چالیسویں وجہ: حرام کی کمائی
میرے مجاہد بھائی! کیونکہ اگر آپ نے حرام کھایا تو اپنے جسم کو حرام کی غذا دی، آپ کا گوشت حرام سے بنے گا اور حرام کے لیے دوزخ کی آگ بہتر ہے۔ جسم کا ہر حصہ جو حرام کی کمائی پر پلے بڑھے تو آگ اس کے لیے اولیٰ ہے۔ نہ کوئی عمل پھر فائدہ دیتا ہے نہ دعا۔ جس کا کھانا حرام سے ہو، لباس حرام سے ہو، اسے حرام کی غذا دی جائے تو اس کی دعا کیونکر قبول ہو گی؟ یہ امام مسلم سے مروی حدیث کا مفہوم ہے۔ پس حرام سے بچتے رہیں۔
صحیحین میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :
”بے شک حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی۔ اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں جنہیں اکثر لوگ نہیں جانتے۔ پس جو ان مشتبہات سے بچتا رہے تو اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو محفوظ کر لیا۔ اور جو ان مشتبہات میں پڑ گیا تو وہ حرام میں پڑ گیا۔ اس چرواہے کی طرح جو دوسرے کی چراگاہ کے ارد گرد جانور چراتا ہے قریب ہے کہ وہ اس کے اندر بھی چرانے لگے۔ خبردار ہر بادشاہ کے لیے چراگاہ کی حد ہوتی ہے۔ خبردار اللہ کی چراگاہ کی حد اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں۔“
اللہ کی چراگاہ کی حد اللہ کی حرام کر دہ امور ہیں اس لیے آپ ان کے قریب بھی نہ پھٹکیں۔ چرواہا اگر دوسرے کی چراگاہ کے قریب جائے گا تو بھیڑ بکریاں اس جگہ کو خراب کر دیں گی۔ لیکن اگر دور دور رہے تو ایسا نہ ہو گا۔ اسی طرح آپ بھی اپنے دین کو اللہ کی حرام کردہ چیزوں کے قریب نہ کریں ایسا نہ ہو کہ اَن جانے میں حرام میں پڑ جائیں۔
بعض بزرگوں نے فرمایا:
”جو یہ نہ جانے کہ اس کے شکم میں کیا داخل ہو رہا ہے وہ ربانی خیالات اور شیطانی خیالات کے درمیان فرق نہیں کر سکتا۔“
یہ بھی کہا گیا:
’’جو چالیس دن تک حلال کھاتا رہے اللہ تعالیٰ اس کے دل کو منور کر دیتا ہے اور اس کے دل میں حکمت و دانائی کے ایسے چشمے پھوٹ دیتا ہے جو اس کی زبان سے جاری ہو نے لگتے ہیں۔‘‘
بعض بزرگوں نے کہا:
’’جس نے حرام چیزوں سے اپنی نظر بچائی، خواہشات نفس سے اپنے آپ کو روکا، اپنے باطن کو مراقبے سے معمور کیا اور حلال کھانے کو عادت بنا لیا تو ایسے شخص کی فراست کبھی غلط نہیں ہوتی۔‘‘
اللہ تعالی کا فرمان ہے:
وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيْثَ بِالطَّيِّبِ ۠ (سورۃ النساء: ۲)
” اور اچھے مال کو خراب مال سے تبدیل نہ کرو ۔“
یعنی حلال کی طرف بڑھنے سے پہلے ہی حرام کھانے کی جلدی ۔ یہ قول حضرت مجاہد کا ہے۔
امام ابن الجوزی ’صید الخاطر‘ میں فرماتے ہیں:
”سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ سزا یافتہ کو سزا کا احساس ہی نہ ہو۔ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ ہے کہ اسے جو سزا مل رہی ہے اس پر خوشی محسوس ہونے لگے۔ جیسے حرام مال کمانے اور گناہ کرنے سے خوشی ملتی ہے۔ جو اس حالت تک پہنچ جائے تو پھر وہ نیکی کمانے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔“
نیز آپ ’بحر الدموع‘ میں لکھتے ہیں:
”آپ اپنے نوالے کو بچائیں اور اپنے کھانے کو پاک کریں یہاں تک کہ آپ کو زمانے کی فجر کے وقت نیک کام کی روشنی آرزوؤں کے تاریک دھارے سے علیحدہ نظر آنے لگے۔ پھر گناہ اور حرام کھانے سے اپنے اعضاء کے روزے کو قیامت کی رات تک جاری رکھیں۔ تاکہ وہاں آپ ایسے دستر خانوں کی نفع بخش خوراک پر روزہ افطار کریں (جہاں کہا جائے گا):
كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِيْۗئًۢا بِمَآ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ (سورۃ الحاقۃ: ۲۴)
’’اپنے ان اعمال کے صلے میں مزے سے کھاؤ پیو، جو تم نے گزرے ہوئے دنوں میں کیے تھے۔‘‘
اور جو حرام کھانے سے نہ بچے گے ، تو لمبے روزے کے بعد وہ اپنا روزہ زقوم کی کرواہٹ اور گرمائش سے کھولے گا۔ کتنی بری خوراک ہے وہ اور کتنا بڑا نقصان ہے اس کا۔ جس سے دل جل جائے، جگر پھٹ جائے، جسم پارہ پارہ ہو جائے اور آخرت میں وہ غم کے سوا کچھ نہ پائے۔”
حضرت سفیان ثوری نے فرمایا:
’’ایک آیت پڑھنے پر میرے لیے علم کے 70 دروازے کھل جایا کرتے تھے۔ پھر جب حکمرانوں کے دیے ہوئے پیسوں سے کھانے لگا تو آیت پڑھنے پر علم کا کوئی ایک دروازہ بھی نہ کھلتا تھا۔
حرام کھانا ایسی آگ ہے جو فکر کی متانت کو پگھلا دیتی ہے۔ ذکر کی حلاوت و لذت کو ختم کر دیتی ہے۔ خالص نیت کی ڈھال کو جلا دیتی ہے۔ اسی حرام سے بصیرت اندھی ہو جاتی ہے اور ضمیر تاریک ہو جاتا ہے۔
پس مالِ حلال کماؤ اور اسے میانہ روی سے خرچ کرو۔ حرام اور حرام کھانے والوں سے بچتے رہو۔ ان کے ساتھ نہ بیٹھا کرو نہ ان کا کھانا کھایا کرو۔ اگر تم اپنی پرہیزگاری میں سچے ہو تو حرام کمانے والے سے دوستی نہ لگاؤ۔ نہ ہی کسی کو حرام کا راستہ دکھاؤ کہ وہ حرام کھاتا رہے اور حساب تم سے لیا جائے۔ نہ ہی ایسے شخص کے مقصد میں اس کی مدد کرو۔ کیونکہ مددگار تو شریک ہی ہوتا ہے۔
اور یہ جان لو کہ اعمال صرف حلال کھانے والے کے ہی قبول کیے جاتے ہیں۔“
عمومی مال سے حرام کھانے والے کو روکنے کے لیے اسلامی شریعت نے امامِ وقت کو اس مال کی حفاظت، دیکھ بھال اور اسے جائز مصارف میں خرچ کرنے کا پابند کیا ہے۔ جو اس معاملے میں کوتاہی کرتا ہے اس کے لیے سخت وعیدیں آئی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
” بعض لوگ اللہ کے مال میں ناجائز تصرف کرتے ہیں، ان لوگوں کے لیے قیامت کے دن آگ ہے“ ۔بروایت بخاری۔
امام ابن حجر فرماتے ہیں:
”یہ حدیث ذمہ داروں کو سختی سے روکتی ہے کہ وہ بغیر حق کے مال میں سے کچھ لیں یا حق داروں کو اس مال سے روکیں۔“
حضرت عمر فاروق کے قول میں حاکم وقت کے ذمے مال کو مالِ یتیم کے ولی سے تشبیہ دی گئی ہے۔ آپ نے فرمایا:
”خبردار میں نے اللہ کے مال سے اپنا معاملہ یتیم کے ولی کی طرح کر لیا ہے۔ جب میں غنی ہوتا ہوں تو میں اللہ کے مال سے ہاتھ کھینچ لیتا ہوں۔ اور جب فقیر ہوتا ہوں تو بھلے اور معروف طریقے سے لیتا ہوں۔ “
غلول [یعنی بیت المال سے چوری] کی حرمت اور اس پر شدید وعید کی آیات اور احادیث بے شمار اور مشہور ہیں۔ ان احادیث میں سب سے واضح طریقے سے جس حدیث میں غلول کی حد بیان ہوئی ہے وہ ہے جسے امام ابو داود نے حضرت مستورد بن شداد سے روایت کی ہے۔ اس حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا:
”جو شخص ہمارا عامل ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ ایک بیوی رکھ لے ۔ اسی طرح اگر اس کے پاس خادم نہ ہو تو خادم رکھ لے۔ اور اگر رہنے کے لئے گھر نہ ہو تو گھر لے لے“۔
حضرت ابو بکر نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”جو اس کے علاوہ کوئی چیز لے تو وہ خائن اور چور ہے“۔ امام البانی نے صحیح قرار دیا۔
اس معاملے میں لوگ اپنے امراء کے تابع ہوتے ہیں۔ اگر امراء صالح ہوں اور عام مال میں ناحق تصرف سے بچتے رہیں تو لوگوں کی اکثریت انہی کی پیروی کرے گی ، ان سے پرہیز گاری سیکھے گی اور مال عام میں سے ناحق لینے سے رک جائی گی۔ جیسے کہ حضرت عمر نے فرمایا:
”رعایا اس وقت تک امام کا حق ادا کرتی ہے جب تک امام اللہ کا حق ادا کرتا ہے۔ پھر جب امام چرنے لگتا ہے تو وہ بھی چرنے لگتے ہیں۔ “
یہ قول امام ابن ابی شیبہ اور دیگر نے نقل کیا ہے۔
آپ حضرت ابو بکر صدیق کا کردار ملاحظہ کریں جنہوں نے آنے والوں کے لیے کڑا معیار مقرر کر دیا۔ امام طبرانی نے ’معجم الکبیر‘ میں حضرت حسن بن علی کی روایت نقل کی ہے۔ آپ نے فرمایا:
”جب حضرت ابو بکر کے وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے حضرت عائشہ سے فرمایا: اے عائشہ وہ جانور دیکھو جس کا دودھ ہم پیا کرتے تھے، اور وہ برتن جس میں ہم صبح کا کھانا کھایا کرتے تھے، اور وہ چادر جو ہم اوڑھا کرتے تھے۔ اگر ہم نے ان چیزوں سے اس وقت استفادہ کیا تھا جب ہم مسلمانوں کے معاملات میں مشغول تھے، تو میرے مرنے کے بعد یہ سب عمر کو دے دینا۔
حضرت ابو بکر کی وفات پر حضرت عائشہ نے یہ سب حضرت عمر کو بھیج دیا۔ تو حضرت عمر نے فرمایا: اللہ آپ سے راضی ہو اے ابو بکر! آپ نے اپنے بعد آنے والوں کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔“
حضرت نافع نے حضرت عمر بن الخطاب سے روایت کی ہے کہ آپ نے اولین مہاجرین کے لیے چار ہزار مقرر کیے تھے، جبکہ اپنے بیٹے کے لیے تین ہزار پانچ سو۔ آپ سے کہا گیا : آپ کا بیٹا بھی تو مہاجرین میں سے ہے تو انہیں کم کیوں دیا۔ حضرت عمر نے فرمایا: اسے تو اس کے والد نے ہجرت کرائی۔ یعنی : وہ ایسا نہ تھا جو خود ہجرت کے لیے نکلا ہو۔ بروایت بخاری۔
تو اے میرے مجاہد بھائی!
اگر آپ چاہتے ہیں کہ اپنے معاملات سیدھے رکھیں، دین دار بنیں، آگے بڑھتے رہیں اور ثابت قدم رہیں تو پھر لازم ہے کہ آپ کی کمائی حلال کی ہو۔ پاک کمائی کے حوالے سے بار بار اپنا محاسبہ کریں۔ آپ کی طرف جو بھی حرام مال آئے اسے روک دیں۔ شیطان آپ کو یہ دھوکا نہ دے کہ اس طرح تو آپ کی آمدن کم ہو جائے گی اور آپ کا بجٹ خراب ہو جائے گا۔ نہیں! ہرگز نہیں۔ جو اللہ کی خاطر کوئی چیز چھوڑتا ہے تو اللہ اس سے بہتر اسے دیتا ہے۔ خبردار ان شیطانی چالوں سے بچیں جن میں بعض جوان پڑ چکے ہیں۔ حرام کو غنیمت کا نام دے کر کھاتے ہیں۔ جبکہ یہ سحت(حرام کمائی)ہے نہ کہ غنیمت۔
٭٭٭٭٭









![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



