(از ارشادات حکیم الامت مجدد الملت مولانا شاہ محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ)
عیب جوئی کا علاج
سوال: ایک شخص نے کہا حضور! مجھ میں تو ایک سخت عیب بھی ہے اور سختی کے ساتھ راسخ ہوگیا ہے کہ دوسروں کا عیب تو بہت بڑا معلوم ہوتا ہے حتیٰ کہ اس میں غیبت تک نوبت آجاتی ہے اور اپنا عیب نہیں معلوم ہوتا۔ ہر چند کوشش کرتا ہوں کہ یہ بدعادت مجھ سے دفع ہوجاوے لیکن کسی طرح نہیں جاتی۔ کوئی طریقہ ہدایت فرماویں تاکہ اس پر عمل کرنے سے اس بدعادت کا استیصال ہوجاوے۔ اس خاص صورت میں حضور کی دعا کا متمنی ہوں۔
جواب: دعا بھی کرتا ہوں۔ باقی تدبیر یہ ہے کہ آپ ہر کلام سے پہلے یہ سوچ لیا کیجیے کہ اگر یہ کلام میں نہ کروں تو کوئی ضروری نفع تو فوت نہ ہوگا، جس میں ضروری نفع کا فوت نہ ہونا معلوم ہو اس سے زبان بند رکھیے۔ یہ تو زبان کا انتظام ہے۔ باقی اس کی جڑ کا انتظام یہ ہے کہ جب کسی کے عیب پر نظر پڑے تو یوں سوچا کیجیے کہ گو اس شخص میں یہ عیب ہے مگر ممکن ہے کہ اس میں کچھ خوبیاں ایسی ہوں جن کے اعتبار سے اس کی مجموعی حالت میری مجموعی حالت سے عنداللہ احسن ہو۔ پھر مجھ کو اس کی عیب جوئی یا عیب گوئی کا کیا حق حاصل ہے؟ جس طرح اندھے کو یہ حق نہیں کہ کانے کو چڑاوے۔ بار بار اس مضمون کے استحضار سے ان شاء اللہ، اس عیب کا استیصال ہوجاوے گا۔ اور اگر احیاناً و اتفاقاً پھر بھی اس کا صدور ہوجاوے تو بطور جرمانے کے بیس رکعت نفل پڑھا کیجیے،ان شاء اللہ، نفس سیدھا ہوجاوے گا۔
غرور و تکبر کا علاج
سوال: ایک شخص نے کہا کہ میرے اندر غرور اور تکبر بہت ہے، دوسرے لوگوں کو عقل اور ہوشیاری میں اور کبھی علم میں اور کبھی باپ دادا کی مال داری میں اپنے سے کمتر سمجھتا ہوں۔ گو یہ مرض یہاں پر کم معلوم ہوتا ہے، اپنی بستی میں بہت پایا جاتا ہے۔ حضور اس کا علاج بتلاویں۔
جواب: ایک وقت بیٹھ کر اپنے عیبوں کو سوچا کرو اور زبان سے بھی کہا کرو کہ میں بڑا بے وقوف ہوں، میں بڑا نالائق ہوں۔ آدھ گھنٹہ روزانہ اس میں صَرف کرو ۔
علمی و عملی عجب کا علاج
سوال: ایک خیال اب زیادہ آنے لگا ہے اور وہ یہ ہے کہ جس بیان میں اخلاقِ حسنہ، عقائدِ حقہ، اعمالِ جوارح ضروریہ کی ترغیب و ضرورت بیان ہوئی ہے تو خیال پیدا ہوتا ہے کہ یہ تو سمجھ میں بفضلہٖ تعالیٰ پہلے ہی سے موجود ہیں اور جن امورات یا رسومات سے اجتناب ضروری ہے اس پر خیال ہوتا ہے کہ تُو ان سے ہمیشہ ہی مجتنب رہتا ہے تو وہ بیان کتاب دیکھنے میں بے رغبتی یا کم توجہی سے گزر جاتا ہے۔ مگر حضور کل سے خیال ہوا کہ یہ تو ظاہراً عجب معلوم ہوتا ہے۔ اب حضور اس کا علاج فرماکر تسکین فرماویں۔ اگرچہ بحمدہٖ تعالیٰ اس خیال کا اثر معمول پر نہیں پڑا اور حضور ان خیالات کا جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے ضرور معالجہ فرماویں۔ اب یہ خیال زیادہ خراب نہ کرنے پاوے۔
جواب: یوں سمجھنا چاہیے کہ اوّل تو ہر عمل اور ہر خُلق میں درجات کمال کے بھی ہیں جو مجھ کو حاصل نہیں۔ دوسرے جو کچھ حاصل ہیں ان کے بقا کی بھی ضرورت ہے اور مطالعہ مکررہ بقا میں معین ہوتا ہے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ اس سے علمی و عملی کوتاہی کی اصلاح ہوجاوے گی۔
عجب کا علاج
سوال: اگر بندۂ احقر کے متعلق کوئی بُرائی کرتا ہے تو زیادہ غصہ نہیں آتا اور طبیعت فوراً رُک جاتی ہے۔ اگر کوئی شخص تعریف کرتا ہے تو طبیعت میں مسرت پیدا ہوتی ہے، مگر فوراً اپنی بُرائی کی طرف توجہ کرلیتا ہے اور اس کو فضلِ خداوندی سمجھتا ہے،یہ مذموم تو نہیں؟
جواب: یہ مذموم نہیں ہے۔
کبر کا علاج
سوال: جو لوگ شریعت کے خلاف کرتے ہیں وہ میری نظر میں حقیر معلوم ہوتے ہیں حالاں کہ میں اس کو بُرا سمجھتا ہوں۔
جواب: طبعاً حقیر معلوم ہونا کبر نہیں البتہ عقلاً اتنا سمجھ لیجیے کہ شاید یہ شخص کسی خاص حالت کے اعتبار سے عنداللہ مجھ سے افضل ہو۔ بس کبر دور کرنے کے لیے اتنا کافی ہے۔
سوال: جب کوئی شخص جس میں عیب ہوتا ہے سامنے سے گزرتا ہے تو اس کی حقارت کا خیال ہوجاتا ہے، لیکن بفضلِ خدا فوراً دل سے آواز آتی ہے کہ تم سے تو اچھا ہے، تم میں فلاں عیب ہے۔
جواب:یہ مجاہدہ مطلوبہ ہے، جو ایسے موقع پر ہونا چاہیے۔
ایک شخص کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اچھا بُرا سمجھنا درجہ احتمال میں کافی ہے یعنی یہ سمجھے کہ گو اس وقت ظاہراً یہ شخص ہم سے کمتر ہے لیکن ممکن ہے کہ اسی وقت اس کے باطن میں کوئی خوبی ہم سے زیادہ ہو۔
سوال: حسب ہدایت جناب والا تبلیغِ دین، بیان اخلاقِ ذمیمہ کا مطالعہ کرتا رہتا ہوں، مگر وجداناً تکبر معلوم ہوتا ہے حالاں کہ طلبہ کا جوتا اُٹھالیا کرتا ہوں۔ ملنے والوں سے سلام میں ابتدابھی کرتا ہوں خواہ ادنیٰ ہو یا اعلیٰ۔
جواب: پھر تکبر نہیں ہے، اور جو اثر وجداناً معلوم ہوتا ہے اس کے مقتضا پر عمل نہ کرنے سے اس کا ازالہ بھی ہوجاوے گا اور جب تک زوال نہ ہو وہ قابلِ ملامت نہیں ہے۔
کبر کے بارے میں ایک شخص کے پوچھنے پر حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ کبر کا علاج استحضار اپنے عیوب کا اور استحضار اپنے ذنوب کا اور عظمتِ حق کا ہے، اس کے تکرار سے ان شاء اللہ تعالیٰ یہ مغلوب ہوجاوے گا، اور طبیعت کا گرم ہوجانا یہ ایک اور بات ہے یہ غضب ہے۔ اس کا علاج اس امر کا استحضار ہے کہ جس طرح یہ شخص ہمارا خطاوار ہے اسی طرح ہم حق تعالیٰ کے خطاوار ہیں۔ اگر وہ ہم سے انتقام لینے لگے تو کہاں ٹھکانہ رہے؟ بس جس طرح ہم اپنے عفو کو پسند کرتے ہیں اس کے ساتھ بھی ہم کو یہی معاملہ مناسب ہے۔غیبت کا سلسلہ شروع ہونے کے وقت سب سے بہتر یہ ہے کہ وہاں سے کسی بہانے سے اُٹھ جائیں اور پھر بھی لغزش ہوجاوے تو ہر غیبت پر دو رکعت صلوٰۃِ توبہ کا التزام ان شاء اللہ نافع ہوگا۔
کبر کی علامت
کبر کی علامت یہ ہے کہ اگر آپ کی کوئی تعظیم نہ کرے تو آپ کو غصہ آوے اور اس کے درپے ہوجاویں۔
عجب کا علاج
سوال:میں آج کل اکثر الگ الگ رہتا ہوں، کسی سے اختلاط نہیں رکھتا۔ اس سے بھی کبھی عجب آمیز خیال پیدا ہوتا ہے۔
جواب:لایضر( کوئی نقصان دہ نہیں) اور ایسے خیالات کی وجہ سے اگر اختلاط کیا جاوے وہ مضر ہوگا۔ شیطان کی یہ بھی ایک ترکیب ہے۔
سوال: اور بعض لوگ اس عدم اختلاط کی وجہ سے کوئی بات مدح کی بھی کہہ دیتے ہیں، اس سے نفس خوش ہوتا ہے۔ اس کے متعلق مجھ کو کیا کرنا چاہیے؟
جواب:سمجھنا چاہیے کہ یہ مادِحین (تعریف کرنے والے) نہ اس کی حقیقت سے آگاہ ہیں نہ میرے دوسرے عیوب سے۔ حسنِ ظن رکھتے ہیں جو ان کی تو خوبی ہے مگر میرے لیے حجت نہیں۔
سوال:یوں تو اعتقاد ہے ہی کہ مغفرت بجز خدا کی رحمت کے ہو ہی نہیں سکتی تاہم کوئی کام اگر توجہ دل سے اچھی طرح انجام پاتا ہے تو اس عمل کی طرف خیال جاتا ہے اور یہ خیال ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ضرور معاف فرمادیں گے تو یہ خیال بُرا تو نہیں؟
جواب:یہ خیال بُرا نہیں ہے۔
سوال: اگر کبھی کسی اچھے کام کی توفیق ہوجاتی ہے تو طبیعت نہایت ہشاش بشاش رہتی ہے۔
جواب:یہ علامتِ ایمان ہے۔
سوال: اس میں کچھ حرج تو نہیں۔ شبہ اس لیے ہوا کہ اس کا راز کہیں یہ نہ ہو کہ اپنے اعمال پر خوش ہوتے ہیں۔
جواب:عمل میں دو حیثیتیں ہیں:ایک اپنا کمال، اس اعتبار سے تو اس پرنظر نہ کرنا چاہیے۔ دوسرا یہ کہ خدا کی رحمت ہے، اس اعتبار سے اس پر مسرت خود ماموربہٖ ہے۔ جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
قُلْ بِفَضْلِ اللہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا (سورۃ یونس: ۵۸)
’’ کہو کہ : یہ سب کچھ اللہ کے فضل اور رحمت سے ہوا ہے، لہٰذا اسی پر تو انہیں خوش ہونا چاہیے ۔‘‘
سوال: ناجائز آمدنی کا دروازہ خداوندکریم کے فضل و کرم سے پہلے ہی سے بند ہے، طبیعت میں تکبر اور غرور تو بالکل نہیں البتہ خودداری زیادہ ہے۔
جواب: اپنے عیوب اور اپنا ہیچ ہونا اور فنا ہوجانا سوچا کیجیے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ اس سے اس میں کمی واقع ہوجاوے گی۔
سوال: کسی کی سخت بات کی خواہ وہ جائز ہو یا ناجائز برداشت بالکل نہیں۔
جواب: بہ تکلف ضبط کرکے اپنے عیوب سوچنے لگا کیجیے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ اشتعال کم ہوجاوے گا۔
سوال: اپنی حالت کو دیکھ کر کبھی کبھی خیال ہوتا ہے کہ اب میری حالت اچھی ہے۔
جواب: صحیح خیال ہے، مگر اس کے ساتھ یہ سمجھ لیا جائے کہ میں اس کا مستحق نہیں، خدا تعالیٰ کا انعام ہے۔
سوال: مگر پھر بھی خیال ہوتا ہے کہ کہیں عجب نہ ہو اور حق سبحانہٗ کو ناپسند ہو کہ مراجعت قہقریٰ (الٹے پیر زوال کی طرف لوٹنا) کا موجب ہوجاوے۔ (اعاذنا اللہ منہ)
جواب: ابھی اوپر جس امر کے سمجھنے کا میں نے مشورہ دیا ہے اس کے ساتھ نہ عجب کا احتمال ہے اور نہ ان شاء اللہ نُکْس (دوبارہ عودِ مرض) کا اندیشہ۔
سوال: حضرت! بندے کو بعض وقت جب ذکر سے فارغ ہوتا ہوں نفس کو بہت خوشی و فرحت کی حالت محسوس ہوتی ہے۔ اس خوشی کی حالت میں مجھے خوف محسوس ہوتا ہے کہ عجب و کبر کی علامت تو نہیں ہے؟
جواب: اگر اس کو اپنی فضیلت سمجھو تو کبر ہے اور اگر عطائے حق سمجھو اور اپنے کو مستحق نہ سمجھو تو شکر ہے۔
سوال: پھر میں نفس کو کہتا ہوں کہ اے نفس! تو سرتاپا معصیت سے پُر ہے تو کیسے خوش ہوتا ہے۔ تجھ کو چاہیے کہ ہر وقت استغفار کرے۔ حضرت! بعض وقت قلب بالکل خدا کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور کسی کی طرف خیال نہیں رہتا۔ پورا توکل خدا پر ہوجاتا ہے۔ بعض وقت یہ حالت قلب میں نہیں پاتا ہوں تو سخت پریشانی معلوم ہوتی ہے۔
جواب: پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ ابتدا میں ایسے انقلابات ہوا کرتے ہیں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ آخر میں استقامت ہوجاوے گی، اگر اسی طرح کام میں لگے رہے۔
سوال: اور تواضع کا امتحان یہ معلوم ہوا کہ دوسرا بُرا کہے تو دل میں ذرا بھی بُرا نہ مانے، سو غور کرکے دیکھنے پر معلوم ہوا کہ میں متواضع نہیں ہوں کیوں کہ اگر کوئی چھوٹا شخص (باعتبار عمر وغیرہ) مجھ کو واقعی عیب پر بھی ملامت کرے تو سخت ناگوار ہوتا ہے بلکہ بعض مرتبہ ہمجولیوں اور بڑوں کا فرمانا بھی ناگوار و گراں ہوتا ہے۔
جواب: گراں ہونا مضایقہ نہیں لیکن اس گرانی کے بعد اپنے نفس کو سمجھانا اور اس ناگواری کو دفع کرنا چاہیے یہ بھی ایک درجہ تواضع کا ہے۔
سوال: کبھی کبھی یہ دل میں آتا ہے کہ بحمداللہ احقر ایسے مرشد بابرکت کی خدمت سے فیض حاصل کررہا ہے کہ بہت لوگوں کو اس سے محرومی ہوئی۔ پھر اس میں یہ شبہ ہوتا ہے کہ کہیں یہ کبر میں شمار نہ ہو کہ میں تو ایسے پیر و مرشد سے تعلیم لیتا ہوں اور جن کو یہ بات حاصل نہیں ان سے میں اچھا ہوں۔لہٰذا حضور والا سے اُمید ہے کہ واضح فرماویں گے کہ اس خلجان کے رفع ہونے کی کیا صورت ہے اور یہ کبر میں داخل ہے یا نہیں؟ کیوں کہ شرارتِ نفس پر مطلع ہونا مشکل معلوم ہوتا ہے۔
جواب:نعمت پر فخر کرنا کبر ہے، اور اس کو عطائے حق سمجھنا اور اپنی نااہلی کو مستحضر رکھنا شکر ہے۔
سوال: لوگوں سے طبیعت میں بڑی وحشت ہوتی ہے،یہ تکبر تو نہیں؟
جواب: نہیں، مگر یہ ضرور ہے کہ جن سے وحشت ہوتی ہے ان کو حقیر نہ سمجھے۔ جیسے مریض کو غذا سے نفرت و وحشت ہوتی ہے مگر اس کو حقیر نہیں سمجھتے۔
کبر کیا ہے؟
کسی بھی کمال میں اپنے آپ کو دوسرے سے اس طرح بڑا سمجھنا کہ اس کو حقیر و ذلیل سمجھے۔
کبر کا علاج
یہ سمجھنا اگر غیراختیاری ہے تو اس پر ملامت نہیں بشرطیکہ اس کے مقتضا پر عمل نہ ہو۔ یعنی زبان سے اپنی تفضیل دوسرے کی تنقیص نہ کرے۔ دوسرے کے ساتھ برتاؤ تحقیر کا نہ کرے، اور اگر قصداً ایسا سمجھتا ہے یا سمجھتا تو بلا قصد ہے لیکن اس کے مقتضائےمذکور پر بقصد عمل کرتا ہے تو مرتکب کبر کا اورمستحقِ ملامت و عقوبت ہے، اور اگر زبان سے اس کی مدح و ثنا کرے اور برتاؤ میں اس کی تعظیم کرے تو اعون فی العلاج ہے۔
وسوسۂ کبر کا علاج
سوال: اپنا حال بغرضِ اصلاح عرض ہے۔ وہ یہ ہے کہ جن لوگوں کی و ضع خلافِ شریعت ہوتی ہے یا جو خلافِ شرع اُمور میں مصروف ہوتے ہیں ان کی ان باتوں سے دل میں نفرت ہوتی ہے اور بلاضرورت ان سے ابتداسلام و کلام کرنے کو محض حق تعالیٰ کی رضامندی کے خیال سے دل نہیں چاہتا۔ بایں ہمہ اپنے کو ان سے اچھا نہیں سمجھتا اور جو باتیں اپنے اندر موافق شریعت کے پاتا ہے ان کو محض حق تعالیٰ کا فضل و احسان جانتا ہے اور ان کے زوال کا اندیشہ ہے کیوں کہ عطا بلااستحقاق ہے۔ اور جو باتیں خلافِ شریعت اپنے اندر جانتا ہے ان کو بھی بُرا اور قابلِ ترک سمجھتا ہے لیکن اپنے سے اتنی نفرت اپنے دل میں نہیں پاتا جس قدر اور لوگوں سے ان کی خلافِ شرع باتوں پر ہوتی ہے۔ اس وجہ سے اندیشۂ کبر ہوتا ہے۔
جواب: نفرت میں تفاوت ہونا کبر نہیں۔ نفرتِ اعتقادی تو دونوں جگہ یکساں ہے اور عبد اسی کا مامور ہے اور یہ تفاوت نفرتِ طبعی میں ہے۔ جیسے انسان کو اپنے پاخانہ سے نفرت کم ہوتی ہے اور دوسرے کے پاخانہ سے زیادہ ہوتی ہے اور راز اس تفاوت کا تفاوت فی المحبت ہے۔ اور ظاہر ہے کہ انسانوں کو اپنے نفس سے زیادہ محبت ہوتی ہے بہ نسبت غیر کے۔ اور یہی وجہ ہے کہ ماں کو اپنے بچے کے پاخانہ سے اتنی نفرت نہیں ہوتی جیسا غیرمحبوب کے پاخانہ سے، سو اس کا کبر سے کوئی تعلق نہیں۔
عجب و کبر کا علاج
(المرتب: محمد اختر عفااللہ عنہ )
عجب:اپنی نظر میں اپنے آپ کو اچھا سمجھنا ہے۔کبر:اپنے آپ کو بڑا سمجھنا اور دوسروں کو حقیر بھی سمجھنا اور حق بات کا قبول نہ کرنا۔ اگر کوئی شخص اپنے کو بڑا نہیں سمجھتا اور دوسروں کو حقیر نہیں سمجھتا اور حق بات قبول کرتا ہے تو یہ دولت اور سلطنت اور شاندار لباس کے باوجود تکبر میں مبتلا نہیں۔کمالاتِ اشرفیہ میں حضرت حکیم الامت مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد ہے کہ بندہ جس وقت اپنے آپ کو اچھا سمجھتا ہے اس وقت اللہ تعالیٰ کی نظر میں بُرا اور حقیر ہوتا ہے، اور جب اپنی نظر میں حقیر اور بُرا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی نظر میں بھلا اور اچھا ہوتا ہے۔ عجب اور کبر کی بیماری بے وقوف اور بے عقل لوگوں کو ہوتی ہے۔ ایک لڑکی کو رخصتی کے وقت اس کی سہیلیوں نے خوب زیور اور اچھے کپڑوں سے سجاکر کہا کہ بہن! تم کو مبارک ہو کہ بہت اچھی معلوم ہورہی ہو۔ وہ رونے لگی کہ نہ معلوم شوہر کی نظر میں میرا یہ حسن قبول ہوگا یا نہیں؟میرے حسن کا فیصلہ شوہر کے ہاتھ میں ہے، تمہارے ہاتھ میں نہیں۔ گزارہ تو شوہر کے ساتھ ہے، اسی کی نظر کا فیصلہ اصل فیصلہ ہے۔ اس لڑکی سے بھی اُس کی عقل خراب ہے جو اپنے مالک کے فیصلے سے قبل دنیا میں خود کو اچھا سمجھ رہا ہے اور چند انسانوں کی تعریف سے بے وقوف ہوگیا جبکہ قیامت کے دن کا فیصلہ باقی ہے جو اصل فیصلہ ہوگا۔ اس سے قبل اپنے کو اچھا اور بڑا سمجھنا انتہائی بے عقلی اور بے وقوفی ہے۔ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے کیا عمدہ شعر کہا ہے
ہم ایسے رہے یا کہ ویسے رہے
وہاں دیکھنا ہے کہ کیسے رہے
جو شخص لوگوں کی تعریف سے اپنے کو بڑا سمجھتا ہے اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے اپنے گھوڑے کی لاتوں کی شرارتوں سے تنگ آکر اسے دلال کو فروخت کرنے کے لیے دیا۔ دلال نے بازار میں اس گھوڑے کی خوب جھوٹی تعریفیں لوگوں کو سنانی شروع کیں۔اس بے وقوف نے کہا کہ جب اس میں یہ خوبیاں ہیں تو ہم نہیں فروخت کرتے حالاں کہ تمام عمر اس گھوڑے کی خباثت اور شرارت کا تجربہ بھول گیا۔ اسی طرح جو مدتوں اپنے نفس کی شرارتوں اور معاصی سے واقف ہے، کسی کی تعریف سے اس کا اپنے نالائق نفس کو لائق سمجھنا نہایت درجہ کا گدھا پن اور حماقت ہے۔عجب اور کبر کی بیماری سے انسان حق تعالیٰ شانہٗ کی رحمت سے محروم کردیا جاتا ہے۔ اپنی ہر صفت کو یعنی علم اور دولت اور حسن و جمال یا صحت کو حق تعالیٰ شانہٗ کا عطیہ سمجھنا چاہیے اور اس کو اپنی ذاتی صفت سمجھ کر اس پر نظر کرنا ایسا ہے جیسے کوئی عاشق اپنے محبوب کے سامنے ایک آئینہ نکال کر اپنی ہی آنکھ ناک دیکھ رہا ہو تو ایسے عاشق کو اس کا محبوب دھکے دے کر نکال باہر کردے گا۔عجب اور کبر کا مرض دنیا اور آخرت دونوں کو تباہ کردیتا ہے۔ حدیث میں وارد ہے کہ جو اپنے کو مٹائے اور تواضع اختیار کرے تو حق تعالیٰ اس کو عزت اور بلندی عطا فرماتے ہیں۔ پس یہ اپنی نظر میں حقیر ہوتا ہے مگر مخلوق کی نظر میں باعزت اور کبیر ہوتا ہے۔اور جو اپنے کو بڑا سمجھتا ہے اس کو اللہ تعالیٰ ذلیل فرماتے ہیں۔ پس وہ لوگوں کی نظروں میں حقیر ہوتا ہے اور اپنی نظر میں بڑا ہوتا ہے حتیٰ کہ مخلوق کی نظر میں وہ سور اور کتّے سے بدتر ہوتا ہے۔
علاجِ کبر از مرقاۃ
فَاِذَا رَأٰی مَنْ ھُوَ اَکْبَرُ مِنْہُ سِنًّا قَالَ ھُوَ خَیْرٌ مِّنِّیْ لِاَنَّہٗ اَکْثَرُ مِنِّیْ طَاعَۃً وَاَسْبَقُ مِنِّیْ اِیْمَانًا وَّ مَعْرِفَۃً، وَاِنْ رَأٰی اَصْغَرَ مِنْہُ قَالَ اِنَّہٗ خَیْرٌ مِّنِّیْ لِاَنَّہٗ اَقَلُّ مِنِّیْ مَعْصِیَۃً.
جب اپنے سے بڑی عمر والے کو دیکھے تو یہ کہے کہ وہ ہم سے بہتر ہیں کیوں کہ ان کی طاعات ہم سے زیادہ ہیں اور ایمان و معرفت میں ہم سے بڑھے ہوئے ہیں، اور اگر اپنے سے عمر میں چھوٹے کو دیکھے تو یہ کہے کہ وہ مجھ سے بہتر ہیں کیوں کہ ان کی معصیت مجھ سے کم ہے۔



![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



