نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home ناول و افسانے

سحر ہونے کو ہے | قسط نمبر: 8

by بنتِ طبیب
in فروری تا اپریل 2021, ناول و افسانے
0

ابوبکر اور علی اسلام آباد کے بس اڈے پر ہاتھوں میں چھوٹے چھوٹے بیگ لیے کھڑے تھے۔ بہت مشکلوں کے بعد وہ دونوں ایران کے راستے بالآخر پاکستان پہنچ ہی گئے تھے۔ ابوبکر نے ادھر ادھر نظر گھمائی، پورے اڈے پر اکّا دکّا گاڑیاں کھڑی تھیں۔ اس نے پاس سے گزرتی ایک ٹیکسی کو روکا اور گھر کا پتا سمجھانے لگا۔ گاڑی روانہ ہوگئی۔

’’چاچا جی! شہر کے کیا حالات ہیں؟‘‘ ابوبکر نے گاڑی چلتے ہی ڈرائیور سے سوال کیا۔

’’حالات ویسے ہی ہیں بھائی جیسے ان ملکوں میں ہوسکتے ہیں جہاں کی حکومت پہلے ہی ہر طاقت ور کے اشارے پر سجدہ ریز ہوجانے کو تیار ہوتی ہو۔ ہر طرف خون ہی خون ہے، معصوم شہریوں پر بمباریاں ہورہی ہیں، شک و شبہ کی بنا پر عوام سے جیلیں بھری جارہی ہیں…… لاہور اور سیالکوٹ میں تو ہندو فوجیوں نے اپنے کئی جنم کے بدلے اتارے ہیں، دونوں شہر باہر سے جانے والوں کے لیے بند ہوچکےہیں، خدا جانتا ہے کہ وہاں کے باسیوں کی کیا حالت ہے‘‘، بزرگ ٹیکسی ڈرائیور دلگیر لہجے میں بولے۔

’’کیا فوج دراندازی کرنے والی افواج کا مقابلہ نہیں کررہی؟‘‘ اب کے علی نے سوال کیا۔

’’فوج! ‘‘ ٹیکسی ڈرائیور استہزائیہ انداز میں ہنس کر بولا، ’’فوج ملک میں ہوگی تو دشمن کو کچھ کہے گی ناں! فوج کی قیادت تو پہلے ہی ملک سے باہر جاچکی ہے اور باقی جو رہ گئے ہیں وہ بھی امریکہ و بھارت سے اپنی وفاداری جتانے میں ایک دوسرے سے نمبر لے جانے کی کوشش میں ہیں!‘‘

ابوبکر اور علی خاموشی سے باہر دیکھنے لگے۔ اسلام آباد ویران ہوچکا تھا۔ بازار بھائیں بھائیں کررہے تھے۔ کہیں کہیں کوئی ایک آدھ بندہ نظر آجاتا۔ سیکٹروں کے سیکٹر تباہ ہوچکے تھے۔ پورے اسلام آباد پر ہی ایچ نائن کے قبرستان کی مانند خاموشی طاری تھی۔ ابوبکر کی آنکھوں میں آنسو بھرنے لگے۔ یہ ان کا اسلام آباد تو نہ تھا۔ ان کی گاڑی بلیو ایریا کی جانب بڑھی تو سامنے ہی ان کو امریکی فوج کی پوسٹ نظر آئی۔

ٹیکسی ڈرائیور نے گاڑی آہستہ کرلی ۔ ایک امریکی ان کی جانب بڑھا اور انگریزی میں ان سے سوال جواب کرنے لگا۔ پھر ان سے ان کے شناختی کارڈ مانگے۔

ابوبکر نے دانت بھینچتے ہوئے اپنا کارڈ نکالا۔’ اب یہ وقت آگیا ہے کہ ہمارے دشمن ہمارے ہی ملک میں ہمارے ہی شہر کی سڑکوں پہ ہم سے ہماری شناخت طلب کریں!‘ ، اس کا حلق تک کڑوا ہوگیا۔

اتنے میں چیک پوسٹ پر افراتفری سی مچ گئی۔ ان کے پاس کھڑا فوجی بھی انھیں چھوڑ کر اس طرف کو بھاگا۔ ابوبکر نے سیٹ پر آگے ہوتے ہوئے باہر جھانکا۔

ایک لینڈ کروزر کے باہر لمبی داڑھی والا پچیس چھبیس سالہ نوجوان کھڑا تھا جس کو شک کی بنا پر امریکی پکڑنا چاہ رہے تھے مگر وہ انگریزی زبان میں امریکی فوجیوں کو برا بھلا کہے جارہا تھا اور کسی صورت ان کے سامنے ہتھیار ڈالنے کو تیار نہ تھا۔

’’ہم تم لوگوں کو چھوڑیں گے نہیں!‘‘ وہ چلّا رہا تھا ’’تم لوگوں نے سمجھا کیا ہے ہمیں؟ ہم مسلمان کسی کی غلامی قبول کرنے والے نہیں! ہم ثابت کردیں گے کہ پاکستان پر حملہ کرنا امریکہ کی سب سے بڑی غلطی ہے!‘‘

اچانک غصے سے بھرے دو امریکی فوجی اس نوجوان کی جانب اپنی بندوقیں تانے بڑھے۔

’’شٹ اپ یو……! جسٹ شٹ اپ! یو بلڈی پاکی! وی ول کِل یو!‘‘ وہ غصے سے گالیاں دیتے ہوئے اس کی جانب بڑھے تھے۔ ابوبکر کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا مگر وہ نوجوان ذرا بھی متاثر نہ ہوا اور اس نے آگے بڑھ کر اپنی جانب بڑھتے امریکی فوجی کو زور سے دھکا دیا جس سے وہ پیچھے کو لڑکھڑا گیا۔ لینڈ کروزر میں سے ایک عورت اور تین ننھے منے بچے بھی نکل آئے تھے اورروتے ہوئے اس نوجوان کو پیچھے کرنا چاہ رہے تھے۔

’ٹھا! ٹھا‘

اچانک فضا گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے گونج اٹھی۔ ابوبکر کا حلق خشک ہوگیا۔ امریکی فوجیوں نے اس نوجوان پر گولی چلا دی تھی۔

وہ عورت اور اس کے بچے چیختے ہوئے اس کی طرف دوڑے تو امریکیوں نے بندوقوں کا رخ ان کی طرف کردیا۔

ابوبکر کی بس ہوگئی اور وہ بپھر کر ٹیکسی کا دروازہ کھول کر باہر نکلا اور غصے سے امریکیوں پر جھپٹا۔ اس کی دیکھا دیکھی اردگرد موجود گاڑیوں سے بہت سے لوگ نکل آئے اور فوجیوں پر پل پڑے۔ اب کی بار امریکی ذرا خوف زدہ ہوکر پیچھے ہٹے اور ہوائی فائرنگ کرنے لگے۔ کسی نے زمین پر پڑے نوجوان کو اٹھایا اور گاڑی میں ڈالا۔ امریکی فوجی غصے میں پاگل ہوکر اب اندھا دھند فائرنگ کرنے لگے تھے۔ گولیاں لگنے سے چند مزید افراد زمین پر گرگئے۔ اتنے میں فضا میں ہیلی کاپٹر کی آواز سنائی دینے لگی۔ہجوم فوراً منتشر ہوگیا۔

’’صاحب جی! اندر بیٹھیں جلدی!‘‘ ٹیکسی ڈرائیور کے گھبرا کر چلّانے پر ابوبکر اور علی گاڑی میں بیٹھ گئے اور ٹیکسی تیزی سے سڑک پر روانہ ہوگئی۔ امریکی فوجیوں نے فائرنگ کی مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو بچا لیا اور کچھ ہی دیر میں وہ خطرے سے باہر تھے۔

ابوبکر اور علی ابھی تک صدمے کے عالم میں تھے۔ جو کچھ ابھی ہوا تھا اس کی ان کو بالکل توقع نہ تھی۔ ان کے دل اس واقعے سے بہت متاثر ہوئے تھے۔

’’صاحب! آپ کی مطلوبہ جگہ آگئی!‘‘ ٹیکسی ڈرائیور نے اچانک ہی گاڑی کو بریک لگائی اور ان دونوں کو مخاطب کیا۔

ابوبکر نے چونک کر سراٹھایا اور اپنے گھر کی طرف دیکھا۔

اس کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے ہی رہ گیا!

٭٭٭٭٭

اماں کو ہسپتال میں ایڈمٹ ہوئے ایک ہفتہ ہوچکا تھا مگر ان کی حالت روزبروز بگڑتی ہی جارہی تھی۔ انھیں آئی سی یو میں منتقل کردیا گیا تھا۔ ابوبکر سے ایک ہفتے سے رابطہ نہ ہوپایا تھا۔ وہ چاروں باری باری اماں کے پاس رہتے۔ آج رات مصعب اور موحد چچا ہسپتال میں تھے۔

عائشہ چچی رات کو اپنے گھر آنے کا کہتی رہیں مگر انھوں نے اپنے گھر رہنے میں ہی زیادہ آسانی محسوس کی۔ پھر بھی بسام بھائی رات کو ان کے پاس آگئے تھے۔

رات دو بجے ان کے گھر پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ نور کو جب ہوش آیا تو بسام بھائی اور محلے کے دیگر لوگ سعد اور ہاجر کے زخمی وجود ملبے کے نیچے سے نکالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ نور نہیں جانتی تھی کہ وہ کس طرح باہر پہنچ گئی تھی۔ اسے بس اتنا علم تھا کہ ہوش میں آتے ہی وہ سعد اور ہاجر کو باہر نکالنے کی فریادیں کرتی چیخ رہی تھی۔

ہرطرف آگ ہی آگ تھی۔ دھماکے ابھی تک ہورہے تھے۔ بھارتی فضائیہ نے رات اسلام آباد پر بمباری شروع کی تھی جو وقفے وقفے سے ابھی تک جاری تھی۔ جہاں میزائل آکر لگتا، ملبہ اٹھاتے لوگ اسی طرف بھاگتے۔ سول انتظامیہ کچھ ویسے ہی ناکارہ تھی اور پھر جب حکومت اور فوج سب ہی حملہ آوروں کے ساتھ مل جائے تو اس نے کیا کرنا تھا۔ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت ہی ملبہ ہٹاتے، زخمیوں کی مرہم پٹی کرتے، لاشوں کی تدفین کرتے اور خود ہی اپنے آنسو پونچھ کر اگلے ملبے کی جانب بڑھ جاتے۔

اسے کچھ معلوم نہ تھا کہ کس وقت مومنہ اور منال اسے اپنے گھر لے گئی تھیں، وہ ٹرانس کی سی کیفیت میں عائشہ چچی کے ساتھ بیٹھی تھی۔

’’مصعب! جلدی آؤ! یہاں قیامت آگئی ہے!…… پلیز مصعب!‘‘ فون پر مصعب کی آواز سن کر اس کا سکتہ ٹوٹا اور اس سے بات کرتے ہوئے وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔

’’نور! حوصلہ رکھو! میں اماں کو چھوڑ کر نہیں آسکتا! عائشہ چچی وغیرہ ہیں ناں تمہارے پاس!‘‘ مصعب ٹوٹے ہوئے لہجے میں بولا تو نور خاموش ہوگئی۔ وہ اپنی وجہ سے مصعب اور موحد چچا کو مزید تنگ نہ کرنا چاہتی تھی۔ وہ پہلے ہی بہت پریشان تھے۔

’’نور! ہاجر اور سعد کو ملبے سے نکال لیا گیا ہے…… بسام بھائی ان کے پاس ہسپتال جارہے ہیں ……تم نے جانا ہے؟‘‘ منال نے اس کا کندھا دھیرے سے ہلا کر کہا تو وہ چونک کر ا س کی طرف مڑی۔

’’ہاں! ہاں! میں نے بھی جانا ہے!‘‘

’’تو پھر ایسا کرو کہ جلدی سے مومنہ کا عبایا پہن لو! بسام بھائی گاڑی میں بیٹھ چکے ہیں!‘‘ منال نے ہاتھ میں پکڑا عبایا اس کو تھماتے ہوئے کہا۔ وہ جلدی جلدی عبایا پہننے لگی۔

٭٭٭٭٭

اس کی نگاہوں کے سامنے گھر کی بجائے ملبے کا ڈھیر تھا۔ وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے اس ڈھیر کو تک رہا تھا۔ ملبے کو دیکھتے ہوئے وہ یقین سے کہہ سکتا تھا کہ اندر موجود ایک فرد بھی بچ نہ پایا ہوگا۔ تایا جان کا گھر بھی تباہ ہوچکا تھا۔ موحد چچا کے گھر کا ڈھانچہ البتہ باقی تھا۔

’’اماں! مصعب! نور! ہاجر! سعد!…… کوئی ہے؟‘‘ وہ ملبے کے ڈھیر پر کھڑا بے بسی سے چلّایا۔ آنسو اس کی آنکھوں سے بہے چلے جارہے تھے اور وہ بےقراری کے ساتھ دونوں ہاتھوں سے ملبے کی اینٹیں اٹھا اٹھا کر پرے پھینک رہا تھا۔

موحد چچا کے ٹوٹے پھوٹے گھر سے مومنہ اور منال نے جھانک کر باہر دیکھا۔ ابوبکر اور علی کے چہروں پر نظر پڑتے ہی ان کے چہروں کی رونق کچھ بحال ہوئی۔ اسی وقت ابوبکر اور علی کی نگاہ بھی ان کی جانب اٹھی۔

’’ماما! ماما! ابوبکر بھائی اور علی آگئے ہیں!‘‘ وہ دونوں وہیں کھڑے کھڑے چیخی تھیں۔

’’منال! مومنہ! میرے گھر والے کہاں ہیں؟‘‘ ابوبکر تڑپ کر ان کی جانب بڑھا۔ اس کے سوال پر وہ دونوں ہی ساکت ہوکر ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگیں گویا فیصلہ نہ کرپارہی ہوں کہ کیا جواب دیں۔ابوبکر کو لگا اس کی سانس رک جائے گی۔

’’ابوبکر بھائی!…… وہ …… تائی امی کو نمونیہ کی کوئی کامپلیکیشن ہوگئی تھی…… کافی دن سے وہ ہسپتال ہی میں ہیں……‘‘ منال نے آخرکار ہمت کرکے کہنا شروع کیا۔ ’’دو دن پہلے رات کے وقت بمباری ہوئی تھی…… ہاجر اور سعد زخمی ہوگئے تھے…… وہ بھی ہسپتال میں ہیں، ابّا اور بسام بھائی بھی ان کے ساتھ وہیں ہیں‘‘۔

ابوبکر کا چہرہ دھواں دھواں ہونے لگا۔ اس نے مومنہ اور منال کو علی کو اندر لے جانے کا کہا اور خود دیوانہ وار سڑک کی جانب دوڑ لگائی۔

’’ابوبکر بھائی! پمز! پمز!‘‘ دوڑتے ہوئے اسے منال کی آواز سنائی دی جو اسے ہسپتال کا پتا بتا رہی تھی۔

راستے میں اسے ایک ایمبولنس سے لفٹ مل گئی۔ وہیں اسے معلوم ہوا کہ اسلام آباد کے مضافات میں بمباری ہوئی ہے۔ ہسپتال پہنچتے ہی اس نے بھی دیگر لوگوں کی طرف اندر کی طرف دوڑ لگا دی۔

نور اور مصعب اس کو جلدی ہی نظر آ گئے۔ ان دونوں کی ویران آنکھیں آئی سی یو کے شیشے پر جمی تھیں جہاں عملے کے افراد کسی وجود پر سفید چادر ڈال رہے تھے۔ سٹریچر پر وہ جسد باہر لایا گیا تو نور اور مصعب دوڑ کر اس کی طرف لپکے۔ ابوبکر دور سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔ ایک ماہ کے اندر اندر ہی وہ دونوں ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکے تھے۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتا ان کی جانب بڑھا۔

’’السلام علیکم!‘‘ اس کے سلام کرنے پر ان دونوں نے چونک کر اس کی جانب دیکھا مگر کسی بھی قسم کے رد عمل کے بغیر وہ دونوں بے تاثر نگاہوں سے اسے تکنے لگے۔

’’ابوبکر!…… تم آگئے؟‘‘، نور کا سکتہ پہلے ٹوٹا اور اس کے ہونٹوں پر غمگین مسکراہٹ ابھری، ’’یہ دیکھو!…… اماں بھی چلی گئیں!‘‘

ابوبکر سناٹے میں آگیا۔ اس نے آگے بڑھ کر سٹریچر پر پڑے بے جان وجود کے چہرے سے چادر ہٹائی۔ وہ واقعی اماں تھیں۔ آنسو خاموشی سے اس کے چہرے پر بہنے لگے۔اس نے نور اور مصعب کی جانب نگاہ اٹھائی، دونوں اپنی سرخ آنکھوں میں مچلتے آنسوؤں پر قابو پانے کی کوشش کررہے تھے۔

اچانک ہسپتال میں شور کی آواز سنائی دی۔ بوڑھے ماں باپ اپنے زخموں سے چور کڑیل جوان بیٹے کو لیے آرہے تھے۔ وہ پرامید تھے کہ ان کا بیٹا بچ جائے گا مگر ڈاکٹروں نے بتایا کہ وہ تو کب کا ختم ہوچکا ہے۔ وہ دونوں آنسو بھی نہ بہا پائے۔ بس ایک دوسرے کو سہارا دیے خاموشی سے اپنے بیٹے کی لاش دیکھتے رہے۔

ایک اور جانب سے چیخ و پکار کی آواز پر وہ تینوں اس طرف متوجہ ہوئے تو ایک شخص اپنے دو سالہ بیٹے کے بےجان وجود کو گود میں لیے دھاڑیں مار کر رورہا تھا۔ قریب ہی سٹریچر پر اس کی بیوی آخری سانسیں لے رہی تھی۔

ایک طرف زخموں سے چور ایک شخص کی سانس اکھڑ چکی تھی اور اس کی دس سالہ بیٹی اپنے باپ کے زخمی وجود سے لپٹ کر رورہی تھی۔

ابوبکر آنکھیں پھاڑے یہ سب دیکھ رہا تھا۔ مصعب نے اماں کے ماتھے کا بوسہ لے کر اس کی طرف دیکھا۔

’’ابوبکر! تمہیں یہ سب عجیب لگ رہا ہے؟ ہم تو روز ہی یہ سب دیکھ رہے ہیں!‘‘

’’مگر میڈیا پر تو……!‘‘ ابوبکر بولتے بولتے اچانک رکا، ’’ہاجر اور سعد کہاں ہیں؟‘‘

مصعب نے خالی خالی آنکھوں سے ابوبکر کو دیکھا اور کچھ دیر کی خاموشی کے بعد دھیرے سے بولا،

’’سعد…… سعد تو آج صبح ہی …… صبح ہی اس کا انتقال ہوا ہے…… موحد چچا اور بسام اس کو لے گئے ہیں…… البتہ ہاجر کے پاس چلتے ہیں!‘‘ بے تاثر لہجے میں مصعب بولا۔

ابوبکر کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا، اس نے سٹریچر کا سہارا لیا۔

’’تم کیوں اتنا ضبط کرتے ہو مصعب؟ تم بھی تو دل ہلکا کرلو!‘‘ نور نے تاسف سے مصعب کی جانب دیکھا جس کا دل زخموں سے چور تھا، مگر وہ خاموش رہا۔ البتہ نور کو اس کی آنکھوں کے کنارے بھیگتے ہوئے محسوس ہوئے۔

’’اگر میں بھی حوصلہ چھوڑ بیٹھا تو تم دونوں کو کون سنبھالے گا؟‘‘ وہ بھرّائی ہوئی آواز میں بولا۔

اچانک ایک نرس دوڑتی ہوئی آئی اور انھیں ہاجر کی بگڑتی حالت کا بتا کر واپس دوڑی۔ وہ تینوں بھی تیزی سے اس کے پیچھے ہولیے۔

اس کی آنکھوں کی پتلیاں پھیل چکی تھیں۔ انھیں دیکھ کر وہ ہلکا سا مسکرائی ۔

’’ہاجر! کلمہ پڑھو!‘‘ ابوبکر اس کے قریب ہوتے ہوئے بولا مگر شناسائی کی کوئی رمق اس کی آنکھوں میں پیدا نہ ہوئی، اس کی سانس اکھڑنے لگی اور آہستہ آہستہ اس کی آنکھیں بند ہوگئیں۔

قریباً تین گھنٹے بعد اس کو ہلکا سا ہوش آیا۔ نور نے اس سے بات کرنا چاہی مگر ڈاکٹر نے منع کردیا۔ وہ یک ٹک چھت کو تکے جارہی تھی۔ گویا وہ ہوش میں ہونے کے باوجود اس دنیا میں نہ تھی۔

’’مصعب! دعا کرو ناں کہ ہاجر ٹھیک ہوجائے!‘‘ نور نے بےچینی سے مصعب سے کہا۔

’’کررہا ہوں نور! ‘‘ وہ دھیرے سے بولا مگر نور کی حالت بالکل غیر ہورہی تھی۔ مصعب اور ابوبکر اس کو سنبھالنے کی بہت کوشش کررہے تھے مگر وہ بکھرتی ہی جارہی تھی۔

’’یا اللہ! ہاجر کو بچالے!‘‘ وہ آنسوؤں کے درمیان ٹوٹے ٹوٹے لفظوں میں دعا کررہی تھی، ’’اللہ جی! اگر میری بہن بھی نہ رہی تو میں کیا کروں گی؟ اللہ جی! میری بہن کو بچا لے!‘‘

بار بارکی بے ہوشی کے بعد رات بارہ بجے اسے آئی سی یو لے جایا گیا اور ایک بجے ان سب کو ڈاکٹر نے اس کے پاس جانے کی اجازت دی۔ وہ اب بھی نیم بے ہوش تھی۔ پھر اس کے لب ہلنے لگے۔

’’محمد…… رسول…… اللہ‘‘ نور کو بمشکل اس کے آخری الفاظ ہی سمجھ آپائے اور اس کے ساتھ ہی ہاجر نے آخری ہچکی لی اور اس کی آنکھیں پتھرا گئیں۔ نور اپنے حواس پر قابو نہ رکھ سکی اور ہاجر کے بےجان لاشے سے لپٹ کر رونے لگی۔

ابوبکر نے بےبسی سے بیڈ کے کنارے اپنا سرٹکا دیا اور بےآواز آنسو بہانے لگا۔

مصعب کچھ دیر بے تاثر نگاہوں سے ہاجر کے بےجان وجود کو دیکھتا رہا، پھر وہ بھی دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا بیڈ کے سائیڈ پر پڑے بینچ پر بیٹھ گیا اور ہاجر کا ہاتھ پکڑ کر بلک بلک کر رونے لگا۔

٭٭٭٭٭

بمباریاں مسلسل جاری تھیں۔ موحد چچا پورے گھرانے کے واحد کفیل رہ گئے تھے۔ تائی جان اپنے بچوں کے ساتھ اپنے میکے واہ کینٹ چلی گئی تھیں۔ نور، مصعب، ابوبکر اور علی البتہ موحد چچا کے ساتھ ہی تھے۔ یہ گھرانہ اسلام آباد کے مضافات میں ایک خستہ حال سے گھر میں منتقل ہوگیا تھا اور اس انتظار میں تھا کہ کب کوئی رستہ کھلے اور وہ یہاں سے نکل جائیں۔

حملہ ہوئے ایک ماہ سے زیادہ ہوچکا تھا۔ حکومت بس نام کو ہی رہ گئی تھی۔ نظام درہم برہم ہوچکا تھا۔ حکومت کی نااہلی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بہت سے دیگر جرائم پیشہ لوگ متحرک ہوگئے تھے اور آئے دن گھروں میں ڈاکے ڈالتے اور بچاکھچا سامان لوٹ کرلے جاتے۔ خوراک و دوا، ہر قسم کی چیزوں کی درآمد پر بین الاقوامی سطح پر پابندی لگا دی گئی تھی، یوں ہر چیز ہی ناپید تھی۔ اب دن غربت میں بسر ہورہے تھے۔کروڑ پتی خاندان یک دم ہی زمین بوس ہوگیا تھا۔

٭٭٭٭٭

رمضان آیا اور گزر گیا۔ عید سب کی ہی سوگوار گزری۔ نور منال ، مومنہ اور مسفرہ کے ہمراہ کچھ دن کے لیے پنڈی میں مقیم نمرہ پھپھو کے گھر رہنے چلی گئی کہ شاید ماحول بدلنے سے ذہنی حالت کچھ بہتر ہوسکے۔

وہ ظہر کی نماز پڑھ کر ابھی جائے نماز ہی پر بیٹھی ہوئی تھی کہ آسمان پر جیٹ طیاروں کی گھن گرج سنائی دی۔ منال، مومنہ اور مسفرہ باہر کی طرف بھاگیں۔ نور نے بھی جائے نماز لپیٹی اور باہر کو دوڑی۔ سب لوگ گھروں سے باہر نکل کر درختوں کے نیچے بیٹھ گئے کہ بمباری عموماً عمارتوں پر ہی کی جاتی تھی۔

نمرہ پھپھو نے چاروں کو اپنی آغوش میں سمیٹ لیا۔

دھم! دھم! دھم!

گولوں کی دھمک کے ساتھ ہی ان سب کے دل دہل گئے۔ زمین تھرّا گئی۔ کہیں دور سے دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔ نور کا دل ڈوب گیا۔

’نجانے کس معصوم پر قیامت ٹوٹی!‘ اس کے سارے غم پھر سے تازہ ہوگئے۔

’’مومنہ! کیسی زندگی ہوگئی ہے ناں ہماری! کبھی خیال میں بھی یہ سب نہ گزرا تھا!‘‘ نور نے ساتھ بیٹھی مومنہ کو مخاطب کیا۔

’’میں تو……!‘‘ وہ کچھ بولتے بولتے رک گئی۔

نور نے چونک کر اس کی جانب دیکھا اور تھک کر درخت سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں۔

’دھم! دھم! دھم!‘

زمین پھر سے تھرّا اٹھی۔ نور نے ہڑبڑا کر آنکھیں کھولیں۔

’نجانے اب کہاں صف ماتم بچھی ہوگی؟‘

اس نے دکھی دل سے سوچا اور ذکر کرنے لگی۔

٭٭٭٭٭

مصعب بستر پر لیٹا اخبار پڑھ رہا تھا۔ ابوبکر زمین پر آلتی پالتی مار کر بیٹھا تھا۔ نور کچن میں عائشہ چچی کا ہاتھ بٹا رہی تھی۔ منال اور مومنہ پچھلے صحن میں کپڑے دھو رہی تھیں۔ بسام بھائی چچا کے ساتھ باہر گئے ہوئے تھے۔ علی گم سم سا صحن میں زمین پر لیٹا آسمان پر تیرتے بادلوں کو تک رہا تھا۔

چھوٹے سے صحن کے گرد تین کمروں، ایک کچن اور کونے میں بنے ایک چھوٹے سے غسل خانے پر مشتمل یہ خستہ حال سا گھر اس گھرانے کی ضرورت کے لحاظ سے کافی چھوٹا تھا۔

موحد چچا کئی دنوں سے اسد بھائی کو بلوانا چاہ رہے تھے تاکہ وہ آکر ان کے اور بسام بھائی کے ساتھ مل کر یہاں سے نکلنے میں مدد کریں یا پھر ان کے لیے امریکہ آنے کا بند و بست کریں۔ مگر وہ دونوں میں سے کسی صورت پر راضی نہ تھا کیونکہ دونوں ہی صورتوں میں امریکہ میں اس کے شاندار مستقبل کے داؤ پر لگنے کا خطرہ تھا۔

ٹروں! ٹروں!

اچانک خاموش سے گھر میں مصعب کے موبائل کی گھنٹی کی آواز گونجی۔ سب چونک کر اس کی طرف متوجہ ہوئے۔ گھر چھوٹا ہونے کی وجہ سے کوئی پرائیویسی نہ تھی۔

’’کس کا فون ہے؟‘‘، ابوبکر نے مصعب کو موبائل کی سکرین گھورتے دیکھ کر پوچھا۔

’’ماموں کا!‘‘ مصعب منہ بنا کر بولا۔

’’ماموں کو کہاں سے خیال آگیا ؟‘‘، ابوبکر چونک کر بولا۔ اتنے میں کال کٹ گئی۔

ٹروں! ٹروں!

کال پھر آنے لگی۔ مصعب نے بےدلی سے موبائل کان سے لگایا۔

’’السلام علیکم!…… جی! …… الحمد للہ ہم ٹھیک ہیں! …… آپ کیسے ہیں؟…… اچھا! …… ٹھیک! ٹھیک ہے! …… ایز یو وِش! (جیسے آپ کی مرضی!)‘‘، مصعب بے تاثر لہجے میں بولو۔ اس کے چہرے سے بات کی نوعیت کا اندازہ لگانا مشکل تھا۔ نور بھی کام ختم کرکے مصعب کے پاس آکر بیٹھ گئی۔ علی البتہ صحن میں ہی تھا مگر اس کی بھی تمام تر توجہ اسی طرف تھی۔

’’اچھا ٹھیک ہے! …… آپ فکر نہ کریں! …… بالکل! جی ! ہاں جی! …… شیور(sure)! …… نو پرابلم!…… آپ فکر کیوں کرتے ہیں!‘‘ ابوبکر اور نور اس کے چہرے سے کچھ اندازہ لگانے کی ناکام کوشش کررہے تھے۔ آخر اس نے لمبا سانس لیا اور موبائل کان سے ہٹا کر اپنی جیب میں رکھ لیا اور بے دم سا ہوکر بستر پر لیٹ گیا۔

’’کیا کہہ رہے تھے ماموں؟‘‘ نور نے اس کی جانب دیکھا۔

’’ماموں کو چھ ماہ بعد خیال آیا بھی تو کیسے؟‘‘ مصعب اٹھ کر بیٹھ گیا اور زمین کو گھورنے لگا۔

’’کیا کہہ رہے تھے اور ہم سے بات کیوں نہ کروائی؟‘‘

’’انھوں نے تم دونوں کا تو پوچھا ہی نہیں! …… نہ سلام نہ دعا! …… نہ کوئی اور بات کی! …… میں نے خود ہی بتا دیا کہ ہم ٹھیک ہیں! …… کہنے لگے کہ ہم ماریہ کو پاکستان نہیں بھیج سکتے، ہماری مجبوری سمجھو! …… اس لیے معاملہ ختم کردو!‘‘

’’اور تم نے کچھ نہ کہا؟ آرام سے مان گئے؟ کچھ تو ہمارے حالات بھی بتا دیتے!‘‘ نور تاسف سے بولی۔

’’نور! غیرت بھی کوئی چیز ہوتی ہے! …… مجھے کوئی شوق نہیں ایسے شخص سے ہمدردی لینے کا جس کو اپنی بہن کے فوت ہونے کے بعد اپنے بھانجے بھانجی کی خیریت پوچھنے کا بھی خیال نہ آیا ہو!…… انھوں نے نہیں پوچھا …… میں نے نہیں بتایا…… ان کو خود بھی پتا ہے ہمارے حالات کا …… بےحس معاشرے میں رہ کر خود بھی بےحس ہوگئے ہیں!‘‘ مصعب سپاٹ مگر تلخ لہجے میں بولا، ’’وہ نہیں چاہتے رشتہ تو میں بھی کوئی مرا نہیں جارہا‘‘۔

نور اور ابوبکر اس کی ذہنی کیفیت کو سمجھ رہے تھے مگر خاموش رہے۔ کچھ دیر یوں ہی گزر گئی۔

’’کیسے اپنوں نے بھی ساتھ چھوڑ دیا؟‘‘ آخر ابوبکر کی آواز گونجی۔

’’ماموں کو ہمارا ذرا بھی خیال نہیں!‘‘ نور کی آنکھوں میں آنسو اتر آئے۔ مصعب نے چہرہ موڑ کر اس کی جانب دیکھا اور نفی میں سر ہلایا۔

’’نور! ہمیں صرف اللہ کی ضرورت ہے…… اور کسی کی نہیں! یہ رشتے تو فانی ہیں…… سیکنڈ میں ختم ہوجاتے ہیں!‘‘ وہ دھیرے سے بولا۔ اس کے لہجے میں اچانک اندر کا درد جھلکنے لگا۔

شوں! شوں!

اچانک دو جیٹ ان کے سروں کے اوپر سے گزرے۔ وہ تینوں ہڑبڑا کر اٹھ کھڑے ہوئے۔

’’یا اللہ خیر!‘‘

’’بھاگو!‘‘

یہ کافی عرصے سے ان کا معمول بن چکا تھا۔ ضروری سامان کے بیگ تیار ہوتے، وہ اٹھاتے اور باہر بھاگتے اور قریب کسی کھیت وغیرہ کے کنارے لگے درخت کی اوٹ میں بیٹھ جاتے۔ نور فوراً کچن سے کھانے کا ہاٹ پاٹ اور پریشر ککر اٹھا کر باہر کو لپکی۔ باقی سب نکل چکے تھے، صرف ابوبکر اس کے انتظار میں کھڑا تھا۔ اس نے ککر نور کے ہاتھ سے لے لیا اور دونوں باہر کی طرف بھاگے۔

دھم! دھم ! دھم!

دور کہیں بمباری ہوئی تھی۔

’’لگتا ہے پھر اسلام آباد میں بمباری ہوئی ہے!‘‘ علی نے جیٹ کا رخ دیکھ کر اندازہ لگایا۔

’’چچی! چچا کہاں گئے تھے؟‘‘ نور نے فکرمندی سے پوچھا۔

’’بیٹا وہ پنڈی گئے تھے، نمرہ کی طرف!‘‘

’’اللہ خیر کرے!‘‘ ان سب کی زبانیں دعا میں مصروف ہو گئیں۔

٭٭٭٭٭

مصعب اور ابوبکر تیز تیز قدم اٹھاتے ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں داخل ہوئے۔ نور اور مومنہ بھی ان کے پیچھے پیچھے تھیں۔

’’کہاں ہیں چچا؟‘‘، مصعب ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بڑبڑایا۔

’’وہ رہے!‘‘

موحد چچا وارڈ کے کونے میں ایک بیڈ کے پاس بیٹھے تھے۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتے ان کی طرف بڑھ رہے گئے۔ ان پر نظر پڑتے ہی وہ بھی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے۔

’’السلام علیکم! شکر ہے تم لوگ آگئے!‘‘، ان کے قریب آنے پر وہ دھیرے سے بولے۔

’’چچا! احمر اور سیف کہاں ہیں؟‘‘

’’بیٹا! احمر کے زخم اتنے زیادہ نہ تھے، وہ تو فوراً ہی ڈسچارج ہوگیا تھا۔ بسام اس کو لے کر نمرہ کی طرف گیا ہے!‘‘، وہ آہستگی سے بولے۔ اچانک ہی وہ بہت بوڑھے لگنے لگے تھے، ’’اور سیف کافی زخمی ہے، ابھی آپریشن تھیٹر میں ہے!‘‘

آج دوپہر کو واہ کینٹ میں بمباری کی خبر سن کر وہ سب یہاں موحد چچا کے پاس پہنچے تھے۔

’’ابا! تائی جان کہاں ہیں؟ وہ بھی پھپھو ہی کی طرف ہیں کیا؟‘‘ مومنہ نے کچھ دیر کے بعد پوچھا۔

’’ہاں! وہیں ہیں! واپسی پر تم لوگ بھی ان کے پاس چلے جانا!‘‘

اتنے میں ڈاکٹر وارڈ میں داخل ہوا اور موحد چچا کی طرف بڑھ گیا۔ موحد چچا اٹھ کر اس کے ساتھ وارڈ سے باہر نکل گئے۔

وہ چاروں وہیں بیڈ کے پاس ہی بینچ پر بیٹھ گئے اور اردگرد کا جائزہ لینے لگے کہ دفعتاً نور کی نگاہ ایک بیڈ کے پاس بیٹھے دو افراد پر پڑی اور پھر وہاں سے ہٹنا ہی بھول گئی۔

’’مومنہ! وہ دیکھو!‘‘ اس نے مومنہ کو اس طرف متوجہ کیا تو وہ بھی چونک گئی۔

’’ہائیں! یہ دونوں یہاں کیا کررہے ہیں؟‘‘

’’آؤ دیکھ کر آئیں!‘‘ نور کھڑے ہوتے ہوئے بولی۔ مومنہ بھی اس کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔

’’بھائی! ہم ذرا آتی ہیں!‘‘ مصعب کے اجازت دینے پر وہ دونوں اس بیڈ کی طرف بڑھ گئیں۔ قریب پہنچنے پر ان کو ایک خاتون پٹیوں میں لپٹی نظر آئیں اور ان کا ہاتھ تھامے سرجھکائے بیڈ کے دونوں طرف ان کے دو بچے بیٹھے تھے۔

’’السلام علیکم!‘‘ نور کے اونچی آواز سے سلام کرنے پر دونوں نے چونک کر اس کی جانب دیکھا۔ وہ ارمغان اور لائبہ تھے۔

’’نور تم؟‘‘ دونوں ہی اس کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔

’’لائبہ! کیا ہوا ہے؟‘‘

’’نور! ہمارے ڈیڈی کی ڈیتھ پچھلے ہفتے ہوگئی تھی اور آج ممی کی بھی ڈیتھ ہوگئی ہے!‘‘، لائبہ نے روتے ہوئے اس کو بتایا۔ ارمغان بھی خاموشی سے اپنی ماں کی میت کو تک رہا تھا۔ ’’نور! اب ہمارا اس دنیا میں کوئی نہیں رہا!‘‘

’’ایسے کیوں کہتی ہو؟‘‘ نور نے اس کے قریب بیٹھتے ہوئے اس کے دونوں ہاتھ تھام لیے۔

’’ہماری پوری فیملی abroad (ملک سے باہر) ہے اور کوئی بھی ہماری ذمہ داری اٹھانے کو تیار نہیں!…… ہمیں سمجھ نہیں آرہی کہ کیا کریں!‘‘ ، وہ اپنے آنسو پونچھ کر بولی۔

’’ایسے کیوں کہتی ہو؟ ہم ہیں ناں!‘‘ نور نے اس کو دلاسہ دیا، ’’بھائی اور ابوبکر تو کافی عرصے سے تم لوگوں کو ڈھونڈنے کی کوشش کررہے تھے، مگر کچھ پتا ہی نہ چل رہا تھا‘‘۔

’’ابوبکر اور مصعب کہاں ہیں؟‘‘ ارمغان کافی دیر کے بعد پہلی مرتبہ بولا تھا۔ نور نے پیچھے مڑ کر ان کی طرف اشارہ کرنا چاہا مگر وہاں ان دونوں کا نام و نشان تک نہ تھا۔

’’ہائیں! مومنہ!‘‘ اس نے مڑ کو مومنہ کی جانب دیکھا، ’’بھائی اور ابوبکر نجانے کہاں چلے گئے؟‘‘

مومنہ بھی حیرت سے مڑی۔ اتنے میں موحد چچا وارڈ میں داخل ہوئے مگر ان کو نہ پاکر واپس مڑنے لگے۔

’’ابا! ادھر!‘‘ مومنہ کے پکارنے پر موحد چچا نے ان کی جانب دیکھا اور اپنے پاس آنے کا اشارہ کیا۔ وہ دونوں لائبہ اور ارمغان کو سلام کرکے وہاں سے اٹھ گئیں۔

’’سیف کمرے میں آگیا ہے! ابھی ہوش میں نہیں ہے!…… آجاؤ تم لوگ بھی مگر اس کے سامنے حوصلے سے رہنا!‘‘ ان کے قریب آنے پر موحد چچا تھکے تھکے سے انداز میں بولے، ’’اور تم دونوں وہاں کیا کررہی تھیں؟‘‘

’’وہ …… چچا…… وہ ارمغان اور لائبہ تھے…… ان کی ممی اور ڈیڈی کی ڈیتھ ہوگئی ہے…… اور ان کی پوری فیملی باہر ہوتی ہے…… اس لیے پریشان تھے!‘‘

’’ابا! آپ کچھ کرسکے ہیں ان بےچاروں کے لیے؟‘‘ مومنہ نے آنکھوں میں امید کی کرن لیے موحد چچا کی جانب دیکھا۔

’’اچھا! ہاں ان شاءاللہ دیکھتے ہیں!‘‘ موحد چچا نے اثبات میں سرہلادیا، ’’ابھی تو آؤ!‘‘

وہ دونوں چچا کے ہمراہ وارڈ سے باہر نکل گئیں۔

’’چچا! بھائی اور ابوبکر کہاں گئے ہیں؟‘‘

’’ان کو اپنا کوئی جاننے والا نظر آگیا تھا شاید! …… اب سیف کے پاس ہی ہوں گے‘‘، موحد چچا کہتے ہوئے ایک کمرے کے ادھ کھلے دروازے سے اندرداخل ہوگئے۔

اندر مصعب اور ابوبکر پہلے ہی کسی اجنبی کے ساتھ بیٹھے تھے۔ نور نے بےاختیار اپنا عبایا اور سکارف درست کیا اور چہرہ موڑ کر جب سیف کی طرف رخ کیا تو بے اختیار اس کے منہ سے دبی دبی چیخ نکل گئی۔

’’انا للہ وانا الیہ راجعون!‘‘ وہ آہستگی سے بولی اور آنکھوں میں اترنے والے آنسو اندر اتار گئی۔ سیف ابھی تک بے ہوش ہی تھا اور اس کی دونوں ٹانگیں گھٹنے سے اوپر تک کٹی ہوئی تھیں۔ ڈاکٹر کمرے میں چکر لگا رہے تھے۔

’’چچا!‘‘ وہ آنسو ضبط کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بولی۔

’’بیٹے! اللہ کو یہی منظور تھا!‘‘ ، وہ دکھ سے بولے۔

بڑی مشکل سے اپنے جذبات پر قابو پاکر وہ قریب پڑی کرسی پر مومنہ کے ساتھ ہی بیٹھ گئی۔ پھر نظر ترچھی کرکے مصعب اور ابوبکر کی طرف دیکھا جو نجانے کس اجنبی کو لے آئے تھے۔ اجنبی چہرہ جھکائے بیٹھا تھا۔ مصعب اور ابوبکر کے چہروں پر دبے دبے جوش کے آثار تھے۔ نجانے کیوں؟ نور کو حیرت سی ہوئی۔

’’مصعب! یہ کون ہیں؟ ان کی تعریف؟‘‘ موحد چچا نے گویا نور کی مشکل آسان کردی۔

اجنبی نے چونک کر چچا کی طرف دیکھا اور گویا سب کو زوردار جھٹکا لگا ہو…… نور کو لگا یکایک کمرے میں آکسیجن کم ہوگئی ہو اور اسے سانس لینا دشوار ہوگیا ۔ اس کی آنکھیں حیرت اور بے یقینی سے پھیل گئیں۔

ایک لمحہ لگا تھا اجنبی کو پہچاننے میں۔

وہ عبادہ تھا! …… عبادہ مرتضیٰ!…… امینہ خالہ کا بیٹا !

’’اوہ! آپ تو…… عبادہ…… ‘‘ موحد چچا سے حیرت کے مارے جملہ مکمل نہ ہوپایا۔ عبادہ شرمندہ سا مسکرا دیا۔

مومنہ نے بھی حیرت سے نور کی جانب دیکھا گویا کہہ رہی ہو کہ یہ کہاں سے آگیا۔ مصعب اور ابوبکر سب کے ردعمل دیکھ کر محظوظ ہورہے تھے۔ عبادہ بالکل بدل چکا تھا اور پہلی نظر میں پہچاننا مشکل تھا۔ اس نے سفید شلوار قمیض پہن رکھی تھی۔ چہرے پر گھنی لمبی داڑھی جس نے اس کی گردن کو ڈھانپ رکھا تھا۔ بال شاید سنت کی پیروی میں کندھوں سے کچھ اوپر تک آرہے تھے۔ سر پر سفید کڑھائی والی ٹوپی۔

’’تم کب آئے بیٹے؟‘‘

’’چچا جان! جب سے امریکہ کا حملہ ہوا ہے…… تب سے میں اپنے دیگر ساتھیوں سمیت آگیا ہوں!‘‘ وہ دھیرے سے بولا۔

’’تم جہاد سے واپس آگئے ہو؟‘‘

’’نہیں چچاجان! …… اب ہم پاکستان میں رہ کر جہاد کریں گے!‘‘، وہ متانت سے بولا۔

’’تو کیا پہلے پاکستان میں نہیں تھے؟‘‘

’’چچا جان! ان امریکیوں کی حفاظت پر مامور پاکستانی غلاموں نے ہمیں پاکستان سے باہر نکال دیا تھا مگر اب ہم ان شاءاللہ امریکہ کو بھگا کر دم لیں گے…… چاہے یہ فوج چاہے یا نہ چاہے …… اللہ کے اذن سے!‘‘

’’اچھا! …… گھر والے کیسے ہیں؟…… یہاں کیسے آنا ہوا؟‘‘

موحد چچا نور کے لیے آسانی پیدا کررہے تھے۔ کیونکہ وہ یہ تمام سوال چاہنے کے باوجود نہ کرسکتی تھی۔

’’بابا تو شہید ہوگئے ہیں …… پچھلے ماہ …… ماما اور جویریہ آج کل واہ کے قریب رہ رہی ہیں…… جویریہ کو کسی دوا کا ری ایکشن ہوگیا ہے…… اس کو لے کر آیا ہوں…… تیز بخار بھی ہوگیاہے! …… وارڈ ہی میں ہوگی…… میں نماز پڑھنے گیا تو مصعب اور ابوبکر مل گئے…… ‘‘، اس نے تفصیل بتائی۔

اچانک سیف کے کراہنے نے سب کو چونکا دیا۔ وہ دھیرے دھیرے ہوش میں آرہا تھا۔

’’ماما!‘‘ وہ کراہ کر بولا۔

’’بیٹے ہم سب ہیں آپ کے پاس! اٹھو بیٹے!‘‘ موحد چچا فوراً آگے بڑھے اور اس کے بال سہلانے لگے۔ آہستہ آہستہ اس نے آنکھیں کھولیں اور اردگرد کا جائزہ لینے لگا۔ وہ سب ہی اس کے بیڈ کے گرد جمع تھے۔

’’سیف! کیا حال ہے؟‘‘ ابوبکر نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھام لیا۔

’’میری ٹانگیں؟‘‘، اس نے زخمی نگاہوں سے موحد چچا کی جانب دیکھا۔ نور کی آنکھوں میں دوبارہ آنسو اترنے لگے۔

’’سیف! تمہاری ٹانگیں تو تم سے پہلے ہی جنت میں پہنچ چکی ہیں!‘‘، مصعب بولا۔ اس نے نگاہ اٹھا کر اس کی جانب دیکھا اور دو آنسو اس کے گالوں پر پھسل گئے۔

’’اب میں زندہ کیسے رہوں گا؟‘‘، وہ آہستگی سے بولا اور دوبارہ آنکھیں موند لیں۔ شاید دواؤں کا اثر ابھی تک باقی تھا۔

کمرے میں ایک بوجھل سی خاموشی چھا گئی اور سب اپنی اپنی سوچ میں گم ہوگئے۔

(جاری ہے ، ان شاء اللہ)

Previous Post

سُلطانئ جمہور | قسط نمبر: 14

Next Post

غزوۂ ہند کاغازیٔ گفتار و کردار

Related Posts

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | گیارہویں قسط

15 فروری 2026
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | دسویں قسط

20 جنوری 2026
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | نویں قسط

4 نومبر 2025
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | آٹھویں قسط

26 ستمبر 2025
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | ساتویں قسط

12 اگست 2025
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط

14 جولائی 2025
Next Post

غزوۂ ہند کاغازیٔ گفتار و کردار

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

مارچ 2026ء
مارچ 2026ء

مارچ 2026ء

by ادارہ
8 مارچ 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version