پیارے حبیب محمد ﷺکے گستاخانہ خاکے بنانے والا کارٹونسٹ لارس ولکس ایک ٹریفک حادثہ میں ہلاک
عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق پیارے حبیب محمد ﷺ کے گستاخانہ خاکے بنانے والا سوئیڈن کا کارٹونسٹ لارس ولکس ایک کار حادثہ میں ہلاک ہوگیا ہے۔ سوئیڈن کی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ ۷۵ ؍ سالہ لارس ولکس کار اور ٹرک کے درمیان تصادم کے نتیجہ میں ہلاک ہوگیا ہے۔ یہ حادثہ سوئیڈن کی کرونبرگ کاؤنٹی کے علاقہ مارکیریڈ کے قریب اس وقت پیش آیا جب ولکس کی کار مخالف سمت سے آنے والے ٹرک سے ٹکرا گئی جس کے نتیجہ میں دونوں گاڑیوں میں آگ بھی لگ گئی۔ حادثہ میں ولکس سمیت اس کی حفاظت پر مامور دونوں پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے جبکہ ٹرک ڈرائیور زخمی ہوگیا۔
واضح رہے کہ اس ملعون کارٹونسٹ نے سال ۲۰۰۷ء میں نبی اکرم محمد ﷺ کی شان میں گستاخانہ خاکے بنائے تھے جس کے رد عمل میں مسلم دنیا میں شدید غم و غصہ پیدا ہوا تھا۔ ان خاکوں کی اشاعت کے بعد ہی عالمی جہادی تحریک القاعدہ نے اس ملعون کارٹونسٹ کے قتل پر ایک لاکھ ڈالر کے انعام کا بھی اعلان کیا تھا۔
لارس ولکس گستاخانہ خاکے بنانے کے بعد سے پولیس کی حفاظت میں تھا اور حادثہ کے وقت بھی ایک سادہ پولیس گاڑی میں سفر کر رہا تھا ۔
۲۰۱۰ء میں دو افراد نے سوئیڈن میں واقع ولکس کے گھر کو نذر ِ آتش کرنے کی بھی کوشش کی تھی۔ ۲۰۱۵ء میں بھی اس پر ایک قاتلانہ ہوا جب یہ ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں آزادی اظہار ِ رائے پر ہونے والے ایک مباحثہ میں شریک تھا ، البتہ اس حملہ میں یہ محفوظ رہا۔
گوانتانامو بے میں قید پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور ۱۷؍ سالہ سفاکانہ تشدد کے بعد رہا
ایک پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور ’احمد ربانی‘ ، جو گزشتہ ۱۷؍ سالوں سے بدنام ِ زمانہ امریکی جیل گوانتا نامو بے میں قید تھا، اسے جلد رِہا کر دیا جائے گا۔
مطلوب دہشت گرد سمجھ کر گرفتار کیے جانے والے اس شخص پر کوئی جرم ثابت نہ ہونے کے باوجودیہ امریکی حراست میں خوفناک تشدد کا شکار رہا ۔
احمد ربانی کو ۲۰۰۲ء میں عالمی جہادی تحریک القاعدہ کے ایک رکن حسن گل ہونے کے شبہ میں پاکستانی حکام کی جانب سے کراچی میں حسن گل کے فلیٹ کے باہر سے گرفتار کیا گیا اور پھر امریکہ کو بیچ دیا گیا۔
احمد ربانی پر تاحال کوئی جرم ثابت نہ ہو سکا اور نہ ہی اس کا جہاد و مجاہدین سے تعلق کا کوئی ثبوت ملا۔
احمد ربانی کے تفتیس کاروں کو معلوم تھا کہ انہوں نے غلط شخص کو گرفتار کر لیا ہے ، پھر بھی وہ اسے تشدد کا نشانہ بناتے رہے۔ ابتدائی ڈیڑھ سال یہ شخص امریکی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے کی حراست میں رہا، پھر اسے کیوبا میں واقع گوانتا ناموبے کے عقوبت خانہ میں منتقل کردیا گیا، جہاں اسے بغیر کسی الزام یا عدالت میں پیشی کے زندگی کے ۱۷ ؍ سال گزارنے تھے۔
گوانتاناموبے کے پُرتشدد ماحول کی وجہ سے احمد ذہنی امراض کا شکار ہو گیاہے۔ وہ ۱۹ ؍ سال تک امریکی قید میں رہا، جس میں سے ۱۷؍ سال گوانتانامو بے میں گزارے۔
کفر کا سردار امریکہ احمد ربانی جیسے کئی افراد کا مجرم ہےجنہیں بغیر کسی الزام کے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور قید میں رکھا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کے نام نہاد علم بردار بھی اس موقع پر گونگے ہوجاتے ہیں کیونکہ ان کا تعلق بھی اسی ملتِ کفر سے ہے جس کا سردار امریکہ ہے۔
آج بھی کفار اور ان کے غلاموں کے عقوبت خانوں میں قید سینکڑوں مظلوم مسلمان مرد و خواتین امت کے بیٹوں کو پکار رہے ہیں اور یقیناً وہ کسی ابن ِ قاسم کے انتظار میں ہیں کہ جو آئے اور کفار کے غرور کو خاک میں ملا کر اِن مظلوموں کو اس موت سے بدتر زندگی سے نجات دلائے۔
’’فدائی مجاہدین ہمارے ہیرو ہیں ، دنیا کیا کہتی ہے اس کی پروا نہیں‘‘ : افغان طالبان
گزشتہ دنوں طالبان نے کابل کے انٹر کونٹی نینٹل ہوٹل میں ایک تقریب کا انعقاد کیا جس میں فدائی مجاہدین کے خاندانوں کو مدعو کیا گیا اور ان میں رقم اور تحائف تقسیم کیے گئے ۔
اس تقریب میں امارت اسلامی کے وزیر ِ داخلہ سراج الدین حقانی نے شرکت کی اور فدائی مجاہدین کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’’یہ قوم کے ہیرو ہیں ‘‘۔
واضح رہے کہ ۲۰۱۱ء میں اسی ہوٹل کو طالبان نے فدائی حملوں کا نشانہ بنایا تھا جس میں کئی غیر ملکی غاصبین اور ان کے آلہ کار جہنم واصل ہوئے تھے۔
اس تقریب میں امارت اسلامی کی جانب سے ان فدائی مجاہدین کے خاندانوں کو دس دس ہزار افغانی روپے کے ساتھ ساتھ ایک ایک پلاٹ دینے کا بھی وعدہ کیا گیا۔
امارت اسلامی کی وزارت ِ داخلہ کے ترجمان قاری سعید خوستی کا کہنا ہے کہ ’’یہ فدائی مجاہدین ہمارے ہیروز ہیں اور اپنے ہیروز کی حوصلہ افزائی کرنا ہمارا فرض ہے اور یہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے، لہٰذا کسی کو حق نہیں کہ وہ ہمارے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کرے۔‘‘
یہ حقیقت ہے کہ عالمی طور پر جہاد کے میدانوں میں فدائی مجاہدین دشمن کے لیے ایک ناقابل ِ دفاع ہتھیار رہے ہیں ، اور ان مجاہدین کے حملوں نے دشمن کو ناقال ِ تلافی نقصان پہنچایا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کفار نے مسلمان معاشروں میں بھی فدائی حملوں کے خلاف ایک پروپیگنڈہ مہم شروع کی اور ان حملوں کو شرعاً ناجائز قرار دلوانے کی بھرپور کوشش کی ۔ لیکن آج بھی ایسے نوجوان موجود ہیں جو اللہ کے دین پر مر مٹنے کا جذبہ، اپنے دین و امت کے دفاع اور اپنے رب سے ملاقات کا شوق لیے اپنے جسموں پر بارود باندھ کر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے دشمنوں پر آتش فشاں کی طرح پھٹنے کے لیے تیار ہیں ۔۔۔ اور ان شاء اللہ یہ سلسلہ اس کرۂ ارض پر کفر و شرک کا خاتمہ ہونےتک جاری رہے گا!
امریکہ کی کابل ڈرون حملہ میں ہلاکتوں پر مالی معاوضہ کی پیشکش
امریکہ کی جانب سے اُن دس افراد کے رشتہ داروں کو مالی معاوضہ دینے کی پیشکش کی گئی ہے جو رواں سال اگست کے مہینہ میں افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک امریکی ڈرون حملہ میں ہلاک ہوئے۔
رواں سال اگست کے اواخر میں امریکہ کے مکمل فوجی انخلاء سے قبل کابل میں اس ڈرون حملہ میں ایک امریکی فلاحی ادارہ کا کارکن زمری احمدی اور اس کے خاندان کے نو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ان میں سات بچے شامل تھے۔
ہلاک ہونے والے افراد میں سے ایک احمد ناصر نے امریکی فوج کے ساتھ بطور مترجم کام کیا تھا۔ ان میں ایسے افراد بھی موجود تھے جنھوں نے بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ ماضی میں کام کیا تھا اور ان کے پاس امریکہ میں داخلے کے ویزے بھی تھے۔
افغانستان میں طالبان کی واپسی اور اقتدار سنبھالنے کے کچھ روز بعد شدت پسند گروہ داعش خراسان کی جانب سے کابل ایئرپورٹ کے قریب ایک حملہ کیا گیا تھا، جس میں ۱۳؍ امریکی فوجیوں سمیت کئی افغانی شہری ہلاک ہوئے تھے۔ اسی دھماکے کے بعد امریکہ کی جانب سے یہ ڈرون حملہ کیا گیا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے جنرل کینیتھ میکنزی نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ ۲۹؍ اگست کو امریکی خفیہ اداروں نے آٹھ گھنٹوں تک اس امدادی کارکن کی گاڑی کو ٹریس کیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ افغانستان میں داعش کے مقامی گروہ سے منسلک ہے۔
تحقیقات سے معلوم ہوا تھا کہ اس شخص کی کار داعش سے منسلک ایک کمپاؤنڈ کے قریب موجود تھی۔ امریکی انٹیلی جنس کو موصول ہونے والی رپورٹس میں متنبہ کیا گیا تھا کہ کابل ایئرپورٹ پر مزید حملے ہوسکتے ہیں۔
ڈرون سے بننے والی ویڈیو میں دیکھا گیا کہ یہ شخص دھماکہ خیز مواد سے ملتی جلتی چیز گاڑی میں رکھ رہا ہے۔ مگر بعد میں معلوم ہوا کہ ان کنٹینرز میں پانی تھا۔ اس حملہ کے فوراً بعد ایک دوسرا دھماکہ ہوا تھا جسے امریکی حکام نے ثبوت کے طور پر پیش کیا تھا کہ گاڑی میں واقعی دھماکہ خیز مواد تھا۔ تاہم تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ دھماکہ گاڑی کے قریب موجود ایک سیلنڈر کے پھٹنے سے ہوا تھا۔
امریکی وزارت دفاع کے ترجمان جان کربی کا کہنا ہے کہ ’کالن کال نے (ملاقات میں) بتایا کہ مسٹر احمدی اور دیگر ہلاک ہونے والے افراد معصوم شہری تھے جن کا کوئی قصور نہیں تھا۔ وہ داعش سے منسلک تھے نہ امریکی افواج کے لیے کوئی خطرہ۔‘
گزشتہ بیس سالوں سے امریکہ افغانستان میں اپنی جارحیت اور بربریت کی لاتعداد مثالیں پیش کرتا رہا ہے۔ یہ واقعہ اس جارحیت کی تازہ مثال ہے، لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ اس مرتبہ اس حملہ میں وہی لوگ نشانہ بن گئے جو امریکہ کے لیے کام کرتے رہے تھے، اسی لیے اقوام ِ متحدہ سمیت نام نہاد انسانی حقوق کے علمبرداروں کو ہوش آیا اور انہوں نے ’معصوم انسانوں ‘ کی ہلاکت پر خوب شور مچایا ، اور بالآخر شدید دباؤ میں آکر امریکہ کو ان ہلاکتوں پر مالی معاوضہ کی پیشکش کرنی پڑی۔
اسی طرح کا ایک واقعہ ۷؍ ستمبر ۲۰۱۳ء کو بھی منظر ِ عام پر آیا جب عام شہریوں کی ایک گاڑی پر ڈرون طیارہ نے میزائل داغا جس سے ۱۴؍ افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا، جبکہ پوری گاڑی میں معجزاتی طور پر ایک چار سالہ بچی عائشہ زندہ بچی تھی لیکن شدید زخموں کی وجہ سےوہ نابینا ہوگئی تھی۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے عرصہ میں افغانستان میں امریکی فضائی حملوں سے ۲۲۵۹؍ معصوم شہری ہلاک اور ۱۶۵۸؍ زخمی ہوئے۔ جبکہ ان ہی حملوں میں ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد ۱۱۸۵؍ ہے اور ۱۰۶۴ ؍ بچے زخمی ہوئے۔
بنگلہ دیش: کومیلہ میں ہندؤوں کی طرف سے قرآن کریم کی بے حرمتی اور مظاہرین پر ریاستی مظالم
بنگلہ دیش کے ضلع ’کومیلہ‘ میں دُرگا پوجا کے تہوار کے موقع پر ہندؤوں کے ایک مندر میں قرآنِ مجید کی بے حرمتی کی گئی اور پھر اس پر احتجاج کرنے والوں کے خلاف حکومتی مسلح اداروں کی طرف سے فائرنگ کی گئی جس کے نتیجہ میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔
تفصیلات کے مطابق کومیلہ میں ہندؤوں کے مذہبی تہوار دُرگا پوجا کے موقع پر ہندؤوں نے مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کریم کے نسخہ کو ایک نجس اور ناپاک مورتی کے قدموں میں رکھ دیا جس کی اطلاع پر مسلمانوں میں شدید غم و غصہ کی لہر پیدا ہوئی اور ردعمل میں مسلمان مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے، جن پر حکومتی اہلکاروں نے فائرنگ کی اور متعدد افراد کو زخمی کیا۔ لیکن عالمی میڈیا، بھارت اور عالمی طاقتیں اِس واقعہ کے اصل محرک کو چھوڑ کر اُن چند مسلمانوں کے اقدام کی مذمت کرنے میں مصروف ہیں جنہوں نے اشتعال میں آکر ہندؤوں کے مندر میں توڑ پھوڑ کی۔
بنگلہ دیش سمیت برصغیر کے مسلمانوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اس پورے خطہ میں سب سے بڑا خطرہ ’ہندوتوا‘ ہے اور یہ تمام واقعات اسی ہندوتوا کے مظاہر ہیں ۔ متشدد ہندو تنظیمیں اور افراد پہلے مسلمانوں کے شعائر کی بے حرمتی کرتے ہیں، مسلمانوں پر سرِ عام ظلم کرتے ہیں، اور جب کوئی مسلمان مقابلہ میں کچھ کر لے تو پھر مسلمانوں پر الزام لگا کر مزید ہندو توا کا پرچار کیا جاتا ہے۔
ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمانان ِ بنگلہ دیش متشدد ہندؤوں اوربھارت نواز لوگوں کے مقابلہ میں اپنی صف بندی کریں، اور ہندو توا کے ہر اقدام کی روک تھام کی بھرپور کو شش کریں۔
بھارت: ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف تشدد کی ایک نئی لہر کا آغاز، مساجد اور مسلمانوں کی املاک پر حملے اور توڑ پھوڑ
بنگلہ دیش میں ہندؤوں کی طرف سے قرآن کریم کی بے حرمتی اور رد عمل میں مسلمانوں کی طرف سے مظاہروں اور ایک مندر پر حملہ کے بعد بھارت میں ہندو انتہا پسندوں نے مسلمانوں کے خلاف تشدد کی ایک نئی مہم کا آغاز کردیا۔
گزشتہ چند دنوں میں بھارتی ریاست تریپورہ میں حکمران جماعت بی جے پی کی مکمل حمایت کے ساتھ ہندو دہشتگردوں نے مساجد اور مسلمانوں کی املاک پر حملے شروع کردیے۔ تفصیلات کے مطابق تریپورہ میں تقریباً دس کے قریب مساجد پر حملے کیے اور توڑ پھوڑ کر کے انہیں منہدم کرنے کی کوشش کی گئی اور آگ لگائی گئی، جبکہ قرآن کریم کے پاکیزہ نسخوں کو بھی پھاڑا گیا اور انہیں آگ لگا کر شہید کیا گیا۔
سوشل میڈیا پر نشر ہونے والی متعدد ویڈیوز اور تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ متشدد ہندو دہشتگردوں کا ہجوم بھگوا لباس پہنے، تلواریں اٹھائے اور مسلم مخالف نعرے بلند کرتے ہوئے مساجد کی طرف ہتھیاروں کے ساتھ مارچ کررہا ہے۔
’ہندوتوا‘ دہشتگردوں نے علاقہ میں مسلمانوں کی دوکانوں اور گھروں پر بھی حملے کیے اور لوٹ مار کی ، جس کے نتیجہ میں بہت سے مسلمان خاندان محفوظ پناہ گاہوں کے لیے وہاں سے بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔
ان تمام واقعات میں حکومت اور تمام ریاستی ادارے خاموش تماشائی بنتے ہوئے ہندو دہشتگردوں کی مکمل حمایت کر رہے ہیں ۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ ملکی اور بین الاقوامی مین سٹریم میڈیا نے تریپورہ کے واقعات کو ابھی تک جگہ نہیں دی، حالانکہ اسی میڈیا نے گزشتہ دنوں بنگلہ دیش میں ایک مندر پر ہونے والے حملہ پر آسمان سر پر اٹھایا ہوا تھا۔
٭٭٭٭٭






