے کئی روپ بدلے، لیکن اب کھل کر اصل نکتہ نزاع کو ظاہر کر دیا ہے۔ پہلے یہ الزام لگا کہ مسلمانوں میں سے بعض بنیاد پرستوں، قدامت پرستوں کا مسئلہ ہے جو اسلام کے بارے میں اپنے مزعومہ نظریات کا پرچار چاہتے ہیں، یعنی جدت وقدامت کا معرکہ ہے، سیکولرزم اور فنڈامنٹل ازم کا معرکہ ہے۔ پھر یہ الزام لگا کہ مسلمانوں میں سے بعض دہشت گرد اپنے مزعومہ نظریات کو بزورِ قوت دوسروں پرمسلط کرنا چاہتے ہیں، یعنی دہشت گردی اور امن پسندی کی جنگ ہے۔ پھر یہ الزام لگا کہ سبھی مسلمانوں میں مسئلہ ہے، اسلام ہی میں تشدد ہے، یعنی اسلام اور غیرِ اسلام کا مقابلہ ہے۔ لیکن اب باطل کھل کر یہ بات کہہ رہا ہے کہ محمدِ مصطفیٰﷺ کا مسئلہ ہے [نعوذ باللہ]، اس ہستی نے ہی ایسا پیغام دیا ہے جو غلط تھا اور جس نے انسانیت کو گمراہ کیا [نعوذ باللہ]۔ یہ ہمارا دعوی نہیں ہے، بلکہ آج یورپ وبھارت میں باطل کے اقوال وافعال میں بہ صراحت اس کا ذکر ہے۔
پس آج یہ معرکہ اپنے اصل نکتہ نزاع کی طرف لوٹ گیا ہے، اصل محور کی طرف پلٹ گیا ہے، اور وہ ہے ’محمدِ مصطفیٰﷺ‘۔ پس آج یہ جنگ امریکہ اور القاعدہ وطالبان کی نہیں، بلکہ محمدِ مصطفیٰﷺ کے ماننے والوں اور آپﷺ کا انکار کرنے والوں کی جنگ ہے۔ اس میں ہر مسلمان کو اترنا ہوگا۔ محمدِ مصطفیٰﷺ کی حرمت وناموس کے دفاع میں نکلنا ہوگا، محمدِ مصطفیٰﷺ کی حقانیت ثابت کرنے کے لیے باہر آنا ہوگا، محمدِ مصطفیٰﷺ کے لائے ہوئے دین کو دنیا میں غالب کرنے کے لیے میدان میں نکلنا ہوگا۔
یہ ہر مسلمان کا فریضہ ہے، یہ ہر مسلمان کے خلاف معرکہ ہے۔ یہ ۱۴۴۳ھ کے ماہِ ربیع الاول کا پیغام ہے۔
اے اللہ! ہر مسلمان کو اپنے نبی، محمدِ مصطفیٰﷺ کی سچی محبت اور سچا عشق عطا فرما دے، اپنے نبیﷺ کے دفاع میں اپنا سب کچھ قربان کرنے کی توفیق عطا فرما دے، اپنے نبیﷺ کے لائے ہوئے دین کو غالب کرنےکا جذبہ دے دے، آمین یا رب العالمین۔
دنیا میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ جس طرح بیس سال قبل ۱۱ ستمبر کے مبارک حملے دنیا کی سیاست میں تبدیلی کا اہم موڑ ثابت ہوئے تھے، اسی طرح آج افغانستان میں امریکہ کی شکست اور امارتِ اسلامیہ کی فتح اہم موڑ بنا ہوا ہے۔ ہمارے خطہ برصغیر میں پڑوس کے اثرات نمایاں ہیں۔ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش… خطے کے تینوں بڑے ممالک میں اسلام پسندی کا رجحان خوب زوروں پر ہے، الحمد للہ۔ اسی کا ردِ عمل ہے کہ دین دشمن عناصر بھی بھڑک کر اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں، اور …حسبِ توقع… حکومتیں ان کی سرپرستی کر رہی ہیں، اگر سرپرستی نہ بھی کر رہی ہوں تو ان کی مخالفت کرنے والے دین پسند عناصر کی سرکوبی ضرور کر رہی ہیں۔ پاکستان میں امریکہ کے ساتھ تازہ معاہدات کی خبریں ہیں، تحریکِ لبیک کے خلاف کریک ڈاؤن ہے، بنگلہ دیش میں قرآنِ مجید کی بے حرمتی اور احتجاج کرنے والے مسلمانوں کے خلاف حکومتی تشدد ہے، بھارت میں مسلمانوں کے خلاف متشدد ہندؤوں کے مظالم کی تازہ لہر ہے۔ اس سارے منظرنامے سے جہاں ہمیں اطمینان اور تسلی ہوتی ہے کہ الحمدللہ، پہلے کی نسبت آج اس خطے میں دینی بیداری اور غلبہ دین کی نسبت کارکردگی بہت بہتر ہے، وہاں یہ منظر نامہ یہاں بسنے والے مسلمانوں کو عمل کی پکار بھی دے رہا ہے، کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم سنجیدگی سے اس خطے میں دین کی محنت کریں، ہماری زندگیوں کی بنیادی مصروفیت غلبہ دین کی محنت ہو۔ اس مرحلے پر کوئی بھی مسلمان غیر متعلق نہیں ہوسکتا۔ جو مسلمان اب بھی غیر متعلق ہے تو اسے اپنے ایمان اور اپنی آخرت کے بارے میں ضرور فکر مند ہونا چاہیے۔ پیارے حبیب، محمدِ مصطفیٰﷺ سے مروی ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:
’’جس نے اس حال میں صبح کی کہ اس کا ہم وغم دنیا ہے، اور جس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ مسلمانوں کے معاملات کے بارے میں فکر مند نہیں،تو وہ مسلمانوں میں سے نہیں‘‘۔ [رواہ الحاکم والطبراني بسند ضعیف]
بھارت میں تو آئے روز ہندو توا کے علمبردار ہندو کمزور مسلمانوں پر مظالم ڈھاتے ہیں، اور اس دفعہ تو معاملہ محلّوں اور مساجد پر منظم حملوں تک چلا گیا ہے۔ ایسے میں ہم بھارت میں رہنے والے علمائے کرام سے کہنا چاہتے ہیں کہ اس سب کے بعد اس بات کا تو فیصلہ کیجیے کہ کیا اب بھی بھارت ’دار الامن‘ ہے؟ کیا آئے روز کے ان واقعات اور حکومتی نمائندوں کی دھمکیوں کے بعد اب بھارت کھلا ’دار الحرب‘ نہیں بن گیا؟ آج وہ کون سا امن ہے جو وہاں مسلمانوں کوحاصل ہے؟ وہاں تو اب مسلمانوں سے شہریت تک چھینی جا رہی ہے۔ چند ایک مسلمانوں کو سرکار کی رضاجوئی چاہنے کے صلہ میں امن مل جانا،کیا بھارت کے دار الامن ہونے کی دلیل کے لیے کافی ہے؟ لہٰذا علمائے کرام سے دست بستہ گزارش ہے کہ بھارت کا شرعی حکم واضح کیجیے، مسلمانوں کو اپنے دفاع کے لیے کھڑا کیجیے، انھیں اپنے اسلاف کے اُسوہ پرچلائیے جنھوں نے غلبہ اسلام کے لیے کوششیں کیں اور جن کے دم سے ہندوستان میں ہزاروں سال اسلام زندہ رہا۔ یہ بات سکھانا اور بتانا نہ ہندوستان سے محبت کے منافی ہے اور نہ ہی اس سے غداری ہے۔ ملکِ ہندوستان سے غداری تو یہ ہے کہ اسے بھارت جیسی ہندو انتہا پسند ریاست کے ہاتھ میں چھوڑ دیا جائے اور پھر ایسی ریاست کا دفاع کیا جائے، کیونکہ یہ اسلام کا خطہ ہے، اور اسے اسلام کے سائے میں ہی امن وآشتی نصیب ہوسکتی ہے۔ اگر ہم نے آج بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کو یہ بات نہ سکھائی، انھیں ہندو توا تنظیموں اور ریاستی جبر کے خلاف اپنا دفاع کرنا نہ سکھایا تو وہ دن دور نہ ہوگا جب یہاں بسنے والا ہر مسلمان اور یہاں کی ہر مسجد حملے کی زد میں ہوگی۔ اے اللہ! ایسا دن کبھی نہ آئے اور اس سے پہلے مسلمانوں کو اپنے دین، اپنے نبیﷺ اور اپنی اسلامی شناخت کے دفاع میں کھڑا ہونے کی توفیق عطا فرما دے، آمین۔
اللھم وفقنا لما تحب و ترضى وخذ من دمائنا حتى ترضى .اللھم زدنا ولا تنقصنا وأکرمنا ولا تھنّا وأعطنا ولا تحرمنا وآثرنا ولا تؤثر علینا وأرضنا وارض عنا. اللھم انصر من نصر دین محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم واجعلنا منھم واخذل من خذل دین محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم ولا تجعلنا منھم، آمین یا ربّ العالمین!










