راقم بفضل اللہ ایک مجاہد فی سبیل اللہ ہے اور اس سے قبل قریباً ایک دہائی تک مختلف اخباروں کے دفتروں، اطلاعات و نشریات کی منسٹری کے دفتروں ، پریس کلبوں کے چکر کاٹتااور نیوز ڈیسکوں پر چائے کی چسکیاں لیتا رہا ہے، گاہے اپنے تجربات و مشاہدات اور کچھ پوشیدہ سٹوریاں لکھنے کی کوشش کرتا رہتا ہے تاکہ وطنِ عزیز پاکستان میں نافذ ’فاسد‘ نظام کی کچھ حقیقت فاش کرنے میں اپنا حصہ بھی ڈال سکے۔ (سیلاب خان)
زیرِ نظر مضمون دسمبر ۲۰۱۹ء کے مجلّہ ’نوائے افغان جہاد‘ کے شمارے میں اول بار شائع ہوا تھا، فائدۂ عام اور سقوطِ ڈھاکہ کی تاریخ کی نسبت سے دوبارہ نذرِ قارئین کیا جا رہا ہے۔ (ادارہ)
یہ ۱۹۷۱ء کی شاموں کا ذکر ہے، ایسی شامیں جو کچھ ہی عرصے میں ’خون آشام‘ ہونے والی تھیں۔ ’متحدہ پاکستان‘ کی کرتا دھرتا اسٹیبلشمنٹ ، جس نے مشرقی پاکستان کا ’عسکری‘ دفاع، مغربی پاکستان کو رکھا ہوا تھا…… مشرقی پاکستان میں ہونے والے حملے کا جواب مغربی پاکستان میں بھی نہ دے سکی۔ مشرقی پاکستان میں لڑنے کے لیے فوج کم تھی اور فوج کی کمی سے زیادہ، موجود فوج میں لڑنے کے جذبے کی کمی تھی۔ اس جذبے کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ’دائیں‘ بازو کی جماعت ’جماعتِ اسلامی‘ اور جماعتِ اسلامی ہی کی طرز و فکر اور سرپرستی میں قائم ’اسلامی جمعیتِ طلبہ‘ جس کا بنگلہ زبان میں نام ’اسلامی چھاترو شانگو‘ تھا کا سہارا لیا گیا۔
جماعتِ اسلامی کے تحت بنیادی طور پر دو ’تنظیمیں‘ بنائی گئیں ، ایک کا نام ’البدر‘ اور دوسری کا ’الشمس‘ تھا۔ یہ رضاکار تنظیمیں شہری علاقوں میں امن و امان قائم رکھنے کی نیت سے فوج کے ساتھ مصروفِ عمل تھیں ۔ لیکن جب ’لا الٰہ الا اللہ‘ کی خاطر قائم ہونے والے ملکِ خداداد کی سرحدوں کو ضرورت پڑی تو ان رضاکاروں نے اپنی جانیں بچائے رکھنا گوارا نہ کیا۔
آخری قطرۂ خون تک جنگ جاری رکھنے کا وعدہ کرنے والی ’متحدہ پاکستان‘ کی فوج کے ایک بریگیڈئیر سے ، ڈھاکہ کے ایک مکان میں جماعتِ اسلامی کے رہنما جنابِ خرم مرادؒ کی جنگی حالات اور حکمتِ عملی کے متعلق اکثر ملاقات ہوتی۔ خرم صاحب، اس مکان کے دروازے پر جایا کرتے، دروازے پر ایک ’آئی ایس آئی‘ کا ماتحت اہلکار خرم صاحب کا استقبال کرتا اور راہداری کھولتا۔
پھر ۱۶ دسمبر سے ایک یا دو راتوں پہلے کی بات ہے کہ خرم صاحب جنگی حکمتِ عملی اور بھارت کے مکتی باہنی کی صورت میں اثر و نفوذ کے متعلق بات کرنے بریگیڈئیر صاحب سے ملنے اسی مکان پر گئے۔ گھنٹی بجائی تو وہی مانوس صورت والا ایجنسی کا اہلکار استقبال کو نکلا، لیکن یوں ملا جیسے اجنبی سے ملا جاتا ہے۔ ’جی! آپ کون؟‘، ہرکارے نے پوچھا۔ خرم صاحب نے کمال حیرت سے تعارف کروایا اور بریگیڈئیر صاحب سے ملاقات کروانے کو کہا۔ ہرکارا بولا ’یہاں تو کوئی بریگیڈئیر صاحب نہیں ہوتے اور نہ ہی میں آپ کو جانتا ہوں؟!‘۔ خرم صاحب یہ جواب سن کر پریشان ہو گئے اور ان ہزاروں کارکنوں کا خیال ان کے ذہن میں آیا جو اس فوج کے شانہ بشانہ لڑ رہے تھے اور جن کارکنان کا مستقبل آج تا دمِ تحریر قید، قتل اور باغی گردانا جانا ہے۔ بوجھل قدموں اور الجھے خیالوں کے ساتھ خرم صاحب واپس مڑے …… فوج ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کرچکی تھی اور سولہ دسمبر کو نوے ہزار سے زائد فوجیوں کے ساتھ البدر و الشمس کے رضاکار بھی تھے جو بطورِ ’جنگی قیدی‘ ہندوستان کی قید میں گئے۔ انہی قیدیوں میں سے ایک جنابِ خرم مراد بھی تھے۔ فیؔض کو یہ واقعہ تو معلوم نہ تھا، لیکن سقوطِ ڈھاکہ ہی پر لکھی اس کی نظم کا یہ مصرع اسی ’سیناریو‘ پر جچ رہا تھا:
؏ ہم کہ ٹھہرے اجنبی کتنی ملاقاتوں کے بعد
خرم مراد ؒصاحب نے یہ واقعہ خود، جہادِ کشمیر کے آغاز پر جہادِ کشمیر ہی سے وابستہ ایک ’داعیٔ جہاد‘ کو جہادِ کشمیر سے وابستہ ایک ماہانہ مجلّے کے لیے انٹرویو دیتے ہوئے سنایا۔ پھر کہا کہ ’بریگیڈئیر فلاں پھر نہیں ملے گا‘، اور اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ کہیں اس ’آئی ایس آئی‘ اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں پھر سے استعمال نہ ہو جانا۔ یہ انٹرویو کبھی شائع نہ ہو سکا لیکن سینہ در سینہ یہ روایت ہم تک پہنچ گئی اور آج یہی روایت زیرِ نظر مضمون کا موجب ہے۔
مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنے پچاس سال ہونے والے ہیں۔ ملکِ خدا داد پاکستان کی نامور اسلامی جماعت نے سنہ ۷۱ء میں کیوں فوج کا ساتھ دیا، فوج کا اس وقت کیا کردار تھا اور بعض اسلامی جماعتوں کے لیے اس سانحے میں کیا سبق پنہاں ہے؟ انہی چند سوالوں کا جواب زیرِ نظر مضمون تلاش رہا ہے۔
ہر انسان کے کچھ اعتقادات ہوتے ہیں یا تحریکیں نظریات رکھتی ہیں۔ اعمال ان اعتقادات اور نظریات کے تابع بھی ہوتے ہیں اور عکاس بھی۔اگر کسی کا کوئی فعل ’فساد‘ کا شکار ہو جائے تو فقط یہ بات کافی نہیں ہوتی کہ اس نے ماضی میں کسی خاص نظریے یا عقیدے پر حلف اٹھایا تھا اور اس کی پاس داری کا اقرار کیا تھا۔ ربّانی قانون تو کہتا ہی یہی ہے، دیکھا جائے تو دنیا کے ’ناقص‘ قوانین جو ’ناقص‘ عقلوں سے برآمد ہوئے ہیں، ان کے نزدیک بھی فیصلہ فقط نعروں اور نظریات کے اعلان سے نہیں بلکہ افعال کے مطابق کیا جاتا ہے۔ اسی لیے تو توحید و رسالت اور آخرت پر ایمان رکھنے والے بندۂ مومن کا جرم بھی فقط ’دعوائے عشق‘ کی بنیاد پر احسن قدم قرار نہیں دیا جاتا۔ گھر میں موجود سب سے زیادہ تابع فرمان بیٹا بھی جرم کرے، تو کسی نہ کسی درجے کی تادیب و سزا اس کا مقدر بہر کیف قرار پاتی ہی ہے۔
ملکِ خداداد، پاکستان لا الٰہ الا اللہ کی بنیاد پر وجود میں آیا، لیکن اس کے اربابِ اختیار ہمیشہ لا الٰہ الا اللہ کے مخالف رہے۔ بلکہ صرف مخالف نہ رہے اس کے خلاف کمر بستہ رہے۔ ان کے اعتقادات مغربی اور افعال لادینی تھے۔
اسی سب کا ایک مظہر مشرقی پاکستان تھا۔ پاکستان میں شامل ہونے والے ’عوام‘ نے رنگ و نسل، قوم و قبیلے، زبان و برادری کو نابود کر کے ’دین‘ کی بنیاد پر عمارتِ پاکستان قائم کی تھی۔ اسی واسطے کہا گیا:
اسلام ہی اس ملک کی بنیاد و بقا ہے
بنیاد پہ قائم نہ رہے گا تو فنا ہے
پاکستان کے اولین حکمرانوں سے لے کر ۱۹۷۱ء تک اور ۱۹۷۱ء کے بعد باقی ماندہ پاکستان کے حکمرانوں نے آج تک ایک لمحے کے لیے بھی پاکستان کو اس کی بنیاد پر قائم نہیں رہنے دیا۔ جس کا پہلا بڑا نتیجہ بنگلہ دیش تھا اور درجنوں المیے اور ناسور اس بنیاد سے ہٹ جانے کے سبب آج تک ہماری روح قبض کر رہے ہیں۔
مغربی پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے بنیادِ دین سے ہٹتے ہوئے لمبے قد، انگریزی بولنے میں مہارت اور گورے رنگ کے سبب بنگالیوں کو ملیچھ سمجھا اور لفظِ بنگالی کو مثلِ گالی قرار دیا۔ ہر ہر ادا اور طور طریقے سے مشرقی پاکستان کے ان مسلمانوں کو اپنے سے کمتر، حقیر اور چھوٹا ثابت کرنے کی کوشش کی۔ دین کے نفاذ سے تو منہ موڑا ہی ، جدید ریاستوں کے بنیادی حقوق سے بھی مشرقی پاکستان کے اہالیان کو محروم رکھا۔
مورخین نے سنہ ۷۰ء میں مشرقی پاکستان کے مسلمانوں کی حالت کی جو تصویر کشی کی ہے تو اس کو پڑھ اور جان کر آج کا ایتھوپیا یا نائیجیریا ذہن میں آ جاتا ہے، جہاں ہڈی پر کالی کھال کے سوا انسانوں کی کوئی اور تصویر نہیں۔
فوج، سول بیوروکریسی، سرکاری ٹینڈر، صنعتی اداروں کو ملنے والی مراعات…… ہر ہر شعبے میں مغربی پاکستان سے آئے افسر صدر کرسیوں پر براجمان تھے۔ دین کا عدمِ نفاذ اور پھر دین پر عمل نہ ہونے کے سبب محرومیاں، وہ مسائل تھے جن کو استعمال ’بھارت‘ نے کیا۔ اور بھارت کی سازش کا مقابلہ کرنے کی خاطر البدر اور الشمس میدان میں اتریں اور ظاہر ہے کسی بھی دینی جماعت کو بھارت کا راستہ روکنے کے لیے اترنا بھی چاہیے تھا،سوال اس اترنے پر نہیں ، سوال اس عمل میں ’پاکستانی فوج ‘ کے ساتھ اتحاد و تعاون پر ہے۔
’پاکستانی فوج‘ کے ساتھ کسی بھی اسلامی جماعت کا اتحاد ، کیوں غلط ہے؟ اس کی چند بنیادی وجوہات ہیں:
پہلی وجہ
فوج کا نظریۂ جنگ اسلامی نہیں تھا اور نہ ہی کسی بھی اسلامی کاز کی خاطر فوج یہ جنگ لڑ رہی تھی۔ فوج کا مسئلہ حدودِ ریاستِ پاکستان کا دفاع بھی نہیں تھا، بلکہ مشرقی پاکستان کے اندر وہ اثاثے موجود تھے جن سے فوج متمتع ہو رہی تھی۔ مشرقی پاکستان دراصل وہ grazing ground تھا جہاں سے چَر کر جانور فربہ ہوا کرتے۔ فوج مشرقی پاکستان میں موجود ’پاکستانیوں‘ کی محافظ بھی نہیں تھی۔ اس زمانے میں فوج چونکہ براہِ راست حاکم بھی تھی، ملک میں مارشل لاء کا نفاذ تھا تو فوج ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی پر مسلط ہو کر صرف وسائل کی لوٹ کھسوٹ کر رہی تھی۔ فوج کامشرقی پاکستان میں جاری ’ آپریشن سرچ لائٹ‘ ، ’جوائے بنگلہ‘ کے مقابلے میں ’جیوے پاکستان‘ کا مشن لیے ہوئے تھا، ایسا پاکستان جس کا حاکم یحییٰ خان تھا۔
بریگیڈئیر صدیق سالک کی کتاب ’میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا‘ کے مطابق، ’’سنہ ۷۰ء کے انتخابات کے بعد، ڈھاکہ میں یحییٰ خان نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا ، ’جب وہ (شیخ مجیب الرحمان) ملک کی باگ ڈور سنبھالیں گے تو میں یہاں نہیں ہوں گا‘۔ بعد ازاں بنگالی اخبار نویسوں نے کہا کہ صدر کے بیان میں کلیدی جملہ ’…… تو میں یہاں نہیں ہوں گا‘ تھا‘‘۔ یحییٰ خان تو جنوری ۱۹۷۱ء میں ہی اس ملک کو دو لخت کر چکا تھا اور اس کا نظریہ کوئی اسلامی تو دور کی بات ہے، وطنی اور قومی بھی نہیں تھا۔ یحییٰ خان کا بھٹو یا مجیب کی طرف جھکاؤ یا دونوں کا اتحاد، دونوں صورتوں میں مطمحِ نظر اپنے اقتدار کا دوام تھا۔
مکتی باہنی سے فوج کی وجہِ دشمنی ان کا سیکولر اور لا دین ہونا نہیں تھا، بلکہ فوج خود سیکولر تھی، لا دینی اس کے انگ انگ میں بسی ہوئی تھی۔ فوجی ہر بنگالی کی جان، عزت و عصمت اور مال کو اپنے لیے حلال بلکہ اپنا حقِ محض سمجھتے تھے۔ بریگیڈئیر اے آر صدیقی نے اپنی کتاب ’ East Pakistan the Endgame, An Onlooker’s Journal 1969-1971‘ میں لکھا ہے کہ’’جنرل نیازی فوجیوں کے عورتوں كو بے حرمت کرنے کا دفاع کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ’آپ کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ ایک فوجی مشرقی پاکستان میں رہے، لڑے اور مارا جائے اور جنسی عمل جہلم جا کر کرے؟!‘۔ جنرل اے اے کے نیازی جوانوں کی غیر انسانی اور بہیمانہ حرکتوں کی حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے اور اپنی آنکھوں میں شیطانی چمک کے ساتھ فوجی جوانوں سے پوچھا کرتے تھے کہ ’شیرا! کل رات تیرا سکور (score) کتنا رہا؟‘۔یہاں سکور سے مراد جنسی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے والی عورتوں کی تعداد ہوتی تھی! ‘‘۔
سو فوج کا نظریۂ جنگ نفس کی تسکین اور شیطانی خواہشات کی تکمیل تھا۔ نظریہ شہوت پرستی تھا، جس میں بدکاریاں بھی داخل تھیں اور مال و اسباب کی لوٹ کھسوٹ اور اپنے ہی ملک کے ’تیسرے درجے کے شہریوں‘ پر فرعونی حکومت کا نشہ بھی۔
جب کہ البدر و الشمس، پاکستان کو اسلام کے ایک قلعے کے طور پر سامنے رکھتے ہوئے، استحکامِ پاکستان کی جنگ لڑ رہی تھیں۔
دوسری وجہ
ہندوستانی سازشوں اور ہندوستان کے خلاف جنگ تو بجا ہے، لیکن ہندوستان کے خلاف لڑنے والی فوج خود بھی فسادی ہے۔ ہندوستان اگر حد سے تجاوز کر رہا ہے اور ظلم کر رہا ہے تو فوج کے اپنے اعترافات کے مطابق انہوں نے چھبیس ہزار عام بنگالیوں کو مارچ ۱۹۷۱ء سے دسمبر ۱۹۷۱ء تک قتل کیا اور بیس ہزار مسلمان بنگالی عورتوں کی عصمت ریزی کی1۔ اس زمانے میں فوجی افسروں نے خود کروڑوں روپے ملک کے نیشنل بینک سے لوٹے۔
یہ کیسے ممکن ہے کہ دو متضاد نظریات یعنی اسلام اور شہوتِ نفسانی و حکمرانی کا عقیدہ ، متحد ہو جائیں؟
تیسری وجہ
ایک دینی جماعت کے ایک صوبائی امیر نے ابھی کچھ عرصہ قبل کہا کہ اگر ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کیا تو ہم ایک بار پھر البدر اور الشمس بنائیں گے اور فوج کا ساتھ دیں گے۔ ہندوستان سے لڑنا تو جائز ہے ، بلکہ مطلوب ہے، فرض ہے لیکن ہندوستان سے لڑنے کے لیے یہ بات کہاں لازم آتی ہے کہ ہندوستان سے سیاہ رُو فوج لڑے گی اور ہم نے اس کا ساتھ لازمی دینا ہے!!
یہ بات تو درست ہے کہ جس زمین پر اہلِ دین نفاذِ شریعت اور اقامتِ دین کی جنگ لڑ رہے ہیں، اسی زمین یعنی پاکستان پر فوج بھی موجود ہے، لیکن نظریات اور تصورات کے مابین بعد المشرقین واقع ہے، بلکہ جنت اور جہنم، آگ اور پانی جیسا فرق پایا جاتا ہے۔
اسلامی پاکستان کے استحکام کا مطلب فوج کا استحکام نہیں!
پاکستان اور پاکستان کی فوج پانی کے جوہری فارمولے کی طرح لازم و ملزوم نہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ہائیڈروجن کے ساتھ جب تک آکسیجن جمع نہ ہو تو پانی بن نہیں سکتا۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے بعض اہلِ دین نے فوج کو پاکستان اور پاکستان کو اسلام قرار دیتے ہوئے، بقائے اسلام کو بقائے فوج سمجھ لیا ہے۔ اسی لیے فوج اور فوج ہی کی وضع کردہ ریاستی پالیسیوں کا دفاع بلکہ ان کی حفاظت کے لیے اقدام کو ان جماعتوں نے اپنا فرضِ منصبی بنا لیا ہے۔ یوں یہ جماعتیں فوج کے ہر سیاہ و سفید میں سہولت کار ہی نہیں شریکِ کار بھی بن جاتی ہیں۔
مذکورہ دینی جماعت کے ایک مرکزی رہنما نے ایک بار جہادِ کشمیر کے ذکر پر مبنی ایک مجلس میں کہا کہ ’ایسا نہیں ہے کہ ہم فوج کے ماتحت ہو کر جہادِ کشمیر یا تحریکِ کشمیر کو چلا رہے ہیں بلکہ معاملہ یہ ہے کہ آئی ایس آئی کے بھی کچھ مفادات ہیں اور ہمارے (تحریکِ کشمیر کے) بھی…… یوں ہمارے اور آئی ایس آئی کے بعض مفادات ایک ہو جاتے ہیں اور ہم مل کر کام کر لیتے ہیں‘۔ ایسی بات کرنا سوائے سادگی کے کچھ نہیں کہ اس فوج کی ستّر سالہ تاریخ اور اس سے بھی پہلے اس فوج کی اصل تاسیس یعنی ایسٹ انڈیا کمپنی کے چوکیداروں اور پھر رائل انڈین آرمی کا حصہ ہونے کی تاریخ اس پر گواہ ہے کہ اس فوج نے ہمیشہ اہلِ دین کو دھوکہ دیا ہے اورانہیں صرف اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے۔ ہماری دینی جماعتیں ایسا موقع یقیناً استعمال کرتی ہیں جب فوج اور ان کے مفاد ایک ہوجاتے ہیں ، مگر کیا یہ جماعتیں اُس وقت کے لیے بھی کوئی پروگرام رکھتی تھیں یا آج رکھتی ہیں جب فوج کے مفاد اور ان کی (اسلامی )ذمہ داریوں کےبیچ ٹکراؤ آجائے ؟ آج فوج تو اپنامفاد پورا کرہی رہی ہے ، کیا یہ جماعتیں بھی اپنے فرائض ادا کررہی ہیں؟
سقوطِ ڈھاکہ کا آپ جائزہ لیجیے ، بھارت کے خلاف جنگ یقیناً جہاد تھا ، مگر اس جہاد میں زمامِ کار کیا خود اس دینی جماعت کے ہاتھ میں تھی، یا یہ اس نے خود اپنے اختیار سے اس ’اتحادی ‘ فوج کے حوالے کر رکھی تھی؟ اتحاد و تعاون ہوتا رہتا ہے اور واضح کافروں تک کے ساتھ بھی ایک بڑے کا فر کے خلاف اتحاد کیا جاسکتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود تک کے ساتھ معاہدے کیے ۔ مگر ان معاہدوں اور اتحاد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہود کی پالیسی کے تابع نہیں ، بلکہ یہود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمتِ عملی کے تابع تھے اور معاہدے و اتحاد کا فائدہ اسلام اور اہلِ اسلام کے حق میں نکلتا تھا۔ایسا نہیں تھا کہ اہلِ اسلام تونعوذ باللہ محروم کے محروم رہتے مگر یہود دونوں ہاتھوں سے مفاد لُوٹتے۔
مشرقی پاکستان میں البدر و الشمس اور فوج کے بیچ اتحاد کی کیا صورت تھی؟ یہاں کس کا ہاتھ بھاری تھا؟ البدر و الشمس کا یا فوج کا ؟ کس کی پالیسی اور کس کا حکم فیصلہ کُن تھا؟ کون تھا کہ اگر وہ کہتا کہ جنگ ہو تو جنگ ہوتی اور اگروہ اسلحہ رکھتا ، تو البدر و الشمس بے دست وپا ہوجاتے اور ہندو فوج کو فتح ملتی؟ یہ حیثیت ہر لحاظ سے اُس پاکستانی فوج کو حاصل تھی جس کی اخلاقی ، دینی اور نظریاتی حالت بیان ہوبھی چکی اور کچھ آگے بھی ہو گی۔ اُس فوج کی پالیسیاں یہاں حاکم تھیں جو کسی طور پر بھی ہندو فوج سے بہتر نہیں تھی ، بلکہ کئی پہلوؤں سے تو ہندوؤں سے بھی وہ بدتر تھی۔ ایسے میں ایک دینی جماعت کا ایسی ’قوت ‘ کی ماتحتی قبول کرنا اور اپنی دعوت و قتال، حال و مستقبل سب کچھ اس کے ہاتھ میں دے دینا کیسے اسلام و اہل اسلام کے حق میں بہترہوسکتا تھا؟
آج جہاد کشمیر کے تناظر میں دیکھیے……دینی جماعتوں کا آج کیا فرض ہے؟ کیا پاکستانی فوج اس فرض میں معاون ہے یا رکاوٹ؟ آج اہل دین کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیری مسلمانوں کی مدد کریں اور جس طرح بیس سال پہلے ان کے مجاہدین بارڈر پار کرتے تھے ، آج بھی وہ مسلمان ماؤں بہنوں کی مدد کے لیے جائیں ۔ مگر آج راستے میں کون رکاوٹ ہے؟ کس کے مفاد حائل ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ بیس سال پہلے اپنے کارکنوں کو کشمیر بھیجنا شرعی فرض تھا اور آج جبکہ کشمیریوں کو پہلے سے زیادہ ہماری ضرورت ہے تو ہم نہیں جارہے اس لیے کہ آج ریاست 2کی پالیسی مختلف ہے!!! اس ’’ریاست ‘‘ کی پالیسی ۷۱ ء میں ہمیں ساتھ ملا کر ہم سے کام نکلوانا تھا ، ہم ساتھ ہوگئے ، پھر اس نے اسلحہ رکھا اور ہم سے مشورہ تک نہیں کیا ، تو ہم بیچ جنگ میں اکیلے رہ گئے اور آج تک ہم ڈھاکہ میں پھانسیوں پر چڑھ رہے ہیں ، پھر فوج کی پالیسی تھی کہ مقبوضہ کشمیر میں اپنے مجاہدین بھجوائیں تو ہم بھیجنے لگے اور یہ ہمارا جہاد تھا ۔ وقت بدل گیا اور اب اس ریاست کی پالیسی ہے کہ کشمیر میں کوئی مجاہد قدم نہ رکھے تو ہم نے بھی اپنا سب کچھ لپیٹ لیا ۔ اور شاید آئندہ کل کا منظرنامہ پھر یہی ہو کہ ’مجاہدینِ غزوۂ ہند‘ کو کشمیر و ہند میں اترتا دیکھ کر یہ فوج پھر اس جہاد میں اترنا چاہے، ایسے میں ہم کیا لائحہ رکھتے ہیں؟ اس سارے قصے میں کیا ہماری بھی کوئی پالیسی ہے یا نہیں ؟ کیا ہم سے بھی یہ دین کوئی مطالبہ کررہا ہےیانہیں؟ یا یہ کہ بس جو فوج کہے ، اتفاق سے وہی اسلام کا بھی تقاضہ ہوتا ہے ؟ اسی دینی جماعت کے ایک مرکزی ذمہ دار سے جب آج ایک انٹرویو میں سلیم صافی نے جہادِ کشمیر سے متعلق پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ ’یہ تو خود ریاست کی پالیسی ہے اور ہزار ہا علما نے اس پر (پیغامِ پاکستان) دستخط کیا ہے کہ جنگ ریاست کرے گی، جنگ حکومت کرے گی ……‘۔
جب مزید پوچھا گیا کہ ’اسّی لاکھ کشمیری مسلمانوں کے لیے کیا آپ نے کوئی اقدام اٹھایا ہے؟‘، تو جواباً بولے ’میں نے کوئی initiative نہیں لیا ہے…… ‘۔ سلیم صافی بولا ’حکومت تو کبھی نہیں (initiative) لے گی تو بس کشمیریوں کی یہی حالت رہے گی؟ اگر کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے تو اپنی شہ رگ کی آزادی کے لیے پاکستان کو جنگ نہیں کرنی چاہیے؟ ‘، اس پر گویا ہوئے کہ’میں نے حکومت کو تجاویز دی ہیں …… خود مقبوضہ کشمیر کے نوجوان اس کے لیے تیار ہیں کہ وہاں انڈین آرمی کا مقابلہ کریں اور وہ مقابلہ کر رہے تھے، وہاں ایک زبردست لڑائی تھی گلی گلی کوچے کوچے میں؛ لیکن ہمارے نظام نے اس ساری لڑائی کو لپیٹ دیا اور اس کو فریز (freeze) کیا اور انڈین اتنے دلیر ہو گئے کہ انہوں نے کشمیر کو انڈین یونین کا حصہ بنایا‘۔گویا جس طرح البدر و الشمس کے ساتھ کیا گیا تھا ، وہی کچھ آج کشمیر کے ساتھ کیا جانا قبول کیا جا رہا ہے اور افسوس کہ سب کردار وہی ہیں ، بس ایک کشمیری قوم کا نام مختلف ہے؛ پاکستانی فوج وہی ، مقابلہ پر ہندو فوج وہی ، دینی جماعت بھی وہی! بس بنگالی مسلمانوں کی جگہ کشمیری مسلمان ہیں۔
البدر و الشمس نے فوج کو کیا فائدہ دیا؟
البدرو الشمس کا نظریہ جو بھی ہو…… ان کے اعمال و افعال کیا تھے؟ یہ بات یقینی ہے کہ دینی تحریک کے کارکنان پر لگائے جانے والے ناحق قتل اور عصمت ریزیوں کے الزامات سراسر جھوٹ اور بہتان ہیں لیکن البد ر و الشمس نے درجِ ذیل جرائم میں یا تو حصہ لیا یا ان کے فوج میں پائے جانے کے باوجود فوج کا ساتھ دیا:
فوجی ظلم کے خلاف اٹھنے والے بنگالیوں کی تحریک کے خلاف بطورِ مخبر فوج کے ساتھی بنے رہے۔ مکتی باہنی کوئی اسلامی تحریک نہ تھی، نہ اس کے نظریات اور ایجنڈے کی ہم حمایت کر رہے ہیں، بلکہ اس کی مثال آج کی بلوچ انسرجنسی اور پشتون تحفظ موومنٹ جیسی تحریکات ہیں۔ ان تحریکات کے شعائر اور ایجنڈوں میں یقیناً فساد ہے لیکن جس بنیاد پر یہ فوج کے خلاف اٹھی ہیں وہ سراسر درست ہے اور وہ بنیاد ہے فوج کا ظلم، بربریت اور جابرانہ اندازِ حکمرانی۔ مکتی باہنی بھی ظالم تھی لیکن ظالم کے خلاف اس سے بڑے ظالم (فوج) کا ساتھ دینا سراسر ناانصافی اور ظلم کی بات ہے!
اپنے اعترافات کے مطابق چھبیس ہزار عام بنگالیوں کا قتل، جبکہ دیگر ذرائع اس تعداد کو تین لاکھ بتاتے ہیں۔ اس قتلِ عام پر مجرمانہ خاموشی ہی جرم نہیں بلکہ اس کے باوجود ساتھ دینا اصل جرم ہے۔
اپنے اعترافات کے مطابق بیس ہزار مسلمان بنگالی عورتوں کی عصمت دری جبکہ ایک آسٹریلوی ڈاکٹر کے مطابق چار لاکھ عورتوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ ان چار لاکھ حادثات میں ایک لاکھ ستر ہزار عورتوں نے اسقاطِ حمل کروایا، جبکہ پانچ ہزار عورتوں نے اسقاطِ حمل خود سے کیا۔ سنہ ۱۹۷۲ء کے پہلے تین ماہ میں ان زیادتیوں کے نتیجے میں تیس ہزار ناجائز بچے (war babies)پیدا ہوئے ۔ کتنے ہی بچوں کا ماؤں نے جننے کے بعد خود قتل کر دیا یا پھر زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد ان عورتوں نے اپنی جان لے لی3۔ دیگر سب جرائم اور قتل ایک طرف لیکن عصمت دری وہ جرم ہے جس پر انسان سب سے زیادہ غیرت کھاتا ہے اور یہ بدترین قبیح جرائم میں سے ہے اور اس جرم کے مشرقی پاکستان میں سر زد ہونے کی شرح اتنی زیادہ ہے کہ یہ بات نا ممکن ہے کہ مشرقی پاکستان کے اندر رہتے ہوئے کسی کو اس کا علم نہ ہو۔
آج جب البدر و الشمس کا ذکر کیا جاتا ہے جبکہ فوج کے مظالم جو نہ جاننا چاہے وہ بھی جانتا ہے، پھر اس پر مستزاد یہ کہ یہ بھی کہا جائے کہ ہم پھر فوج ہی کی حمایت میں البدر و الشمس ایک بار پھر بنائیں گے یا یہ کہ ’فوجی وردی کی تقدیس ایسی ہے جیسی کہ جائے نماز کی ہوتی ہے‘ تو یہ ظلم اور نا انصافی کی بات ہے جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ہم فوج کے ۷۱ء میں کیے جرائم میں شریک تھے اور آئندہ بھی شریک رہیں گے۔ پھر آج جبکہ فوج کھلم کھلا ۷۱ء جیسے جرائم ایک بار پھر صرف کر ہی نہیں رہی بلکہ ان جرائم پر سینہ زوری بھی کرتی ہے اور پھر کھلم کھلا ’وار آن ٹیرر‘ نامی ’وار آن اسلام‘ میں امریکہ کی فرنٹ لائن اتحادی ہے ، ایسے میں اس فوج کی حمایت اور اپنی تاریخ میں سرزد ہوئی غلطی کا ادراک نہ کرنا جماعتوں کی نظریاتی موت کے مترادف ہے، ان جماعتوں کی نظریاتی موت جن کا دعویٰ اقامتِ دین ہے۔
البدر اور الشمس کے تحت سرزد ہوئی غلطیوں اور فوج کے جرائم کے باوجود اس کا ساتھ دینا اور اسی پر صرف مجرمانہ خاموشی نہیں بلکہ مجرمانہ ساتھ دینا دنیا و آخرت میں خسارے کا سبب نہ بن جائے۔ کل تک اگر مکتی باہنی کا جھانسا دے کر اس فوج نے استعمال کیا اور آج اگر یہ جماعتیں ’تجاہلِ عارفانہ‘ برتتے ہوئے فوج کا ساتھ دینے اور پھر سے مثلِ ’البدرِ بنگال‘ بنانے کی سوچ میں ہیں تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ اس فوج نے لال مسجد میں خون کی ہولی کھیلی ہے، بوٹوں تلے قرآنِ مجید کو روندا ہے، یہ فوج فخر کے ساتھ گوانتانامو آباد کرنے، چھ سو عرب مجاہدین (مکتی باہنی یا بلوچ علیحدگی پسند نہیں) کو امریکہ کو بیچنے کا اعلان سینہ ٹھونک کر کرتی ہے۔ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ بنگال کے بعد ان ’بانکے سپاہیوں‘ نے مہران سے بولان اور پنجاب سے خیبر تک ہزاروں داڑھیوں والوں، علمِ دین کے حاملین اور قرآنِ مجید کے حافظین کو کیوں قتل کر کر کے سڑک کنارے پھینکا ہے؟!
فوج نے البدر و الشمس کو کیا دیا؟
فوج نے البدر و الشمس کے ساتھ غداری کی، ان کو لڑوایا، ان کو مروایا، ان کو مکتی باہنی کے ٹارچر سیلوں میں تڑپتا چھوڑا۔ آج بھی مکتی باہنی کے غنڈوں کی وہ تصاویر موجود ہیں، جن میں سنگینوں سے مکتی باہنی کے غنڈے البدر و الشمس کے کارکنوں کو مار رہے۔ البدر و الشمس کے کارکنوں کی اجتماعی قبریں موجود ہیں۔
فوج نے اپنی کھال بچانے کے لیے پندرہ ہزار کے قریب البدر و الشمس کے نوجوانوں کو بھی بھارت کی قید میں ڈلوا دیا۔
کارگل میں بھی البدر و الشمس کے کارکنوں کی مثل، مجاہدینِ کشمیر کو اگلے محاذ پر لڑوایا اور جنگ نے ذرا سی شدت اختیار کی تو اس فوج اور خفیہ ایجنسیوں نے اپنے ’بہادر‘ بھگوڑے کمانڈو پرویز مشرف کے ذریعے نواز شریف کو کہلوایا اور اس نے کلنٹن کی واشنگٹن میں جا کر منتیں کیں اور جنگ بندی کروائی۔ یہاں بھی مجاہدین کو آگے کیا اور اپنے فوجیوں کو بچا لائے۔
جہادِ کشمیر سے وابستہ جہادی تنظیموں کے ساتھ بھی البدر و الشمس جیسا سلوک ہی کیا گیا، نوّے کی دہائی کے شروع میں جن تنظیموں کو اٹھایا گیا، امریکی اشارہ اور پھر امریکی بارگاہ میں (بعد از نائن الیون)فوج کے سجدے کے بعد، ان مجاہدین کو abandon کیا گیا۔ جنرل کیانی جو ۲۰۰۱ء میں ڈی جی ایم او (Director General Military Operations) تھا، ۲۰۰۴ء میں ڈی جی آئی ایس آئی، پھر اکتوبر ۲۰۰۷ء میں وائس چیف آف آرمی سٹاف اور پھر نومبر ۲۰۰۷ء تا نومبر ۲۰۱۳ءبطورِ فور سٹار جنرل چیف آف آرمی سٹاف (چھ سال کے لیے) رہا، فوجی افسروں کی ایک نجی محفل میں کہتا ہے (اور یہ باتیں ویڈیو ریکارڈنگ کی صورت میں محفوظ ہیں) کہ ’’نائن الیون کے واقعے نے مکمل طور پر کئی پیمانوں (equations ) کویا تو بدل دیا ہے یا انہیں دوسری شکل دے دی ہے۔ہم نائن الیون سے قبل اور اس کے بعد کے معاملات کو پرکھنے کے لیے ایک ہی انداز کا فہم نہیں رکھ سکتے۔ جسے نائن الیون سے پہلے ’’جد و جہدِ آزادی‘‘ کہتے تھے، نائن الیون کے بعد اسے کچھ اور کہتے ہیں (دہشت گردی)! ہم اب بھی یہی سمجھتے ہیں کہ کشمیر میں جاری جدو جہدِ آزادی…… آزادی کی جد و جہد ہے۔ لیکن اگر آپ کو کسی کی حمایت حاصل نہ ہو تو آپ کو حالات کے مطابق بدلنا (موافق ہونا )پڑتا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی جھجک نہیں ہے کہ ہم نے کشمیر کی جد و جہدِ آزادی کو Abandon (ترک) کیا ہے کیونکہ یہ ہمارے ’قومی مفاد‘ میں ہے!‘‘ ۔
سرکردہ کشمیری جہادی تنظیم ’حزب المجاہدین‘ کے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین صاحب نے ، اس وقت کے امیرِ جماعتِ اسلامی قاضی حسین احمدصاحب کے اصرار پر جماعتِ اسلامی کے ایک اجتماعِ عام میں شرکت کی اور تقریر بھی کی۔ اس زمانے میں جنرل کیانی ’صاحبِ اقتدار ‘تھا اور فوج و آئی ایس آئی نے سید صلاح الدین صاحب کے پاکستان میں کسی بھی عوامی اجتماع میں شامل ہونے اور تقریر کرنے پر ’ہندوستانی پریشر‘ کے سبب پابندی لگا رکھی تھی۔ سید صلاح الدین صاحب نے جب تقریر کر دی تو جنرل کیانی نے انہیں summon(طلب) کیا اور ان سے کہا ’پیر صاحب! آپ پر تو ہم نے کسی قسم کے اجتماعات میں شمولیت اور تقریروں پر پابندی لگائی ہے تو آپ نے ایسا کیوں کیا؟‘، جواباً انہوں نے کہا کہ ’قاضی (حسین احمد) صاحب میرے لیے محترم ہیں، انہوں نے مجھے کہا تو میں انکار نہیں کر سکا‘۔ یہ سن کر کیانی نے کہا ’پیر صاحب! ہندوستان حافظ سعید اور آپ کو ہم سے مانگتا ہے…… آپ کو یاد رکھنا چاہیےکہ حافظ سعید پاکستانی ہیں جبکہ آپ انڈین سٹیزن ہیں!‘۔ پیر صاحب اور آج کی البدر و الشمس کے لیے جنرل کیانی کی بات میں واضح اشارہ ہے۔
البدر و الشمس کے وارثین سے سوال
البدر و الشمس کا مقصدِ تاسیس کیا تھا؟ اگر تو محض کسی ٹکڑا ہائے زمین کی جنگ البدر و الشمس لڑ رہی تھیں تو ایسی ’فریڈم موومنٹس‘ تو دنیا میں کئی جگہوں پر پائی جاتی ہیں اور صرف ٹکڑائے زمین کی بات ہی ہو تو مکتی باہنی جو بنگالی تھے ان کا سرزمینِ بنگال پر مغربی پاکستان والوں سے زیادہ حق تھا اور ان کی لڑائی زیادہ صائب بھی؟!
لیکن اگر مقابلہ اسلام کی خاطر کیا گیا، اسلام کے قلعے کی حفاظت کے لیے کیا گیا تو یہ کیوں نہیں دیکھا گیا کہ اس ’اسلام کے قلعے‘ کے حاکموں اور ’محافظوں‘ (جو گھر کے بھیدی ہیں)کا اسلام سے کوئی لینا دینا نہیں؟ بلکہ ان ’محافظوں‘ کا اسلام تو چھوڑیے، اس ملک سے بھی کوئی واسطہ نہیں، تبھی تو نوّے ہزار کی تعداد میں ہونے کے باوجود انہوں نے ہندوستانی فوج کے سکھ جرنیل کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور ایک لاکھ پچاس ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ ہندوستان کے سپرد کر دیا ۔ مغربی پاکستان میں پندرہ ہزار مربع کلومیٹر کا رقبہ، ۷۱ء میں ہونے والی صرف ۱۳ روزہ جنگ میں ہندوستان نے قبضہ کر لیا۔
یوں تو جو کلمہ گو دِلّی میں رہتے ہیں اور اپنے وطن ’بھارت ماتا‘ کی حفاظت میں جیتے ہیں، زمین کے ٹکڑے کے دفاع میں ان کا پاکستان سے لڑنا بھی عین برحق ہے اور کشمیری مجاہدین جو ہندوستان کا کشمیر پر تسلط ماننے سے انکاری ہیں ان کے خلاف انڈین آرمی اور پولیس کا حصہ بن کر ’قتال‘ بھی عین بجا ہے۔
بالفرض اگر تو یہ مقابلہ و مقاتلہ ٹکڑا ہائے زمین کی خاطر تھا تب تو قصہ ہی ختم ہوا، نہ بحث ہے اور نہ ہی کوئی سمجھنے کی بات…… لیکن ہم جانتے ہیں کہ البدر و الشمس کے نوجوانوں کو جب مکتی باہنی کے غنڈے پکڑتے اور انہیں کہتے کہ تم نعرہ لگاؤ ’جوائے بنگلہ‘ تو وہ مکہ کی تپتی ریت پر تڑپتے بلالِ حبشیؓ کا تصور ذہن میں لاتے اور جواباً کہتے ’اللہ اکبر!‘۔ جب نظریہ یہ تھا تو سوال یہ ہے کہ کس نظریاتی و اعتقادی بنیاد پر دین دشمن اور وطن فروش فوج سے اتحاد کیا گیا؟
پھر مسئلہ یہاں بھی ختم نہیں ہوتا۔ اگر یہ تحریکیں اور جماعتیں نظریاتی ہیں تو آج اسی ظالم و جابر اور لادین و بے دین فوج کے ساتھ کیوں کھڑی ہیں، وہ فوج جو اس وقت بھی کشمیر کا سودا کرنے میں مصروف ہے اور نفاذِ دین کے لیے آواز اٹھانے والی ہر کوشش کو جبر کے ساتھ، فوجی بوٹوں کے آہنی تلووں تلے روندنے کے درپے ہے۔ اگر دس ہزار عاشقینِ ختمِ نبوت، ممتاز قادری کے قاتلوں، لال مسجد پر فاسفورس پھینکنے والوں، ہزاروں اسلام پسند قبائلیوں کی قاتل ، وار آن ٹیرر میں امریکہ کی فرنٹ لائن اتحادی فوج کے خلاف اٹھ نہیں سکتے تو پھر اس دین و وطن فروش بلکہ دین و وطن کُش فوج کی حمایت اور پھر سے البدرِ بنگال کی مثل تنظیمیں بنانے کے نعرے چہ معنیٰ دارد؟
ہم جب البدر والشمس کی بات کرتے ہیں، تو ان کے مؤسسین اور بڑوں کی نیت پر ہرگز شک نہیں کرتے۔ بلکہ ہمیں تو ان پر حیرت ہے جو نہ ماضی کو سمجھنے پر رضا مند ہیں، نہ جنابِ خرم مرادؒ کی بات ہی کو ماننے کو تیار ہیں، بلکہ خرم صاحب کی بات کے بعد تین دہائیوں سے اسی فوج کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ’کشمیر‘ کو تَک رہے ہیں، نہ سید منور حسنؒ صاحب جیسے مردِ درویش کے اسوے سے کوئی سبق سیکھتے ہیں، نہ تاریخ سے کوئی سبق لیتے ہیں اور نہ ہی فوج کے حال سے فوج کے کردار و افکار کو سمجھ رہے ہیں۔
زندگانی جس کو کہتے ہیں فراموشی ہے یہ
خواب ہے، غفلت ہے، سرمستی ہے، بے ہوشی ہے یہ
دینی جماعتوں پر لازم ہے کہ وہ ہندوستان کے خلاف میدان میں اتریں ، اس کے لیے ابھی سے تیاری کریں اور اُس دن کا انتظار نہ کریں کہ کل اگر ہندوستان خدانخواستہ آتا ہے تو پھر ہم اپنے رضا کاروں کو اس کی فوج کے تحت لگاکر فتح کی امید رکھیں ۔ اللہ وہ دن نہ لائے ، مگر ہم نے اگر یہ غلطی دوبارہ کی تو نتیجہ مختلف نہیں نکلے گا ۔ ضروری ہے کہ ہم اہلِ دین اپنے جوانوں کوخالص اسلامی نظریہ دیں ، وہ نظر یہ جو وطنیت و قومیت نہیں بلکہ اسلامیت پر مبنی ہے اور پھر انہیں قتال فی سبیل اللہ کے لیے تیار کریں ، اعداد و قتال کے اس فرض میں ہم تعاون واتحاد کے لیے امت مسلمہ کے مظلوم عوام کی طرف دیکھیں ، اس فوج کی ماتحتی بالکل بھی قبول نہ کریں ، وہ فوج جس کی ماتحتی میں پاکستان دو لخت ہوگیا اور جس کا ساتھ دے کر آج تک ہمارے پیارے پھانسیوں پر لٹک رہے ہیں ، پھانسیوں پر لٹکنا سعادت ہے ، لیکن یہ لٹکنا خالص اسلام کی دعوت کے لیے ہو ……مگر جہاں پھانسی پر چڑھنے کے باوجود بھی نفاذِ دین کی دعوت نظروں سے اوجھل ہو اور ان قربانیوں کو اُس فوج کے دفاع کے کھاتے میں ڈالا جائے جو اسلام کی دشمن ہے تو ایسے میں ہماری روح تک ماتم نہ کرے تو کیا کرے؟ہندوستان ہو یا امریکہ اسلام کے ان دشمنوں کے خلاف جہاد ہمارا فرض ہے پر اس فرض میں کسی دشمنِ شریعت فوج کی ماتحتی ہم قبول نہیں کریں گے ، یہ ہمارا عزم اگر ہوا ، تو اللہ کے اذن سے پورے برصغیر کا نقشہ تبدیل ہوگا اور یہ پس قدمی ، پیش قدمی میں بدل جائے گی!
؏یہ دیس جگمگائے گا، نورِ لاالٰہ سے!
٭٭٭٭٭
1 بمطابق حمود الرحمان کمیشن رپورٹ۔ بنگلہ دیشی ذرائع یہ تعداد دس گنا زیادہ بتاتے ہیں، لیکن دیگر آزاد ذرائع کے مطابق یہ تعداد تین لاکھ کے قریب ہے۔
2 جو پاکستان میں دراصل فوج کا دوسرا نام ہے۔
3 بحوالہ کتاب: Against Our Will: Men, Women and Rape از Susan Brownmiller



![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



