نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اسوۂ حسنہ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اسوۂ حسنہ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home غزوۂ ہند

غزوۂ ہند کی فکری بنیادیں تاریخ کے آئینے میں | چھٹی قسط

by ڈاکٹر محمد سربلند زبیر خان
in اگست 2026ء, غزوۂ ہند
0

ڈاکٹر محمد سربلند زبیر خان شہید مجاہدینِ پاکستان و برِّ صغیر کے درمیان کسی تعارف کے محتاج نہیں اور ان کے یہاں ڈاکٹر ابو خالد کے نام سے معروف ہیں۔ پیش تر ان کی کتاب ’عصرِ حاضر کے جہاد کی فکری بنیادیں‘ زیورِ اشاعت سے آراستہ ہو کر عام و خاص قارئین تک آج سے گیارہ سال قبل پہنچ چکی ہے ۔ ڈاکٹر ابو خالد رحمۃ اللہ علیہ کی دوسری کتاب ’غزوۂ ہند کی فکری بنیادیں تاریخ کے آئینے میں‘ ، مؤلف شہید نے مارچ ۲۰۱۲ء میں مکمل کی، لیکن مختلف النوع وجوہات کی بنا پر اب تک شائع نہ ہو سکی۔


باب چہارم: ہندوستان میں مسلمانوں کی تاریخ (۳)

ہندوستان میں مسلمانوں کا نظام

مسلمانوں کی باقاعدہ حکومت تو شہاب الدین غوری ہی کے زمانے سے شروع ہو تی ہے مگر اسلام کی آمد اس سے بہت پہلے ہو چکی تھی۔ جنوبی ہند جہاں پر مسلمان تاجر بحری راستے سے پہنچ چکے تھے، ان کی تبلیغ سے بہت سے مقامی لوگ مسلمان ہو چکے تھے، محمد بن قاسم کے حملے سے سندھ میں مسلمانون کی آبادیاں اور شہر آباد ہو چکے تھے، شمالی ہند میں مسلمانوں کا داخلہ محمود غزنوی کے حملوں سے شروع ہو چکا تھا۔ محمود غزنوی کے زمانے میں لاہور غزنی کا باقاعدہ صوبہ تھا۔ شہاب الدین غوری کے بعد قطب الدین ایبک کے زمانے میں باقاعدہ حکومت قائم ہوئی، یہ حکومت ۱۸۵۷ء تک قائم رہی۔ اس آٹھ سو سال کے دور میں ہندوستان چھوٹی چھوٹی ریاستوں سے دنیا کی ایک منظم ترقی یافتہ اور دنیا کی سب سے بڑی معاشی طاقت بن گیا۔ ہماری کو شش ہے کہ ہم یہاں پر ہندوستان کے اس نظام، اس کے اصولوں اور اثرات کا ایک مختصر جائزہ پیش کریں۔ اس جائزے کو ہم پانچ مضامین میں درج کر نے کی کوشش کرتے ہیں جو درج ذیل ہیں :

  1. مسلمانوں کے دور کا ہندوستانی معاشرہ
  2. ہندوستان میں مسلمانوں کا حکومتی نظام
  3. ہندوستان میں مسلمانوں کا عدالتی نظام
  4. ہندوستان میں مسلمانوں کا انتظامی نظام
  5. ہندوستان میں مسلمانوں کا معاشی نظام

مسلمانوں کے دور کا ہندوستانی معاشرہ

مسلمان جب ہندوستان میں آئے تو اس وقت یہاں صدیوں سے جو نظام چل رہا تھا وہ یہ تھا کہ انسان کی مکتی یا نجات اس بنیاد پر ہے کہ انسان کی آتما برہمن کی ذات میں ضم ہو جائے۔ اس کام کے لیے اسے دنیا میں نیکیاں کرنا ہوں گی۔ ورنہ اسے بار بار دنیا میں عذاب جھیلنے کے لیے واپس پیدا ہونا ہو گا۔ اس عقیدے نے برہمن کو خدا کا درجہ دے دیا۔ اب پورا معاشرہ اس بنیاد پر تشکیل دیا گیا کہ اس معاشرے کا ہر فرد برہمن کی خدمت کے لیے مخصوص تھا۔ کھتری برہمن کی حفاظت پر مامور تھے تو ویش اس کی سماجی خدمت کے لیے اور شودر تو ویسے ہی غلام تھے۔ اس نظام نے انسانوں کی اکثریت کو انسان ہی کے درجے سے گرا دیا تھا۔ اسی بنیاد پر ہندو دھرم کا نظام وجود میں آیا۔ جس میں برہمن کو تمام مراعات حاصل تھیں۔ اسی کے لیے معاشرے کے تمام اجزاء حرکت میں آتے تھے۔ اسی نظریے تحت ہندو قانون وجود میں آیا۔ جس میں برہمن ہر جرم سے مستثنیٰ قرار دیا گیا۔ جب کے باقی ذاتوں کے لیے معمولی سے جرم کی بھی بڑی سزا تھی اور اگر یہ جرم برہمن کے خلاف کر دیا جاتا تو پھر تو سزا کی کوئی انتہا نہ تھی۔ عورت کا کوئی مقام نہ تھا، وہ اپنے خاوند کی غلام تھی اگر اس کا خاوند مر جاتا تو اس کے لیے اس اپنے خاوند کی چتا کے ساتھ جل کر مرنا زندہ رہنے سے بہتر تھا کیوں کہ اسے معلوم تھا کہ زندہ رہ کر اس کی حالت ایک جانور سے بھی کمتر ہو گی۔

جب مسلمان ہندوستان میں آئے تو یہی معاشرہ ان کے سامنے موجود تھا۔ ہندو معاشرے کے لیے مسلمانوں میں توحید کا عقیدہ، رسالت اور علم وحی کا مساوات کا اصول، اللہ کی بغیر کسی واسطے کے عبادت کرنا، بت پرستی نہ کرنا، عورت کو برابری کا درجہ دینا، اس کو وراثت میں حصہ دار بنانا، یہ سب کچھ نیا تھا۔ مسلمانوں کی اخلاقی تعلیمات ہندو مذہب کی تعلیمات سے مختلف اور بہتر تھیں۔ ہندوؤں کے مکتی کے پیچیدہ عقیدے کے مقابلے میں مسلمانوں کا آخرت کا عقیدہ مکمل اور صحیح تھا۔ ان تمام عقائد نے ہندوستان کے معاشرے پر اپنے اثرات مرتب کیے۔

مسلمان سب سے پہلے چونکہ جنوبی ہند میں تاجر کی حیثیت سے آئے تھے، اس لیے یہاں پر دعوت و تبلیغ کی، اس لیے سب سے پہلے جنوبی ہند میں مسلمانوں کی بستیاں بننا شروع ہوئیں۔ ان مسلمان بستیوں کی وجہ سے بہت سے لوگ مسلمان ہوئے۔ جنوبی ہند کے راجاؤں نے بھی اس نئے مذہب کو پسند کیا اور اس سے متاثر ہوئے۔ سندھ میں اسلام کی دعوت محمد بن قاسم کے حملے کے بعد پہنچی۔ اس حملے کے دوران بھی بہت سے ہندو مسلمان ہوئے۔ ان میں سے بہت سے بغداد گئے جہان انہوں نے حدیث اور تفسیر کا علم حاصل کیا۔ ان کا نام آج بھی امت کے بڑے علماء کی فہرست میں شامل ہوتا ہے۔ سندھ میں مسلمانوں کے مختلف شہر آباد ہونا شروع ہو گئے جن میں ملتان، منصورہ وغیرہ مشہور ہیں۔ مغربی اورشمالی ہند میں اسلام محمود غزنوی اور شہاب الدین غوری کے حملوں کے نتیجے میں پہنچا۔ اس طرح ان علاقوں میں مسلمانوں کی آبادیاں قائم ہونا شروع ہو گئیں۔ پوٹھوہار میں موجود گکھڑ قوم شہاب الدین غوری کے زمانے میں مسلمان ہوئی۔ کشمیر اور لاہور سیالکوٹ میں بھی لوگوں نے اسلام قبول کرنا شروع کر دیا۔

سلاطین دہلی کے زمانے میں امت مسلمہ پر تاتاریوں کے حملے شروع ہو چکے تھے۔ اس دور میں اگر کوئی ممالک محفوظ تھے تو وہ مصر اور ہندوستان تھے۔ اس لیے اس دور میں بہت سے علماء اور صوفیاء اپنے اپنے علاقوں سے ہجرت کر کے ہندوستان تشریف لائے۔ یہاں سے ہندوستان میں دعوت اور تبلیغ کا ایک نیا دور شروع ہو گیا۔ صوفیاء میں چار بڑے طریقے مقبول تھے یعنی چشتیہ، قادریہ، سہر وردیہ اور نقشبندیہ۔ شروع شروع میں جو سلسلے زیادہ ہندوستان میں آئے وہ چشتیہ، قادریہ اور سہروردیہ ہیں۔ چشتیہ میں حضرت معین الدین اجمیری، نظام الدین اولیاء ، بابافرید اور خواجہ بختیار کاکی شامل ہیں ، قادریہ زیادہ تر سندھ اور ملتان میں تھے ان میں شاہ عبدلطیف بھٹائی، بلھے شاہ وغیرہ شامل تھے۔ سہر وردی سلسلہ ملتان کے بہاؤ الدین زکریا کی وجہ سے مشہور ہوا۔ ان صوفیہ کی آمد سے ہندوستان میں ایک انقلابی رفتار سے دعوت کا کام شروع ہو گیا۔ صوفیاء کا طریقہ یہ تھا کہ انہوں نے معاشرے میں کام کو انسانیت کی فلاح کی بنیاد پر شروع کیا۔ ان کے نقطہ نظر یہ تھا کہ صوفیاء کو تمام انسانوں کی ہدایت کے لیے کام کرنا چاہیے۔ اس لیے ان کے دروازے ہر ہندو اور مسلمان کے لیے کھلے تھے۔ صوفیاء کی کامیابی کی دوسری وجہ یہ تھی کہ انہوں نے صرف دعوت ہی کا کام نہیں کیا بلکہ لوگوں کے مسائل کے ساتھ بھی دلچسپی رکھی، صدقہ خیرات اور لنگر کا سلسلہ جاری کیا جس کی وجہ سے عام خلق خد ا کو بہت فائدہ پہنچا۔ اس لنگر میں ہندو مسلم کی کوئی تخصیص نہیں تھی۔ پھر ان صوفیاء نے اپنے اثر رسوخ کو بادشاہوں سے خلق خدا کے کاموں میں استعمال کر کے لوگوں کو فائدہ پہنچایا۔ ان تمام باتوں سے صوفیاء کے تمام سلسلوں کو ہندوستان میں ہندوؤں اور مسلمانوں میں بے انتہا مقبولیت حاصل ہوئی اور اسلام کی دعوت ہندوستان کے کونے کونے میں پھیل گئی۔

صوفیاء کی اس دعوت کے جہاں بہت سے فوائد ہوئے وہاں ہی بہت سے شرعی مسائل بھی پیدا ہونے لگے۔ ان میں چند ایک کا ذکر ہم یہاں کرتے ہیں۔ ایک تو صوفیاء کے ہر سلسلے کی اصطلاحات اور ان کی شرح شریعت کی مقبول اصطلاحات سے مختلف تھیں اور اگر ملتی بھی تھیں تو ان کی تشریح مختلف کی جانے لگی۔ ان میں سلوک، احسان ، اخلاص وغیرہ شامل ہیں۔ کچھ صوفیاء کے سلسلوں نے ایسے طریقے نکال لیے جو کہ واضح طور پر شریعت کے خلاف تھے جن میں سماع، شطحات، رویت، وحدت الوجود کے مسئلے وغیرہ شامل تھے۔ تیسرا مسئلہ یہ تھا کہ صوفیاء ہندو اور مسلمانوں میں یکساں مقبول تھے، ان کے مرید ہندو بھی تھے، جو کہ بعد میں اپنی گدی شروع کر دیتے۔ اس طرح یہ ہندو پیر بھی مسلمانوں اور ہندوؤں میں یکساں مقبول ہوتے۔ مسلمان ان کی تعلیمات پر عمل کرتے، اس سے مسلمانوں کے دین میں نئی نئی بدعات شامل ہونا شروع ہو گئیں۔

ان تمام مسائل کے رد عمل میں نقشبندی سلسلہ کے حضرت عبدالحق محدثؒ اور ان کے شاگرد حضرت مجدد الف ثانیؒ کی قیادت میں تحریک شروع کی۔ اس تحریک میں شریعت اور طریقت میں سے شریعت کی فضیلت کے بارے میں فیصلہ کن مباحث کیے گئے،شرک اور بدعات کے خلاف دعوت کا کام کیا گیا، وحدت الوجود کے رد میں وحدت الشہود کا نظریہ پیش کیا گیا۔ حضرت مجددؒ کی زیادہ شہرت جہانگیر کے زمانے میں اکبر کے دین الٰہی کی وجہ سے دین میں شامل بدعات کے خلاف تحریک چلانے کی وجہ سے ہوئی۔

صوفیاء کے کاموں سے پیدا ہونے والی صورت حال کے علاوہ ایک اور مسئلہ برصغیر میں یہ پیدا ہو گیا تھا کہ تاتاریوں کے حملوں سے بچ کے نکلنے والے علماء زیادہ تر وہ تھے جو اپنے اپنے علاقے میں قاضی رہے تھے۔ اس لیے ان کے پاس فقہ کا عملی تجربہ تھا۔ دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ تاتاریوں کے حملوں کی وجہ سے علماء کی کتابیں ضائع ہو گئیں یا وہ نکلتے ہوئے اپنے ساتھ نہ لا سکے۔ اس طرح ہندوستان میں عملی تجربہ تو منتقل ہو گیا مگر تفسیر اور حدیث کے علم میں کمزوری رہ گئی۔ یہ حالت کافی دیر تک رہی۔ اس کے نتیجے میں فقہ تو ترقی کر گئی مگر عوام کا قرآن اور حدیث کے ساتھ تعلق کمزور ہو گیا۔ اس بات کا یہ مطلب نہیں کہ تفسیر اور حدیث ہندوستان میں بالکل ہی نہیں تھی بلکہ دین میں جو ان کا مقام تھا وہ حاصل نہ ہو سکا۔ اس کام کا بیڑا گو قدرے دیر سے حضرت شاہ ولی اللہؒ اور ان کے پانچ بیٹوں نے اٹھایا جس کا ہم آگے ان شاءاللہ ذکر کریں گے۔

جہاں مسلمانوں نے اسلام کی دعوت اور دین کا کام کیا وہاں ہندوؤں میں اپنے دین کو بچانے کے لیے بہت سی تحریکیں اٹھیں۔ ان تحریکوں نے اپنی کتابوں کی اہمیت اور ان کی تعلیمات پر زور دیا۔ اس طرح ہندوؤں میں اپنی اپنی کتابیں پڑھنے کا رواج ہوا۔ ان کتابوں کو پڑھنے کے بعد ان میں ایک اچھا خاصہ طبقہ اس نتیجے پر پہنچا کہ ان کی اپنی کتابوں میں کہیں بھی بت پرستی کی تعلیمات موجود نہیں خاص طور پر ویدوں میں جسے ہندو الہامی کتابیں تصور کرتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہندوؤں میں جدید دور میں بت پرستی کے خلاف بہت سی تحریکیں برپا ہو رہی ہیں۔ اس کے علاوہ مسلمانو ں کے ساتھ رہنے سے ہندوؤں کے اندر ذات پات کے نظام کے خلاف رد عمل پیدا ہو گیا۔

ہندوستان میں مسلمانوں کا حکومتی نظام

مسلمانوں کی باقاعدہ حکومت کا آغاز شہاب الدین غوری سے شروع ہوا اور بہادر شاہ ظفر پر ختم ہوا۔ اس دور میں مسلمانوں کے حکمرانوں کے سامنے نمونہ وہی تھا جو کہ پوری امت مسلمہ میں موجود تھا۔ جب شہاب الدین غوری اور قطب الدین ایبک اور التمش کے زمانے میں خلافت عباسیہ بغداد میں موجود تھی تو یہ ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت کا آغاز تھا۔ یہ تمام حکمران اپنے آپ کو خلافت عباسیہ کا حصہ تصور کرتے تھے۔ یہ سلسلہ اس وقت تک قائم رہا جب تک ہلاکو خان نے بغداد کو فتح کر کے تباہ نہ کر دیا۔ اس سے خلافت عباسیہ بغداد میں ختم ہو گئی۔ عباسی خلافت کا دوسرا دور مصر میں شروع ہوا۔ محمد تغلق کے زمانے میں اس کی سند بادشاہت مصر سے آئی تھی۔

مسلمانوں کے بادشاہوں میں یہ تصور عام تھا کہ بادشاہت دینے والا اللہ ہی ہے۔ اللہ نے ان کو بادشاہی اس لیے دی ہے کہ وہ اس کے دین کی حفاظت کریں اور اپنی رعایا کے درمیان شریعت کے مطابق فیصلہ کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ رعایا کی جان اور مال کی ذمہ داری اور ان کی معاشی خوشحالی کی ذمہ داری ان کی ہے۔ اس تصورِ بادشاہی کے ساتھ ہی تمام مسلمان بادشاہ تخت پر بیٹھتے تھے۔ اگر ہم ہندوستان کے بادشاہوں کے اقوال، ان کے خطوط اور ان کی وصیتوں کا مطالعہ کریں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ان کے بادشاہت کے بارے میں کیا نظریات تھے۔

جہاں تک ہندوستان کی عوام کی صورت حال تھی وہ بادشاہ پر مکمل اعتماد کرتے تھے۔ اس کو اپنا والی اور سرپرست سمجھتے تھے۔ بادشاہ اور عوام کا رشتہ اعتماد پر قائم تھا۔ اگر ہم مسلمانوں کے نظام کے زوال کے دور کا مطالعہ کریں تو ہمیں مسلمانوں اور ہندوؤں دونوں میں تب بھی یہ بات مشترک نظر آتی تھی کہ وہ باشاہ پر اعتماد کرتے تھے۔ اس کی سب سے بڑی مثال یہ تھی کہ مرہٹے جو کہ مغلیہ حکومت کے زوال کے بعد بے حد طاقت وار ہو گئے تھے دہلی پر قبضہ کرنے کے باوجود بھی کبھی انہوں نے بادشاہ کو ہٹانے کی کوشش نہیں۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے وقت بھی بہادر شاہ ظفر جو کہ انتہائی کمزور بادشاہ تھا اور بوڑھا ہو چکا تھا، باغی اسی کے پاس گئے اور اس سے قیادت سنبھالنے کے لیے کہا۔

ہندوستان کی ریاست کوئی وطنی ریاست نہ تھی اس کی بنیاد ایک دار الاسلام کی تھی۔ جس میں ریاست میں رہنے والے لوگ دو طرح کے تھے ایک مسلمان اور دوسرے غیر مسلم۔ غیر مسلموں کو شریعت کے مطابق ذمی کے طور پر وہ تمام حقوق حاصل تھے جو کہ اسلام ان کو دیتا ہے۔ ذمی کے طور پر ان کو جزیہ ادا کرنا ہوتا تھا۔ ہندوستان میں کئی دور آئے، کسی دور میں یہ ایک منظم مملکت کے طور کام کرتا رہا اور کبھی یہ بے شمار ریاستوں میں تقسیم ہو جاتا تھا۔ مگر کبھی بھی یہاں پربند سرحد کا تصور نہیں تھا۔ ریاستوں کے درمیان سرحدیں ضرور قائم تھیں مگر ان کے شہری بغیر کسی رکاوٹ کے ایک دوسرے کی ریاستوں میں آتے جاتے رہتے تھے۔ یہ نظام پوری امت مسلمہ میں نافذ تھا۔

ہندوستان میں مسلمانوں کا عدالتی نظام

ہندوستان میں مسلمانوں میں دو طرح کا عدالتی نظام تھا۔ ایک مقامی نظام جسے جرگہ یا پنچائیت کہا جاتا تھا، اس پنچائیت میں علاقے کے بااثر لوگ اور علماء شامل تھے۔ اس جرگے یا پنچائیت کو بادشاہ کی مکمل حمایت حاصل ہوتی تھی۔ یہ جرگہ اپنے علاقے میں ہونے والے تمام امور پر مقدمے سنتا تھا اور فیصلے کرتا تھا۔ یہ مقدمات فوجداری اور سول دونوں طرح کے ہوتے تھے۔ یہ سب مقامی لوگ ہوتے ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ یہاں تک کہ گواہوں کے کردار کے بارے میں بھی ان کو علم ہوتا۔ کوئی بڑی بڑی جیلیں نہیں تھیں۔ ضمانت شخصی ہوا کرتی تھی۔ اس کے لیے کسی پولیس کے چھاپوں کی ضرورت نہ تھی۔ ملزم کا باپ یا قبیلہ اس کو پیش کرنے کا ذمہ دار ہوتا تھا۔ اس شخص کو کسی سرکاری وکیل کی ضرورت ہی نہ تھی بلکہ اس پنچائیت اور جر گے میں موجود اس کے قبیلے کے افراد ہی اس کے وکیل ہوا کرتے تھے۔ مقدمے کا فیصلہ چند پیشیوں میں ہو جایا کرتا تھا۔

دوسری طرح کا عدالتی نظام وہ تھا جو کہ بڑے شہروں میں موجود تھا۔ یہ بادشاہ کے مقرر کردہ قاضی ہوا کرتے تھے۔ یہاں پر فیصلے شریعت کے مطابق ہوا کرتے اور ہندوؤں کے ان کے مذہب کے مطابق ہوا کرتے تھے۔ پنچائیت سے کوئی فیصلہ نہ ہو پاتا یا کوئی شخص فیصلے سے مطمئن نہ ہوتا تو وہ قاضیوں کی عدالت سے رجوع کرتا۔ ان عدالتوں میں بادشاہ کا کوئی عمل دخل نہ ہوتا۔ اگر کو شخص مطمئن نہ ہوتا تو وہ بادشاہ کے پاس اپیل کر سکتا تھا۔ مگر بادشاہ کے پاس یہ اختیار نہ تھا کہ وہ شریعت کے خلاف کوئی فیصلہ دے سکے۔ تاریخ ایسی کئی مثالوں سے بھری ہوئی ہے کہ جہاں قاضیوں نے شریعت کے مطابق فیصلہ دیا اور بادشاہ باوجود خواہش کے اس فیصلے کو تبدیل نہ کرا سکا۔

اس نظام میں بڑے بڑے جیل خانوں کا تصور نہ تھا۔ عام طور پر ملزم کو اس کے باپ اور قبیلے کی ضمانت پر رہا کردیا جاتا۔ پیشی پر اس کو پیش کر نا ضامنوں کی ذمہ داری ہوتی تھی۔ اگر کسی کو قید کرنا مقصود ہوتا تو اس کو مخصوص گھروں میں نظر بند کر دیا جاتا اور فیصلے کے بعد سزا کی تطبیق ہو جاتی تھی اور ملزم واپس چلا جاتا۔ بڑے جیل خانے بادشاہوں اور والیوں کے پاس ہوتے جہاں عام طور پر عادی مجرموں کو رکھا جاتا یا باغیوں کو رکھا جاتا۔

پولیس کا تصور آج کی پولیس سے یک سر مختلف تھا۔ پولیس کا کام انتہائی محدود ہوتا تھا۔ معاشرے سے جرائم کی روک تھام کے لیے امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا محکمہ ہوا کرتا تھا۔ جس کی ذمہ داری علماء اور علاقے کے با اثر طبقے کے حوالے تھی۔ اس محکمے کے لوگ عوام کی تعلیم و تربیت بھی کرتے اور منکرات کو مٹاتے۔ حسبہ کا محکمہ بھی موجود تھا جو بازار کے نظام کو دیکھتا تھا اور اس کی اصلاح کیا کرتا۔ پولیس بھی دو طرح کی ہوتی تھی۔ ایک جس کا تعلق مقامی علاقے سے ہوتا تھا۔ اس کا کام پنچائیت کی مدد کرنا ہوتا تھا۔ ملزم کو حاضر کرنے کے لیے اس کو اطلاع دینا، نظر بند افراد کو دیکھنا یا سزا کی تطبیق میں مدد دینا۔ دوسری قسم کی پولیس وہ تھی جو بادشاہ یا علاقے کے والی کے تحت کام کرتی تھی اس کا کام شاہراہوں کو راہزنوں سے محفوظ بنانا یا ضرورت پڑنے پر والی اور بادشاہ کی مدد کرنا ہوتا تھا۔ سزا کی تطبیق کے اختیار بھی مقامی طور پر یا تو پنچائیت یا والیوں کے پاس ہوتے تھے اور پولیس کے نظام کا اس سے کوئی خاص تعلق نہ ہوتا تھا۔

ہندوستان کا انتظامی نظام

ہندوستان کا انتظامی نظام چار ادوار سے گزر کر اکبر کے دور میں اپنے عروج پر پہنچا۔ خاندان غلاماں کے دور میں ہندوستان مکمل طور پر فتح نہیں ہوا تھا اس لیے یہ نظام بنیادی سطح پر تھا مگر اس نظام کو اصل عروج سلطان غیاث الدین بلبن کے زمانے میں ملا۔ سلطان ہر کام کو بہت منظم طریقے سے کرنے کا عادی تھا۔ اس کی حکومت کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ وہ حکومت کا ہر عہدہ بہت دیکھ بھال کر اہل افراد ہی کو دیتا تھا۔ اس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ کسی غیر سنجیدہ فرد کو اپنے قریب بھی نہ آنے دیتا تھا۔ بلبن کی دوسری اہم بات یہ تھی کہ وہ اپنے عمال پر گہری نظر رکھتا تھا اور ان کی غلطی پر انہیں سزائیں دیتا تھا۔ اس کے دور کا انتظامی نظام مثالی تھا۔

بلبن کے بعد علاؤالدین خلجی ہندوستان کے ان بادشاہوں میں شامل ہے جس نے ہندوستان کو عروج کی منزل کی طرف گامزن کیا۔ علاؤلدین خلجی کے زمانے میں منگول ہندوستان پر مسلسل حملے کر رہے تھے۔ اس کے دور میں چھ بڑے حملے ہوئے جن کو علاؤالدین نے عبرت ناک شکست دی۔ ان حملوں کی وجہ سے علاؤ الدین خلجی کو بہت سے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک طرف تو جب تاتاری حملے کرتے تو وہ بہت تباہی مچاتے، اس سے عوام بھی خوف زدہ ہوتے اور دوسری طرف فصلیں تباہ ہو جاتیں جس سے ملک میں قحط کی سی صورت پیدا ہو جاتی۔ ان حملوں کی وجہ سے علاؤ الدین کو ہر وقت چار لاکھ کی فوج رکھنے کی ضرورت تھی۔ اس ساری صورت حال میں علاؤ الدین خلجی نے ملک کے انتظام کے لیے انتہائی مؤثر اقدامات اٹھائے جس میں اس نے ایسے معاشی اقدام لیے کہ اس کے دور میں ارزانی ہی ارزانی ہو گئی، قحط ہو یا جنگ۔ نہ ہی غلہ کم ہوتا نہ ہی اس کی قیمت زیادہ ہوتی۔ اس نے ملک میں بہت مؤثر جاسوسی نظام قائم کیا جو اس کو پل پل کی خبریں دیتا تھا۔ اس نے اپنے عمال پر بھی کڑی نظر رکھیں اس کی وجہ سے ان میں سازشی عنصر کا خاتمہ ہوا۔ علاؤ الدین کا ایک اور اہم انتظامی کارنامہ یہ تھا کہ اس نے ان طبقوں کے زور کو ختم کر دیا جنہوں نے عام کاشتکاروں کو غلام بنا رکھا تھا۔

ہندوستان کے نظام کا تیسرا اہم دور فیروز شاہ تغلق سے سلطان سکندر لودھی کے دور تک تھا۔ اس دور میں تیمورلنگ کے حملوں سے ہندوستان تباہ و برباد ہو گیا۔ صدیوں کا کام ایک دفعہ پھر صفر پر کھڑا تھا۔ بہلول لودھی نے ہندوستان کو ایک دفعہ پھر منظم کیا، اس کے انتظام کو بہتر بنایا۔ سلطان سکندر لودھی کا زمانہ خیر و برکت کا زمانہ تھا۔ لودھیوں کے نظام کا بنیادی مرکز پیدا وار میں اضافہ کرنا تھا۔ انہوں نے سڑکیں اور نہریں بنائیں اور مواصلات کا نظام درست کیا۔

ہندوستان میں انتظامی لحاظ سے ہندوستان کے عروج کا زمانہ شیر شاہ سوری کا زمانہ تھا۔ شیر شاہ سوری نے پانچ سال کے کم عرصے میں ہندوستان میں نہروں ، سڑکوں اور سرائیوں کا جال بچھا دیا۔ اس نے پورے ہندوستان کی زمینوں کی پیمائش کروائی، روپے کی کرنسی نافذ کی اور عدل انصاف کا بول بالا ہوا۔ شیر شاہ سوری کے بنائے ہوئے نظام کو اکبر نے مزید ترقی دی۔ اس نے منصب داری کا نظام بنایا جس میں ملک میں اہم عہدوں پر کام کرنے والے لوگوں کی تربیت کرنا تھا۔ اس نے شیر شاہ کے زمینی نظام کو جاری رکھا اور اس میں مزید توسیع کی۔ پیداوار کے لحاظ سے اس کی اقسام متعین کیں اور ان پر ٹیکس کے نظام کو منظم کیا۔ شیرشاہ اور اکبر کا یہی نظام آج بھی پاکستان ، ہندوستان اور بنگلہ دیش میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔ اسی نظام کے ٹیکس کے حصے کو انگریزوں نے بدل دیا تو اس سے ہندوستان کا پورا معاشرہ ہی بدل گیا اس کا ذکر ہم بعد میں کریں گے ان شاء اللہ۔

ہندوستان میں مسلمانوں کا معاشی نظام

ہندوستان میں مسلمانوں کے دور حکومت میں جو معاشی نظام بنایا گیا اس نے ہندوستان کو پوری دنیا کا امیر ترین ملک بنا دیا۔ یہی وجہ تھی کہ یورپ کے تمام ممالک ہندوستان کے ساتھ تجارت کر نے کے لیے اس طرح ہندوستان کی طرف رخ کرنے لگے جیسے مکھیاں شہد کی طرف لپکتیں ہیں۔ مسلمانوں کے معاشی نظام کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ عوام الناس کی قوت خرید میں اتنا اضافہ کر دیا جائے کہ وہ اپنی ضروریات زندگی کو بآسانی خرید سکیں۔ پھر اس عمل کو بھی یقینی بنایا جائے کہ یہ اشیاء ہر صورت میں ارزاں قیمتوں میں بازار میں دستیاب ہو۔ یہ مقصد انہیں مندرجہ ذیل اقدامات سے حاصل ہوا:

  • مسلمانوں کا نظام سود سے پاک تھا، کوئی حکومت بھی سود کی سرپرستی نہیں کرتی تھی اس لیے دولت کا چند ہاتھوں میں مرکوز ہونا ممکن نہ رہا۔
  • زراعت کی ترقی پر بہت زور دیا گیا۔ اس کے لیے نہریں بنائی گئیں ، غلے کی رسد کے لیے سڑکیں تعمیر کی گئیں، زمیندارا کا نظام بنا کر زمینوں کو چار اقسام میں تقسیم کیا گیا۔ پہلی قسم جو سارا سال فصل دیتی تھی دوسری قسم کی زمین جو کہ اس سے کم فصل دیتی تھی۔ تیسری قسم کی زمیں جو کہ تین سالوں سے کاشت نہیں کی گئی تھی اس کو قابل کاشت بنانے کے لیے سرمائےکی فراہمی کی گئی اور اس پر ٹیکس کا نظام علیحدہ سے بنایا گیا۔ چوتھی قسیم کی زمیں جو کہ پانچ سال سے بنجر تھی اس کو بھی انتہائی مناسب قیمتوں پر کاشتکاروں کو دیا گیا اور اس پر ٹیکس بہت ہی کم رکھا گیا۔ اس انتظام کے نتیجے میں ہندوستان کی قابل کاشت زمینوں کی پیدا وار میں بہت زیادہ اضافہ ہوا۔ لوگوں کو روزگار ملا جب کہ غلے کی فراوانی ہو گئی۔
  • لوگوں کی قوت خرید میں اضافے کے لیے زکوٰۃ صدقات کا نظام بنایا گیا۔ اس کے علاوہ بادشاہ کی طرف سے زمینوں کے عطیات اور وظائف مقرر کیے گئے۔
  • پیدا وار میں اضافے سے ملک میں صنعت میں خود بخود اضافہ ہوتا چلا گیا۔ کپڑے کی صنعت نے اس قدر ترقی کی کہ اٹھارہویں صدی عیسوی کے بعض اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پوری دنیا کو اس دور میں اسّی سے نوّے فیصد کپڑا ہندوستان فراہم کرتا تھا۔

ہندوستان کی معیشت کی سب سے بڑی مضبوطی یہ تھی کہ اس کی برآمدات بہت زیادہ اور درآمدات نہ ہونے کے برابر تھیں۔ مصر، عرب، ایران، وسط ایشیا، یورپ کے تاجر یہاں آتے اور سونے اور چاندی کے عوض ہندوستان کی مصنوعات لے کر جاتے۔ اس دور میں ہندوستان میں سونے اور چاندی کی اتنی بہتات تھی کہ بادشاہ ہر سال دو دفعہ اپنے وزن کے برابر سونا، چاندی غرباء اور مساکین میں تقسیم کرتا تھا۔

(جاری ہے، ان شاء اللہ)

٭٭٭٭٭

Previous Post

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | سولہویں قسط

Next Post

بنگالی مسلمانوں کا انقلابی شعور

Related Posts

اِک نظر اِدھر بھی! | جولائی 2025
دیگر

اِک نظر اِدھر بھی! | اگست 2026

21 اگست 2026
مَعرکے ہیں تیز تَر! | ستمبر تا نومبر 2024
عالمی جہاد

مَعرکے ہیں تیز تَر! | اگست 2026

21 اگست 2026
مجاہد جہاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟ | وجہ نمبر: چونتیس (۳۴)
حلقۂ مجاہد

مجاہد جہاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟ | وجہ نمبر: بیالیس (۴۲)

21 اگست 2026
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
نقطۂ نظر

وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا

20 اگست 2026
سوشل میڈیا کے جاسوس
نقطۂ نظر

سوشل میڈیا کے جاسوس

20 اگست 2026
سمارٹ فون: ہماری جیب میں موجود جاسوس (حصہ اوّل)
اوپن سورس جہاد

سمارٹ فون: ہماری جیب میں موجود جاسوس (حصہ اوّل)

20 اگست 2026
Next Post
بنگالی مسلمانوں کا انقلابی شعور

بنگالی مسلمانوں کا انقلابی شعور

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

اگست 2026ء
اگست 2025

اگست 2026ء

by ادارہ
20 اگست 2026

Read more

تازہ مطبوعات

سب سے پہلے امریکہ
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

سب سے پہلے امریکہ

مرکزی خیال: الشیخ الشہید احسن عزیز ترتیبِ جدید: معین الدِّین شَامی   ڈاؤن لوڈ کریں    

ستمبر, 2026
جہادِ شام کے اسباق
مطبوعات حطین

جہادِ شام کے اسباق

فضیلۃ الشیخ ایمن الظواہری کا بیان ”فَلنُقَاتِلهُم بُنيَانًا مَرصُوصًا“ مقدمہ و حواشی کے ساتھ مترجم: مولانا عمار خان     ...

ستمبر, 2026
د مسلمانانو په هېواد کې د بني اسرائیلو د خوسکي عبادت – د شام اوسنیو حالاتو ته په کتلو
مطبوعات حطین

د مسلمانانو په هېواد کې د بني اسرائیلو د خوسکي عبادت – د شام اوسنیو حالاتو ته په کتلو

  لیکوال: شيخ ډاکټر سامي بن محمود العُريدي ژباړن: مولوي عماد الدین خالد     ډاونلوډ کړی       ...

ستمبر, 2026
مسلمانوں کے ملک میں بنی اسرائیل کے بچھڑے کی عبادت – شام کے موجودہ حالات کے تناظر میں
مطبوعات حطین

مسلمانوں کے ملک میں بنی اسرائیل کے بچھڑے کی عبادت – شام کے موجودہ حالات کے تناظر میں

مصنف: شیخ ڈاکٹر سامی بن محمود العریدی مترجم: مفتی عامر احمد سلطانی     ڈاؤن لوڈ کریں       ...

ستمبر, 2026
مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اسوۂ حسنہ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • عالمی جہاد
  • ناول و افسانے
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اسوۂ حسنہ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version