رمضان المبارک۱۴۴۳ ھ میں افغانستان پر بمباری کرنے والے پاکستانی ہوا بازوں کے نام ایک مجاہد کا پیغام
جنرل ڈیوٹی پائیلٹ (GD Pilot)بننا ہمارے ہاں آسان تو نہیں۔ آپ نے بھی یقیناً بہت محنت کی ہوگی۔ آخرکار ایک چارمنگ وائٹ کالر جاب ہے۔ ماں باپ کتنے خوش ہوں گے بیٹا ، بیٹی کو کامیاب سمجھ کر۔ آخر کتنا عرصہ انہوں نے اسی کے لیے محنت کر کر کے پالا پوسا۔ معاشرے میں ، خاندان میں ، دوستوں میں آپ کی عزت ہوتی ہوگی۔ لوگ کہتے ہوں گے کہ برسوں کی محنت تھی جس کا صلہ مل گیا۔ نوجوان بھی آپ سے مشورے مانگتے ہوں گے کہ کیسے وہ بھی اپنا کیرئیر آپ جیسا بنائیں۔ خود ائیر فورس میں جی ڈی پائیلٹ کو جو عزت ملتی ہے باقی شعبوں والوں کو کہا ں اتنی عزت ملا کرتی ہے؟
لیکن وہاں اتنی مقبولیت کے باوجود پتہ نہیں یہاں دور دراز ان پہاڑوں میں ایک بستی ہے جہاں کے چھوٹے بڑے، مرد و خواتین ، امیر و غریب ، یہاں تک کے چرواہے، جو دنیا سے بے غرض صبح سے شام تک اپنے ریوڑ ہی کو دیکھتے رہتے ہیں اور دنیا سے بالکل بے خبر ہوتے ہیں، وہ آپ سے، آپ کے نام سے اور آپ کے کام سے نفرت کرتے ہیں؟ شاید ان کو پتا نہیں کہ آپ کتنے قابل ہیں، آپ کتنے لائق ہیں، آپ کتنے محنتی ہیں، آپ کی سوچ کتنی جدید ہے، آپ کا رہن سہن کتنا انوکھا اور جدید تقاضوں کے مطابق ہے؟ شاید ان کو آپ کے چارمنگ کیرئیر کا پتہ نہیں؟ یہ بے چارے پہاڑ پر بسنے والے کیا جانیں جی ڈی پائیلٹ کیا ہوتا ہے؟
لیکن جب یہ آپ کو جانتے تک نہیں پھر یہ آپ سے نفرت کیوں کر رہے ہیں؟ یہ آپ کو رو رو کر بد دعائیں کیوں دے رہے ہیں؟ یہ آپ سے خفا کیوں ہیں؟ آپ کا ان کے ساتھ کیا معاملہ ہے جو یہ آپ سے اتنے بد دل ہیں؟ آخر کیوں؟
آپ کو پتہ نہیں کہ کیوں، تو وہ دیکھیں…! وہ دیکھیں، یہ جو اکیلا بچہ بیٹھا ہے آپ نے اس کے پورے خاندان کو اس سے چھینا ہے۔ آپ نے اس سے اس کا مشفق بابا، اس کی پیار کرنے والی ماں، اس کے ساتھ کھیلنے والا اس کا بھائی، اس کی پیاری چھوٹی بہن اس سے چھینی ہے۔ پتہ ہے آپ کو؟ وہ جو بوڑھا وہاں قبر کے سامنے رو رہا ہے، پتہ ہے آپ نے اس سے اس کا جواں سال بیٹا چھینا ہے؟ وہ سنیں، اس گھر سے خواتین کی رونے کی آواز آرہی ہے، کئی بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا، پتہ ہے یہ بہنیں کہہ رہی ہیں کہ آپ نے مارا ہے اس کو؟ آپ کو کچھ پتہ نہیں کہ آپ نے اس رات بمباری کرکے کتنے بچوں کو ہمیشہ کے لیے اپنے پیاروں سے رخصت کیا؟ آپ کو کچھ پتہ نہیں، آپ نے کتنے ہی خواتین کے سہاگ اجاڑ کر ان کے دل ایسے توڑے جو پھر کبھی نہیں جڑ سکتے؟ کیا آپ کو کچھ پتہ نہیں کہ اس رات آپ نے ایک خاندان کے اٹھائیس بندوں کو ایک ہی وار میں اپنی پیشہ ور مہارت کا نشانہ بنایا؟ کیا آپ کو کچھ بھی پتہ نہیں کہ آپ نے کیا کیا؟ کتنا بڑا ظلم کیا ؟ بچوں، عورتوں، جوانوں اور بوڑھوں کو مار نے کے بعد آپ کو کچھ بھی پتہ نہیں کہ آپ نے کیا کیا؟
احساس…… ایک جید افغان عالمِ دین استاد محمد یاسر رحمہ اللہ کہا کرتے تھے کہ ’احساس ختم کردو، اپنے نفس سے احساس کو ماردو پھر جو چاہے کرو‘۔ کیا مسئلہ ہے جو آپ نے اتنے قتل کیے، آپ کو تو کوئی مسئلہ ہی نہیں، آخر کیوں؟ آپ میں احساس نہیں ہے۔
اگر احساس ہوتا تب؟ تب آپ کسی مسلمان کو قتل کیا اس کی طرف بری نگاہ اٹھانے سے بھی ڈرتے۔ اگر احساس ہوتا تو جہنم کے ڈر سے آپ کبھی ایسا نہیں کرتے۔ اگر احساس ہوتا تو آپ اپنے کمانڈر سے معذرت کر لیتے کہ افغانستان کی بستیوں میں مسلمان رہتے ہیں اور مسلمانوں کو مارنا جائز نہیں، حرام ہے، سختی سے منع ہے، ہمیشہ ہمیشہ کی جہنم ہے۔ اگر احساس ہوتا تب ناں……
لیکن شاید آپ کو کہا گیا ہو کہ آپ نے انڈیا پر بمباری کرنی ہے؟ انڈیا میں ہمارے مسلمان بہن بھائیوں پر بہت ظلم ہورہا ہے اور آپ اس کا بدلہ لیں، اسے روکنے کی کوشش کریں، مساجد، مدارس یہاں تک کہ اب تو گھروں کو مسمار کیا جارہا ہے، اس ظالم اسلام دشمن، اسلام نہیں تو پاکستان دشمن ہندو کو سبق سکھائیں۔ ہوسکتا ہے، لیکن کیسے؟ کیا آپ کو ٹریک نہیں دیا گیا؟ کیا آپ نے نقشے پر پلان نہیں دیکھا؟ آپ کا ٹریک تو مغرب کی طرف تھا اور انڈیا مشرق میں ہے؟
لیکن انڈیا تو آپ کی پالیسی کے مطابق غیر ملک ہے اور وہاں ہم کیوں مداخلت کریں؟ انڈیا جانے اور اس کے مسلمان، ہمیں کیا ہر کسی کا مسئلہ اپنے سر لینے کا؟ لیکن آپ کے بقول کشمیر تو آپ کا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آپ کو یہ کہا گیا ہو کہ ہر روز ہمارے کشمیری بہنوں اور بھائیوں پر جو ظلم ہورہا ہے آپ نے اس کا بدلہ لینا ہے اور آپ نے حامی بھری ہو۔ آپ نے جذبے کے ساتھ مشن پورا کرنے کا عہد کیا ہو، آپ نے جہاز کو بموں سے لوڈ کرتے ہوئے جانچا ہو، جب جہاز میں تیل (fuel) ڈالاجارہا تھا آپ خوشی سے اور جذبے میں آگئے ہو کہ آج اسلام دشمن، چلو اسلام اگر نہیں تو پاکستان دشمن ظالم انڈین فوج کے خلاف کارروائی کرنی ہے؟
لیکن یہ کیا؟ کشمیر تومشرق میں ہے، بمباری مغرب میں؟
ہوسکتا ہے آپ کو کہا گیا ہو کہ آپ نے افغانستان میں بہت بڑے، خطرناک اور مضر دہشت گردوں کو مارنا ہے اور آپ نے یہ کارروائی کی ہو؟
لیکن یہ کیا……؟ آپ کے بم تو مسلمان بستی کے بچوں پر گر رہے ہیں۔ آپ کی بمباری کی زد میں تو ایک غریب گھرانہ آیا ہوا ہے۔ آپ نے تو خواتین کو مارا ہے۔ آپ کے بٹن دبانے سے تو وہ سفید ریش بابا لہو لہان ہے۔ وہ لاش تو ایک چرواہے کی ہے۔ آپ کی بمباری سے تو ایک غریب گھرانہ پورا کا پورا اس دنیا سے چلا گیا؟ ان مٹی کے کچے گھروں میں آپ نے کس بڑے دہشت گرد کو مارا؟ اس کا نام کیا تھا؟ کچھ معلومات آپ کو بھی تو ہونی چاہییں؟
ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ کے عنوان کے تحت یہ خوش نصیبی ہے، کم نصیبی یا بد نصیبی؟ کہ تمہارے ہاتھ ان معصوموں کے خون سے رنگے ہیں۔ پتہ ہے ہمارا رب کیا کہتا ہے ناحق قتل کے بارے میں؟ کسی معصوم کو قتل کرنا کتنا بڑا جرم ہے؟ اللہ رب العزت فرماتے ہیں:
وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاۗؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِيْھَا وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهٗ وَاَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِيْمًا
’’اور جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی جزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے۔ اور اللہ نے اس کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘
امریکہ اس خطے سے جا چکا ہے، جس جنگ کے بیج امریکہ نے بوئے تھے، ان کو تلف کیجیے۔ ابھی بھی وقت ہے کہ توبہ کی جائے اور مسلمانوں کے خلاف لڑنے سے انکار کیا جائے لیکن…… ’’احساس اگر ہو تب!‘‘۔
٭٭٭٭٭







![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



