یہ مضمون حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب نور اللہ مرقدہ کی تصنیف ’خاتم النبیینﷺ‘ کے مختلف اقتباسات ہیں، جن کا انتخاب مولوی خوشی محمد اعجاز صاحب نے کیا۔ یہ مضمون انوارِ مدینہ (لاہور)، ربیع الاول ۱۳۹۳ھ کے شمارے میں چھپا تھا، افادیت کے پیشِ نظر ہم اسے یہاں نشر کر رہے ہیں۔ (ادارہ)
آپ ﷺ کی سیرتِ مبارکہ پر ایک طائرانہ نظر ڈالنے سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح سامنے آجاتی ہے کہ جو کمالات انبیائے سابقین کو الگ الگ دیے گئے تھے ، وہ سب کے سب اکٹھے کر کے اور ساتھ ہی اپنے انتہائی اور فائق مقام کے آپ کو عطا کیے گئے۔ اور جو آپ میں مخصوص کمالات ہیں وہ الگ ہیں۔
حسنِ یوسف، دمِ عیسیٰ، یدِ بیضا داری
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری
چنانچہ ذیل کی چند مثالوں سے… جو شانِ خاتمیت کی ہزاروں امتیازی خصوصیات میں سے چند کی ایک اجمالی فہرست اور سیرتِ خاتم الانبیاء کے بے شمار ممتاز اور خصوصی مقامات میں سے چند کی موٹی موٹی سرخیاں ہیں… اس حقیقت کا اندازہ لگایا جاسکے گا کہ اولین و آخرین میں سے جس باکمال کو جو کمال دیا گیا، اس کمال کا انتہائی نقطہ حضورﷺ کو عطا فرمایا گیا۔ مثلاً،
اگر اور انبیاء نبی ہیں تو آپﷺ خاتم النبیین ہیں۔
﴿مَا كَانَ مُحَـمَّـدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ ۭ ﴾ [الأحزاب:۴۰]
اگر اور انبیاء کی نبوتیں مرجعِ اقوام و ملل ہیں تو آپﷺ کی نبوت اس کے ساتھ ساتھ مرجعِ انبیاء ورسل بھی ہے۔
﴿وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ النَّبِيّٖنَ لَمَآ اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَلَتَنْصُرُنَّهٗ ﴾
’’اور یاد کرو کہ جب اللہ نے نبیوں سے عہد لیا کہ جو کچھ میں نے تم کو دیا کتاب ہو یا حکمت، پھر آوے تمہارے پاس کوئی رسول کہ سچا بتاوے تمہاری پاس والی کتاب کو تو اس پر ایمان لاؤگے اور اسکی مدد کرو گے‘‘۔[آل عمران:۸۱]
اگر اور انبیاء عابد ہیں تو آپ ﷺ کو ان عابدین کا امام بنایا گیا۔
ثم دخلت بیت المقدس فجمع لي الأنبیاء فقدمني جبریل حتی أممتھم۔ [نسائی عن أنس]
’’پھر میں داخل ہوا بیت المقدس میں اور میرے لیے تمام انبیاء کو جمع کیا گیا تو مجھے جبریل علیہ السلام نے (امامت کے لیے) آگے بڑھایا ،یہاں تک کہ میں نے تمام انبیاء کی امامت کی‘‘۔
اگر اور انبیاء اور ساری کائنات مخلوق ہیں تو آپﷺ مخلوق ہونے کے ساتھ ساتھ سببِ تخلیق کائنات بھی ہیں۔
فلولا محمد ما خلقت آدم ولا الجنۃ ولا النار۔ [المستدرك]
’’اگر محمدﷺ نہ ہوں (یعنی میں انھیں پیدا نہ کروں) تو آدم کو پیدا کرتا اور نہ جنت ونار کو‘‘۔
اگر اور انبیاء کو شفاعتِ صغریٰ یعنی اپنی اپنی قوموں کی شفاعت دی جائے گی تو حضورﷺ کو شفاعتِ کبریٰ یعنی تمام اقوامِ دنیا کی شفاعت دی جائے گی۔
اذھبوا إلی محمد فیأتون فیقولون یا محمد أنت رسول اللہ وخاتم النبیین غفر لك اللہ ما تقدم من ذنبك وما تأخر فاشفع لنا إلی ربك۔ [مسند أحمد عن أبي ھریرۃ]
شفاعت کے سلسلہ میں اس طویل حدیث میں ہے کہ اولین و آخرین کی سرگردانی پر اور طلبِ شفاعت پر سارے انبیاء جواب دیں گے کہ ہم اس میدان میں نہیں بڑھ سکتے اور لوگ آدم سے لیکر تمام انبیاء ورسل تک سلسلہ وار شفاعت سے عذر سنتے ہوئے حضرت عیسیٰ تک پہنچیں گے، اور طالبِ شفاعت ہوں گے تو فرمائیں گے کہ ’جاؤ محمدﷺ کے پاس‘ تو آدم کی ساری اولاد آپﷺ کے پاس حاضر ہوگی، اور عرض کرے گی کہ اے محمدﷺ! آپ اللہ کے رسول ہیں اور خاتم الانبیاء ہیں، (گویا آج سارے عالم کو رسالتِ محمدیﷺ اور ختمِ نبوت کا اقرار کرنا پڑے گا) آپﷺ کی اگلی اور پچھلی لغزشیں سب پہلے ہی معاف کردی گئی ہیں (یعنی آپﷺ کےلیے اس عذر کا موقع نہیں جو ہر نبی نے کیا کہ میرے اوپر فلاں لغزش کا بوجھ ہے، میں شفاعت نہیں کرسکتا، کہیں مجھ سے ہی باز پرس نہ ہونے لگے) اس لیے آپﷺ پروردگار سے ہماری شفاعت فرمائیں، تو اسے آپﷺ بلا جھجک اور بلا معذرت کے قبول فرمالیں گے اور شفاعتِ کبریٰ کریں گے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے کہ) تمام انبیاء قیامت کی ہولناکی کے سبب شفاعت سے بچنے کی کوشش کریں گے اور لست لھا، لست لھا (میں شفاعت کا اہل نہیں ہوں) کہہ کر پیچھے ہٹ جائیں گے، تو حضورِ اقدسﷺ اس دعوے کے ساتھ أنا لھا، أنا لھا (میں اس کا اہل ہوں ) کہہ کر آگے بڑھیں گے اور شفاعتِ عامہ کا مقام سنبھالیں گے۔
اگر اور انبیاء متبوعِ امم و اقوام تھے تو حضورﷺ متبوعِ انبیاء ورسل تھے۔
لو کان موسی حیا ما وسعہ إلا إتباعي۔ [مشکوۃ]
’’اگر موسی علیہ السلام آج زندہ ہوتے تو انھیں میرے اتباع کے سوا چارۂ کار نہ تھا‘‘۔
اگر اور انبیاء اپنے اپنے قبیلوں اور قوموں کی طرف مبعوث ہوئے تو آپﷺ تمام اقوام اور تمام انسانوں کی طرف مبعوث فرمائے گئے۔
کان النبی یبعث إلی قومہ خاصة وبعثت إلی الناس کافة۔
’’ہر نبی خصوصیت سے اپنی ہی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا، اور میں سارے انسانوں کی طرف بھیجا گیا ہوں‘‘۔
قرآن میں ہے:
﴿وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَاۗفَّةً لِّلنَّاسِ﴾ [سبأ:۲۸]
’’اور نہیں بھیجا ہم نے تمہیں اے پیغمبر مگر سارے انسانوں کے لیے‘‘۔
اگر انبیاء محدود حلقوں کے لیے رحمت تھے، تو آپﷺ سارے جہانوں کے لیے رحمت تھے۔
﴿وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ ﴾ [الأنبیاء:۱۰۷]
اگر اور انبیاء کو ’ذکر‘ دیا گیا کہ مخلوق انھیں یاد رکھے، تو آپﷺ کو ’ رفعتِ ذکر‘ دی گئی کہ زمینوں اور آسمانوں، دریاؤں اور پہاڑوں، میدانوں اور غاروں میں آپ کا نام علی الاعلان پکارا جائے۔ اذانوں اور تکبیروں، خطبوں اور خاتموں، وضو و نماز، اوراد واشغال اور دعاؤں کے افتتاح و اختتام میں آپ کے نام اور منصبِ نبوت کی شہادت دی جائے۔
﴿وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ﴾ [النشراح:۴]
’’اور ہم نے اے پیغمبر تمہارا ذکر اونچا کیا‘‘۔
اور حدیثِ ابو سعید خدری:
قال لي جبریل قال اللہ إذا ذکرت ذکرت معي۔ [ابن جریر وابن حبان]
’’مجھے جبریل نے کہا کہ حق تعالیٰ نے فرمایا کہ (اے پیغمبر) جب آپ کا ذکر کیا جائے گا تو میرے ساتھ کیا جائے گا، میرے ساتھ آپ کا بھی ذکر ہوگا‘‘۔
اگر اور انبیاء کو عملی معجزات (عصائے موسیٰ، یدِ بیضاء، احیائے عیسیٰ، نارِ خلیل، ناقۂ صالح، ظُلّہ شعیب وغیرہ) دیے گئے جو آنکھوں کو مطمئن کرسکے، تو آپﷺ کو ایسے سینکڑوں معجزات کے ساتھ علمی معجزہ (قرآن) بھی دیا گیا، جس نے عقل وقلب اور ضمیر کو مطمئن کیا۔ اگر اور انبیاء کو ہنگامی معجزات ملے جو ان کی ذات کے ساتھ ختم ہوگئے، تو حضورﷺ کو دوامی معجزہ دیا گیاِ، جو تا قیامت اور بعدالقیامت باقی رہنے والا ہے۔
﴿ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ ﴾
اگر محشر میں اور انبیاء کے محدود جھنڈے ہوں گے، جن کے نیچے صرف انھی کی قومیں اور قبیلے ہوں گے تو آپﷺ کےعالمگیر جھنڈے کے نیچے جس کا نام ’لواء الحمد‘ ہوگا، آدماور ان کی ساری ذریت ہوگی۔
آدم ومن دونه تحت لوائي یوم القیامۃ ولا فخر۔
اگر حضرت ابرہیم علیہ السلام کو حقائقِ ارض و سماء دکھلائی گئیں:
﴿وَكَذٰلِكَ نُرِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ﴾
’’اور ایسے ہی دکھلائیں گے ہم ابرہیم کو آسمان و زمین کی حقیقتیں‘‘
تو حضورﷺ کو ان آیات کے ساتھ حقائقِ الہیہ دکھلائی گئی:
﴿ لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا ﴾
’’تاکہ ہم دکھلائیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو شبِ معراج میں اپنی خاص نشانیاں قدرت کی۔‘‘
اگر حضرت ابراہیم پر نارِ نمرود اثر نہ کرسکی تو حضورﷺ کے کئی صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو آگ نہ جلا سکی جس پر آپﷺ نے فرمایا:
الحمد للہ الذي جعل في أمتنا مثل إبراھیم الخلیل۔
’’خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہماری امت میں ابراہیم خلیل کی مثالیں پیدا فرمائیں‘‘۔
عمار بن یاسر کو مشرکینِ مکہ نے آگ میں پھینک دیا، حضورﷺ ان کے پاس سے گزرے، تو ان کے سر پر ہاتھ رکھا اور فرمایا :
یا نار کوني بردا وسلاما علی عمار کما کنت علی إبراھیم۔ [عن عمرو بن میمون، خصائص کبریٰ]
’’اے آگ! عمار پر برد وسلام ہوجا، جیسے تو ابراہیم پر ہوگئی تھی‘‘۔
ذؤیب ابن کلیب کو اسود عنسی نے آگ میں ڈال دیا اور آگ اثر نہ کرسکی۔ ایک خولانی کو (جو قبیلہ خولان کا فرد تھا)اسلام لانے پر اسکی قوم نے آگ میں ڈال دیا تو آگ اسے نہ جلا سکی۔ (ابن عساکرعن جعفر ابی وحشیہ)
اگر حضرت موسیٰ کے اصحاب کو بحرِ قلزم میں راستے بناکر بمعیتِ موسیٰ گزار دیا گیاتو حضورﷺ کے صحابہ کو بعد وفاتِ نبوی دریائے دجلہ کے بہتے ہوئے پانی میں سے راہیں بنا کر گھوڑوں سمیت گزارا گیا (فتحِ مدائن کےموقع پر)۔
اگر حضرت روح اللہ کے ہاتھ پر قابلِ حیات پیکروں مثلاً پرندوں کی ہیئت یا انسانوں کی مردہ نعش میں جان ڈالی گئی، تو حضورﷺ کے ہاتھ پر ناقابلِ حیات کھجور کے سوکھے تنے میں حیات آفرینی کی گئی۔ نیز آپﷺ کے اعجاز سے دروازہ کے کواڑوں نے تسبیح پڑھی، اور دستِ مبارک میں کنکریوں کی تسبیح کی آوازیں سنائی دیں۔ ( خصائصِ کبریٰ )
اگر حضرت مسیح کے ہاتھ پر زندہ ہونے والے پرندوں میں پرندوں ہی کی سی حیات آئی اور وہ پرندوں ہی کی سی حرکات کرنے لگے، تو آپﷺ کے ہاتھ پر جی اٹھنے والے کھجور کے سوکھے تنے میں انسانوں بلکہ کامل انسانوں کی سی حیات آئی کہ وہ عارفانہ گریہ و بکاء اور عشق الٰہی میں فنائیت کی باتیں کرتا ہوا اٹھا۔وہاں حیوان کو حیوان ہی نمایاں کیا گیااور یہاں سوکھی لکڑی کو کامل انسان بنا دیا گیا۔
حس اسطنِ حنانہ از ہجرِ رسول
نالہ ہامی زد چوار بابِ عقول
یہ سارے امتیازی فضائل و کمالات جو جماعتِ انبیاء میں آپﷺ کو اور آپﷺ کی نسبتِ غلامی سے امتوں میں اس امت کو دیے گئے تو اس کی بناء ہی یہ ہے کہ اور انبیاء نبی ہیں اور آپ خاتم الانبیاء ہیں، اور امتیں امم اور اقوام ہیں اور یہ امت خاتم الامم اور خاتم الاقوام ہے۔ اور انبیاء کی کتب آسمانی کتب ہیں اور آپ کی لائی ہوئی کتاب خاتم الکتب ہے۔اور ادیان ادیان ہیں اور یہ دین خاتم الادیان ہے۔اور شرائع شریعتیں ہیں اور یہ شریعت خاتم الشرائع ہے۔ یعنی آپﷺ کی خاتمیت کا اثر آپ کے سارے کمالات وآثار میں رچا ہوا ہے۔پس یہ امتیازی خصوصیات محض نبوت کے اوصاف نہیں بلکہ ختمِ نبوت کی خصوصیات ہیں۔ صلی اللہ علیہ وسلم!
٭٭٭٭٭









