نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home فکر و منہج

مسلم بربریت کی فرضی داستان

مجاہد فی سبیل اللہ، لیفٹیننٹ جنرل شاہد عزیز شہید ﷬

by لیفٹیننٹ جنرل شاہد عزیز
in فکر و منہج, نومبر و دسمبر 2020
0

لیفٹیننٹ جنرل (ر) شاہد عزیز پاکستان کی ملٹری ایلیٹ میں ایک نمایاں نام ہیں۔ چیف آف جنرل سٹاف اور کور کمانڈر لاہور جیسے عہدوں پر فائز رہنے کے علاوہ ڈائریکٹر جنرل نیب (قومی احتساب بیورو) رہے۔ فوج کو آپ نے قریب سے دیکھا اور اس کو باطل جانا۔ بعد از ریٹائرمنٹ آپ نے اپنے ضمیر کی آواز پر اپنی خود نوشت ’یہ خاموشی کہاں تک‘ لکھی اور اس کے کچھ ہی عرصہ بعد آپ کو القاعدہ برِّ صغیر کے سرکردہ ذمہ دار اور مجلّہ ’نوائے افغان جہاد‘ (’نوائے غزوۂ ہند‘ کا سابقہ نام)کے بانی مدیر حافظ طیب نوازؒ صاحب کے ذریعےبراہ راست حق کی دعوت ملی۔ آپ نے حق کی دعوت کو سمجھا اور اس پر لبیک کہتے ہوئے جہاد سے وابستہ ہو گئے۔ ایمان کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے، بطورِ کفارہ آپ نے بہتر جانا کہ آپ جہاد، خصوصاً عصرِ حاضر میں امریکہ کے خلاف جاری جہاد کے متعلق لکھیں اور دعوتِ جہاد میں اپنا حصہ ڈالیں۔ اس غرض سے آپ نے اپنی دوسری کتاب ’War against Terrorism and the concept of Jihad‘ تصنیف کی۔ آپ کو یقین تھا کہ اس کتاب کو لکھنے کے جرم میں آپ کو گرفتار کر لیا جائے گا، لہٰذا اس کتاب کی تکمیل تک آپ نے اس بات کو صیغۂ راز میں رکھا۔ سنہ ۲۰۱۵ء کے نصفِ آخر میں آپ کی یہ کتاب مکمل ہوئی تو اس کتاب کا ایک نسخہ القاعدہ برِّ صغیر کے مرکزی ذمہ داران تک اس پیغام کے ساتھ پہنچایا کہ ’میں ارضِ جہاد کی طرف ہجرت کرنا چاہتا ہوں ‘،ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’اگریہ کتاب شائع ہو جائے اور پھر میں گرفتار کر لیا جاؤں تو مجھے کچھ غم نہیں!‘ ۔ آپ کی گرفتاری یا شہادت کی صورت میں اس کتاب کے ’مستند‘ ہونے پر کوئی اعتراض نہ کرے تو آپ نے خود ہی اس کا بندو بست بھی فرمایا کہ اسے’بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد‘ کے شعبۂ اسلامیات میں ’ایم اے‘ کی سند کے مقالے کے طور پر جمع کروایا۔لیکن اس سے پہلے کہ آپ میدانِ جہاد میں پہنچتے پاکستان کے خفیہ اداروں نے آپ کو گرفتار کر کے پسِ زنداں ڈالا اور یوں امریکی ’وار آن ٹیرر‘ میں فرنٹ لائن اتحادی اور امریکی وفاداری میں دین تو دین، اپنے ’ادارے کی وفاداری ‘ (Military Comradeship) کو بھی پامال کیا۔ سال ۲۰۱۸ء کے وسط میں آپ کی شہادت کی خبریں منظرِ عام پر آئیں۔ بعض ذرائع نے شہادت کی اطلاعات کی تردید کی، لیکن مجاہدینِ القاعدہ برِّ صغیر کو اپنے ذرائع سے جو خبریں ملیں، ان کے مطابق مجاہد فی سبیل اللہ شاہد عزیز صاحب، شہید ہو چکے ہیں، اللہ پاک آپ سے راضی ہو جائیں اور آپ کو انبیا، صدیقین، شہدا اور صالحین کی معیتِ حسنہ عطا فرمائیں، آمین۔ لیکن (گو کہ اس بات کا امکان بہت کم ہے) اگر آپ بحالتِ گرفتاری حیات بھی ہیں تو ہم دعا گو ہیں کہ اللہ پاک آپ کو ایمان پر استقامت کے ساتھ رہائی عطا فرمائیں۔

زیرِ نظر مضمون شاہد عزیز صاحب شہید رحمۃ اللہ علیہ کی مذکورہ بالا ’انگریزی‘ تصنیف کے زیرِ طبع و ترتیب اردو ترجمے سے لیا گیا ہے۔ اردو ترجمہ ’قاضی ابو احمد‘ نے کیاہے۔ زیرِ نظر منتخب مضمون شاہد عزیز صاحب کی کتاب کا تیسرا باب ہے ۔ (ادارہ)


مغرب اسلام کے تصور کو مسخ کرتا رہا ہے:

کسی بھی سماجی گروہ کو وحشی، حقیر اور خطرناک بنا کر پیش کیے جانے کا نتیجہ اس گروہ کی محکومی اور نسل کشی کی صورت میں نکلتا ہے۔ صلیبی جنگوں سے نوآبادیاتی دور تک اور تب سے اب تک اسلام اور اہل اسلام کے اس مسخ شدہ تصور کا نتیجہ مسلم سرزمینوں پرفوجی یلغاروں اور مسلمانوں کے بڑے پیمانے پر قتل عام کی صورت میں ہی سامنے آیا ہے۔ تاریخ کی روشنی میں ماضی کی طرح آج بھی مسلمانوں کو حقیر، خطرناک اور وحشی دشمن کے طور پر پیش کر کے ان کے قتل عام کا جواز پیش کیا جاسکتا ہے۔

فرانسیسی مصنف (Jean Claude Barreau)جین کلاد برو اپنی کتاب میں لکھتا ہے:

’’مسلمانوں کی فطرت میں یقینی طور پر موجود جس صفت کو ’ رذیل ترین‘ کہاجاسکتا ہے اور اس کی توجیہ ان کے مصادرِ دین سے دی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ (ان کی فطرت) جنگجوانہ، فتوحات کی بھوکی اور کفار کے لیے نفرت سے بھرپور ہے ‘‘۔

اسلام کے بارے میں مغرب نے جو تصور قائم کررکھا ہے، اس کی بنیادی صفات جارحیت، بہیمیت، تعصب، نامعقولیت، قرون وسطیٰ کی پسمانگی اور عورت سے نفرت ہیں۔ ایسپوسیٹو (Esposito) لکھتا ہے کہ ’’متعدد مغربی مبصرین کے مطابق اسلام اور مغرب باہم متصادم ہیں۔ اسلام کا خطرہ تین قسم کا ہے: سیاسی، آبادیاتی اور مذہبی معاشرتی‘‘۔ دیگر اہل نظرمثلاً چارلس کروتھیمر (Charles Krauthammer) نے، سوویت یونین کی ٹوٹ پھوٹ کے دور میں ’بحران کی ایک نئی قوس‘ کے نام سے مسلم دنیا کےقلب اور اس کے محیط میں انقلاب کی خاطر مسلمانوں کے اٹھ کھڑے ہونے اور ایک عالمگیر اسلامی شورش کی پیش گوئی کی۔

مغرب میں عمومی تصور یہ ہے کہ اسلام بنیادی طور پر، نہ صرف اپنے برتاؤ بلکہ اپنی تعلیمات میں بھی عدم برداشت کا دین ہے۔ جے ڈی بَیٹ(J. D. Bate 1836-1923) کا دعویٰ ہے کہ مسلمان فطری طورپر عیسائیت مخالف ہیں اور’’تبدیلیٔ مذہب کے معاملے میں یہودیوں سے بھی زیادہ سخت ہیں۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف یہی بغض ہے جو محمدیت کی طرف لےجاتا ہے، جیسا کہ رومیت جوظلم و جبر کا ایک علیحدہ ذریعہ ہے ۔ یہ مسیح دشمن (دجال) کی حقیقی روح ہے‘‘۔حقیقت یہ ہے کہ زمانۂ قدیم سے آج تک، پورے اسلامی دور میں، خواہ عربوں کے ماتحت یا ترکوں کے، تمام اقلیتوں نے ان بہترین مواقع کے حصول میں آزادی اور مساوات سے بھرپور فائدہ اٹھایا جن کی برابری آج کی کوئی ایک بھی مغربی قوت نہیں کرسکتی۔ اور یہی وجہ ہے کہ یہودیوں نے صلیبی یورپ کی بجائے ترک خلافت کے ماتحت رہنے کو ترجیح دی؛ اور یہی وجہ ہے کہ جب مسلمان اندلس سے نکلے تو یہودیوں نے ان کے ساتھ ہی مغربِ اسلامی کی طرف نکلنا پسند کیا۔

اہل اسلام کے بارے میں نفرت انگیز احساس کئی سالوں میں پروان چڑھایا گیا ہے۔ تمام تر مغربی میڈیا کو، نہ صرف مسلم ممالک بلکہ ان میں بسنے والی تمام مسلم آبادی کی طرف سے درپیش خطرے کی تصویر کشی کے لیے جھونکا گیا ہے۔ اکثر ہی میڈیا بڑے پیمانے پر مشتہر گرفتاریوں اور ’اسلام پسندوں کے دہشت گرد منصوبوں‘ کے افشا کی خبروں سے بھرا نظر آتا ہے۔ شدت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف واویلا کان پھاڑنے والا ہے۔ اور نہایت دکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پوری دنیا میں مسلمان ہمیشہ ہی اپنے آپ کو صفائیاں، معذرتیں اور وضاحتیں پیش کرتے ہی پاتے ہیں۔ کوئی مسلمان حکومت ان کے حق میں آواز اٹھانے کو تیار نہیں ہے۔ ہر مسلمان حکومت حکمرانوں اور اپنی آبادی کے قلیل مگر اعلیٰ ترین (elitist)’روشن خیال‘ طبقے کے شخصی مصالح کی حفاظت پر کمربستہ ہے۔ یہ سب کے سب دہشت گردی کے خلاف اس عالمگیر جنگ میں مغرب کے ساتھ یکجا ہیں ۔

مسلمانوں کے بارے میں قیاس آرائیاں کرنا:

مغربی ذہنوں میں یہ امر مسلّم ہے کہ اسلام اور مسلمان ایک خطرہ ہیں اور یہ کہ اگر پوری دنیا میں کہیں بھی کوئی پرتشدد واقعہ ہوگا تو اس کے ذمہ دار صرف مسلمان ہی ہوں گے ، نیا نہیں ہے ۔ یہ عرصۂ دراز سے قائم اسی رویے کی پیروی کرتا ہے جس کے تحت مسلمانوں کو وبال ظاہر کرکے ان کے بارے میں (منفی) آرا قائم کی جاتی ہیں۔ چنانچہ وِٹکس لکھتا ہے: ’’ مغرب میں، مشرقِ اسلامی کو شیطنت کے روپ میں پیش کرنا قرونِ وسطیٰ کے اوائل سے بیسویں صدی کے اواخر تک کئی صدیوں پر محیط ایک قدیم اور پختہ روایت ہے ۔ یہ مشرقی سلطنتوں کی قدیم نمائندگی کرنے والوں اور اسلام پر لشکرکشی کرنے والے حملہ آور لشکروں، بشمول دنیائے قدیم کے آشوریوں اور فارسیوں کی طرف لوٹتی ہے۔ مغرب کے اجتماعی شعورمیں ثبت ہوئی (جعلی)تاریخی اور کتابی روایات جو بعد ازاں’مقدس جنگ‘ کےتاریخی تجربے سے مزید ٹھوس اور مضبوط ہو گئیں ، وہ ’مقدس جنگ ‘جو ظہور اسلام کے ساتھ شروع ہوئی، صلیبی جنگوں کے دور میں جاری رہی ، اور اندلس کی دوبارہ (عیسائی سلطنت کے طور پر)بحالی اور عثمانی شہنشائیت کے دوران پائیدار رہی۔ مغربی یورپ میں سولہویں اور سترہویں صدی کے دوران جو اسلامی مشرق کا تصور پیدا ہوا، اس کی بنیاد جنگی جارحیت اور ثقافتی مقابلے کی ایک طویل تاریخ تھی‘‘۔

اسلام پر ایک حالیہ کتاب میں ۱۰۹۹ء میں صلیبیوں کے بیت المقدس پر قبضے اور اس کی تمام مسلم اور یہودی آبادی کے قتل کے واقعے کے تناظر میں بات کرتے ہوئے مصنف نے حقائق کے برخلاف یہ لکھا: ’’۱۰۹۹ء میں بیت المقدس پر صلیبیوں کا قبضہ ایک خونیں جھڑپ تھی، جس میں زیادہ تر عیسائی آبادی کو تہ تیغ کیا گیا ‘‘، یہ تبصرہ یقیناً حیران کن ہے۔ امریکی مجلّے ’ٹائم‘ کے مطابق، ’’یہ اسلام کا تاریک پہلو ہے جو تشدد اور دہشت گردی کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے اور جس کا مقصد جدت پسندی اور زیادہ لادین حکومتوں کو زیر کرنا اور ان کی حامی مغربی اقوام کو نقصان پہنچانا ہے ‘‘۔ اسی بنیاد پر یہ تصور پختہ ہوا کہ ’’امن اور سلامتی کے دوام کی خاطر اس عفریت سے نجات حاصل کرنا ضروری ہے‘‘۔

ہپلر اور لئیگ (Hippler and Lueg) لکھتے ہیں کہ کس طرح: ’’ میڈیا کی تقریباً تمام اقسام میں، ’ماہرین‘ ہمیں مشرق کی جانب سے مذہب کی بنیاد پر جنگوں، متشدد ہجوم اور قرون وسطی ٰکے جدیدیت سے اور مذہب کے روشن خیالی سے انتقام کے نئے خطرات سے آگاہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اسلام کبھی دعوت بجنگ (چیلنج) ہے تو کبھی خطرہ۔ ترکوں کے ہاتھوں ویانا بظاہر ایک بار پھر فتح ہوا ہی چاہتا ہے۔ خمینی، قذافی، صدام حسین، عرفات اور الجزائری بنیاد پرستوں کی معیت میں مغربیت مخالف لہر آگے بڑھ رہی ہے جو بہرحال مشہور مجلّوں اور پردۂ سکرین کی زینت بن رہی ہے۔ ممکن ہے کہ یہ خطرہ روحانی ہو، مغربی تہذیب کے مقابل مشرقی نمونہ؛ اس کا نتیجہ فراہمیٔ تیل کی روک تھام یا ترکی سے مغربِ اسلامی تک مہاجرین کی ثقافتی یلغار کی صورت میں بھی سامنے آسکتا ہے۔ یہ اسلامی ایٹم بم ، دہشت گردی یا ایرانی سانچے میں ڈھلے ایک متوقع اسلامی بنیاد پرست عالمی انقلاب میں بھی پنہاں ہوسکتا ہے۔ ممکن ہے کہ عام ذہن اسے اسلام اور عیسائیت یا ’کفار‘ کے خلاف ایک جنگ کے طور پر دیکھے۔ یورپ اور امریکہ میں خطرات کی ان تمام انواع کا ادراک ہے ، کبھی اکٹھے اورکبھی جداگانہ۔ بعض اوقات یہ خطرات اچانک نمودار ہوجاتے ہیں اور ایک دوسرے سے مسابقت کرتے ہیں، اور بعض دیگر اوقات میں یہ منظم اور مرکب ہوتے ہیں…… اس سب کا انحصار کسی خاص صورت حال میں ضرورت یا چاہت پر ہے‘‘۔

ٹی وی چینلوں اور انٹرنیٹ پر پھیلی فلموں میں دکھائے جانے والے ’دہشت گردوں‘ کے تمام وحشی افعال کے بارے میں ایک سوال ذہن میں اٹھ سکتا ہے۔ ایک پہلو تو یہ ہے کہ ہمیں تصویر کا صرف ایک رخ دکھایا جاتا ہے؛ ہم ’ برائی‘ کے خلاف کھڑے ہونے کا دعویٰ کرنے والوں کے اعمال کی بجائے محض (ان اعمال پر رونما ہونے والا) رد عمل دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ جب آپ آبادی کے ایک حصے کو کٹھور بنا دیتے ہیں، ان کے گھروں کو جلاتے، ان کی عورتوں اور بچوں کو قتل کرتےہیں تو موقع ملنے پر وہ اپنے انتقام میں شدید تر ہوجاتے ہیں؛ آپ ان سے مہذب رویے کی توقع نہیں رکھ سکتے۔ اکثر اوقات ان واقعات میں سے بیشتر ریاستی اداروں کی کارستانی ہوتے ہیں۔ الجزائری لکھتا ہے کہ ’’مصنوعی اسلامی دہشت گرد گروہ تخلیق کیے جاتے ہیں۔ یہ گروہ غیض و غضب پیدا کرتے ہیں، جو دہشت گردی کے عملی مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ’دہشت گردی مخالف اقدامات‘ کا جواز بھی پیدا کرتا ہے۔ ’دہشت اور خلاف دہشت‘ کے چکر میں مسلمان اشرافیہ کو بالطبع علیحدہ کردیا جاتا ہے؛ اس اشرافیہ میں موجود ذی ہوش اور نمایاں دینی مقام رکھنے والے افراد کو ’دہشت گردوں‘ (جو ان پر معتدل اور غدار ہونے کا الزام لگاتے ہیں) کے ہاتھوں قتل کرادیا جاتا ہے، جبکہ سرگرم نوجوان مسلمانوں کو دہشت گرد کہہ کر قتل کردیا جاتا ہے۔ یوں آپ ایسی رپورٹوں کے پیچھے عا مل تمام وجوہات کو مکمل طور پر اور بہت اچھی طرح سمجھ لیتے ہیں جو ایک ہی وقت میں ریاستی حمایت یافتہ قاتل گرہوں کے ہاتھوں مسلمان اشرافیہ کے قلع قمع کو چھپاتی ہیں، مسلمانوں کو سنی شیعہ میں تقسیم کرتی ہیں اور یہ ظاہر کرتی ہیں کہ یہ دونوں گروہ ایک دوسرے کے قتل عام میں مصروف ہیں، اور مسلمانوں کےبارے میں وحشی اور اجڈ ہونے کے تصور کو مزید ابھارتی ہیں۔ (…)مسلمانوں کا تصور مسخ کرنے اور ان سے خوف اور ان کے لیے نفرت پیدا کرنے کےمغربی خبط پر محیط یہ تقریباً دس صدیاں تاریخ میں منفرد رہی ہیں۔ کسی اور تہذیب یا ثقافت نےاپنے مقصد ِوجود کی طرح اسلام پر اتنا منظم دھاوا نہیں بولا اور مسلمانوں کو اس طرح عفریت بنا کر نہیں پیش کیا جیسا کہ مغربی ثقافت نے کیا ‘‘۔

نسل کشی ــ مغربی تہذیب کا ایک قاعدہ:

نسل کشی درحقیقت مغربی معاشرے کا ایک قاعدہ ہے۔ مخالف کو وحشی دکھایا جاتا ہے اور پھر اس کا قلع قمع کردیا جاتا ہے، نیز مسلم سرزمینوں کی مغربی آبادکاری کے’عالی مقاصد‘ بھی بیان کیے جاتے ہیں۔ ۱۸۴۷ء میں مارمئیر (Marmier) نے الجزائر کی فرانسیسی آبادکاری پر لکھا: ’’ فرانس کی تاریخ میں ایک عظیم الشان مبارک مشن کے اضافہ پر ندامت! …… چہ معنی دارد! دنیا کے ان حصوں میں کہ جن کا ماضی قتل و غارت گری سے عبارت تھا اور جو عوام پر ظلم و ستم مسلط کرنے میں فخر محسوس کرتے تھے ، یہ امن اور قانون کا مشن تھا۔ ذی ہوش عوام کہ جنہیں صرف رہنمائی کی ضرورت تھی، کے لیے تہذیب سکھانے والا ایک مشن؛ زمین پر ایک مذہبی مشن جسے ہمارے عقیدے نے ہمارے جاں نثاروں کے خون سے سینچا ہے‘‘۔ یوں فرانسیسی عالی مقصد نے لاکھوں الجزائریوں کی بڑے پیمانے پر بیخ کنی کا جواز پیش کیا۔

الجزائر، فرانسیسی فوجی، دفاعی مزاحمت کرنے والے الجزائریوں کے کٹے ہوئے سر دکھا رہے ہیں
الجزائر، فرانسیسی فوجی، دفاعی مزاحمت کرنے والے الجزائریوں کو زمین میں کھودے گئے ایک گڑھے کے پاس لے جا کر گولی مار رہے ہیں۔ گڑھے میں مسلمان مزاحمت کاروں کی نعشیں دیکھی جا سکتی ہیں

الجزائر کے خطے قبیلیہ (Kabyle) میں ایک کارروائی سے متعلق فرانسیسی آرمی کی ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ : ’’ مہم سے واپسی پر ہمارے سپاہی خود شرمندہ تھے۔ تقریباً اٹھارہ ہزار درخت کاٹے گئے؛ گھروں کو جلا دیا گیا؛ عورتوں ، بچوں اور بوڑھوں کو قتل کیا گیا۔ بدقسمت خواتین کی چاندی کی بالیوں، پازیبوں اور چوڑیوں نے، جو وہ عادتاً پہنتی تھیں، بالخصوص طمع کو بھڑکایا۔ نوعمری میں لڑکیوں کے ہاتھ پاؤں میں پہنائے جانے والے ان گہنوں کے فرانسیسی کنگنوں کی طرح کے بند نہیں ہوتے۔ لڑکیوں کے بڑے ہونے پر یہ گہنے اتارے نہیں جاسکتے۔ ان گہنوں کو اتارنے کے لیے ہمارے سپاہی ان لڑکیوں کے زندہ جسم سے ان کے اعضا کاٹ لیتے تھے اور انہیں اسی مثلہ شدہ حالت میں زندہ چھوڑ جاتے تھے ‘‘۔

سٹینرڈ، جس نے براعظم امریکہ میں ماضی میں ہونے والی نسل کشیوں کی دستاویز کے سلسلے میں بہترین کام کیا ہے ، لکھتا ہے، ’’جیسا کہ وارڈ چرچل اور دیگر نے زبردست تحریری کام کیا ہے، نئی دنیا (شمالی و جنوبی امریکہ) کی یورپی فتح ، بشمول امریکی حکومت کے ہاتھوں اپنی ہی دیسی قوم کی تباہی و بربادی، دنیا کی تاریخ میں نسل کشیوں کا سب سے بڑا مربوط سلسلہ تھا۔ ۱۴۹۲ء کے موسمِ خزاں میں کولمبس کی ہسبا نیولا اولین آمد سے، ۱۸۹۱ء کے سرما میں وُونڈِڈ نی(Wounded Knee) کے مقام پر امریکی فوج کے بے گناہ ہندی مردوں، عورتوں اور بچوں کے وحشیانہ قتل عام تک، تقریباً چار صدیوں پر محیط عرصے میں کروڑوں کی تعداد میں مغربی نصف کرۂ ارض کی مقامی آبادی اس پرتشدد قتل عام کے نتیجے میں ہلاک ہوئی جس نے یکے بعد دیگرے کئی مقامات پر نوّے سے پچانوے فیصد بلکہ اس سے بھی زیادہ حد تک دیسی آبادی کو ہلاک کیا‘‘۔

’مہذب یورپ‘کے عین وسط میں، بوسنیا میں مسلمانوں کی اجتماعی عصمت دری اور قتل عام کےواقعات مسلمانوں کو برا بنا کر پیش کرنے اور ان کے قتل عام کا عقلی جواز فراہم کرنے کے بعد رونما ہوئے، جبکہ مغرب محض تماشائی بنا کھڑا دیکھتا رہا۔ روزانہ کی بنیاد پر، صنعت کلام کی اکثر مہارت اسلام اور مسلمانوں کو وحشی ظاہر کرنے پر ہی صَرف کی جاتی ہے، جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

درحقیقت کبھی بھی کسی بھی مسلمان ملک پر مغربی یلغار اس کے اعلیٰ مقاصدیعنی اسلامی وحشت و بربریت کے خاتمے اور مسلم معاشرے کو روشن خیال بنانے کی تشہیر سے قبل نہیں کی گئی۔ بعض یورشوں کا مقصد ایسے ممالک کا تحفظ بھی ظاہر کیا گیا، مثلاً ۱۹۱۲ء میں فرانس کی مراکش پر چڑھائی [فوجی قبضے کو پرٹیکٹوریٹ (زیر حمایت) کہا جاتا تھا]۔ تاریخ بھی ہمیں سکھاتی ہے کہ مسلمان سرزمینوں پر کبھی کسی ایک بھی مغربی حملے کا نتیجہ اس کی آبادی کے قتل عام اور عظیم لوٹ مار کے سوا نہیں نکلا۔ مسلمانوں پر پے در پے حملوں اور ان کے بدترین نتائج کا تکیہ، انحصار اور بنیاد ہمیشہ ہی مسلم وحشت وبربریت کے تصور پر رہی ہے ۔ چنانچہ یہ عین معقول ہے کہ جب تک مسلم وحشت کا یہ تصور برقرار رہے گا، مسلمانوں کی اپنی ہی سرزمینوں میں ان پر حملوں اور ان کے عظیم قتل عام کا سلسلہ جاری رہے گا۔

مسلمانوں کے بارے میں شیطانیت کا پرچار، اسلام کے تصور کو تاریک ترکرنے کے علاوہ مسلمانوں کے خلاف فوجی کارروائی کا استدلال آج بھی فراہم کرتا ہے۔ الجزائری لکھتا ہے کہ ’’کسی وجود کو مسخ کرنے کا اساسی مقصد اس کے خلاف فوجی لشکرکشی اور اس کے بعد اس کی آبادی کا قتل عام ہی ہوتاہے۔ حقیقت واضح کرنے کو عراق کا معاملہ ہماری نگاہوں کے سامنے ہے کہ کس طرح جھوٹ اور من گھڑت خطرات کا پرچار اس پر ایک وسیع عسکری جنگ مسلط کرنے اوراسے اس بدنظمی اور خلفشار میں دھکیلنے کے لیے کافی تھا جس کے نتیجے میں سالانہ اس کے ہزاروں افراد قتل ہورہے ہیں۔ جیسا کہ تاریخ نے ہمیں دکھایا کہ عراق کا معاملہ، صدیوں سے مسلم سرزمینوں پر ہونے والے مغربی یلغار کے دیگر تمام واقعات پر سراسر دلالت کرتا ہے ‘‘۔

کسی بھی مسلم سرزمین کو وحشی اور خطرناک ہستیوں کا مسکن بنا کر پیش کرنے سے پہلے اس پر حملہ نہیں کیا گیا، اور اس الزام نے ان پر مغربی یلغار کا جواز فراہم کیا تاکہ وہ وہاں کے باسیوں کو اجالے اور تہذیب سے روشناس کروا سکیں؛ مگر اس یلغار کا نتیجہ بالعکس یعنی وہاں کی آبادی کے قتل عام کی صورت میں نکلا۔ ہم واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ ہر واقعے میں، چاہے وہ فلسطین ہو، بوسنیا، چیچنیا، الجزائر، افغانستان ، پاکستان، لیبیا، عراق، شام، یمن یا مصر ہو…… بدنظمی اور خونریزی کی بنیاد محض جھوٹ اور دھوکے پر ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں مسلمانوں کے ذبح کیے جانے کے باوجود لادین’مسلمان‘ حکومتیں تکبر کے ساتھ ہم پرہی اسلامی وحشت کے الزامات لگاتی ہیں ۔

(اللہ پاک ہم سب کو فہمِ سلیم عطا فرمائیں، آمین! وما علینا الا البلاغ المبین!)

٭٭٭٭٭

Previous Post

نظریاتی جنگیں | پانچویں قسط

Next Post

قُلْ هَلْ يَسْتَوِى الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ

Related Posts

حربِ ظاہری کا حربۂ باطنی | چوتھی قسط
فکر و منہج

حربِ ظاہری کا حربۂ باطنی | پانچویں قسط

25 مئی 2026
مدرسہ و مبارزہ |  پانچویں قسط
فکر و منہج

مدرسہ و مبارزہ | تیرہویں قسط

25 مئی 2026
اَلقاعِدہ کیوں؟ | چوتھی قسط
فکر و منہج

اَلقاعِدہ کیوں؟ | نویں قسط

25 مئی 2026
جنگی اسٹریٹیجی کے ۳۳ رہنما اصول | پہلی قسط
فکر و منہج

جنگی اسٹریٹیجی کے ۳۳ رہنما اصول | چھٹی قسط

25 مئی 2026
کفار کا معاشی بائیکاٹ | پانچویں قسط
فکر و منہج

کفار کا معاشی بائیکاٹ | آٹھویں قسط

25 مئی 2026
کفار کا معاشی بائیکاٹ | پانچویں قسط
فکر و منہج

کفار کا معاشی بائیکاٹ | ساتویں قسط

1 مئی 2026
Next Post

قُلْ هَلْ يَسْتَوِى الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

مئی 2026ء
مئی 2026ء

مئی 2026ء

by ادارہ
25 مئی 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • عالمی جہاد
  • ناول و افسانے
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version