بعد از خدا بزرگ و برتر، اپنے پیارے اور سچے رسول کی خدمت میں (صلی اللہ علیہ وسلم)
از طرف خاک پائے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم)
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!
میرے پیارے نبیؐ!
وہی خواہش آج بھی ہے کہ یہ آرزوئے دِل آپ کے گھر اور آپ کے منبر کے درمیان بیٹھ کر ’روضۃ من ریاض الجنۃ‘ میں بیان کرتا۔ آپ کے مزار کی جالیوں سے سینہ چمٹا کر بیان کرتا، لیکن اے رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم، آپ پر میرے ماں باپ قربان، آپ کے دشمنوں نے آپ کے اس گنہگار عاشق کا راستہ روک رکھا ہے۔ یا رسول اللہ! آپ کا مرتبہ تو ہم عاصیوں کے لیے ناقابلِ بیان ہے، آپ کی شان تو آپ کا اور ہمارا اللہ بیان کرتا ہے، ہم سوں کا یہ خط اور یہ اظہارِ عشق کسی حساب میں نہیں آتا، لیکن یا رسول اللہ! آپ جانتے ہیں کہ عاشق اظہار کے لیے بے تاب ہوتا ہے۔
یا رسول اللہ! دو مہینے ہونے کو آئے کہ آپ کے ایک دشمن نے فرانس میں آپ کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کیا، یہ ملعون ایک سکول میں استاد تھا۔ آپ کے ایک عاشق نے جس کا نام بھی ہمیں معلوم نہیں، اس عاشقِ صادق نے اس خبیث گستاخ کا سر اتار لیا اور آپ کی عطا کردہ دعا و خوش خبری کا مستحق ٹھہرا ’افلحت الوجہ‘، یہ چہرہ کامیاب رہے۔ یا رسول اللہ! آپ کی اس دعا کی عطا سے، یہ نوجوان عاشق چند لمحوں بعد ہی شہادت کی موت سے ہمکنار ہوا۔ یا رسول اللہ! آپ کے ایک شہید عاشق انور العولقیؒ کی زبانی سنا کہ آپ کے صحابہؓ فرماتے تھے کہ آپؐ جس کو دعائے رحمت دیتے تو وہ ’شہید‘ ہو جاتا، یا رسول اللہ یہ گمنام عاشق بھی شہید ہو گیا۔ یا رسول اللہ! ہم اس نوجوان کا نام نہیں جانتے لیکن جن کو آپ نے ’فاروقؓ‘ کا خطاب عطا کیا، جب انہیں آپ کے صحابیٔ خاص سعد بن ابی وقاصؓ نے جنگِ قادسیہ کا احوال لکھتے ہوئے، تذکرۂ شہدا میں چند نام بیان کرنے کے بعد کہا کہ ’فلاں فلاں کو تو آپ (عمر فاروقؓ) جانتے ہیں لیکن باقی شہیدوں کو آپ نہیں جانتے‘ تو آپ کے ’فاروقؓ‘ رونے لگے اور فرمایا’عمر اگر نہیں جانتا تو کیا ہوا، عمر کا رب تو انہیں جانتا ہے‘۔ یا رسول اللہ! اس عاشقِ گمنام کو آپ کا رب تو جانتا ہے اور ہم آپ کے پیروکاروں میں اس گمنام عاشق کا مرتبہ بہت ہی بلند ہے، ’ہمیں اس سے فی اللہ محبت ہے‘ اور اس محبت کے صدقے آپ کے فرمان کے مطابق ’روزِ قیامت جب کوئی سایہ نہ ہو گا تو ان دو لوگوں میں شامل ہونے کی تمنا رکھتے ہیں جو فی اللہ ملے اور فی اللہ جدا ہوئے‘۔
یا رسول اللہ! آپ کے اور ہمارے اللہ کے، آپ کے ، آپ کے دین کے اور آپ کی امت کے عصرِ رواں میں سب سے بڑے دشمن ’امریکہ‘ کو آپ کے رب کی نصرت سے افغانستان میں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یا رسول اللہ! آپ کے امتی اس فتح کو اس فتح کی مثل سمجھتے ہیں جیسی فتح آپ کو بنفسِ نفیس اللہ نے ’حدیبیہ‘ میں عطا کی تھی۔یا رسول اللہ! جیسے بعد از حدیبیہ اللہ اور آپ کے دین کی تبلیغ کے مواقع عام ہوئے تھے، جیسے پرچارِ دینِ حق چہار دانگِ عالَم میں ہوا تھا ’معاہدۂ دوحہ‘ کے بعد بھی ایسے ہی امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ یا رسول اللہ! آپ کی پگڑی کی طرح کی سفید اور کالی پگڑیوں والے ، کھلے کھلے کُرتے پہنے اور کاندھوں پر کملیاں رکھے آپ کے مجاہد عاشق ساری دنیا میں آپ کی شریعت کے نفاذ کا پیغام، اس شریعت کی برکتیں اور محاسنِ اسلام بیان کر رہے ہیں۔ یا رسول اللہ یہ آپ پر اترے قرآن کے پیغام پر عمل کرنے اور آپ کی تلواروں ’ذوالفقار ‘و ’بتار‘ کو ہاتھ میں تھامنے کا بابرکت ثمرہ ہے۔ یا رسول اللہ! یہ آپ پر نازل ہوئے قرآن کی عملی تفسیر ہے کہ ’کافروں نے ایک چال چلی اور اللہ نے ایک چال چلی اور اللہ بہترین چال چلنے والا ہے‘، یا رسول اللہ! اللہ ہی کی چال غالب ہے، آپ کے دین کی اس اشاعت و تبلیغ کو دیکھ کر ہم آپ کے نام لیواؤں کے دل خوشی سے بے حال ہیں اور زبانیں آپ کے اور ہمارے اللہ کی حمد میں رطب اللسان ہیں۔
یا رسول اللہ! اس دنیا میں آپ کے کچھ عاشق ایسے بھی ہیں جو آپ کی سندھ و ہند کو فتح کرنے کی بشارتیں سن کر مچل رہے ہیں۔ یہ دعوت و جہاد کے میدانوں میں کھپ رہے ہیں۔ یا رسول اللہ! اس غزوۂ اخیر الزماں کے غازی بڑے غریب ہیں! یا رسول اللہ یہ جیشِ عسرت کی مانند ہیں۔ یا رسول اللہ! اس غزوے کے غازیوں کے پاس اسلحہ ایسا کم ہے جیسا آپ کے صحابہؓ کے پاس بدر کے دن تھا۔ یا رسول اللہ! سواریاں کم ہیں۔ یا رسول اللہ! ہزاروں جیلوں میں پڑے ہیں اور آپ کے مؤذنؓ کی مانند ’اَحد‘ ’اَحد‘ کہہ کر فضائے ایمان کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ یا رسول اللہ! مثلِ سمیّہؓ، مثلِ زنیرہؓ کتنی عفیفات ہیں جو امریکہ سے لے کر پاکستان تک، باگرام سے لے کر اڈیالہ و تہاڑ تک زندانوں میں پڑی ہیں، لیکن آپ کے دین کو چھوڑنے کا خیال ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں۔ یا رسول اللہ! آپ کی امت میں لا تعداد بچے ہیں جنہوں نے اس لیے یتیمی کو گوارا کر لیا ہے کہ ان کا باپ آپ کا عاشق تھا۔ یا رسول اللہ! ان بچوں کا دنیوی ’کیرئیر‘ کچھ نہیں لیکن آپ کے اللہ کا اور آپ کا وعدہ سچا ہے، یہ بچے یقیناً ہر میدان میں آگے نکلیں گے، یہ حسنینؓ بن علیؓ بنیں گے، یہ اسامہ بن زیدؓ بنیں گے، یہ عبد اللہ بن زبیرؓ بنیں گے، یہ زین العابدینؒ بنیں گے، دنیا کی وسعتوں میں آپ کا سفید و کالا عَلَم یہ لہرائیں گے اور آخرت کی وسعتیں ان کا مقدر ٹھہریں گی، ان شاء اللہ! یا رسول اللہ سرحد سے بلوچستان اور سندھ سے پنجاب تک، کشمیر سے دہلی تک اور بمبئی سے ڈھاکہ و رنگون تک آپ کی مبارک الہامی پیشین گوئی کے مصداق غازی آل و مال کے ساتھ تیاریوں میں مگن ہیں، ان شاء اللہ جو خادم آپ کے روضے پر حاضر ہو کر فتحِ سندھ و ہند کی خبر لائیں گے تو آپ کے اور اپنے اللہ سے دعا ہے کہ خادم بھی ان میں ایک ہو۔
یا رسول اللہ! آپ کا وعدہ سچا ہے ، عدنِ اَبین میں بارہ ہزار مجاہدوں کا لشکر تیار ہو رہا ہے جو آپ کے دین کی نصرت کے لیے حجاز کی جانب نکلنے کو تیار ہے۔ یا رسول اللہ بابری مسجد اور مسجدِ اقصیٰ کو اب آپ کی شمعِ رسالت کے پروانے آنسو بہانے کے لیے نہیں چھوڑیں گے۔ آپ کے مجاہد عاشق آپ کی وصیت کو ایک بار پھر بہت جلد پورا کیا چاہتے ہیں کہ ’مشرکین کو جزیرۃ العرب سے نکال دو!‘۔
یا اللہ! اپنے حبیب تک اس عاصی کا یہ خط پہنچا دے، بلا شبہ تو ہر چیز پر قادر ہے۔
اللھم صل علی محمد و علی آل محمد کما صلیت علی ابراہیم وعلی آل ابراہیم انک حمید مجید!






![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



