اللہ نے جہاں زندگی میں آزمائشیں رکھیں وہیں ان سے بچنے کا بھی پورا انتظام فراہم کیا ہے۔ جیسا کہ موجودہ دور فتنوں کی بارش کا دور ہے تو کیسے ممکن ہے کہ کائنات کے خالق نے جو ہمیشہ سے آئندہ آنے والے تمام حالات کا مکمل علم رکھتا ہے، وہ جو علم محیط کا مالک ہے اپنے بندوں کے لیے ان آزمائشوں سے بچنے کی کوئی راہ نہ بتاتا؟
جس بڑی آزمائش سے آج انسان کو واسطہ آن پڑا ہے وہ حق و باطل کا باہم خلط ملط ہو جانا ہے، وہ صحیح اور غلط کی پہچان کا نہ ہونا ہے، وہ گمراہ کرنے والے قائدین کی بہتات ہے۔
ہمیں غور اس پر کرنا ہے کہ آج جب ہر طرف جھوٹ کا دور دورہ ہے، سائنسی ترقی کا غلط استعمال تو عروج پر ہے ہی لیکن انہی سائنسی ایجادات کے حق کی خاطر استعمال پر قدغن بھی لگائی گئی ہیں، ایسے میں گمراہی سے بچنے کے لیے ہمارے دین نے کیا رہنمائی فرمائی ہے؟ ہمیں کیسے ہر طرف پھیلے گمراہ کن بیانیہ سے بچنا ہے اور حق کی تلاش کا طریقہ کار کیا ہونا چاہیے؟ نیز جو مایوس ہیں کہ ایسا کوئی راستہ نہیں کیا ان کے لیے اس مایوسی کی کوئی گنجائش ہے؟
سب سے پہلے تو یہ اصول طے کریں کہ اپنا کوئی معیار بنائیں، ہر سنی سنائی بات پر یقین کر لینا اور اسے آگے پھیلانا آپ کے دین میں منع ہے۔ چنانچہ سماجی رابطوں کی جتنے پلیٹ فارم ہیں ان میں اکثریت مواد ایسے ذرائع سے آتا ہے جن کی حق و صداقت مسلمہ تو دور کی بات، وہ واضح طور پر کذب بیانی کرنے والے ہوتے ہیں یا کم از کم مشکوک تو ہوتے ہی ہیں۔ ایسے میں قرآن حکیم ارشاد فرماتا ہے:
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ جَاۗءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوْٓا اَنْ تُصِيْبُوْا قَوْمًۢا بِجَــهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰي مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِيْنَ (سورۃ الحجرات: ۶)
’’اے ایمان والو ! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے ، تو اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی سے کچھ لوگوں کو نقصان پہنچا بیٹھو ، اور پھر اپنے کیے پر پچھتاؤ۔‘‘
اگر محض اس ایک آیت مبارکہ پر بھی عمل کر لیا جائے تو گمراہی کے بہت سے دروازے بند ہو سکتے ہیں۔ جبکہ دین مبین نے تو ہمارے لیے مکمل رہنمائی فراہم کی ہے۔ الحمدللہ
عقل انسانی بھی اس چیز کی متقاضی ہے کہ جب کوئی بات سنیں تو اس کی تحقیق ضرور کریں اور ہم خود بھی جب اپنے کسی مالی یا مادی مفاد کے خلاف کسی کی بات سنیں تو فوراً اس بات کے تمام پہلوؤں کی کھوج شروع کر دیتے ہیں تا کہ اپنے مفادات کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے، پھر دین (سیاست دین ہی کا جزو ہے، دین محض عبادات کا مجموعہ نہیں) کے معاملے میں ایسا لاپرواہ رویہ عاقبت نا اندیشی نہیں تو کیا ہے؟
یہ غفلت ایسی نہیں کہ جس پر کوئی باز پرس نہ ہو بلکہ رسالت مآب ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ1صحیح المسلم حدیث نمبر 7، سنن ابی داؤد 4992، مشکوۃ المصابیح 156
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات بیان کر دے۔‘‘
اس حدیث مبارکہ سے مسئلے کی حساسیت کا اندازہ لگانا قطعاً مشکل نہیں، لہذا سماجی رابطوں کے پلیٹ فارمز (سوشل میڈیا) کا جو خبط آج لوگوں پر سوار ہے اسے قابو میں لانا ضروری ہے۔ یہ دیکھنا ہو گا کہ کون بات کر رہا ہے اور کیا بات کر رہا ہے اور بات کرنے والے کے مقاصد کیا ہیں۔
ایسی بہت سی باتیں ہیں جو مسلمہ اور محکم ہیں، مثلاً اسلامی احکام وغیرہ ۔ جو شخص یا ادارہ آپ کو واضح شریعت سے روگردانی کرتا نظر تو فوراً آپ کی توجہ سورۂ حجرات کی اوپر مذکور آیت مبارکہ میں حکم ربانی کی جانب جانی چاہیے جس میں فاسق کی بتائی ہوئی خبر کی تحقیق پر زور دیا گیا ہے۔
کچھ باتیں شاید سمجھنا عام آدمی کے لیے دشوار ہو لیکن بے حیائی، موسیقی اور داڑھی مونڈنا ایسے افعال ہیں جن کو ہر عام شخص آسانی سے سمجھ سکتا ہے اور باطل سے وابستہ لوگوں کی اکثریت ان قبیح افعال میں کثرت سے ملوث نظر آتی ہے۔ لہذا ایسے لوگوں سے یا ان کے ایجنڈے سے بچنا ہر مومن کی ذمہ داری ہے۔ ٹھیک اسی طرح اگر آپ کو نظر آئے کہ کچھ لوگ ہیں تو با عمل طبقہ سے وابستہ لیکن ایجنڈہ ان کے ہاتھ میں نہیں بلکہ وہ ایسے لوگوں کا ایجنڈہ آگے بڑھا رہے ہیں جو اعلانیہ فاسق ہیں۔ با شعور مومن کو ایسے لوگوں کی اصلیت کو سمجھنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔
پھر دین کے کچھ اہداف ایسے ہیں جنہیں ہر شخص آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ اور جو لوگ ہمیشہ دینی احکام کی بجا آوری اور شریعت کی تابعداری پر زور دینے کے بجائے سارا زور دین کی جدید اور من گھڑت تشریحات کو عوام میں رائج کرنے پر صرف کرتے ہوں، ظاہر ہے وہ علمائے حق نہیں ہو سکتے۔ جس شخص کی توجہ مخلوق کو خالق کے حکم کا پابند بنانے کے بجائے طاقتور لوگوں کی خوشنودی کی جانب نظر آئے تو ایسے لوگوں کی نیت پہچاننا کیا مشکل؟ نیز اس سلسلے میں کسی ایسے شخص سے بچنا از حد ضروری ہے جس کے متعلق علمائے حق کی اکثریت کی رائے ہو کہ وہ جادۂ حق سے ہٹا ہوا ہے۔
اگر کسی معاملے میں کسی ایسے شخص کی رائے آپ کو شش و پنج میں ڈال رہی ہے جو ہو بھی با عمل اور اس کا عمومی منہج بھی جمہور علمائے امت سے مطابقت رکھتا ہو، لیکن کسی خاص سیاسی معاملے پر اس کی رائے ایسی ہو جو دینی مفادات سے ٹکراتی نظر آتی ہو تو سب سے پہلے دیکھا جائے گا وہ کس صف میں کھڑا ہے؟ کیا اس کی رائے کی تائید باطل گروہ کر رہے ہیں؟ یا ایسے علمائے سوء جن کا اوپر ذکر آیا ہے اس سیاسی معاملے میں اس سے ہم آہنگ ہیں؟ جبکہ دوسری طرف با عمل طبقے کا جھکاؤ نظر آئے یا دینی مفاد نظر آئے تو اس خاص معاملے ایسے شخص کو بھی معتبر خیال نہیں کیا جا سکتا۔
مومن ایسی ہستی ہوتا ہے جسے اللہ نے ایمان کی دولت سے سرفراز فرمایا ہوتا ہے، لہذا یہ بات قطعاً اس کے شایانِ شان نہیں کہ وہ بھیڑ چال چلے یا یوں کہہ لیں عوامی مزاج اور رجحان کو دیکھ کر فیصلہ کرے۔ اگر وہ اس معاملے میں غفلت برتے گا تو لازم ہے کہ خسارہ اٹھائے گا اور یہ خسارہ کبھی اتنا بڑا بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنا سب کچھ گنوا بیٹھے اور نتیجہ کار جہنم کا ایندھن بن بیٹھے۔ معاذ اللہ!
چنانچہ ایک مومن کی بصیرت اس سے یہ تقاضا کرتی ہے کہ عقائد اسلامی سے واقفیت کے ساتھ ساتھ اسلام کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے اور اللہ کی حاکمیت یعنی شریعت مطہرہ کو مقدم رکھتے ہوئے وہ اپنی سیاسی رائے ترتیب دے۔ رسول پاک ﷺ نے اس معاملے میں غفلت کو نہ صرف ناپسند فرمایا ہے بلکہ اس کی سخت ممانعت بھی فرمائی ہے۔ چنانچہ حدیث پاک میں ارشاد فرمایا:
لا تکونوا إمّعة2مشکوۃ: 5129 ، الترمذی: 2007
’’امعہ نہ بنو۔‘‘
حدیثِ نبوی ﷺ کا ایک اہم حکم ہے، جس کا مطلب ہے کہ اپنی شخصیت اور اصولوں کے مالک بنیں۔ دوسروں کی اندھی پیروی نہ کریں، اور نہ ہی یہ کہیں کہ ’’اگر لوگ اچھے ہیں تو ہم اچھے ہیں، اور اگر وہ ظالم ہیں تو ہم بھی ظالم ہیں‘‘۔
آئیے اب ان اصولوں اور احکام کو مزید سمجھنے کے لیے نمونے کے طور پر چند اشخاص کو اور حالیہ امارت اسلامیہ افغانستان کا پاکستانی فوج سے تنازع دیکھتے ہیں کہ کیسے کسی معاملے میں حق بات سمجھنا یا اس تک پہنچنا مومن کے لیے ممکن ہو سکتا ہے۔
پہلا تقابل پاکستانی فوج اور امارت اسلامیہ
- ایک فوج رائل انڈین آرمی کا تسلسل ہے جسے آج بھی انہی خطوط پر چلایا جا رہا ہے جن پر اسے برطانوی استعمار نے بنایا تھا۔
- اگرچہ پاکستان کی اکثریتی مسلم عوام کو مطمئن کرنے کے لیے چند مذہبی اصطلاحات وغیرہ کی ملمع سازی کی گئی ہے لیکن اس فوج کا شریعت یا احکامِ شریعت سے نہ تو نظریاتی تعلق ہے نہ عملی تعلق ہے۔
- عام آدمی اگر ان کی محافل میں مخلوط ناچ گانا اور ہلڑ بازی دیکھے تو سمجھنا مشکل نہیں ہو گا۔
- نیز فوج کی اکثریت بالخصوص افسران بےریش ہوتے ہیں، جن کا صوم و صلوٰۃ سے بھی کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
- انفرادی زندگی میں بھی اس فوج کے لوگوں کی ترجیح زیادہ تر مال سمیٹنا ہوتی ہے۔
- اس فوج کا مقصد بھی قطعاً شریعت کا نفاذ نہیں بلکہ اس کا متضاد ہے۔ یعنی ایسی ہر آواز اور کوشش کو سختی سے کچلنا جو محمد عربی ﷺ کے دین کو نافذ کرنے کا کہے یا اس کے لیے عملی کوشش کرے بلکہ اسی نقطے پر ان کی تربیت کی جاتی ہے۔
- اس فوج کو خود اپنے ملک میں موجود آئین یا دستور کی حفاظت کا حلف دیا جاتا ہے لیکن اس کی پوری تاریخ اسی آئین کو ہمیشہ توڑنے اور حلف سے روگردانی کرنے کی ہے۔
- اس فوج کے جرنیلوں کی کوشش ہوتی ہے زیادہ سے زیادہ لوٹ مار کر کے مال اکٹھا کیا جائے اور ریٹائرمنٹ کے بعد بیرون ملک اپنی اولادوں اور خاندان سمیت باقی زندگی گزاریں۔
- اس فوج کا مزاج ہے کہ یہ اپنے علاوہ ہر شہری کو کم تر انسان سمجھتے ہیں ان کی تذلیل کرنا یا ان پر ظلم کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔
یہ وہ باتیں ہیں جو ہر پاکستانی کو پتہ ہیں اور ان میں سے اکثر کا اقرار ہر گلی محلے میں لوگ کرتے رہتے ہیں۔ اس فوج کے افعال غلیظہ کی فہرست بہت طویل لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسی منصف مزاج شخص کے لیے اس کا امارت اسلامیہ افغانستان سے تقابل کرنا بھی امارت اسلامیہ کی ناقدری ہو گا۔ لیکن محض سادہ لوح اور فتنہ زدہ پاکستانی عوام کے بعض عناصر جو وطنیت کے بت کی وجہ سے اس فوج کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں اور غلط فہمی کا شکار ہیں، ان کی اصلاح مقصود ہے۔ اللہ ہماری اس تقصیر کو معاف فرمائے۔
دوسری طرف امارت اسلامیہ افغانستان کی وہ عظیم افواج ہیں جو آزمائش در آزمائش کی بھٹی میں پک کر کندن بن چکی ہیں۔ اس میں شامل اکثریت مجاہدین وہ ہیں جو دنیا تو دور مال غنیمت تک سے بے نیاز پوری دنیا کے مادی اسباب کے مقابل لمبا عرصہ سینہ سپر رہے۔ نہ رہنے کو مناسب ٹھکانہ ہوتا تھا نہ کھانے کو انواع و اقسام کے پکوان، یہ وہ عظیم نفوس قدسیہ ہیں جو سوکھی روٹی پانی میں ڈبو کر کھایا کرتے اور اللہ کا شکر بجا لاتے تھے۔ خشیت الٰہی اس درجہ کی کہ تہجد میں ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی بہتی لڑی کو دیکھ کر بڑے بڑے اولیاء رشک کرتے۔ یہ اپنی نگاہوں کی حفاظت میں اپنی مثال آپ ہیں، ان کی جوانیاں پاکیزگی اور طہارت کی مثال ہیں۔ ان کی شجاعت دنیا بھر میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ یہ اللہ کے عاشق ہیں اور ان کا رب بلاشبہ ان سے محبت رکھتا ہے۔ یہ اپنی عوام کے غم خوار ہیں۔ یہ بہنوں کی عصمتوں کے محافظ ہیں، انہی کی بدولت آج ہر افغان بیٹی کو تحفظ حاصل ہے۔ یہ شریعت مطہرہ کو اپنی جان سے عزیز رکھتے ہیں۔ آج دنیا میں واحد مملکت امارت اسلامیہ افغانستان ہے جہاں دین محمدی ﷺکے احکام کا نفاذ کیا گیا ہے۔ یہ مبارک افواج اسی پاکیزہ نظام کی پہرہ دار اور محافظ ہیں۔
اب کچھ اشکالات پر نظر ڈالتے ہیں جن کا شکار ایک عام پاکستانی کو کیا گیا ہے۔ اور تمثیلاً کچھ امت کے خائنین کا ذکر کرتے ہیں جنہوں نے حقیر دنیا کے عوض اپنی آخرت کا سودہ کر دیا اور ایمان فروشی کی راہ کو اختیار کیا۔
پاکستانی عوام کو بتایا جاتا ہے کہ امارت اسلامیہ اور پاکستانی فوج کے درمیان قضیہ ان جہادی جماعتوں کا ہے جو پاکستان کے عوام کو ظالم فوج کے جبر سے آزاد کروانے کے لیے قربانیاں پیش کر رہی ہیں اور پاکستان کو بھی شریعت مطہرہ کے مبارک نظام سے آراستہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس ضمن میں پاکستانی فوج کا دعویٰ ہے کہ ان جماعتوں کی قیادت اور کئی افراد سرزمین افغانستان میں رہائش پزیر ہیں۔ لہذا یا تو امارت اسلامیہ انہیں شہید کرے یا افواج پاکستان جو تمام تر وسائل کے باوجود ان کے مقابلے سے عاجز آ چکی ہے اور مٹھی بھر مجاہدین نصرت خداوندی سے اسے کاری ضربیں لگا رہے ہیں تو بدلے میں وہ امارت اسلامیہ افغانستان پر حملہ کریں گے اور ساتھ میں ان کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کریں گے۔
جبکہ حقیقت میں تنازع کی وجوہات بالکل الگ ہیں۔
دنیا میں شیطانی قوتیں دجال کے خروج کی تیاریوں میں پورے زور و شور سے مصروف ہیں، ایسے میں سرزمین افغانستان ایک ایسا خطہ ہے جہاں شریعت مطہرہ کے پاکیزہ قوانین کو نافذ کیا گیا ہے اور دنیا بھر کی شیطانی قوتوں کے ہر قسم کے پریشر ، ہر قسم کی لالچ اور ہر قسم کی دھمکیوں کو خاطر میں نہیں لایا گیا۔ چنانچہ ایسی صورت میں جب پاکستان میں ایک ظالم اور قابض ٹولہ عالمی استعماری قوتوں سے اپنے قبضے کے دوام کی سند چاہتا ہے، ورنہ انسانی حقوق کی پامالیوں کا ڈھنڈورا پیٹا جائے گا اور حکومت، جسے عوامی حمایت پہلے ہی حاصل نہیں، اسے چلتا کیا جائے گا۔ لیکن انسانی حقوق کا ڈھکوسلہ کیوں کے مغرب کا ایک سیاسی ہتھیار ہے لہذا پاکستانی فوج کے تمام مظالم پر امریکہ اور اس کے حواری آنکھیں بند رکھیں گے، بدلے میں عاصم منیر کا قابض ٹولہ ہر امریکی حکم بجا لائے گا، گویا پاکستان ایک مرتبہ پھر کرائے پر دستیاب ہے۔ امارت اسلامیہ افغانستان کو ایک ناکام حکومت ظاہر کرنا اسلام دشمن طاقتوں کی دیرینہ خواہش ہے تا کہ وہ کہہ سکیں کہ اسلام آج کے دور میں ناقابل عمل دین ہے۔ اور اپنے باطل نظام کو جواز دے سکیں۔ نیز اللہ کے دین پر عمل پیرا ہونے والے ایمان و تقویٰ کے اعلیٰ معیار پر فائز امارت اسلامیہ افغانستان کی قیادت اور حکام کے علاوہ ذیلی ملازمین بھی جس طرح کھربوں ڈالر سے پھیلائی دجالی تہذیب پر لعنت بھیج کر پاکباز سفرِ زندگی پر گامزن ہیں اس پر شیطان اور اس کے پجاری کتنے سیخ پا ہیں اس کا اندازہ دنیا بھر میں دجالی میڈیا پر امارت کے خلاف منفی پراپیگنڈے سے لگایا جا سکتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کی افواج کو مجاہدین کی جانب سے شدید حملوں کا سامنا ہے ، ایسے میں اگر وہ کہہ رہے ہیں کہ اس وجہ سے وہ امارت اسلامیہ افغانستان سے عداوت پر اتر آئے ہیں کہ وہ ان کو کیوں نہیں روکتی؟ تو اس معاملے میں چند باتوں کا سمجھنا ضروری ہے کہ جب امارت اسلامیہ کا احیا نہیں ہوا تھا اور افغانستان پر اشرف غنی کی حکومت تھی تو کیا پاکستانی فوج پر مجاہدین کے حملے نہیں ہو رہے تھے؟ کیا اس وقت یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ پاکستان میں حملوں کو روکنا اشرف غنی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے جبکہ اس انتظامیہ کو ہر طرح سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی مدد کے علاوہ فضائیہ بھی دستیاب تھی؟ ظاہر ہے یہ غیر منطقی مطالبہ اس وقت نہیں کیا گیا تھا حالانکہ سب تسلیم کرتے ہیں کہ بیس سالہ جنگ میں مجاہدین کی تشکیلات کا پاکستان اور افغانستان آنا جانا معمول تھا۔ افغانستان میں مجاہدین کے مراکز اور قرار گاہیں تھیں کئی جگہ معسکرات تھے۔ لیکن اس وقت پاکستان کو یہ ادراک تھا کہ اس کی داخلی سکیورٹی اس کی اپنی ذمہ داری ہے اور سرحد پار سے آمدورفت کا گلہ نہ کیا، لیکن اب جب کہ پاکستان پورے بارڈر پر امریکہ کی فراہم کردہ خطیر رقم خرچ کر کے باڑ لگا چکا ہے، فوجی چوکیوں کا جال بچھایا جا چکا ہے، ہر جگہ کیمرے نصب ہیں، بارڈر پر گشت کیا جاتا ہے، ڈرون سے مسلسل نگرانی کی جاتی ہے الغرض کئی طرح کے طریقوں سے بارڈر کی نگرانی اور حفاظت کی جاتی ہے اور دن بدن اس میں شدت بڑھتی جا رہی ہے۔ لیکن اس کا پراپیگنڈہ ایسے کیا جاتا ہے جیسے بارڈر نہیں موٹر وے ہے جس پر مجاہدین کی دن رات آمد و رفت جاری ہے۔
امارت اسلامیہ افغانستان نے کئی مواقع پر واضح کیا ہے کہ دوحہ معاہدے کی رو سے وہ اس پالیسی پر عمل پیرا ہے کہ افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہ کی جائے۔ لیکن بے تکی ضد سے گمراہ کن پراپیگنڈے کے ذریعے پاکستانی فوجی قیادت دراصل اس حکم کی تعمیل کا جواز پیدا کرنا چاہتی ہے جو اسے اس کے آقاؤں کی جانب سے دیا گیا ہے۔
پاکستانی فوج کا اعتراض ان قبائلی مہاجرین پر ہے جو پے در پے آپریشنز سے تنگ آ کر افغانستان کی سابقہ حکومت کے دور میں پاکستان سے ہجرت کر کے افغانستان میں جا بسے تھے۔ پاکستان میں ان کی جان و مال اور کاروبار پاکستانی فوج کے مظالم کی وجہ سے غیر محفوظ ہو گئے تھے۔ امریکی احکام پر پاکستانی فوج نے اپنے عوام پر کیسا جبر مسلط کیے رکھا یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ آج بھی گھر سے بے گھر ہونے والوں کی روح فرسا داستانیں سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ اگر کسی کو تحقیق کا شوق ہو تو ایسے لاکھوں لوگ پاکستان میں آج بھی رہائش پزیر ہیں جو اس ڈالری جنگ کی وجہ پاکستانی فوج کے مظالم کا شکار ہوئے اور متاثرین کیمپوں میں کسمپرسی کی حالت میں بے یار و مددگار پڑے رہے۔ ان کی با پردہ خواتین نے وہاں کن مصائب و آلام کا سامنا کیا اس کا اندازہ ٹھنڈے کمروں، نرم گداز بستروں پر اور رنگ برنگے کھانے کھا کر پہلو بدلتے لوگوں کے لیے لگانا آسان نہیں۔ امارت اسلامیہ افغانستان جیسے عالی اخلاق رکھنے والے اور اعلیٰ ترین انسانی قدروں کے حامل افراد سے یہ کیسے توقع کی جا سکتی ہے کہ اس قدر دکھی اور تکلیف زدہ مہمانوں کو محض اس لیے پریشان کرے کہ چند عاقبت نا اندیش ان کو بہانہ بنا کر امارت اسلامیہ افغانستان پر الزام تراشی کرتے ہیں۔ ان میں با پردہ خواتین ہیں جو اس امت کی بیٹیاں ہیں، معصوم بچے ہیں، لاچار بوڑھے ہیں بیمار ہیں اور نادار لوگ ہیں۔ پاکستانی فوج کی شرانگیز بلیک میلنگ کے دباؤ میں شاید دنیا کی کوئی اور ریاست تو آ سکتی ہو لیکن جن کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ محسن امت شیخ اسامہ بن لادن اور ان کے مجاہد ساتھیوں کو پوری دنیا کے طاغوت کے مطالبے پر حوالے کرنا گوارہ نہ کیا وہ عظیم امارت اسلامیہ افغانستان کبھی ایسا نہیں کر سکتی۔
پاکستانی فوج کے من گھڑت الزامات کی قلعی وقتاً فوقتاً قدرت خود بھی کھول دیتی ہے۔ جب اور کچھ نہ بن پڑا تو جہادی جماعتوں کے علاوہ بی ایل اے، جو ایک علیحدگی پسند تنظیم ہے، اس کی قیادت کے بھی افغانستان کی سرزمین پر ہونے کا شوشہ چھوڑا گیا۔ اللہ کی کرنی ایسی ہوئی کہ کچھ دن پہلے اس تنظیم کا مرکزی رہنما بلوچستان میں اپنے ساتھیوں سمیت ایک ویڈیو میں موٹر سائیکل پر محو سفر نظر آیا۔ اسی طرح جہادی تنظیموں کی قیادت بھی کئی مواقع پر مختلف ویڈیوز میں پاکستان کے مختلف مقامات مثلاً خیبر ایجنسی وغیرہ میں نظر آئے۔ لیکن ڈھاک کے وہی تین پات، پوری بےشرمی اور ڈھٹائی سے افواج پاکستان کا ترجمان اپنا الزام دہراتا رہا کہ قیادت افغانستان میں ہے۔ اگر بالفرض کوئی شخصیت افغانستان کے کسی علاقے میں رہائش پذیر ہو بھی تو کیا یہ افغانستان پر حملہ آور ہونے کا جواز قرار دیا جا سکتا ہے؟ کیا محسن امت شیخ اسامہ بن لادن کی شہادت پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں نہیں ہوئی تھی؟ لیکن ظاہر ہے پاکستان کی اسلام دشمن فوج کے بارے میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ ان کو محسن امت شیخ اسامہ بن لادن کے عرصہ قیام میں اس کی بھنک بھی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے بھی اس پر اپنے وفادار پاکستانی جرنیلوں سے انتقام نہیں لیا۔ تو پھر امارت پر افغانستان جیسے خطے میں انتہائی محدود وسائل کے ساتھ ہر ذی روح کی مانیٹرنگ کی ذمہ داری کیسے ڈالی جا سکتی ہے؟ جبکہ امارت پہلے دنیا کو داعشی خوارج کے خطرے سے بچانے کے لیے بھر پور تگ و دو میں اپنے قیام کے روز اول سے مصروف ہے۔ اس ضمن میں امارت کی کامیابیوں کی دنیا معترف ہے جبکہ پاکستان میں داعش کی ریاستی سہولت کاری اور اسے مراکز بنا کر دینا کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ یعنی الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے!
اب اس ساری صورتحال کو سمجھنے کے بعد پاکستانی فوج کا باولا پن سمجھنا مشکل نہیں کیونکہ ان کے آقاؤں کی طرف انہیں یہ مشن کافی عرصے سے سونپا گیا ہے۔ اور امارت اسلامیہ افغانستان کے زعماء کی دیانت، محنت، لیاقت اور صلاحیتوں کی بدولت باطل کی تمام تر کوششوں کے باوجود امارت اسلامیہ افغانستان تیزی سے ملکی ترقی و خوشحالی کا سفر طے کر رہی تھی۔ دفاعی میدان کے علاوہ معاشی اور سفارتی میدان میں امارت کی کامیابیوں نے اسلام دشمنوں کی نیندیں حرام کر رکھی تھیں اور وہ چاہتے تھے جلد از جلد ان کے پالتو وفادار پاکستانی جرنیل امارت اسلامیہ پر حملہ آور ہوں اور ہر طرح سے ان کے لیے اعلانیہ دشمنی کا رویہ اختیار کریں۔
سوال یہ ہے کہ جب یہ حکم امت کے غدار پاکستانی جرنیلوں کو کفار کی جانب سے کافی عرصہ سے دیا جا چکا تھا تو ان بے ضمیر جرنیلوں کو اس حکم کو بجا لانے میں کیا جھجک تھی؟
دراصل معاملہ یہ تھا کہ جب سے عاصم منیر نے امریکہ کا (۱۴ روزہ) طویل دورہ کیا تھا اسی وقت سے وہ حکم کی تعمیل میں مصروف ہو گیا تھا۔ پاکستان میں علمائے سوء اور ضمیر فروشوں کی جو کھیپ فوج نے تیار کر رکھی ہے اسے امارت اسلامیہ کی کردار کشی کا مشن سونپ دیا گیا تھا۔ ملک میں نفرت کا بیانیہ پھیلانے کا کام پوری شد و مد سے شروع کر دیا گیا تھا۔ الیکٹرانک میڈیا پر مذہب بیزار اور لبرل جانور بخوشی یہ فریضہ نبھانے لگے۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے تحت امارت کے لیے لفظ شہزادوں کی جگہ گالیوں نے لے لی۔ وقت کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے آقاؤں کا پریشر بڑھتا گیا عاصم منیر کا ہذیان بھی بڑھتا گیا اور حتیٰ کہ تھانوں میں یہ حکم پہنچایا گیا کہ کوئی بھی اجنبی شخص یا منشیات زدہ مجرم بھی پکڑا جائے تو ایف آئی آر میں اس کے ساتھ افغان شہری کا اضافہ کیا جائے جبکہ میڈیا کو واضح ہدایات دے دی گئیں کہ نفرت کے بیانیے کو ہر طرح پھیلایا جائے اور پاکستان اور افغانستان کے عوام کے درمیان محبت و الفت کے جو لازوال رشتے ہیں ان پر اثر انداز ہوا جائے۔ اس تمام عرصہ میں انتہائی غیر شائستہ طریقے سے توہین آمیز انداز میں پاکستان بھر سے افغان شہریوں کو واپس افغانستان بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا گیا تا کہ نومولود افغان حکومت کو معاشی مشکلات کا شکار کیا جائے۔ اس دوران گالیوں کا سلسلہ تواتر سے چلتا رہا حالانکہ گذشتہ کئی دہائیوں سے پاکستانی اشرافیہ افغان مہاجرین کے نام پر اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں سے بھاری رقم وصول کرتی رہی ہے اور یہ سلسلہ تا حال قائم ہے۔ لیکن یہ رقم یا اس کا چوتھائی حصہ بھی افغان مہاجرین پر خرچ نہیں کیا جاتا تھا۔ افغان ایک محنتی قوم ہے جو ہمیشہ اپنی محنت کی کمائی کا راستہ تلاش کرتے ہیں، پاکستان میں بھی جتنا عرصہ افغان مہاجرین نے قیام کیا انہوں نے محنت مشقت سے لے کر تجارت تک پوری جانفشانی سے کام کر کے رزق حلال کمایا جس کا ایک حصہ وہ ٹیکسوں کی مد میں پاکستانی ریاست کو دیتے رہے۔ لیکن جس طرح ان کے اموال اور جائیدادیں ان سے چھین کر ان کو راتوں رات ملک چھوڑنے پر توہین آمیز انداز میں مجبور کیا گیا، یہ پاکستانی فوج کے سیاہ کارناموں میں ایک اور باب کا اضافہ تھا۔
الغرض اس عرصہ میں ہر منفی اور غیر اخلاقی ہتھکنڈہ اپنایا گیا کہ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان موجود مضبوط مذہبی، ثقافتی اور ہمسائیگی کے رشتوں میں دراڑ ڈالی جائے تاکہ فوج اپنے گھناؤنے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکے۔ لیکن حالیہ جنگ میں سب کچھ کرنے کے بعد بھی پاکستانی فوج نے دیکھ لیا کہ دونوں ملکوں کے مسلمان آج بھی ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور مرتد فوج کی چالوں سے واقف ہیں۔ ایسے میں فوج کے زر خرید ایجنٹوں پر نفرت پھیلانے کے لیے آئندہ دنوں میں ذمہ داری بڑھنے کا امکان ہے۔
لیکن خود کو استاد صاحب کہلوانے کے شوقین کراچی کی ایک جامعہ کے نام کو داغدار کرنے والے عبدالرحیم کو آج عوامی حلقوں میں تین طرح سے بلایا جاتا ہے۔ حوالدار عبدالرحیم ، صوبیدار عبدالرحیم یا برگیڈیئر عبدالرحیم ۔
مختلف لوگوں میں یہ اختلاف تو پایا جاتا ہے کہ فوج کے ہاں ان ایجنٹوں کی کیا حیثیت ہے لیکن ان ضمیر فروشوں کے ننگ دین و ملت ہونے میں پاکستانی قوم بالخصوص با عمل طبقہ پوری طرح متفق ہے۔ کثیر پراپیگنڈہ مہم چلا کر ہر طرح کے جھوٹ بول کر بھی یہ لوگ امارت اسلامیہ افغانستان کا مسلمانوں میں منفی تاثر پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس لیے انہوں اپنے چند چیلوں کو اس کام پر معمور کر دیا ہے کہ وہ ان کے لیے تعظیمی کلمات ادا کیا کریں اور پراپیگنڈہ مہم کو بھی آگے بڑھاتے رہیں۔
اسی طرح کی ایک اور عبرت انگیز مثال طاہر اشرفی نامی ایمان فروش کی ہے جس کا نام آج لوگ گالی کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
اللہ جلا شانہ نے قرآن حکیم میں بجا فرمایا ہے:
قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاۗءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاۗءُ ۡ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاۗءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاۗءُ ۭبِيَدِكَ الْخَيْرُ ۭ اِنَّكَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ (سورۃ آل عمران: ۲۶)
’’کہو کہ اے اللہ ! اے اقتدار کے مالک ! تو جس کو چاہتا ہے اقتدار بخشتا ہے، اور جس سے چاہتا ہے اقتدار چھین لیتا ہے، اور جس کو چاہتا ہے عزت بخشتا ہے اور جس کو چاہتا ہے رسوا کردیتا ہے، تمام تر بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔ یقینا تو ہر چیز پر قادر ہے۔ ‘‘
اس آیت مبارکہ سے جہاں اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے اسی لیے یہ ضمیر فروش آج لوگوں میں ایمان فروشی کا استعارہ بن چکے ہیں جس طرح ماضی میں لوگ میر جعفر اور میر صادق کا نام لیتے تھے اب ان جیسوں کا نام بھی ایمان فروشوں کی فہرست میں درج ہو چکا ہے اسی لیے ان کے کسی بھی بیانیے پر کوئی ذی شعور کان دھرنے کو تیار نہیں۔
وہیں یہ آیت مبارکہ یہ بھی سمجھاتی ہے کہ پوری دنیا کا کفر جس طرح مل کر بھی امارت اسلامیہ کے قیام کو نہ روک سکا اسی طرح اسے مٹا بھی نہیں سکتا۔ یہ سب اللہ تبارک وتعالیٰ کے فیصلے ہیں۔
ایک اہم اشکال عوام میں یہ ڈالا جاتا ہے کہ امارت اسلامیہ کے بھارت سے اچھے تعلقات ہیں اور کیونکہ بھارت میں اکثریتی آبادی کا تعلق ہندو مذہب سے ہے لہذا یہ کیسی اسلامی حکومت ہے جس کے تعلقات بھارت سے ہیں۔
کیا پاکستان میں بھارت کا سفارت خانہ موجود نہیں؟ جبکہ بھارت نے تو ابھی تک امارت اسلامیہ افغانستان کی حکومت کو باقاعدہ تسلیم تک نہیں کیا۔ امارت اسلامیہ کی پالیسی ہے تمام ممالک سے برابری کی بنیاد پر ایسے روابط رکھنا جو افغانستان کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کا سبب بنیں۔ بھارت اور امارت اسلامیہ افغانستان کے تعلق میں گرم جوشی بھارت کی طرف دکھائی گئی جس کا موقع اسے پاکستانی فوج کے امارت اسلامیہ کے ساتھ معاندانہ رویے کی بدولت ملا۔ نیز امارت کے بھارت سے تعلقات تجارتی ہیں نہ کہ نظریاتی تعلقات۔ اور کسی بھی اسلامی مملکت پر اسلام کفار سے تجارت کرنے پر کوئی پابندی عائد نہیں کرتا۔ خود پاکستان کی اپنے قیام سے لے کر اب تک کئی جنگوں کے باوجود بھارت سے کھربوں روپے کی تجارت اعلانیہ ہوتی رہی ہے۔
اتنی سی بات پر پراپیگنڈہ کرنا پاکستانی فوج کی بدنیتی کے سوا کچھ نہیں۔ امارت اسلامیہ افغانستان ایک آزاد اور خودمختار حکومت ہے، پاکستانی فوج کی اس سے یہ توقع کہ اس کی خارجہ پالیسی ان سے پوچھ کر بنائی جائے گی کم عقلی اور خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔
ان سب باتوں کے علاوہ بھی دیگر کئی قسم کے جھوٹے اور بےبنیاد پراپیگنڈوں کی ایک بڑی عمارت پاکستانی فوج نے کھڑی کر رکھی ہے، مضمون کی مزید طوالت سے اجتناب کی خاطر سب کا رد ایک ہی مضمون میں ممکن نہیں، لیکن اخلاص کے ساتھ حق کی جستجو رکھنے والا کوئی بھی شخص حالیہ بھارتی وزیراعظم کے صہیونی ناجائز قبضے کے دورے پر تقریر کی مصنوعی ذہانت سے بننے والی جعلی ویڈیو کے پراپیگنڈے کو نمونے کے طور پر دیکھ سکتا ہے جہاں صہیونی نیتن یاہو اور نریندر مودی دونوں کی تقاریر میں نقلی آواز ڈال کر یہ دھوکہ دینے کی کوشش کی گئی کہ گویا امیر المومنین ملا ہیبت اللہ اخونزادہ اور امارت اسلامیہ افغانستان کا اپنے قریبی دوست اور اتحادی کے طور پر ذکر کیا جا رہا ہے۔ جس پر بڑے بڑے شیوخ بھی اس جعل سازی کو نہ سمجھ پائے۔ جبکہ حقیقت میں حالیہ جنگ کے دوران امریکی صدر ٹرمپ کے پاکستانی فوج کے حق میں بیان نے ساری صورتحال واضح کر دی کہ دراصل یہ سب کس کے حکم سے ہو رہا ہے۔ اس لیے ہمیشہ امارت اسلامیہ افغانستان سے حسن ظن رکھیں اور پاکستانی افواج یا ان کے نمک خواروں کی حقیقت کھل جانے کے بعد ان پر کبھی بھروسہ نہ کریں۔
اس سب کے ساتھ جمعہ کو سورۃ کہف کی تلاوت اور صبح و شام کے مسنون اذکار کے علاوہ حفاظت کی مسنون دعاؤں کا اہتمام کر کے اللہ سے حق کی سمجھ بوجھ مانگتے رہا کریں۔ بےشک اللہ ہی کی استعانت سے ایسے فتنوں سے حفاظت ممکن ہے۔
٭٭٭٭٭
- 1صحیح المسلم حدیث نمبر 7، سنن ابی داؤد 4992، مشکوۃ المصابیح 156
- 2مشکوۃ: 5129 ، الترمذی: 2007









![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



