امت مسلمہ کی بے بسی پر غیروں سے کیوں گلہ کریں ، یہاں تو خود اپنے ہی خوابِ خرگوش میں مبتلا ہیں، عام تو عام دیندار طبقہ بھی خاموشی اور صبر کا لیبل لگائے ہوئے ہے، الا ماشاء اللہ۔ مسلمانوں میں یہ سوچ خوب پروان چڑھی ہے یا یوں کہوں تو مبالغہ نہ ہو گا کہ باقاعدہ چڑھائی گئی ہے، کہ اسلام امن کا مذہب ہے، ان اللہ مع الصابرین، یا ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے ۔
جی ہاں! بات کچھ یوں ہی ہے کہ امن و سلامتی کا جتنا درس اسلام نے دیا روئے زمین پر کسی اور مذہب نے نہیں دیا ، دین اسلام جھگڑا کرنا تو دور گالم گلوچ و بد زبانی سے بھی روکتا ہے لیکن جہاں قتل کا حکم آ جائے وہاں امن کا نعرہ کھوکھلا پڑ جاتا ہے ، جہاں اشداء علی الکفار کا حکم ہو وہاں صبر گناہِ عظیم بن جاتا ہے اور جہاں فضرب الرقاب کی شرائط مکمل ہوں وہاں رحم عذاب بن جاتا ہے ۔
آج امت مسلمہ ایک عجیب دور کا شکار ہے جہاں وہ خود اپنی تو اپنی ، مقدس ہستیوں کا دفاع کرنے کے بھی قابل نہ رہی ، ’’ گستاخ رسول ﷺ کی ایک ہی سزا ، سر تن سے جدا سر تن سے جدا‘‘ کے نعروں سے زبانوں کو تو مزین کیا مگر عمل میں لانے سے پیچھے ہٹ گئی۔
پوری دنیا میں آزادیٔ اظہارِ رائے کے نام پر دینِ اسلام کا خوب تماشا بنایا گیا کبھی فلم ،کبھی ڈرامہ تو کبھی خاکہ بنایا حتی کہ کارٹون ڈے تک منائے گئے۔ بات یہاں بھی محدود نہیں رہی پہلے گستاخی کے واقعات کے متعلق معلوم ہوتا تھا کہ یہ گستاخی فلاں ملحد، کافر، مشرک، صیہونی یا صلیبی کے ہاتھوں ہوئی ہے مگر آج وہ دور ہے کہ وہ لوگ جو کلمہ گو ہیں، خود کو مسلمان گردانتے ہیں، وہ ہی بدترین گستاخی کے مرتکب ہیں۔
اے خاصۂ خاصان رسلؐ وقتِ دعا ہے
امت پہ تیریؐ آ کہ عجب وقت پڑا ہے
ملک پاکستان میں گستاخیوں (Blasphemy) کے واقعات زور شور سے ہو رہے ہیں مگر مسلمانانِ پاکستان نے نہ ان سے واقف ہونا چاہا اور نہ ہی شاید ان کے پاس اتنا وقت ہے کہ وہ ان سے واقف ہوں۔ اور جو واقف تھے وہ بے بسی کے عالم میں پریشان حال رہے۔ حال ہی میں پاکستان میں توہینِ رسالت ﷺ، توہین مذہب ، توہین امہات المومنین ، توہین اہل بیت، توہین قرآن و توہین اصحاب کے کیس سامنے آئے۔ اور یہ باب کچھ برس پہلے ہی کھلا، اور پاکستان میں ایک نئی قسم کی بلاس فیمی متعارف ہوئی جیسے پورنو گرافک بلاس فیمی کہا جاتا ہے۔ اسے ہم ’بھینسا‘ اور ’موچا‘ جیسے بدنام زمانہ گستاخ گروپ کا نیا روپ بھی کہہ سکتے ہیں۔
یہ گستاخیاں سوشل میڈیا پر کی گئیں اور ان کی تعداد لاکھوں میں ہے ۔
چالیس سے زائد قران پاک برآمد ہوئے اور وہ FIA کی تحویل میں اب بھی موجود ہیں ۔ اور ان کی بھی DNA رپورٹ میچ ہو گئی۔FIA کے پاس چار سو سے اوپر پورنو گرافک بلاس فیمی کیس درج کیے گئے ہیں ۔
بطور مثال ایک کیس مع وضاحت پیش خدمت ہے تاکہ اس معاملے کو سمجھنے میں آسانی ہو۔
| وٹس ایپ نمبر: | 03445955982 |
| استعمال کرنے والا ملزم: | دلاور التمش سہیل ولد رضوان سہیل |
| گرفتاری کی تاریخ: | ۲۳ فروری ۲۰۲۴ء |
| ملزم سے ملنے والاموبائل بمع سمز: | Redmi Note 9s |
تفتیش کے دوران ملزم نے اپنے گھناؤنے فعل کا اعتراف کیا اور بتایا کہ اس کے گھر میں ایک قرآن پاک اور جائے نماز بھی موجود ہے جن کو استعمال کر کے ملزم نازیبا حرکات کرتا تھا۔
دوران تفتیش ملزم سے برآمد کیے جانے والے موبائل فون کی ٹیکنیکل رپورٹ کے مطابق ملزم کے موبائل فون میں موجود موبائل سم نمبر 03445955982 پر رجسٹرڈ وٹس ایپ نمبر سے مختلف اوقات میں متعدد بار توہین رسالت ﷺ ، توہین قرآن ،توہین مذہب پر مبنی گستاخانہ مواد شیئر کیا گیا۔
ٹیکنیکل رپورٹ کے مطابق ملزم “Mazhabi Bhai” نامی واٹس ایپ گروپ کا بانی اور ایڈمن تھا اور اس نے بہت سے لوگوں کو اس گروپ میں ایڈ کیا۔
اس وٹس ایپ گروپ میں دلاور التمش سہیل سمیت دیگر لوگوں نے توہین آمیز مذہبی گستاخی کا مواد متعدد مرتبہ شیئر کیا۔1تھانہ سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر
یہ کوئی فرضی بات نہیں نا یہ نام پتہ یا دیگر معلومات جعلی ہیں۔ یہ سب حقیقت پر مبنی باتیں ہیں۔ یہ بلاس فیمی ایک منظم طریقہ سے کی جا رہی ہے اور اب تک کی جاتی ہے ۔ اس کیس کے ملزمان کے لیے انٹرنیشنل لیول پر وکلاء بھی کیے گئے اور ان گستاخوں کو بچانے کے لیے عالمی سطح پر کوششیں ہو رہی ہیں۔ یہ کوششیں صرف وکلاء کروا دینے اور انکی ضمانتوں تک محدود نہیں بلکہ بد نام زمانہ دجالی میڈیا بی بی سی بھی اس میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
بی بی سی نے اس حوالے سے جو دجل پھیلایا وہ ملاحظہ ہو:
’’عثمان اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہے اور ان کی والدہ کا دعویٰ ہے کہ انہیں ایک خاتون نے اس مقدمے میں با ضابطہ طور پر پھنسایا جن سے ان کا تعارف سوشل میڈیا پر ہوا ،ان کے بیٹے نے انہیں بتایا کہ اس لڑکی نے خود ان سے فیس بک پر رابطہ کیا اور وہیں بات ہونا شروع ہو گئی اور کچھ دنوں بعد واٹس ایپ پر بات کرنے لگے، ان کے بیٹے کو اسی خاتون نےواٹس ایپ گروپس میں ایڈ کیا جہاں پہلے تو معلوماتی پوسٹ آتی رہیں پھر بعد میں گروپ میں کچھ متنازع چیزیں آئیں جیسے دیکھ کر ان کے بیٹے نے واٹس ایپ گروپ ہی چھوڑ دیا۔ جب عثمان نے گروپ چھوڑا اور لڑکی سے رابطہ نہیں کیا تو پھر اس لڑکی نے عثمان سے بات نہ کرنے کی وجہ پوچھی تو عثمان کے وجہ بتانے پر لڑکی نے صاف انکار کر دیا ۔ لڑکی نے عثمان سے کہا کہ وہ ایسے پیغامات تو بھیجے تاکہ وہ دیکھ سکے کہ وہ کیا ہیں۔ اس کے بعد لڑکی نے عثمان کو ایک ریسٹورنٹ میں ملاقات کے لیے بلایا جہاں پہنچنے پر FIA نے توہین مذہب کے مقدمے میں گرفتار کر لیا۔‘‘
یہ تھی ’بے چارے‘ عثمان کی کہانی جو بی بی سی نے پیش کی۔ ہر بار کی طرح یہ بھی ادھوری بات، اور حقائق سے منہ موڑتی بات!
اور یہ بات بھی واضح رہے کہ بی بی سی نے یہاں جو نام عثمان لیا ہے وہ ایک فرضی نام ہے اس لیے اس ملزم تک پہنچے کے لیے بی بی سی کی ویب سائٹ پر مزید معلومات یہ ملیں کہ یہ دبئی کی ایک نجی کمپنی میں کام کرتا تھا اور 2024ء میں پاکستان آیا ، اور یہ اڈیالہ جیل میں قید ہے۔اللہ جزائے خیر دےا ن لوگوں کو جنہوں نے اس عثمان کو ڈھونڈنے میں مدد کی اور تانے بانے جوڑ کر بتایا کہ اس کا حقیقت پر مبنی پہلو کیا ہے ۔
| حقیقی نام : | جہانزیب |
| ان کے خلاف مدعی : | عثمان صدیقی صاحب |
| گرفتاری کی تاریخ: | ۱۷ اپریل ۲۰۲۴ء |
| الزام | بلاس فیمی گروپ ایڈمن، کانٹینٹ کریئٹر |
| نمبر: | 03078650892، 921562537311، 921561497799 |
| سوشل میڈیا اکاؤنٹس : | Syed fizan, fizan shah, fazi shah, Parvati devi, mehar begun, zakia shaguffta, dollfin doll |
| پلیٹ فارم : | فیس بک |
| بلاس فیمی کا طریقہ: | گروپ پوسٹنگ، پرسنل شیئرنگ، سٹوری رائنٹنگ، کانٹینٹ کریئیشن |
| گروپس کے نام: | dharmic Mazhabi, Mazhabi randiya, darasage |
| ٹیکنیکل رپورٹ | ۴۳ صفحات پر مشتمل |
| فورینزک رپورٹ: | ۱۰۱ صفحات پر مشتمل2Brief of FIR no : 63 / 24 |
مذکورہ بالا پیش کی گئی مکمل تفصیل پڑھ لینے کے بعد اس عثمان سے’’ بیچارے اور مظلوم‘‘ کا لیبل جسے لگانے کی بی بی سی کی خوب کوشش تھی، وہ تو ہٹ گیا ۔ یہاں میں بی بی سی کی صحافت پر اشکال نہیں اٹھاؤں گی کیونکہ یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ انہیں صحافت سے واقفیت شاید ہے ہی نہیں، جب ہی تو اتنے حساس معاملے میں ٹانگ اڑائی مگر منہ کی کھائی۔
اسی جہانزیب نے عدالت میں اپنی فورینزک رپورٹ کو چیلنج نہیں کیا بلکہ اپنے جرم کا اعتراف کیا ۔ مدعی نے پوچھا کہ اس نے بلاس فیمی کی، مدعی علیہ نے کہا جی کی ہے، معاملہ یہاں ختم ہو جانا چاہیے تھا مگر بی بی سی چونکہ اپنی قدیم عادت سے مجبور ہو کر درمیان میں آیا، اور آیا تو ایسا آیا کہ واقعہ کیا تھا، اس پر الزام کیا ہیں، عدالت میں کیا معاملہ پیش ہوا، سب بھولا دیا اور یاد رکھا تو اس ملزم کی والدہ کا دعوی!
اور اب یہ کہنا کہ یہ سب کچھ ایک گروپ کر رہا ہے جیسے’’بلاس فیمی بزنس گروپ‘‘ باور کرایا جا رہا ہے، تو حقیقت یہی ہے کہ ایسا کوئی گروپ وجود ہی نہیں رکھتا، اور اگر رکھتا بھی ہے تو اس کے ہونے سے کیا یہ سارے ملزم بے گناہ ہو گئے؟ بلاس فیمی بزنس گروپ وجود رکھتا ہے یا نہیں مگر یہ بات تو بدیہی ہے کہ بلاس فیمی پروٹیکشن گروپ ضرور موجود ہے اور اندرون پاکستان اور بیرون پاکستان سے ملزمان کی مدد کی جا رہی ہے۔
اس کے لیے علاوہ پاکستان بھر میں ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور بھی ہیں جو رسول ﷺ، صحابہ ، اہل بیت ، امہات المومنین ،اور دیگر مقدس ہستیوں و مقامات کی گستاخیوں میں مبتلا ہے۔ ابھی تک پاکستان سے چار لاکھ ایسے اکاؤنٹس، جو توہین آمیز مواد پھیلاتے تھے، دریافت ہو چکے ہیں3Ministry of Information and Broadcasting۔ وہ اکاؤنٹس نہایت نازیبا الفاظ، ویڈیوز اور تصاویر گستاخیوں کے لیے استعمال کرتے تھے ۔
اب ان گستاخوں کا کرنا کیا ہے؟
قرآن مجید نے گستاخ رسول کی سزا قتل تجویز کی، پھر آقا ﷺ نے اس پر عمل کر کے دکھایا۔ جب کبھی ناموس پر محلہ ہوا تو تحفظ رسالت ﷺ کے پروانے کبھی محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن کر سامنے آئے تو کبھی ام عمارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بن کر ۔
چاروں مذاہب حنفیہ، شافعیہ حنابلہ اور مالکیہ اس بات پر متفق ہیں کہ گستاخ رسول ﷺ کو قتل کیا جائے گا، اور شعائر اسلام کا تمسخر کرنے والے کو بد سے بد تر سزا دی جائے گی، امام مالک سے جب گستاخ رسول ﷺ کے متعلق فتویٰ طلب کیا گیا تو اس فتویٰ میں یہ بھی لکھا گیا کہ قتل کے بعد اس کی لاش کو جلا دیا جائے، یقیناً گستاخ اسی بات کا مستحق ہے۔4الشفاء
مشہور و معروف و معتبر اہلِ حدیث عالم علامہ وحید الزمان بھی یہ فرماتے ہیں کہ کسی نبی کی تحقیر یا توہین کفر ہے۔5حاشیہ سنن ابن ماجہ ، مترجم علامہ وحید الزمان
فتاوی دارالعلوم دیوبند میں ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی طرف فواحش کی نسبت کرنے کے متعلق سوال کیا گیا تو فرمایا کہ کفر ہے کیونکہ یہ چیز انہیں گالی دینے اور توہین و تحقیر کے برابر ہے۔6فتاوی دارالعلوم دیوبند
حکیم الامت حضرت تھانوی لکھتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام کی شان میں گستاخی اور اہانت کفر ہے۔7امداد الفتاوی
امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ لوگوں کو اس وقت معاف کیا جاتا تھا جب اسلام کمزور تھا اور تالیف قلب کی ضرورت تھی لیکن بعد میں خود رسول اللہ ﷺ نے معافی کو موقوف فرما دیا تھا ۔ اب یہ حق کسی امتی کو نہیں کہ وہ گستاخ رسول ﷺ کو معاف کر سکے۔8الصارم المسلول
یہ مسئلہ اختلافی مسئلہ تو نہیں ۔ سب اس بات پر متفق ہیں کہ گستاخ رسول ﷺ کی سزا قتل ہے ،مگر ہم ارض پاکستان کے باسی بد قسمتی سے ایسی کھوکھلی جمہوریت کے زیر سایہ ہیں جو اندر سے فوجی آمریت ہے، اب اس طاغوت و صنم اکبر کے سامنے اسلام و شعائر اسلام کا دفاع کیسے ممکن ہے؟ جس نظام کے کارندے خود گستاخ ہوں یا گستاخوں کے حمایتی وہ کیسے ان گستاخوں کو انجام تک پہنچا سکتے ہیں؟ جس نظام نے پہلے آزادی اظہار رائے کے نام پر گستاخی کرنے کی کھلی چھوٹ دی مگر پھر دفع 295 بنا کر یہ باور کروانے کی کوشش کی کہ یہ آزادی اظہار رائے مقید ہے، اسلام کو یا شعائر اسلام کے متعلق کوئی کچھ نہیں کہے گا۔ پھر اس 295 کے بے کو کھڑا کر کے اہل اسلام کو اور عشاق رسول ﷺ کو اسے پوجنے پر مجبور کیا ۔ مگر یہ کوشش رائیگاں گئی، من وجہ اگر کامیاب ہوئی تو معاملہ یہ ہوا کہ عشاق نے ایف آئی آر کٹوائی ، FIA اور NCCIA میں شکایتیں بھجوائیں ، زبر دستی بیدار کرنے کی کوشش کی مگر وہ الحاد کی گولیاں کھا کر سو رہے تھے، غنودگی کے عالم میں اٹھے، ظاہر کیا کہ ہم تو گرفتاریاں کر رہے ہیں، ہر معاملے میں تمہارے ساتھ ہیں مگر پس پردہ جو افراد پورنو گرافک بلاس فیمی کو سمجھ چکے تھے اور ان کے لیے ملزمان کی رپورٹ نکالنا آسان ہو گیا تھا ان سے اداروں کو خالی کرنا شروع کر دیا۔
عدالتی کارروائیاں اپنی ایک حیثیت رکھتیں ہیں، اور یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ عدالت نے ناموس کے لیے کھڑے ہونے والے وکلاء کے ساتھ کیسا تحقیر آمیز سلوک کیا۔ چلو یہ سلوک برداشت کر ہی لیتے اگر قتل کی سزا سننے کو ملتی مگر :
نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم
نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے
جج کا ایک جملہ کافی ہے حقیقت عیاں کرنے کے لیے ، جج نے بائیسویں سماعت پر کہا کہ فیصلہ تو میں نے ساتویں ہی پر سوچ لیا تھا کہ کیا دینا ہے۔ واہ! فیصلہ تو جب ہوتا ہے جب دونوں فریقین کو سن لیا ہو، یہاں فیصلہ گستاخوں کو سننے کے بعد ہی ہو چکا تھا۔
یاد رکھیں! دفع 295 اب وہ بوسیدہ لاش بن چکی ہے جس سے گستاخیوں کی بو آتی ہے، جس میں گستاخوں کی ضمانتوں اور انہیں بیرون ملک بھیج دینے کے کیڑے لگ چکے ہیں۔ اگر اس کا سد باب کرنا ہی ہے تو لائحہ عمل وہ نہیں جو انجینئر محمد علی مرزا نے یا اس جیسے دیگر گمراہ لوگوں نے پیش کیا کہ گستاخ سے پوچھو کہ کس نیت سے گستاخی کی، اگر غلطی کا اعتراف کر لے تو فی امان اللہ۔ نہیں ہرگز نہیں! یہ لائحہ عمل نہیں بلکہ لائحہ تو وہی قابل قبول ہے جو آقا ﷺ نے قولاً بتایا اور عملاً کر کے دکھایا کہ حرمت رسول ﷺ حرمت کعبہ سے بڑھ کر ہے، مگر آج کیا ہوا کہ حرمتِ عدالت، حرمت آئین اور حرمت قانون حرمت رسول ﷺ سے افضل ہو گئی؟ کہ گستاخ مصطفیٰ ﷺ اگر کعبہ کے پردوں میں لپٹا ہے تو سزا قتل مگر عدالت میں ہے تو امان؟ جب کہ وہ خود اعتراف جرم کر چکا ہے۔
ہاں لائحہ عمل وہی ہے جو محمد بن مسلمہ نے کعب بن اشرف کے ساتھ کیا ،عبد اللہ بن عتیک نے ابو رافع کے ساتھ کیا ، سالم بن عمیر نے ابو عفک کے ساتھ کیا اور عمیر بن عدی نے عصماء بنت مروان کے ساتھ کیا۔
اس حقیقت سے نظریں نہ چرائیں کہ پاکستان میں ابھی تک کسی گستاخ کو حکومت یا عدالت نے سزائے موت دی ہی نہیں۔ ہاں وہ سزا سناتے ہیں ہمیں خوش کرنے کے لیے مگر پھر آسیہ اور عنیقہ کی طرح باحفاظت کہیں بھیج دیتے ہیں۔
کبھی کبھی تو خیال آتا کہ کہ سورت الحجرات کی یہ آیت ہم جیسوں ہی کے لیے نازل ہوئی:
قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰكِنْ قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْاِيْمَانُ فِيْ قُلُوْبِكُمْ ۭ (سورۃ الحجرات: ۱۴)
’’ان سے کہو کہ تم ایمان تو نہیں لائے، البتہ یہ کہو کہ ہم تسلیم ہو گئے ہیں، اور ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔‘‘
آخر میں یہی عرض ہے کہ اے امت مسلمہ کے غیور نوجوانو! اے آقا ﷺ کے دیوانو! وقت اب حدودِ جمہوریت میں رہنے کا تو نہیں، یہ وقت تو دفاع رسول ﷺ کا ہے، تم کہاں ہو؟ تمہارے دین کا تماشہ سرِ بازار بنایا جا رہا ہے، اے مقداد بن اسود کے بیٹو! تم یہ کیوں کہتے ہو کہ ہمارے بس میں کچھ نہیں؟ تم یہ کیوں نہیں کہتے ہیں کہ ’’اللہ کی قسم! اگر آپ ﷺ ہمیں سمندر میں بھی کودنے کا حکم دیں تو ہم کود جائیں گے، اور ہم میں سے ایک بھی پیچھے نہ رہے گا۔ ہم آپ ﷺ کے دائیں، بائیں، آگے اور پیچھے لڑیں گے۔‘‘ آؤ دفاع رسو لﷺ کے پروانو آج تو محافظین اسلام کی صف میں بہت جگہ ہے، اس خلا کو پر کر دو، وہ نظام جس نے بد سے بدتر گستاخ کو راحت فراہم کی، آؤ اس نظام اور اس کے کارندوں کی راحت چھین لیں، اے امت مسلمہ کے غیور نوجوانو! وقتِ یلغار ہے، روزِ محشر آقا ﷺ سے یہ نہ کہنا کہ ہم کچھ کر نہ سکے بلکہ یہ کہہ کر سر خرو ہو جانا کہ بات خود کے دفاع کی آئی تو چپ رہے مگر جب معاملہ آپ ﷺ کے دفاع کا آیا کو ابو جہل، ابو لہب اور امیہ بن خلف جیسوں کی صفیں چیر کر معاذ و معوذ رضی اللہ تعالیٰ عنھما کی سنت ادا کرتے ہوئے گستاخ کو انجام تک پہنچایا ۔
یاد رکھو!
وہ ﷺ ملے تو سب ملا
وہ ﷺ نہ ملے تو کچھ نہ ملا
اللہ مجھے اور آپ کو دفاع رسول کی صف میں شامل فرمائے ۔
وما علینا الا البلاغ
و صلی اللہ علی النبی السیف والرحمۃ وآلہ واصحابہ و ازواجہ و ذریتہ اجمعین و بارک وسلم تسلیما کثیراً کثیرا
٭٭٭٭٭
- 1تھانہ سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر
- 2Brief of FIR no : 63 / 24
- 3Ministry of Information and Broadcasting
- 4الشفاء
- 5حاشیہ سنن ابن ماجہ ، مترجم علامہ وحید الزمان
- 6فتاوی دارالعلوم دیوبند
- 7امداد الفتاوی
- 8الصارم المسلول









![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



