جو لوگ قدیم عرب تاریخ سے واقفیت رکھتے ہیں وہ جانتے ہوں گے کہ عرب کے دور جاہلیت میں بہت سی طویل جنگیں لڑی گئیں۔ ان میں سے ایک جنگ ’حرب البسوس‘ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ جنگ دو چچازاد بھائیوں کے درمیان لڑی گئی ۔ان دو چچازاد خاندانوں میں ایک بھائی جس کا نام کلیب تھا، سردار تھا۔ رفتہ رفتہ ارد گرد کے علاقوں پر اس نے قبضہ کر لیا۔اس کا چچازاد بھائی جساس اس سے بے حد جلتا تھا ۔ بالآخر ایک اونٹنی کے پانی پینے پر جنگ کی چنگاری بھڑکی ۔ یہ اونٹنی جساس کی خالہ کی تھی جس کو کلیب نے بے وقت پانی پینے پر مار دیا ۔جساس کو اس کی خالہ نے خوب بھڑکایا ۔ایک چراگاہ میں کلیب اپنے گھوڑے پر کسی کام سے جا رہا تھا، پیچھے سے جساس آیا اور اپنا نیزہ تان کر کلیب سے کہا ’اپنے آپ کو بچا لو ‘۔ کلیب نے پروا نہ کی لیکن جساس نے نیزہ کھینچ مارا۔ کلیب کی پیٹھ سے خون بہہ نکلا۔ اس نے اپنی پشت کے بہتے خون سے ایک دیوار پر اپنے بھائی کے نام ایک پیغام لکھا:
سالم ! لا تصالح!
سالم!صلح نہ کرنا!
اس کا بھائی سالم ایک آوارہ ،عیاش اور شراب نوش شخص تھا جو کہ اکثر شراب خانوں میں پایا جاتا تھا، مگر جیسے ہی اس کو اپنے بھائی کی موت اور اس کے خون میں ڈوبے پیغام کا پتہ چلا وہ یکسر بدل گیااور اس نے چالیس سالہ طویل جنگ لڑی جو کہ عرب تاریخ میں حرب البسوس کہلاتی ہے ۔بسوس اس عورت کا نام تھا جس کی اونٹنی ماری گئی تھی ۔
’امل دنقل ‘ سنہ۱۹۴۰–۱۹۸۳ء کے درمیان مصر میں ایک شاعر گزرا ہے۔اس دور کی شاعری میں بہت سے شعرا نے اس سے عرب پر اسرائیل قبضے کا ذکر کیا۔ امل دنقل نے ایک قصیدہ لکھا جو کہ بہت مشہور ہوا جس کا نام ہے ‘لا تصالح‘۔
لکھتا ہے
لا تصالح
ولو منوک الذھب
کبھی صلح مت کرنا، چاہے وہ تمہیں سونے سے نواز دیں
أتری حین أفقأ عینیک
ثم أثبت جوھر تین مکا نھما
اگر میں تمہاری آنکھیں نکال لوں اور ان کی جگہ جواہر جڑ ڈالوں
أتری ھی أشیاء لا تشتری
……لا تصالح
دیکھو یہ چیزیں انمول ہوتی ہیں، پھر بھی صلح مت کرنا!
ولو قیل دم بدم
أکل الرؤوس سواء
چاہے تم سے کہا جائے کہ خون کے بدلے خون بہایا جا چکا ہے
تو کیا تمہاری نظروں میں سب کے سر برابر ہیں؟
اسی قصیدے میں امل دنقل آگے چل کے عرب کے حکمرانوں کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ :
لا تصالح
ولو ناشد تک القبیلۃ
باسم حزن الجلیلہ
کبھی صلح مت کرنا، چاہے قبیلے والے تمہیں جلیلہ کے غم کی قسم دیں (جلیلہ مقتول کی بیوی اور قاتل کی بہن تھی )
ھٰولاء یحبون طعم الثرید
یہ لوگ فقط ثرید کھانے کی چاہت رکھتے ہیں
ایک صدی قبل سقوط خلافت ِ عثمانیہ کے بعد انگریزوں نے خفیہ سازش کرتے ہوئے فلسطینیوں کی خواہش و مرضی کے بغیر اعلان بالفور کے ذریعے یہودیوں کو فلسطین میں آباد کر دیا ۔ جو کہ مستقل تنازع کی وجہ بنا ہوا ہے ۔۱۹۴۸ء اور ۱۹۶۷ء میں جنگیں لڑی گئیں ۔ ۱۹۶۷ء کی جنگ کے نتیجے میں غزہ،گولان اور مغربی اردن کا کنارہ اسرائیل نے اپنے قبضے میں لے لیا۔۱۹۷۸ء میں جب انور سادات مصر کا حکمران تھا تو اس نے اسرائیل سے معاہدہ کیا جس کے تحت اسرائیل نے صحرائے سینا کا علاقہ واپس کر دیا مگر مصر نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا ۔ اس سے پہلے کسی بھی مسلم ملک نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا تھا ۔ مصر کا اسرائیل کو تسلیم کرنا ایک بہت بڑا تاریخی عمل تھا اور اسی کی وجہ سے مصر کو عرب دنیا میں شدید تنقید و بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ امل دنقل اور اس جیسے کئی دیگر شعرا و مسلم عوام نے بھر پور مزاحمت کی لیکن عرب حکمرانوں کو فرق نہیں پڑا۔
اعلان بالفور کے ایک صدی بعد اور مصر و اسرائیل معاہدہ امن کے پچاس سال بعد ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ امن منصوبے کا اعلان کیا [بالکل اسی طرح جیسے رچرڈ بالفور نے اعلان بالفور کیا تھا اور فلسطینیوں سے قطعاً کوئی مشورہ نہیں کیا گیا تھا، اسی طرح اس معاہدے میں بھی اگرچہ اس معاہدے کانام مشرقِ وسطیٰ امن منصوبہ ہے لیکن اس سلسلے میں فلسطینیوں سے مشورہ لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی (بھیڑیوں کے نرغے میں موجود بھیڑوں سے مشورہ کیا بھی نہیں جاتا)]۔
اس منصوبے کے چند اہم نکات یہ ہیں کہ :
اس میں دو ریاستی فارمولے کو تسلیم کیا گیا ہے ۔دریائے اردن کے مغربی کنارے اور دوسری فلسطینی آبادیوں پر اسرائیلی اقتدار کو قانونی حیثیت حاصل ہوگی اور گولان جو شام اور فلسطین کی سرحد پر واقع پہاڑی سلسلہ ہے وہ اسرائیل کا اٹوٹ انگ ہو گیا۔بیت المقدس کے مشرقی مضافاتی علاقے میں فلسطین کا دارلحکومت قائم کیا جائے گا ۔غزہ بحر روم کے ساحل پر واقع ہے لیکن منصوبے کے تحت آبی آمد ورفت اس کے شمال میں اشدد کی بندر گاہ سے ہوگی جو کہ اسرائیل کا حصہ ہے ۔دنیا سے فلسطین کا رابطہ رفاح کے ذریعے ہوگا جو کہ مصر کے کنٹرول میں ہے ۔فلسطین میں پندرہ اسرائیلی بستیاں ہوں گی جو فلسطین کی سرزمین پرآباد کی جائیں گی اور ان کی حفاظت کے لیے اسرائیلی فوج تعینات ہوگی۔فلسطینیوں کی مزید زمین ہتھیانے سے پرہیز کی مدت صرف چار سال ہوگی 1۔اسی طرح پچھلے سال اسرائیل کے وزیر اعظم نے یہ بیان دیا تھا کہ اسرائیل کی حدود کو وادی اردن اور شمالی بحیرہ مردار تک بڑھا دیا جائے گا جسے انہوں نے نئی اسرائیلی مشرقی سرحد کا نام دیا۔ مزید یہ بھی اعلان کیا گیا کہ اسرائیل کا حصہ بننے والے علاقوں میں آباد فلسطینیوں کو اسرائیل کی شہریت نہیں دی جائے گی ۔فلسطینیوں کے شدید احتجاج کے باوجود غرب اردن کے مقبوضہ عرب علاقوں کے اسرائیل سے الحاق کا اعلان بھی ہو چکا ہے ۔اب فلسطینی ملت سکڑ کر غرب اردن کے کچھ دیہات اور غزہ تک ہی محدود رہ گئی ہے جس سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فلسطینیوں کو چند سو کلومیٹر کا علاقہ دے کر اسرائیل کو تسلیم کرایا جائے گا ۔اٹھارہ (۱۸)لاکھ اہل غزہ ایسی کھلی جیل میں رہ رہے ہیں جہاں انہیں بنیادی ضروریات بھی میسر نہیں ۔
فلسطین کے مسلمانوں کے معاملے میں کوئی بھی نام و نہاد مسلم ملک ہو ، چاہے وہ ترکی ہو یا پاکستان ہو یا کوئی بھی، سب اپنے ملک کے مفاد ،اپنی ملک کی پالیسی ،اور اپنی معیشت کے حساب سے معاملات و منافقت کرتے نظر آتے ہیں ۔ابھی حال ہی میں عمران خان نے اقوامِ متحدہ میں احتجاج ریکارڈ کروایا کہ ہم غزہ میں مسلمانوں پر ہونے والی بمباری کی مذمت کرتے ہیں ۔ان نام نہاد مسلم ممالک میں کوئی بھی خالص فلسطینیوں کے لیے سنجیدہ نظر نہیں آتا ۔ دکھ اور افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اس معاہدے میں عرب ممالک پیش پیش ہیں۔ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان جو معاہدہ ٹرمپ نے کروایا ہے اس کا نام ’معاہدہ ابراہیم‘2 ہے جس کے مطابق دونوں ممالک سفارت خانوں ،سرمایہ کاری ،براہ راست پروازوں ،ٹیکنالوجی اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون کے حوالے سے مزید معاہدے کریں گے ۔بحرین اور عمان بھی اسی صف میں کھڑے ہیں ۔سوڈان بھی اسرائیل کو تسلیم کرکے معاہدہ کر چکا ہے جس کے بدلے میں سوڈان کی زمینیں یہودی امداد سے زرخیز کی جائیں گی (آہ……یہ وہی سوڈان ہے جہاں شیخ اسامہ ؒ نے ہجرت کر کے وہاں کی زراعت کو بہتر بنانے کی کوشش کی تھی) ۔مراکش بھی جلد ہی تسلیم کر لے گا ۔سعودی عرب نے علی الاعلان تو کچھ نہیں کہا لیکن اس پورے معاملے میں سب سے گھناؤنا کردار انہی’’ خدام حرمین شریفین‘‘کا ہے ۔ یہ منصوبہ دراصل ٹرمپ کے یہودی داماد ’جیرڈ کشنر‘ نے تحریر کیا تھا جو متحدہ عرب امارات کے ولی عہد محمد بن زاید اور سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کا جگری دوست سمجھا جاتا ہے ۔ مزید یہ کہ بنیامین نیتن یاہوکا سعودی عرب کا ’خفیہ دورہ ‘کسی سے پوشیدہ نہیں۔مشرقِ وسطیٰ میں سعودی عرب کا اثر و رسوخ اس قدر زیادہ ہے کہ لگتا نہیں ہے کہ متحدہ عرب امارات نے سعودی حکومت کے مشورے کے بغیر معاہدہ کرلیا ہو ۔حقیقت تو یہ ہے کہ سبھی خلیجی ممالک اسرائیل کو غیر مشروط طور پر تسلیم کرنے کے پرجوش حامی ہیں بالکل ایسے ہی جیسے اعلان بالفور کے موقع پر جزیرۂ عرب کے تمام حکمرانوں نے اپنی زمینوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کی خاطر خلافت عثمانیہ کے سقوط اور فلسطین کا سودا کر ڈالا تھا۔
’لا تصالح‘ کی صدا گونجتی ہے مگر افسوس حکمران سب کے سب ثرید کھانے میں مصروف ہیں۔ شام میں بہتا لہو ،غزہ میں ہونے والی شہادتیں ،وہ فلسطینی جنہوں نے فلسطین سے شام میں ہجرت کی اور پھر شام سے مختلف ممالک میں دربدر ہیں ان سب کی آہ و پکار یہی ہے کہ ’لا تصالح……لا تصالح ……‘لیکن ان مظلوموں کی آہ و فغاں سے ان نام نہاد مسلم حکمرانوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ان حکمرانوں کی زندگی اپنے اپنے ملکی و ذاتی مفادات سے جڑی ہوئی ہے ۔
ہمیں سمجھنا پڑے گا یہ مسئلہ عرب قومیت کا مسئلہ نہیں اور نہ ہی کسی ملکی تنظیم کا ۔اس مسئلے میں کوئی دو رائے نہیں ہونی چاہیے کہ فلسطین کا مسئلہ امت مسلمہ کا مسئلہ ہے ۔ یہ کوئی وقتی مسئلہ نہیں ، تاریخ شاہد ہے کہ یہ ہماری امت مسلمہ کی سر زمین ہے جہاں تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف مسلماں حکمرانوں نے حکومت کی ۔درحقیقت مسئلہ فلسطین ہی ان مسائل میں سے ایک مسئلہ ہے جو ہمارے موجودہ دور کے جہاد کی بنیاد و اساس ہیں۔ اسی فلسطین کو بچانے کی خاطر اسی فلسطین کو اسرائیلی قبضے سے چھڑانے کی خاطر ،مسلمانوں کے قبلۂ اول کو آزاد کرانے کی خاطر، شیخ عبداللہ عزام ؒ نے افغانستان ہجرت کر کے جہاد کی داغ بیل ڈالی اور ان کی شہادت کے بعد شیخ اسامہ ؒ نے بھی اسی مسئلے کو اساس بنا کے تحریک جہاد کو منظم کیا ۔ فلسطینیوں کے لیے ان کا درد ان کی گفتگو اور ان کے لہجے سے چھلکتا تھا ۔
محسنِ امت و شہیدِ اسلام شیخ اسامہ بن لادن رحمہ اللہ نے فرمایا:
’’فلسطین میں موجود ہم اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ آپ کا خون ہمارا خون ہے اور آپ کی کٹتی اولاد ہماری ہی اولاد ہے۔ پس خون کے بدلہ خون ہے اور تباہی کا بدلہ تباہی ۔ ہم اللہ عظیم کو گواہ بنا کے کہتے ہیں کہ ہم آپ کو کبھی بے یارو مددگار نہیں چھوڑیں گے یہاں تک کہ ہمیں فتح حاصل ہو جائے یا ہم وہ مزہ چکھ لیں جو حمزہ بن عبدالمطلب نے چکھا تھا ۔‘‘
اسی فلسطین کے متعلق فضیلۃ الشیخ ابو یحییٰ اللیبی شہید رحمہ اللہ نے فرمایا:
’’دنیا میں بسنے والے مجاہدو!فلسطین میں کٹنے والا ایک ایک بچہ ہمارا ہی بچہ ہے۔ ہمارے ہی بچے یتیم ہو رہے ہیں ۔ ہماری ہی بہنیں بیوہ ہو رہی ہیں ۔ جس کے اندر جو طاقت ہے اس کو چاہیے کہ وہ اگر اسرائیل تک براہ راست نہیں پہنچ سکتا تو اس کے حواریوں کو نشانہ بنائے ۔ان کو کمزور کرے ۔اسرائیل کی طاقت و معیشت پہ ضربیں لگائی جائیں۔خصوصاً امریکہ اور برطانیہ پر۔یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ یہودی فلسطین میں امن سے رہیں اور وہاں کے اصل باشندے خوف و ہراس کا شکار ہوں۔ یہودی تنعم و عیش کی زندگی گزاریں اور ہمارے بھائی بھوکے پیاسے پڑے ہوں؟ ان کے شہر آباد رہیں اور ہمارے شہر مسمار کیے جائیں؟ ان کے خاندان رہائش پذیر ہوں اور ہمارے خاندان خانہ بدوش! ان اہلِ کفر کو بھی جنگ کا کڑوا گھونٹ پلاؤ ،ان کو بھی نقل مکانی پر مجبور کرو اور اپنارعب ان پر جماؤ۔‘‘
پس مسئلہ فلسطین کو کسی طور بھی موجودہ دور کی مسلم امت سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ چاہے وہ اس کو محسوس کریں یا نہ کریں ۔فلسطین کے حقیقی محافظ مختلف محاذوں پر بر سر پیکار مجاہدین ہی ہیں، چاہے وہ مالی سے لے کر الجزائر تک ہوں، یمن سے صومالیہ تک ،شام سے افغانستان و برِّ صغیر ہر محاذ کی اصل روح مسئلۂ فلسطین ہی ہے۔عید الفطر پر ہونے والی شدید بمباری اور شہادتوں کے بعد صلح ہو چکی ہے ۔ لیکن دعا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی صلح نصیب کرے جو مسلمانوں کو نصرت و برتری عطا کرے ورنہ اس سے وہ جنگ بہتر ہے جو امت میں فلسطین کے حوالے سے بیداری پیدا کرے اور امت کے نوجوانوں کو پھر سےمتوجہ ہونے پر مجبور کر دے۔
یہ تاثر نام نہاداسلامی حکومتوں میں عام پایا جاتا ہے کہ اگر ہم علی الاعلان کفر سے جنگ کا اعلان کردیں تو تمام کافر اقوام اور تنظیمیں ہمارے پیچھے لگ جائیں گی اور ہمیں مختلف پابندیاں لگا کر ختم کر دیا جائے گا کہ جس کی ہمارے اندر طاقت نہیں ہے ۔ذرا ادھر رک کر تھوڑا غور تو کرو کہ کیا غزہ کی پٹی سے بھی زیادہ پابندیاں کہیں لگی ہوئی ہیں ؟کیا خوراک کی قلت غزہ سے زیادہ کہیں اور ہے ؟لیکن سلام ہے ان فلسطینیوں کو جو اپنے دفاع کی جنگ مسلسل تقریباً پچاس (۵۰)سال سے لڑ رہے ہیں۔ آپ سوچیں کیا وہ ختم ہو گئے ؟کیا وہ صفحۂ ہستی سے مٹ گئے ؟ان کے لیے کیا باقی رہ گیا ہے کے جس کے چلے جانے کا خوف ان کو ہو؟خون ہے وہ روزانہ بہہ رہا ہے ۔ لاشیں ہیں وہ روزانہ گر رہی ہیں ۔ یہودیوں کی جیلیں بھری ہوئی ہیں فلسطین کے جوانوں سے۔ درختوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا، گھروں کو مسمار کرنا ، ہر وقت کرفیو کا سماں، یہ سب کچھ روزانہ کے حساب سے کبھی نہ ختم ہونے والے ایک پچاس سالہ معمول کا حصہ ہے ۔تمام عالم کفر کا گٹھ جوڑ اور نام نہاد اسلامی ملکوں کی ایمان فروشی کے حوالے سے شہید شاعرِ جہاد شیخ احسن عزیز ؒ نے کیا خوب کہا تھا :
آؤ مل کے یہ ساری زمیں بانٹ لیں
تاکہ جمہور دنیا میں جتنے بھی ہیں
ہم میں اپنی پسند کے خدا چھانٹ لیں !
……
تاکہ ساروں میں قائم مساوات ہو
تاکہ نفرت کا بھی خاتمہ ہو سکے
تاکہ مظلوم جگ میں کوئی نہ رہے
آؤ……جتنے ہیں یہ
مل کے آپس میں ہم ان کے گھر بانٹ لیں
پورے انصاف سے ……ان کے سر بانٹ لیں
اس خوشی میں مگر
آؤ پہلے ذرا……
یہ فلسطین کا’ کیک‘ ہی کاٹ لیں!
اللہ سے دعا ہے کہ اللہ مسلمانوں کو عالمی کفری سازشوں اور نام نہاد اسلامی مملکتوں کی منافقتوں کو سمجھنے کی توفیق دے ۔وہ وقت آگیا ہے کہ مسلمانوں کو حق و باطل میں سے کسی ایک کی طرف ہونا پڑے گا۔ بیچ کی کوئی راہ ان کے لیے نہیں بچتی ۔پس جو حق کے ساتھ مل گیادین و دنیا کی فلاح و کامیابی اسی کے لیے ہے ۔
٭٭٭٭٭
1 اور جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ چار سال تو دور کی بات چند مہینوں کے اندر ہی غزہ پراسرائیل کی بدترین بمباری کا آغاز ہو گیا ۔حالیہ مسلح تنازع کی ابتدا یہاں سے ہوئی کہ فلسطینی مسلمان مسجد اقصی میں نماز پڑھ رہے تھے کہ اسرائیلیوں نے شیلنگ شروع کر دی ، جواباً فلسطینیوں نے بھی پتھراؤ کیا ۔ اس طرح یہ معاملہ آگے بڑھتا چلا گیا اور پھر اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں عام بمباری شروع کر دی جس کے جواب میں حماس نے بھی کافی راکٹ فائر کیے، میڈیا کی رپورٹ کے مطابق دو سو بیس (۲۲۰)راکٹ فائر کیے گئے، ان حموں میں بارہ (۱۲) یہودیوں کی ہلاکت کی رپورٹ آئی ہے ۔ یہ کیسا رمضان تھا ان مظلوم فلسطینیوں کے لیے ……یہ کیسی عید گزری ان پر……ہم تو اپنی آرام گاہوں میں بیٹھ کر عید کے مزے لوٹتے رہے اور وہ آتش و آہن کے سائے تلے فلسطینی مسلمان اپنے زخمی اور شہید اٹھاتے رہے ۔ ان حملوں میں شہید ہونے والوں کی کم از کم تعداد دو سو ساٹھ (۲۶۰)سے زیادہ ہے جن میں سے تقریباً پینسٹھ (۶۵)بچے شامل ہیں۔
2 ’معاہدۂ ابراہیم‘ اس لیے نام تجویز کیا گیا کہ ’اسلام‘ ، ’یہودیت‘ اور ’عیسائیت‘ کو ’براہیمی مذاہب‘ (Abrahamic Religions)کہا جاتا ہے، حالانکہ ابو الانبیاء حضرتِ سیّدنا ابراہیم علیہ و علیٰ نبینا صلوٰۃ و سلام اس سے بری ہیں۔ اللہ پاک کا قرآنِ برحق میں ارشادِ برحق ہے: مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيّاً وَلاَ نَصْرَانِيّاً وَلَكِن كَانَ حَنِيفاً مُّسْلِماً وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ (سورۃ آلِ عمران: ۶۷)، ’’ ابراہیم نہ یہودی تھے، نہ نصرانی، بلکہ وہ تو سیدھے سیدھے مسلمان تھے، اور شرک کرنے والوں میں کبھی شامل نہیں ہوئے۔ ‘‘۔

![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



