نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!

سیرت محمدی ﷺ کی عملی عزیمت

by مولانا سید سلمان ندوی
in اکتوبر 2021, ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
0

کام اور عمل

صاحبو! محمد رسول اللہ ﷺ کی پیروی کس چیز میں اور کیوں کرنی چاہیے اس کے لیے آج ہم کو سیرۃ نبوی علی صاحبہا السّلام کا عملی پہلو دکھانا ہے، یہ انبیائے کرام اور بانیان مذاہب کی موجودہ سیرتوں کا وہ باب ہے جو تمام تر خالی اور سادہ ہے لیکن محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت کا یہی باب سب سے بڑا اور ضخیم ہے اور تنہا یہی ایک معیار اس فیصلہ کے لیے کافی ہے کہ نبیوں کا سردار اور رسولوں کا خاتم کون ہو سکتا ہے، مفید نصیحتوں، میٹھی باتوں اور اچھی اچھی تعلیموں کی دنیا میں کمی نہیں، کمی جس چیز کی ہے وہ کام اور عمل ہے۔

موجودہ مذاہب کے شارعوں اور بانیوں کی سیرتوں کے تمام صفحے پڑھ جاؤ، دلچسپ تھیوریاں ملیں گی، دلآویز حکایتیں ملیں گی۔ خطیبانہ بلند آہنگیاں ملیں گی۔ تقریر کا زور و شور اور فصاحت و بلاغت کا جوش نظر آئے گا، مؤثر تمثیلیں تھوڑی دیر کے لیے خوش کر دیں گی، مگر جو چیز نہیں ملے گی، وہ عمل، کام اور اپنے احکام و نصائح کو آپ برت کر اور کر کے دکھانا ہے۔

اخلاق کا عظیم مرتبہ

انسان کی عملی سیرت کا نام ’’خلق‘‘ (اخلاق) قرآن کے سوا اور کس مذہب کے صحیفہ نے اپنے شارع کی نسبت اس بات کی گواہی دی ہے کہ وہ اپنے عمل کے لحاظ سے بھی بدرجہا بلند انسان تھا۔ لیکن قرآن نے صاف کہا اور دوست دشمن کے مجمع میں علی الاعلان کہا:

﴿وَاِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَيْرَ مَمْنُوْنٍ۝ وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ۝﴾

’’(اے محمدﷺ!) بے شک تیری مزدوری نہ ختم ہونے والی ہے اور بے شک تو بڑے (درجہ کے ) اخلاق پر ہے۔‘‘ [القلم: ۳، ۴]

یہ دونوں فقرے گو نحو میں معطوف و معطوف علیہ ہیں، لیکن درحقیقت اپنے اشارۃ النص اور ترکیب کلام کے لحاظ سے علت و معلول ہیں، یعنی دعویٰ اور دلیل ہیں، پہلے ٹکڑے میں آپ ﷺ کے اجر کے نہ ختم ہونے کا دعویٰ ہے اور دوسرے ٹکڑے میں آپ ﷺ کے عمل اور اخلاق کو دلیل میں پیش کیا گیا ہے، یعنی آپ ﷺ کے اعمال اور آپ ﷺ کے اخلاق خود اس کی دلیل ہیں کہ آپ ﷺ کے اجر کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہو گا۔ مکہ کا اُمی معلّم ﷺ پکار کر کہتا تھا۔

﴿لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ ﴾

کیوں تم کہتے ہو جو کرتے نہیں۔ [الصف: ۲]

اور اس اعلان کا اس کو حق تھا کیونکہ وہ جو کچھ کہتا تھا اس کو کر کے دکھا دیتا تھا۔

آنحضرت ﷺ کی شفقت و مہربانی

یہ آنحضرت ﷺ کی نرم دلی کا متواتر بیان ہے، جو دعویٰ اور دلیل کے ساتھ خود صحیفۂ الہٰی میں موجود ہے، کہ اگر آپ نرم دل اور رحیم نہ ہوتے تو یہ وحشی، نڈر، بے خوف اور درشت مزاج عرب کبھی آپ کے گرد جمع نہ ہوتے۔ دوسری جگہ ارشاد ہے:

﴿لَقَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِيْزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيْصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ؁﴾

’’تمہارے پاس خود تم میں سے ایک پیغمبر آیا جس پر تمہاری تکلیف بہت شاق گزرتی ہے، تمہاری بھلائی کا وہ بھوکا ہے، ایمان والوں پر نہایت شفیق اور مہربان ہے۔‘‘ [التوبہ: ۱۲۸]

اس آیت پاک میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے ان ترحمانہ جذبات کا ذکر فرمایا ہے جو تمام بنی نوع اور تمام بنی آدم کے ساتھ تھے، چنانچہ فرمایا کہ اے لوگو! تمہارا تکلیف و مصیبت اٹھانا، حق کو قبول کرنے سے انکار کرنا اور اپنی حالت گنہگاری پر اس طرح ڈٹے رہنا رسول ﷺ پر شاق ہے اور تمہاری بھلائی اور خیر طلبی کا وہ بھوکا ہے۔ بنی نوع انسان کے ساتھ یہی خیر خواہی تمہاری دعوت و تبلیغ اور نصیحت پر اس کو آمادہ کرتی ہے اور جو لوگ اس کی دعوت اور پکار کو سن لیتے ہیں وہ ان کے ساتھ شفقت اور مہربانی سے پیش آتا ہے۔ غرض اس آیت پاک میں اس بات کی شہادت ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ تمام بنی نوع انسان کے خیر خواہ اور خیر طلب تھے اور مسلمان پر خصوصیت کے ساتھ مہربان اور شفیق تھے۔

یہ آپ کے عملی اخلاق کے متعلق آسمانی شہادتیں ہیں۔

قرآن کی عملی تفسیر

قرآن پاک، اسلام کے احکام اور آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے جو تعلیمات انسانوں کو پہنچائی گئیں، ان کا مجموعہ ہے بحیثیت ایک عملی پیغمبر کے آنحضرت ﷺ کی سیرت مبارک درحقیقت قرآن پاک کی عملی تفسیر ہے، جو حکم آپ ﷺ پر اتارا گیا، آپ ﷺ نے خود اس کو کر کے بتایا۔ ایمان، توحید، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، صدقہ، خیرات، جہاد، ایثار، قربانی، عزم، استقلال، صبر، شکر، ان کے علاوہ اور حسن عمل و حسن خلق کی باتیں جس قدر آپ ﷺ نے فرمائیں ان کے لیے سب سے پہلے آپ نے اپنا ہی نمونہ پیش فرمایا۔ جو کچھ قرآن میں تھا، وہ سب مجسم ہو کر آپ ﷺ کی زندگی میں نظر آیا۔ چند صحابیؓ حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا ام المومنین حضور ﷺ کے اخلاق اور معمولات بیان فرمائیے۔ ام المومنین جواب میں کہتی ہیں، کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا ہے؟

كان خلق رسول الله صلى الله عليه وسلم القرآن

’’رسول اللہ ﷺ کا اخلاق ہمہ تن قرآن تھا۔‘‘ [ابوداؤد]

قرآن الفاظ و عبارت ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت اس کی عملی تفسیر۔

بعثت سے قبل آپ کے اوصاف

انسان کی اخلاق، عادات اور اعمال کا بیوی سے بڑھ کر کوئی واقف کار نہیں ہوسکتا۔ آنحضرت ﷺ نے جب نبوت کا دعویٰ کیا تو اس وقت حضرت خدیجہ ؓ کے نکاح کو ۱۵ برس ہو چکے تھے اور یہ اتنی بڑی مدت ہے جس میں ایک انسان دوسرے کے عادات و خصائل اور طور طریقہ سے اچھی طرح واقف ہو ستا ہے۔ اس واقفیت کا اثر حضرت خدیجہؓ پر یہ پڑتا ہے کہ ادھر آپﷺ کی زبان سے اپنی نبوت کی خبر نکلتی ہے اور ادھر حضرت خدیجہؓ کا دل اس کی تصدیق کو آمادہ ہو جاتا ہے۔ آنحضرت ﷺ جب نبوت کے بار گراں سے گھبراتے ہیں تو حضرت خدیجہ تسکین دیتی ہیں کہ:

’’یا رسول اللہ! خدا آپ کو ہرگز تنہا نہیں چھوڑے گا کیونکہ آپ قرابت والوں کا حق پورا کرتے ہیں، مقروضوں کا قرض ادا کرتے ہیں، غریبوں کی مدد کرتے ہیں، مہمانوں کی خاطر تواضع کرتے ہیں، حق کی طرفداری کرتے ہیں، مصیبتوں میں آپ لوگوں کے کام آتے ہیں۔‘‘ [بخاری]

غور کیجیے، یہ آپ کی وہ عملی مثالیں ہیں جو نبوت سے پہلے آپ ﷺ میں موجود تھیں۔

حضرت عائشہ﷞ کی گواہی

آنحضرت ﷺ کی تمام بیویوں میں حضرت خدیجہؓ کے بعد سب سے زیادہ محبوب حضرت عائشہ ؓ تھیں۔ حضرت عائشہ ؓ نو برس متصل آپﷺ کی صحبت میں رہیں، وہ گواہی دیتی ہیں کہ حضور کی عادت کسی کو برا بھلا کہنے کی نہ تھی آپ ﷺ برائی کےبدلہ میں برائی نہیں کرتے تھے بلکہ معاف کر دیتے تھے۔ آپ ﷺگنا ہ کی بات سے کوسوں دور رہتے تھے، آپ ﷺ نے کبھی کسی سے اپنا بدلہ نہیں لیا، آپ ﷺ نے کبھی کسی غلام، لونڈی، عورت یا خادم یہاں تک کہ کسی جانور تک کو کبھی نہیں مارا۔ آپ ﷺ نے کبھی کسی کی جائز درخواست اور فرمائش کو رد نہیں فرمایا۔

رؤف و رحیم پیغمبر

رشتہ داروں میں حضرت علیؓ سے بڑھ کر کوئی آپ ﷺ کے دن رات کے حالات اور اخلاق سے واقف نہ تھا۔ وہ بچپن سے جوانی تک آنحضرت ﷺ کی خدمت میں رہے تھے۔ وہ گواہی دیتے ہیں کہ:

’’آپ ہنس مکھ، طبیعت کے نرم اور اخلاق کے نیک تھے، طبیعت میں مہربانی تھی، سخت مزاج نہ تھے، کوئی برا کلمہ کبھی منہ سے نہیں نکالتے تھے، لوگوں کے عیب اور کمزوریوں کو نہیں ڈھونڈھا کرتے تھے، کسی کی کوئی فرمائش اگر مزاج کے خلاف ہوئی تو خاموش رہ جاتے، نہ اس کو صاف جواب دے کر مایوس کر دیتے تھے اور نہ اپنی منظوری ظاہر فرماتے تھے، واقف کار اس اندازِ خاص سے سمجھ جاتے تھے کہ آپ ﷺ کی منشا کیا ہے، یہ اس لیے تھا کہ آپ کسی کا دل توڑنا نہیں چاہتے تھے، دل شکنی نہیں کرتے تھے، بلکہ دلوں پر مرہم رکھتے تھے کہ آپﷺ رؤف و رحیم تھے۔‘‘

حضرت علیؓ کہتے ہیں کہ:

’’آپ نہایت فیاض، بڑے سخی، راست گو، نہایت نرم طبع، لوگ آپﷺ کی صحبت میں بیٹھتے تھے تو خوش ہو جاتے، آپ کو پہلی دفعہ جو دیکھتا وہ مرعوب ہو جاتا، لیکن جیسے جیسے وہ آپﷺ سے ملتا جاتا آپ سے محبت کرنے لگتا۔‘‘ [شمائل ترمذی]

آپ ﷺ کی سیرت پڑھ کر بعینہ یہی خیال انگلینڈ کے سب سے مشہور مؤرخ گبن نے ظاہر کیے ہیں۔

آنحضرت ﷺ کے سوتیلے فرزند حضرت خدیجہ کے پہلے شوہر سے صاحبزادہ حضرت ہندؓ جو گویا آپ کے پروردہ تھے، گواہی دیتے ہیں کہ :

’’آپ کی طبیعت میں نرمی تھی، سخت مزاج نہ تھے، کسی کا دل نہ دکھاتے تھے، کسی کی عزت کے خلاف کوئی بات نہیں کہتے تھے، کھانا جیسا سامنے آتا کھا لیتے، اس کو برا نہیں کہتے۔ آپ کو اپنے ذاتی معاملہ میں کبھی غصہ نہیں آتا تھا، نہ کسی سے بدلہ اور انتقام لیتے تھے اور نہ کسی کی دل شکنی گوارا کرتے تھے، لیکن اگر کوئی حق بات کی مخالفت کرتا، تو حق کی طرفداری میں آپ ﷺ کو غصہ آجاتا تھا اور اس حق کی آپﷺ پوری حمایت فرماتے تھے۔‘‘ [شمائل]

یہ آپﷺ کے حق میں ان لوگوں کی شہادتیں ہیں جو آپ ﷺ سے بہت نزدیک اور آپﷺ سے بہت زیادہ واقف تھے، اس سے یہ معلوم ہوگا کہ آپﷺ کی سیرتِ مبارکہ کی عملی حیثیت کیسی بلند تھی۔

سیرت کا ایک روشن پہلو

آپﷺ کی سیرت کا سب سے روشن پہلو یہ ہے کہ آپ ﷺ نے بحیثیت ایک پیغمبر کے اپنے پیروؤں کو جو نصیحت فرمائی اس پر سب سے پہلے خود عمل کر کے دکھا دیا۔

کثرتِ ذکر

آپﷺ نے لوگوں کو خدا کی یاد اور محبت کی نصیحت کی، صحابہ ؓ کی زندگی میں اس تلقین کا جو اثر نمایاں ہوا وہ تو الگ چیز ہے، خود آپﷺ کی زندگی کہاں تک اس کے مطابق تھی، اس پر غور کرو، شب و روز میں کم کوئی ایسا لمحہ تھا، جب آپ ﷺ کا دل اللہ کی یاد سے اور آپ ﷺ کی زبان اللہ کے ذکر سے غافل ہو۔ اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے، کھاتے پیتے، سوتے جاگتے، پہنتے اوڑھتے، ہر حالت میں اور ہر وقت اللہ کا ذکر اور اس کی حمد زبان مبارک پر جاری رہتی تھی۔ آج حدیث کی کتابوں کا ایک بڑا حصہ انہی مبارک کلمات اور دعاؤں کے بیان میں ہے جو مختلف حالات اور مختلف وقتوں کی مناسبت سے آپ ﷺ کی زبان فیض اثر سے ادا ہوئیں۔ حصن و حصین دو سو صفحوں کی کتاب صرف ان کلمات اور دعاؤں کا مجموعہ ہے، جن کے فقرہ فقرہ سے خدا کی محبت، عظمت، جلالت اور خشیت نمایاں ہیں اور جن سے ہر وقت زبانِ اقدس تر رہتی تھی۔

قرآن نے اچھے بندوں کی یہ تعریف کی ہے:

﴿الَّذِيْنَ يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِيٰمًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰي جُنُوْبِھِمْ﴾

’’جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنے پہلوؤں پر لیٹے ہر وقت اللہ کو یاد کیا کرتے ہیں۔‘‘ [آل عمران: ۱۹۱]

یہی آپ ﷺ کی زندگی کا نقشہ تھا، چنانچہ حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں، آپ ﷺ ہر وقت اور ہر لمحہ اللہ کی یاد میں مصروف رہتے تھے۔

نماز سے تعلق

آپﷺ نے لوگوں کو نماز کا حکم دیا، مگر خود آپ ﷺ کا حال کیا تھا، عام پیروؤں کو تو پانچ وقتوں کی نماز کا حکم تھا، مگر خود آپ ﷺ آٹھ وقت نماز پڑھتے تھے، طلوع آفتاب کے بعد اشراق، کچھ اور دن چڑھنے پر چاشت، پھر ظہر، پھر عصر، پھر مغرب، پھر عشاء پھر تہجد، پھر صبح۔ عام مسلمانوں پر تو صبح کی دو رکعتیں ، مغرب کی تین اور بقیہ اوقات کی چار چار رکعتیں فرض ہیں، کل شب و روز میں سترہ رکعتیں ہیں، مگر آنحضرت ہر روز کم و بیش پچاس ساٹھ رکعتیں ادا فرمایا کرتے تھے۔ پنج وقتہ نماز کی فرضیت کے بعد تہجد کی نماز عام مسلمانوں سے معاف ہو گئی تھی۔ مگر آنحضرت ﷺ اس کو بھی تمام عمر شب ادا فرماتے رہے اور پھر کسی نماز کہ رات رات بھر کھڑے کے کھڑے رہ جاتے، کھڑے کھڑے پاؤں مبارک میں ورم آجاتا۔ حضرت عائشہ ؓ عرض کرتیں، اللہ جل جلالہ نے تو آپ کو ہر طرح معاف کر دیا ہے پھر اس قدر کیوں تکلیف اٹھاتے ہیں، فرماتے ’’اے عائشہؓ! کیا میں خدا کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔‘‘ یعنی یہ نماز خشیت الٰہی سے نہیں، بلکہ محبت الٰہی اس کا منشاء ہے۔ رکوع میں اتنی دیر جھکے رہتے کہ دیکھنے والے کہتے کہ شاید آپ ﷺ سجدہ کرنا بھول گئے۔

نبوت کے آغاز ہی سے آپﷺ نماز پڑھتے تھے۔ کفار آپ ﷺ کے سخت ترین دشمن تھے مگر بایں ہمہ عین حرم میں جا کر سب کے سامنے نماز پڑھتے تھے۔ کئی دفعہ نماز کی حالت میں دشمنوں نے آپﷺ پر حملہ کیا مگر اس پر بھی اللہ کی یاد سے باز نہ آئے۔

سب سے سخت موقع نماز کا وہ ہوتا تھا، جب کفار کی فوجیں مقابل ہوتیں، تیر و خنجر چلتے ہوتے لیکن ادھر نماز کا وقت آیا اور ادھر صفیں درست ہوگئیں۔ بدر کے معرکہ میں تمام مسلمان دشمنوں کے مقابل کھڑے تھے، مگر خود ذاتِ اقدسﷺ اللہ کے آگے سجدہ میں جھکی ہوئی تھی، تمام عمر میں کوئی نماز عموماً اپنے وقت سے نہیں ہٹی اور نہ دو وقتوں کے علاوہ کبھی کسی وقت کی نماز قضاء ہوئی۔ ایک تو غزوہ خندق میں کافروں نے عصر کی نماز کا موقع نہیں دیا، اور ایک دفعہ اور کسی غزوہ کے سفر میں رات بھر چل کر صبح کو تمام لوگ سو گئے تو آپ ﷺ نے رات کو نماز قضا ادا کی۔ اس سے زیادہ یہ کہ مرض موت میں شدت کا بخار تھا، تکلیف بہت تھی، مگر نماز حتیٰ کہ جماعت بھی ترک نہ ہوئی۔ قوت جواب دے چکی تھی مگر دو صحابیوںؓ کے کندھوں پر سہارا دے کر مسجد تشریف لائے، وفات سے تین دن پہلے جب آپﷺ نے اٹھنے کا قصد کیا تو غشی طاری ہوئی اور یہی حالت تین دفعہ پیش آئی، اس وقت نماز باجماعت ترک ہوئی۔

یہ تھا اللہ کی عبادت گزاری اور یاد کا عملی نمونہ۔

روزہ کے بارے میں آپ کے معمولات

آپ ﷺ نے روزہ کا حکم دیا، عام مسلمانوں پر سال میں تیس دن کے روزے فرض ہیں، مگر خود آپ ﷺ کی کیفیت کیا تھی؟ کوئی ہفتہ اور کوئی مہینہ روزوں سے خالی نہیں تھا۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں ، ’’جب آپﷺ روزے رکھنے پر آتے تو معلوم ہوتا تھا کہ اب کبھی افطار نہ کریں گے۔‘‘ آپ ﷺ نے مسلمانوں کو دن بھر سے زیادہ روزہ رکھنے کی ممانعت فرمائی مگر خود آپﷺ کا یہ حال تھا کہ کبھی کبھی دو دو تین تین دن بیچ میں کچھ کھائے پیے بغیر متصل روزہ رکھتے تھے اور اس عرصہ میں ایک دانہ بھی منہ میں نہیں جاتا تھا۔ صحابہؓ اس کی تقلید کرنا چاہتے تو فرماتے، ’’تم میں سے کون میری مانند ہے، مجھ کو تو میرا آقا کھلاتا پلاتا ہے‘‘۔ سال میں دو مہینے شعبان اور رمضان کے پورے کے پورے روزوں میں گزرتے۔ ہر مہینہ کے ایام بیض (۱۳،۱۴،۱۵) میں اکثر روزے رکھتے۔ محرم کے دد دن اور شوال کے چھ دن روزوں میں گزرتے، ہفتہ میں دو شنبہ اور جمعرات کا دن روزوں میں بسر ہوتا۔

یہ تھا روزوں کے متعلق آپﷺ کا عملی نقشہ زندگی

زکوٰۃ و صدقات اور آپ کی عملی زندگی

آپ ﷺ نے لوگوں کو زکوۃ اور خیرات کا حکم دیا تھا تو پہلے خود اس پر عمل کر کے دکھایا۔ حضرت خدیجہؓ کی شہادت تم سن چکے ہو کہ انہوں نے کہا، ’’یا رسول اللہ! آپ قرض داروں کا قرض ادا کرتے ہیں، غریبوں اور مصیبت زدوں کی مدد کرتے ہیں‘‘، گو آپﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ تم سب کچھ چھوڑ کر میرے پیچھے آؤ، نہ گھر بار لٹا دینے کا حکم فرمایا، نہ آسمان کی بادشاہت کا دروازہ دولت مندوں پر بند کیا، بلکہ صرف یہ حکم دیا کہ اپنی کمائی میں سے کچھ دوسروں کو دے کر اللہ کا حق بھی ادا کرو۔ ومما رزقنهم ينفقون۔ مگر خود آپﷺ کا عمل یہ رہا کہ جو کچھ آیا اللہ کی راہ میں خرچ ہو گیا۔ غزوات اور فتوحات کی وجہ سے مال و اسباب کی کمی نہ تھی۔ مگر وہ سب غیروں کے لیے تھا، اپنے لیے کچھ نہ تھا۔ وہی فقر و فاقہ تھا۔ فتح خیبر کے بعد یعنی ۷ھ سے یہ معمول تھا کہ سال بھر کے خرچ کے لیے تمام ازواجِ مطہراتؓ کو غلہ تقسیم کر دیا جاتا تھا، مگر سال تمام بھی نہیں ہونے پاتا تھا کہ غلہ ختم ہو جاتا تھا کیونکہ غلہ کا بڑا حصہ اہل حاجات کی نذر کر دیا جاتا تھا۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ آپﷺ تمام لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور سب سے زیادہ سخاوت آپﷺ رمضان المبارک میں فرماتے تھے، تمام عمر کسی سوالی کے جواب میں نہیں کا لفظ نہیں فرمایا، کبھی کوئی چیز تنہا نہیں کھاتے تھے، کتنی ہی تھوڑی چیز ہوتی مگر آپﷺ سب حاضرین کو اس میں شریک کر لیتے تھے۔ لوگوں کو عام حکم تھا کہ ’’جو مسلمان قرض چھوڑ کر مر جائے اس کی اطلاع مجھے دو کہ میں اس کا قرض ادا کروں گا اور اس نے ترکہ چھوڑا ہو تو اس کے حق دار اس کے وارث ہوں گے‘‘۔ ایک دفعہ ایک بدو نے کہا، ’’اے محمدﷺ! یہ مال نہ تیرا ہے نہ تیرے باپ کا ہے میرے اونٹ پر لاد دے۔‘‘ آپﷺ نے اس کے اونٹ کو جو اور کھجور سے لدوا دیا اور اس کے کہنے کا برا نہ مانا۔ خود فرمایا کرتے:

انما انا قاسم وخازن والله يعطي

’’میں تو بانٹنے والے اور خزانچی کی حیثیت رکھتا ہوں، اصل دینے والا تو اللہ ہے‘‘۔

حضرت ابوذرؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ رات کو میں آپ ﷺ کے ساتھ گزر رہا تھا، راہ میں آپ ﷺ نے فرمایا ’’ابوذر! اگر احد کا یہ پہاڑ میرے لیے سونا ہو جائے تو میں کبھی پسند نہ کروں گا کہ تین راتیں گزر جائیں اور اس میں سے ایک دینار بھی میرے پاس رہ جائے ، البتہ یہ کہ کسی قرض ادا کرنے کے لیے کچھ رکھ چھوڑوں۔‘‘

دوستو! محمد رسول اللہ ﷺ کے صرف خوشنما الفاظ نہ تھے بلکہ یہ آپ ﷺ کے عزم صادق کا اظہار تھا اور اسی پر آپ ﷺ کا عمل تھا۔ بحرین سے ایک دفعہ خراج کا لدا ہوا خزانہ آیا۔ فرمایا کہ صحنِ مسجد میں ڈال دیا جائے، صبح کی نماز کے لیے آپ تشریف لائے تو دیکھنے والے کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے خزانہ کے انبار کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھا، نماز کے بعد ڈھیر کے پاس بیٹھ گئے اور تقسیم کرنا شروع کر دیا، جب سب ختم ہو گیا تو دامن جھاڑ کر اس طرح کھڑے ہو گئے کہ یہ گویا کوئی غبار تھا، جو دامن مبارک پر پڑ گیا تھا۔ ایک دفعہ فدک سے چار اونٹوں پر غلہ لد کر آیا، کچھ قرض تھا وہ دیا گیا، کچھ لوگوں کو دیا گیا۔ حضرت بلالؓ سے دریافت کیا کہ بچ تو نہیں رہا، عرض کی اب کوئی لینے والا نہیں اس لیے بچ رہا ہے۔ فرمایا جب تک دنیا کا یہ مال باقی ہے میں گھر نہیں جا سکتا۔ چنانچہ رات مسجد میں بسر کی، صبح کی تو حضرت بلال نے آ کر بشارت دی کہ ’’یارسول اللہ! اللہ نے آپ کو سبکدوش کر دیا۔‘‘ یعنی جو کچھ تھا وہ تقسیم ہو گیا۔ آپ نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ ایک دفعہ عصر کی نماز کے بعد خلاف معمول فوراً اندر تشریف لے گئے اور پھر باہر آگئے لوگوں کو تعجب ہوا، فرمایا مجھ کو نماز میں یاد آیا کہ سونے کا چھوٹا سا ٹکڑا گھر میں پڑا رہ گیا ہے، خیال ہوا کہ ایسا نہ ہو کہ رات آجائے اور محمدﷺ کے گھر میں پڑا رہ جائے۔ امّ سلمہؓ بیان کرتی ہیں کہ ’’ایک دفعہ آپﷺ ملول اور رنجیدہ اندر تشریف لائے، میں نے سبب دریافت کیا، فرمایا: امّ سلمہؓ! کل جوسات دینار آئے تھے شام ہو گئی اور وہ بستر پر پڑے رہ گئے‘‘۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ آپ مرض الموت میں ہیں، بیماری کی سخت تکلیف ہے، نہایت بے چینی ہے، لیکن اسی وقت یاد آتا ہے کہ کچھ اشرفیاں گھر میں پڑی ہیں، حکم ہوتا ہے کہ ’’انہیں خیرات کر دو، کیا محمدﷺ اپنے رب سے اس طرح ملے گا کہ اس کے پیچھے اس کے گھر میں اشرفیاں پڑی ہوں۔‘‘

یہ تھی اس باب میں آپﷺ کی زندگی کی عملی مثال۔

زہد و قناعت میں حضور ﷺ کا طرزِ عمل

آپ ﷺ نے زہد و قناعت کی تعلیم دی، لیکن اس راہ میں آپﷺ کا طرزِ عمل کیا تھا، سن چکے ہو کہ عرب کے گوشہ گوشہ سے جزیہ، خراج، عشر و زکوٰۃ و صدقات کے خزانے لدے چلے آتے تھے، مگر امیرِ عرب کے گھر میں وہی فقر تھا اور وہی فاقہ تھا۔ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد حضرت عائشہؓ کہا کرتی تھیں، کہ حضور اس دنیا سے تشریف لے گئے، مگر دو وقت بھی سیر ہو کر آپ کو کھانا نصیب نہ ہوا وہی بیان کرتی ہیں کہ جب آپﷺ نے وفات پائی تو گھر میں اس دن کے کھانے کے لیے تھوڑے سے جو کے سوا کچھ موجود نہ تھا اور چند سیر جو کے بدلہ میں آپﷺ کی زرہ ایک یہودی کے ہاں رہن تھی، آپ فرمایا کرتے تھے کہ:

’’فرزندِ آدم کو ان چند چیزوں کے سوا کسی چیز کا کا حق نہیں۔ رہنے کو ایک جھونپڑا، تن ڈھانپنے کو ایک کپڑا، پیٹ بھرنے کو روکھی سوکھی روٹی اور پانی‘‘۔ [ترمذی]

یہ محض الفاظ کی خوشنما بندش نہ تھی بلکہ یہی آپ ﷺ کی طرزِ زندگی کا عملی نقشہ تھا۔ رہنے کا مکان ایک حجرہ تھا جس میں کچی دیوار اور کھجور کے پتوں اور اونٹ کے بالوں کی چھت تھی، حضرت عائشہؓ کہتی ہیں، آپ ﷺ کا کپڑا کبھی تہہ کر کے نہیں رکھا جاتا تھا، یعنی جو بدن مبارک پر ہوتا تھا، اس کے سوا کوئی اور کپڑا ہی نہیں ہوتا تھا، جو تہہ کیا جاتا۔ ایک دفعہ ایک سائل خدمتِ اقدس میں آیا اور بیان کیا کہ سخت بھوکا ہوں، آپﷺ نے ازواجِ مطہرات کے پاس کہلا بھیجا کہ کچھ کھانے کو ہو تو بھیج دیں، ہر جگہ سے یہی جواب آیا کہ ’’گھر میں پانی کے سوا کچھ نہیں ہے۔‘‘ ابوطلحہؓ کہتے ہیں ایک دن رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ مسجد میں زمین پر لیٹے ہیں اور بھوک کی تکلیف سے کروٹیں بدل رہے ہیں۔ ایک دفعہ صحابہؓ نے آپ کی خدمت میں فاقہ کشی کی شکایت کی اور پیٹ کھول کر دکھائے کہ ان پر ایک پتھر بندھا ہے۔ آپ ﷺ نے شکم مبارک کھولا تو ایک کی بجائے دو پتھر بندھے تھے یعنی دو دن سے فاقہ تھا۔ اکثر بھوک کی وجہ سے آواز میں کمزوری اور نقاہت آجاتی تھی، ایک دن دولت خانہ سے نکلے تو بھوکے تھے، حضرت ابو ایوبؓ انصاری کے گھر تشریف لے گئے، وہ نخلستان سے کھجور توڑ لائے اور کھانے کا سامان کیا۔ کھانا جب سامنے آیا تو آپﷺ نے ایک روٹی اور تھوڑا سا گوشت رکھ کر فرمایا، یہ فاطمہؓ کے گھر بھجوا دو! کئی دن سے اُس کو کھانا نصیب نہیں ہوا ہے۔

آپ کو اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہؓ اور حضرات حسنین رضی اللہ عنہما سے بڑی محبت تھی، مگر یہ محبت امیر عرب ﷺ نے بیش قیمت کپڑوں اور سونے چاندی کے زیوروں کے ذریعہ سے ظاہر نہیں فرمائی۔ ایک دفعہ حضرت علیؓ کا دیا ہوا ایک سونے کا ہار حضرت فاطمہؓ کے گلے میں دیکھا تو فرمایا! اے فاطمہ تم کیا لوگوں سے یہ کہلوانا چاہتی ہو کہ محمد کی بیٹی گلے میں آگ کا طوق ڈالے ہوئے ہے، حضرت فاطمہؓ نے اسی وقت وہ طوق اتار کر بیچ ڈالا اور اس کی قیمت سے ایک غلام خرید کر آزاد کیا۔ اسی طرح ایک دفعہ حضرت عائشہؓ نے سونے کے کنگن پہنے، تو اتروا دیے کہ محمد کی بیوی کو یہ زیبا نہیں، فرمایا کرتے تھے کہ ’’انسان کے لیے دنیا میں اتنا ہی کافی ہے جس قدر ایک مسافر کو زادِ راہ! یہ قول تھا اور عمل یہ تھا کہ ایک دفعہ کچھ جانثار ملنے آئے تو دیکھا کہ پہلو میں چٹائی کے نشان پڑ گئے ہیں، عرض کی یا رسول اللہ! ہم لوگ ایک نرم گدا بنا کر حاضر کرنا چاہتے ہیں، فرمایا مجھ کو دنیا سے کیا غرض؟ مجھ کو دنیا سے اسی قدر تعلق ہے جس قدر اس سوار کو جو راستہ چلتے تھوڑی دیر کے لیے کہیں سایہ میں آرام کرتا ہے اور پھر آگے بڑھ جاتا ہے۔ ۹ھ میں جب اسلام کی حکومت یمن سے شام تک پھیلی ہوئی تھی آپ ﷺ کے توشہ خانہ کی مالیت یہ تھی، جسم مبارک پر ایک تہبند، ایک کھڑی چارپائی، سرہانے ایک تکیہ جس میں خرمے کی چھال بھری تھی، ایک طرف تھوڑے سے جو، ایک کونے میں ایک جانور کی کھال، کھونٹی میں پانی کے مشکیزے۔

یہ تھا زہد و قناعت کی تعلیم کے ساتھ اس پر آپﷺ کا عمل۔

ایثار اور صحیفہ سیرت

دوستو! ایثار کا وعظ کہنے والوں کو تم نے بہت دیکھا ہوگا مگر کیا کسی ایثار کے وعظ کہنے والے کے صحیفہ سیرت میں اس کی مثال بھی دیکھی ہے اس کی مثال مدینہ کی گلیوں میں ملے گی۔ آپﷺ نے لوگوں کو ایثار کی تعلیم دی تو ساتھ ہی ان کے سامنے اپنا نمونہ بھی پیش کیا۔ حضرت فاطمہ ؓ سے آپ کو جو محبت تھی وہ ظاہر ہے مگر ان ہی حضرت فاطمہؓ کی عسرت اور تنگدستی کا یہ عالم تھا کہ چکی پیستے پیستے ہتھیلیاں گھس گئی تھیں اور مشک میں پانی بھر بھر کر لانے سے سینہ پر نیل کے داغ پڑ گئے تھے۔ ایک دن انہوں نے حاضر ہو کر پدر بزرگوار سے ایک خدامہ کی خواہش ظاہر کی۔ ارشاد ہوا۔ ’’اے فاطمہؓ! اب تک صفہ کے غریبوں کا انتظام نہیں ہوا ہے، تو تمہاری درخواست کیونکر قبول ہو۔‘‘ دوسری روایت میں ہے کہ فرمایا، ’’فاطمہؓ! بدر کے یتیم تم سے پہلے درخواست کر چکے‘‘ ایک دفعہ آپ ﷺ کے پاس چادر نہ تھی۔ ایک صحابیہ ؓ نے لا کر پیش کی۔ اسی وقت ایک صاحب نے کہا، کیسی اچھی چادر ہے، آپ نے فوراً اتار کر ان کی نذر کر دی۔ ایک صحابیؓ کے گھر کوئی تقریب تھی، مگر کوئی سامان نہ تھا۔ ان سے کہا، عائشہؓ کے پاس جا کر آٹے کی ٹوکری مانگ لاؤ۔ وہ گئے اور جا کر لے آئے، حالانکہ آپﷺ کے گھر میں آٹے کے سوا، رات کے کھانے کو کچھ نہ تھا۔ ایک دن صفّہ کے غریبوں کو لے کر حضرت عائشہ کے گھر تشریف لائے اور فرمایا جو کچھ کھانے کو ہو لاؤ۔ چونی کا پکا ہوا کھانا حاضر کیا گیا وہ کافی نہ ہوا، کوئی اور چیز طلب کی، تو چھوہارے کا حریرہ پیش ہوا۔ پھر پیالہ میں دودھ آیا، مگر یہی سامان مہمانی کی آخری قسط گھر میں تھی۔ یہ تھا ایثار اور اس پر عمل۔

(جاری ہے ان شاء اللہ)

Previous Post

درود شریف کی اہمیت

Next Post

آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری

Related Posts

خیر خواہی یا بد خواہی
ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!

خیر خواہی یا بد خواہی

24 ستمبر 2025
ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!

پیغمبر ﷺ کا حُسن و جمال

15 نومبر 2024
ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!

محمد رسول اللہ ﷺ

15 نومبر 2024
ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!

مروجہ طریقے سے میلاد منانا شرعاً درست نہیں!

15 نومبر 2024
ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!

ہمارے محبوب کا حلیۂ مبارک [صلی اللہ علیہ وسلم]

28 ستمبر 2023
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق
ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق

28 ستمبر 2023
Next Post

آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

جنوری 2026ء
اکتوبر ۲۰۲۵ء

جنوری 2026ء

by ادارہ
20 جنوری 2026

Read more

تازہ مطبوعات

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version