نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home حلقۂ مجاہد

مجاہد جہاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟ | پہلی قسط

ترجمہ: مولانا ڈاکٹر عبید الرحمن المرابط

by ابو البراء الابی
in اکتوبر 2021, حلقۂ مجاہد
0

یہ تحریر یمن کے ایک مجاہد مصنف ابو البراء الاِبی کی تصنیف’تبصرة الساجد في أسباب انتكاسۃ المجاهد‘ کا ترجمہ ہے۔ انہوں نے ایسے افراد کو دیکھا جو کل تو مجاہدین کی صفوں میں کھڑے تھے، لیکن آج ان صفوں میں نظر نہیں آ رہے۔ جب انہیں تلاش کیا تو دیکھا کہ وہ دنیا کے دیگر دھندوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ایسا کیوں ہوا؟ اور اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟یہ تحریر ان سوالوں کا جواب ہے ۔(ادارہ)


مقدمہ

الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی أشرف المرسلین ، محمد بن عبد اللہ الصادق الأمین، صلوات ربي وسلامہ علیہ وبعد،

جہاد کا راستہ کٹھن اور طویل ہے۔ آزمائشوں اور تکالیف سے بھرا ہوا ہے۔ راہ چلتے ہر سو کانٹے بچھے ہیں۔ جہاد کو یہ نام اسی لیے تو دیا گیا ہے کہ کیونکہ اس میں مشقت اور تھکن ہوتی ہے۔ اور یہ کٹھن کیوں نہ ہو کہ یہ جنت کا راستہ ہے، دینِ اسلام کی چوٹی ہے، جس کے برابر کوئی اور عمل نہیں۔ یہاں تک کہ زندگی بھر روزے رکھنے اور راتوں کو تہجد میں گزارنے والا بھی اس کے مرتبہ اور مقام تک نہیں پہنچ سکتا۔

پس جو چاہتا ہے کہ وہ اصولوں کا پاسدار ہو اور لوگوں تک پہنچانے کے لیے کسی دعوت کا علمبردار ہو تو اسے چاہیے کہ وہ ان [مشکلات]کی طرف خاص دھیان دے۔ ان کے لیے خود آمادہ بھی ہو۔ اور واقع ہو جانے کی توقع بھی رکھے۔ بلکہ اسے یقین ہو کہ اسے ان [مشکلات]میں سے کچھ نہ کچھ تو ضرور پیش آئے گا۔ اور جو یہ چاہتا ہو کہ یہ [کام] بس ایک خوبصورت کلام، ایک مختصر سفر، ایک دلکش سیر، ایک بھر پور محفل، ایک زبردست تقریر ہو اور اس کا انتہائی اکرام و اعزاز ہو تو اسے چاہیے کہ وہ پیغمبروں اور ان کے پیروکار داعیوں کی تاریخ پڑھ لے۔ جب سے یہ دینِ اسلام آیا ہے۔ بلکہ جب سے اللہ سبحانہ و تعالی نے انبیاء علیہم السلام بھیجے ہیں۔ آج تک۔

صحیح حدیث میں ہے:

إن أحدكم ليعمل بعمل أهل الجنة، حتى ما يكون بينه وبينها إلا ذراع، فيسبق عليه الكتاب فيعمل بعمل أهل النار فيدخلها.

”تم میں سے کوئی شخص اہل جنت کے عمل کرتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک گز رہ جاتا ہے۔ پھر اس پر تقدیر غالب آ جاتی ہے اور وہ دوزخیوں کا کام کر لیتا ہے اور دوزخ میں داخل ہو جاتا ہے“۔

اور کتب سنن میں یہ حدیث بھی درج ہے:

إن العبد ليعمل بعمل أهل الجنة سبعين عاما، ثم يحضره الموت فيجور في وصيته فيدخل النار

”بندہ ستر سال جنت والوں کا کام کرتا ہے۔ یہاں تک کہ موت قریب آتی ہے تو اپنی وصیت میں ظلم کر بیٹھتا ہے اور یوں دوزخ چلا جاتا ہے“۔

بینائی کے بعد اندھا ہو جانا کتنا مشکل ہے۔ اس سے زیادہ سخت ہدایت کے بعد گمراہی، اور تقویٰ کے بعد معصیت میں مبتلا ہونا ہے!۔

دنیا میں کتنے خاشعة پرہیزگار چہرے تھے۔ جو کہ آخر کار عاملة ناصبة (مشقت زدہ تھکے ماندے) تصلى نارا حامية (دہکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے)۔ کتنے ایسے کشتی سوار ہیں جو ساحلِ نجات کے قریب پہنچ جاتے ہیں لیکن جونہی کشتی لنگر انداز ہونے لگتی ہے خواہشات کی موجیں آ کر کشتی کو الٹا پٹخ دیتی ہیں اور سوار ان خواہشات میں غرق ہو جاتے ہیں۔ یہ خطرہ تمام مخلوق کو لاحق ہے۔ بندوں کے دل رحمٰن کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں ۔ جیسے چاہے انہیں پلٹتا رہتا ہے۔ بعض نے کہا : تعجب کی بات یہ نہیں ہےکہ ہلاک ہونے والا کیسے ہلاک ہوا۔ تعجب تو یہ ہے کہ بچنے والا کیسے بچ نکلا۔

اور تم اے مجاہد بھائی! تم تو خطرات سے بھرے راستے پر چل رہے ہو۔ اس راستے میں خواہشات نفس اور شکو ک وشبہات کے فتنے آڑے آتے ہیں۔ اندھیری رات کی مانند فتنے جو انتہائی صابر شخص کو بھی حیران و پریشان کر دیں اور ہوش مند ایسے نظر آئے گویا نشے میں دھت ہے۔ ایسے فتنے جس میں صبح کو شخص مؤمن اور رات کو کافر بن جاتا ہے۔ اور رات کا مؤمن صبح کو کافر ہو جاتا ہے۔ اپنے دین کو دنیا کے تھوڑے سے فائدے کی خاطر بیچ ڈالتا ہے۔

اس راستے پر غور کرنے والو کو نظر آئے گا کہ جوانوں کی ایک بہت بڑی تعداد اس راستے پر چلتی آئی ہے۔ لیکن ان میں سے بہت کم ہیں جو ثابت قدم رہے ہوں۔ کتنے جوانوں نے سوویت یونین کے خلاف اولین جہاد کے وقت افغانستان کا رخ کیا۔ وہاں کے کوہساروں میں کئی مہینے اور سال گزارے۔ پھر اپنے وطن لوٹے۔ اب دیکھیں ان میں سے کتنے اسی راستہ پر ثابت قدم ہیں؟کیا یہ کم نہیں ہیں!۔ بلکہ کم سے بھی کمتر۔ ان میں سے بہت الٹے پاؤں پھر گئے اور بھاگنے کا راستے تلاش کرنے لگے۔

اسی طرح دیکھیں کہ [یمن کے شہر ]’مکلّا‘ کے دنوں میں جہاد کے لیے نکلنے والے کتنے تھے جو ’انصار الشریعۃ‘ کے ساتھ شامل ہو گئے۔ اور اب اس راستے پر ثابت قدم رہنے والے کتنے رہ گئے ہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ بہت کم۔ اسی لیے نبی اکرم ﷺ نے یہ دعا فرمائی:

اللهم مقلب القلوب ثبت قلوبنا على طاعتك

”اے اللہ، دلوں کو پھیرنے والے، ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت پر ثابت رکھ“۔

اور نبی اکرم ﷺ یہ دعا بکثرت مانگتے تھے۔ سوچیے کہ ایسا کیوں؟

کیونکہ آپ ﷺ بخوبی جانتے تھے اور فرماتے تھے کہ :

قلوب العباد بين أصبعين من أصابع الرحمن يقلبها كيف يشاء

”بندوں کے دل رحمٰن کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں۔ جیسے چاہے انہیں پلٹتا ہے“۔

تو اے مجاہد بھائی! ثابت قدم رہنا ایک مشکل عمل ہے۔ اس لیے یہ دعا ہرگز نہ بھولنا۔

اس راستے پر ٹھوکریں کھانے والے کتنے ہیں جو یہاں وہاں گرے پڑے ہیں۔ ان میں وہ بھی ہیں جو جہاد میں سبقت لے جانے والے تھے۔ حجت یہ پیش کرتے ہیں کہ صورت حال ہم پر ابھی واضح ہوئی ۔ یا یہ کہ ہم نے فلاں کے ہاں غلو پایا۔ یا یہ کہ وہ ایجنسیوں کے ہاتھ میں ہیں۔ یا یہ کہ ان کے انتظامات انتہائی کمزور ہیں۔ یا یہ کہ وہ جلد باز ہیں۔ یا یہ کہ ان کے ہاں علماء نہیں ہیں۔ ۔۔ اور یا یہ یا وہ۔

[مصر کی ]’الجماعہ الاسلامیہ‘ جس نے تصانیف شائع کیں، محنت کی، جہاد کیا۔ آج کہاں ہے! ان کے بعض قائدین ’موقف پر نظر ثانی‘ کے نام پر بہت بری طرح گرے۔ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ۔

ثابت قدمی تو سختی کے وقت معلوم ہوتی ہے۔ احد میں منافقین کا تب ہی پتہ چلا جب انہیں اندازہ ہوا کہ جنگ کی کایہ پلٹی ہے اور غنیمت کا امکان بھی کم ہے۔ پس اللہ سبحانہ وتعالی نے فرمایا:

﴿سَيَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ۠ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰى مَغَانِمَ لِتَاْخُذُوْهَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْكُمْ١ۚ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللّٰهِ﴾

”جب تم لوگ غنیمتیں لینے چلو گے تو جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے وہ کہیں گے ہمیں بھی اجازت دیجیے کہ آپ کے ساتھ چلیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے قول کو بدل دیں“۔ [الفتح: 15]

وہ صرف جیت اور فتح کی صورت میں نظر آتے ہیں۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿الَّذِيْنَ يَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰهِ قَالُوْۤا اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ وَ اِنْ كَانَ لِلْكٰفِرِيْنَ نَصِيْبٌ١ۙ قَالُوْۤا اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَ نَمْنَعْكُمْ مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ فَاللّٰهُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَ لَنْ يَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكٰفِرِيْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ سَبِيْلًا﴾

’’جو تم کو دیکھتے رہتے ہیں اگر خدا کی طرف سے تم کو فتح ملے تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے۔ اور اگر کافروں کو (فتح) نصیب ہو تو ( ان سے) کہتے ہیں کیا ہم تم پر غالب نہیں تھے اور تم کو مسلمانوں )کے ہاتھ) سے بچایا نہیں۔ تو خدا تم میں قیامت کے دن فیصلہ کردے گا۔ اور خدا کافروں کو مومنوں پر ہرگز غلبہ نہیں دے گا۔‘‘ [الفتح: 141]

یہ ہر زمان و مکان میں منافقین کا رویہ ہے۔ گرنے والوں پر اتنا تعجب نہیں ہوتا جتنا ان پر ہوتا ہے جو گرنے والوں کے لیے جواز پیش کرتے ہیں۔

آج کل جوانوں میں ایک فتنہ پیدا ہوا ہے۔ مکڑی کے جالے سے بھی کمزور حجتوں کے بہانے مرتدین کے ہاتھوں تسلیم ہو جانے کا فتنہ ۔ یہ فتنہ انہیں اندھا اور بہرا کر دیتا ہے۔ طواغیت کے ہاتھوں تسلیم ہونے والے ایک شخص سے جس نے کچھ علم بھی حاصل کر رکھا تھا ، جب پوچھا گیا: کیوں تسلیم ہوئے؟

تو جواب دیا کہ میں نے مسئلے کا شرعی، عسکری اور اسٹریٹجک زاویوں سے جائزہ لینے کے بعد ایسا کیا!

والعیاذ باللہ! اللہ سے ثابت قدمی کا سوال ہے۔ شریعت میں کہاں سے تمہیں یہ جواز ملا کہ اگر کسی امیر کے ساتھ اختلاف ہو، چاہے امیر کی ہی غلطی کیوں نہ ہو، کہ تم منہج ہی کو چھوڑ دو اور الٹے پاؤں پھر جاؤ۔ اور ان مرتدین کے ہاتھوں اپنا آپ سپرد کر دو جو دن رات اللہ تعالی کے خلاف اور اس کے اولیاء کے خلاف لڑتےہیں، جنہوں نے بہترین بندگان ِخدا کو قتل کیا ہے، ہرجگہ مجاہدین کو قید و بند میں رکھا ہے اور اسلام کے خلاف کھلم کھلا لڑتے ہیں؟

اے میرے مجاہد بھائی! ایک حقیقت جو لازماً آپ کو جاننی چاہیے کہ آپ اس راستے پر فلاں امیر کے نام پر نہیں نکلے۔ بلکہ فی سبیل اللہ جہاد کے لیے نکلے ہیں۔ اگر امیر کے ساتھ اختلاف ہے تو یہ تمہارے لیے راستے کی رکاوٹ نہ بن جائے۔

پیغمبر پاک ﷺ کی وفات سے جس شخص پر کمزوری طاری ہوئی اس سے اللہ تعالی فرماتے ہیں:

﴿وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ اَفَاۡىِٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ وَ مَنْ يَّنْقَلِبْ عَلٰى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَّضُرَّ اللّٰهَ شَيْـًٔا وَ سَيَجْزِي اللّٰهُ الشّٰكِرِيْنَ

”اور محمد (صلی الله علیہ وسلم) تو صرف )خدا کے) پیغمبر ہیں، ان سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر ہو گزرے ہیں، بھلا اگر یہ مر جائیں یا مارے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ؟ (یعنی مرتد ہو جاؤ؟) اور جو الٹے پاؤں پھر جائے گا تو خدا کا کچھ نقصان نہ کر سکے گا اور خدا شکر گزاروں کو (بڑا) ثواب دے گا“۔ [آل عمران: 144]

استاد سید قطب فی ظلال القرآن میں فرماتے ہیں:

”بے شک وہی خسارے میں ہے، جو راستہ چھوڑنے سے اپنے آپ کو ہی نقصان پہنچاتا ہے۔ اس کے الٹے پھر جانے سے اللہ سبحانہ و تعالی کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ کیونکہ اللہ لوگوں سے اور ان کے ایمان لانے سے بے نیاز ہے۔

لیکن بندوں پر اللہ کی رحمت ہے کہ خود ان کی خوشحالی اور ان کی بھلائی کے لیے یہ منہج ان کے لیے اتارا۔ جو بھی الٹا پھر جاتا ہے اسے اس عمل کی سزا خود اس کی ذات میں اور ارد گرد لوگوں میں بدبختی اور پریشانی کی شکل میں مل جاتی ہے۔ یہاں تک کہ نظام، زندگی اور خلقِ خدا تمام فساد کا شکار نہ ہو جائیں۔ تمام معاملات ٹیڑھے نہ ہو جائیں۔ اور لوگ اس واحد منہج سے الٹے پھرنے کے سبب اپنے کیے کا مزہ نہ چکھ لیں ۔ وہ منہج جس کے تحت زندگی سدھر سکتی ہے۔ جس کے تحت لوگ سدھر سکتے ہیں۔ فطرت اس کےتحت اپنے آپ کے ساتھ امن میں رہ سکتی ہے۔ اور جس کائنات میں یہ فطرت وجود میں آئی تھی اس کے ساتھ بھی امن میں رہ سکتی ہے“۔

جب میں نے دیکھا کہ شیطان نے اپنے جال بچھا رکھے ہیں تاکہ اس راستے پر چلنے والوں کو اس میں پھنسا دے۔ تو میں نے وہ قینچی بنانا شروع کی جس سے یہ جال کٹ سکے اور یہ بھائی اس جال سے بچ نکلیں۔ سو میں نے یہ کتاب لکھی اور میرے لیے یہ کافی ہے کہ اس میں میں نے اہل علم کے بکھرے ہوئے اقوال ہی جمع کیے ہیں تاکہ (مجاہد جہاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟) کے موضوع کا احاطہ ہو سکے۔ پس جب آپ کو ان وجوہات کا علم ہو جائے تو ان میں گرنے سے اپنے آپ کو ضرور بچائیں۔

حضرت حذیفہ بن الیمان ﷢نے فرمایا:

كان الناس يسألون رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الخير وكنت اسأله عن الشر مخافة أن يدركني

”لوگ رسول پاک ﷺ سے خیر کے بارے میں دریافت کرتے تھے۔ اور میں شر کے بارے میں اس ڈر سے کہ میں خود اس میں نہ پڑ جاؤں“۔

[عربی شعر کا مطلب ہے:] میں شر کو شر کی خاطر نہیں جانتا لیکن اس سے بچنے کے لیے۔ کیونکہ جو شر اور خیر کے درمیان فرق نہ کر سکے ا س کا شر میں پڑ جانے کا اندیشہ رہتا ہے۔

یا اللہ! ہمیں اپنے دین پر استقامت دے۔ اے دلوں کو پلٹنے والے اللہ! ہمارے دل اپنے دین پر ثابت رکھ۔ اے دلوں کو پھیرنے والے اللہ! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت پر پھیر دے۔ اے اللہ! ہم شبہات اور شہوات کے فتنوں سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔ اے اللہ! ہم جہنم کے عذاب ، قبر کے عذاب، زندگی اور موت کے فتنے اور مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

ابو البراء الإبی۔

پہلی وجہ: مجاہدین کے ساتھ بغیر قائل ہوئے اور بغیر رغبت کے مل جانا

کئی افراد کو ایسا پائیں گے کہ وہ مخصوص وجوہات کے سبب مجاہدین کے ساتھ ہو لیتے ہیں۔ مثلاً:

  • کیونکہ وہ ان کے ساتھ مانوس ہیں۔ یا چونکہ ان کے اخلاق اچھے ہیں۔

  • کیونکہ انہیں ان میں کوئی خاص شخص پسند ہے۔ چاہے اس کی بہادری کی وجہ سے اور چاہے اپنی رشتہ داری کی وجہ سے۔

  • وہ ان کے ساتھ اس لیے ملے کیونکہ انہیں طواغیت کی جانب سے ایسا برا برتاؤ دیکھنے کو ملا جس سے ان پر اثر پڑا۔ جیسے کہ خود ان پر ظلم ہوا ہو یا ان کے سامنے کسی اور پر۔

  • وہ اس لیے مجاہدین کے ساتھ شامل ہوئے کہ انہوں نے نوجوانوں کو جہاد پر ابھارنے والا مواد پڑھا یا دیکھا تھا۔ عموماً ایسے افراد جلد جہاد چھوڑ جاتے ہیں اگر وہ اپنے تعلق کو مضبوط نہ کریں۔

  • اپنے قبیلے کی وجہ سے مجاہدین سے ملے ہوں۔ مثلاً ان کے قبیلے پر حوثیوں نے یا دیگر طواغیت نے ظلم کیا ہو۔

  • وہ مجاہد جوانوں میں اس لیے شامل ہوئے کہ ان کے علاقے پر حوثیوں نے یا دیگر طواغیت نے زمین تنگ کر دی اور انہیں مجاہدین کے علاوہ کہیں پناہ نہ ملی۔ ممکن ہے کہ انہیں اس راستے کی سختی کا اندازہ نہ تھا۔

اللہ تعالی نے پیغمبروں کے پیروکاروں کو خبر دی ہے کہ انہیں ہمیشہ ایسے افراد کا سامنا ہو گا جو انہیں نا حق برا بھلا کہیں گے، جھوٹی تہمتیں باندھیں گےاور ہر طرح کی اذیت دیں گے۔ خاص کر زبانی۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿لَتُبْلَوُنَّ فِيْۤ اَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ وَ لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْۤا اَذًى كَثِيْرًا وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ﴾

”(اے اہل ایمان) تمہارے مال و جان میں تمہاری آزمائش کی جائے گی۔ اور تم اہل کتاب سے اور ان لوگوں سے جو مشرک ہیں بہت سی ایذا کی باتیں سنو گے۔ اور تم اگر صبر اور پرہیزگاری کرتے رہو گے تو یہ بڑی ہمت کے کام ہیں۔“ (آل عمران: 186)

یہ آیت ہجرت کے بعد مدینہ میں نازل ہوئی جیسا کہ صحیح بخاری میں آیا ہے۔ تو اندازہ لگائیں کہ ہجرت سے پہلے انہیں کتنی ایذا پہنچی تھی؟

اس لیے یہ انتہائی اہم ہے کہ مسلمان حق کو دلیل کی بنا پر جانے۔ تاکہ اسے فتنے اور دشمن کی طرف سے پھیلایا جانے والا پراپیگنڈہ متزلزل نہ کرے۔ پس جو اللہ پر ایمان لائے، طاغوت کا انکار کرے، جہاد کے واجب ہونے کا قائل ہو، اپنے اوپر عائد ذمہ داری کو جان کر مجاہدین کی نصرت کرے، تو بِإذنِ اللہ ثابت قدم رہے گا۔ اسے طواغیت کے جھوٹ اور فتنے زندگی بھر کوئی نقصان نہ پہنچائیں گے۔ ان شاء اللہ۔

اگر یہ بات واضح ہو گئی ہے، تو جو شخص ایسے فتنوں کے مقابلے میں اپنے اندر کمزوری پاتا ہو اسے چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو ٹٹولے۔ اور دیکھے آیا اس نے جہاد کی جو تائید کی اور مجاہدین کی نصرت کی وہ محض جذبات اور جوش میں آ کر کی، آیا یہ تائید دلیل اور عقیدہ سے خالی تھی؟ یا اس نے مجاہدین کی تائید اپنے اوپر عائد نصرتِ جہاد و مجاہدین کی شرعی ذمہ داری اداکرنے کے سبب کی۔پھر وہ دیکھے کہ مجاہدین کیا کہتے ہیں اور کیا دلیلیں پیش کرتے ہیں ۔ پھر ان دلیلوں کو اپنائے۔

ایسے افراد میں سے ایک شخص طاغوت کی جیلوں میں گرفتار رہا پھر رِہا ہوگیا ۔ لیکن رِہا ہونے کے بعد اس راستے پر چلنے والے تمام اشخاص سے کٹ گیا۔ یہاں تک کہ نوجوانوں میں سے جب کوئی اسے سلام کرتا تو کہتا: کیا ہم ایک دوسرے کو جانتے ہیں؟ اور ایسا بیگانہ بنا رہتا جیسے کہ نہ وہ اس کو جانتا ہو اور نہ کبھی اس سے ملا ہو۔

مجاہد کو خوب جان لینا چاہیے کہ جہاد ہر نیک و فاجر کے ساتھ واجب ہے۔ اگر خدا نخواستہ مجاہدین فاجر اور ظالم ہوتے لیکن ان کا جہاد شریعت کے موافق ہوتا تو تب بھی ان کی نصرت اور مدد کرنا واجب ہوتی۔ یہ اہل سنت کا ایسا عقیدہ ہے جس میں کسی نے اختلاف نہیں کیا۔ اس پر قرآن وسنت کی دلیلوں میں کوئی اشکال نہیں۔ یہ تو اگر مجاہدین واقعی فاجر ہوتے جیسا کہ انہیں طواغیت برا بھلا کہتے ہیں۔ حالانکہ اللہ سبحانہ و تعالی اور مؤمن جانتے ہیں کہ یہ جھوٹ اور بہتان ہے! اور یہ جانتے ہیں کہ مجاہدین صادقین اور صابرین ہیں۔ سال بھر روزے رکھتے ہیں اور راتوں کو تہجد پڑھتےہیں۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا جَآءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْهُنَّ﴾

”مومنو! جب تمہارے پاس مومن عورتیں وطن چھوڑ کر آئیں تو ان کی آزمائش کرلو۔“ (الممتحنہ: 10)

امام قرطبی ﷫ تفسیر میں فرماتے ہیں:

”جن کو نبی اکرم ﷺ آزماتے تھے ان میں تین اقوال ہیں۔ ان تین کا خلاصہ یہ ہے:

  1. کہ نبی اکرم ﷺ ان سے قسم لیتے تھے کہ وہ نہ اپنے شوہر سے بغض کی وجہ سے نکلی ہے، نہ ایک جگہ کے بجائے دوسری جگہ تبدیل کرنے کے لیے، نہ دنیا کے طلب میں، نہ کسی مسلمان کے عشق میں۔ اگر وہ یہ قسم اٹھا لیتی تو اس کی ہجرت قبول کر لیتے۔ یہ قول حضرت ابن عباس  ﷠سے منقول ہے۔

  2. کہ آپ ان سے کلمہ شہادت یعنی کہ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی سے آزماتے تھے۔ یہ بھی حضرت ابن عباس ﷠سے منقول ہے۔

  3. کہ آپ انہیں اس آیت کے بعد دوسری آیت میں مذکور بیعت سے آزماتے تھے۔ یہ ام المؤمنین حضرت عائشہ ﷞ کا قول ہے۔ “

پس نیت پر ہر کام کا دار و مدار ہے۔ نیت ہی عمل کی روح ہے۔ عمل تب ہی صحیح ہوتا ہے جب نیت صحیح ہو ۔ اور اگر نیت فاسد ہو تو فاسد ہو جاتا ہے۔ [یہ عمل جو رسول اللہ ﷺ مہاجر خواتین کے ساتھ کرتے تھے ۔ یہ عمل ہر شخص خود اپنے ساتھ کرے اور نفس کو ٹٹولے۔ اور دیکھے وہ کس دلیل کی بنا پر گھر سے نکلا۔]

٭٭٭٭٭

Previous Post

عرب صیہونی… فیصل سے بن زاید تک

Next Post

شہادت کی قبولیت کی شرائط | ۱

Related Posts

مجاہد جہاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟ | وجہ نمبر: چونتیس (۳۴)
حلقۂ مجاہد

مجاہد جہاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟ | وجہ نمبر: سینتیس (۳۷)

4 نومبر 2025
سورۃ الانفال | چودھواں درس
حلقۂ مجاہد

سورۃ الانفال | سولھواں درس

26 ستمبر 2025
مجاہد جہاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟ | وجہ نمبر: چونتیس (۳۴)
حلقۂ مجاہد

مجاہد جہاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟ | وجہ نمبر: چھتیس (۳۶)

26 ستمبر 2025
نئے ساتھیوں کے لیے ہجرت و جہاد کی تیاری
حلقۂ مجاہد

نئے ساتھیوں کے لیے ہجرت و جہاد کی تیاری

17 اگست 2025
مجاہد جہاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟ | وجہ نمبر: چونتیس (۳۴)
حلقۂ مجاہد

مجاہد جہاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟ | وجہ نمبر: پینتیس (۳۵)

14 اگست 2025
سورۃ الانفال | چودھواں درس
حلقۂ مجاہد

سورۃ الانفال | پندرھواں درس

12 اگست 2025
Next Post

شہادت کی قبولیت کی شرائط | ۱

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

جنوری 2026ء
اکتوبر ۲۰۲۵ء

جنوری 2026ء

by ادارہ
20 جنوری 2026

Read more

تازہ مطبوعات

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version