نحن الذین بایعوا محمدا… علی الجھاد ما بقینا أبدا
صلی اللّٰہ علیہ وسلم وعلیٰ آلہ وصحبہ وذریتہ ومن تبعھم بإحسان إلی یوم الدین
میلاد النبی کا مہینہ آتا ہے۔ سرورِ کائنات، آقائے نامدار، بعد از خدا بزرگ و برتر، محمدِ مصطفیٰ، احمدِ مجتبیٰ علیہ ألف صلاۃ و سلام کا ذکرِ خیر اس ماہ آپ کی ولادت کی نسبت سے مزید عام ہو جاتا ہے۔ آپ تو ’محمد‘ ہیں، یعنی ’تعریف کردہ‘، آپ کی شان ’ورفعنا لک ذکرک‘ ہے، بندۂ مومن کا کوئی دن اور مقربین کا کوئی لمحہ آپ کی تعریف کیے بنا نہیں گزرتا، فداہٗ أمہاتنا و آباؤنا و أبناؤنا و أرواحنا !
محبت کے اظہار کے قرینوں سے محض انسان نہیں، ہر ذی روح خوب واقف ہے۔ کسی درندے ہی کے بچے پر جب کوئی دوسرا درندہ حملہ کرتا ہے تو درندہ ہونے کے باوجود جو محبت ماں کو اپنی اولاد سے ہے وہ اس اولاد پر جان وار دینے کا ارادہ بخشتی ہے۔ اس درندہ ماں کو یہ خیال نہیں آتا کہ ہم سب درندے ہیں، ہمارا کام وحشت پھیلانا اور چیر پھاڑ کرنا ہے ، نہیں، محبت اپنی فطری درندگی پر غالب آ جاتی ہے۔
کسی سے محبت ہو جائے تو اس کی ایک ایک ادا بھاتی ہے۔ محبوب کی ادائیں اپنائی نہیں جاتیں، عام مشاہدہ ہے کہ محب کے رگ و پے میں خود بخود یہ ادائیں بس جاتی ہیں۔ محبت کی ایک ادا یہ بھی ہوتی ہے کہ محبوب سے محبت کے سبب ایک نظر بھر کر اسے دیکھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے، محبت، محبت کرنے والے پر محبوب کا ایک رعب بھی رکھتی ہے، اس میں حیا ہوتی ہے۔
رسولِ محبوب صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے محبت بھی اسی طرح کے تقاضے اور اسی طرح کے قرینے رکھتی ہے جو باقی محبتوں کے نام کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں، بلکہ محبتِ رسولؐ کے ان عام محبتوں سے زیادہ اعلیٰ و ارفع تقاضے بھی ہیں۔
ہم سب ماہِ ولادتِ رسول اور اس کے بعد کے ماہ و ایام میں، عشقِ رسالت مآب صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے متعلق بیش ہا قیمتی مواعظ و بیانات و دروس سن چکے ہیں، کروڑ ہا صفحات صرف ۱۴۴۲ھ کے اس ماہِ مبارک میں محبتِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے عنوان تلے شائع ہو چکے ہیں۔ اس عشق و محبت کی بے انتہا ادائیں ہیں جو ہر ہر آن، ہر ہر گام پر اہلِ ایمان میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ ایک بات ہم نے ان گزرے دنوں میں خاص کر یہ بھی سنی اور سیکھی ہے کہ تقاضائے محبت یہ ہے کہ محبوب کی اداؤں کو اپنا لیا جائے اور ان کی پلکوں کے اشارے پر سر کٹوا دیے جائیں۔
مجلّہ ’نوائے غزوۂ ہند‘ کا زیرِ نظر شمارہ جب آپ پڑھ رہے ہوں گے تو میلاد النبیؐ کا مہینہ گزر چکا ہو گا اور عیسوی شمسی اعتبار سے ماہِ دسمبر چل رہا ہو گا۔ یہ سب ماہ و ایام ہمارے لیے ایک پیغام لیے ہوئے ہیں۔ یہ پیغام رسولِ محبوب صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی حرمت و ناموس کی حفاظت کا پیغام ہے۔
رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سجدہ گاہِ اول، مسجد الحرام کی حرمت کا سوال ہے۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی مسجد، مسجدِ نبوی کی حرمت خطرے میں ہے۔ محبوب صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جہاں کُل انبیائے کرام علیہم السلام کو نماز پڑھائی، وہ مسجدِ اقصیٰ یہود و اہلِ صلیب کے گھیرے میں ہے۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جس ہندوستان کی فتح اور غزوۂ ہند کی خوش خبریاں دیں اس سرزمین پر بابری مسجد گرا کر ’ہنومان‘ اور ’گاؤ‘ کے پجاریوں نے رام مندر تعمیر کر لیا ہے۔ ان سب مسجدوں کی حفاظت اور ان مسجدوں کے منابر و مناروں سے بلند ہوتی، اللّٰہ کی عطا کردہ شریعتِ محمدیؐ کے پیغام کی ناموس کا مسئلہ ہے۔
بابری مسجد کو خون آلود نہ چھوڑیں۔ مسجدِ اقصیٰ کے آنسو بہتے نہ رہنے دیں۔ حرمین شریفین کو صہیونیوں–صلیبیوں اور ان کے عربی و عجمی’غلاموں‘ کو حرمین کی فضاؤں کو فحاشیوں اور شراب نوشیوں کے گناہوں اور یہودی و صلیبی افواج کا اڈا بنائے رکھنے کے لیے چھوڑا نہ رہنے دیں۔
حضورؐ کے دفاع کی خاطر، حضورؐ کی شریعت کے نفاذ کی خاطر، ہر کچے پکے گھر میں حضورؐ کے دین کو پہنچانے کی خاطر، حضورؐ کے صحابہؓ کی مانند اس شعر کو شعار بنائیں، پھر کہیں اپنی تلواروں، تیروں اور کلاشن کوفوں سے، کہیں اپنی زبان، قلم اور مالوں سے اور کہیں اپنی اور اپنی اولادوں کی جانوں سے دینِ حضورؐ کے لیے، اللّٰہ کی رضا کے لیے کھپ جائیں:
نحن الذین بایعوا محمداً
علی الجھاد ما بقینا أبداً
ہمِیں وہ ہیں کہ ہم نے کی ہے یہ بیعت محمدؐ سے
جہاد اب عمر بھر ہر حال میں کرتے رہیں گے ہم
أللھم انصر من نصر دین محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم واجعلنا منھم واخذل من خذل دین محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم ولا تجعلنا منھم، آمین یا ربّ العالمین!








![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



