مولانا محمد اسماعیل ریحان صاحب (زید مجدہٗ) کی تالیف ’أصول الغزو الفکري‘ یعنی ’نظریاتی جنگ کے اصول‘، نذرِ قارئین ہے۔ اس وقت مسلمانوں کو اہل باطل کی جانب سے ایک ہمہ گیر اور نہایت تند و تیز فکری و نظریاتی یلغار کا سامنا ہے۔ اس یلغار کے مقابلے کے لیے ’الغزو الفکری‘ کو دینی و عصری درس گاہوں کے نصاب میں شامل کرنا از حد ضروری ہوچکا ہے۔دینی و عصری درس گاہوں میں اس مضمون کو شامل کرنے کے ساتھ ساتھ ’الغزو الفکری‘ یعنی نظریاتی جنگ کے مضمون و عنوان کو معاشرے کے فعال طبقات خصوصاً اہلِ قلم، اسلامی ادیبوں اور شاعروں، اہلِ دانش، صحافیوں، پیشہ ور (پروفیشنل)حضرات نیز معاشرے کہ ہر مؤثر طبقے میں بھی عام کرنا از حد ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے ’اصول الغزو الفکری‘کے عنوان سے اس علم کے اہم مباحث کو مختصر طور پر مولانا موصوف نے پیش کیا ہے۔ مولانا موصوف ہی کے الفاظ میں ’در حقیقت یہ اس موضوع پر تحریر کردہ درجنوں تصانیف کا خلاصہ ہے جس ميں پاک و ہند کے پس منظر کا نسبتاً زیادہ خیال رکھا گیا ہے‘۔ یہ تحریر اصلاً نصابی انداز میں لکھی گئی ہے، لیکن اس کے باوجود خشکی سے پاک ہے اور متوسط درجۂ فہم والے کے لیے بھی سمجھنا آسان ہے۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہم مسلمانوں کو نظریاتی و عسکری محاذوں کو سمجھنے، ان محاذوں کے لیے اعداد و تیاری کرنے اور پھر ہر محاذ پر اہلِ باطل کے خلاف ڈٹنے کی توفیق ملے۔ اللہ پاک مولانا محمد اسماعیل ریحان صاحب کو جزائے خیر سے نوازیں کہ انہوں نے ایسے اہم موضوع کے متعلق قلم اٹھایا، اللہ پاک انہیں اور ہم سب اہلِ ایمان کو حق پر ثبات اور دین کا صحیح فہم عطا فرمائیں، آمین یا ربّ العالمین! (ادارہ)
یہودیت اور یہود
کیمبرج ڈکشنری کے مطابق:
’’یہودیت یہودیوں کا مذہب ہے جو ایک خدا اور اُن قوانین پر یقین رکھتا ہے جو تورات اور تلمود میں ہیں۔‘‘
’یہود‘ کی تعریف یہ ہے:
’’یہود وہ قوم ہے جو موسیٰ علیہ السلام کی امت ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔‘‘
یہودیوں کے بنیادی اُصول و معتقدات یہ ہیں:
یہودی ماں باپ کے ہاں پیدا ہونا،
ایک خدا پر یقین،
تورات پر ایمان،
یوم عہد پر ایمان (یعنی اس وعدہ پر جو خدا نے ابراہیم سے کیا تھا جس میں زمین کی نیابت و بادشاہت دینے کا ذکر ہے)۔
بنیادی عبادات و اعمال یہ ہیں:
حلال ذبیحہ کھانا،
پیدائش کے آٹھویں دن ختنہ کرا لینا،
آمدنی کا دسواں حصہ عبادت گاہ یا دین کے لیے مختص کرنا،
مخصوص ایام اور ضیافتوں کو منانا، جیسے عید فصح اور یوم السبت۔
نیز قیامت سے قبل اولادِ داؤد علیہ السلام میں سے ایک عالمگیر یہودی بادشاہ (دجّال) کے ظہور اور تمام دنیا پر یہود کے تسلط کے تصورات بھی یہود کے عقائد میں شامل ہو چکے ہیں۔
یہود کی تاریخ
یہود کی تاریخ کا آغاز حضرت یعقوب علیہ السلام کے زمانے سے ہوتا ہے، جن کا اصل نام ’’اسرائیل‘‘ (عبداللہ) تھا۔ آپ کے بارہ بیٹوں کی اولاد مصر میں پلی بڑھی اور انہی سے بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے بنے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں فرعون سے نجات دلانے کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔ فرعون ان کا تعاقب کرتے ہوئے اسی سمندر میں غرق ہو گیا۔ فرعون سے نجات پاتے ہی بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نافرمانیاں شروع کر دیں۔ باربار کی تنبیہ کے باوجود باز نہ آئے۔ موسیٰ علیہ السلام کے دور میں بنی اسرائیل اپنے آبائی وطن فلسطین واپس نہ جاسکے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد کا دور
عہدِ قُضات:
بنی اسرائیل کی اگلی نسل نے یوشع بن نون علیہ السلام کی قیادت میں جہاد کر کے فلسطین واپس حاصل کیا۔ ان کی پہلی خودمختار حکومت ریاست کا یہ زمانہ عہدِ قُضات کہلاتا ہے جو تقریباً ۴۰۰ سال رہا۔
عہد ملوک:
اس کے بعد بادشاہوں کے اختیارات کا دور آیا۔ داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کے دور میں نبوّت اور بادشاہت یکجا اور یہ قوم عروج پر رہی۔ مگر سلیمان علیہ السلام کے انتقال کے بعد اس میں سفلی عملیات اور ہر قسم کی برائی عام ہو گئی۔
عہدِ انقسام:
اعتقادی اور عملی خرابیوں کی وجہ سے بنی اسرائیل میں ایسی پھوٹ پڑی کہ دو مستقل حکومتوں میں بٹ گئی۔ بیت المقدس کو قبلہ ماننے والے فرقوں نے مملکتِ ’یہودا‘ کی بنیاد رکھی جس کا دارالحکومت القدس تھا۔ القدس کو قبلہ نہ ماننے والوں نے شمال میں مملکتِ ’اسرائیل‘ (گلیل) قائم کی۔ ان دونوں ریاستوں میں شدید دشمنی تھی۔ یہ زمانہ عہد انقسام کہلاتا ہے۔
اسیریٔ بابل:
۵۸۶قبل مسیح میں عراق کے بادشاہ بُختِ نصر نے ان کی عبادت گاہ کو تباہ کر دیا، بے شمار افراد کو قتل کیا اور تقریباً ۷۰ ہزار کو قیدی بنا کر عراق کے ایک شہر بابل لے گیا۔
عہدِ نجات:
۵۳۸ قبلِ مسیح میں ان کی نجات کا دور شروع ہوا۔ فارس کے بادشاہ قورش نے عراق اور شام پر قبضہ کر لیا اور عراق میں آباد بنی اسرائیلیوں کو واپس بیت المقدس جانے کی اجازت دے دی ۔
یونان و روم کے ماتحت:
۳۳۲ قبل مسیح میں سکندرِ اعظم یونانی نے ایشیا پر حملہ کیا اور تقریباً دو سو سال سے زائد عرصہ بنی اسرائیل یونان کے غلام رہے۔ ۶۴ قبلِ مسیح میں روم کے حاکم پومپئی نے یونانیوں کو شکست دے کر فلسطین پر قبضہ کر لیا۔ یوں بنی اسرائیل ایک قوم کی غلامی سے نکل کر دوسری کی غلامی میں جاتے رہے۔ اس دور میں ان کے علماء دنیوی مفادات کے لیے تورات کی آیات کی من مانی تشریحات کرنے لگے۔ تشریحات کے اختلافات کی وجہ سے ان میں فرقہ بندی زور پکڑتی چلی گئی۔ اصلاح کے لیے آنے والے تمام انبیائے کرام کو وہ جھٹلاتے چلے گئے اور بیسیو ں انبیائے کرام کو کذاب قرار دے کر قتل کر ڈالا۔ حضرت زکریا علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام جیسے برگزیدہ پیغمبروں کی بزرگی اور مقام کا بھی کوئی لحاظ نہ کیا۔ آخر میں حضرت عیسی علیہ السلام کی بعثت ہوئی ، جب انہوں نے انجیل کے وہ احکام پیش کیے جو شریعتِ موسوی سے بعض چیزوں میں جدا تھے، تو بنی اسرائیل آپ کے دشمن بن گئے اور آپ کو قتل کرنے کی سازش کی۔ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا اور جس شخص نے ان کی مخبری کی تھی اس کو عیسیٰ علیہ السلام کی شکل دے دی، یہودیوں نے غلط فہمی میں اسی کو گرفتار کر کے سولی پر لٹکا دیا۔
ذلت و مسکنت کا دور:
رفعِ مسیح کے بعد یہود کی سرکشی بہت بڑھ گئی تھی۔ اب وہ اپنی سابقہ عظمت کی بازیافت کے لیے اصلاحِ اعمال کی بجائے دنیا کی اقوام کے خلاف زیرِ زمین سازشیں کرنے میں مصروف ہو گئے۔ ان کی مفسدانہ حرکتوں سے تنک آکر رومی حاکم طیطوس نے ۷۰ عیسوی میں یہود کا دل کھول کر خون بہایا اور بیت المقدس میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی تعمیر کردہ بنی اسرائیل کی قدیم عبادت گاہ کو گرا دیا۔
۱۳۵ عیسوی میں ایک اور رومی حاکم اڈریان نے یہود کو بیت المقدس سے نکال دیا اور ان کے داخلے پر سخت پابندی لگا دی۔
یہود … آغازِ اسلام سے دورِ حاضر تک
حضور اکرم ﷺ کے زمانے تک یہود میں ایسے علماء موجود تھے جو تورات میں موجود آخری نجات دہندہ یعنی نبی آخر الزمان ﷺ کی علامات سے واقف تھے۔ تحریفات کے باوجود تورات اور انجیل دونوں میں آپ ﷺ کی نشانیاں موجود تھیں۔ آپ ﷺ کو لڑکپن میں شام کے سفر کے دوران بعض نصرانی راہبوں نے پہچان لیا تھا۔ ہجرت کے بعد مدینہ کے یہودیوں نے بھی آپ کو مخصوص علامات سے پہچان لیا۔
نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کو یہود کے فتنے سے بچانے کے لیے نہ صرف یہ اہتمام فرمایاکہ انہیں مدینہ سے نکال دیا بلکہ اپنے آخری ایّام میں یہود و نصاریٰ کو پورے جزیرۂ عرب سے نکال دینے کی وصیت فرمائی۔ یہود نے مسلمانوں کے خلاف کاروائی کی ابتداء میں نئے فرقے پیدا کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں سب سے پہلے اہل تشیُّع کا ظہور ہوا، اِس تحریک کا بانی عبد اللہ بن سبا یہودی النسل تھا۔ آج بھی گمراہ فرقوں کو یہود کی خفیہ سرپرستی یا تعاون ضرور میسر ہے۔
اگلی صدیوں میں یہودی خفیہ تنظیموں اور تحریکوں نے مناسب طاقت حاصل کرنے کے لیے یورپ کے اقتصادی اور علمی منابع پر قبضہ کیا۔ نصرانیوں کے دلوں سے اپنی نفرت کے جذبات دور کیے اور اپنی مظلومیت کا پرچار کر کے ان کی ہمدردیاں حاصل کیں، یورپی حکومتوں اور اقتصادی اداروں میں اپنے کارندوں کو کلیدی عہدوں پر پہنچایا اور اس طرح ۱۹۴۸ء میں فلسطین کی جگہ اسرائیل کے قیام میں کامیاب ہو گئے۔
موجودہ یہودیوں کا نسب :
یہودی خود کو انبیائے بنی اسرائیل کی اولاد قرار دیتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ زمانۂ حال کے یہودیوں کی اکثریت خالص نسلِ یعقوبی ہرگز نہیں، ان میں کئی قوموں کا خون شامل ہے، ہاں کچھ خصوصیات مثلاً حرض، حسد، تکبر، سود خوری وغیرہ، ان میں ضرور مشترک ہیں مگر انہیں نسلی نہیں، قومی خصوصیات کہنا چاہیے۔
یہودی مذہب کے مآخذ
یہودی اپنے مذہب کے بارے میں بڑی رازداری برتتے ہیں کیونکہ ان کے مذہبی و نسلی تفاخر نے انہیں ساری دنیا سے متنفر کر دیا ہے اور تمام اقوام کو اپنا حریت تصور کرتے ہیں۔ ان کے مذہبی مآخذ تین ہیں:
محرف تورات
تلمود
کبالا
تورات
یہود کے نزدیک تورات وہ پانچ صحائف ہیں جو موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ہاتھ سے لکھے تھے۔ مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اصل تورات کی جگہ اب اِن کے پاس مُحَرَّف تورات ہے۔ اس میں جابجا ایسے عقائد موجود ہیں جن سے اللہ اور رسولوں کی تنقیص لازم آتی ہے۔
یہود کے ہاں خدا کو ’’یہوداہ‘‘ کہا جاتا ہے، وہ اس کی وحدانیت کے قائل ہیں مگر اس کی صفاتِ قدرت اور عظمت و جلال سے بے خبر ہیں۔ محرف تورات کے مطابق اللہ تعالیٰ کی حیثیت ایک دنیا کے بادشاہ جیسی ہے جو بھولتا بھی ہے، غافل بھی ہو جاتا ہے، وہ بہت سی چیزوں سے لاعلم رہتا ہے اور اپنے فیصلوں پر نادم بھی ہوتا ہے1۔ وہ تھکتا بھی ہے2۔ یہود اللہ کی تجسیم کے بھی قائل ہیں3۔ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمارے اکابر نے موسیٰ علیہ السلام کے ہمراہ اللہ کو دیکھ لیا تھا4۔
تورات میں انبیاء علیہ السلام کے بارے میں عقائد:
حضرت نوح علیہ السلام نے شراب پی5۔ حضرت لوط علیہ السلام کی بیٹیوں نے اِ ن سے بدکاری کی6۔ حضرت ہارون علیہ السلام نے بچھڑے کی پوجا کا حکم دیا7۔ حضرت سلیمان علیہ السلام عیاش آدمی تھے، ان کی عیاشی نے سلطنت کو تباہ کر دیا8۔ نعوذ باللہ مل تلک الھفوات۔
شانِ انبیاء ؑ میں یہ گستاخیاں اس لیے کی گئیں کہ یہودی اللہ کے پیغمبروں کا دل سے احترام نہیں کرتے تھے اور ان کو ایک جابر حاکم کی مانند تصور کرتے تھے۔
آخرت کے بارے میں عقیدہ:
تمام انبیائے کرامؑ کی تعلیم میں عقیدۂ آخرت بنیادی حیثیت رکھتا ہے مگر تورات آخرت کے ذکر سے خالی ہے۔ اِس میں دی گئی بشارتیں بھی دنیوی کامیابی، ترقی، عروج اور حکومت سے متعلق ہیں۔ غالباً دیگر تحریفات کی طرح علمائے یہود نے آخرت کا ذکر بھی حذف کر دیا تاکہ یہودی صرف دنیوی ترقی کو ملحوظ رکھیں اور تیزی سے آگے بڑھ کر عروجِ دنیا حاصل کر سکیں۔ اس تحریف کا اثر ہے کہ یہودی موت اور آخرت کے ذکر سے بہت بدکتے ہیں، اسی لیے قرآن مجید نے موت سے کراہیت کو اِن کی بہت بڑی بیماری قرار دیا ہے۔
تلمود
تلمود کی اصطلاحی تعریف یہ ہے:
’’یہود کی مذہبی روایات اور آداب کی تعلیم جو سینہ بہ سینہ اور نسل در نسل منتقل ہوئی۔‘‘
یہود کا دعویٰ ہے کہ تلمود ایسی روایات کا مجموعہ ہے جو تورات سے زاید ہیں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے نسل در نسل زبانی نقل ہوتی ہوئی ان تک پہنچی ہیں، ان روایات کا مرتبہ تورات سے بھی بلند ہے، اس میں جو کچھ ہے وہ خداوند یہوداہ کا اوّلین واجب التعمیل حکم ہے۔
تلمود دراصل تورات کی پابندیوں سے جان چھڑانے کی کوشش ہے۔ چونکہ محرف تورات اپنی تمام تر تبدیلیوں کے باوجود یہود کے نسلی تفاخر اور اقوام عالم کے بارے میں نفرت و حقارت کے جذبات کا ساتھ نہیں دیتی تھی اس لیے یہودی پیشواؤں نے تلمود تیار کی۔ شروع میں دوسری سے تیسری صدی عیسوی تک تھوڑی تھوڑی کر کے تورات کی ایک شرح ’’مِشنا‘‘ لکھی گئی، پھر مشنا کی شروح لکھی گئیں جن کے مجموعے کو ’’جمارہ‘‘ کا نام دیا گیا۔ بعد میں آسانی کے لیے مشنا اور جمارہ کو ایک جگہ جمع کر لیا گیا۔ اسی مجموعے کو ’تلمود‘ کا نام دیا گیا ہے۔ تلمود کے ان نسخوں میں ہر صفحے پر اوپر مشنا کا متن ہے، پھر خطِ فاصل لگا کر نیچے جماراہ کی عبارت ہے۔
تلمود کے چند مشتملات:
اللہ دن کے ۱۲ گھنٹے کام کرتا ہے جن میں ۳ گھنٹے شریعت کا مطالعہ کرتا ہے، ۳ گھنٹے نفاذِ احکام میں صرف کرتا ہے، ۳ گھنٹے دنیا کے رزق کا اہتمام کرتاہے، پھر ۴ گھنٹے مچھلیوں کے بادشاہ سے کھیلتا ہے۔
بعض شیطان و جِنّات آدم و حوّا کی اولاد سے ہیں کیونکہ یہ دونوں مذکر و مؤنث شیطانوں سے ناجائز تعلقات میں ملوث رہے۔ (نعوذ باللہ)
غیر اقوام سے متعلق عقائد:
یہود کو مارنا اللہ کی عزت پر حملے کے مترادف ہے۔
یہود دوسری اقوام کے مال و جان کے مالک ہیں۔
تمام انسان یہود کی خدمت کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔
جنت صرف یہودیوں کی ہے۔
غیر یہود کی ارواح شیطانی ارواح ہیں۔
عالمگیر تسلط سے متعلق عقائد:
جب نجات دہندہ آئے گا تو تمام غیر یہود شر پسندوں کی حکومت ختم ہو جائے گی۔
یہود پر لازم ہے کہ تمام اقوام کی حکومت ختم کریں۔
غلبۂ یہود سے قبل ایک بڑی جنگ ( ہرمجدون) واقع ہو گی جس میں دو تہائی دنیا ہلاک ہو جائے گی۔
نصرانیوں سے متعلقہ عقائد:
اپنے سرپرست عیسائیوں کے بارے میں عقائدِ تلمود یہ ہیں:
عیسیٰ مسیح مذہبِ یہود کا مُرتد، کافر، واجب القتل تھا، اور اس وقت جہنم کے شدید ترین عذاب میں ہے۔
عیسیٰ کی ماں ’’باندار‘‘ نامی سپاہی کے ساتھ ملوّث رہی اور اس سے عیسیٰ پیدا ہوا۔
نصرانیوں کے گِرجے کچرے کے ڈھیر کی مانند ہیں۔ اُن میں تقریریں کرنےوالے پادری کُتّوں کی مانند ہیں، جو بھونک رہے ہیں۔
تلمود کے موجودہ غیر عبرانی نسخوں میں یہ باتیں حذف کر دی گئی ہیں۔ آج بھی تلمود کا اصل عبرانی متن یہودی علماء کے سوا کسی کو دستیاب نہیں ہے۔
کبالا /قبالا
یہودی مذہب کا تیسرا بنیادی ستون کبالا ہے۔ یہ جادو، ٹونے اور ساحرانہ عملیات کے فلسفے اور اس کے طور طریقوں پر مشتمل موادہے۔ جادو کفریہ اور شرکیہ الفاظ و افعال پر مشتمل ایک ناپاک طریقۂ کار ہے، جس سے اللہ تعالیٰ ناراض اور شیطان حد درجے خوش ہوتا ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے وقتی طور پر شیطان کو ایک محدود طاقت دی ہے، اس لیے شیطان وہی طاقت جادوگر کے ساتھ کر دیتا ہے۔
ہزاروں سال قبل جب بدبخت یہود نے دیکھا کہ وہ اپنے اعمالِ بد کی وجہ سے اللہ کے ہاں مغضوب ہو گئے ہیں، تو انہوں نے توبہ کر کے اُسے راضی کرنے کی بجائے شیطان سے مدد مانگنی شروع کی اور اُسی کے سکھانے پر شیطانی اعمال شروع کیے، اس طرح ان میں جادو کو رواج ملا۔ آہستہ آہستہ یہ علم مدّون ہوتا ہوا کبالا کی شکل اختیار کر گیا۔
اس شیطانی علم میں خونی رسومات کی بڑی اہمیت ہے اس لیے رفتہ رفتہ یہودی جادوگروں کی خونی رسومات یہودی مذہب کا حصہ بن گئیں جن میں سے ایک ’’عید فصح‘‘ ہے، اس میں یہودی ایک خاص جادوئی روٹی تیار کر کے کھاتے ہیں، جس کے آٹے میں دس سال سے کم عُمر غیر یہودی بچے کا خون نچوڑا جاتا ہے۔ ’پوریم‘ کے تہوار میں بچے کی جگہ جوان آدمی کا خون لیتے ہیں۔ بھینٹ چڑھائے جانے والے بچے یا مرد کو زندہ ایک ٹنکی میں ڈالا جاتا ہے جس میں نصب نوکیلی سلاخیں جسم میں پیوست ہو جاتی ہیں اور خون ٹپک ٹپک کر ٹنکی کے نل سے آٹے میں گرتا ہے۔
کبالا کے مقاصد:
یہود کبالا کو بڑے اہداف اور مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں مثلا:
حریف شخصیات کے اذہان کو مسخر کرنا، انہیں ذہنی یا جسمانی طور پر مفلوج یا قتل کرنا۔
طمانینتِ نفس اور شیطان کا قرب حاصل کرنا تاکہ اس کی ناپاک مدد شاملِ حال رہے۔
اخلاقِ ذمیمہ میں رسوخ پانا تاکہ گھناؤنے سے گھناؤنا کام بھی مشکل نہ لگے۔
صیہونی منصوبہ سازوں کی خفیہ دستاویزات (پروٹوکولز)
یہ وہ دستاویزات ہیں جو عالمگیر صیہونیت کے بانی تھیودور ہرٹزل نے ۱۸۹۷ء میں صیہونیوں کے پہلے عالمی اجتماع میں پیش کیں۔ ان کو ’حکمائے صیہون کے خفیہ پروٹوکولز‘ کہا جاتا ہے۔
پروٹوکولز میں کیا ہے؟
ان میں کہا گیا ہے کہ:
ہمارا پاسپورٹ، ہماری شناخت… طاقت، جھوٹ اور دعوے ہوں گے۔
ہمارا حق ہماری قوت ہو گی (یعنی جس کی لاٹھی اس کی بھینس)۔
ہماری آزادی قانون کے دائرے میں اقدامات اور جدوجہد کرنا ہو گی، لیکن تمام قوانین ہمارے حسبِ منشاء ہوں اور تمام آزادیوں پر ہم قابض ہوں گے، ہم آزادی کی وہ شکلیں پیدا کریں گے جو ہماری مرضی کے مطابق ہوں۔
قانون سازی، انتخابات، صحافت اور نشر و اشاعت (یعنی میڈیا) ہمارے ہاتھوں میں ہوں۔
اغیار کی بھوک انہیں ہمارے سامنے ذلیل کرے گی کیونکہ دنیا کے غذائی وسائل ہمارے قبضے میں ہوں۔
عالمی مسائل کا تجزیہ اُس طرح کریں گے جو ہماری مصلحت اور مفاد کے مطابق ہو۔
ہم حکومتوں اور رعایا کے درمیان خندق حائل کر دیں گے۔
ہمارے دو بڑے ہتھیار ہیں: ادب اور صحافت
ہم حاکم بن کر اپنے عقیدے کے سوا دنیا میں کوئی اور عقیدہ باقی نہیں رہنے دیں گے۔
پوری دنیا کا یہودی بادشاہ ہی پوپ ہو گا، اور یہ کام کرنے کے لیے ہم دینی راہنماؤں (عیسائی پادری، مسلمان علماء، ہندو پنڈتوں) کے اثرات کو محدود کریں گے۔
ہمارے آمروں کی زبان پر خوشحالی، امن و سلامتی اور بین الاقوامی وحدت سے مراد یہود کے دھارے میں بہنا ہے۔
دنیا میں جہاں کہیں بھی ہمارے خلاف احتجاج ہو گا وہ بھی ہمارے مشوروں بلکہ ہمارے فیصلوں کے مطابق ہو گا، یعنی ہر قوم میں احتجاج کرنے والے بھی ہم کھڑے کریں گے، تاکہ نکاسیِ جذبات بھی ہوتی رہے۔
دنیا کی حکومتوں کا پہیہ ہم گھمائیں گے۔
اخبارات ( یعنی تمام ذرائع ابلاغ) میں کوئی خبر ہماری مرضی کے بغیر نہیں شائع ہو گی۔
یہ تھا پروٹوکولز کا ایک اجمالی جائزہ۔ تمام دستاویز اسی طرح کے شیطانی منصوبوں کی آئینہ دار ہیں۔
٭٭٭٭٭
1 خُروج ۳۲:۱۴
2 تکوین ۲:۲
3 خُروج ۱۳:۲۱
4 خروج ۲۴:۹
5 تکوین ۹:۲۰
6 تکوین ۱۹
7 خروج ۱ تا ۲۰ـ۳۲
8 اخبار ۹، ۲۳، ۲۸









