بسم اللہ الرحمن الرحیم
ان دنوں ایک مرتبہ پھر تحریکِ لبیک کے کہنے پر پاکستان کے عاشقانِ مصطفیٰﷺ سڑکوں پر نکلے ہیں۔ اس مرتبہ ریاستِ پاکستان کی طرف سے پولیس اور سیکیورٹی اداروں کو ان کے ساتھ سختی سے نمٹنے کے احکامات تھے، جس کے سبب کئی شہادتیں بھی ہوئی ہیں اور زخمیوں کی کثیر تعداد ہے جو سیکیورٹی اداروں کی فائرنگ اور تشدد سے زخمی ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی قربانیاں اپنی بارگاہ میں قبول فرمائیں اور مسلمانوں کو مزید ہمت واستقامت عطا فرمائیں کہ وہ تحفظِ ناموسِ رسالت کی خاطر ڈٹے رہیں۔ پاکستان میں حالیہ دنوں میں رونما ہونے والے واقعات، بڑھتے ہوئے سیاسی انتشار اور تحریک لبیک کی کوششوں کے تناظر میں ہم بالخصوص تحریکِ لبیک کی قیادت اور کارکنان کے سامنے اور بالعموم پاکستانی عوام کے سامنے بعض نکات پر گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔
اول: تحفظِ ناموسِ رسالت ہمارے دور کے اہم ترین مسائل میں سے ایک ہے۔ اس وقت دنیا میں عالمِ کفر نے اسلامی شعائر کی توہین کو عام مشغلہ بنالیا ہے۔ ایسی فضا بنائی جاتی ہے کہ جس میں توہینِ قرآن، توہینِ رسالت اور توہینِ اسلام پر شہ دی جاتی ہے۔ پھر جب کوئی بدبخت ایسا کام کرتا ہے تو اکثر اسے اجتماعی شکل دینے کی کوشش کی جاتی ہے، اور جب اس کی مخالفت ہوتی ہے تو اسے سرکاری دفاع فراہم کیا جاتا ہے۔بعض ممالک میں تو سرکاری سطح پر ایسے گھناؤنے افعال کی سرپرستی بھی کی گئی ہے۔ لہٰذا آج اسلام وکفر کے جھگڑے میں، صلیبی صہیونی جنگ میں ناموسِ رسالت کا دفاع اور تحفظ مسلمانوں کا اہم ترین محاذ ہے اور بنیادی نعرہ ہے۔ اس نعرے پر اٹھنا اس وقت ہر مسلمان پر عائد واجبات میں سے اہم واجب ہے۔ یہ کسی علاقہ، قوم اور مسلک کے ساتھ مقید نہیں ہے، اور اس کام کے لیے کھڑے ہونے میں مسالک ومکاتب کی بحث میں پڑنا… اس اہم ترین ایمانی مسئلے میں کوتاہی کے مترادف ہے۔
دوم: ریاستِ پاکستان میں رائج نظام اور حالیہ سیاسی اور فوجی قیادت، بلکہ بیوروکریسی… سبھی مغربی طاقتوں کے پروردہ اور بیشتر سیکولر نظریات کے حامل ہیں، جن کے بارے میں یہ خوش گمانی نہیں ہونی چاہیے کہ وہ ناموسِ رسالت کے تحفظ کے لیے کچھ قدم اٹھائیں گے، بلکہ وہ ہر بار وہی مواقف اختیار کریں گے جو مغرب کو پسند ہوں، اور وہی قانون سازی کریں گے جس سے عالمِ کفر کے قوانین کی مخالفت لازم نہ آئے۔ اس کا مطلب یہ ہےکہ موجودہ پاکستانی نظام، حکومت واسٹبلشمنٹ مغربی طاقتوں کے گستاخانہ اقدامات کی مخالفت تو درکنار، ان کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف اقدامات کرے گی۔ یہی ابھی تک ہوا ہے اور آئندہ بھی ہر مسلمان کو یہی توقع ہونی چاہیے۔ لہٰذا حکومت واسٹبلشمنٹ کے بارے میں یہ رائے عام ہونی چاہیےکہ یہ ناموسِ رسالت کے دفاع میں رکاوٹ ڈال کر مجرم بن چکے ہیں۔ یہ دوست نہیں، دشمن ہیں۔
سوم: مذکورہ بالا دونوں نکتوں کی روشنی میں پاکستان میں مسلمان عوام کو ناموسِ رسالت کے دفاع کے لیے اکھٹا کرنا ہر دینی جماعت کو اپنے منشور میں شامل کرنا چاہیے۔ یہ کام محض تحریکِ لبیک کا نہیں، بلکہ سبھی جماعتوں اور اہلِ دین کو مشترکہ محنت کرنی چاہیے، اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔
چہارم: وہ کیا اقدامات ہوسکتے ہیں جو ناموسِ رسالت کے تحفظ کے لیے پاکستان کے مسلمانوں کو اٹھانے چاہییں؟ اس نکتے میں ہم خاص طور پر تحریکِ لبیک کے قائدین سے مخاطب ہیں، اور اپنے فہم اور تجربے کی بنیاد پر جو مناسب سمجھتے ہیں، وہ عرض کر رہے ہیں۔ اس میں تحریکِ لبیک کی محنت کا تجزیہ بھی ہے اور اصلاح کی تجاویز بھی ہیں۔ چونکہ یہ نعرہ اور یہ محنت تمام مسلمانوں کی مشترکہ محنت ہے، اس لیے اس محنت میں ہم سب کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے اور ایک دوسرے سے مشاورت کی راہ ہموار کرنی چاہیے۔
تحریکِ لبیک کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے تحفظِ ناموسِ رسالت کے موضوع کو زندہ کیا، اس پر مسلمانوں کو اکھٹا کیا اور انھیں میدان میں نکالا۔ بلاشبہ یہ بہت بڑی کامیابی ہے اور ہم اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے بہترین اجر کے خواستگار ہیں۔ اس سے جس طرح پاکستانی حکومت اور اداروں پر اس موضوع کے حوالے سے پریشر بنا، وہ اہم قدم تھا۔ تاہم یہ ایک خامی دیکھنے میں آئی کہ اِس آخری عرصے میں جب بھی قربانی دینے کے بعد مذاکرات کی میز سجی تو ہر دفعہ تحریکِ لبیک کچھ حاصل کیے بغیر لوٹ گئی، جبکہ حکومت اپنی مرضی پر قائم رہی۔ یوں تحفظِ ناموسِ رسالت کے مطلوبہ نتائج کےحصول میں ناکامی ہوئی۔ اسی بات نے بہت سے حلقوں میں تحریکِ لبیک کے بارے میں مختلف شبہات پیدا کر دیے، اور بہت سی جگہوں سے یہ الزام لگنے لگا کہ یہ تحریک در اصل فوج کے زیرِ اثر ہے، اور جب وہاں سے اشارہ ملتا ہے تو یہ حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے نکلتے ہیں اور آخر کار فوج ریاست میں اپنی گرفت مضبوط کرنے میں انھیں کام میں لاتی ہے۔ اگرچہ ہم تحریک کے بارے میں نہ یہ سوچ رکھتے ہیں اور نہ اس سوچ کی پذیرائی کو پسند کرتے ہیں، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جو لوگ نکل رہے ہیں، وہ اخلاص سے عشقِ رسولﷺ کے جذبہ سے نکل رہے ہیں اور دل سے ناموسِ رسالت کا دفاع چاہتے ہیں۔ البتہ ہم تحریکِ لبیک کے قائدین کو یہ توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی اور آئندہ بھی مذاکرات میں کماحقہ نتائج کےحصول میں ناکامی ہوئی تو ایک وقت آئے گا کہ یہی عوام آپ کے گریبان پکڑے گی، اور خدانخواستہ آئندہ یہ نعرہ بھی بے اثر ہوجائے گا اور اس کے لیے اٹھنے والا بھی کوئی نہ ہوگا، خاکم بدہن۔ لہٰذا تحریکِ لبیک کے قائدین کو اس حوالے سے سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔ ہم جو مناسب اقدامات سمجھتے ہیں، وہ یہاں عرض کر تے ہیں:
الف) اس نعرے اور اس نعرے پر اٹھنے والی تحریک کو ’دعوتی‘ رنگ میں ڈھالنا چاہیے۔ اس نعرے اور موضوع کو ہر مسجد اور ہر مدرسے میں دعوت کا عنوان بنانا چاہیے۔ اس کے لیے محلے اور علاقوں کی سطح پر مجالس ہونی چاہییں اور اجتماعات منعقد ہونے چاہییں۔ اس کے لیے مختلف مکاتبِ فکر کے علماء وداعی حضرات کے ساتھ مجلسیں ہونی چاہییں اور سب کو اس موضوع کو اپنی دعوت کی بنیاد بنانے کی دعوت دینی چاہیے۔ تاکہ ایک طرف دینی طبقے میں یہ موضوع بحث کا عنوان بنے، اور دوسری طرف پوری عوام میں شعور اور آگاہی کی فضا قائم ہو۔ اس معاملے میں ہر طبقے، ہر مسلک اور ہر جماعت کو اپنی اپنی انفرادی سیاست کی قربانی لازم ہے، ورنہ ہم خدانخواستہ خود ناموسِ رسالت جیسے اہم اور نازک ترین فریضے سے خیانت کرنے والے نہ بن جائیں، والعیاذ باللہ۔
ب) رسولِ محبوبﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے مغرب اور مغربی طاقتوں کی شناعت اور خباثت مسلمانوں کو سمجھانی چاہیے، اور ان کے خلاف نفرت وبغض عام کرنا چاہیے۔ یہ خود ناموسِ رسالت کے تحفظ کا اہم حصہ ہے۔ اس کے زیرِ اثر ان مغربی طاقتوں کے ساتھ تعامل کے احکام مسلمانوں کو سمجھانے چاہییں۔ اور ان ممالک کے بائیکاٹ کی دعوت عام کرنی چاہیے:
ان ممالک کے سفر سے مسلمانوں کو روکنا چاہیے، جو تعلیم یا کاروبار وغیرہ کےسلسلے میں جانا چاہتے ہوں۔ ہم علاج وغیرہ کسی ضرورت سے جانے سے روکنے کی بات نہیں کر رہے ہیں، کہ اضطرار کے احکام شریعت میں الگ ہیں۔ ہم برضا اور بغیر شرعی مجبوری کے جانے کی بات کر رہے ہیں کہ اس سے روکنے کی دعوت عام کرنی چاہیے۔
ان ممالک کا اقتصادی بائیکاٹ کرنے کی تحریک چلانی چاہیے، جن میں ان کی تمام چیزوں کی خریداری سے بچنے کی تعلیم دینی چاہیے کہ عام پاکستانی ان ممالک کی درآمد کردہ چیزوں کی خرید وفروخت سے رک جائیں، تاکہ ان ممالک کو اقتصادی نقصان پہنچایا جاسکے۔ عوام کو سمجھانا چاہیے کہ یہ کام کرنا ناموسِ رسالت کے تحفظ کی ایک صورت ہے۔
ان ممالک سمیت ہر وہ ملک جو مسلمانوں کے خلاف عملاً جنگ کر رہا ہے، ان کے خلاف ہونے والے جہاد کی حمایت کی دعوت عام کرنی چاہیے، کہ یہ جہاد گستاخانِ رسالتﷺ سے بدلہ لینے کا سب سے اعلیٰ واولیٰ درجہ ہے۔ اسی طرح اس کی خصوصی دعوت دینی چاہیے کہ جو کوئی ان مغربی ممالک میں جاکر ان گستاخانِ رسولﷺ کو خود اپنے ہاتھ سے موت کے گھاٹ اتار سکے، اسے یہ کام کرکے تحفظِ ناموسِ رسالتﷺ کا حقیقی قدم اٹھانا چاہیے۔
ج) پاکستان میں تحریک کو اس انداز میں چلانا چاہیے کہ حکومت واسٹبلشمنٹ کے لیے مستقل ایک پریشر ہو، مگر کوئی بھی قدم اٹھاتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ آپ کا وہ قدم کامیاب ہو۔ یعنی اس کے لیے ایک تو اپنے اہداف اور مطالبات میں تدریج رکھنی چاہیے ، اور پھر تدریج سے اپنا وہ ہدف لے کر میدان میں نکلنا چاہیے جس کے بارے میں غالب گمان ہو کہ آپ حکومت واسٹبلشمنٹ سے اپنا مطالبہ منوانے میں کامیاب ہوجائیں گے، اور اس کے لیے پھر آخر وقت تک ڈٹنا چاہیے۔ تاکہ کارکنان میں ایک تو یہ احساس زندہ رہے کہ وہ تحفظِ ناموسِ رسالت میں کامیاب ہو رہے ہیں او ر دوسرا ان کا ولولہ اور جذبہ کم ہونے کی بجائے مزید بڑھتا جائے۔مثلاً ایک ہدف یہ ہے کہ اپنے ملک میں گستاخی کا قانون [Blasphemy Law] درست کیا جائے اور اسے عملی بنایا جائے، ایک ہدف یہ ہے کہ گستاخی کے مرتکب ممالک کے ساتھ حکومتی سطح پر اقتصادی بائیکاٹ کیا جائے، تیسرا ہدف یہ ہے کہ ان ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی قطع کیے جائیں،اسی طرح دیگر اہداف۔ ان میں تدریج رکھی جاسکتی ہے اور حکومت کو پریشر میں لایا جاسکتا ہے۔
یہ بنیادی طور پر قیادت کا کام ہے، اور اس کی ساری ذمہ داری قیادت پر ہی عائد ہوتی ہے۔ اس میں کوئی متعین قرار دادیں نہیں پیش کی جاسکتیں، بلکہ یہ قیادت کے فہم اور سیاسی سوجھ بوجھ پر کھڑا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے قائدین کو درست فہم عطا فرمائیں، آمین۔
د) اس ساری تحریک کے دوران اس بات کا خاص طور پر خیال رکھنا چاہیے کہ منافقین اور شیطان صفت لوگ قیادت کے قریب نہ پھٹک سکیں۔ کیونکہ آج کے دور میں یہ ریاستیں اس قدر تجربہ کار ہوچکی ہیں کہ یہ اپنی استخباراتی چالوں سے کسی بھی تحریک کو ہائی جیک کرکے اپنے مفاد میں استعمال کرنے لگتی ہیں، اور اس سے نہ صرف تحریک ناکام ہوتی ہے، بلکہ لوگ آئندہ ایسی کسی بھی تحریک سے مایوس بلکہ خائف ہوجاتےہیں۔ اور یوں خیر وبھلائی کے مقاصد فوت ہوجاتے ہیں۔ اس کے لیے ایسی ہر دینی تحریک کی قیادت کو بیدار اور چوکس رہنا چاہیے کہ ان کے قریبی لوگوں اور مشیرین میں کوئی ایسا فرد تو نہیں آگیا جو منافق ہے، آپ کے مقصد سے مخلص نہیں بلکہ آپ کے دشمنوں کا ایجنٹ ہے۔ ناموسِ رسالت کی اس ساری تحریک میں لازم ہے کہ پاکستان کی خفیہ اداروں کے لوگ اس میں جگہ نہ بناسکیں، اور نہ ہی ایسے لوگ اس میں قیادت کے قریب ہو سکیں جو حکومت واسٹبلشمنٹ سے قربت رکھتے ہوں۔
ر) اس ساری تحریک کو اس انداز میں چلانا چاہیے کہ اپنے وطنِ عزیز میں برسرِ عمل ہر دینی تحریک کے ساتھ یہ تحریک ہم آہنگ ہوجائے۔ پھر اس ساری محنت کے ذریعے اپنے وطن میں اہلِ دین معزز ہوں اور اہلِ کفر وشرک ذلیل ہوں، اسلامی احکام پر عمل کے راستے ہموار ہوں اور غیرشرعی قوانین اور طور طریقوں کی روک تھام ہو، اور پاکستان جس مقصد کے لیے وجود میں آیا تھا، یعنی لا الہ الا اللہ، تو اس کی حقیقی منزل کا حصول ممکن ہوسکے۔ یہ وہ بعض نکات اور مشورے تھے جو ہم نے اپنی دینی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اپنے بھائیوں کے سامنے رکھے ہیں، کیونکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ’’الدین النصیحۃ‘‘ [دین تو خیر خواہی کانام ہے]۔ اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر مسلمان کو اپنے پیارے حبیبﷺ کی ناموس کے لیے قربان ہونے کی توفیق عطا فرمائیں، اور ہمیں اپنے دعووں، دعوت اور دعا میں سچا کر دیں، آمین۔
وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین، وصلی اللہ تعالیٰ علی سیدنا وسندنا وملاذنا ونبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ وأمتہ وعلینا أجمعین!
٭٭٭٭٭









