أعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم
بســـم اللہ الرحمٰــــن الرحیـــــم
فَكَيْفَ إِذَا جَمَعْنَاهُمْ لِيَوْمٍ لَّا رَيْبَ فِيهِ وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ(سورۃ آلعمران: ٢٥)
’’ بھلا اس وقت ان کا کیا حال ہوگا جب ہم انہیں ایک ایسے دن ( کا سامنا کرنے) کے لیے جمع کر لائیں گے جس کے آنے میں ذرا بھی شک نہیں ہے اور ہر ہر شخص نے جو کچھ کمائی کی ہوگی وہ اس کو پوری پوری دے دی جائے گی، اور کسی پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ ‘‘
الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علیٰ سید الأنبیاء والمرسلین
محمدٍ وعلی آلہِ وأصحابہ وذریتہ أجمعین، أما بعد!
فقد وَرَدَ فِي حديثٍ رواه عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ ، يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَامَ فِيهِمْ فَذَكَرَ لَهُمْ أَنَّ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللهِ ، وَالإِيمَانَ بِاللَّهِ أَفْضَلُ الأَعْمَالِ ، فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللهِ ، تُكَفَّرُ عَنِّي خَطَايَايَ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ ، إِنْ قُتِلْتَ فِي سَبِيلِ اللهِ ، وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ ، مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ قُلْتَ ؟ قَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللهِ أَتُكَفَّرُ عَنِّي خَطَايَايَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ ، وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ ، مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ ، إِلاَّ الدَّيْنَ ، فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَالَ لِي ذَلِكَ.
یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث آپ کے سامنے پڑھی ہے۔ اس حدیث کی روشنی میں ہم اس وقت اس بات کا جائزہ لیں گے کہ شہادت کی قبولیت کی شرائط کیا ہیں ؟ یا وہ کیا شرائط ہیں کہ جو پوری ہوں تو اس کے بعد ایک شخص عند اللہ شہید قرار پاتا ہے ۔ ہم یہاں دنیا کے فقہی حکم کے اعتبار سے بات نہیں کر رہے، بلکہ وہ شرائط جو اللہ کو پورا ہونا مطلوب ہیں اور جس کے پورے ہونے کے بعد ہی کوئی شخص یہ توقع کر سکتا ہے کہ اس کا مارا جانا عند اللہ شہادت کا درجہ پائے گا ۔اور اس پہ وہ سارے ثواب اور سارے انعامات مرتب ہوں گے جس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی احادیث میں، اور اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ نے قرآن میں وعدہ کر رکھا ہے۔
تو حدیث کا آغاز کرتے ہیں، حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ ایک دن …… قَامَ فِيهِمْ فَذَكَرَ لَهُمْ أَنَّ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللهِ ، وَالإِيمَانَ بِاللَّهِ أَفْضَلُ الأَعْمَالِ ……رسول اکرم ﷺ ایک دن صحابہ کے درمیان کھڑے ہوئے اور ان کے سامنے یہ ذکر کیا، یہ بات بتلائی کہ جہاد فی سبیل اللہ اور ایمان باللہ تمام اعمال سے افضل ہیں، سب سے افضل عمل جہاد فی سبیل اللہ اور ایمان باللہ ہیں۔ تو حدیث کے اگلے ٹکڑے پہ آنے سے قبل پہلے اسی کا جائزہ لے لیں، مختصراً اس پہ سے گزرتے ہیں تاکہ ہماری نگاہوں میں اس عمل کی اہمیت پھر سے تازہ ہوجائے کہ جس عبادت میں ہم سب مصروف ہیں۔حدیث صحیح مسلم میں امام مسلمؒ نے روایت کی ہے ۔
پیارے بھائیو! بہت سی احادیث ہیں اور بہت سی قرآن کی آیات ہیں جو اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ جہاد کتنی غیر معمولی فضائل کی عبادت ہے ۔ اور مشہور حدیث ہے کہ جس کے راوی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں کہ ایک صحابی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ کوئی ایسا عمل مجھے بتائیں ……يعدل الجهاد……کہ جو جہاد کے برابر ہو، مساوی ہو، یہ نہیں کہتے کہ اس سے افضل عمل بتائیں ۔کہتے ہیں کہ کوئی ایسا عمل بتائیں جو برابر ہو صرف اس کے۔ تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ…… لاأجدہ……میں تو ایسا کوئی عمل نہیں پاتا۔ تو افضلیت کے لیے تو بس اتنی بات ہی بہت ہے، کسی نے جہاد کی فضیلت ذہن میں رکھنی ہوتو یہ حدیث آگے بھی چلتی ہے لیکن مفہوم حدیث کا یہیں پہ پہنچ جاتا ہے۔
اسی طرح بخاری کے اندر امام بخاریؒ ایک باب باندھتے ہیں ’’ أفضل الناس مؤمن يجاهد في سبيل الله بنفسه وماله‘‘……کہ وہ باب جس کا عنوان یہ ہے کہ سب سے افضل انسان وہ مومن ہے جو اللہ کے رستے میں جان و مال سے جہاد کرے۔ اور اس کے اندر ایک حدیث آتی ہے جس میں پوچھا جاتا ہے کہ یا رسول اللہ أي الناس أفضل ؟کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! سب سے افضل انسان کون سا ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مؤمن یجاھد فی سبیل اللہ بنفسہ و مالہ……وہ بندۂ مومن جو اللہ کے رستے میں اپنے جان و مال سے جہاد کرے وہ سب انسانوں سے افضل ہے ۔
احادیث تو بہت ساری ہیں لیکن یہ حدیث بھی کسی انسان کے لیے تنہا کافی ہے یہ سمجھانے کے لیے کہ جہاد کی شریعت میں کیا منزلت اور کیا مقام ہے ! اسی طرح ایک حدیث میں حضرت ابوذرؓ بھی روایت کرتے ہیں، حضرت ابو ہریرہؓ بھی روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ سئل النبي صلی اللہ علیہ وسلم أي الأعمال أفضل؟……رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ سب سے افضل عمل کون سا ہے ؟تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ إیمان باللہ و جہاد فی سبیلہ ……اللہ پر ایمان اور اللہ کے رستے میں جہاد ۔تو یہ اور ایسی دیگر بہت سی احادیث اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ جہاد شریعت میں غیر معمولی فضیلت کا حامل ہے۔ اور افضل ترین اعمال میں سے ہیں، بلکہ حدیث کے الفاظ تو یہ بتا رہے ہیں کہ ایمان کے ساتھ ساتھ سب سے افضل عمل جو ہے وہ جہاد فی سبیل اللہ ہے ۔تمام دیگر احادیث جو اس موضوع پر آتی ہیں ان سب کو سامنے رکھیں جس میں سے بعض احادیث میں یہ بات آتی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے افضل عمل کا پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے افضل عمل نماز ہے ،ایک حدیث میں آتا ہے کہ آپ سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایاکہ حج ہے ،تو شارحین حدیث نے سب کو سامنے رکھ کے فرمایا ہے کہ سب ہی اس پر متفق ہیں کہ جب جہاد فرض عین ہو تو پھر سب سے افضل عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے ، ایمان کے بعد کیونکہ ایمان ہوگا تو باقی عمل قبول ہوں گے۔ تو ایمان کے بعد سب سے افضل عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے کہ جب جہاد فرض عین ہو ! تو جب کہ وہ احادیث جن میں نماز کو ،وہ احادیث جن کے اندر حج کو دیگر عبادات سے افضل بتایا گیا تو وہ اس صورت میں ہے کہ جب جہاد فرض کفایہ ہو۔ تو وہ ساری احادیث آپس میں کوئی ٹکراتی ہوئی احادیث نہیں ہیں بلکہ سب احادیث مختلف مواقع کے لیے ہیں جب جہاد فرض کفایہ ہو تو نماز تو فرض عین ہی ہوتی ہے ۔ہر مسلمان پر فرض ہوتی ہے تو اس لیے وہ اس سے زیادہ افضل ہوجاتی ہے ۔والدین کی خدمت فرض عین ہے اس لیے کہ جب جہاد فرض کفایہ ہوتو وہ اس سے افضل ہو جاتی ہے ۔لیکن جب جہاد فرض عین ہو تو پھر ایمان کے بعد اگلی چیز کیا آتی ہے؟ جہاد فی سبیل اللہ! اس سے کوئی افضل نہیں ہے تو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ہم آج ایک فرض عین جہاد میں مصروف ہیں ۔اور اگر اللہ کے ہاں یہ جہاد قبول ہو تو ان شاء اللہ ایمان کے بعد اس زمین پر اس وقت کوئی فرد ہم سے افضل عمل میں مشغول نہیں ہے، بشرطیکہ ہم وہ شرائط پوری کریں جو اللہ کے ہاں اس کی قبولیت کے لیے ضروری ہیں۔تو یہ فضیلتیں ذہن میں ہوں تو انسان اپنی ہمتیں اور حوصلے پھر سے تازہ کرتا ہے ، اور شیطان جو دل میں سستی، وہن اور دیگر کمزوریاں لے کے آتا ہے انسان ان فضائل کو سامنے رکھ کے اپنے دلوں سے اس کو دور کرتا ہے اور یہ پہچانتا ہے کہ رب کا کتنا بڑا میرے اوپر انعام ہے، کتنے افضل عمل کے اندر اللہ سبحانہ و تعالی نے مجھے مصروف کر رکھا ہے ۔
تو بعض علماء یہ بھی فرماتے ہیں کہ یہ جو اختلاف آیا کہ بعض احادیث میں کسی عمل کو اور بعض احادیث میں کسی عمل کو افضل کہا گیا اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مخاطب کا حال دیکھ کر اس سے بات کرتے تھے، ایک ایسا شخص ہے کہ جو پہلے ہی جہاد کر رہا ہے اس کو مزید جہاد کی فضیلت نہ بھی بتائی جائے تو کام چلے گا۔ اس سے پھر بات یہ کی جائے گی کہ اس سے پھر والدین کے حقوق میں کوئی کوتاہی ہوئی ہے تو وہ پھر اس کی فکر کرے، اس کی نمازوں میں کوئی کمی ہے تو وہ اس کو پورا کرے۔ اسی طرح ایک شخص ہے بدو، اعرابی، سادہ سا، بہت لمبی باتیں اس کو یاد بھی نہیں رہتیں۔ تو اس کو صرف نماز بتا کر چھوڑ دیا کہ پہلے اس پہ پکے ہو جاؤ پھر باقی اعمال بعد میں۔ اسی طرح ایک صحابی آتے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے ہیں کہ أوصیني ……مجھے کوئی نصیحت کریں، تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ لا تغضب…… غصہ مت کیا کرو۔ تین مرتبہ وہ پوچھتے ہیں اور تینوں مرتبہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہی جواب دیتے ہیں غصہ مت کیاکرو، کیونکہ جو جس مرض میں مبتلا ہے تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کو ایک طبیب کی طرح علاج بتاتے ہیں کہ جہاں اس سے کمزوری ہورہی ہوتی ہے تو اس کو کمزوری کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔
آگے بڑھتے ہیں ۔ ہم نے کہا کہ اس حدیث میں آتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے درمیان کھڑے ہوتے ہیں اور کھڑے ہوکے فرماتے ہیں کہ ایمان باللہ اور جہاد فی سبیل اللہ یہ سب سے افضل عمل ہیں ۔ تو اس کے ذیل میں صرف ایک قول سامنے رکھتے ہیں علامہ ابو العباس القرطبی مسلم شریف کی شرح میں یہ بات لکھتے ہیں کہ یہاں پر ایمان اور جہاد کو دونوں کو اکٹھا کیا گیا، کہ یہ دو سب سے افضل چیزیں ہیں۔ کیوں اکٹھا کیا گیا؟ کہتے ہیں کہ ایمان و جہاد کو اس لیے اکٹھا کیا گیا کیونکہ تمام اعمال کی درستگی ایمان کے اوپر منحصر ہے۔ ایمان ہوگا تو عمل قبول ہوگا، ایمان نہ ہو تو انسان نعوذباللہ کفر میں، شرک میں مبتلا ہو جائےتو سارے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں۔ پہاڑ جتنے بھی اعمال لائے گا تو کفر کے ساتھ کچھ بھی قبول نہیں، شرک کے ساتھ اللہ کے ہاں کچھ بھی قبول نہیں۔ تو ایمان کوکیوں ذکر کیا گیا اس لیے کہ جہاد سمیت ہر عمل کی قبولیت کی پہلی شرط کیا ہے کہ بندہ مومن ہو، مسلمان ہو ۔ اس کے بعد جہاد کا ذکر آیا، جہاد کا ذکر کیوں آیا ؟ علامہ قرطبی فرماتے ہیں کہ جہاد، باوجود اس کے، کہ ان پانچ ارکان خمسہ میں سے نہیں ہے کہ جس کے اوپر دین کی عمارت کھڑی ہوئی ہے، اس حدیث کے مطابق کہ اسلام پانچ ستونوں پر کھڑا ہے، پانچ ارکان پر کھڑا ہے۔ ان پانچ ارکان میں جہاد نہیں گنوایا گیا، لیکن یہاں فضیلت میں اس سے بھی اوپر رکھ دیا گیا ۔کیوں؟ تو آپ کہتے ہیں کہ اس لیے کہ وہ جو عمارت اسلام کی کھڑی ہو رہی ہے، وہ جو پانچوں ستون کھڑے ہو رہے ہیں، نہ وہ کھڑے ہو سکتے ہیں اور نہ ان کی حفاظت کی جاسکتی ہے، نہ دین دوسرے ادیان پہ غالب آسکتا ہے جب تک جہاد نہ ہو ۔تو ان دونوں کو کیوں اکٹھا کر دیا گیا؟ آپ کہتے ہیں اس لیے کہ ان دونوں اصولوں کو، ان دونوں بنیادوں کو ایمان کو اور جہاد کو اس لیے اکٹھا کر دیا گیا کہ ایمان اعمال کی قبولیت کی بنیاد ہے۔ اسلام کو اگر ایک عمارت سے تشبیہ دیں تو وہ بنیاد ہے کہ جس کے اوپر سارا کچھ کھڑا ہو رہا ہے اور جہاد اس ساری عمارت کا محافظ ہے ان سارے اعمال کا محافظ جہاد ہے ۔جہاد ہوگا تو مدارس بھی محفوظ رہیں گے، تعلیم قرآن کا سلسلہ بھی محفوظ رہے گا، مساجد بھی محفوظ رہیں گی اور باقی دعوت دین کا کام بھی محفوظ رہے گا۔ جس دن جہاد رکے گا، خود بخود یہ سارا کچھ غیر محفوظ ہو جائے گا۔ جان، مال، عزت، ایمان کوئی بھی چیز باقی نہیں بچے گی ۔اس لیے آپ فرماتے ہیں کہ ان دونوں اصولوں کو اس ایک حدیث نے اکٹھا کردیا ہے، ان دونوں بنیادوں کو جن میں ایک پر اسلام کی عمارت کھڑی ہوتی ہے تو دوسرے سے اسلام کی عمارت کی حفاظت ہوتی ہے۔
تو پیارے بھائیو! یہ پہلی بات ہے کہ جو یہ حدیث ہم پر واضح کرتی ہے کہ الحمد للہ، اللہ تعالی نے جہاد جیسے غیر معمولی فضیلت کے حامل فعل میں ہم سب کو چنا، ہم سب کو اس کے اندر مصروف کیا، اللہ تعالی اس کو ہمارے لیے آخرت کے دن نجات کا ذریعہ بنادیں ۔
دوسری بات پیارے بھائی جو یہ حدیث واضح کرتی ہے وہ یہ کہ صحابی (راویٔ حدیث)کیا کہتے ہیں، فضائل سنتے ہیں جہاد کے تو ایک صحابی کھڑے ہوتے ہیں اور کیا کہتے ہیں …… يَا رَسُولَ اللهِ! أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللهِ، تُكَفَّرُ عَنِّي خَطَايَايَ؟ …… اے اللہ کے رسول! آپ کیا فرماتے ہیں کہ اگر میں اللہ کے رستے میں قتل ہوجاؤں، مار دیا جاؤں، شہید ہو جاؤں، تو کیامیرے سارے گناہ معاف ہو جائیں گے ؟
ایک تو اس سوال کی سادگی دیکھیں ، صحابہ کا یہ طرز ہے، ایک تو دین سیکھنے کی حرص ہے اور جہاد کے فضائل سن کے وہ عمل والے لوگ ہیں، وہ صرف سننے کے لیے نہیں سن رہے، ان کو اس سے غرض ہے کہ میرے گناہوں کی معافی ہو جائے۔ ان کو اس سے غرض ہے کہ میں جنت تک پہنچوں۔ فوراً سوال پوچھتے ہیں کہ اگر میں مارا گیا اس رستے کے اندر تو کیا سارے گناہ معاف ہوں گے؟ تکلف بھی کوئی نہیں ہے، کوئی شرم بھی نہیں دین کے معاملے میں سوال کرنے میں، بالکل ایک سادہ سا سوال ہے، اسی طرح سامنے رکھ دیا۔
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں …… نَعَمْ……ہاں اگر تم اللہ کے رستے میں شہید ہوگئے تو تمہارے سارے گناہ معاف ہو جائیں گے۔ تو پہلی بات تو یہ کہ شہادت کی فضیلت کے لیے بس یہی حدیث ہی بہت ہے ناں! امام رازیؒ ایک مقام پر اپنی تفسیرمیں فرماتے ہیں کہ ……هذا غايت ما يطلوبه كل عاقل……یہ انتہا ہے جس کی کوئی بھی عاقل طلب کر سکتا ہے۔ یہ اونچی سے اونچی تمنا ہے جو ایک عقل مند سے عقل مند انسان کر سکتا ہے کہ اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں ۔اس لیے کہ ……کل بنی آدم خطاء…… ہر انسان خطا کار ہے، ہر ایک سے لغزشیں ہو رہی ہیں، اللہ کے حقوق میں اور انسانوں کے حقوق میں کوتاہیاں ہو رہی ہیں، اس سے بڑی کوئی تمنا نہیں ہو سکتی کہ اللہ میرے گناہوں کو معاف کردیں، اور اس سے بڑا کوئی مقام نہیں ہو سکتا کہ اللہ تعالی ہمیں اپنی بخشش عنایت فرمائے اور ہمارے گناہوں کی پردہ پوشی فرمالیں اور ہم کو بخش دیں ۔پس فضیلت کے لیے یہ ایک حدیث ہی بہت ہے کہ شہید کا کیا مقام ہے، شہید کا یہ مقام ہے کہ اس کی ساری خطائیں بخش دی جاتی ہیں ۔اور ایک اور حدیث سامنے رکھتے ہیں اور وہ حدیث یعنی شہادت کے فضائل میں بھی بہت کچھ موجود ہے لیکن وہ حدیث صرف اپنے ایمان کو تازہ کرنے کے لیے اور شہادت کی تڑپ بھی اپنے دلوں میں تازہ کرنے کے لیے وہ حدیث سامنے رکھتے ہیں۔ جس حدیث میں شہید کو ملنے والے انعامات گنوائے گئے ۔مختلف روایات ہیں اس حدیث کی۔ کہیں چھ، کہیں سات، اس روایت کے اندر جو آٹھ انعامات گنوائے جاتے ہیں اس شخص کے کہ جو اللہ کے رستے میں شہید ہوتا ہے ۔امام البانی اس کو سلسلۂ احادیثِ صحیحہ میں نقل کرتے ہیں کہ شہید کے لیے اللہ کے ہاں کچھ انعامات ہیں، کچھ اوصاف ہیں، کچھ نعمتیں ہیں جو اس کو ملیں گی۔
اس کے جسم سے جو پہلا فوارہ نکلتا ہے خون کا، جو پہلا قطرہ باہر نکلتا ہے زور کے ساتھ خون کا اس کے نکلتے ساتھ ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے ۔
یہ پہلا انعام ہے ان آٹھ انعامات میں سے جو اس کو نصیب ہونے ہیں، (یہ وہ انعام ہے) جو تنہا کافی ہے کسی کے لیے ۔
دوسرا انعام۔ جب وہ قتل ہو رہا ہوتا ہے، روح نکلتے وقت اس کو جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھایا جاتا ہے۔
تو علماء فرماتے ہیں کہ اس سے کیا نتیجہ ہوتا ہے کہ روح قبض کرنے کا مرحلہ آسان ہو جاتا ہے۔ اسی لیے حدیث کہتی ہے کہ اس کو اتنی تکلیف ہوتی ہے کہ جیسے تم میں سے کسی کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے ۔تو (اتنی کم تکلیف)کیوں؟ اس لیے کہ اس کو وہ آگے کی نعمتیں نظر آرہی ہیں۔ پتہ نہیں کیا کیا نظر آرہاہوگا ، پتہ نہیں کیسے محلات نظر آرہے ہوں گے، پتہ نہیں کون سی حوریں نظر آرہی ہوں گی، جس کی وجہ سے وہ غم غم نہیں رہتا، وہ تکلیف تکلیف ہی نہیں رہتی۔ علماء ایک مثال دیتے ہیں کہ آپ ایک چڑیا کو پکڑ کر بند کردیں ایک پنجرے کے اندر اور وہ عرصے سے اس تلاش میں ہو کہ کہیں سے کوئی سوراخ کھلے، کہیں سے کوئی موقع ملے اور وہ اس پنجرے سے باہر نکل جائے اور آزادی کی طرف چلی جائے۔ تو اتفاقاً ایسے میں کہیں کوئی سوراخ اس کے اندر کر دیا جائے جو ہو چھوٹا سا سوراخ اور اس کے اندر سے اگر وہ چڑیا نکلنے کی کوشش کرے تو اس کی جالیوں میں پھنسے اور وہ زخمی بھی ہو جائے، لہولہان ہو جائے، لیکن وہ چڑیا یہ دیکھتے ہوئے کہ آگے آزادی کی نعمت ہے، آگے ایک اتنی بڑی دنیا کھلنے لگی ہے، تو وہ زور لگا کر اس میں سے نکلنے کی کوشش کرے اور باہر نکلے تو زخمی ہونے کے باوجود خوشی خوشی باہر نکلے، اس لیے کہ اسے پنجرے سے نکل کر آزادی کی طرف جانا ہے۔ تو یہ اس شہید کا حال ہوتا ہے کہ اس کو جب جنت نظر آرہی ہوتی ہے، اس کی وجہ سے وہ غم اس کے لیے ہلکا ہوجاتا ہے، کچھ نہ کچھ تکلیف تو ہونی ہوتی ہے، لیکن وہ تکلیف ختم ہو جاتی ہے کیونکہ اس کو جنت میں اس کا مقام دکھایا جا رہا ہوتا ہے ۔
تیسرا انعام یہ کہ اس کو ایمان کا شان دار، شاہانہ لباس پہنایا جاتا ہے۔
اب وہ کیسا ہوگا وہ اللہ ہی جانتا ہے، جب وہاں جائیں گے تو پتہ چلے گا کہ وہ کیسا ہوگا۔
حور عین میں سے بہتّر (۷۲)بیویوں سے اس کی شادی کی جائے گی۔
تو یہ چوتھا انعام ہے کہ جو شہید کو دیا جائےگا۔
(قبر کے عذاب سے نجات۔)
قبر کا عذاب۔ وہ قبر کہ جس کے کنارے کھڑے ہو کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اتنا رویا کرتے تھے کہ آنسوؤں سے داڑھی تر ہوجایا کرتی تھی اور جب پوچھا جاتا تھا کہ کیوں؟ تو آپ کہتے تھے کہ یہ پہلا مرحلہ ہے، اگلی دنیا کے مراحل میں سے اور جو اس میں کامیاب ہو گیا اس کے سارے مرحلے آسان ہیں اور جو اس میں ناکام ہو گیا اس کے سارے مرحلے مشکل ۔ تو اس شہید کے لیے اتنی بڑی نعمت ہے کہ قبر کے پورے عذاب سے اس کی خلاصی ہو جاتی ہے بچا لیاجاتا ہے ۔
(قیامت کی بڑی پریشانی سے نجات۔)
پھر قیامت کے دن کی بڑی پریشانی کہ جب سب کو اپنی اپنی پڑی ہوئی ہوگی اس بڑی پریشانی کے دن وہ امن سے ہوگا، وہ اطمینان سے ہوگا ۔
ساتواں اس کو جو انعام ملے گا ۔ (اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جائے گا۔)
اس کی فضیلت، اس کا مقام اللہ کے ہاں ظاہر کرنے کے لیے اس کے سر پر قیامت کے دن وقار کا تاج رکھا جائے گا ۔ایسا تاج جس کا ایک یاقوت، اس کا ایک موتی دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سب سےبہتر ہوگا ۔اور ایسے نجانے کتنے موتی اس کے اندر جڑے ہوئے ہوں گے ۔
اور آٹھواں انعام جو گنوایا گیا ہے ، وہ یہ کہ اپنے گھر والوں میں سے ستّر (۷۰) لوگوں کی شفاعت کی اس کو اجازت دی جائے گی ۔
تو یہ آٹھ انعامات ہیں اس سے زیادہ کیا ہے جو کوئی انسان تمنا کر سکتا ہے یا بندہ مومن چاہ سکتا ہے! تو کیوں کوئی جہاد پر نہ آئے، کیوں کوئی اس رستے پر نہ نکلے اور کتنا محروم ہے دنیا کےاندر!
ہمارا یہ حال ہوتا ہے، انسان کی طبیعت ہے، انسان بہتر سے بہتر کی طرف لپکتا ہے فطرتاً۔ اللہ نے ایسا بنایا ہے۔ میں کل پڑھ رہا تھا شیخ ابو ولید (فلسطینی)اللہ ان کی حفاظت فرمائے، ان کی ایک کتاب ہے۔ اس میں ایک یہ بات لکھتے ہیں کہ جانوروں اور انسانوں کی تخلیق میں ایک بڑا واضح فرق ہے۔ اور وہ یہ کہ بیشتر جانور چوپائے ہوتے ہیں، چار ٹانگوں پر چلتے ہیں، جھک کر چلتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ علماء نے لکھا ہے کہ وہ اس لیے جھک کر چلتے ہیں اور ان کا منہ زمین کے بہت قریب ہوتا ہے اس لیے کہ ان کی کل دنیا بس یہ دنیا ہے اور اس میں سے اپنی خواہشات پوری کرنا، زمین سے چپک کر رہنا، یہاں سے متمتع ہونا، یہاں کی دنیا سے لطف اندوز ہونا، بس یہ اس کی کل دنیا ہوتی ہے ۔انسان کو مختلف بنایا گیا، انسان کو دو ٹانگوں پر سیدھا کھڑا کیا اور کہتے ہیں کہ علماء نےلکھا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے انسان کی فطرت میں یہ ڈالا ہے کہ وہ بلندی کی طرف، ترقی کی طرف، اونچائی کی طرف بڑھنا چاہتا ہے۔ آگے سے آگے جانا چاہتا ہے تو یہ انسان کی فطرت ہے۔ دنیا کے اندر دیکھیں کہ ایک بھی ایم اے کر کے سکون نہیں آتا، چار چار چھ چھ ایم اے کی ڈگریاں لوگوں نے جمع کی ہوئی ہوتی ہیں، حالانکہ ایک سے بھی گزارا ہوتا ہے، ایک چڑیا ہوتی ہے اور ایک گھونسلہ بناتی ہے اور اس کے لیے وہ کافی ہو جاتا ہے۔انسان کے دس دس گھر بھی ہوتے ہیں اور اس کو پھر بھی سکون نہیں آتا۔ وہ گیارہویں کی تلاش میں ہوتا ہے۔ تو یہ زیادہ سے زیادہ آگے سے آگے، بہتر سے بہتر کی تڑپ ہوتی ہے انسان کو۔ یہ انسان کی فطرت میں ہے، لیکن شریعت اس تڑپ کو پھیرتی ہے آخرت کی طرف اور یہ چاہتی ہے کہ انسان کی، مسلمان کی تربیت اس طرز پر ہو کہ دنیا میں کم سے کم پر بھی گزارا کرنے پر راضی ہو، لیکن آخرت میں اونچی سے اونچی چیز (کے لیے کوشش کرے)۔ کیسا مومن ہے جو دنیا کے لیے اعلیٰ سے اعلیٰ چیز چاہتا ہے اور آخرت میں کم سے کم پر راضی ہے ؟! ہونے کو تو جنت میں کسی کو کوڑا رکھنے کی بھی جگہ مل جائے تو بہت ہے، لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں کہ اللہ سےفردوس مانگو، اللہ سے جنت الفردوس طلب کیا کرو ، اللہ سے قریب سے قریب تر ہونے کی کوشش کرو۔ انسان اعلیٰ سے اعلیٰ چیز اللہ سے مانگے۔ ہمتیں بلند رکھے، عزائم بلند رکھے تو وہ کیسا صالح آدمی ہے، وہ کیسا اللہ کا بندہ ہے جو اپنے آپ کو متقی سمجھتاہے اور دیگر عبادات میں مصروف ہے اور جہاد جیسی عظیم الشان عبادات کو چھوڑ کر بیٹھا ہوا ہے ۔ایسی عبادت کہ جس کے اندر وہ سارا کچھ مل رہا ہو جو اور کسی عبادت میں ملنے کا امکان نہیں ہے۔ تو وہ کیوں اس کو چھوڑے گا چاہے، جہاد فرضِ عین نہ بھی ہو تو اس کے یہ فضائل دیکھتے ہوئے اس کا دل یہ چاہتا ہو کہ اس نے آخرت میں رب کو راضی کرنا ہے، تو اس کی طرف لپکنا چاہیے اور جو اس رستے میں پہلے ہی ہیں ان کے لیے اس رستے کی قدر میں اضافہ ہو جانا چاہیے۔
اسی طرح ایک اور حدیث ہے، بس اسی پر اکتفا کریں گے جہاد کے فضائل سے اور شہادت کے فضائل کے حوالے سے، بخاری کی حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص جنت میں ایک دفعہ چلا جائے گا اس میں سے کوئی بھی یہ نہیں چاہے گا کہ بھلے دنیا کا سب کچھ ہی، دنیا کی سب چیزیں اس کو دے دی جائیں تو بھی واپس دنیا میں لوٹ جائے۔ ساری دنیا کا مالک اس کو بنا کر بھیجا جائے تو وہ اس پر بھی راضی نہیں ہوگا۔ کیوں؟ کوئی راضی ہو دنیا کے اندر، جس نے میٹرک بھی پاس کیا ہوپھر بھی پوچھیں کہ دوبارہ میٹرک کا امتحان پاس کر لے اچھا گریڈ آجائے، تو اب دوبارہ ذرا اس سے گزرے ایک سال اور دوبارہ یہ ساری پڑھائی کرے، دن رات یہ محنت کرے، تو کوئی آدمی اس کے لیے راضی نہ ہوگا۔ اگر کوئی فیل ہوجائے کسی غلطی کی وجہ سے، کوئی ٹیکنیکل وجہ سے، آپ پھر سے امتحان دیں تو دنیا کے اس حقیر سے امتحان کے لیے کوئی نہیں راضی ہوتا۔ تو کسی کو اگر کہا جائے کہ اس دنیا کے اندر جہاں تکلیفیں آزمائشیں اور سب سے بڑی آزمائش یہ کہ شیطان بھی کھینچ رہا ہے، نفس بھی کھینچ رہا ہے، ہر چیز اپنی طرف بلا رہی ہے اس میں اللہ کی عبادت پر قائم رہنا، اس کشمکش سے نکل کر ایک بندہ جنت تک پہنچ جائے، عذاب سے بچ جائے، اللہ کی پکڑ سے بچ جائے، پھر اس کو کہا جائے کہ واپس جاؤ ! کون راضی ہوگا اس پر؟ کوئی بھی راضی نہیں ہوگا ، إلّا شہید ، سوائے شہید کے۔ ایک وہ، وہاں پر وہی دیوانہ ہوگا جو کہے گا کہ میں نے واپس جانا ہے اور وہ کیوں کہے گا کہ میں نے واپس جانا ہے، کیا کہے گا ، وہ تمنا کرے گا کہ میں دنیا میں جاکے دس مرتبہ یہی کام کروں، دس مرتبہ قتل ہو کےجنت میں پہنچوں۔ پھر واپس جاؤں، قتل ہوکے جنت پہنچوں اور پھر واپس جاؤں……کیوں ؟ کیونکہ شہادت کے بعد اس کو جومقام ملا ہوگا، وہ اس کرامت کو دیکھتے ہوئے، اس اونچی عزت اور مقام کو دیکھتے ہوئے وہ چاہے گا کہ میں دس مرتبہ یہی مقام پاؤں ، مزید اجر ملے ، مزید اجر ملے۔ بار بار اس لطف کو پاؤں جو شہادت کے اندر ملتا ہے ۔
تو پیارے بھائیو ! علماء یہ فرماتےہیں ، شیخ علی الخضیر اس کے ذیل میں فرماتے ہیں کہ شہادت کی فضیلت کے بارے میں اس سے بڑی کوئی حدیث نہیں ہے ۔ یہ ایک حدیث جو ہے ناں شہادت کی فضیلت سمجھانے کے لیے کافی ہے کہ جنت میں جا کے اس کو چین نہیں آرہا واپس دنیا میں آنا چاہتا ہے، شہادت کا مزہ دوبارہ چکھنے کی خاطر ۔ کہتے ہیں کہ یہ ایک حدیث کافی ہے ۔
یہ سارے فضائل ایک طرف ، لیکن ساتھ ہی ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار شرطیں بتائیں کہ جس کو شہادت قبول کروانی ہے، اس کو اپنے اندر یہ چار شرطیں پیدا کرنی ہوں گی ۔اور یہ چار شرطیں یہ بات واضح کرتی ہیں کہ ہر مسلمان جو کافر کے ہاتھ سے مارا جائے وہ شہید نہیں ہے ۔ہر مسلمان جو قتل ہو جائے وہ شہید نہیں ہے، شہادت کے لیے کچھ اوصاف ہیں جو پورے کرنے پڑیں گے، تب اللہ کے ہاں وہ شہادت قبول ہوگی ۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
٭٭٭٭٭







