یہاں درج فاضل لكهاريوں کے تمام افکارسے ادارہ ’نوائے غزوۂ ہند‘ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
اسرار احمد نے لکھا
اگر ملک میں کسی بھی جگہ کوئی چیز سستی مل رہی ہو تو ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے فوراً حکومت کو اس کی اطلاع دیں تاکہ اس پر ایکشن لیا جا سکے۔
اس ملک میں جمہوریت کتنی مضبوط ہے؟ اس بات کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ جرنل صاحب اس پر عملدرآمد کا بیان دے رہے ہیں۔
ساجد ناموس نے لکھا
ہمارے فوجی جرنیل جو بھی کام کرتے ہیں وہ ملک کی بہتری کے لیے ہی کرتے ہیں، پھر چاہے وہ آفشور کمپنیاں ہی کیوں نہ ہوں۔ ان کے بارے میں اگر کوئی غلط خیال آ بھی جائے تو اسے شیطانی وسوسہ سمجھ کر جھٹک دیا کریں۔
اتنے سارے ریٹائرڈ جنرلز کی موجودگی میں رمیز راجہ کا چئیر مین پی سی بی بننا قومی روایات سے انحراف، عسکری ادارے کے لیے باعثِ تضحیک، ایک افسوسناک اور شرمناک عمل ہوگا۔
مہتاب عزیز خان نے لکھا
جبری لاپتہ کیے جانے والوں کے پیاروں کے لیے اب رونا بھی جرم ہو گا۔
لاپتہ افراد کے لواحقین کو ایجنسیوں پر الزام لگانے پر جیل اور جرمانے کی سزا کا شرمناک مجوزہ بل، قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے وزارت داخلہ نے منظور کر کے اسمبلی میں پیش کرنے کی سفارش کر دی ہے۔
داخلہ کمیٹی میں موجود اپوزیشن اراکین کی طرف سے بھی اس غیر آئینی و غیر انسانی بل پر بزدلانہ خاموشی اختیار کی گئی۔ اپوزیشن نے فوجی عدالتوں، ایکسٹینشن، چئیرمین سینیٹ کے انتخاب کے بعد اس چوتھے مرحلے پر بھی مکمل تابعداری کا مظاہرہ کیا ہے۔
ایک بار پھر ثابت ہوا کہ تحریک انصاف سے انکا اختلاف صرف ابا جی کے زیادہ لاڈلے ہونے پر ہے۔
پٹرولیم ڈویژن نے گھریلو گیس کی قیمتوں میں 270 فیصد اضافے کی تجویز دی ہے لیکن خان صاحب مہربانی فرما کر صرف 200 فیصد ہی بڑھائیں گے اس لیے آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔
ابوبکر قدوسی نے لکھا
آہستہ آہستہ فلیٹ فلیٹ کر کے ہم ’’ان شاء اللہ‘‘ پورا انگلینڈ خرید لیں گے۔ پھر وہاں ہماری حکومت ہو گی۔
اوبر چلے…… دشمن جلے!
شہزاد اسلم مرزا نے لکھا
سیاسی باپ بیٹے کے درمیان ٹینشن کی اطلاعات کیا سامنے آئیں، مسلم لیگ ن نامی نظرانداز اولاد نے جی حضوری شروع کر دی۔ان سب کا مقصد ووٹ نہیں بُوٹ کو عزت دینا ہی ہے۔
کابینہ کا چور ہونا کنفرم ہو چکا لیکن اس کابینہ کو منتخب کرنے والا بدستور ایماندار ہے۔ ایسا ایماندار کہ بیچارا اپنا خرچہ تحفے میں ملی گھڑی بیچ کر پورا کر رہا ہے۔ایسی ایمانداری بھی کرشمہ ہی ہے!
کپتان کا عہد:
” ایک وقت آئے گا جب اس ملک میں کوئی زکوٰۃ دینے کے قابل نہیں رہے گا۔“
رضوان رضی نے لکھا
گھڑی ناراضگی میں بیچی گئی، شہزادے نے گھڑی کے ساتھ اضافی سیل نہیں دیا تھا۔
جے ایف تھنڈر طیارہ ’ہمارا‘ ہے اور بیچتا اسکو چین پھر رہا ہے، اب تک جتنے بھی ممالک کو بیچا چین نے بیچا۔یہ کیا سائنس ہے؟
دنیا بھر میں شخصی آزادیوں کے چیمپئن، خواتین کا حجاب اوڑھنے کا بنیادی حق تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ اور اس پر فتویٰ بھی فزکس کا پروفیسر دے رہا ہے جس کی اپنے شعبے میں آج تک کوئی قابل ذکر ریسرچ نہیں۔
بلال غوری نے لکھا
پنڈورا لیکس کا خلاصہ:”جب تم رات کو مزے سے سو رہے ہوتے ہو تو ہم جاگ کر آفشور کمپنیاں بنا رہے ہوتے ہیں۔‘‘
عثمان خان طاہر نے لکھا
وہ چاہتا تو چپ کرکے کامینٹری بھی کرسکتا تھا مگر اس نے عوام کا کچومر بنانا، ہر کہی بات سے پھر جانا، اور ذلالت کا اعلیٰ مقام حاصل کرنا اپنا اولین فرض سمجھا۔
قدر کرو ایسے لیڈر کی!
وسیم عباسی نے لکھا
دو خبریں :
پیٹرول پانچ روپے مزید مہنگا ہونے کا امکان۔
شبلی فراز بھنگ کی کاشت کے منصوبے کا افتتاح کریں گے۔
امید ہے دوسری خبر کی وجہ سے پہلی خبر کے اثرات کم محسوس ہوں گے۔
ظفر نقوی نے لکھا
نیوزی لینڈ کا دورہ منسوخ کرنے کے پیچھے بھارت ہوسکتا ہے۔ شاہ محمود قریشی
بھارت پی ایس ایل میں فارن کھلاڑیوں کو بھی نہیں آنے دیتا، نیوزی لینڈ کو بھی بھگا دیتا ہے، افغانستان پر سلامتی کونسل اجلاس میں بھی ہمیں نہیں گھسنے دیتا، سعودیہ تک کو دور کر دیتا ہے…… تو پھر آپ کیا چنے بیچنے آئے تھے؟
کامران شریف نے لکھا
کوئی ملک جہاز ضبط کر لیتا ہے اور کوئی ہوٹل، کوئی فون سنتا نہیں اور کوئی کرتا نہیں، کوئی ادھار دے کر واپس مانگ لیتا ہے، کوئی اڑتے جہاز سے واپس اتار لیتا ہے، کوئی کرکٹ کھیلنے سے انکاری ہے، کوئی کہتاہے ’وہ‘ میئر اسلام آباد ہے……
خارجہ پالیسی کو ایسے ’چار چاند‘ بھی لگنا تھے۔
احمد عمیر نے لکھا
ملک میں مساوات کا ایسا اعلیٰ نظام قائم ہے کہ سب یکساں پریشان ہیں۔
پاکستان آرمی کو جہاد کا ٹھیکہ پکڑا کر پاکستانیوں نے جہاد سے جو توبہ کی اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ دنیا بھر کی ذلت و رسوائی پاکستانیوں کا مقدر بن گئی، امن و امان خواب ہے اور معاشی میدان میں حال اس پڑوسی ملک سے بھی بدتر ہے جو 40/45 سالوں سے جہاد کر رہا ہے۔
امداد حسین نے لکھا
ویسے یہ جوبائیڈن کس ڈھیٹ مٹی کا بنا ہوا ہے۔ 15000 امریکی فوجیوں، شہریوں اور سہولت کاروں کو بغیر ویزوں، بغیر امیگریشن یا کسی ریکارڈ کے اسلام آباد اور کراچی کے ہوٹلوں میں رکھا ہوا ہے۔ جتنا بھی مصروف ہے، ایک فون تو کرنا چاہیے تھا بیشک ہیلو کہہ کر بند کر دیتا۔ ہم قوم کو یہ تو کہہ سکتے کہ فون آیا تھا لیکن سگنل پرابلم کی وجہ سے زیادہ لمبی بات نہیں ہو سکی۔
طارق حبیب نے لکھا
بیشک اللہ ہی عزت دینے والا ہے۔
ایک طرف دبئی میں لعنت و پھٹکار سمیٹتی ، گلتی سڑتی زندہ لاش ،
دوسری جانب موت کے بعد بھی کروڑوں دلوں میں حیات۔
محمد طلال نے لکھا
عالمی قوانین ذلت و شکست کا پھندا ہیں۔
پہلی بار انہیں قبائلیوں نے آزاد کشمیر کے لیے توڑا تھا، دوسری بار ڈاکٹر عبد القدیر خان نے ایٹم بم بنانے کے لیے، اور فقط یہی کامیابیاں ہیں ہمارے حصے میں اور پھر دونوں کے ساتھ کیا ہوا، وہ بھی یاد رکھیں…!
محمد سعد نے لکھا
ڈاکٹر عبد القدیر خان کا اصل جرم یہی تھا کہ شاید وہ فزکس پڑھ کر ہود بائے کی طرح دہریے نہیں بنے اور نہ کبھی سیکولر تصور جہاں کو اپنایا۔ اسی وجہ سے تمام عمر اسیری میں گزاری لیکن کبھی اصولوں پر سمجھوتا نہیں کیا، چاہتے تو کیا کچھ نہیں کر سکتے تھے۔
ابو محمد مصعب نے لکھا
کوئی ملک کو ایٹمی قوت بنا کر بھی رسوا ہوا، کسی نے آسمان سے ٹپکے دشمن کو محض چائے پلا کر داد سمیٹی۔
جس طرح بلوغت سے پہلے اسلام قبول کرنے پر پابندی کیلئے قانون سازی کی کوششیں ہو رہی ہیں، اسی طرح والدین کو چاہیے کہ بلوغت کی عمر (یعنی 18 سال) کو پہنچنے سے پہلے بچے کو سکول میں بھی داخل نہ کروائیں بلکہ بچے کے بالغ ہونے کا انتظار کریں۔ ممکن ہے ’سمجھدار‘ ہونے کے بعد بچہ، تعلیم یافتہ ہونے پر اَن پڑھ رہنے کو ترجیح دے۔اور پھر جب بچہ بالغ ہو جائے اور اس کے اندر پڑھنے پڑھانے کا کیڑا جاگ اٹھے تو اسے سیشن جج کے روبرو پیش کیا جائے۔ سیشن جج اسے سمجھانے کی کوشش کرے کہ اوروں نے پڑھ لکھ کر کونسا تیر مار لیا جو تو مارے گا؟ اگر بچہ پھر بھی باز نہ آئے تو اس کے سامنے آکسفورڈ سمیت دنیا کے مشہور نصاب پیش کیے جائیں، پیشہ ورانہ زندگی کے مختلف شعبوں سے متعلق رہنمائی دی جائے تاکہ بچہ اپنے پسند کا کریکیولم اور میڈیم منتخب کر لے۔ یہ عمل مسلسل تین ماہ تک جاری رکھا جائے۔
رضوان اسد خان نے لکھا
خبردار جو کوئی 18 سال کی عمر سے پہلے مرا…
تم علی تھوڑی ہو جو تمہارا ’کم عمری کا اسلام‘ قبول کرنا، قبول کر لیا جائے!
البتہ کسی مسلمان نے ملحد بننا ہو تو کوئی مسٔلہ نہیں۔ کیونکہ بچے کو ’شعور کی عمر‘ تک پہنچنے سے پہلے ’زبردستی‘ کسی دین پر چلانا ویسے ہی انسانی حقوق کے خلاف ہے۔
زبیر منصوری نے لکھا
افغانستان میں امریکی مہم جوئی کی مختصر تاریخ:
”نو گیارہ سے نو دو گیارہ تک…“
عمر فاروق ملک نے لکھا
اے راہ ڈالر کے شہیدو!
جن کا جذبۂ ایمانی جنرل یحییٰ کی محبوبہ نور جہاں نے جگایا ہو، ان کا حساب خود لگا لیں۔
ظفر عمران نے لکھا
قوم کو جب جنگی جنون میں مبتلا کیا جاتا ہے تو اسے چائے پیتے جنرل اتنے بھاتے ہیں کہ وہ pizza بیچتے جنرل اور آئین توڑتے جرنیلوں کو قومی ہیرو مان کر احتساب کا سوال ہی گول کر جاتے ہیں۔ (جرنل فیض کی تصویر کی طرف اشارہ ہے۔)
جمیل بہرام نے لکھا
بھارت کشمیر پر 74 سال بعد بھی قابض ہے اور ہم چائے پر اچھل کود کر رہے ہیں؟ اگر طالبان حکومت پاکستان کے مفاد میں تھی تو اس کے خلاف اقدامات کیوں کیے گئے؟ ان کے سفیر اور لوگوں کو کیوں امریکہ کے حوالے کیا؟ کیوں اپنے ملک کو جنگ کی آگ میں دھکیل کر ہزاروں لوگوں کی جانیں ضائع کی؟
یوسف خان نے لکھا
وزیر خارجہ منہ ٹیڑھا کر کے کہتا ہے کہ افغان حکومت عالمی قوانین کا احترام کرے۔
کیوں جناب! جب افغانستان کے سفیر کو برہنہ کر کے اپنے آقا امریکہ کے حوالے کیا تھا تب عالمی قوانین یاد تھے؟
جس ملا عبد الغنی سے آج آپ ملاقات کی بھیک مانگ رہے ہیں، کراچی میں گرفتاری کے وقت عالمی قوانین یاد تھے؟
آٹھ سال بنا کیس کے جیل میں بند رکھا تب عالمی قوانین یاد نہیں تھے؟
ہماری سرزمین سے امریکی ڈرون پرواز کر کے بے گناہوں کو آگ و خون میں نہلاتے رہے تب عالمی قوانین یاد نہیں تھے؟
آج عالمی قوانین یاد آرہے ہیں۔
جناب آپ کا خاندانی پیشہ گوروں کے کتے نہلانا ہے، آپ کے آباؤ اجداد بھی یہی کام کیا کرتے تھے آپ بھی یہی کام کر رہے ہیں۔
آپ ان لوگوں کو درس نہ دیں جو خون کی قربانی دے کر بھی بیس سال تک ڈٹے رہے۔
تم ہمیشہ بوٹ کے آگے جھکتے رہے، وہ ایک ہی بار جھکے جب انہوں نے کابل ائیرپورٹ سے صلیبی جھنڈا اتار کر اپنے رب کے سامنے گڑگڑا کر سجدہ کیا۔
اگر افغانستان میں امن برقرار رہتا ہے تو آئندہ دس سالوں میں افغانستان کو امیر امان اللہ کا افغانستان بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
ہمارے فیصلے تب بھی وردی والے سیاستدان ہی کر رہے ہوں گے۔
خوشحال غزنوی نے لکھا
آئندہ کسی اونچی بلڈنگ میں کوئی جہاز ٹکرا جائے تو…
چپ چاپ بلڈنگ کی مرمت کروالیں…
ملزم کا پیچھا کرنا بہت مہنگا پڑتا ہے۔ (پینٹا گون)
خالد محمود نے لکھا
ہماری قسمت میں قدرت کی طرف سے ٹریفک کانسٹیبل کی ذمہ داری آئی ہے۔
کبھی حملہ آور کو راستہ دیتے ہیں اور کبھی شکست کھانے والوں کو…!
٭٭٭٭٭






