نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home حلقۂ مجاہد

خلیفہ صاحب ملا سراج الدین حقانی کے نصائح

ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم……رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن!

by الحاج ملا سراج الدین حقانی
in مئی تا جولائی 2021, حلقۂ مجاہد
0

ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم……رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن!

نائب امیر المومنین خلیفہ صاحب ملا سراج الدین حقانی حفظہ اللہ

اعوذ بالله من الشيطـٰن الرجيـم

بســـم الله الرحمٰــن الرحيـم

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ۝(سور ة النساء: ۵۹)

’’اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی بھی اطاعت کرو اور تم میں سے جو لوگ صاحب اختیار ہوں ان کی بھی۔‘‘

میرے محترم بھائیو!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

اللہ تعالیٰ آپ سب کی قربانیاں اور تکالیف اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، اللہ تعالیٰ ہمارے شہدا کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کا نعم البدل عطافرمائے،آمین !

کافی عرصے سےآپ بھائیوں سے ملاقات کرنے کی خواہش تھی، آپ سب بھائیوں سے ملاقات کرنا میرے لیے سعادت ہے، یقیناً آپ سب نے اپنی مسئولیت کا حق ادا کیا ہے، اللہ تعالیٰ آپ سب سے راضی ہوجائے ، ہم آپ سے راضی ہیں، ہم آپ کے بارے میں مطمئن ہیں کیونکہ ہم آپ کی نگرانی نہیں کررہے بلکہ اللہ رب العزت آپ سب کو دیکھ رہا ہے۔ آج دنیا بھر کے لوگ دوست و دشمن امارتِ اسلامیہ کے وحدت و اتفاق، ایثار و استقامت کے چشمِ دید گواہ ہیں، اس کی وجہ آپ حضرات کا تمام امور میں اللہ کا خوف ہے، اللہ ، اس کے رسول ﷺ اور اپنے امرا کی اطاعت ہے۔

جہاد فی سبیل اللہ کا آغاز نہایت اخلاص اورخالص نیتوں سے ہوا تھا کیونکہ اس وقت مادی اسباب نہیں تھے اور مسئولیتیں (بمعنیٰ عہدہ) نہیں تھیں، کوئی دلگئے (جہادی مجموعہ یا گروپ) نہیں تھا، کسی ولسوالی (ضلع) یا ولایت (صوبے) کی ذمہ دارایاں نہیں تھیں ،ہر شخص اپنے جہادی فریضے کی طرف اس خوف سے متوجہ تھا اللہ رب العزت کے ہاں ہم سے پوچھا نہ جائے، باقی فتح و نصرت اللہ کے ہاتھ میں ہے، کوئی یہ نہیں سوچتا تھا کہ ہمارا کام کامیاب ہوگا یا نہیں، دوست و دشمن سب یہی کہتے تھے کہ تم لوگ پہاڑوں اور آگ کے ساتھ مقابلہ کررہے ہو، یہ مقابلہ ناممکن ہے۔ اپنی جانوں کو عبث تکالیف و سختیوں میں نہ ڈالو۔ اسباب کے اعتبارسے اگر دیکھا جائے تو آپ سب کا جہاد کرنا ناممکن ہے، لیکن الحمدللہ، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے نصرت کا عدہ کیا ہے، اللہ تعالیٰ کے کلامِ مبارک اور رسول اللہﷺ کے ارشادات پر ہمارا عقیدہ اور ایمان ہےکہ اگرچہ ہم رہیں یا نہ رہیں ’احدی الحسنیین‘ (شہادت یا فتح مندی میں سے کوئی ایک کامیابی) ہمارا مقدر ہے، ہمارا جو عقیدہ ابتدائےجہاد میں تھا اس عقیدے کو ہم اپنی مسئولیت ،خدمات اور مادی وسائل حاصل ہو جانے کے بعد خراب نہ ہونے دیں۔ بعض مخلص مجاہدساتھیوں کو میں دیکھتا ہوں کہ وہ اپنے آپ کو اس وقت تک مکمل نہیں سمجھتے جب تک ان کو کوئی مسئولیت نہ دی جائے۔

بھائیو! ہمیں اس جہاد میں عبادت کی نیت سے شامل ہونا چاہیے، پھر بھی اگر امیرالمومنین کسی مجاہدکو کوئی مسئولیت سونپتے ہیں تو وہ مجاہد اللہ تعالیٰ سے اس کی رہنمائی اورتوفیق مانگا کرے، وہ فرامین ولوائح جو امارت نے وضع کیے ہیں، ہر وزارت کے لیے لائحہ موجود ہے، ہر لائحہ علما،مفتیان ومشائخ کی نظر سے گزرا ہے، یہ لائحہ شرعی منہج پر بنا یا گیا ہے، اس کے بعد امارت نے تمام مسئولین پر اس کی تعمیل کو لازم کیا ہے، ہمارے شعبہ جات کی جو تقسیم ہے، ان میں سے ہر شعبے کے افراد پر لازم ہے کہ آپس میں ہم آہنگی اور وحدت کوپیدا کرنا اپنی مسئولیت سمجھیں، کیونکہ ہمارا جسم ایک،ہماراگھر ایک اور ہماری عزت ایک ہے۔ اگر ہم شریعت کی رُو سے ایک غلطی دیکھتےہیں، تو ہمیں چاہیے کہ اس کی تحقیق کریں، اس کی مسئولیت اپنے ذمے نہ لیں بلکہ اپنے امیر کی طرف رجوع کریں کہ آیا یہ کام شرعاً درست ہے یا نہیں؟ اگر شرعاً جائز ہو تو آپ مطمئن ہوجائیں گے اور اگر شرعاً جائز نہ ہو تو امیر آپ کا شکریہ ادا کرے گا کہ آپ نے اس طرف توجہ دلائی۔ ایک دوسرے کے خلاف پراپیگنڈا کرنے کے بجائے خیر کے امور میں ایک دوسرے کے معاون بن جائیں، ہمیں چاہیے کہ امارت کے جتنے شعبہ جات ہیں ان کو باہم متحد رکھیں۔ اپنے آپ کو دوسروں کے سامنے خدمت کے لیے پیش کریں۔ مسئول ساتھیوں کو چاہیے کہ لائحوں کا مطالعہ کریں، ہم جب صحیح طریقے سے اس کا مطالعہ کریں گے تو کوئی غلطی سرزد نہیں ہو گی۔ اکثر اوقات جب کوئی مسئلہ بنتا ہے اور بات ہم تک پہنچتی ہے تو اس کی وجہ ان اصولوں پر عمل کرنے میں کوتاہی برتا جانا ہوتی ہے ، جن اصولوں کو امارت نے لائحے میں واضح کیا ہے۔ اگر ہم اپنے امور کو نفس و خواہش کے سپرد نہ کریں اور ان اصولوں پر عمل کریں، تو ہماری ساری مشکلات حل ہوجائیں گی۔

جہاد فی سبیل اللہ ایک ایسا راستہ ہے، جو مسلمان کی زندگی میں تبدیلی لاتا ہے۔ بزدل کو بہادر بناتا ہے، کمزوروں کو رجال و ابطال میں تبدیل کرتا ہے۔ غیرمعروف بندے کو معاشرے میں معروف بنادیتا ہے۔ تنہا بندے کو لشکر بنادیتا ہے۔ بغیر مال والے شخص کو مال دار بنا دیتا ہےاور بے منصب شخص کو صاحبِ منصب بنادیتا ہے۔ اگر ہم نے اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا چھوڑدی اور ان اغراض کے پیچھے چلے تو ہم اپنے راستے سے بھٹک جائیں گے۔ اگر ہم آج پرانے مجاہدین کو دیکھیں جو دشمن کی صفوں میں کھڑے ہیں تو بنیادی وجہ ان کے بھٹکنے کی یہ ہے کہ وہ دنیاوی اغراضِ جاہ و جلال کے پیچھے چل پڑے اور اپنے اصل راستے اور منشور سے بھٹک گئے،اللہ تعالیٰ نے ان کو دین سے نکال دیا، اللہ تعالیٰ ہم سب کو بچائیں، آمین !

جہاد فی سبیل اللہ کا جتنا اجروفضیلت زیادہ ہے، اتنا ہی اس راستے کے خطرات و وعیدیں بھی ہماری جانب متوجہ ہیں۔ اکثر لوگ اس وجہ سے اپنے آپ کو خدمت کے لیے پیش نہیں کرتے کہ کہیں خدانخواستہ ہم سے خیانت نہ ہوجائے اور ہم اللہ کے ہاں مجرم نہ ٹھہریں۔ ہمیں اس لیے اپنی صلاحیتوں کے بارے میں نہیں بتاتے کہ کہیں خدانخواستہ ہماری عاقبت خراب نہ ہو، اللہ تعالیٰ ہم سب کو شریعت پر ثبات و استقامت نصیب فرمائے، آمین!

شکست و کامیابی کے اسباب ہمیں معلوم ہیں، میدانِ احد میں رسول اللہﷺ نے جبل الرماۃ پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بٹھایا اور آپﷺ نے انہیں ہدایت دی کہ فتح ہو یا شکست لیکن یہ جگہ نہیں چھوڑنی، ان صحابہ سے اجتہادی غلطی ہوئی، خلافِ اولیٰ کام ہو گیا اور اس اجتہاد کی وجہ سے تمام صحابہ آزمائش میں گھر گئےم بھائیو! یہ صحابہ کا زمانہ تھا!

بھائیو! کوشش کیجیے کہ جہادی امور نفس و مزاج کے سپرد نہ ہوں ، کوئی شخص آپ کو پسند نہیں ہوگا، ولسوال (ضلعی کمشنر) یا والی (صوبے کا گورنر) آپ کو پسند نہیں ہوگا، رئیسِ کمیسیون آپ کو پسند نہیں ہوگا، اگر یہ افراد آپ کو پسند نہیں تو ان افراد سے ہٹ کر آپ اللہ کے دین کے بارے میں سوچیں ، اگر اس مسئول فرد کو ترقی مل رہی ہے تو مل جائے میں اس کی وجہ سے بھلا اپنی نیت کوکیوں خراب کروں یا دل میں یہ بات آجائے کہ میں اگر اس مسئول کے تحت اخلاص کی نیت سے کام کروں گا تو میں نے اس کو فائدہ دیا، میرے اس عمل کی وجہ سے اس کوعزت ملے گی، اگر دل ان وسوسوں کاشکار ہو تو اس موقع پر اللہ کے دین و امارت اسلامیہ کے بارے میں فکرمند ہونا چاہیے کیونکہ آپ نے جو خدمت کی ہے وہ اللہ کے دین اور امارتِ اسلامیہ کے لیے کی ہے۔ اس لیے کہ امارت اسلامیہ ہمارے دین و عقیدے کا گھر ہے، آ پ نے اس کوقوت بخشی، ہم ایک ایسے دینی رشتے پر مجتمع ہیں۔ یہ ایک ایسی اچھی مثال ہے جو دنیا کے سامنے قائم ہوئی ہے۔ یہ ہماری کامیابی ہے کہ ہمارے جتنے افراد ہیں، چاہے امرا ہوں یا مامورین مجاہدین، ان کوتنخواہیں یا ترقیاں نہیں ملتیں، یہ مجاہد چار، پانچ ، چھ مہینے تشکیل پر گزارتے ہیں ، ان کے ایمان و غیرت کو میں سلام پیش کرتا ہوں کہ انہوں نےکبھی بھی ہم سے یہ شکوہ نہیں کیا کہ امیر صاحب میرے گھر میں یہ تکالیف و مشکلات تھیں یا مجھے کسی چیز کی ضرورت ہے، حتیٰ کہ مجھے آپ حضرات کے بارے میں اتنا علم ہے کہ آپ نے اپنے ہاتھ سے مزدوری کرکے اپنی ضروریات پوری کی ہیں، لیکن اپنی غیرتِ ایمانی کی وجہ سے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا ۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو دنیا و آخرت کی سعادت وکامیابی سے نوازیں ،آمین!

اسی طرح آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ اپنے امرا کے ساتھ اپنے شرعی امور میں ایسے ہی اخلاص و اچھی نیت سے کام لیں۔ زندگی میں بہت کم ہی ہم کسی فرد سے راضی رہتے ہیں لیکن جب کوئی شہید ہوجاتا ہے تو پھر تعریفیں ہی کرتے رہتے ہیں، کہ فلاں میں یہ یہ خوبیاں تھیں، لیکن اِس وقت انسان برا لگتاہے(جب زندہ ہوتا ہے)۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے مجاہد ساتھیوں کی زندگی میں ان کی قدر کریں، رحماء بینہم (آپس میں سراپا رحمت)بن جائیں، بڑے چھوٹوں پر شفقت کریں اور چھوٹے بڑوں کا احترام کریں اور ان شاء اللہ اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ ہماری صفوں کو اور بھی منظم کردے گا۔ اگر آج ہمارا دشمن شکست خوردہ ہے تو اس کی وجہ ہمیں حاصل ہو جانے والے اسباب و وسائل نہیں بلکہ اتحاد و اتفاق ہے۔ اتحاد و اتفاق کی کوشش کیجیے۔ آج ہمارا دشمن ناکام ہے وہ خود سمجھتا ہے کہ ہم نے مجاہدین پر ہر قسم کا اسلحہ استعمال کیا، لیکن ان کے عزائم اور ارادوں کو ٹھنڈا نہیں کر سکے۔ ان کو اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹا سکے۔ اب ان کے پاس ایک ہی حربہ و چھوٹی حرکت رہ گئی ہے اور وہ یہ کہ ہمارے درمیان اختلافات کے بیج بوئے، آج انہی اختلافات کے ذریعے دشمن نے کتنی ہی اسلامی تحریکوں کو ناکام کردیا اور ہمیں بھی اس ہلاکت کے گڑھے میں پھینکنے کی کوششوں میں لگے ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے، آمین! آپ دیکھتے ہیں کہ ایک ساتھی غلط راستے پر چل رہا ہے، اگرچہ آپ کی مسئولیت نہیں لیکن آپ پھر بھی اس کی تحقیق کریں اور اس ساتھی کو خاموشی کے ساتھ تنہائی میں سمجھادیں کہ پیارے بھائی تمہارا یہ عمل و حرکت نظام اور علاقے کے لیے نقصان دہ ہے، اپنے عمل کی اصلاح کی طرف متوجہ ہوجاؤ اوراگر قصداً کرتے ہو تو ہم مجبور ہیں کہ تمہاری شکایت بڑوں تک پہنچائیں۔ کوشش کیجیے اپنے آپ میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا جذبہ پیداکریں، اگر ہم کوشش کریں گے توہم اس خطرے سے محفوظ رہیں گے کہ ہماری صفوں میں کوئی اختلاف پیدا کرکے ہمیں تقسیم کردے، آج بھی الحمدللہ ہمارے اتحاد و اتفاق نے دشمن کو شکست دی اور آئندہ بھی یہ اتحاد و اتفاق شکست دے گا،ان شاء اللہ۔

یہ تو ایک موضوع ہوگیا دوسرا موضوع یہ کہ ہمارے بہت زیادہ شہدا و یتیم ہیں، آپ سب جانتے ہیں ، میں جب بھی کسی ساتھی سے ملتا ہوں وہ یا تو ایک امیر کی شہادت کے بعد مجموعے کی امارت سنبھالتاہے یا دو امرا کی شہادتوں کے بعد مجموعے کی امارت سنبھالتا ہے۔ کسی گھرانے میں پہلا بھائی شہید ہوا ہوتا ہے تو اس کا دوسرا بھائی یا تیسرا چوتھا بھائی جہاد میں ہوتا ہےیا کسی کے چچایا ماموں کا بیٹا شہید ہوا ہوتا ہے، ہم اگر دیکھیں ہمارا کوئی گھر، کوئی مجموعہ اور کوئی گروپ شہدا سے خالی نہیں ، ان شہدا کی بیوائیں اور یتیم بچے ہیں، اللہ تعالیٰ کی نصرت ان ضعفا کی آہ و فریاد اور دعاؤں سے جڑی ہے، کوشش کیجیے کہ ان کے حقوق ہم سے ضائع نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان مظلومین کی وجہ سے ہماری نصرت فرمائیں گے کیونکہ ان کی قربانیاں ہیں ، ان کے شہدا ہیں ، ان کے یتیم ہیں، معذور ہیں، قیدی ہیں، مہاجرین ہیں، ان کا اگرہم اپنوں سے زیادہ خیال رکھیں تو اللہ تعالیٰ ہمارے ہر امور میں مدد کریں گے۔ کیونکہ امارت اسلامیہ نے جو نظم بنایا ہے اور امیر المومنین کی طرف سے جو ہدایات ہیں، وہ یہ ہیں کہ ہر مسئول اور مجموعے کے امیر پر لازم ہے کہ وہ ان کا حال معلوم کرے۔ ہمارے جو یتیم بچے ہیں ، ان کےوالدین نے بہت بڑی قربانیاں دی ہیں، ان کا اس راستے میں خون بہا ہے، ایک ساتھی نے رسول اللہ ﷺ کو خواب میں دیکھا کہ آپﷺ کا دامن مبارک خون سے بھرا ہوا ہے ، کسی نے پوچھا کہ یا رسول اللہ یہ کس کا خون ہے ؟ آپﷺ نے جواب دیا کہ یہ افغانستان کے شہدا کا خون ہے، یہ بہت ہی معززو مبارک خون ہے یہ خون زمین پر نہ گرنے پائے۔

میں کہتا ہوں کہ ان شہدا کے خون کی برکت سے ہم نے دنیا کی سپرپاور کو شکست دی ہے، لہٰذا اس خون کا خیال رکھا جائے، کوشش کیجیے کہ ان مظلومین کا خیال رکھیں، ان کی دُعائیں ہمیں فتح و نصرت سے ہمکنار کرتی ہے اور ان کی آہ و فریاد ہمیں نقصان پہنچا سکتی ہے۔

سیاسی حالات کے حوالے سے اکثر ساتھی پریشان رہتے ہیں، اگرچہ یہ موضوع اس مجلس کے ساتھ جڑا نہیں ہے لیکن پھر بھی میں بات کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔ آج ہم سیاسی دفتر کے ذریعے جہاد کے ثمرات سمیٹنے کے منتظر ہیں۔ الحمدللہ جس طرح آپ حضرات نے عسکری میدان میں اچھا نتیجہ دیا، اپنے جہادی اہداف کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے، اب ہماری کامیابی کا سارا انحصار سیاسی دفتر پر ہے۔ ہمارے جو بھائی سیاسی دفتر میں محنت کررہے ہیں ان کے بارے میں غلط فہمی کا شکار نہ ہوں، دشمن کے گندے پراپیگنڈوں سے متاثر نہ ہوں۔ معاہدے کے بارے میں جناب امیر المومنین شیخ صاحب حفظہ اللہ نےانتہائی عرق ریزی سے کام لیا ہے، یقین جانیے عسکری امور میں ،مَیں نے آپ حفظہ اللہ کو اتنا مصروف نہیں پایا جتنا سیاسی امور میں دیکھا ہے۔ ایک معمولی، جزوی، ایک سطحی بات پہلے رہبری شوریٰ کی خدمت میں نظرِ ثانی کے لیے پیش کرتے ہیں، رہبری شوریٰ کے بعد وہ مسئلہ علمائے مشائخ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ، جب مسئلہ شریعت کی رُو سے ٹھیک ہو تو اس کے بعد مطمئن ہوکر اس کو سیاسی دفتر بھجوایا جاتا ہے۔ الحمدللہ پہلے مرحلے میں توفق نامہ ہوگیا، پانچ ہزار قیدی رہا ہوگئے، غیر ملکی افواج کے انخلا پر توفق ہوگیا اور امارت اسلامیہ پہلے ہی مرحلے میں اپنے ہدف تک پہنچ گئی۔ یہاں اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ یہ جو مستقل معاہدے کی خلاف ورزیاں ہورہی ہیں، مجاہدین کو شہید کررہےہیں، چھاپے ماررہے ہیں، مجاہدین کی غیرت یہ برداشت نہیں کرتی کہ خاموشی کے ساتھ بیٹھے رہیں۔ میں یہ بات شریعت کی نظر میں امیرالمومنین شیخ صاحب کی زبانی سنا رہا ہوں، آپ نے فرمایا ہمارے سامنے شریعت معتبر ہے، تاریخِ اسلام میں کبھی بھی مسلمانوں نے معاہدہ نہیں توڑابلکہ کفار نے توڑا ہے، پھر بھی اگر ہم معاہدہ توڑیں گے توہم ان کفارکی طرح دھوکے بازی سے کام نہیں لیں گے بلکہ ہم نے جس طرح ماضی میں دنیا بھر کے ممالک سے نمائندوں کو جمع کرکے معاہدہ کیا تھا اسی طرح اب بھی ہم تمام ممالک کے نمائندوں کو جمع کرکے اعلان کریں گے کہ ہم معاہدہ توڑ رہےہیں۔ اس سب کے باوجود شیخ صاحب سب مجاہدین کو نصیحت کرتے ہیں کہ اس معاہدے کی پاسداری کا خیال رکھیں، اگر ہم نے دھوکہ و فریب کے ذریعے دس صوبے بھی فتح کر لیے تو یہ ہمارے لیے کامیابی نہیں، کیونکہ اللہ رب العزت کی ناراضگی واقع ہوجائے گی اور امتِ مسلمہ و اسلامی تاریخ مسخ ہوجائے گی۔ اگرچہ یہ کفار معاہدے کی خلاف ورزیاں کررہے ہیں، ہمیں تکلیف ہوگی ہم اس کو برداشت کریں گے، تاریخ میں کفار نے معاہدہ توڑا ہے، آج بھی یہ توڑ دیں۔ آج اگر امریکہ کی حکومت بدل گئی،امریکہ و نیٹو روز غلط بیانات جاری کرتے ہیں صرف اس مقصد کے لیے تاکہ ہم مجبور ہوکرجوابی رد عمل دکھائیں۔ دیکھیے بھائیو! اس سے متاثر نہ ہوں، میں بھائیوں سے عرض کررہا تھا کہ ہم نے دس پندرہ سال کمزور وسائل کے باوجود محض ایمانی قوت سے ان کا مقابلہ کیا۔ آج تو الحمدللہ ہم نے ڈرون و میزائل سمیت کئی آلات بنا لیے ہیں، اللہ کی نصرت سے یہ ایسی شکست کھائیں گے کہ ان کوآخر میں پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ ابھی اس دن کی بات ہے، حاجی صاحب بیٹھے ہیں، انہوں نے آٹھ ڈرون اڑائے تھے اور ہدف کا انتخاب بھی کیا تھا ، ہم نے ان کو کہا کہ صبر کریں۔ ہمارا ایمان و غیرت یہ برداشت نہیں کرتے، جیسا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہﷺ نے فیصلہ کیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے صبر سے کام لیا ، پھر اسی صلح کی برکت سے کفار اتنے مجبور ہوگئے کہ انہوں نے کہا کہ حضرت ابوالبصیر اور حضرت ابوجندلؓ کو لے جاؤ تاکہ ہم ان کی مصیبت سے امن میں رہیں۔ ان شاء اللہ اللہ تعالیٰ ہماری اس قلیل قربانی کی برکت سے اللہ ان کی حکومتوں اور اتحاد کو پارا پارا کردے گا، آپ یہ دن دیکھیں گے، ہماری حالت کو لوگ مداہنت نہ سمجھیں۔ ہم نے اگر دشمن کے ساتھ مذاکرات شروع کیے ہیں یا جہاد کررہے ہیں تو شریعتِ مطہرہ کے سائے میں کررہے ہیں، ہمارے لیے شریعت معتبر ہے۔ ہم اپنے آپ کو اپنے نفس و مزاج کے حوالے نہیں کریں گے۔ اگر ہم اپنے نفس کے تابع ہوگئے تو کئی اسلامی تحریکیں ہیں جن کا وجود بھی آج نہیں ہے، آج ان کا وجود کیوں نہیں ہے؟ صرف اس وجہ سے کہ انہوں نے اپنے آپ کو نفس کے تابع کرلیا تھا۔ اگر ہم اپنے ایمان و شریعت پر دل جمعی کے ساتھ ڈٹے رہے تو بھائیوں میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ان شاء اللہ اس میں ہماری دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔ ہمارے مرحوم ملا صاحب (ملا محمد عمر مجاہدؒ)نے ورثے میں ایسا مدرسہ نہیں چھوڑا،جس پر ہمیں کوئی عار دلائے، اللہ تعالیٰ نے امارت اسلامیہ کو جو بلند مقام دیا ہےاس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی رہنمائی حق گو علما کررہے ہیں۔ آج آپ مشائخ الحدیث و التفسیر کے سامنے شاگر دوں کی حیثیت سے بیٹھے ہیں ، یہ آپ کی اچھی صفت ہے۔ اگر ہمارے دل میں علماو مشائخ کا احترام ہوگا تو ہم ناکام نہیں ہوں گے بلکہ اللہ تعالیٰ ہمیں مزید سر بلند کرے گا۔

ہمارے اساتذہ نے محنت کی ہے، اپنا قیمتی وقت آپ حضرات کو دیااور آپ نے اپنا قیمتی وقت ان کو دیا، اللہ تعالیٰ آپ سب کو جزائے خیر دے۔ یہ اسباق جو آپ حضرات نے ان کے دروس میں حاصل کیے اس کو بس اسی کمرے تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس پر عمل کریں۔

ہماری عوام نے جو قربانی دی ہے، اس کی مثال پیش کرنا مشکل ہے۔ اپنی عوام کو اپنے آپ سے بلند سمجھیں، ان کے سامنے تواضع کے ساتھ قدم اُٹھائیں، بغیر ضرورت کے گاڑیوں میں گھومنا اور اپنی عوام کو ڈر و خوف میں مبتلا کرنا اور ان کے اوپر ایسے حاکم بننا جیسے کہ اس بات کا غم نہ ہو کہ کل اللہ کے ہاں ان کے بارے میں پوچھا جائے گا، جیسا کہ رسول اللہﷺکی حدیث ہے جس کا مفہوم ہے، میں آپ سب کی طرح ایک بندہ ہوں، میں اگرچہ تمہارے ظاہر پر یقین کرلوں گا ، لیکن تمہارے دل کا حال تو اللہ جانتا ہے ۔

ہم آپ کی باتوں پر یقین کرلیں گےکہ آپ کا اپنی عوام کے ساتھ تعامل اچھا ہے، لیکن آپ کے دلوں کا حال تو اللہ جانتا ہے، براہِ مہربانی عوام کو تکلیف نہ دیں، چاہے ان کے زمینوں کے مسائل ہو یا حقوقی مسائل ہوں۔ ہر قسم کے امور کے لیے امارت اسلامیہ نے شعبہ جات ترتیب دیے ہیں، عدالتیں موجود ہیں، دعوت و ارشاد ، نظامی کمیسیون، استخبارات سمیت ہر قسم کے امور کے شعبہ جات موجود ہیں۔ لہٰذا عوام کے حقوق کا خیال رکھیے، ایک روز ایک بازار میں ہم رُکے ہوئےتھے، مغرب کا وقت تھا، کیا دیکھتا ہوں کہ مجاہدین کی گاڑیاں ایسی تیزی کے ساتھ بازار کے درمیان سےگزر رہی ہیں اور سڑک کے کنارے موجود لوگ تکلیف سے گزر رہے تھے۔ اِترا کر چلنے پھرنے کی اپنی جگہ ہے:

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗٓ اَشِدَّاءُ عَلَي الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ (سورة الفتح: ۲۹)

’’ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں، وہ کافروں کے مقابلے میں سخت ہیں (اور) آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں۔ ‘‘

اور فرمایا:

اَذِلَّةٍ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اَعِزَّةٍ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ (سورۃ المائدۃ: ۵۴)

’’ جو مومنوں کے لیے نرم اور کافروں کے لیے سخت ہوں گے۔ ‘‘

سختی کرنے کی اپنی جگہ ہوتی ہے، ان غریب و لاچار لوگوں کے ساتھ سختی سے پیش آنا مجاہد کے شایانِ شان نہیں، چاہے اضطراری حالت ہو ۔لیکن عوام یہ محسوس نہ کریں کہ طالب نے ہم پر جابرانہ و حاکمانہ حکومت مسلط کی ہے، ہر معاملے میں ان کی حوصلہ افزائی اور احترام کریں۔

آپ حضرات کی روزمرہ کی عبادات میں بہت کمزوری ہے ، دیکھیے پانچ وقت کی نمازیں بھی آپ حضرات جماعت کے ساتھ نہیں پڑھتے ہیں ، ہم باجماعت نماز کا اتنا بھی اہتمام نہیں کرسکتے کہ صرف اور صرف پانچ منٹ کے لیے کہیں رُک جائیں اور کسی کو آگے کرکے باجماعت نماز پڑھیں۔ دیکھیے ہمارے دلوں میں اگر باجماعت نماز اور اذکار کی اہمیت نہ ہو ، رسول اللہﷺ کو غزوۂ بدر میں فتح کی بشارت دے دی گئی لیکن آپﷺ اس کے بعد بھی فجر تک اللہ سے دعا کرتے رہے۔ ہماری اور آپ کی معنوی قوت اللہ رب العزت سے تعلق میں ہے۔ سختی کے وقت تو کفار بھی اللہ کو پکارتے ہیں۔ آسمانوں میں فرشتے جب کسی اجنبی کی آواز سنتے ہیں، تو یہ فرشتے کہتے ہیں کہ یہ تو کسی اجنبی کی آواز ہے، کیوں اس لیے کہ اس بندے کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کم ہے۔ وہ شخص جو عبادات اور ذکرو اذکار میں آگے ہو وہ فرشتوں کے درمیان تعارف کا مختاج نہیں ہوتا بلکہ فرشتے اس کو پہچانتے ہیں کہ یہ فلاں ہے، اس کی شفاعت زیادہ ہوتی ہے۔ آپ خیر کی شفاعت والے بن جائیں، عبادات ذکر و اذکار کی طرف توجہ دیں، یہ عارضی امور کہ آج میں ضلعی امیر ہوں، یا صوبے کا والی یا کمیسیون کا رئیس ہوں، دیکھیے ان امور کی وجہ سے اپنی عبادات کے معمول کو خراب نہ کریں ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے جب مسئولیت لے لی جاتی تو وہ شکر اداکرتے اور فرماتے کہ اے اللہ ہمیں اس کا اجر نہیں چاہیے بس اس کے عوض ہم سے ان امور کے بارے میں پوچھ نہ ہو۔ آج جب ہم سے مسئولیت واپس لی جاتی ہے تو ہم ناراض ہوتے ہیں ۔ ہم کوشش کرتے ہیں کہ ہم آپ حضرات کو جہاد سے دور نہ کریں، بلکہ جہاد کے راستے آپ حضرات کے لیے کشادہ کریں۔ مسئولیت کا بوجھ اگر آپ کے اوپر آجائے تو احسن طریقے سے اس کا حق ادا کریں۔ ہم آپ سے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں چاہتے۔ ہم نے آپ حضرات کو ایک لائحہ دیا ہےآپ اس پر عمل کریں، کیونکہ ہم نے جتنے بھی مسئولین کو تبدیل کیا ہے ، آج تک کسی نے یہ شکایت نہیں کی فلاں کو بالکل ہی صف سے نکال دیا۔ اگر ایک مسئلے کی وجہ سے ہم نے کسی کو نکالا ہو تو وہ یہ ہے کہ امارت نے جو اصول وضع کیے ہیں اس پر انہوں نے عمل نہیں کیا۔ لہٰذا یہ شخص اس قابل نہیں ۔ جو شخص امارت اسلامیہ کے اصول پر عمل نہیں کرتا وہ اس قابل نہیں کہ اس کام پر رہے۔ کوشش کیجیے جن حضرات کے پاس مسئولیت ہے وہ اس مسئولیت کا امارت اسلامیہ کے اصولوں کے مطابق حق ادا کرے۔ اگر امير آپ کی خواہش کے مطابق نہ ہو تو اس موقع پر آپ اپنے آپ کو خواہش کے سپرد نہ کریں، بلکہ اس اعلیٰ مقصد کی طرف توجہ دیں ، آپ اپنے آپ کو اس بات کا مکلف جانیں کہ اگر میری بے اطاعتی کی وجہ سے نظام میں بگاڑ آتا ہے تو میں اپنی زبان بند رکھوں گا، لوگوں کی باتیں برداشت کرکے امیر کی اطاعت کروں گا، اگر آپ اطاعت کریں گے تو آپ کو دیکھ کر دوسرے بھی اطاعت کریں گے اور آپ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس میں خیر ڈالیں گے۔

پیارے بھائیو! انسان عاجز ہے، شاید زندگی میں آپ کے حقوق میں مجھ سے کوتاہی ہوئی ہو، آپ سب ہمیں معاف کردیں، اگر آپ سب سےکمی بیشی ہوئی ہو تو ہم بھی آپ کو معاف کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو ہم آپ سے راضی ہیں۔

امیر المومنین حفظہ اللہ کی ہدایات ہمیشہ ہم سنتے ہیں، وہ آپ حضرات پر بہت شفقت کرتے ہیں اور آپ کے لیے دعا ئیں کرتے ہیں ، کبھی کبھی خلافِ شریعت کام کا جب سنتے ہیں تو ان کی طبیعت خراب ہوجاتی ہے۔

ایک اہم بات جو یاد آگئی وہ یہ کہ ایک مسلمان کی عزت اور اس کے وقار کو برقرار رکھنا ہم پر واجب ہے۔ اگر کسی شخص کو اس کے گناہ یا غلطی کی وجہ سے ہم اپنے آپ سے دور کرتے ہیں اور اس کو اپنی صف سے نکالتے ہیں …… حالانکہ ان مجاہدین کو ہم کفار کے ساتھ دشمنی کی وجہ سے جانتے ہیں ، تو یہ ہمیں بالکل اچھا نہیں لگتا کہ ہم ان مجاہدین کی عزت خراب کردیں کیونکہ ان کی بے عزتی کرنا اپنے آپ کو بے عزت کرنے کے مترادف ہے۔ لہٰذا آپ حضرات بھی کوشش کیجیے کہ کسی کو اپنے عمل سے جہاد کی صفوں سے دور نہ کریں۔ ہم نے دعوت و ارشاد کا شعبہ بنایا ہے لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دینے کے لیے۔ لوگوں کو جہاد سے متنفر نہ کریں، ان کو اتنی تکلیف نہ دیں کہ کل اپنے لوگ ہی ان کے بارے میں بدگمانی کا شکار ہوں۔ لوگوں کواخوت و محبت کے ساتھ جہاد کا راستہ دکھایا کریں ۔ اگر آپ نے ان لوگوں کو اپنا نہ بنایا تو دشمن نے تو پہلے سے اس طرح کے لوگوں کے لیے دروازے کھول رکھے ہیں ۔ لیکن ہم مجاہدین کا حال یہ ہے کہ جب پانچ ساتھیوں کے درمیان کسی بات پر ناراضگی ہوجاتی ہے تو ہم ایک دوسرے کو تکلیف پہنچاتے رہتے ہیں ، یہاں تک کہ وہ مجبور ہوکر جہاد چھوڑ دیتا ہے۔ جو کچھ بھی ہوجائے ہمیں آخری وقت تک اس کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے، اس پر شفقت کریں ۔

جہاد ی ایام مختصر ہوتے ہیں لیکن اس عبادت کا مزہ زیادہ ہوتا ہے، پھر ہم ان مبارک ایام کو یاد کریں گے لیکن دوبارہ ہمیں موقع نہیں ملے گا ۔ اگر ہم نے موسمِ گرما کی تشکیل گزاردی یہ سوچ کر کہ ابھی تو سردیاں ہیں اگلی تشکیل اگلے سال کے موسمِ گرما میں گزاروں گا۔ تشکیل میں یہ تو فرض نہیں کہ صرف موسمِ گرما میں تشکیل گزارنی ہے، جیساکہ ہم نے اس بات پر بھی بیعت کی ہے کہ تنگی اور آسانی میں امیر کی اطاعت کریں گے۔ آپ حضرات کو معلوم ہے کہ پرانے زمانے میں جب جہاد ہوا کرتا تھا تو ہر طرف سے لوگ نصرت کے لیےپہنچ جاتے تھے۔ آپ سختی کے وقت دوسروں کی نصرت کریں اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا بدلہ دیں گے۔ غزوۂ تبوک کے بارے میں سنا ہوگا کہ کچھ صحابہ کرام جہاد سے پیچھے رہ گئے۔ چالیس دن تک ان پر توبہ کا دروازہ بند رہا، ان کےبارے میں اتنی سخت وعید نازل ہوئی ۔ اسی طرح ایک صحابی کا واقعہ ہے کہ وہ جہادی قافلے کے ساتھ روانگی میں صرف اس وجہ سے پیچھے رہے کہ جمعے کا دن تھا میں رسول اللہﷺ کی امامت میں جمعے کی نماز پڑھ لوں گا اور اس کے بعد قافلے میں شامل ہوجاؤں گا۔ جب رسول اللہﷺ نے پوچھا کہ تمہیں کس چیز نے قافلے سے پیچھے رکھا تو آپؓ نے اپنا حال سنایا جس کے جواب میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں ایک گھڑی گزارنا دنیا اور اس میں جو کچھ ہے اس سے بہتر ہے۔ لہٰذا جب ہمارے بھائیوں کو کہیں بھی تکلیف پہنچے، چاہے قندوز ہو یا بدخشاں، کہیں بھی، ہم اور آپ مدد کے لیے جائیں گے ناں؟ ان شاء اللہ ہم ان کی نصرت کےلیے پہنچیں گے کیونکہ یہ اللہ کے دین کی نصرت ہے۔ آپ سب کو اللہ کے حوالے کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ آپ سب کو دنیا و آخرت کی سعادت نصیب فرمائے، آمین ۔

وآخردعوانا ان الحمدلله رب العالمین!

Previous Post

قبولیتِ جِہاد کی شرائِط | ۵ آخری حصہ

Next Post

امیر المومنین شیخ ہبۃ اللہ اخوند زادہ نصرہ اللہ کی ہدایات…… مجاہدین کے نام | مئی تا جولائی ۲۰۲۱

Related Posts

مجاہد جہاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟ | وجہ نمبر: چونتیس (۳۴)
حلقۂ مجاہد

مجاہد جہاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟ | وجہ نمبر: اڑتیس (۳۸)

15 فروری 2026
مجاہد جہاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟ | وجہ نمبر: چونتیس (۳۴)
حلقۂ مجاہد

مجاہد جہاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟ | وجہ نمبر: سینتیس (۳۷)

4 نومبر 2025
سورۃ الانفال | چودھواں درس
حلقۂ مجاہد

سورۃ الانفال | سولھواں درس

26 ستمبر 2025
مجاہد جہاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟ | وجہ نمبر: چونتیس (۳۴)
حلقۂ مجاہد

مجاہد جہاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟ | وجہ نمبر: چھتیس (۳۶)

26 ستمبر 2025
نئے ساتھیوں کے لیے ہجرت و جہاد کی تیاری
حلقۂ مجاہد

نئے ساتھیوں کے لیے ہجرت و جہاد کی تیاری

17 اگست 2025
مجاہد جہاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟ | وجہ نمبر: چونتیس (۳۴)
حلقۂ مجاہد

مجاہد جہاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟ | وجہ نمبر: پینتیس (۳۵)

14 اگست 2025
Next Post

امیر المومنین شیخ ہبۃ اللہ اخوند زادہ نصرہ اللہ کی ہدایات…… مجاہدین کے نام | مئی تا جولائی ۲۰۲۱

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

مارچ 2026ء
مارچ 2026ء

مارچ 2026ء

by ادارہ
8 مارچ 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version