نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home دیگر

اِک نظر اِدھر بھی! | مارچ 2026

by خباب ابن سبیل
in مارچ 2026ء, دیگر
0

گندم کے اسٹریٹجک ذخائر

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا:

’’پنجاب پہلا صوبہ ہے جس نے اپنے strategic wheat reserves کے لیے پہلی پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پر مشتمل ایک پالیسی دی۔ جس کے تحت اس سال پنجاب کے کسانوں سے تیس لاکھ میٹرک ٹن گندم 3500 روپے فی من کے حساب سے خریدی جائے گی۔ مجھے یہ بتا کر خوشی ہو رہی ہے کہ الحمدُللّٰہ آج 35 ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل کمپنیوں نے اس میں prequalify کیا ہے ۔‘‘

صحافی مسعود چوہدری مریم نواز کے دعوے کی حقیقت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’قوم کو بے وقوف سمجھنے والوں کو خبر ہو کہ یہ جن پری کوالیفائی کرنے والی کمپنیوں کا ذکر ہو رہا ہے یہ وہی ہیں جنہوں نے کسان سے سستے ترین داموں پر گندم خریدی اور حکومت ہمارے کسان دوستوں کی مسلسل ریکویسٹ کے باوجود کہتی رہی کہ اوپن مارکیٹ ہے، حکومت گندم کیوں خریدے؟ ہم بتاتے رہے کہ فرنٹ مین سستے داموں گندم خرید رہے ہیں، کسان کو بلیک میل کر رہے ہیں، اور بعد میں حکومت کو ہی گندم بیچیں گے۔ جواب میں کہا جاتا رہا کہ اب حکومت پنجاب کسی سے گندم نہیں خریدے گی۔ اب پنجاب حکومت مافیا کی جانب سے کی گئی خریداری کو ہی اپنی کامیابی بنا کر پیش کر رہی ہے۔ الفاظ خواہ کچھ بھی استعمال کر لیں، دراصل یہ استحصال اور ظلم کیا گیا ہے! بے چارے کسان سے 2000 روپے من پر گندم نہیں خریدی گئی، درمیان کے مافیا  سے 3500 روپے من خریداری کر لی! کس کس نے کتنے کتنے ارب کمائے؟‘‘

پاکستان میں حکومت کی سرپرستی میں چلنے والے اور نوازے جانے والے مافیا یہ ظلم نہ پہلی دفعہ کر  رہے ہیں اور نہ یہ صرف گندم کی فصل تک محدود ہے۔ کسانوں کی جس منظم انداز میں کمر توڑ کر ان کا معاشی قتل عام کیا جا رہا ہے یہ ملک کی بگڑتی معاشی صورتحال کو مزید تباہ کرنے کے مترادف ہے۔

40 ارب کی فائر وال کا ناکام تجربہ

پاکستان میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے لگائی گئی فائر وال کی لاگت تقریباً 40 ارب روپے (تقریباً 140 ملین ڈالر) تھی۔ یہ پروجیکٹ 2024ء میں شروع کیا گیا تھا، جس کا مقصد آن لائن مواد کی نگرانی اور ریگولیشن تھا، لیکن یہ تکنیکی طور پر ناکام رہا اور بعد میں بند کر دیا گیا۔ اس فائر وال سے ہونے والے نقصانات میں معاشی طور پر تقریباً 300 ملین ڈالر کا نقصان شامل ہے، جو انٹرنیٹ کی سست رفتاری، VPN کی خرابی اور کاروباری رکاوٹوں کی وجہ سے ہوا۔ اس کے علاوہ فری لانسرز، آئی ٹی کمپنیوں اور ڈیجیٹل بزنسز کو شدید متاثر کیا، جن میں کنٹریکٹس کی منسوخی، پیداواری نقصان اور ملازمتوں کا خسارہ شامل ہے۔ مجموعی طور پر، 2024ء میں انٹرنیٹ شٹ ڈاؤنز اور پابندیوں سے پاکستان کو 1.62 بلین ڈالر کا نقصان ہوا۔ تکنیکی مسائل کی وجہ سے انٹرنیٹ کی رفتار 40 فیصد تک کم ہوئی، جو فری لانسرز اور آئی ٹی سیکٹر کے لیے تباہ کن ثابت ہوئی۔ تاہم، حکومت نے فائر وال کی بندش کی خبروں کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ ویب مانیٹرنگ سسٹم اب بھی فعال ہے اور یہ 5Gآکشن میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔ مجموعی طور پر، مبصرین احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اسے ایک مہنگا اور ناکام تجربہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ کچھ اس کی بندش کو معاشی بحالی کے لیے مثبت قدم سمجھتے ہیں۔

بولتے اشتہار

کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے ایک اشتہار شائع کیا گیا جس میں بولی درکار تھی۔ اشتہار کے مطابق پاکستان کی وزارت برائے تخفیف غُربت یعنی غریبی میں کمی اور سوشل سیفٹی یا معاشرتی تحفظ کے وزیر کے سرکاری گھر کی تزئین و آرائش اور اس میں نئے فرنیچر کے لیے صرف ایک کروڑ 16 لاکھ روپے کا ٹھیکہ دیا جا رہا ہے۔

روزنامہ جنگ کی ایک خبر کے مطابق پنجاب حکومت کے ٹرانسپورٹ ونگ نے کابینہ کےلیے گاڑیوں کی خریداری کی سفارشات حکومت کو پیش کر دی ہیں۔ دستاویز کے مطابق پنجاب کابینہ کے لیے 30 کروڑ روپے کی 28 نئی گاڑیاں خریدنے کی تجویز ہے، جن میں 2 وزرا کے لیے 4 کروڑ روپے مالیت کی 2 بلٹ پروف گاڑیاں شامل ہیں۔ دستاویز کے مطابق وی آئی پیزکے لیے 27 کروڑ روپے مالیت کی 25 گاڑیاں خریدنے کی سفارشات منظور ہو چکی ہیں۔  چیف منسٹر انسپکشن ٹیم کے لیے 53 کروڑ روپے کی گاڑیاں خریدی جائیں گئیں، جن میں موٹر سائیکلیں بھی شامل ہیں۔ چلیں یہ تو پاکستان میں ہمیشہ کا ہی معمول رہا کہ ہر حکومت اپنے وزراء کو اور بیورو کریسی کو نوازنے کے لیے لگژری گاڑیاں دیتی تھی لیکن اب تو معاملہ لگژری جہازوں تک جا پہنچا ہے۔

تجزیہ کار محمد مالک نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ کفایت شعاری کے دعوے کرنے والی پنجاب حکومت نے ایک ایسے وقت پر گلف اسٹریم جی 500 جیسا لگژری طیارہ خریدا ہے، جب صوبے کے شہری شدید معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق غربت اور مہنگائی میں اضافے کے دور میں اس نوعیت کے اخراجات حکومت کی غلط ترجیحات کو ظاہر کرتے ہیں۔ پنجاب حکومت کے ذرائع کے مطابق گلف  اسٹریم جی 500 ماڈل کا یہ طیارہ چند ہفتے قبل شمالی امریکہ سے لاہور پہنچا تھا۔ پاکستان میں سوشل میڈیا پر بھی اس موضوع پر بحث جاری ہے۔ بعض صارفین نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ ایک طرف پی آئی اے کو ’’تقریباً دس ارب روپے‘‘ میں فروخت کیا گیا، تو دوسری جانب صرف ایک لگژری ہوائی جہاز کی قیمت گیارہ ارب روپے تک پہنچ رہی ہے۔ بعض صارفین کے مطابق حکمران طبقہ ایمرجنسی کی صورت میں بیرون ملک بھاگنے کے انتظام مکمل کر رہا ہے۔

جیو نیوز کی ٹرانسمیشن  ہیک کر لی گئی

 جیو نیوز کی ٹرانسمیشن ہیک کر کے دنیا بھر میں جیو نیوز پر یہ پیغام چلا دیا گیا کہ ’’تمہاری فوج کے مخصوص حلقے نے پورے ملک کو تباہی سے دوچار کر دیا ہے اس کے خلاف کھڑے ہو جاؤ، ان کے سامنے کھڑے ہو جاؤ۔‘‘

جیو نیوز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جیو نیوز جو پاکستان کے سیٹلائٹ پاک سیٹ پر ہے، اس کو کسی جانب سے پچھلے 24 گھنٹوں سے ہیک کرنے کی اور اس کی نشریات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اور کچھ دیر سے جیو نیوز کی نشریات کو مسلسل رکاوٹ کا سامنا ہے، جیو نیوز کی ٹرانسمیشن کو ہیک  کر کے نامناسب پیغام نشر کیا گیا۔ جیو نیوز نے حکام سے درخواست کی کہ اس صورت حال کا نوٹس لے کر فوری کارروائی کی جائے اور ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

سوشل میڈیا پر یہ معاملہ زیر بحث رہا۔ ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ افغان ہیکرز کی کارروائی لگتی ہے کیونکہ پیغام میں وہی الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جو کچھ دن قبل ذبیح اللہ مجاہد نے استعمال کیے تھے یعنی ’’فوج کے مخصوص حلقے‘‘۔

زبیر علی خان لکھتے ہیں:

‏’’جیو کی ٹرانسمیشن سے زیادہ ہیکرز کے پیغام کو ریٹنگ مل رہی ہے، ان ٹی وی چینلز کو پہلے ہی لوگ دیکھنا چھوڑ گئے تھے  اب حالیہ (پاک افغان) کشیدگی میں انہوں نے مکمل طور پر اپنی ساکھ تباہ کر دی۔‘‘

ٹرمپ کے انتخابی وعدے اور موجودہ پالیسیاں

ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت (جنوری 2025ء سے) کے بعد سے انہوں نے متعدد ممالک پر حملے یا تنقید کی ہے، جو کہ ان کے انتخابی وعدے کے برعکس ہے جہاں انہوں نے غیر ملکی جنگوں سے گریز کا اعلان کیا تھا۔  امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیوں میں ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کیے گئے، جو حکومت کی تبدیلی کا مقصد رکھتے ہیں۔ یہ حملے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی سمجھے جاتے ہیں۔ جون 2025ء میں حملوں میں ایران کی جوہری صلاحیت کو ’’تباہ‘‘ کرنے کا دعویٰ کیا گیا، اور 12 روزہ جنگ میں 201 افراد ہلاک ہوئے۔ وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس پر بمباری کی گئی جس میں 83 افراد ہلاک ہوئے، اور صدر نکولس مادورو کو اغوا کیا گیا۔ لاطینی امریکہ اور کیریبین میں منشیات سمگلنگ کا الزام لگا کر کم از کم 45 حملے کیے گئے جن میں 151 افراد ہلاک ہوئے۔ ماہرین انہیں غیر قانونی قرار دیتے ہیں۔

نائیجیریا میں بھی فضائی حملوں کے ساتھ 100 امریکی فوجیوں کی تربیت کے لیے تعیناتی، اور مزید حملوں کی دھمکیاں دیں۔ حکومت پر مسیحیوں کی ’’نسل کشی‘‘ کا الزام لگایا۔ صومالیہ میں 2025ء میں 111 فضائی حملے کیے، جو پچھلی انتظامیہ سے زیادہ ہیں۔ یمن میں درجنوں بحری اور فضائی حملے کیے جن میں شہری ہلاکتیں ہوئیں۔ ایک حملے میں 80 سے زائد شہری جاں بحق ہوئے جو جنگی جرائم کی تحقیقات کا باعث بنا۔ شام میں داعش کے نام پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے ۔ یہ کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی، شہری ہلاکتوں، اور علاقائی انتشار کا باعث بنی ہیں۔ امریکہ میں ان پر اعتراضات پائے جاتے ہیں جبکہ ٹرمپ انہیں ’’طاقت کے ذریعے امن‘‘ کا نام دینے پر بضد ہے۔

غیر قانونی تارکین وطن کی اموات اور گمشدگیوں میں غیر معمولی اضافہ

انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کی تازہ رپورٹ کے مطابق 2025ء کے دوران دنیا بھر میں 7 ہزار 667 غیر قانونی تارکین وطن ہلاک اور لا پتہ ہوئے۔  رپورٹ کے مطابق ہجرت کے دوران غیر قانونی تارکین کے لیے سمندری راستے سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہوئے۔ بحیرۂ روم میں کم از کم 2 ہزار 185 افراد ہلاک یا لا پتہ ہوئے جبکہ مغربی افریقہ سے بحر اوقیانوس کے راستے کینری جزائر کی جانب جانے والے ایک ہزار 214 افراد کی اموات یا گمشدگیاں درج کی گئیں۔ ترجمان نے کہا کہ اگرچہ 2024ء کے مقابلے میں اموات کی تعداد میں کمی آئی ہے، تاہم اندیشہ ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو۔ ادارے کے مطابق 2024ء میں تقریباً 9 ہزار 200 افراد ہجرت کے دوران ہلاک یا لا پتہ ہوئے ، جو  2025ءکے مقابلے میں زیادہ تعداد ہے۔ ایک تازہ خبر کے مطابق لیبیا سے یونان جانے والی کشتی بحیرۂ روم میں ڈوب جانے سے 30 تارکین وطن کے ہلاک یا لا پتہ ہونے کا خدشہ ہے۔ اس حادثے میں 20 افراد کی جان بچا لی گئی ہے۔ یہ کشتی 19 فروری کو لیبیا کے شہر طبروق سے روانہ ہوئی تھی جو جزیرہ کریٹ کے جنوب میں تقریباً 20 بحری میل کے فاصلے پر الٹ گئی۔ حادثے میں زندہ بچ جانے والوں میں 16 مرد اور چار کمسن بچے شامل ہیں۔ ’آئی او ایم‘ کی رپورٹ کے مطابق رواں سال ہی بحیرۂ روم میں ترکِ وطن کے راستے پر کم از کم 606 تارکین وطن ہلاک یا لا پتہ ہو چکے ہیں۔ ایسے واقعات کا ریکارڈ مرتب کرنے کا سلسلہ 2014ء میں شروع ہوا تھا جس کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب کسی سال کے آغاز پر اس قدر بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

غزہ میں انڈونیشیا کے فوجیوں کی تعیناتی، مختلف مکاتب فکر کی جانب سے تنقید کی زد میں

انڈونیشیا غزہ میں ایک ہزار فوجی تعینات کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جو کہ چند ہفتوں میں پہلی قسط کے طور پر ہو گی، جبکہ مجموعی طور پر آٹھ ہزار اہلکاروں کا وعدہ کیا گیا ہے۔ یہ تعیناتی امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ کی جانب سے بنائی گئی انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس (ISF) کے تحت ہو رہی ہے۔ زیادہ تر فوجی جون تک زمین پر موجود ہوں گے، جیسا کہ انڈونیشیائی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ڈونی پرامونو نے تصدیق کی ہے۔ انڈونیشیا اس بورڈ آف پیس کا پہلا رکن ملک ہے جس نے فوجیوں کی مخصوص تعداد کا اعلان کیا ہے، اس کے بعد کوسوو، مراکش، البانیہ اور قازقستان شامل ہیں۔ (جبکہ پاکستان ممکنہ ردعمل کے خدشے کے پیش نظر پاکستانی فوجیوں کی تعیناتی کو فی الحال چھپانے کی کوشش کررہا ہے) ۔ دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی والا ملک انڈونیشیا فلسطین کی حمایت اور دو ریاستی حل کی حمایت کی وجہ سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں رکھتا۔

الجزیرہ رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا کو اقوام متحدہ کی امن فورس مشنز میں تجربہ ہے، جیسے لبنان اور جمہوریہ کانگو میں۔ تاہم، غزہ کی تعیناتی انڈونیشیا کے مختلف حلقوں میں تشویش کا باعث بنی ہے کیونکہ یہ اقوام متحدہ کی نگرانی کے بغیر ہے، جو ممکنہ طور پر انڈونیشیائی فورسز کو امریکہ کے اثر و رسوخ میں ڈال سکتی ہے، جو اسرائیل کا کلیدی اتحادی ہے، فلسطینیوں کو کنٹرول کرنے اور قبضے کو جائز قرار دینے کے لیے۔ ناقدین کو خدشہ ہے کہ یہ مشن انڈونیشیا کی فلسطین نواز پوزیشن کو نقصان پہنچا سکتا ہے، خاص طور پر بورڈ آف پیس کی ساخت کو دیکھتے ہوئے، جس میں ٹرمپ، جیریڈ کشنر، مارکو روبیو، سٹیو وٹکوف، مارک روون، اجے بنگا، ٹونی بلیئر اور رابرٹ گیبریل جونیئر شامل ہیں، جبکہ فلسطینی ان پٹ ایک تکنیکی عبوری کمیٹی تک محدود ہے جس کی قیادت علی شاتھ کر رہے ہیں۔

شوفوان البنا جو یونیورسٹی آف انڈونیشیا میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں اس تعیناتی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ انڈونیشیا کے کردار کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ انہوں نے اسے امریکہ اسرائیل کے مشترکہ مقاصد کے لیے “shock absorber” قرار دیا۔

’’انڈونیشیا صرف ایک ایکٹر ہو گا جو [اسرائیل کے قبضے کے لیے] قانونی حیثیت قائم کرنے کے لیے استعمال ہو گا ہے، اور اس سے بھی بدتر۔ انڈونیشیا کو یہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ ان شعبوں میں نہیں ہو گا جو فلسطینی دھڑوں کے ساتھ تصادم کا خطرہ رکھتے ہیں، [اور] یہ اسرائیل کے زیر کنٹرول علاقوں میں بھی نہیں ہو گا، کیونکہ اس کے لیے اسرائیلی فوج کے ساتھ آپریشنل کوآرڈی نیشن کی ضرورت ہو گی، جس کا مطلب اسرائیل کو عملی طور پر تسلیم کرنا ہے۔ بورڈ آف پیس اور اس کا غزہ سے متعلق نقطہ نظر بنیادی طور پر ’’نوآبادیاتی‘‘ ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ فلسطینیوں کے حقوق اور آواز کو مرکز میں رکھے بغیر منفی امن کے حصول کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، اور فلسطینیوں کو اشیاء کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔‘‘ شوفوان نے مزید کہا کہ ’’انہیں ایسی چیز کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ اسرائیل کے لیے کوئی پابندی نہیں ہے، اس لیے ڈیزائن بہت نوآبادیاتی قسم کا ہے۔‘‘

انڈونیشیا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انتارا کے مطابق پرابوو کے بورڈ آف پیس پر دستخط کرنے کے فوراً بعد، انڈونیشیا میں تقریباً 40 سول سوسائٹی اور مذہبی گروپوں کے نمائندوں نے غزہ مشن پر بات چیت کے لیے صدر سے ملاقات کی۔ انڈونیشیا کے اعلیٰ اسلامی مشاورتی ادارے کے نائب چیئرمین محمد چول نفیس کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا گیا ہے کہ پرابوو نے ان وفود کو بتایا کہ وہ بورڈ آف پیس سے دستبردار ہونے کے لیے تیار ہیں اگر وہ ’’آزاد فلسطین کے مقصد کو آگے بڑھانے میں ناکام رہے‘‘۔

2025ء میں صحافیوں کی دو تہائی اموات کا ذمہ دار اسرائیل تھا: سی پی جے

صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے 2025ء کے دوران دنیا بھر میں مارے گئے 129 صحافیوں میں سے دو تہائی اموات کے لیے اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ سی پی جے نے صحافیوں کی اموات کا لگاتار دوسرے سال کا ریکارڈ پیش کیا، جو یہ تنظیم گزشتہ تین دہائیوں میں اکٹھا کر رہی ہے۔ میڈیا واچ ڈاگ کی سی ای او جوڈی گینز برگ نے ایک بیان میں کہا: ’’ایک ایسے وقت میں صحافیوں کو ریکارڈ تعداد میں قتل کیا جا رہا ہے جب معلومات تک رسائی پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ جب صحافیوں کو خبریں دینے پر مارا جاتا ہے تو ہم سب کو خطرہ ہوتا ہے۔‘‘ سی پی جے نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ 2025ء میں ہونے والی تمام اموات میں سے تین چوتھائی سے زیادہ تنازعات کی وجہ سے ہوئیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ 2025ء میں اسرائیلی فائرنگ سے جان سے جانے والے پریس کے 86 ارکان میں سے 60 فیصد سے زیادہ غزہ سے رپورٹنگ کرنے والے فلسطینی تھے۔

برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتا نسلی تعصب

انگلستان کے ویسٹ مڈلینڈز کے علاقے ورسیسٹر میں ورسیسٹر مسلم ویلفیئر ایسوسی ایشن (WMWA) سے تعلق رکھنے والی ایک نئی مسجد کے ساتھ والی کمیونٹی بلڈنگ کو علی الصبح ایک مشتبہ شخص نے نشانہ بنایا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ویڈیو کلپس میں دکھایا گیا ہے کہ ایک سفید فام شخص عمارت کے قریب آگ لگاتا ہے اور بھاگنے سے پہلے آگ کے شعلے بڑھتے ہیں۔ مسلم ویلفئیر ایسوسی ایشن نے جاری کردہ بیان میں کہا کہ ’’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک نسلی اور مذہبی طور پر نفرت انگیز اسلامو فوبک عمل ہے۔‘‘ دوسری جانب بی بی سی نے اس واقعے کے متعلق رپورٹ میں پولیس افسر کی رائے بتائی کہ یہ نسلی تعصب کا واقعہ نہیں تھا۔ ایک اور واقعہ مانچسٹر میں پیش آیا۔ ایک شخص کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ مبینہ طور پر کلہاڑی اور چاقو لے کر شہر کی ایک مرکزی مسجد میں داخل ہوا تھا۔ خبر رساں اداے اے ایف پی کے مطابق مانچسٹر پولیس کے اسسٹنٹ چیف کانسٹیبل جان ویبسٹر نے کہا: ’’مشتبہ شخص کی تلاشی لی، اسے گرفتار کیا اور ایک کلہاڑی، ایک چھری اور کلاس بی کی منشیات سمیت دیگر ہتھیار قبضے میں لیے۔‘‘ جان ویبسٹر کے مطابق اس وقت، یہ واضح نہیں ہے کہ اس واقعے کے محرکات یا مقاصد کیا تھے۔ سوشل میڈیا پر ایک بیان میں، مانچسٹر سینٹرل مسجد نے کہا کہ ’’برطانیہ میں مسلم کمیونٹی کے خلاف حالیہ برسوں میں دھمکیوں اور دشمنی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔‘‘  گزشتہ اکتوبر میں، برطانیہ کی پولیس نے جنوبی انگلینڈ کے ساحلی قصبے پیس ہیون کی ایک مسجد میں آتش زنی کے مبینہ حملے کی بھی ’’نفرت انگیز جرم‘‘ کے طور پر تحقیقات کی تھیں۔

برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات (اسلاموفوبیا) میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے، جس میں مساجد پر حملے، خواتین کے حجاب کھینچنے، اور آن لائن نفرت انگیز تقاریر جیسے واقعات شامل ہیں۔ 2024ء میں چھ ہزار سے زائد مسلم مخالف واقعات رپورٹ ہوئے۔

اقوام متحدہ کی نمائندہ فرانسسکا البانیز اسرائیل پر تنقید کے جرم میں ’زہریلے‘ حملوں کی زد میں

فرانسسکا البانیز پر حملوں کی بنیادی وجہ اُن کا وہ مؤقف ہے جو وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورتِ حال کے بارے میں اختیار کرتی آئی ہیں۔ اقوام متحدہ کی فلسطینی علاقوں سے متعلق ماہر فرانسسکا البانیز نے ان کی نجی زندگی پر اسرائیل اور اس کے حامیوں کی جانب سے ’زہریلے‘ حملوں کی مذمت کی ہے۔ اقوام متحدہ کی ماہر کا یہ بیان بعض یورپی ریاستوں کی طرف سے اس مطالبے کے بعد سامنے آیا ہے کہ فرانسسکا کو اپنے عہدے سے مستعفی ہو جانا چاہیے کیونکہ انہوں نے اسرائیل پر کھلے لفظوں میں اور براہ راست تنقید کی ہے۔ فرانسسکا البانیز پر حملوں کی بنیادی وجہ ان کا وہ مؤقف ہے جو وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورتِ حال کے بارے میں اختیار کرتی آئی ہیں۔ وہ اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ کی حیثیت سے اسرائیل کی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتی رہی ہیں، خصوصاً غزہ اور مغربی کنارے میں فوجی کارروائیوں، بستیوں کی توسیع اور شہری آبادی کے حالات کے بارے میں۔ اُن کی حالیہ رپورٹس اور بیانات میں جنگی جرائم اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کے الزامات کا ذکر کیا گیا، جس پر چند مغربی ممالک نے شدید اعتراض اٹھایا۔ جرمنی، فرانس اور اٹلی نے فرانسسکا کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے عہدے سے مستفی ہو جائیں۔ فرانسسکا البانیز ایک اطالوی قانون دان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ کو بتا سکتی ہوں کہ کس طرح مجھ پر ایسے افسوسناک حملے کیے گئے ہیں جو میری شخصیت اور میرے خاندان کے لیے سخت تکلیف اور نقصان کا باعث ہیں۔ پچھلے چند دن، چند ہفتے بلکہ چند مہینوں سے میں اس تکلیف دہ صورت حال سے گزر رہی ہوں۔ روئٹرز کے مطابق اسرائیلی حکومت نے جنیوا میں اپنے مستقل مشن کو خط لکھا ہے۔ خط میں فرانسسکا کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ اسرائیل کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی مرتکب ہو رہی ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے جہاں تک اس بات کا تعلق ہے جب سے ان کو اقوام متحدہ کی طرف سے اختیار دیا گیا ہے وہ اپنے رویے سے اقوام متحدہ کی ساکھ اور اخلاقی حیثیت کو کمزور کر رہی ہیں اور بار بار یہود مخالف گفتگو کرتی ہیں اور یہودیوں پر الزام لگاتی ہیں۔ فرانسسکا اس اسرائیلی الزام کی تردید کرتی ہیں۔ جنیوا میں فرانسیسی مشن کے لیے نمائندے اور فرانس کے وزیر خارجہ بھی البانیز کو ہدف تنقید بنا چکے ہیں۔ فرانسسکا نے جولائی میں امریکہ کی طرف سے اپنے اوپر لگائی پابندیوں کو بین الاقوامی سطح پر احتساب کی سرگرمیوں کو کمزور کرنے کی حکمت عملی قرار دیا۔ امریکہ نے انسانی حقوق کی کونسل کے لیے لکھی گئی فرانسسکا کی اس رپورٹ پر پابندی عائد کی تھی جس میں سفارش کی گئی تھی کہ امریکی و اسرائیلی حکام کے علاوہ ان کی کمپنیوں کے خلاف فوری طور پر بین الاقوامی فوجداری عدالت کے ذریعے کارروائی کی جائے۔ اقوام متحدہ کی ماہر نے کہا کہ انہیں حالیہ حملوں کے ذریعے ان کاموں سے روکنے کی کوشش کی گئی ہے جس کے ذریعے وہ جنگی جرائم میں ملوث شخصیات کے خلاف کام کر رہی ہیں۔

صومالیہ میں یواےای اسرائیل اتحاد

عرب سنٹر واشنگٹن ڈی سی کی ویب سائٹ نے ایک مضمون شائع کیا جس کا عنوان ہے’’سعودی عرب کا اسرائیل یو اے ای اتحاد کا صومالیہ میں مقابلہ‘‘۔  مصنف جارجیو کیفیرو ہیں، جو گلوب سٹیٹ انالیٹکس کے سی ای او ہیں۔ لکھتے ہیں سعودی عرب اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کی یک طرفہ آزادی کو تسلیم کرنے اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی اس بریک آؤٹ علاقے کی حمایت کو صومالیہ کی علاقائی سالمیت، بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں علاقائی استحکام، اور ریاض کے وسیع تر سکیورٹی مفادات کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ اس نے سعودی عرب کو موگادیشو کے ساتھ دفاعی روابط مضبوط کرنے اور مصر، قطر اور ترکی جیسے دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ اتحاد کرنے پر مجبور کیا ہے تاکہ یو اے ای اسرائیل کے اس اتحاد کا مقابلہ کیا جائے جو کمزور ریاستوں میں تقسیم کو فروغ دے رہا ہے۔

26 دسمبر 2025ء کو اسرائیل نے صومالی لینڈ کی آزادی کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا۔ اسرائیل پہلا ملک تھا جس نے ایسا کیا۔ اس پر افریقی یونین، عرب لیگ، یورپی یونین، جی سی سی اور اسلامی تعاون تنظیم کی طرف سے شدید مذمت کی گئی۔ رپورٹس میں اسرائیل کی صومالی لینڈ میں فوجی موجودگی قائم کرنے اور بندرگاہ تک رسائی حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کا بھی ذکر ہے، بشمول 6 فروری 2026ء کو صومالی لینڈ کے صدر کا بیان کہ اسرائیلی کمپنی کو بندرگاہ دینے سے انکار نہیں کیا جا رہا۔ ریاض نے فوری طور پر اسے مسترد کیا اور 9 فروری 2026ء کو موگادیشو کے ساتھ فوجی تعاون پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، جو تکنیکی مدد، تربیت اور فورس ڈویلپمنٹ پر مرکوز ہے تاکہ صومالیہ کے اتحاد کو مضبوط بنایا جائے۔

 یو اے ای نے صومالی لینڈ کی آزادی کو تسلیم نہیں کیا لیکن ابہام برقرار رکھا ہے، جنوری 2026ء میں عرب لیگ او آئی سی کی مشترکہ مذمت میں شامل نہیں ہوا اور افریقی یونین کے ساتھ الگ بیان جاری کیا جس میں صومالیہ کی خودمختاری کا دفاع کیا گیا۔ تاہم، یو اے ای نے صومالی لینڈ میں بڑی سرمایہ کاری کی ہے اور صومالی لینڈ اور ایتھوپیا کے درمیان تعلقات کو سہولت فراہم کی ہے، بشمول بحیرۂ احمر تک رسائی۔ اس کی وجہ سے صومالیہ نے 12 جنوری 2026ء کو یو اے ای کے ساتھ تمام دفاعی، سکیورٹی اور بندرگاہ کے معاہدوں کو منسوخ کر دیا، خودمختاری کی خلاف ورزی کا حوالہ دیتے ہوئے۔ مصر نے 2024ء میں صومالیہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا اور بحیرۂ احمر کی سکیورٹی پر مشترکہ خدشات اور گرینڈ ایتھوپین رینیسانس ڈیم پر ایتھوپیا کے ساتھ تنازعات کی وجہ سے ریاض کے ساتھ اتحاد کر رہا ہے۔ قطر نے اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کیے جانے کی مذمت کی اور سعودی عرب کے معاہدے سے چند ہفتے پہلے صومالیہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا، جو تربیت اور سکیورٹی کوآرڈینیشن سے متعلق ہے۔ ترکی نے بھی صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کی مذمت کی۔ ترکی موگادیشو کی حکومت کی حمایت کرتا ہے اور صومالیہ میں اس کی مستقل فوجی موجودگی بھی ہے۔

٭٭٭٭٭

Previous Post

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | بارہویں قسط

Next Post

سوریا کے متعلق چند کھلی باتیں

Related Posts

اِک نظر اِدھر بھی! | جولائی 2025
دیگر

اِک نظر اِدھر بھی! | اپریل 2026

1 مئی 2026
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | بارہویں قسط

8 مارچ 2026
مجاہد جہاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟ | وجہ نمبر: چونتیس (۳۴)
حلقۂ مجاہد

مجاہد جہاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟ | وجہ نمبر: انتالیس (۳۹)

8 مارچ 2026
گستاخیوں (Blasphemy)  کا بڑھتا رجحان
پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

گستاخیوں (Blasphemy) کا بڑھتا رجحان

8 مارچ 2026
بھیڑ چال سے بچیں
افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ

بھیڑ چال سے بچیں

8 مارچ 2026
نوآبادیاتی دور کی روایات پر کاربند کمشنر اور سول سروس افسران
پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

نوآبادیاتی دور کی روایات پر کاربند کمشنر اور سول سروس افسران

8 مارچ 2026
Next Post
سوریا کے متعلق چند کھلی باتیں

سوریا کے متعلق چند کھلی باتیں

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

اپریل 2026ء
اپریل 2026ء

اپریل 2026ء

by ادارہ
1 مئی 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version