نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home تزکیہ و احسان

حضور ﷺ کے حقوق

by مفتی محمود حسن گنگوہی
in اکتوبر 2021, تزکیہ و احسان
0

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد للہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی، أما بعد

أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

﴿لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِم﴾ [آل عمران:۱۶۴]

اللہ جل جلالہ نے اس آیتِ شریفہ میں اپنے ایک بڑے احسان کا ذکر کیا ہے۔ فرمایا کہ اللہ نے بہت بڑا احسان کیا مومنین پر، کہ ان میں رسول بھیجا جو انھی میں سے ہے۔ یہ بہت بڑا احسان ہے۔

اللہ تعالیٰ کے احسانات

اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں۔ ہمیں پیدا کیا کتنا بڑا احسان کیا۔ نہ پیدا کرتے تو ہمارا کیا زور تھا۔ پیدا کیا تو انسان بنایا۔ اگر انسان نہ بناتے جانور بنا دیتے تو ہمارا زور تھا کچھ؟ گدھے بھی تواسی کے پیدا کیے ہوئے ہیں، کتے بھی اسی کے پیداکیے ہوئے ہیں، سانپ بچھو بھی اسی نے پیدا کیے ہیں۔ اگر خدا ہمیں انسان نہ بناتا، سانپ بچھو بناتا تو ہمارا کوئی زور تھا اس پر؟ تو کیا ہوا ہوتا؟ جو دیکھتا وہی مارنے کو دوڑتا۔ گدھا بناتا، بیل ہاتھی بناتا تو کیا ہوتا۔ یہ سب بھی تو اسی کے پیدا کیے ہوئے ہیں۔ اس نے ہمیں انسان بنایا، کتنا بڑا احسان کیا۔ پھرانسانوں میں بھی کتنے انسان ایسے ہیں جو بے شمار عوارض میں مبتلا ہیں، پریشانیوں میں مبتلا ہیں، کسی کی آنکھ نہیں، کسی کا کان نہیں، کسی کی ٹانگ ٹوٹی ہوئی، کسی کے معدے میں درد، کسی کی کمر میں درد، قسم قسم کی بیماریوں میں مبتلا۔ اللہ تعالیٰ نے ان ساری بیماریوں سے محفوظ فرمایا۔ کتنا بڑا احسان کیا۔ اور کتنے ہی انسان ایسے ہیں جو اپنے ہاتھ سے بت بناتے ہیں، اس کی پوجا پاٹ کرتے ہیں، اس کو خدا، معبود اور حاجت روا سمجھتے ہیں۔ مالک الملک سے بہت دور جا پڑے ہیں۔ جانتےہی نہیں اپنے پیدا کرنے والے کو، اپنے خالق کو، اپنے رازق کو پہچانتے نہیں۔ کتنے لوگ ایسے ہیں کہ نام تو ان کا مسلمان ہے لیکن کبھی مسجد میں نہیں آتے، کبھی قرآنِ کریم نہیں پڑھتے۔ کبھی سر نہیں جھکاتے خدا کے سامنے، کبھی کلمہ نہیں پڑھتے، جانتے نہیں۔ تو اللہ نے کتنا بڑا احسان فرمایا کہ اپنے گھر میں آنے کی اجازت دی، مسجد میں آنے کی۔ اگر مہر لگا دیں دلوں پر تو کوئی آسکتا ہے؟ ہرگز نہیں آسکتا۔

جیسی بڑی نعمت ہوتی ہے، ویسا بڑا اس کا شکر ہوتا ہے۔ حق تعالیٰ نے نبی کریمﷺ کو ہماری ہدایت کے لیے بھیجا۔ بہت بڑا انعام ہے۔ قرآنِ پاک حضورﷺ کی بدولت ملا، روزہ حضورﷺ کی بدولت ملا، زکوۃ کا حکم حضورﷺ کی بدولت ملا، حج حضورﷺ کی بدولت ملا۔ کتنے بڑے احسانات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ﴾

جو لوگ عربی سے واقفیت رکھتے ہیں جانتے ہیں کہ ’ل‘ تاکید کے لیے آتا ہے، ’قد‘ تحقیق کے لیے آتا ہے۔ بالتحقیق بالیقین اللہ تعالیٰ نے بہت بڑا احسان فرمایا۔ احسان تو سب کے لیے ہے۔ آپ کی ذاتِ عالیہ سب کے لیے احسان ہے۔ آسمانوں کے لیے بھی، زمینوں کے لیے بھی، فرشتوں کے لیے بھی، جنات کے لیے بھی، حیوانات کے لیے بھی، بشر کے لیے بھی، سب کے لیے رحمت ونعمت ہے۔ لیکن فائدہ اٹھانے کے لیے مومن ہونا شرط ہے۔ جو لوگ آپ پر ایمان لاتے ہیں، وہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہ احسان خاص طور پر مومنین کے لیے ہے۔ جیسا بڑا احسان ہوتا ہے، ویسا ہی بڑا اس کا شکر بھی ہوتا ہے۔ ویسا ہی اس کا حق بھی ہوتا ہے۔

حضورﷺ کے حقوق

حضورﷺ کے حقوق بے شمار ہیں۔ انھیں اگر سمویا جائے تو تین قسم میں سمویا جاسکتا ہے۔ پہلا حق ہے محبت کا۔ آپﷺ کی ذاتِ مقدسہ سے محبت ہونی چاہیے۔ خود حدیثِ پاک میں آتا ہے:

لا یؤمن أحدکم حتی أکون أحب إلیہ من والدہ وولدہ والناس أجمعین۔

”تم میں سے کوئی شخص مومن کہلانے کا حق ہی نہیں رکھتا، جب تک کہ میری محبت اس کےدل میں اپنے ماں باپ ، اپنی اولاد ،اور سب انسانوں سے زیادہ نہ ہوجائے۔“

پہلا حق… محبت

لہٰذا پہلا حق محبت کاہے۔ حضور اکرمﷺ کی ذاتِ مقدسہ سے ہر مسلمان کے قلب میں محبت ہونی چاہیے۔ آدمی کو اپنے گھر سے بھی محبت ہوتی ہے، اپنی دکان سے، اپنی اولاد سے، اپنے مال سے، لیکن حضورﷺ کی جو محبت ہے وہ سب محبتوں سے بالاتر اور اعلیٰ ہونی چاہیے۔ اس کا اندازہ ہوتا ہے مقابلہ کے وقت، ایک کی محبت کا تقاضا کچھ اور، حضور ﷺ کی محبت کا تقاضا کچھ اور، تو آدمی کس کی محبت اختیار کرتا ہے ۔ حضور ﷺ کی محبت کو یا کسی اور کی محبت کو ۔اس کو دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ اس کے لیے تلاش کرنے کی ضرورت ہے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا حال۔صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے حضور ﷺ سے کس طرح محبت کی ہے اور کیسے کیسے مقابلے کے وقت کیا کیا نوبت آئی ہے۔

پہلا معرکہ حق و باطل

اسلام کا سب سے پہلا جہاد غزوہ بدر کہلاتا ہے ۔ قصہ طویل ہے ۔ اس میں سے تھوڑا سا ٹکڑا یہاں نقل کرتا ہوں ۔ قرآن پاک میں بھی غزوہ بدر کا تذکرہ آیا ہے ۔ احادیث میں تشریح سے آیا ہے ۔ جب غزوہ بدر ہوا ۔ ادھر سے چلے نبی کریم ﷺ ،کثرت سے پیادہ تھے ۔ ایک ایک اونٹ پر تین تین آدمی باری باری سوار ہوتے تھے۔ایک دو گھوڑے تھے۔ ایک دو تلواریں تھیں ۔ باقی کسی کے پاس تلوار نہیں، گھوڑا بھی نہیں تھا۔ وہاں پہنچ کر پہلا کام کیا حضور ﷺ نے کہ  اللہ کے سامنے  نماز پڑھ کر دعا کی۔اس طرح دعا کی کہ یا اللہ اتنے برسوں کی محنت کے بعد یہ مسلمان تیار ہوئے ہیں ۔ ایمان لائے ہیں ۔ 313 تھے مسلمان، مدتوں کی محنتوں کے بعد۔ بڑی مشقتوں سے بڑی مصیبتوں سے ۔ اگر آج یہ قتل ہوئے تو کل تیرا نام لینے والا کوئی نہیں رہے گا ۔ اس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ۔  بس حضور ﷺ کی دعا قبول ہو گئی ۔  ایک چھپر ڈال دیا تھا کہ حضور ﷺاس چھپر میں رہیں ۔  اگر کسی کو کوئی ضرورت پیش آوے، کوئی بات کہنی ہو اس چھپر تک آجاوے۔ پہچاننے کے لیے چھپر ڈال دیا گیا ۔ تلاش نہ کرنا پڑے ۔ ادھر ادھراور پہرے کے لیے حفاظت کے طور پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تجویز تھے کہ حضور ﷺ کے پاس رہیں ۔ اگر پچاس قدم کے فاصلے پر بھی کوئی شخص حضور ﷺکی طرف نظر اٹھا کے دیکھتا تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تلوار لیے ہوئے شیر کی طرح اس پر جھپٹتے تھے۔ اس حفاظت کے لیے قدرت کی بات اس جہاد میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تو ادھر تھے اور ان کے بیٹے عبدالرحمن بن ابی بکر مشرکین کے ساتھ تھے۔ وہ اس وقت ایمان نہیں لائے تھے ۔ اللہ نے مسلمانوں کو فتح دی۔ 70 مشرکین قتل ہوئے ، 70 گرفتار ہو کر قیدی بنالیے گئے ۔ اللہ وہ دن لائے کہ عبدالرحمن بن ابی بکر بھی ایمان لائے ۔ ایک دن کہنے لگے کہ بدر کی لڑائی میں آپ ایک موقع پر نشانے پر آئے تھے، میں چاہتا تو آپ کو قتل کردیتا، لیکن باپ ہونے کا خیال کیا ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کیا جواب دیا، جانتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ تم نے باپ ہونے کا خیال کیا۔ لیکن اگر تُو میرے نشانے پر آجاتا  تو میں تجھے زندہ نہ چھوڑ دیتا۔ میں خیال نہ کرتا کہ تو میرا بیٹا ہے ۔ میں تجھے فوراً قتل کر دیتا۔ تیری مجال حضور ﷺ کے مقابلے میں تلوار لے کر آئے ۔ یہاں سے اندازہ لگانے کی ضرورت ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دل میں حضور ﷺ کی محبت اپنے بیٹے سے زیادہ تھی ۔ ایسے مقابلے کے وقت پتہ چلتا ہے کہ کس کی بات صحیح ہے کس کی نہیں۔

حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی بیٹی ام حبیبہ حضور ﷺ کی زوجہ مطہرہ۔ ان کے پاس ان کے باپ ابو سفیان رضی اللہ عنہ آئے۔  ابو سفیان اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ جب باپ آئے ہوئے ہیں تو جو بستر بچھا ہوا تھاجلدی سے لپیٹ کر الگ رکھ دیا۔ باپ نے پوچھا یہ کیا۔دنیا کا دستور یہ ہے کہ جب باپ جاتا ہے بیٹی کے پاس تو بیٹی اس کے لیے بستر بچھا دیتی ہے۔  تو نے بچھا بچھایا بستر اٹھا کر رکھ دیا۔ انہوں نے بتلایا، یہ بستر نبی کریم ﷺ کا ہے۔  تم نجس ہو، کافر ہو، مشرک ہو، ایمان نہیں لائے ہو، تم اس قابل نہیں کہ حضور ﷺکے بستر پر بیٹھ سکو۔ معلوم ہوا کہ حضور ﷺکی محبت زیادہ تھی باپ کی محبت سے۔

بہت واقعات ہیں، ساری زندگی بھری ہے اسی طریقے پر کہ ان حضرات کے یہاں حضورِ ﷺ کی محبت زیادہ تھی۔ اور اسی سے پتہ چلتا ہے ان واقعات سے ہی تو حضور ﷺ کا ایک حق ہے محبت کرنا۔ لیکن اتنا یاد رہے کہ خالی محبت بغیر عقیدت کے بغیر اطاعت کےخالی محبت کا دم بھرنا نجات کے لئے کافی نہیں۔

دوسرا حق… عقیدت

دوسرا حق ہے عقیدت کا، عقیدت کے کیا معنی؟ یہ یقین کرلیں اور یہ فیصلہ کرلیں کہ حضرت نبی اکرم ﷺ جو دین لے کر آئے، جو احکام لےکر آئے، وہ سب حق ہے۔وہ سب سچے ہیں، ایسے سچے ہیں کہ ان کو اختیار کیے بغیر نجات نہیں، نجات حضور ﷺ کے ارشاد کی تعمیل میں ہے۔ یہ یقین رکھنا، یہ عقیدت رکھنا، یہ دوسرا حق ہے،حضور ﷺکا،چنانچہ چالیس سال کی زندگی حضور ﷺکی ایسی تھی مکہ مکرمہ کی کے سب لوگ آپ سے محبت کرتے تھے ،مرد بھی اور عورت بھی۔آپ کو امین کہتے تھے، سچے بہت سچے امانت دار۔لوگ آپ کے پاس اپنی امانتیں رکھتے تھے۔آپ کو سچا مانتے تھے۔سبھی محبت کرتے تھے۔لیکن ہوا کیا؟جب اللہ تبارک وتعالی نے یہ آیت نازل فرمائی [وانذر عشيرتك الاقربین] کہ آپ اپنے خاندان کے لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیے۔اللہ کے احکام کی طرف دعوت دیجیے۔یعنی نبوت کا آپ نے اظہار فرمایا۔آپ کے ساتھ یہ عقیدت رکھنا کہ آپ کی ہر بات میں نجات ہے۔آپ ﷺ بالکل سچے ہیں۔ آپ نے کوہ ِ صفا پر کھڑے ہوکر آواز دی۔ اپنے گھر کے لوگوں کو بلایا، نام نام لےکر کے آواز دی سب کے سب گھبرا گئے،یہ کیسی آواز ہے،اس سے پہلے تو کسی نے اس طرح تو پکارا نہیں تھا اور آواز سارے مکہ میں پھیل گئی۔ ایک تو وہاں آبادی اور بڑے بڑے محلات مکانات تو اس زمانے میں تھے نہیں،اس لئے آواز پہنچی،دوسرے یہ کہ وہ آواز تو حضور ﷺکی آواز تھی جو اللہ کے حکم سے دی گئی تھی۔اس کو کون روک سکتا تھا۔ چنانچہ سب لوگ دوڑ کر آئے۔ یہ کیا قصہ پیش آیا ہے کیوں ایسے پکارا جا رہا ہے۔ اور جو خود نہیں آسکا کسی مشغولی کی وجہ سے دوسرے آدمی کو بھیجا کہ دیکھو کیا معاملہ ہے، تحقیق کرو۔جب وہ سارے جمع ہو گئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے تو ان کا امتحان لیا۔فرمایا اگر میں یہ کہوں تم کو کہ پہاڑ کے پاس دشمن کا لشکر ٹھہرا ہوا ہے جو صبح ہوتے ہی تم پر حملہ کر دے گا، تم رات سے ہی اپنے بچاؤ کا انتظام کر لو،کیا تم مجھے سچا مانو گے؟ یہ پوچھا۔ سب نے کہا کہ ماجربنا علیک الكذب۔آپ کے متعلق غلط بیانی کا تجربہ نہیں ہوا۔آپ نے آج تک جو بات فرمائی،سچ فرمائی،ہم ضرور مانیں گے۔تسلیم کریں گے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔کوئی دشمن کا لشکر تو موجود نہیں،لیکن جب آپ فرماتے ہیں تو ہم اپنی آنکھوں کو جھٹلا دیں گے اور آپ کی باتوں کو مانیں گے۔تب آپ نے فرمایامیں خدا کا بھیجا ہوا رسول ہوں۔آپ کی طرف آیا ہوں۔خدا کے عذاب سے ڈرو، مرنے کے بعد دوبارہ پھر زندہ ہونا ہےاور ذرے ذرے کا حساب ہو گا وہاں پر۔اس مجمع میں اس مجلس میں جو شخص سب سے زیادہ دعویٰ محبت کرنے والا تھا، جو حضور ﷺ کا چچا تھا، اس کا نام تھا ابو لہب۔اس نے سب سے پہلے حضور ﷺکی مخالفت کی۔ محبت تو وہ کرتا تھالیکن اس عقیدت کے لئے تیار نہیں ہوا کہ آپ کو رسول جانے، جو بات آپ اللہ کی طرف سے پہنچاتے ہیں اس کو تسلیم کرے، وہیں سے الگ ہوا۔ اس نے سخت لفظ کہےحضور ﷺ کی شان میں۔حق تعالیٰ نے اس کے جواب میں سورہ ’تبت یدا‘ نازل کی،اس کو جہنمی دوزخی فرمایا۔ابولہب کواس ساری محبت کے باوجود محبت کیسی تھی کہ حضورﷺ کے والد تھے عبداللہ۔ان کے گھر میں جب حضور ﷺ کی ولادت ہوئی۔ ابولہب کی ایک باندی تھی ثوبیہ، اس نے آکر ابولہب کوخوشی خوشی اطلاع دی کہ تمہارے گھر بھتیجا پیدا ہوا ہے۔ابولہب نے خوشی میں آکر جب ہی اس کو آزاد کر دیا تھا۔ کتنی محبت تھی، کیسی خوشی کی بات سنادی۔ خدا جانے کتنی دفعہ کندھے پہ اٹھایا ہوگا، گود میں بٹھایا ہوگا،بھتیجے کو محبت کی وجہ سے یہ ساری محبت بے کار ہو گئی ، اس واسطے کہ عقیدت نہیں۔ عقیدت کیا تھی حضور ﷺ کو سچا رسول مانیں۔

محبت یہ ہے بنیادی چیز حضور ﷺ کو سچا رسول ماننا اور یہ فیصلہ کر لیناجو کچھ ﷺ فرمائیں گے ہم اس کے ماتحت رہیں گے یہ عقیدت ہے، سچا تو سبھی مانتے تھے۔

کافر کو آپﷺ کی صداقت کا یقین

حضرت سعد رضی اللہ عنہ مدینہ طیبہ میں انصار کے سردار تھے اپنے قبیلے کے۔ ان کا معمول تھا جب مکہ معظمہ آتے تو امیہ بن خلف کے یہاں ٹھہرتے اور اس کے ساتھ تعلقات تھے۔ امیہ بن خلف جب مدینہ طیبہ آتا تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے یہاں ٹھہرتا۔ جب یہاں سے ہجرت کا قصہ پیش آیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مدینہ طیبہ میں ٹھہرے۔ امیہ سے کہا میرا جی چاہتا ہے طواف کرنے کو، کون سا وقت مناسب ہے۔ اس نے کہا دن چڑھے مناسب ہے۔دن چڑھے گئے طواف کرنے کو۔ وہاں ابوجہل بھی تھا۔ ابوجہل نے کہا امیہ سے، یہ تیرے ساتھ کون ہے، اس نے کہا یہ سعد ہے۔ ابوجہل نے کہا جو لوگ ہمارے باغی تھے مخالف تھے ان کو تم نے اپنے یہاں پناہ دی، اپنے یہاں ٹھہرایا اور مزے سے طواف کرتے ہو۔ یعنی حضور ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو تم نے ٹھکانہ دیا، اپنے یہاں ٹھہرا دیا۔ یہ ہمارے دشمن ہیں، ہم نے ان کو نکالا ہے اور آج تم ہمارے علاقے میں طواف کرتے ہوخوشی خوشی۔ اس پر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا؛ دیکھ اگر تُو نے مجھے طواف سے روکا تو میں تیرا شام کا راستہ روکوں گا۔ دستور یہ تھا کہ قریشِ مکہ کے رہنے والے ملک شام جایا کرتے تھے۔ایک سفر تو وہ کرتے تھے ملک یمن کا اور ایک سفر کرتے تھے شام کا۔ قرآن پاک میں بھی اس کا ذکر ہے۔ ایک جگہ جاتے تھے سردی کے زمانے میں اور ایک جگہ جاتے تھے گرمی کے زمانے میں  اور سارے سال کی ضروریات وہاں سے خرید کر لاتے تھے مکے والوں کے لیے اور جتنے ڈاکو چور تھے وہ قریش کے قافلے کو کچھ نہیں کہتے تھے۔ شام جانے کا راستہ مدینہ طیبہ کے قریب تھا۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا؛ اگر تو نے مجھے طواف کرنے سے روکا تو میں تمہارا ملکِ شام جانے کا جو راستہ ہے مدینہ طیبہ میں، میں تمہارا وہ راستہ روکوں گا، شام نہیں جاسکے گا۔امیہ نے کہا سعد سے؛ زور سے نہ بول ابوجہل کے سامنے، یہ قوم کا بڑا آدمی ہے، یہاں کا سردار ہے۔ انہوں نے اسے بھی ڈانٹا۔ میں نے سنا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ تجھے قتل کریں گے۔اب امیہ نے کہا مجھے؟ سعد نے کہا ہاں۔کہا مکہ میں کہ کہیں اور؟ کہا یہ نہیں بتایا کہ کہاں۔ بس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمائی ہوئی بات اس کے دل میں ایسی بیٹھ گئی کہ بالکل غمگین ہو گیا۔ پھر جا کر اپنی بیوی سے گھر میں کہا کہ سعد نے ایسا کہا ہے۔ چنانچہ میں مکہ سے نکلوں گا ہی نہیں، مکہ میں ہی بیٹھوں گا۔اس لیے کہ مکہ پر ان لوگوں کااتنا تسلط تھا قبضہ تھا کہ سمجھتے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہاں آ ہی نہیں سکتے۔قتل کی نوبت آئے گی تو باہر ہی آئے گی۔میں باہر جاؤں گا ہی نہیں۔یہ بیوی سے بھی کہہ دیا۔ پھر جب بدر کا قصہ پیش آیا۔ابوجہل لوگوں سے کہتا ہے؛ چلو بدرتو امیہ سے بھی کہا۔ امیہ نے کہا میں نہیں جاؤں گا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا ہے کہ حضور ﷺتمہیں قتل کریں گے۔ ابوجہل نے پٹی پڑھائی کہ اگر تو نے انکار کیا تو اور لوگ بھی بیٹھ جائیں گے۔ تُو چل تھوڑی دورپھر چپکے سے واپسی آجا۔ اس نے کہا اچھی بات ہے۔ بیوی سے کہا ذرا سامان تیار کرنا میں جا رہا ہوں۔ اس نے کہا یاد نہیں رہا تمہارے دوست سعد نے کیا کہا تھا۔ کہا مجھے یاد ہے لیکن میں زیادہ دور نہیں جاؤں گاجلدی واپس آؤں گا۔ گیا اورچلتا رہا چلتا رہا یہاں تک کہ بدر پہنچا اور اللہ نے وہاں قتل کروایا۔اس کے جی کے اندرغیر اختیاری طور پر ایسی بات بیٹھ گئی کہ حضور ﷺنے جو بات فرمائی ہے وہ ہو کر رہے گی، لیکن ایمان اس کا نام نہیں۔ایمان نام ہے اپنے اختیار سے اپنے آپ کو پیش کر دینا اور طے کر دینا کہ میری زندگی حضور ﷺکے ماتحت گزرے گی۔ اس فیصلے کا نام جو اپنے اختیار سے ہوتا ہے۔

دوسرا حق کیا ہے؟ عقیدت کا۔عقیدت کا حاصل یہ ہے کہ آپ ﷺ کو سچا رسول ماننا اور یقین کے ساتھ جانے کہ نجات اسی میں ہے۔ حضورﷺ کی اتباع میں نجات ہے اور یہ طے کر کے فیصلہ کرے کہ میری زندگی حضور اکرم ﷺ کے حکم کے ماتحت گزرے گی۔ جو کُچھ ارشاد فرمائیں گے وہ کروں گا۔ یہ عقیدت ہونا ضروری ہے دوسرا حق۔

تیسرا حق… اطاعت

محبت بھی ہو عقیدت بھی ہو مگر اطاعت نہ ہو۔ اس کی مذمت آئی ہے۔ حضور ﷺنے اپنی سب سے زیادہ  چہیتی اور لاڈلی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو فرمایا؛ اس گھمنڈ میں نہ رہنا کہ پیغمبر کی بیٹی ہوں، بخشی جاؤں گی، وہاں اپنا عمل کام آئے گا۔ دنیا میں پیسے روپے کی ضرورت ہوتو مجھ سے لے لو لیکن عمل کرو، اپنا عمل کام آئے گا۔ ظاہر ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو حضور ﷺ سے محبت تھی۔ ایسی محبت تھی جس کو بیان نہیں کرسکتے۔ اتنی محبت تھی۔ ایک مرتبہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حاضر ہوئیں خدمت اقدس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیسے آنا ہوا۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ حضرت آج میں نے روٹی پکائی تھی۔ میرا جی نہ ماناکہ آپ کے بغیر خود کھاؤں۔ اس لیے آپ کے لیے لےکر آئی ہوں۔ جب حضور ﷺ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھتے تھے تو ان کو گلے سے لگا لیتے، لپٹالیتے، سینے سے لگا لیتے، پیار کرتےان کو بڑی محبت فرماتے۔ فرمایا؛ اہل جنت کی بیویوں کی فاطمہ سردار ہے، فاطمہ سیدہ ہے۔ جنت میں جتنی عورتیں جائیں گی، سب کی سردار حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو حضور ﷺ سے محبت بھی زیادہ تھی، عقیدت بھی۔ جانتی تھیں کہ سچے رسول ہیں، ایمان لائیں ، سبھی کچھ تھالیکن ان کو بھی فرمایا کہ بغیر اطاعت کے کام نہیں چلے گا ۔

حضور ﷺ کی پھوپھی کو حضور ﷺ نے فرمایا کہ تم دیکھو اس خیال میں نہ رہنا کہ پیغمبر کی پھوپھی ہوں، بخشی جاؤں گی۔ اپنے اعمال کام آئیں گے، اس رشتہ داری کی بناء پر کوئی نہیں بخشا جائے گا۔ اگر رشتہ داری کی بناء پر کوئی بخشا جاتاتو حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے بخشے جاتے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کی بخشش ہوتی کہ وہ پیغمبر کے باپ تھے، اگر بخشش ہوتی تو  حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کی بخشش ہوتی کہ وہ پیغمبر کی بیوی تھیں لیکن نہیں ایسا نہیں۔

لیس للإنسان الا ماسعی

’’انسان کو (ایمان کے بارے میں) صرف اپنی ہی کمائی ملے گی۔‘‘

جو آدمی خود ایمان لایا، اس کا ایمان اس کے لیے ذریعہ نجات ہے اور اگر اس کے خاندان کے دوسرے لوگ ایمان لائیں وہ ذریعہ نجات نہیں۔ کوئی شخص یوں سوچے کہ میں بڑے گھرانے کا آدمی ہوں، بخشا جاؤں گا، اس کو سوچنا چاہیے کہ جب حضورﷺ نے اپنی بیٹی کو فرمایا، تو پھر اور کے لیے گنجائش ہے؟ سوچنا چاہیے کہ کوئی شخص کہےکہ میں بادشاہ کا لڑکا ہوں، ہاں بادشاہ کا بیٹا ہے لیکن خود اپنا عمل بھی ہونا چاہئے۔اگر اپنے پاس کچھ نہیں توبادشاہ کون سی گدی پر بٹھا دے گا۔ اس لیے اطاعت کی ضرورت ہے۔

اطاعتِ صحابہ کا ایک واقعہ

حدیث میں آیا ہے کہ  حضور ﷺ تشریف لائے منبر پر۔ آپ نے فرمایا: ’’یا أیھا الناس اجلسوا‘‘ (لوگو! بیٹھ جاؤ )۔ جو جہاں تھے وہیں بیٹھ گئے۔ یہ نہیں سوچا کہ پہلی صف میں بیٹھوں، دوسری صف میں بیٹھوں۔ جس کے کان میں آواز آئی وہ وہاں پر بیٹھ گیا۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس وقت مسجد سے باہر تھے مسجد کے اندر نہیں آسکے، ان تک یہ آواز پہنچ گئی، باہر ہی بیٹھ گئے۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھا تو فرمایا؛ ابن مسعود اندر آجاؤ، تو وہ آگئے۔ انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ حضور ﷺ نے تو مسجد کے اندر بیٹھنے کو کہا ہے، سوچتے کیسے ان حضرات کو ہر وقت موت کا تصور غالب رہتا تھا۔ یہ سوچتے کہ اندر چل کر بیٹھوں گا۔ کیا خبر تھی کہ اندر پہنچنے سے پہلے موت آجائے، گردن پکڑ لے۔ کل قیامت میں سوال ہوگا کہ ہمارے رسول ﷺ کی آواز تمہارے کانوں میں پڑی، بیٹھ جاؤ، تم بیٹھے کیوں نہیں؟ کیا انہوں نے کہا تھااندر آکر بیٹھ جاؤ؟ اس لئے فورا حکم کی تعمیل کرنا ان حضرات کا کام تھا، اور موت کا تصور ان حضرات کو ایسا رہتا تھا۔

ایک واقعہ

ایک مرتبہ اونٹوں پر سوار تھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت، حضور ﷺ بھی موجود،  تشریف لے جا رہے ہیں۔ سرخ چادریں یمنی اونٹوں پر پڑی ہوئی ہیں اور ایک عجیب منظر تھا خوشنما۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگوں کی طبیعتیں سرخی کی طرف مائل ہوتی جارہی ہیں۔ بس فوراً سے کودے، اونٹوں سے چادروں کو پھاڑ پھاڑ کر ختم کیا۔ جو چیز آقائے نامدار کو ناپسند ہو اس کو رکھنے کے لئے تیار نہیں۔ یہ تھا اطاعت کا مادہ۔

فاروق اعظم اور اطاعت رسول

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ایک جبہ پہن کر خدمت اقدس ﷺ میں حاضر ہوئے۔ریشمی جبہ تھا۔نبی ﷺ نے فرمایا ریشم تو مردوں کے لیے ناجائز ہے۔ اٹھے جبہ اتارا، سامنے تنور تھا روٹی پکانے کا، جا کے تنور میں ڈالاجبہ کو آگ میں۔ دوسرے وقت حاضر ہوئے۔حضورﷺ نے فرمایا اس جبہ کا کیا ہوا، عرض کیا کہ حضرت میں نے اس جبہ کو جلا دیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا کیوں تمہارے لیے ہی تو ناجائز تھا، بچیوں کے لئے کپڑے بنوا دیتے، ان کے لیے درست تھا۔ لیکن بھائی جس شخص کے دل میں آپ ﷺ کی محبت جمی ہوئی ہے، ہر چیز کی محبت پر غالب ہے۔ جب وہ دیکھتا ہے کہ حضور ﷺ کو یہ لباس ناپسند ہے تو وہ یہ سوچتا بھی نہیں کہ کسی اور کام آسکتا ہے کہ نہیں۔ وہ  تو یہ سمجھے گا کہ وہ چیز آگ میں جلانے کے قابل ہے جو حضور ﷺ کو ناپسند ہے۔

حضرت علی اور اطاعت رسول

حضور ﷺ کی اطاعت کا داعیہ یہاں تک تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اونٹ پر سوار ہوئے۔ سفر میں جانے کے لیے آپ نے چند کلمات پڑھے؛ سبحان اللہ الحمدللہ لا الٰہ الا اللہ اللہ اکبر ، اونٹ کو قمچی ماری، ہنسے۔ کسی نے پوچھا یہ کیوں کیا؟ فرمایا کہ حضور ﷺ کو میں نے دیکھا کہ اسی طرح اونٹ پر سوار ہوئے تھے، اسی طرح یہ کلمات پڑھے، اسی طرح اونٹ کو قمچی ماری اور ہنسے۔ اتنی اتنی باتوں پر حضورﷺ کا اتباع کرتے تھے۔

اتباع کا اعلی مقام

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مدینہ طیبہ اور مکہ مکرمہ کے راستے میں سفر کرتے ہوئے ایک جگہ اونٹ سے اترے اور ایک درخت کے نیچے ذرا دیر لیٹے۔ آرام کیا اور اس کے بعد سوار ہوکر چل دیے۔ کسی نے پوچھا ایسا کیوں کیا؟ فرمایا میں نے دیکھا ہے کہ حضور ﷺ نے اسی جگہ اتنی دیر آرام فرمایا ہے۔ ایک جگہ اترے اپنے اونٹ سے، اونٹ کو بٹھایا، خود بیٹھ گئے جیسے آدمی پیشاب کرنے کے لئے بیٹھتا ہے، پیشاب تو نہیں کیا، بس بیٹھ گئے، پیشاب کرنے کی ہیئت بنائی۔ کسی نے پوچھایہ کیا بات ہے ؟ کہا کہ اس جگہ پر حضور ﷺ نے پیشاب کیا تھا۔ تو انہوں نے پیشاب تو نہیں کیا۔ ہاں وہ ہیئت بنا کر بیٹھے۔ یعنی جو چیزیں حضور ﷺ نے عبادت کے طور پر نہیں کی تھی، اپنی ضرورت کے لئے کی۔ ان میں بھی یہ لوگ اتباع کرتے تھے۔
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھاکہ حضور ﷺدن رات میں کیا عمل کرتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا صبح اٹھو اور آجاؤ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس، تو دیکھتے رہو جس طرح یہ وضو کرتے ہیں سمجھ لو اس طرح حضور اقدس ﷺ وضو فرماتے تھے، جس طرح یہ نماز پڑھتے ہیں، نماز میں قیام،رکوع، سجدہ، قعدہ کرتے ہیں، سمجھ لو حضور اقدس ﷺ اسی طرح سے کرتے تھے۔جس طرح یہ چلتے ہیں، سمجھ لو حضور اقدس ﷺ اسی طرح چلتے تھے۔ جس طرح کسی کے سلام کا جواب دے کر مصافحہ کرتے ہیں، جس طرح یہ بیٹھتے ہیں، کسی کے سوال کا جواب دیتے ہیں۔ اسی طرح غرضیکہ ہر چیز میں انہوں نے اپنے آپ کو حضور اکرم ﷺ کے رنگ میں رنگ لیا تھا،ڈھال لیا تھا۔

یہ ہے حضورﷺ کا حق۔اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کو نمونہ بنا کر بھیجا ہے اس دنیا میں اور کہا کہ ہم کو ایسی زندگی چاہیے  جیسے ہمارے رسولﷺ کی ہے۔آج ہم اپنے گھروں میں بیٹھ کر، مجلس میں بیٹھ کر چاہے محبت کے دعوے کریں کہ ہم کو حضور اکرمﷺ کے ساتھ بہت محبت  ہے۔ لیکن دیکھنا چاہیے کہ اس محبت کا اثر ہمارے دلوں پر کتنا ہے؟ تو ہم اپنے گھر میں اپنی مجلس میں بیٹھ کر حضور اکرمﷺ کے ساتھ بہت محبت ہونے کا دعوٰی کرتے ہیں۔لیکن کیا ہماری صورت حضور اکرم ﷺ کی صورت کے مطابق ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ ایک شخص آیاجس کی داڑھی منڈی ہوئی تھی، حضور ﷺنے اُدھر منہ پھیر لیا۔ معلوم ہوا کیا بات ہے، تمہاری داڑھی منڈی ہوئی ہے۔ تو حضور ﷺ نے جس شخص کا چہرہ دیکھنا پسند نہیں فرمایا اور ناخوش ہو کر چہرہ مبارک پھیر لیا۔ آج ہمارا جو حال ہے، ہمارے دل میں کبھی خیال بھی آتا ہے اس کا کہ حضور ﷺ کو ناپسند تھا داڑھی کا منڈانا۔حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا؛ اعفو اللحی اور ارخوا اللحی داڑھی بڑھاؤ، داڑھی لٹکاؤ۔

حضور ﷺ کا تو یہ حکم ہے اور ہم کٹا کٹا کے اور منڈا منڈا کے اسے ختم کر دیں۔ یہ محبت کا تقاضا نہیں، یہ عقیدت کا تقاضا نہیں، یہ اطاعت کا تقاضا نہیں۔ لہٰذا بغیر عقیدت اور اطاعت کےجو شخص محبت کا دعویٰ کرتا ہے اس کا دعویٰ کب قابلِ قبول ہے۔ نبی کریم ﷺکی احادیث بے شمار بھری  ہوئی ہیں۔ ہر چیز کے متعلق ہدایات موجود ہیں حتیٰ کہ جو لوگ زیادہ عبادت کریں ایسی جو حضور ﷺ نے نہیں کی، حضور ﷺسے ثابت نہیں، اس کو بھی پسند نہیں فرمایا۔

حضورﷺ کے تینوں حقوق کی ادائیگی کی ضرورت۔

حضور ﷺ جیسا بڑا نبی،بڑا انعام ہم کو ملا۔اس کے مطابق شکر ادا کرنے کی ضرورت ہے اور شکر کرنے کے لیے یہ تین چیزیں ضروری ہیں جو میں نے بیان کیں،محبت اعلیٰ درجے کی ہو، عقیدت اعلیٰ درجے کی ہو کہ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر کسی بات پر یقین نہیں، اپنے اعمال پر یقین نہیں، حضور ﷺ کے ارشاد پر یقین ہے۔ تیسری چیز اطاعت، حضورﷺ کے حکم کی بجا آوری۔ حضورﷺ کے طریقے پر زندگی اختیار کرنا، یہ تین حق ہیں۔ اگر ان تین حقوق کو ادا کیاتو اللہ کے یہاں مقبول۔ اگر ادا نہیں کیا تو اللہ کے یہاں مقبول نہیں۔ دنیا میں بھی بڑی عزت، آخرت میں بھی بڑی عزت اطاعت سے ہی ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں یہی بات تھی کہ ہر ایک ان میں سےاطاعت کرتے تھے کہ ہر کام حضور ﷺ کے طریقے پر ہو۔ حضورﷺ کی اطاعت میں ہو۔حضورﷺ کے اتباع میں ہو۔ اسی وجہ سے اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کو اعلیٰ واشرف بنایا، باکمال بنایا۔ انبیاء علیہم السلام کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا درجہ ہے۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے چھوٹے سے چھوٹے صحابی ہوں یا بڑے سے بڑے صحابہ میں بھی فرق ہے کہ کوئی باپ،کوئی بیٹے، کوئی دادا،کوئی استاذ تھے، کوئی شاگرد، کچھ خدمت اقدس میں زیادہ حاضر ہوئے کچھ کم ہوئے۔ یہ صحیح ہے، لیکن ہمارے لیے سب کے سب، سارے صحابہ واجب التعظیم ہیں۔ اور کسی کی شان میں کسی گستاخی، کسی بے ادبی کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے جو کچھ ان کے دلوں میں ڈالا، جو کچھ طریقہ انہوں نے اختیار کیا ہم کو وہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائیں ۔

٭٭٭٭٭

Previous Post

شہادت کی قبولیت کی شرائط | ۱

Next Post

وہ ہر زمانے کا راہبر ہے، مرا پیمبر عظیم تر ہے[صلی اللہ علیہ وسلم]…

Related Posts

اصلاحِ معاشرہ | چھٹی قسط
تزکیہ و احسان

اصلاحِ معاشرہ | گیارہویں اور آخری قسط

20 جنوری 2026
اصلاحِ معاشرہ | چھٹی قسط
تزکیہ و احسان

اصلاحِ معاشرہ | دسویں قسط

26 اکتوبر 2025
اصلاحِ معاشرہ | چھٹی قسط
تزکیہ و احسان

اصلاحِ معاشرہ | نویں قسط

26 ستمبر 2025
اصلاحِ معاشرہ | چھٹی قسط
تزکیہ و احسان

اصلاحِ معاشرہ | آٹھویں قسط

14 اگست 2025
اصلاحِ معاشرہ | چھٹی قسط
تزکیہ و احسان

اصلاحِ معاشرہ | ساتویں قسط

14 جولائی 2025
اصلاحِ معاشرہ | چھٹی قسط
تزکیہ و احسان

اصلاحِ معاشرہ | چھٹی قسط

9 جون 2025
Next Post

وہ ہر زمانے کا راہبر ہے، مرا پیمبر عظیم تر ہے[صلی اللہ علیہ وسلم]…

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

جنوری 2026ء
اکتوبر ۲۰۲۵ء

جنوری 2026ء

by ادارہ
20 جنوری 2026

Read more

تازہ مطبوعات

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version