قُلْ هَلْ يَسْتَوِى الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ
”کہو کہ: کیا وہ جو جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے سب برابر ہیں؟“
(تعلیم، حکمِ تعلیم اور نظامِ تعلیم پر بحث کرتا ایک مقالہ)
باب ہشتم: علوم کی ترویج کس کا فرض ہے؟
مولانا بنوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اب اس پر غور فرمائیں کہ تمام قدیم و جدید علوم کی تعلیم و تربیت اور ان علوم الٰہی کی ترویج و اشاعت نیز علوم انسانی کی توسیع و ہمت افزائی یہ کس کے ذمے ہے؟ یہ ذمہ داری تمام تر اسلامی حکومتوں اور اسلامی حکمرانوں کی ہے۔ سُو ئے اتفاق سے اس وقت مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک تمام حکومتیں اور حکمران درجہ بدرجہ اس ذمہ داری کے معاملہ میں مقصر نہیں بلکہ مجرم ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس تمام تعلیمی اور تجرباتی نظام سے تمام امت کو مستفید بنانے کے لیے حکومت کی سطح پر ہی کام ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ مسلم ہے کہ تعلیمی میزانیہ فوجی میزانیہ سے زیادہ ہونا چاہیے۔ لیکن جب حکومتیں اس طرح کی مجرمانہ غفلت برت رہی ہیں تو علوم الٰہیہ کی، جو فرض عین ہیں یا فرض کفایہ ، حفاظت امت کے ذمہ ہی عائد ہوتی ہے۔
متحدہ ہندوستان میں جب مسلمان اسلامی حکومتوں کے سائے سے محروم ہو گئے تو علمائے دین اور عام مسلمانوں نے اس ذمہ داری سے سبکدوشی کو اپنا فرض سمجھ کر اس کی کما حقہ تدبیریں کیں۔ دیندار ارباب اموال سے مالی اعانتیں حاصل کر کے ان کی حفاظت کی ۔ اور آج تک الحمدللہ یہ سلسلہ ہند و پاکستان دونوں ملکوں میں قائم ہے اور آج ہزاروں مدارس دینیہ باوجود گوناگوں نقائص اور کمزوریوں کے کسی نہ کسی درجہ میں یہ فرض انجام دے رہے ہیں۔
حکومتی اثرات سے محفوظ تعلیم
مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ مولانا محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ کے مضامین کے دیباچے میں مدارس دینیہ کی حفاظت کے بارے میں فرماتے ہیں:
قرآن وسنت دین اسلام کی اثاث اور بنیاد ہیں۔ ان کی تعلیم و تشریح اور حفاظت کے لیے خود نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں مسجد نبوی میں مدرسے کی بنیاد رکھی گئی تھی، جس کو صفہ کہا جاتا تھا، اور اس میں زیر تعلیم طلباء کو اصحاب صفہ کہا جاتا تھا۔ اس کے بعد سے پھر مدارس دینیہ کا سلسلہ امت میں وراثت کے طور پر متواتر چلا آ رہا ہے۔ یہ دینی مدارس ہمیشہ شخصی اور نجی ہو ا کرتے ہیں اور عام مسلمان ان کے اخراجات کے لیے املاک وقف کیا کرتے ہیں۔ ہماری تاریخ کی کتابیں ان مدارس کے ذکر سے بھری پڑی ہیں۔ اس لیے یہ مدارس حکومتوں کے اثر سے آزاد ہوتے ہیں۔ [خاص کر جب حکومتیں لادین ہو چکی ہوں]
مقالہ کے نتائج: تعلیمی اصول
بحث کو سمیٹے ہوئے سابقہ معروضات سے نکلنے والے نتائج کو اختصار کے ساتھ اصولوں کے انداز میں پیش کرتا ہوں:
شریعت میں علم سے مراد علم دین ہے جس کا مصدر قرآن و سنت ہے۔ یہی اصل اور افضل علم ہے۔
علم دین میں سے کچھ حصہ فرض عین ہے جو کہ ہر مسلمان کی عمر اور حالت کے مطابق درجہ بدرجہ مقرر ہوتا ہے۔ اس کا حصول اولین ترجیح ہے۔ چنانچہ مجاہدین کے لیے جہاد کے احکام اور آداب کا حصول فرض عین ہے۔
جائز دنیوی علوم کی تحصیل ضرورت کے مطابق فرض کفایہ ہو جاتی ہے۔ ان میں سے ہر ہر علم کو ہر ہر مسلمان پر فرض کرنا بے انصافی ہے۔ لیکن جس فرد یا طالب علم پر ضرورت کی تحصیل متعین ہو جائے اس پر وہ علم حاصل کرنا فرض ہو جاتا ہے۔ چنانچہ مجاہدین کو جہاد کی ادائیگی کے لیے جن دنیوی علوم کی ضرورت ہے وہ علوم ان پر اس ضرورت کے مطابق فرض ہیں۔
جن افراد میں دینی علوم کی تحصیل کی مکمل استعداد نہ ہو ان کے لیے حسب ضرورت ان کی استعداد کے مطابق بندوبست کرنا ضروری ہے؛ جیسا کہ بے شمار مجاہدین کی خواہش بھی ہوتی ہے اور اس کی ضرورت بھی ہے۔ عام مجاہدین کے لیے چاہے وہ تعلیم کی عمر سے نکل چکے ہوں، دینی تعلیم کا بندوبست تمام مراکز میں کرنا اور اس کے لیے مناسب کتب اور معلمین کا بندوبست کرنا ضروری ہے۔
عربی زبان کی حفاظت ہرایک پر لازم ہے اور اس کی تحصیل فرض کفایہ ہے۔ لیکن اولین ترجیح ہے۔
اردو زبان کی اسلامیت و عربیت کی حفاظت بھی ہرایک پر لازم ہے۔ اردو زبان کی تعلیم عربی کے بعد دوسری ترجیح ہے، اور ہمارے حالات میں اس کے حصول کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔
انگریزی زبان کی تعلیم بطور مضمون جب کہ اس کا نصاب متقی مسلمانوں نے تیار کیا ہو اور وہ مغربی تہذیب اور ثقافت سے پاک ہو فرض کفایہ ہے۔ زبانوں میں اس کی تعلیم تیسری ہے اور سکھانا بھی بس بقدر ضرورت ہو۔
دنیاوی علوم (علوم طبیعیہ، ریاضی، صنعت، حرفت اور دیگر فنون) کی تحصیل فرض کفایہ ہے ۔ لیکن اگر متعین ہو بھی جائے تب بھی دینی اور دنیاوی علوم کا امتزاج مناسب نہیں ۔ ہر ایک علم کو اس کی اہمیت کے مطابق حیثیت دی جائے۔ پھر افضل اور اہم سے شروع کیا جائے۔
دنیاوی علوم کا نصاب اردو میں ہو، اسے متقی مسلمان اساتذہ مرتب کریں اور متقی مسلمان ہی پڑھائیں۔ منافق ، لا دین اور کفار کے مرتب کردہ نصاب سے پرہیز کیاجائے۔
اسلامی نظام تعلیم کو حکومت کی دخل اندازی سے بالکل پاک ، مستقل ، خود کفیل اور مفت ہونا چاہیے۔ جس کے لیے امرائے جہاد اور امت کے مخیر حضرات کا تعاون ناگزیر ہے۔
مغربی نظام تعلیم کے ذریعے حصول علم نا جائز ہے۔ اس میں مغربی نظام کی وضع کردہ کتب فنون اور نصاب سے تعلیم حاصل کرنا بھی شامل ہے اور مغربی تعلیمی اداروں (اسکول و کالج) میں تعلیم حاصل کرنا تو بطریق اولی ۔
مغربی نظام تعلیم کی ممانعت سے بر بنائے ضرورت دینیہ و دنیویہ استثناء دیا جا سکتا ہے۔ لیکن کسی فرد یا طالب علم کو استثناء دینا علماء کا کام ہے۔ نیز ضرورت بس ضرورت کی حد تک ہی رہنی چاہیے۔
امرائے جہاد کی ذمہ داری ہے کہ وہ مجاہدین اور ان کے اہل خانہ کی تعلیم پر توجہ دیں۔
مثالی تعلیمی نظام اور اضطراری کیفیت
میری ناقص رائے میں ان اصولوں کے مطابق مثالی تعلیمی نظام مجاہدین کے زیر تسلط علاقوں میں ہی قائم ہو سکتا ہے۔ بشرط یہ کہ خود مجاہدین فکری طور پہ اتنے با شعور ہوں کہ وہ دوبارہ ان اداروں اور نصابوں کو رائج نہ کر دیں جنہوں نے اس امت کو غلامی میں دھکیلا۔ باذن اللہ امید ہے کہ امارت اسلامیہ افغانستان میں مثالی نظام تعلیم دیکھنے کو ملے گا۔
لیکن جہاں یہ آزادی حاصل نہیں وہاں ہر ذی شعور مسلمان اور مجاہد سوچے کہ وہ جس نظام میں اپنے بچوں کو تعلیم دے رہا ہے اس کا حاصل اور نتیجہ کیا ہے۔ حاصل اور نتیجہ جتنا دین سے دور ہو گا اتنا ہی اس نظام کے تحت تعلیم و تربیت دینا ناجائز ہو گا۔ موجودہ ریاستی جبر میں مثالی تعلیمی ادارہ یا نظام بنانا نا ممکن نہیں تو انتہائی مشکل ہے اس لیے اضطراری صورت حال سے نمٹنے کے لیے تمام والدین پر فرض ہے کہ بچوں کو تعلیمی اداروں کے مضر اثرات سے بچائیں۔ مثلاً اگر نصاب میں کہیں سودی نظام بغیر نقد و جرح بلکہ الٹا خوشنما بنا کر پڑھایا جاتا ہے تو والد پر لازم ہے کہ بچے کو بتائے کہ ہمارے دین میں سود کا حکم کیا ہے۔ یا مثلاً کسی سکول میں بہت ماہر اور اچھے اخلاق کے حامل استاد کی داڑھی نہیں تو والد بچے کو بتائے کہ بیٹا استاد کی اچھی خوبیاں اپنی جگہ لیکن یہ معاملہ نہ صرف خلاف سنت بلکہ گناہ شمار ہوتا ہے۔و علی ہذا القیاس۔
نیز والدین یہ بھی سوچیں کہ وہ کون سی اضطراری کیفیت ہے جو انہیں اپنے بچوں کو ایسے اداروں میں داخل کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ آیا وہ کیفیت شرعاً مجبوری کے زمرے میں آتی ہے یا محض معاشرتی مجبوری ہے۔ پھر جہاں والدین ان اداروں کی غیر شرعی جزئیات سے بچانے کی کوشش کریں وہاں اس اضطراری کیفیت سے چھٹکارا حاصل کرنے کی بھی از حد کوشش کریں۔ یہ کوشش انفرادی سطح پر بھی ہو اور اجتماعی سطح پر بھی۔
ریاست سے آزاد تعلیم اور متبادل نظام
ہر ممکن کوشش کی جائے کہ تعلیم ریاست سے آزاد ہو۔ شخصی آزادی کے حق کے تحت ریاست کے جبری قوانین کے خلاف جد و جہد اور ان سے چھٹکارا حاصل کرنا جدید دنیا میں کوئی نئی بات نہیں اگرچہ ہمارے ممالک میں یہ بہت مشکل ہے۔ فریڈم آف ایجوکیشن (آزادئ تعلیم) کو اکثر مغربی ممالک میں قانونی حیثیت حاصل ہے۔ مغرب کے ہاں آزادئ تعلیم سے مراد ’ریاست کی مداخلت قبول کیے بغیر والدین کا حق کہ وہ اپنی اولاد کو اپنے مذہب اور نظریات کے مطابق تعلیم دیں‘۔ اگرچہ اہلِ مغرب اس آزادی کے حدود و قیود خود منتخب کرتے ہیں لیکن اس نعرے کو ہم اپنے نظریات کو بچانے کے لیے جس حد تک استعمال کر سکتے ہیں کرنا چاہیے۔
اور جہاں یہ حق والدین کو حاصل نہیں یا اس کے مواقع میسر نہیں تو بہت سے ’قانونی‘ اور ’مروجہ‘ ذارئع ہیں جنہیں اختیار کرتے ہوئے ہم ریاستی جبری تعلیم اور معاشرتی مجبوری کو کم کر سکتے ہیں اور تعلیم وتربیت کے غیر شرعی پہلوؤں سے کچھ نہ کچھ بچ سکتے ہیں۔ ان سب کو ہم ’متبادل‘ یا غیر روایتی اس لیے کہیں گے کہ والدین جس غیر شرعی نظام سے اب تک دوچار ہیں اسے تبدیل کرنے کے لیے انہیں محسوس ہو گا کہ وہ اپنی روایت سے ہٹ رہے ہیں۔ مثلاً جو والدین بچوں کو سکول سے نکالنے کا تصور ہی نہ کر سکتے ہوں ان کے لیے ’گھریلو تعلیم‘ غیر روایتی اقدام محسوس ہو گا۔
تین اہم عوامل
یاد رہے ان تمام متبادل ذرائع میں تین بنیادی عوامل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا:
اساتذہ کا کردار: اچھا نصاب ہوتے ہوئے بھی اگر استاذ ہم فکر ، خدا ترس اور با عمل نہ ہو تو نتائج حاصل نہ ہوں گے۔
نصاب کا کردار: استاذ اچھا ہو لیکن نصاب مخالف فکری مواد سے بھرا ہو جنہیں انتہائی خوشنما طریقے سے دکھایا جائے تو ممکن ہے کہ طالب علم پھسل جائے۔ فکر و منہج کے مطابق نصاب تشکیل دینا کوئی بڑی بات نہیں۔ نصاب منتخب کرنے والا صاحب فکر ہو تو موجودہ میسر نصابوں میں سے ایسی کتب منتخب کرنا کوئی مشکل نہیں۔
ما حول کا کردار: ارد گرد بچے اور ان کے والدین بھی ہم فکر اور با عمل ہوں۔ اسی طرح خود گھر کے اندر اس نئے انداز میں تعلیم دینے کے حوالے سے ہم آہنگی پائی جاتی ہو اور اس کی کامیابی کے لیے پوری کوشش کی جائے۔
متبادل نظام کی مثالیں
یہاں ممکنہ متبادل نظام کی چند مثالیں پیش کرتے ہیں۔ سوچیں تو ’ضرورت ایجاد کی ماں ہے‘ کے مصداق بہت ساری راہیں نکل سکتی ہیں۔ بلکہ اس سے بہتر ہے کہ یہ کہہ لیں:
وَ الَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِيْنَ(سورۃ العنکبوت: ۶۹)
’’اور جن لوگوں نے ہمارے لیے کوشش کی ہم اُن کو ضرور اپنے رستے دکھا دیں گے۔ اور خدا تو نیکو کاروں کے ساتھ ہے۔ ‘‘
گھریلو تعلیم (ہوم سکولنگ): چاہے والدین یا قریبی رشتہ دار خود پڑھائیں یا منتخب اساتذہ کو پڑھانے کے لیے بلایا جائے (ہوم ٹیوشن)۔ عموماً مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ تمام والدین میں یہ قابلیت نہیں ہوتی کہ وہ پڑھا سکیں یا ان کے پاس وقت نہیں ہوتا۔ اور قریبی رشتہ داروں میں بھی ایسے افراد میسر نہیں ہوتے۔ جبکہ ہوم ٹیوشن اکثر کے لیے مہنگا پڑتا ہو گا۔ بہر حال میرے سامنے اس کی حقیقی مثالیں ہیں جہاں پاکستان کے اس معاشرے میں ہی والدین نے اپنےبچوں کو گھر میں پڑھایا۔
محلے کے مکاتب (ٹیوشن سنٹرز): جہاں والدین کی استطاعت نہ ہو کہ اپنے بچوں کو گھروں میں پڑھائیں وہاں محلے یا شہر کی سطح پر ہم فکر افراد اپنی پسند کا نصاب اپنی پسند کے اساتذہ کے ذریعے پڑھائیں۔
مساجد کے مکاتب: جن میں روایتی طور پہ نماز، قرآن کریم ناظرہ اور چند بنیادی عقائد سکھائے جاتے ہیں۔ لیکن ان کو بڑھا کر ان میں عربی اردو زبان ، حساب اور چند عصری علوم شامل کیے جا سکتے ہیں۔
دینی مدارس: جو کہ اب بھی کافی حد تک سرکاری اصول و ضوابط سے بچے ہوئے ہیں۔ کوشش کی جائے کہ ان مدارس کو چنا جائے جن میں تربیت پر توجہ دی جاتی ہو اور جدت پسندی اور سرکاری دخل اندازی کم سے کم ہو۔
پرائیوٹ سٹوڈنٹ: سرکاری سکول میں حاضری سے مستثنیٰ طلبہ جو صرف امتحان کے لیے سکول جاتے ہیں۔ باقی تعلیم وہ گھر میں یا ٹیوشن کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔ یہ ان والدین کے لیے جو روزگار کے لیے تعلیمی سند تو حاصل کرنا چاہتے ہوں لیکن بچوں کو سکول کے برے ماحول سے بھی بچانا چاہتے ہوں۔ اگرچہ نصاب سرکاری ہوتا ہے لیکن پڑھانے والے اساتذہ مناسب ہوں تو وہ نصاب کے برے اثرات سے بھی بچا سکتے ہیں۔
پرائیوٹ سکولز: پرائیوٹ ہونے کے باوجود پاکستان میں وزارت تعلیم کی طرف سے ان کے لیے بہت اصول و ضوابط رکھے گئے ہیں اور ان کی جانچ پڑتال کے لیے خصوصی ٹیمیں مقرر ہوتی ہیں۔اس کے باوجود ان میں اتنی گنجائش نکالی جا سکتی ہے کہ اپنی پسند کی تربیت دی جائے بشرط یہ کہ اساتذہ ہم فکر ہوں اور نصاب کو از حد غیر شرعی مواد سے پاک کیا جائے۔
مواصلاتی تعلیم (ڈسٹینس لرننگ؍Distance Learning): تاکہ کالج اور یونیورسٹی کے غلط ماحول سے بچا جا سکے۔ نصاب کی گمراہیوں کو خود دور کر لیا جائے چاہے خط و کتابت کے ذریعے تعلیم دی جائے یا انٹرنیٹ کے ذریعے آن لائن ہو(کورونا کے تناظر میں یہ طریقِ تعلیم تو بہت ہی عام ہو چکا ہے)۔
اوپن ایجوکیشن: تعلیم کی سطح اور مواقع بڑھانے کے لیے اس نظام میں طلبہ کے داخلے کے لیے بہت سے سرکاری اصول و ضوابط کی چھوٹ ہوتی ہے۔ مثلاً تعلیم کی عمر، سابقہ تعلیمی ریکارڈ وغیرہ۔
الٹرنیٹ سکولز(Alternate Schools): جن میں غیر روایتی انداز میں تعلیم دی جاتی ہے۔ عام طور پہ یہ معذور افراد کے لیے ہوتی ہے لیکن دیگر افراد کے لیے بھی قصہ کہانی اور دیگر نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کے ذریعے تعلیم دی جا سکتی ہے۔
خفیہ سکولز: اشتراکی روس کے پر تشدد دور میں مقبوضہ اسلامی ممالک میں بچوں کو مذہب کی تعلیم زیر زمین خفیہ طور پہ دی جاتی تھی۔ اسی طرح اب بھی مشرقی ترکستان (چین کا قبضہ کردہ علاقہ جیسے چینی زبان میں سنکیانگ یا شن جیانگ کہتے ہیں)اور کئی دیگر ممالک میں جاری ہے۔ بنیاد اس کی اصحاب اخدود کے قصے میں اس نیک بچے کی ہے جو راہب کے پاس جا کر دین کی خفیہ تعلیم حاصل کرتا تھا جبکہ بادشاہ نے اسے جادوگری کی تعلیم حاصل کرنے پر مامور کیا تھا۔
آخر میں قارئین سے استدعا ہے کہ فکر وعمل کی ان گزارشات کو سامنے رکھتے ہوئے بہتر اسلامی مستقبل کے لیے سنجیدہ کوشش کریں۔ وما علینا الا البلاغ۔
تمّت بالخير
وآخر دعوانا ان الحمد لله ربّ العالمين!






![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



