۲۸ فروری کی صبح اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر مشترکہ حملہ کر کے جس جنگ کا آغاز کیا ہے وہ صرف چھ دن میں ہی خطے کے گیارہ ممالک تک نہ صرف پھیل گئی ہے بلکہ حالات اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ابھی یہ جنگ مزید پھیلے گی اور اس کے علاقائی اور عالمی اثرات بہت گہرے ہوں گے۔ اس کی ایک اہم وجہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے پہلے ہی حملے میں ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کو نشانہ بنانا ہے۔ ٹرمپ نے خامنہ ای کو نشانہ بنا کر اپنے خطاب میں کہا:
”یہ (خامنہ ای کی موت) ایرانی عوام کے لیے تاریخی موقع ہے کہ وہ اپنا ملک واپس لیں، موجودہ رجیم کے خلاف اٹھیں، آزادی کا لمحہ آپ کے ہاتھ میں ہے ۔“
لیکن یہ دعویٰ اسے الٹا پڑ گیا جب ایرانی پاسداران انقلاب نے جوابی حملوں میں اسرائیل کو براہ راست اور خلیجی ممالک میں امریکہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور خامنہ ای کے غم میں عوام سڑکوں پر امڈ آئی۔
یوں تو اسرائیل کافی سالوں سے ایران پر حملہ کرنے کے عزائم کا مسلسل اظہار کر رہا تھا۔ لیکن اس وقت حملہ کرنے کے پس پردہ کیا محرکات ہو سکتے ہیں، ذرا ن پر نظر ڈالتے ہیں:
- غزہ اور مغربی کنارے میں مسلسل جاری فلسطینی نسل کشی اور املاک پر قبضہ پر پردہ ڈالنا کیونکہ مین سٹریم میڈیا پر غزہ ہی فوکس پوائنٹ تھا، نیز غزہ میں اپنی ناکامی سے توجہ ہٹانا اور خطے میں صہیونی بالا دستی قائم کرنا جو کہ گریٹر اسرائیل کی طرف ایک اہم قدم ہو گا۔ جبکہ امریکہ جو اس کا مائی باپ ہے وہ کیسے اسے اکیلا چھوڑ دیتا۔ لہذا ٹرمپ جو وقت کا فرعون بنا بیٹھا ہے اور اپنے آپ کو ہر قانون سے بالاتر سمجھتا ہے اس کے حکم پر صرف دو دنوں میں ایران پر امریکہ نے دو ہزار سے زیادہ اور اسرائیل نے بارہ سو سے زیادہ حملے کیے اور پوری قیادت کو نشانہ بنایا۔
- دوسری وجہ جو عین ان دنوں ایران پر حملہ کرنے کی ہے حالانکہ ایران کی طرف سے اس وقت کوئی خطرہ بھی موجود نہیں تھا وہ ایپسٹین فائلز سے ہونے والی بدنامی ہے۔ جس طرح سے ٹرمپ اور دیگر با اثر لوگوں کے نام اور ان کے گھناؤنے کرتوت سامنے آ رہے تھے اس لیے ٹرمپ کو خطرہ تھا کہ اسے بل کلنٹن جیسے انجام سے دوچار ہونا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے میڈیا اور عوام کی اس موضوع سے توجہ ہٹانے کے لیے اس نے یہ جنگ چھیڑی اور نظر آ رہا ہے کہ وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب بھی رہا۔
اس حملے کے جواب میں ایران کے جوابی حملے بہت اہمیت کے حامل ہیں ۔ایران نے اپنے جغرافیائی محل وقوع کا پورا پورا فائدہ اٹھایا اور ایسی جنگی حکمت عملی ترتیب دی جس نے امریکہ اور اسرائیل کو بوکھلا دیا۔ اسرائیل تو ایرانی میزائیل اور خود کش ڈرونز ’شاہد‘ کا مسلسل نشانہ بن رہا ہے جبکہ دوسری طرف ایران نے نہ صرف مشرق وسطی میں امریکی اڈوں، سفارتی دفاتر اور امریکی و یورپی ٹھکانوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا بلکہ مشرق وسطی میں موجود تیل اور گیس کے ذخائر، صنعتی اہداف اور توانائی کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔ نتیجتاً امریکہ کو پورے مشرق وسطی سے اپنے سفارتی عملے اور امریکی شہریوں کو نکالنا پڑ رہا ہے۔ ایران نے جن اہداف کو نشانہ بنایا ہے اس سے لگتا ہے کہ ایران نے ایک طویل جنگ کی تیاری کر رکھی ہے اور ’ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے‘ کے مصداق پورے خطے کو اس جنگ میں گھسیٹ لیا ہے۔ اس سے اسرائیل برہ راست نشانے پر آ گیا ہے اور ہم نے تل ابیب اور اسرائیل کے مختلف شہروں پر میزائیلوں کی بارش کے مناظر دیکھے جس سے ہر مسلمان کے دل کو ٹھنڈک ملی ہو گی۔ سعودی عرب، اردن، قطر کویت، بحرین، متحدہ عرب امارات و عمان وغیرہ یہ وہ ممالک ہیں جنہوں نے نہ صرف غزہ میں دو سال سے زیادہ عرصے سے جاری جنگ میں غزہ کی آہ و بکا سن کر بھی مجرمانہ خاموشی اختیار کیے رکھی بلکہ اب تو یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ کس طرح یہ تمام حکومتیں اسرائیل کی پس پردہ پوری مدد و حمایت بھی کرتی رہیں۔ فلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی میں یہ سب برابر کے شریک ہیں۔
دوسرا اہم قدم جو ایران نے اٹھایا ہے وہ آبنائے ہرمز کی بندش ہے۔ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) ۳۳ کلومیٹر چوڑی ایسی آبی گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے بیس فیصد تیل اور تیس فیصد گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔
آبنائے ہرمز سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور ایران سے یومیہ تقریباً اکیس ملین بیرل تیل دیگر ممالک کو پہنچایا جاتا ہے، ان ملکوں میں پاکستان، چین، جاپان، جنوبی کوری ، یورپ، شمالی امریکہ اور دنیا کے دیگر ممالک شامل ہیں۔ جبکہ واپسی پر تجارتی و غذائی اشیاء کی مشرق وسطیٰ میں ترسیل کی جاتی ہے۔ اس طرح دیکھا جائے تو آبنائے ہرمز دنیا کے بیشتر ممالک کی لائف لائن ہے اور اسے بند کرنے کا مطلب ہے کہ تیل اور گیس کی قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ اور چونکہ تیل کی ساری تجارت ڈالروں میں ہوتی ہے اس لیے اس سے امریکی معیشت کو شدید دھچکا لگے گا۔
ایران پر حملہ اور ٹرمپ کے بدلتے دعوے
ایران پر حملے میں امریکہ نے صرف اسرائیل کا ساتھ دیا ہے، خود امریکہ کے کوئی واضح اہداف مقرر نہیں تھے۔ اسی لیے ٹرمپ کبھی رجیم چینج کی بات کرتا ہے، کبھی ایران کے ایٹمی اثاثوں کو نشانہ بنانے کی بات کرتا ہے، اور کبھی کہتا ہے کہ چونکہ ایران حملہ کرنے ہی والا تھا اسی لیے پہل ہم نے کر دی۔ اس وقت دفاعی تجزیہ کار اس جنگ کے ہر ممکنہ پہلو پر غور کر رہے ہیں۔
عراق سے تعلق رکھنے والے الجزیرہ کے ٹی وی اینکر جاسم العزاوی اس موضوع پر اپنی تحریر “The fantasy of an easy victory in the war on Iran” میں لکھتے ہیں:
’’کوئی بھی تجزیہ کار یہ نہیں سمجھتا کہ یہ جنگ مختصر ہوگی۔ بارہ روزہ جنگ کے برعکس، جو جنگ بندی پر ختم ہوئی تھی، یہ تنازع ابھی سے ہی زیادہ وسیع اور گہرا دکھائی دے رہا ہے۔ ایران کی جانب سے پورے خطے میں جوابی کارروائی کے لیے تیاری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ سمجھوتہ کرنے کے بجائے طویل جنگ لڑنے پر آمادہ ہے۔
واشنگٹن اور تل ابیب کے سامنے ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ تہران پر دباؤ کیسے برقرار رکھا جائے بغیر اس کے کہ خطے میں بے قابو عدم استحکام پیدا ہو جائے۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے نظام کی تبدیلی کو اپنا حتمی ہدف قرار دے رکھا ہے۔
ایران پر حملے کا اعلان کرتے ہوئے اپنی تقریر میں امریکی صدر نے بظاہر یہ اشارہ دیا کہ امریکی فوج اپنی کارروائی کو فضائی مہم تک محدود رکھے گی اور زمین پر اپنی فوجیں نہیں اتارے گی۔ اس نے بظاہر ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کی ذمہ داری ایرانی عوام کے سپرد کرتے ہوئے کہا: ’’تمہاری آزادی کی گھڑی آن پہنچی ہے‘‘، اور انہیں بغاوت کرنے کی دعوت دی۔
……اسی دوران امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے قیادت کو نشانہ بنانے والی “decapitation strikes” غالباً جاری رہیں گی، لیکن اگر وہ کامیاب بھی ہو جائیں تو بھی ان سے نظام کی تبدیلی واقع نہیں ہو گی۔
بالآخر ٹرمپ کے جرنیل یہ مشورہ دے سکتے ہیں کہ طویل تنازع قابلِ برداشت نہیں، جو بارہ روزہ جنگ کے اسباق کی بازگشت ہو گا۔ ٹرمپ کے لیے ایسی جنگ جس میں فتح ممکن نہ ہو ایک مانوس فرار کا راستہ اختیار کرنے کا باعث بن سکتی ہے: ٹروتھ سوشل پر فتح کا اعلان کرنا اور بیانیے کا رخ موڑ دینا۔
اس کے بعد اصل چیلنج یہ ہو گا کہ جنگ بندی پر مذاکرات کیسے کیے جائیں۔ مذاکرات کے سراب سے دو مرتبہ گمراہ کیے جانے کے بعد تہران اس دوہری خیانت کو اپنے مؤقف کو مزید سخت کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ اگر نظام برقرار رہتا ہے تو وہ نئے مذاکرات کے لیے امریکہ کی بے چینی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ اس لحاظ سے آج سفارت کاری کی ناکامی ممکن ہے کہ کل ایران کے لیے طاقت کی پوزیشن سے مذاکرات کرنے کی بنیاد رکھ دے۔‘‘
ٹرمپ کی جانب سے ایران پر اسرائیل کے ساتھ مل کر حملہ کی نہ صرف امریکی عوام مخالفت کر رہے ہیں بلکہ امریکی کانگریس نے بھی اس جنگ کے خلاف ووٹ دیے۔ اور یہ جنگ ٹرمپ کے سیاسی کیرئیر کے زوال کا سبب بن سکتی ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار ڈینیئل بش نے اس حوالے سے اپنی تحریر ’’ایران میں حکومت کی تبدیلی کی خواہش: ایسا جوا جو امریکہ میں ٹرمپ کی ساکھ کو متاثر اور حامیوں کو ناراض کر سکتا ہے‘‘ میں لکھا ہے:
’’امریکہ کے جو شہری اپنے ملک کی بیرون ملک مداخلت کے خلاف ہیں، خاص طور پر وہ جو ٹرمپ کے امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے والے نظریے کے حامی ہیں، کیا ڈونلڈ ٹرمپ انہیں مشرق وسطیٰ میں ایک اور مداخلت پر قائل کر پائے گا؟
یہ عمل ٹرمپ کے اپنے ملک میں ان کے حامیوں کو بد ظن کر سکتا ہے، ایسے وقت میں جب مہنگائی اور دیگر اندرونی مسائل کی وجہ سے اس کی مقبولیت کم ہو رہی ہے۔
حالیہ ہفتوں میں ٹرمپ انتظامیہ کے کئی سینئر اہلکاروں نے ایران میں بڑے فوجی آپریشن پر تحفظات ظاہر کیے تھے۔ یہ بات ٹرمپ کی پہلی مدت صدارت میں اس کے ساتھ کام کرنے والے سابق سینئر اہلکار نے بتائی۔
یہ سینئر اہلکار اب بھی ٹرمپ کی ٹیم کے قریب ہیں اور اہم پالیسی معاملات کا علم رکھتے ہیں۔
جب ٹرمپ نے سر عام ایران پر حملے کی دھمکی دی اور مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کی موجودگی بڑھانے کا حکم دیا تو یہ اختلافات نجی طور پر سامنے آئے تھے۔
حملے کا فیصلہ کرنے اور کئی ہفتوں سے جاری قیاس آرائیوں کا خاتمہ کرنے کے بعد سنیچر کے روز ٹرمپ نے اپنے مشن پر اعتماد ظاہر کیا۔ لیکن ساتھ ہی اس نے ایسے مبہم اشارے بھی دیے جن سے امریکی جنگی مقاصد کے بارے میں نئے سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔
اس نے ایکزیوس کو بتایا: ’میں طویل جنگ بھی لڑ سکتا ہوں اور پورے ملک پر قبضہ بھی کر سکتا ہوں یا اسے دو سے تین دن میں ختم کر کے مزید حملوں کی دھمکی برقرار رکھ سکتا ہوں‘۔
بعد میں اس نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ’درست اہداف پر بھاری بمباری بلا تعطل جاری رہے گی، پورا ہفتہ، یا جتنی دیر بھی ضروری ہوا‘۔
ان بیانات نے ناقدین کے اس مؤقف کو تقویت دی ہے کہ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کی کوئی سمت نہیں اور وہ بڑے فوجی حملوں سے پہلے کانگریس اور عوام کو اعتماد میں لینے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔‘‘
ایران کی منفرد جنگی حکمت عملی
جیسا کہ راقم نے اوپر ذکر کیا کہ یہ جنگ ایران کی بقا کی جنگ ہے اس لیے ایران نے ایک طویل جنگ کی پیشگی تیاری کر رکھی تھی جس کے تحت اس نے خطے میں موجود تمام امریکی و اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنا کر یہ جنگ پورے خطے میں پھیلا دی۔ اس سلسلے میں ایران کے پاس کروز میزائیل، ہائپر سونک میزائیل اور خود کش شاہد ڈرون کا ایک وسیع ذخیرہ موجود ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت ایران کے پاس ۸۰ ہزارشاہد ڈرون موجود ہیں جو کہ انتہائی کم لاگت(بیس ہزار سے پچاس ہزار ڈالر) میں تیار ہوتے ہیں اور ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے اور لانچ کرنے میں بھی آسان ہیں اور اپنے ہدف کو مہارت سے نشانہ بناتے ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں اسرائیلی و امریکی دفاعی نظام کے ایک میزائیل کی لاگت تیس لاکھ ڈالر سے ایک کروڑ بیس لاکھ ڈالر تک ہوتی ہے، جس سے امریکہ و اسرائیل کو ہونے والے نقصان کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔
اردنی دانشور محجوب الزویری ایران کی جنگی حکمت عملی کے بارے میں الجزیرہ پر اپنی تحریر “How Iran fights an imposed war” میں لکھتے ہیں:
’’اس جنگ میں ایران کا طرزِ عمل اس کے اس یقین سے تشکیل پا رہا ہے کہ یہ تنازع اس کے وجود کے لیے خطرہ ہے۔ چنانچہ تہران کی حکمتِ عملی کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ جنگ کی قیمت صرف ایران کے لیے نہیں بلکہ اس میں شامل تمام فریقوں کے لیے بڑھا دی جائے۔
درحقیقت ایران یہ پیغام دے رہا ہے کہ اگر اس تنازع کا مقصد حکومتی نظام کو گرانا ہے تو پھر وسیع تر خطہ، اور ممکنہ طور پر عالمی نظام بھی، مستحکم نہیں رہے گا۔ یہی منطق ایران کی جانب سے اقتصادی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنانے کی وضاحت کرتی ہے، جن میں تیل کے ذخائر، گیس کی رسد اور آبنائے ہرمز شامل ہیں۔ اس گزرگاہ میں خلل پہلے ہی عالمی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ کا باعث بن چکا ہے، اور مزید رکاوٹیں قیمتوں کو نمایاں طور پر مزید بلند کر سکتی ہیں۔
اس حکمتِ عملی کے ذریعے ایران یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ تہران کی حکومت کا خاتمہ آسانی سے ممکن نہیں ہو گا۔ اسی کے ساتھ ایرانی قیادت یہ بھی سمجھتی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایک دوسری حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہیں جس کا مقصد ریاست کو اندر سے کمزور کرنا ہے۔
فوجی نظریہ بتاتا ہے کہ کسی سیاسی نظام کا تختہ الٹنے کے لیے عموماً زمینی افواج درکار ہوتی ہیں، جیسا کہ عراق اور افغانستان کی جنگوں میں دیکھا گیا، تاہم ایران کے معاملے میں ایسا منظر نامہ بعید از قیاس دکھائی دیتا ہے۔
اس کے بجائے اسرائیل اور امریکہ ممکن ہے کہ ایران کو اندرونی طور پر غیر مستحکم کرنے کی کوشش کریں، سیاسی انتشار کو ہوا دے کر اور ملک کے سکیورٹی اداروں کو کمزور کر کے۔ اس کا مقصد قیادت کو سیاسی اور عسکری طور پر اس حد تک تھکا دینا ہو گا کہ وہ خود کو برقرار رکھنے کے قابل نہ رہے۔
باقی ماندہ ایرانی قیادت اس حقیقت کو بخوبی سمجھتی ہے۔ اسی لیے اس نے جنگ کی قیمت بڑھانے کی حکمتِ عملی اختیار کی ہے، خواہ وہ اقتصادی میدان میں ہو یا علاقائی سلامتی کے حوالے سے۔
اسی کے ساتھ ساتھ اسرائیل کو یہ تشویش لاحق ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اچانک اس تنازع کو روک سکتا ہے۔ اس وجہ سے اسرائیل نے ایسے حملوں کی رفتار تیز کر دی ہے جن کا مقصد ایران کی قیادت کو جلد از جلد کمزور کرنا ہے۔ جواباً تہران نے بھی اپنے پاس موجود باقی ماندہ عسکری صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنی کارروائیوں میں شدت پیدا کر دی ہے۔
اس کا نتیجہ کشیدگی کے ایک ایسے بڑھتے ہوئے چکر کی صورت میں نکل رہا ہے جو ایک علاقائی تصادم کو عالمی اقتصادی اور تزویراتی عدم استحکام کا ذریعہ بنے کا خظرہ پیدا کر رہا ہے۔
اس معنی میں ایران کی حکمتِ عملی مکمل طور پر جنگ جیتنے پر مرکوز نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانے پر ہے کہ نظام کی تبدیلی کی قیمت اس کے مخالفین کے لیے ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ جائے۔‘‘
صہیونیوں کی جانب سے جنگ کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش
فروری ۲۰۲۶ء میں اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی (Mike Huckabee) کا ایک انٹرویو سامنے آیا جس میں انٹرویو لینے والے قدامت پسند صحافی ٹکر کارلسن نے سوال کیا کہ بائبل میں خدا نے ابراہیم سے وعدہ کیا تھا کہ ان کی اولاد کو نیل (مصر) سے فرات (عراق) تک کا علاقہ ملے گا۔ یہ علاقہ تقریباً پورا مشرق وسطی (مصر، اردن، لبنان، شام، عراق کے کچھ حصے اور سعودی عرب کے کچھ حصے) بنتا ہے۔ کیا بائبل کے مطابق اسرائیل کا ان علاقوں پر حق ہے؟ جس کے جواب میں اس نے کہا کہ ’’اگر وہ یہ سارا علاقہ لے لیں تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہو گی۔‘‘
صرف یہی نہیں بلکہ اس جنگ کے شروع ہونے کے بعد کانگریس کے چند ممبران کے بھی اس قسم کے بیانات سامنے آ رہے ہیں جس میں وہ اس جنگ کو خدا کی جنگ کہہ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں پادریوں کی ایک جماعت نے ٹرمپ کے آفس پہنچ کر اس پر ہاتھ رکھ کر اجتماعی دعا بھی کروائی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ امریکی فوج میں بھی فوجیوں کا مورال بلند کرنے کے لیے انہیں اس ’’مذہبی جنگ‘‘ کی ترغیب دی جا رہی ہے۔
برطانوی جریدے ’’دی گارڈین‘‘ کی رپورٹ کے مطابق:
’’ایک نگران ادارے کو کی جانے والی شکایات کے مطابق، امریکی فوجی کمانڈروں نے ایران کے خلاف جنگ میں شمولیت کو فوجیوں کے سامنے جائز قرار دینے کے لیے بائبل کے ’’آخری زمانے‘‘ (End Times) سے متعلق انتہاپسند مسیحی بیانیہ استعمال کیا ہے۔
ملٹری ریلیجئس فریڈم فاؤنڈیشن (MRFF) کا کہنا ہے کہ اسے مسلح افواج کی تمام شاخوں، بشمول میرینز، ایئر فورس اور سپیشل فورس، سے تعلق رکھنے والے سروس ممبران کی جانب سے 200 سے زیادہ شکایات موصول ہوئی ہیں۔
ایک شکایت کنندہ، جس کی شناخت ایک نان کمیشنڈ آفیسر (NCO) کے طور پر کی گئی ہے اور جو اس یونٹ میں تعینات ہے جسے ’کسی بھی لمحے ایران کے خلاف کارروائیوں میں شامل ہونے کے لیے بھیجا جا سکتا ہے‘، نے MRRF کو دی گئی شکایت میں، جسے گارڈین نے دیکھا، بتایا کہ ان کے کمانڈر نے ’ہمیں ہدایت دی کہ ہم اپنے فوجیوں سے کہیں کہ یہ سب ’’خدا کے الٰہی منصوبے‘‘ کا حصہ ہے، اور انہوں نے خاص طور پر کتابِ مکاشفہ کی متعدد آیات کا حوالہ دیا جو ہرمجدون (Armageddon) اور حضرت عیسیٰ مسیح کی قریب الوقوع واپسی کا ذکر کرتی ہیں‘۔
اس این سی او نے مزید کہا:’انہوں نے کہا کہ ’صدرڈانلڈ ٹرمپ کو یسوع نے مسح کیا ہے تاکہ وہ ایران میں علامتی آگ روشن کریں جس سے ہرمجدون (Armageddon) برپا ہو اور ان کی زمین پر واپسی کی نشانی ظاہر ہو‘۔‘‘
اسرائیل کے اس قسم کے شیطانی عزائم تو کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ مڈل ایسٹ آئی کے ایڈیٹر ڈیوڈ ہرسٹ نے بھی ایران پر مسلط کی گئی جنگ کا اسی پہلو سے جائزہ اپنی تحریر “Israel’s war of regional supremacy will not end with Iran” میں لیا ہے:
’’یہ محض اتفاق نہیں کہ اس حملے سے عین پہلے اسرائیل میں امریکہ کے سفیر مائک ہکابی نے ٹکر کارلسن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل دریائے نیل سے لے کر دریائے فرات تک تمام زمین پر قبضہ کر لے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہو گی۔ اور نہ ہی یہ اتفاق ہے کہ اسرائیل کے اپوزیشن رہنمایائیر لاپڈ نے فوراً اس سے اتفاق کر لیا۔
لاپڈ نے ایک رپورٹر سے گفتگو میں کہا: ’’میں ہر اس چیز کی حمایت کرتا ہوں جو یہودیوں کو ایک وسیع، بڑی اور مضبوط سرزمین اور ہمارے لیے، ہمارے بچوں اور ہمارے بچوں کے بچوں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ فراہم کرے۔ میں اس کی حمایت کرتا ہوں۔‘‘ اس نے یہ بھی اشارہ دیا کہ اسرائیلی علاقہ عراق تک پھیل سکتا ہے۔
یہ بھی محض اتفاق نہیں کہ اس جنگ کے آغاز سے کچھ ہی پہلے نیتن یاہو نے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے لیے سرخ قالین بچھایا۔
میرے ساتھی اور کتاب Hostile Homelands کے مصنف آزاد عیسیٰ کہتے ہیں کہ دہلی اسرائیل کا سب سے مضبوط غیر مغربی اتحادی بن کر ابھرا ہے۔ انہوں نے کہا: ’دونوں کے درمیان سٹریٹیجک تعاون اور نظریاتی ہم آہنگی موجود ہے، جو دراصل [غزہ] کی نسل کشی کے دوران مزید مضبوط ہوئی‘۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اپنے حالیہ دورے میں مودی نے وعدہ کیا کہ آنے والے برسوں میں مزید پچاس ہزار بھارتی شہریوں کو اسرائیل میں کام کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا: ’بھارت ایسے اتحاد میں معاشی حجم، منڈی تک رسائی، افرادی قوت اور تکنیکی مہارت کا امتزاج فراہم کرے گا۔ بہت سے حوالوں سے وہ پہلے ہی ایسا کر رہا ہے‘۔ انہوں نے کہا: ’بھارت پہلے ہی اسرائیل کے ساتھ مل کر ہتھیار تیار کر رہا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اسے اسرائیل کے لیے ایک فیکٹری بننے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ اس طرح بھارت اسرائیل کی کمیوں کو پورا کرے گا اور فلسطینیوں کے متبادل مزدور وروں کی فراہمی کا ایک ذریعہ بن جائے گا‘۔
اس جنگ کے بارے میں دوسرا اہم نکتہ اس کا وقت ہے۔
نیتن یاہو نے حساب لگایا ہے کہ اسرائیل کو دوبارہ کبھی ایسا امریکی صدر نہیں ملے گا جو ٹرمپ کی طرح تابع اور آسانی سے متاثر ہونے والا ہو۔ نہ کوئی ری پبلکن اور نہ کوئی ڈیموکریٹ اسرائیل کے لیے اتنا دوستانہ ہوگا جتنا ٹرمپ اور اس کا پیش رو جو بائیڈن رہا ہے۔ غزہ میں ہونے والی نسل کشی نے اس بات کو یقینی بنا دیا ہے۔
لیکن ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت اسرائیل کو پہلے دور کے تحفوں ، جیسے امریکہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا یا گولان کی پہاڑیوں کے الحاق، سے کہیں زیادہ قیمتی انعام دے چکی ہے۔ اب ٹرمپ نے اسرائیل کو واشنگٹن کی طرف سے یہ اجازت دے دی ہے کہ وہ اپنی سرحدیں ہر اس علاقے تک پھیلا سکتا ہے جس پر وہ کنٹرول حاصل کر لے، چاہے وہ لبنان ہو، شام ہو، عراق ہو یا مصر۔
یہ وہ خواب ہے جسے کئی رنگوں کے صہیونی دہائیوں سے دل میں بسائے ہوئے ہیں کہ ایک دن اسرائیل دریائے نیل سے لے کر دریائے فرات تک پھیلا ہوا ہو گا۔
……ایک علاقائی طاقت کے طور پر ایران ہی وہ آخری اور واحد رکاوٹ ہے جونیتن یاہو کو اسرائیل کی سرحدیں پھیلانے اور ایک نیا بین الاقوامی اتحاد قائم کرنے کے خواب کو حقیقت بنانے سے روکے ہوئے ہے، یعنی اسرائیل کی سرحدوں کو وسعت دینا اور ایک نیا بین الاقوامی اتحاد قائم کرنا، جسے وہ ریاستوں کا نام نہاد ’’مسدس‘‘ (hexagon) کہتا ہے، جس میں مشرقی بازو کے طور پر بھارت اور جنوبی سرے کے طور پر صومالی لینڈ شامل ہوں گے۔
یہ اتحاد اسرائیل کی حیثیت کو خطے کی غالب فوجی طاقت کے طور پر مضبوط کرے گا، جس کے فضائی اڈے پورے خطے میں پھیلے ہوں گے۔ بڑے عرب ممالک، جن کی اسرائیل کے لیے حمایت فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر کبھی ممکن نہیں، کو ایک نئی حقیقت قبول کرنے پر مجبور کیا جائے گا: ان کی سرزمین اور خودمختاری میں کمی، جیسا کہ آج شام میں ہو رہا ہے اور کل لبنان میں ہو گا۔‘‘
ایران کے خلاف اسرائیل امریکہ مشترکہ جنگ اور پاکستان
ایران کے ساتھ پاکستان کا ایک اہم بارڈر لگتا ہے اسی لیے ایران کی اس جنگ سے پاکستان کسی صورت مستثنیٰ نہیں رہ سکتا۔ خامنہ ای کے قتل کے بعد پاکستان میں بھی امریکہ کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے ۔ کراچی میں امریکی سفارتخانے کے احاطے میں امریکی میرینز کی فائرنگ سے پندرہ شہری ہلاک اور درجنوں زخمی بھی ہوئے۔ لیکن اپنے آقا کے خلاف اسٹیبلشمنٹ کیسے چوں کر سکتی ہے۔ بلکہ اعتراض کرنا تو درکار پاکستانی سکیورٹی فورسز نے حقِ غلامی نبھاتے ہوئے گلگت بلتستان میں مظاہرین پر فائرنگ کی جس کے نتیجے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ۱۳ مظاہرین ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔
پاکستان اور افغانستان کے امور پر تجزیہ کرنے والے پاکستانی تجزیہ کار زاہد حسین نے روزنامہ ڈان میں اپنی تحریر “Trump’s no-win war” میں لکھا ہے:
’’امریکی فوج کی زمینی دستوں کے ساتھ ایک طویل جنگ پہلے ہی غیر مستحکم خطے کو مزید بے قابو کر دے گی۔ اپنی بے پناہ فوجی طاقت کے باوجود امریکہ فتح کی امید نہیں کر سکتا، ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ امریکہ کی افغانستان میں دو دہائیوں پر محیط جنگ اور 2003ء میں عراق پر حملے کے اسباق کو بھول چکا ہے۔ اس کی جنگ پسندی نے دنیا کو مزید گہرے معاشی اور جغرافیائی سیاسی بحران میں دھکیل دیا ہے۔
……دنیا حالیہ امریکی فوجی کارروائی پر منقسم ہے۔ جہاں چین اور روس نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی وسیع فوجی کارروائی کی سخت مذمت کی ہے اور فوری طور پر جارحیت ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، وہیں مغربی ممالک نے ایک خودمختار ریاست کے خلاف امریکہ کی اس غیر قانونی جنگ کی براہِ راست مذمت کرنے سے گریز کیا ہے، ایک ایسا مؤقف جو بہت سوں کے نزدیک ان کی منافقت کو بے نقاب کرتا ہے۔
پاکستان، جس کی ایران کے ساتھ طویل سرحد ملتی ہے، اپنے پڑوس میں امریکی جنگ سے براہِ راست متاثر ہو گا۔ خامنہ ای کے قتل کے بعد کئی شہروں میں شدید امریکہ مخالف مظاہرے پھوٹ پڑے۔ سعودی عرب اور ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے والی موجودہ حکومت خود کو ایک مشکل صورتحال میں پا رہی ہے۔ کراچی میں مظاہرین کی ہلاکتیں، امریکی میرینز کے ہاتھوں، اور اسی طرح اسلام آباد اور اسکردو میں ہونے والے واقعات نے حکومت مخالف جذبات کو مزید بھڑکا دیا ہے۔ بہت سے لوگ پاکستان کے فیصلے پر سوال اٹھانے لگے ہیں کہ اس نے ٹرمپ کے متنازع “Board of Peace” میں شمولیت اختیار کی۔ امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ واشنگٹن میں اس فورم کے پہلے اجلاس کے فوراً بعد کیا، جس میں اسرائیل نے بھی شرکت کی تھی۔ ان تمام حالات نے فوج کی حمایت یافتہ حکومت کو بڑھتی ہوئی نازک صورتحال میں ڈال دیا ہے۔
امریکہ کے لیے ایک ایسی جنگ سے نکلنا مشکل ہو گا جس میں جیت ممکن نہیں۔ ٹرمپ کی یہ غیر قانونی جنگ یقیناً ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی نقشے کو بدل دے گی، لیکن اس طرح نہیں جیسا وہ چاہتا ہے۔ خطہ کہیں زیادہ انتشار کا شکار ہو جائے گا اور اس کے اثرات پوری دنیا تک پہنچیں گے۔‘‘
پاکستان کی افغانستان کے خلاف جارحانہ کارروائیاں
ایران جنگ کے متوازی پاکستان نے بھی افغانستان کے خلاف جارحانہ کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں جس کی آشیرباد خود ٹرمپ سے اسے حاصل ہے۔ پورے پاکستانی میڈیا میں فوج نے یہ بیانیہ بنا رکھا ہے کہ چونکہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں ہوتی ہیں اسی لیے پاکستانی فوج افغانستان پر حملہ آور ہے، یہاں تک کہ پاکستان میں علماء سے منسوب بھی کچھ لوگ فوج کی زبان بول رہے ہیں ، کوئی امارت کے خلاف جہاد کا فتویٰ دے رہا ہے تو کوئی کہ رہا ہے کہ جب ملک میں جنگ چل رہی ہو تو فوج کے خلاف کچھ کہنا غداری ہے کیونکہ ایسے میں تو حق بھی چھپا لیا جاتا ہے۔
ایسے میں پاکستانی فوج کا بھی یہ بیان آیا ہے کہ ’’ہمیں افغانستان میں ۹۵ فیصد اہداف حاصل ہو گئے ہیں، باقی پانچ فیصد اہداف حاصل کرنے تک ہم اپنا آپریشن جاری رکھیں گے۔‘‘ سوال یہ ہے کہ کون سے اہداف پاکستانی فوج نے حاصل کر لیے ہیں؟ کچھ عرصہ قبل ٹرمپ نے افغانستان میں موجود امریکی اسلحہ اور بگرام ائیر بیس واپس مانگی تھی جس کے جواب میں امارت نے صاف انکار کر دیا تھا۔ اس وقت ہی ٹرمپ نے ’’سنگین نتائج‘‘ کی دھمکی دی تھی۔ یہ وہی سنگین نتائج ہیں کہ امریکی ایما پر پاکستانی فوج نے افغانستان کے ڈیورنڈ لائن کے قریب کے علاقوں میں طالبان کو انگیج کر رکھا ہے تاکہ جو امریکی اسلحہ یہاں رہ گیا تھا وہ ختم ہو جائے، بگرام پر حملے بھی اسی سازش کی ایک کڑی ہیں۔ اور اس مقصد کے لیے ہمیشہ کی طرح پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اپنے فوجیوں کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کر رہی۔
اختتامیہ
اس جنگ کا سب سے منفی پہلو یہ ہے کہ غزہ اور مغربی کنارے میں جاری اسرائیلی ظلم اچانک سے منظر نامے سے غائب ہو گیا ہے۔ غزہ میں آج بھی فلسطینی مسلمان روز شہید کیے جا رہے ہیں اور مغربی کنارے پر جاری صہیونیوں کی شر انگیزی اور فلسطینیوں کی زمینوں اور املاک پر قبضہ بھی بڑھ گیا ہے۔ البتہ ایران کے جوابی حملوں میں اسرائیلی بھی مزہ چکھ رہے ہیں حالانکہ یہ تو اس ظلم کا عشر عشیر بھی نہیں ہے جو ظلم فلسطینی سہ رہے ہیں۔ یہ جنگ شروع ہوتے ہی اسرائیل نے رفح بارڈر بند کر دیا جس کی وجہ سے غزہ میں نہ صرف مہنگائی بڑھ گئی ہے بلکہ غذائی اجناس کی شدید قلت واقع ہو گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر غزہ کے صحافی آئے روز اب بھی وہاں ہونے والے اسرائیلی حملوں اور روز ہونے والی شہادتوں کی رپورٹس نشر کرتے رہتے ہیں۔
یہ جنگ عرب ممالک کے لیے ایک ایسی آزمائش لائی ہے جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ تمام خلیجی ممالک نے اپنی حکومت بچانے کے لیے امریکی فوج کو اپنے گھر لا کر بٹھایا، انہیں اڈے دیے، بیسز فراہم کیں، لیکن ستم ظریفی کہ یہی امریکی فوجیں ان ممالک پر حملوں کا سبب بن گئیں اور جو اڈے ان حکومتوں کے تحفظ کے بہانے قائم کیے گئے تھے الٹا ان کی حفاظت کی ذمہ داری ان حکومتوں پر آن پڑی ہے۔ ان ممالک کے مسلمانوں کو کسی طوفاں سے آشنا ہونے کی شدید ضرورت تھی کیونکہ ان کے بحر کی موجیں بالکل ساکت ہیں۔ لگتا ایسا ہے کہ وہ طوفان آیا ہی چاہتا ہے جو اپنے ساتھ اس ورلڈ آرڈر کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے بحیرہ روم میں غرق کر دے گا۔ اللہ پاک اس جنگ کے ذریعے مسلمانوں کو ایسی قوت عطا فرمائے کہ جو بیت المقدس کی آزادی کا سبب بن جائے۔ (آمین)
٭٭٭٭٭









![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



