صحافی ماجد نظامی نے اپنے ایکس (ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر برطانوی پولیس اور پنجاب پولیس کی مماثلت رکھنے والی چند تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا:
’’پنجاب کے مختلف اضلاع میں ٹریفک پولیس کی یونیفارم بتدریج تبدیل کی جا رہی ہے۔ برطانوی پولیس کی یونیفارم کاپی کرنے والے عقل مندوں کو یہ خیال نہیں آیا کہ پنجاب کے وارڈنز 42 سینٹی گریڈ میں پسینے سے شرابور سفید شرٹ کے ساتھ کیسے ڈیوٹی سر انجام دیں گے۔ برطانوی پولیس تو اوسطاً 25 ڈگری کے موسم میں فرائض سر انجام دیتی ہے اور وہاں بلیک ٹی شرٹ بھی یونیفارم میں شامل ہوتی ہے۔ نجانے ایسے مشورے کون دیتا ہے۔‘‘
مغربی تہذیب سے مرعوبیت وہ بیماری ہے جو پاکستان پر مسلط فوجی و سول حکمرانوں، بیوروکریسی ، عدلیہ و میڈیا سمیت ملک کے ہر شعبے میں واضح نظر آتی ہے۔ انگریز جس نے یہ نظام برصغیر پر قبضے کو مستحکم رکھنے کے لیے بنایا تھا، اس کو فوجی و سیاسی قیادت نے کبھی بھی تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی نہ ہی ایسا کوئی ارادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فوج پولیس اور دیگر سکیورٹی ادارے اسی آقائی ذہنیت اور نظر سے عام عوام کو دیکھتے ہیں۔ اہل نظر تو اس بیماری کو اس وقت ہی پہچان گئے تھے جس وقت اس دجل و فریب کا بیج بویا جا رہا تھا۔ جن دنوں سر سید احمد خان ہندوستانی مسلمانوں کو مفاہمت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے انگریزوں سے دوستی کی تلقین کیا کرتا تھا اور انگریزی تہذیب کے فضائل بیان کیا کرتا تھا، اس وقت بھی سر سید کے مخالفین پر انتہا پسندی کے الزام لگائے جاتے تھے۔ سر سید کے مخالفین میں ایک نام اکبر الہ آبادی کا بھی تھا ڈاکٹر سبحان اللہ کے بقول آج کے نو استعماری پالیسیوں کا تجزیہ کرتے ہوئے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ اکبر الہ آبادی کا نقطۂ نظر درست تھا کیونکہ سر سید کی مفاہمت اور انگریز پسندی نے ما بعد استعماریت کے لیے پہلی سیڑھی کا کام کیا۔ اکبر الہ آبادی نے اپنے اشعار میں مغربی استعمار اور ان کی مذہبی، تہذیبی، لسانی، تاریخ و تمدنی پالیسیوں کو کھل کر تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں:
یہ موجودہ طریقے راہیٔ ملک عدم ہوں گے
نئی تہذیب ہو گی اور نئے ساماں بہم ہوں گے
……
عقائد پر قیامت آئے گی ترمیمِ ملت سے
نیا کعبہ بنے گا مغربی پتلے صنم ہوں گے
بہت ہوں گے مغنی نغمۂ تقلیدِ یورپ کے
مگر بے جوڑ ہوں گے اس لیے بے تال و سم ہوں گے
ہماری اصطلاحوں سے زباں نا آشنا ہو گی
لغات مغربی بازار کی بھاشا سے ضم ہوں گے
گزشتہ عظمتوں کے تذکرے بھی رہ نہ جائیں گے
کتابوں ہی میں دفن افسانۂ جاہ و حشم ہوں گے
ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
جس روشنی میں لوٹ ہی کی آپ ہمیں سوجھے
تہذیب کی میں اس کو تجلی نہ کہوں گا
لاکھوں کو مٹا کر جو ہزاروں کو ابھارے
اس کو تو میں دنیا میں ترقی نہ کہوں گا
جہاں ایک طرف علمائے کرام مسلمانوں کو انگریز سامراج کی جھوٹی تہذیب کے فتنے سے بچانے کے لیے میدان میں موجود رہے، وہیں ہم دیکھتے ہیں کہ برصغیر میں شعراء کی ایک بڑی تعداد نے اپنے اشعار کے ذریعے مغربی تہذیب کا مکروہ چہرہ عوام کے سامنے پیش کیا ۔
ڈاکٹر آغا مظفر حسنین مغربی تہذیب کے خلاف اکبر الہ آبادی کے سخت نقطۂ نظر کے متعلق لکھتے ہیں:
’’1857ء کی شکست کے بعد ہندوستانیوں کا ایک طبقہ انگریزوں کے تسلط کو دائمی جان کر مغربی تہذیب کی اندھی تقلید پر اتر آیا۔ یہ وہ طبقہ تھا جو مغرب کی سائنسی ترقی اور انگریزوں کے انتظامی امور سے بھی خاصہ مرعوب تھا۔ ان کے اس طرز عمل کو اپنی طنزیہ اور ظریفانہ انفرادیت کے ذریعے جس شاعر نے سب سے زیادہ ہدفِ ملامت بنایا وہ اکبر الہ آبادی تھے۔‘‘1بحوالہ : مزاحمت اور پاکستانی اردو شاعری ص 55
جس طرح آج سیکولر ، سوشلسٹ اور دیگر دین مخالف افراد کو اردو ادب کا ترجمان بنا کر پروموٹ کیا جا رہا ہے، یہ کوششیں انگریز دور میں ہی شروع ہو چکی تھیں۔ اسی تناظر میں ایک انجمن قائم کی گئی۔ ڈاکٹر سبحان اللہ کے بقول اس انجمن کا مقصد تعلیمی نصاب کے لیے ایسی نظمیں تخلیق کرنا تھا جس کی مدد سے ہندوستانی تہذیب و تاریخ کو کمتر ثابت کرنا اور استعماری جبر و ستم کی بجائے انگریزی سامراج کی اعلیٰ و برتر شبیہ لوگوں کے سامنے پیش کرنا تھا۔ اس ادارے (انجمن) کا مقصد انگریز کی پالیسیوں کی تعریف و توصیف کرنا تھا۔
ڈاکٹر سہیل احمد اپنے پی ایچ ڈی مقالے میں لکھتے ہیں کہ ان مشاعروں میں ایسی نظمیں پڑھی جانے لگیں جو استعمار مخالف تھیں جن کے سبب مذکورہ انجمن کے مشاعرے بند ہو گئے ۔ 2پی ایچ ڈی مقالہ جدید اردو نظم میں مغربی استعمار کے خلاف مزاحمت ص 199
علی گڑھ سے الگ ہو کر ندوۃ العلماء کی بنیاد رکھنے والے شبلی نعمانی جو جدید تعلیم کے حامی تو تھے مگر انگریزوں کی اصلیت سے بھی واقف تھے، اس لئے انہوں نے بھی انگریزوں کے عزائم بے نقاب کیے ۔ وہ لکھتے ہیں:
آپ نے ہم کو سکھائے ہیں جو یورپ کے علوم
اس ضرورت سے نہیں قوم کو ہرگز انکار
بحث یہ ہے کہ وہ اس طرز سے بھی ممکن تھا
کہ نہ گھٹتا کبھی ناموس شریعت کا وقار
ہم نے پہلے بھی تو اغیار کے سیکھے تھے علوم
ہم نے پہلے بھی تو اس نشہ کا دیکھا ہے خمار
نام لیتے تھے ارسطو کا ادب سے ہرچند
تھے فلاطوں الٰہی کے بھی گو شکر گزار
جانتے تھے مگر اس بات کو بھی اہلِ نظر
کہ حریفوں کو نہیں انجمنِ خاص میں بار
یعنی یہ بادۂ عرفاں کے نہیں ذوق شناس
بزمِ اسرار کے یہ لوگ نہیں بادہ گسار
آج ہر بات میں ہے شانِ تفریح پیدا
آج ہر رنگ میں یورپ کے نمایاں ہیں شعار
ہیں شریعت کے مسائل بھی وہیں تک محدود
کہ جہاں تک انہیں معقول بتائیں اغیار
ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
کوئی پوچھے کہ اے تہذیب انسانی کے استادو
یہ ظلم آرائیاں تابہ کے یہ حشر انگیزیاں کب تک
……
یہ مانا تم کو تلواروں کی تیزی آزمانی ہے
ہماری گردنوں پر ہو گا اس کا امتحاں کب تک
……
کہاں تک لوگے ہم سے انتقام فتح ایوبی
دکھاؤ گے ہمیں جنگ صلیبی کا سماں کب تک
علامہ محمد اقبال کی شاعری میں بھی ہمیں مغربی تہذیب کی مادہ پرستی، لادینیت، استعماریت، سرمایہ داری اور انگریزی غلامی کے خلاف تنقید ملتی ہے۔ پروفیسر انور رومان لکھتے ہیں:
’’اقبال یورپ کو روحانی و بنیادی روشنی سے محروم سمجھتے تھے۔ گم کردہ راہ، خلاؤں میں گھومتا ہوا اور تلاش حق میں کبھی ایک انتہا کی جانب کبھی دوسری انتہا کی جانب دوڑتا ہوا بھاگتا ہوا، وطنیت و قومیت ، مذہب و سیاست کی علیحدگی، سرمایہ داری، جمہوریت، سامراجیت، استحصال، استعمار وغیرہ سب انتہائیں تھیں لیکن نہ ان انتہاؤں کو ابتداؤں کے پیل پائے میسر تھے نہ ان سے تلاش متصل کی تسکین ہوتی تھی اور نہ ان سے کوئی انسانی فلاح حاصل ہوتی تھی۔ بس ایک خوفناک انتشار و خلفشار تھا جو ہر وقت یورپ میں برپا تھا اور استعمار کی وجہ سے پورے کرہ ٔ ارض کو تیرہ و تار کر رہا تھا۔ اس کی یہ ارض گیری علامہ اقبال کے لیے تشویشناک تھی۔‘‘3اقبال اور مغربی استعمار ص 47
اس موضوع پر اقبال کے کچھ اشعار پیش ہیں:
فسادِ قلب و نظر ہے فرنگ کی تہذیب
کہ روح اس مدنیت کی رہ سکی نہ عفيف
رہے نہ روح میں پاکیزگی تو ہے ناپید
ضمیرِ پاک و خیالِ بلند و ذوقِ لطیف4مغربی تہذیب ، ضرب کلیم
نظر کو خِیرہ کرتی ہے چمک تہذیبِ حاضر کی
یہ صنّاعی مگر جھُوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے
وہ حکمت ناز تھا جس پر خردمندانِ مغرب کو
ہوَس کے پنجۂ خُونیں میں تیغِ کارزاری ہے
تدبّر کی فسُوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتا
جہاں میں جس تمدّن کی بِنا سرمایہ داری ہے5طلوعِ اسلام
اقبالؔ کو شک اس کی شرافت میں نہیں ہے
ہر ملّتِ مظلوم کا یورپ ہے خریدار
یہ پِیرِ کلیسا کی کرامت ہے کہ اس نے
بجلی کے چراغوں سے منوّر کیے افکار
جلتا ہے مگر شام و فلسطیں پہ مرا دل
تدبیر سے کھُلتا نہیں یہ عُقدۂ دشوار
تُرکانِ ’جفا پیشہ‘ کے پنجے سے نکل کر
بیچارے ہیں تہذیب کے پھندے میں گرفتار6دامِ تہذیب
آج انگریزی نظام تعلیم سے تیار ہونے والی کھیپ ملکی نظام کے ہر شعبے سے جس ڈھٹائی کے ساتھ اسلام کی بچی کھچی بنیادوں کو کاٹنا چاہتی ہے، کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ایک ہسپتال کی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں خواتین ڈاکٹر ایک آپریشن تھیٹر کی ویڈیو فخریہ ریکارڈ کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ سامنے دو زچگی کے کیسز ہیں دونوں میں ریس ہے دیکھتے ہیں پہلے کون ڈیلیوری مکمل کرتا ہے ۔ ویڈیو بناتے ہوئے خواتین قہقہے لگا رہی ہیں، ان کے آس پاس مرد ڈاکٹر بھی موجود ہیں۔ اگرچہ اس ویڈیو میں زچگی کے عمل سے گزرنے والی خواتین کی شناخت ظاہر نہیں ہوئی لیکن پھر بھی ذرا اندازہ لگائیں کہ جن مریض خواتین کے آپریشن کی یہ ویڈیو ہے ان تک بھی یہ خبر اور ویڈیو پہنچی ہو گی تو وہ کس کرب سے گزری ہوں گی یا ویسے بھی یہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد کسی بھی با حیا خاتون کا پاکستان میں موجود ہسپتالوں کے لیے کیا تاثر ہو گا؟ تعلیمی اداروں میں تعلیم معیاری ہے یا نہیں لیکن موسیقی ناچ گانے کے پروگرام ، اور لڑکے لڑکیوں کے مابین دوستی معاشقوں کے مواقع بھرپور ہیں۔ اکثریت ان خرافات کا شکار ہو کر جو نام نہاد دنیوی تعلیم ہے اس سے بھی عاری رہتی ہے اور جو چند فیصد پروفیشنلز مختلف اداروں میں کھپت کے لیے تیار ہوتے بھی ہیں تو وہ بھی بنیادی طور پر پیسے کی مشین ہی ہوتے ہیں ۔ پاکستان میں اس وقت ائیروسپیس ٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی رکھنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بھی موجود ہیں جو اپنی ایکسپرٹیز ایسی ڈرون کمپنیوں کو فراہم کرتے ہیں جو پاکستانی فوج کو ڈرون فراہم کر رہی ہیں۔ کیا ان کمپنیوں میں کام کرنے والے کسی پاکستانی کا ضمیر جاگے گا کہ وہ جو ڈرون تیار کر کے پاکستانی فوج کے حوالے کر رہے ہیں وہ ان کے ذریعے کن پر بم گراتی ہے؟ کیا ان جنگی جہازوں اور گن شپ ہیلی کاپٹروں کے پائلٹس کا ضمیر جاگے گا یا ان فوجی افسران کا جو دو دہائیاں سے امریکہ کی جنگ لڑ کر بھی خود کو حق پر تصور کرتے ہیں؟ مغربی تہذیب سے مرعوبیت اور مادہ پرستی کی جو بنیادیں قیام پاکستان سے قبل ڈالی گئی تھیں ان کا ہدف بھی یہی تھا کہ ایک ایسی نسل پروان چڑھے جو انگریزی نظام، تہذیب ، معاشرت، قانون ، افکار سب کچھ دل و جان سے قبول کر لے اور اسی کو اپنی کامیابی سمجھے ۔ اس وقت ملک چھوڑنے والوں کی اکثریت ملک کی معاشی صورتحال، بدامنی ، بے روزگاری اور دیگر مسائل کے سبب ملک چھوڑنا چاہتی ہے لیکن اس سے قبل جب یہاں معاشی صورتحال خراب نہیں تھی تب بھی یہ سلسلہ کبھی نہیں رکا۔ مغربی ممالک میں رہنے کا خواب دیکھنے کی بیماری تقریباً سبھی مسلم معاشروں میں موجود ہے کہیں کم تو کہیں زیادہ۔ باوجود اس کے کہ وہ جانتے ہیں کہ وہاں رہتے ہوئے ان کی آئندہ نسلیں دین سے دور ہوں گی حتی کہ نام کی مسلمان رہ جائیں گی، لیکن پھر بھی وہ یہ گھاٹے کا سودا کرنے کے لیے اپنا سب کچھ لگا ڈالتے ہیں حتیٰ کہ خطرناک راستوں سے پہنچنے کے چکر میں جانیں گنوا بیٹھتے ہیں۔
مولانا احمد عبید اللہ یاسر قاسمی لکھتے :
’’موجودہ دور کے جو فتنے سر ابھار رہے ہیں وہ ایک خطرناک ترین سازش اور تعصب پر مبنی اسلام دشمنی اور اہل اسلام سے ازلی عداوت و نفرت کا شاخسانہ ہے، شاید یہی وہ ذہنی، فکری و عملی ارتداد ہے جو سب سے پہلے انسان کے ظاہری طبیعت پر اثر انداز ہو کر اس کے باطن سے ایمان کی حقیقی لذت چھین لیتا ہے ۔ بقول مفکر اسلام ابو الحسن علی میاں ندوی رحمہ اللہ ’ردۃ ولا ابا بکر لہا‘ (یہ ایک ایسا ارتداد ہے جس کے لیے کوئی ابوبکر نہیں ہے) شاید اس جملے پر کسی شخص کو اعتراض ہو، لیکن راقم الحروف صد فی صد متفق ہے، کیونکہ ہمیں اس کا اندازہ ہی نہیں کہ ہم ایک صریح فکری تہذیبی و ثقافتی ارتداد میں جھونک دیے گئے ہیں جہاں سے واپسی کی راہ کافی دور ہو چکی ہے اور ہر کوئی اس سے بے اعتنائی کا شکار ہے۔ اگر ہم اس پر غور کریں تو معلوم ہو گا کہ ہماری صبح و شام میں مغربی تہذیب و ثقافت کے آثار ہیں، بلکہ دنیا میں پائے جانے والے تمام مذاہب میں مغربی الحاد اور بے دینی کی لہر ہے، حتیٰ کہ مذاہب کا اثر لوگوں میں صرف ناموں تک رہ گیا ہے باقی سب رسومات و عبادات اخلاقیات و معاشرت اسی تہذیب مغرب کی نذر ہو کر تباہ و برباد ہو گئے ہیں۔ ہمارے معاشرہ کا سرمایہ دار طبقہ مغربی تہذیب و ثقافت کا دلدادہ بن چکا ہے، ہمارا موجودہ تعلیمی نظام بھی اسی طبقہ کے ہاتھ میں ہے جس کی وجہ سے کالجوں اور یونیورسٹیوں سے نکلنے والے طلباء کی اکثریت مغربی (افرنگی) تہذیب و ثقافت کی دلدادہ بن رہی ہے۔ یہ سلسلہ مسلسل تیزی کے ساتھ جاری ہے، اگر اس ارتداد کی طرف فوراً توجہ نہ دی جائے اور اگر اسے یونہی جاری رہنے دیا جائے تو بہت جلد اکثریت کا اسلام سے جذباتی لگاؤ بھی ختم ہونے لگے گا۔‘‘7بحوالہ مضمون: مغربی تہذیب و ثقافت کی حقیقت اور معاشرہ پر اس کے سنگین اثرات، دارالعلوم دیوبند ہندوستان۔
سوال یہ ہے کہ مغربی تہذیب کا یہ سیلاب جو ہماری اجتماعی زندگیوں کو روندتا ہوا اب ہماری انفرادی زندگی اور گھروں تک آن پہنچا ہے کیا اسے روکنے کے لیے ہمیں فقط دعاؤں پر اکتفا کرنا ہے یا یہ حالات ٹھوس اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں۔ بہت سے مخلص دانشور آج خود یہ اعتراف کر رہے ہیں کہ موجودہ تعلیمی نظام جس میں آخرت تو کبھی ترجیح تھی ہی نہیں اب ہماری دنیاوی ضروریات پوری کرنے کے قابل بھی نہیں رہا تو اس نظام میں اب بچا کیا ہے کہ اس کے لیے تگ و دو کی جائے ؟ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی اور اپنے آنے والی نسلوں کے لیے ترجیحات کا تعین کریں۔ یہ وقت حق و باطل کے مابین آخری معرکے کا وقت ہے ۔ اگر ہم نے اس کے لیے تیاری کی جیسا کہ اللہ اور اس کے سچے رسول ﷺ کا حکم ہے تو ہم امید کر سکتے ہیں کہ ہم اپنی آخرت بچانے میں کامیاب ہوں گے، لیکن اگر اس نازک وقت میں بھی ہماری ترجیح دنیاوی آسائش آرام ترقی اور پیسہ رہا تو یہ سراسر خسارہ ہو گا۔ بقول مولانا عاصم عمر :
’’اسلام آپ سے آپ کی طاقت سے زیادہ قربانی نہیں مانگتا، لہذا جو آپ کی طاقت میں ہے وہ آپ کو ہر حال میں کرنا چاہیے اور اپنی ذمہ داریوں کو پوری دیانت داری سے نبھانا چاہیے۔ ظاہر ہے ایمان جیسی عظیم دولت کو بغیر کسی قربانی دیے تو نہیں بچایا جا سکتا بلکہ اس کے لیے انہی حالات کا سامنا کرنا پڑے گا جو پہلے والوں کو پیش آئے ۔ سو یہ کام طبیعت پر گراں گزرے گا لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ اس دور کی مشکلات کی طرح حق پر ڈٹ جانے والوں کے لیے آقائے مدنی ﷺ نے فضائل بھی اتنے ہی زیادہ بیان فرمائے ہیں۔ لہذا دلوں کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ہر اہل ایمان کو جہاد کے فضائل، مجاہد کے لیے انعامات اور شہید کے درجات والی آیات و احادیث کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ اس کے دل سے شیطان کے وسوسے دور ہو جائیں اور اللہ کے وعدوں پر یقین آجائے کہ دجال کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو حق والوں کو حق سے نہیں ہٹا سکتا، باطل کتنا ہی سج دھج کر آ جائے ہمیشہ باطل ہی رہے گا اور حق کتنا ہی بے سر و سامان نظر آئے غالب حق ہی کو ہونا ہے ۔‘‘ 8تیسری جنگ عظیم اور دجال ، ص 215
- 1بحوالہ : مزاحمت اور پاکستانی اردو شاعری ص 55
- 2پی ایچ ڈی مقالہ جدید اردو نظم میں مغربی استعمار کے خلاف مزاحمت ص 199
- 3اقبال اور مغربی استعمار ص 47
- 4مغربی تہذیب ، ضرب کلیم
- 5طلوعِ اسلام
- 6دامِ تہذیب
- 7بحوالہ مضمون: مغربی تہذیب و ثقافت کی حقیقت اور معاشرہ پر اس کے سنگین اثرات، دارالعلوم دیوبند ہندوستان۔
- 8تیسری جنگ عظیم اور دجال ، ص 215









![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



